Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے،غریب کیا کرے،شیخ رشید

    قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے،غریب کیا کرے،شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک میں “تاریخ پہ تاریخ” پڑ رہی ہے اور آج ایک بار پھر تاریخ ڈال دی گئی ہے، جبکہ پاکستان کو جرمانستان میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شیخ رشید احمد نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹا اور چینی کی قیمتیں 150 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہیں، جبکہ مرنا بھی مہنگا ہو چکا ہے اور قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جو غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔

    انہوں نے حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں پر عائد کیے گئے جرمانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیکیہ چلانے والے پر 2 ہزار روپے، ریڑھی بان پر 5 ہزار روپے جبکہ دکاندار پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ شیخ رشید کے مطابق یہ فیصلے عام آدمی پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہا ہے۔سابق وزیر داخلہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حالات کو بہتر بنایا جائے تاکہ غریب طبقہ بھی عزت اور آسانی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو عوام کے لیے جینا مزید مشکل ہو جائے گا۔

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں شیخ رشید احمد اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالتی عملے کی جانب سے ان کی حاضری کا عمل مکمل کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔

  • سینیٹ نے تولیدی صحت کو نصاب کا حصہ بنانے کا بل منظور کر لیا

    سینیٹ نے تولیدی صحت کو نصاب کا حصہ بنانے کا بل منظور کر لیا

    سینیٹ نے ملک میں تعلیمی نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم قانون سازی کرتے ہوئے تولیدی صحت کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنانے کا بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے

    اس بل کے تحت 14 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو مرحلہ وار اور عمر کے مطابق تولیدی صحت سے متعلق تعلیم فراہم کی جائے گی۔بل کے مطابق تولیدی صحت کی تعلیم کا مقصد صرف حیاتیاتی معلومات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود سے متعلق جامع آگاہی شامل کی جائے گی۔ اس نصاب کے ذریعے طلبہ کو صحت مند طرزِ زندگی، ذاتی صفائی، ذہنی توازن، سماجی ذمہ داریوں اور باہمی احترام جیسے اہم موضوعات سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ عملی زندگی میں بہتر فیصلے کر سکیں۔

    قانون سازی میں والدین کے کردار کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ تولیدی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی تعلیم یا رہنمائی دینے سے قبل والدین یا سرپرست کی تحریری رضا مندی لازمی ہوگی۔ اس شق کا مقصد والدین کے تحفظات کو دور کرنا اور تعلیمی عمل میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔بل کے متن کے مطابق نصابی کتب کی تیاری کے دوران متعلقہ اتھارٹیز اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ مواد طلبہ کی عمر، ذہنی سطح اور سماجی اقدار کے مطابق ہو۔ نصاب کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے گا کہ حساس موضوعات کو محتاط، سادہ اور تعلیمی اصولوں کے تحت پیش کیا جائے، تاکہ طلبہ پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔

    ایوان میں بل پر بحث کے دوران حامی ارکان کا کہنا تھا کہ تولیدی صحت سے متعلق درست اور بروقت آگاہی نوجوانوں کو صحت کے مسائل، ذہنی دباؤ اور سماجی غلط فہمیوں سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کے ذریعے شعور اجاگر کرنا معاشرے کی مجموعی صحت اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔دوسری جانب بعض ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ نصاب کی تیاری اور نفاذ کے دوران معاشرتی اقدار، ثقافتی حساسیت اور مذہبی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ کسی طبقے کے تحفظات جنم نہ لیں۔

  • الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس  کی سماعت

    الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کے کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کی،

    جس میں سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ کو جو نوٹس جاری ہوا وہ تحصیل حویلیاں، ضلع ایبٹ آباد کا تھا جو این اے 18 میں شامل نہیں، جبکہ الیکشن ہری پور میں تھا، وکیل کے مطابق ڈی ایم او کے نوٹس میں ڈسٹرکٹ ایبٹ آباد درج ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں ڈسٹرکٹ ہری پور لکھا گیا جو واضح تضاد ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مقام حویلیاں تھا ہری پور نہیں، علی بخاری نے کہا کہ اگر غلطی سے غلط ضلع لکھا گیا ہے تو نوٹس واپس لیا جائے، نوٹس میں تحصیل حویلیاں درج ہے اور ایبٹ آباد ڈسٹرکٹ شامل نہیں، وزیر اعلیٰ کو ہری پور جانا منع تھا اور وہ وہاں نہیں گئے، اگر ہری پور سمجھ کر بلایا گیا ہے تو یہ غلط بنیاد پر بلایا گیا،

    وکیل نے مؤقف اپنایا کہ قانون کے مطابق بدمزگی یا نتائج میں مداخلت کرپٹ پریکٹس کے زمرے میں آتی ہے، نوٹس کے ساتھ منسلک کاپی میں واضح طور پر درج ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کہا اگر نتائج میں تبدیلی یا بدمزگی کی گئی، علی بخاری نے کہا کہ ڈی ایم او مجھے بلا کر پچاس ہزار روپے جرمانہ کر سکتا تھا مگر جب کمیشن نے بلایا تو ڈی ایم او کے پاس معاملہ التوا ہو گیا، ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی معاملے پر دو کیسز اور دو سزائیں نہیں دی جا سکتیں، مزید یہ کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن خود شکایت کنندہ ہیں اور کیس بھی الیکشن کمیشن ہی سن رہا ہے جو خود شکایت اور خود ہی انصاف کے مترادف ہے،

    چیف الیکشن کمشنر نے سوال اٹھایا کہ اگر خلاف ورزی ہوتی رہے اور چیف منسٹر دھمکی دیتا رہے تو کیا الیکشن کمیشن آنکھ بند کر کے بیٹھا رہے، جس پر علی بخاری نے جواب دیا کہ جب آپ خود شکایت کنندہ ہیں تو کیس خود کیسے سن رہے ہیں، وکیل نے مزید کہا کہ ڈی ایم او نے نوٹس دیا تھا تو پہلے وہ فیصلہ کرتا، بعد ازاں معاملہ اپیل میں الیکشن کمیشن آنا چاہیے تھا، ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس نااہلی کا اختیار نہیں اور سہیل آفریدی نہ ضلع، نہ حلقے، نہ پولنگ اسٹیشن میں گیا اور نہ ہی اس نے کوئی غیر آئینی الفاظ ادا کیے،

  • پاکستان کی ترقی تب ممکن ، جب چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر شریک ہوں، وزیراعظم شہباز شریف

    پاکستان کی ترقی تب ممکن ، جب چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر شریک ہوں، وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی قربانیوں کے باعث 2018 میں دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی، تاہم کچھ عوامل کی وجہ سے اس ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ایس سانحے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ گُڈ اور بیڈ طالبان میں تمیز ختم ہو، جس کے نتیجے میں افواج، پولیس اور عوام سمیت ایک لاکھ پاکستانی شہید ہوئے تاہم 2018 کے بعد دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، جس کی وجہ سوات سے دہشتگردوں کی رہائی اور افغانستان سے بعض افراد کو پاکستان میں بسایا جانا تھی،ملک میں ہر روز کہیں نہ کہیں دہشتگردی کے واقعات ہوتے ہیں، اور افسوس کے ساتھ کہا کہ سوشل میڈیا پر شہدا کے خلاف باتیں اور پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ تعاون جاری ہے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں اضافے کے لیے پنجاب نے قربانی دی اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے چاروں صو بو ں نے خیبرپختونخوا کو 800 روپے فراہم کیےپاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہوگی جب چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر شریک ہوں، بلوچستان کو بھی شمسی توانائی اور سڑکوں کی مد میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

    شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان بننے کے وقت خیبرپختونخوا کے عوام نے قائد اعظم کا ساتھ دیا، 1971 کی جنگ کے دوران بھارت کے ساتھ افغانستان کی ٹرانزٹ تجارت کو رضاکارانہ طور پر بند کیا، اور این ایف سی ایوارڈ میں اپنے حق کا مکمل فائدہ نہ اٹھا سکا،مئی کی پاک-انڈیا جنگ کے بعد سبز پاسپورٹ کو عزت ملی، اور ملک معاشی ترقی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان جلد اقوام عالم میں اپنی حقیقی پہچان اور مقام حاصل کرے گا۔

  • پاک سعودیہ  دفاعی تعاون میں ترکیہ یا کوئی اور ملک بھی شامل ہو سکتا ہے، خواجہ آصف

    پاک سعودیہ دفاعی تعاون میں ترکیہ یا کوئی اور ملک بھی شامل ہو سکتا ہے، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے میں کسی بھی دوسرے ملک کی شمولیت کا فیصلہ دونوں ممالک باہمی مشاورت سے کریں گے۔

    نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس دفاعی تعاون میں ترکیہ یا کوئی اور ملک بھی شامل ہو سکتا ہے، جبکہ اسلامی دنیا کو مجموعی طور پر اپنے دفاع کے لیے ایک جامع دفاعی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے۔

    ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مثالی تعلقات موجود ہیں، ایران کے عزائم کسی کے خلاف نہیں اور پاکستان کی حمایت اسی مؤقف پر مبنی ہے کہ ایران کو محفوظ اور مستحکم رہنا چاہیے،ایرانی عوام ہمارے بھائی ہیں اور دو نو ں ممالک کے تعلقات باہمی احترام پر قائم ہیں۔

    وزیر دفاع نے اسرائیل کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جس سے متعدد ممالک کو خطرات لاحق ہیں،گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو دعوت دی ہے۔

  • جادو ٹونا کرنے اور اس کی تشہیر پر 6 ماہ سے 7 سال قید ، 10 لاکھ تک جرمانہ ہو گا

    جادو ٹونا کرنے اور اس کی تشہیر پر 6 ماہ سے 7 سال قید ، 10 لاکھ تک جرمانہ ہو گا

    سینیٹ نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا جس کے تحت جادو ٹونا کرنے یا اس کی تشہیر پر قید اور جرمانے کی سزا ہو گی۔

    ترمیم میں تعزیرات پاکستان میں نئی دفعہ 297 الف شامل کی گئی اور یہ بل جاود ، جادو ٹونا کی روک تھام سے متعلق ہےبل کے مطابق جو شخص جادو ٹونا یا اس کی تشہیر کرے اسے 6 ماہ سے 7 سال تک قید ہو گی اورجرم کے مرتکب شخص کو 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔

    اس کے علاوہ سینیٹ نے وفاقی نصاب، نصابی کتب سے متعلق بل بھی منظور کر لیا یہ بل سینیٹر عینی مری نے پیش کیا سینیٹر سرمد علی کا پیش کردہ مسلم فیملی لاز ترمیمی بل مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

    میئر کراچی کا شہید فائر فائٹر فرقان کے ورثا کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان

    گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

  • پاکستان میں آج شعبان کا چاند نظر نہیں آیا

    پاکستان میں آج شعبان کا چاند نظر نہیں آیا

    پاکستان میں آج شعبان کا چاند نظر نہیں آیا،یکم شعبان المعظم 21 جنوری بروز بدھ ہو گا۔

    شعبان کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا،چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا محمد عبد الخبیر آزاد نے اجلاس کی صدارت کی،زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور میں بھی ہوئے ، اجلاس میں وزارت مذہبی امور، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، سپارکو اور دیگر اداروں کے حکام شریک تھے۔

    مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے شعبان کے چاند کی رویت کے حوالے سے شواہد کا جائزہ لیا، بعدازاں رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ پاکستان میں آج شعبان کا چاند نظر نہیں آیا، یکم شعبان المعظم 21 جنوری بروز بدھ ہو گا۔

    وزیر اعظم مودی نے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا استقبال کیا

    پاکستان کسٹمز کی کارروائی،38ہزار 265لیٹر اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل برآمد

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

  • وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    وفاقی وزیر برائے خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے موقع پر مملکتِ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی معاشی پیش رفت اور سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیاسعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے پاکستان میں حالیہ معاشی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ وزیر خزانہ نے سعودی قیادت اور مملکت کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کیا۔

    سینیٹر اورنگزیب نے اہم معاشی اشاریوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور درآمدات کے لیے قریباً 3 ماہ کا کور موجود ہے، جو معاشی استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔

    وزیر خزانہ نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی جانب بھی توجہ دلائی اور بتایا کہ سولہ نئے آئی پی اوز زیرِ غور ہیں جبکہ گزشتہ سال نو آئی پی اوز کامیابی سے مکمل کیے گئے۔ کیپٹل مارکیٹ میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں، جو معیشت پر اعتماد کی علامت ہیں،شرحِ سود میں کمی کا عمل جاری ہے اور مانیٹری پالیسی کے فیصلے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری کے تحت کیے جاتے ہیں۔

    وزیر خزانہ نے معاشی نمو اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال معاشی شرح نمو 3.1 فیصد رہی جبکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی انہوں نے آئی ٹی سروسز میں اضافے کو معاشی سرگرمیوں کے لیے مثبت قرار دیا اور سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ معاونت کو سراہا۔

    اس موقع پر وزیر خزانہ نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ معدنیات، زراعت اور دیگر پیداواری شعبے سرمایہ کاری کی ترجیح ہیں، جو برآمدات میں اضافے اور مقامی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے نجکاری کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اہم اقدامات میں متحدہ عرب امارات کی ڈیجیٹل شعبے میں سرمایہ کاری اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سے متعلق معاملات شامل ہیں، اور آئندہ دیگر سرکاری اداروں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور بڑے ہوائی اڈوں کی نجکاری پر بھی کام جاری رہے گا۔

    سعودی وزیر خزانہ نے اپنی گفتگو میں مملکت میں نجکاری کے تجربات اور اصلاحات کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی ہوائی اڈے اصلاحات کے بعد منافع بخش ادارے بن چکے ہیں، ملاقات خوشگوار اور مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں دونوں وزرائے خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحانہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور شہزادہ فیصل بن فرحان نے خطے کی موجودہ صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع پر بات چیت کی، دونوں رہنماؤں نے سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ملاقات کے دوران بات چیت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

    چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے،وزیراعظم

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

  • چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے،وزیراعظم

    چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے گزر کر اب پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہو چکی ہے –

    وزیراعظم نےپیر کے روز پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے برسوں کے بجائے مہینوں میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے گزر کر اب پائیدار ترقی کی جانب گا مزن ہو چکی ہے اور حکومت سی پیک 2.0 کو عملی حقیقت اور کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی، بہتر آبی نظم و نسق، جدید کاشتکاری کے طریقوں، ویلیو چین، کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ناگزیر ہے حکومت نے اس سمت میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے اور 2024 اور 2025 کے دوران بی ٹو بی اور جی ٹو جی سطح پر متعدد مفاہمتی یادد اشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں، جنہیں اب عملی معاہدوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو میرٹ کی بنیاد پر چین کی زرعی جامعات اور تحقیقاتی مراکز میں تربیت کے لیے بھیجا گیا، جو وطن واپس آ کر کسانوں کی رہنمائی کریں گے اور زرعی معیشت کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم نے چین کی زرعی ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ترقی کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ، دیرپا اور فولاد سے مضبوط ہے رواں سال دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جو اس گہر ے تعلق کی عکاسی ہے۔

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    انہوں نے افراط زر میں کمی، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، برآمدات میں اضافے اور دیگر معاشی اشاریوں میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب پائیدار ترقی کے راستے پر ہے نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اگر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو زرا عت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں بروئے کار لایا جائے تو معیشت میں تیز رفتار تبدیلی ممکن ہے۔

    قبل ازیں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے انہوں نے پاکستان کی معاشی بہتری اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح 3.71 فیصد تک پہنچ گئی ہے، مہنگائی 4 فیصد پر برقرار ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.1 ارب ڈالر ہو چکا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں چین زرعی شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے اور دوطرفہ زرعی تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے انہوں نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    ہائی اسپیڈ ٹرین کا ٹکراؤ، 39 ہلاک , 100 سے زائد زخمی

    تقریب کے اختتام پر پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں دونوں ممالک کے تجارتی، سفارتی اور ترقیاتی تعاون کو اجاگر کیا گیا تقریب میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، جام کمال، اویس لغاری، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ، بیجنگ میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، پاکستانی و چینی کمپنیوں کے نمائندے اور اعلیٰ سرکاری حکام موجود تھے-