Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • ملک بھر میں  نیشنل ایکشن پلان کے تحت  کارروائیاں ہو رہی ہیں،طلال چوہدری

    ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہو رہی ہیں،طلال چوہدری

    وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری سیکیورٹی کارروائیاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبائی حکومتوں کی مکمل معاونت اور مشاورت سے کی جا رہی ہیں۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں جو بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہیں، جو ابتدا میں 2014-15 میں بنایا گیا تھا بعد ازاں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان ٹو تشکیل دیا گیا، جس پر تمام صوبائی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں متفق ہوئیں، اس متفقہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد آج بھی صوبائی حکومتوں کی معاونت اور باہمی مشاورت کے ساتھ جاری ہے۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کی تعداد میں کیے جاتے ہیں، جو صوبائی حکومتوں کی مشاورت اور تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے ہوتے ہیں، جن کارروائیوں کا ذکر حال ہی میں کیا گیا، وہ اس وقت خیبرپختونخوا اور سابق فاٹا کے علاقوں میں جاری ہیں، جن میں صوبا ئی حکومت مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔

    وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ جن علاقوں میں آپریشنز ہو رہے ہیں وہاں کے عوام کے لیے ریلیف اور بحالی پیکج کے تحت صوبائی حکومت نے صوبائی کابینہ سے منظوری لے کر 5 ارب روپے مختص کیے ہیں،انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبرپختو نخوا کو مجموعی طور پر 5867 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔

  • کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر بم حملہ:صدر مملکت کی شدید الفاظ میں مذمت

    کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر بم حملہ:صدر مملکت کی شدید الفاظ میں مذمت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    انہوں نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کی،انہوں نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے باوجود ترقیاتی کاموں میں مصروف چینی شہریوں کے حوصلے اور جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا کہا کہ چینی شہری شدید خطرات کے باوجود افغانستان کی ترقی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔

    آصف علی زرداری نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت دوحہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری میں ناکام رہی ہے، خصوصاً اس عزم پر کہ افغان سرزمین دہشت گردی کی برآمد کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی پاکستان متعدد بار اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی دہشتگرد تنظیم کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے۔

  • حفیظ سینٹر لاہور ایک سال میں تین بار آگ لگی،سیاست نہیں کی گئی۔شہلا رضا

    حفیظ سینٹر لاہور ایک سال میں تین بار آگ لگی،سیاست نہیں کی گئی۔شہلا رضا

    پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ کسی بھی حادثے کے وقت یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وزیراعلیٰ یا وزراء خود موقع پر پہنچیں، بلکہ سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ریسکیو ادارے بروقت وہاں پہنچیں، متاثرین کی مدد کریں اور راستے کلیئر کیے جائیں تاکہ امدادی کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں گل پلازا آتشزدگی کے واقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ یہ واقعہ ایک بڑا سانحہ بن گیا، تاہم وہ اس پر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے سنجیدگی سے اسباب اور نظامی خامیوں کا جائزہ لینا چاہیے،انہوں نے ایوان کو بتایا کہ گل پلازا کے اطراف ٹریفک کی صورتحال انتہائی خراب تھی، جس کے باعث ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ شہلا رضا کے مطابق گل پلازا کے 26 میں سے 24 راستے بند تھے، جس کی وجہ سے فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں کو موقع پر پہنچنے میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

    شہلا رضا نے گل پلازا کی تعمیر اور بعد ازاں ہونے والی توسیع پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پلازا 1980 میں تعمیر کیا گیا تھا، جس کی بنیاد میں 180 دکانیں تھیں۔ بعد ازاں گراؤنڈ فلور پر 405 دکانیں اور پہلے فلور پر 175 دکانیں بنائی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1998 میں مزید دکانیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد پلازے میں پارکنگ ایریاز اور کوریڈورز میں بھی دکانیں بنا دی گئیں، جس سے عمارت کے ڈیزائن اور حفاظتی تقاضوں پر منفی اثر پڑا۔

    پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے کہا کہ گل پلازا جیسے سانحات کا مقابلہ صرف کریمنل ایکٹ کے تحت نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب ایسے واقعات میں دو سے ڈھائی سو قیمتی جانیں ضائع ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے حادثات کے لیے جامع پالیسی، سخت بلڈنگ قوانین اور مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔شہلا رضا نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ میں آگ لگنے کے ایک واقعے میں 40 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ امریکہ میں کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ اکثر رہائشی علاقوں تک پھیل جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ ایک ایسی آفت ہے جو کسی بھی وقت اور کہیں بھی لگ سکتی ہے، تاہم اصل مسئلہ تیاری اور حفاظتی انتظامات کا ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لاہور کے حفیظ سینٹر میں ایک سال کے دوران تین مرتبہ آگ لگ چکی ہے، لیکن اس پر کبھی سیاست نہیں کی گئی۔ شہلا رضا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب رویہ ہے کہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر بات صوبوں، اٹھارویں ترمیم اور حتیٰ کہ بنیادی تعلیم تک لے جائی جا رہی ہے، جبکہ اصل توجہ انسانی جانوں کے تحفظ اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام پر ہونی چاہیے،ملک بھر میں کمرشل عمارتوں کے لیے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور ریسکیو اداروں کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔

  • فاروق ستار کاسانحہ گل پلازہ کو قومی سانحہ قرار دینے کا مطالبہ

    فاروق ستار کاسانحہ گل پلازہ کو قومی سانحہ قرار دینے کا مطالبہ

    سانحہ گل پلازہ پر ایم کیو ایم پاکستان نے قومی اسمبلی میں احتجاج کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے واقعے کو قومی سانحہ قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔

    ڈاکٹر فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ماضی کی غلطیوں کا ذکر کرکے ذمہ داری سے راہ فرار اختیار نہیں کی جاسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ بے شمار جانوں اور اربوں روپے کا نقصان ہوا، کسی نہ کسی کو ذمہ داری لینی پڑے گی۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء امین الحق کا کہنا ہے کہ کراچی کے گل پلازہ میں جو کچھ ہوا اس کا جواب کون دیگا؟، رات 10 بجے آگ لگتی ہے لیکن فائر ٹینڈر 40 منٹ بعد پہنچے، کیا گل پلازہ گلی میں تھا جو تاخیر ہوئی؟۔انہوں نے کہا کہ رات گزر گئی، لوگ جلتے رہے، کوئی نہیں آیا، ذمہ داری کے ایم سی اور صوبائی حکومت کی بنتی تھی، سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔امین الحق کا کہنا ہے کہ کراچی سندھ کو 98 فیصد کما کر دیتا ہے، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں، ترمیم کرکے میئر کو بااختیار بنائیں، بلدیاتی نظام میں ترامیم پر اب کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔

    دوسری جانب کراچی گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے، ملبے سے ایک اور لاش نکال لی گئی، اموات کی تعداد 27 ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹا کر اندر داخلے کیلئے راستہ بنانے میں مصروف ہیں، چھت سے متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں محفوظ طریقے سے نکال لی گئیں۔ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا ہے کہ چند گھنٹوں کے اندر ریسکیو عملہ پچھلی جانب سے عمارت کے اندر داخل ہونے کی پوزیشن میں ہوگا۔

  • عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے دفتر میں ملاقاتوں اور مشاورت کے دوران جو سنجیدہ اور خوشگوار ماحول قائم ہوا، اسی جذبے کو ایوان کے اندر بھی برقرار رکھا جانا چاہیےاختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ووٹ کے احترام اور عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر عوام کے فیصلے کو مؤثر نہ مانا جائے تو جمہوری عمل آگے نہیں بڑھ سکتا، انتخابی نتائج پر اعتراض اور ہار تسلیم نہ کرنے کا رویہ کوئی نئی بات نہیں،2018 کے انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جب ان کی جماعت اپوزیشن میں تھی اور انتخابی عمل پر شدید اعتراضات کیے گئے تھے۔

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ، نئی صف بندیاں اور مخصوص گروہوں کی تشکیل سب کے سا منے تھی، جس کا مقصد انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا تھا اس دور میں بعض عناصر کو اکٹھا کر کے اسلام آباد لایا گیا اور انہیں سیاسی شناخت دی گئی، جو انتخابی عمل میں مداخلت کی واضح مثال تھی اس وقت کی اپوزیشن کا بھی یہی مؤقف تھا کہ متعدد نشستوں پر نتائج تبدیل کر کے ایک جماعت کو اکثریت دلائی گئی۔

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر ہم صرف مخصوص تاریخوں یا واقعات پر اٹکے رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے انہوں نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو آج کی اپوزیشن 2018 کے مؤقف کی تائید کر سکتی ہے اور نہ ہی موجودہ حالات میں صرف ایک نکتے پر اصرار مسئلے کا حل ہے،اس حقیقت پر متفق ہونا ہوگا کہ پاکستان میں انتخابی نظام پر مکمل اعتماد موجود نہیں، جس کے باعث ہر الیکشن کے بعد الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس میں نہ کوئی واضح جیتنے والا ہوتا ہے اور نہ ہارنے والا۔

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ان کی جماعت نے بھی پارلیمان میں آ کر دھاندلی کے الزامات لگائے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا، مگر اس وقت جو جواب دیا گیا وہ سب کے سامنے ہے اب جبکہ اپوزیشن خود پارلیمان کا حصہ ہے اور اس کی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہے تو اس پر بھی لازم ہے کہ نظام کی بہتری کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔

  • جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی اور جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے۔

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان فیڈرل کالمسٹ اینڈ کری ایٹر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا، صحافت اور سیاسی تجربات پر بات کی انہوں نے کہا کہ ریل اسٹیٹ سیکٹر نے اخبارات اور میڈیا ہاؤسز میں اپنا کردار ادا کیا، مگر اب بھی وقت موجود ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر نظام کو بہتر بنائیں،ریل اسٹیٹ سیکٹر نے اس وقت میڈیا ہاؤسز کا کردار ادا کیا جب اخبارات نے خود کو کمزور محسوس کیا، اور یہ خلا بھر دیا۔

    تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی بھی نظام کو بہتر بنانے کے لیے وقت موجود ہے، اور مختلف اداروں جیسے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ اطلاعات کے کردار کو الگ رکھا گیا تاکہ صحافت کو فروغ دیا جا سکے قوانین کے نفاذ میں شفافیت اور اختیار کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور ملک میں اختلاف رائے کے لیے کافی گنجا ئش موجود ہے انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اسٹوڈنٹ سیاست سے شروعات کی، عملی سیاست کا تجربہ حاصل کیا اور پھر بیوروکریسی میں خدمات انجام دی۔

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    عطا تارڑ نے کہا کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی اور جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے تیسری قوت نے معاشرتی مسائل کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ قوت اب بھی ملک کے اندر مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

  • پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے مابین اسلام آباد میں 60 کروڑ 34 لاکھ ڈالر مالیت کے3 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق معاہدے پر دستخط پاکستان کے وزیر ِاقتصادی امور احد خان چیمہ اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد کے درمیان ملاقات کے بعد کیے گئےمعاہدوں پر اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد اور اقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹری محمد حمیر کریم نے دستخط کیے۔

    تقریب میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے تخفیف ِغربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے،اعلامیے کے مطابق غربت کے خاتمے کے منصوبے کے تحت 118.4 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے ذریعے 68,500 خاندانوں کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور انسانی وسائل کی ترقی (ہیومن کیپیٹل ڈولپمنٹ) میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے اپنے ذرائع معاش کو بہتر بنانے کے قابل بنایا جائے گا۔

    475 ملین ڈالر (47 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) ایم-6 موٹر وے منصوبے کے لیے فراہم کیے جائیں گے یہ پشاورکراچی موٹر وے کا 120.8 کلومیٹر طویل ایک اہم سیکشن ہے، جو ملک کے شمال،جنوب راہداری (نارتھ ساؤتھ کوریڈور) کے درمیان موجود ادھورے لنک کو جوڑنے میں معاون ثابت ہوگا۔

    1 کروڑ ڈالر (10 ملین ڈالر) آزاد جموں و کشمیر میں اسکولوں سے باہر بچوں کے منصوبے کے لیے جاری کیے جائیں گے اس اقدام کے تحت 60,000 ایسے بچوں کو غیر رسمی تعلیمی ذرائع سے مدد فراہم کی جائے گی جو اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 135 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا، 250 تعلیمی مراکز قائم ہوں گے، 4,000 اساتذہ کو تربیت دی جائے گی، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی (کلائمیٹ ریزیلیئنٹ) تدریسی سہولیات تعمیر کی جائیں گی۔

    اسلامی ترقیاتی بینک کے وائس پریزیڈنٹ آپریشنز، ڈاکٹر رامی احمد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری دورے پر اتوار کو اسلام آباد پہنچےبیان کے مطابق ڈاکٹر رامی احمد کا اسلام آباد کا سرکاری دورہ، جو 18 تا 21 جنوری 2026 تک جاری رہے گا، پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو جاری رکھنے، پائیدار ترقی کے تعاون کو مضبوط بنانے، اسلامی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت سے چلنے والے بڑے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور قومی ترجیحات اور بینک کے 2026 کے ورک پروگرام پر اعلیٰ حکومتی قیادت سے مشاورت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

  • پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی-

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی چار پانچ زبانیں بولتی ہے،ہم ان کی کون سی زبان سمجھیں، ہمیں بتائیں ہم ان کی کون سی زبان پر اعتبار کریں، خیبرپختونخواحکومت الگ اوراسمبلی میں بیٹھنے والے الگ زبان بول رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جولوگ باہربیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے، باہربیٹھ کر جولوگ پاکستان کےخلاف بولتے ہیں یہ ان کی مرضی سے بول رہے ہیں، باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت باہر سے لوگ بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے کے لیے اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے، یہ صرف پی ٹی آئی کی نیت کا فتور ہے، پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی، یہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے اور سارے مل کر کھیل رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں ایک اکثریتی پارٹی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نہیں بنایا؟ محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایاگیا ہے وہ بھائی ہے اپنا اور میں محمود اچکزئی کا بڑا احترام کرتا ہوں، میرا ان کی سیاست سے اختلاف ضرور ہوسکتا ہے لیکن میرا ان سے بڑا برادرانہ تعلق ہے، بہت اچھی بات ہےکہ وہ اپوزیشن لیڈر بنےہیں میں ان کو ویلکم کرتا ہوں، نواز شریف اور شہباز شریف مجھےحق دیتے ہیں کہ میں ان سے اختلاف کرسکتا ہوں حالانکہ کوئی وزیر اعظم اپنے وزرا کو یا ورکرز کو اتنی اسپیس نہیں دیتاجتنی شہبازشریف دیتے ہیں، پاکستان کی سیاست میں یہ لوگ ایک رول ماڈل ہیں۔

    دریں اثنا قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی کیونکہ اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں کراچی میں جو واقعات ہو رہے ہیں، وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں ایک موثر نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے اختیارات صوبائی دارالحکومتوں سے ضلع، تحصیل اور وارڈ کی سطح پر منتقل ہوں۔

    خواجہ آصف کے مطابق نہ تو کہیں مؤثر لوکل گورنمنٹ ہے، اور جہاں ہے وہاں بھی اختیارات نہیں ہیں۔ پاکستانی عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کے لیے ملک میں ایک مضبوط اور مؤثر لوکل گورنمنٹ سسٹم لانا ضروری ہے،جب تک آپ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو بااختیار نہیں بنائیں گے تب تک یہ ہاؤس بے معنی ہوگا۔ اگر ہم نے واقعی پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرنی ہے تو پہلے عوام کو گلی محلے میں نمائندگی دیں۔ جب تک گلی محلے والوں کی نمائندگی نہیں ہوگی تو وہاں کوئی فائربریگیڈ نہیں ہوگا۔ پھر وزارت دفاع کا فائر بریگیڈ آ کر آگ بجھائے گا۔‘

    وزیر دفاع نے واضح کیا کہ 28ویں ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے اور اس کے مؤثر نظام کے قیام کی تجویز دی گئی تھی، اور اس پر اتفاق رائے بھی موجود تھا۔ تاہم حکومت کو اس سے پیچھے ہٹنا پڑاستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی فوجی ڈکٹیٹرز آئے تو انہوں نے بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرایا۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف تینوں نے یہ نظام متعارف کرایا۔ ہر 5 سال بعد باقاعدگی سے انتخابات ہوتے رہے ہم لوگ الیکشن ہی نہیں کرواتے اگر شیڈول آ جائے تو ہمارے صوبائی دارالحکومت کسی نہ کسی حیلے بہانے سے اختیارات نیچے منتقل کرنے سے ہچکچاتے رہتے ہیں بلکہ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہ یہ پاور گراس روٹ لیول پر نہ جائے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ لوکل گورنمنٹ سے اوپر آئے اور ملک کے صدر بنے ایک پراسیس سے گزر کر چینی قیادت سامنے آئی وہ پیرا شوٹ کے ذریعے نہیں اتری،کراچی میں آگ بجھانے میں ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ملک کو ایک ایسے سسٹم کی ضرورت ہے تمام ضلعو ں، تحصیلوں، محلوں میں لوکل گورنمنٹ کا نمائندہ ہو اور لوگوں کو شکایت ہو تو وہ اس کے گریبان پر ہاتھ ڈال سکیں اس طرح لوگوں کے مسائل حل ہوں گے، لوگ بااختیار ہوں گے انہیں حقوق ملیں گے کراچی کا واقعہ خطرے کی گھنٹی ہے ہمیں کچھ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں بامعنی آئینی ترمیم منظور کرکے پوری قوم کو بااختیار کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرائیں۔

    خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ گوادر سے گلگت تک یکساں نصاب تعلیم ہو، تاکہ ہماری نئی نسل پاکستانیت کے ساتھ ساتھ اپنی صوبائیت کو بھی پہچانے۔ اس میں کوئی مفادات کا تصادم نہیں تھا۔ نصاب تعلیم ایک قومی شناخت دیتا ہے۔ لیکن اسے بھی ہمیں ڈراپ کرنا پڑا کیونکہ اس پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

  • عمران ،بشریٰ کے مقدمات،بیرسٹر گوہر کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات نہ ہو سکی

    عمران ،بشریٰ کے مقدمات،بیرسٹر گوہر کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات نہ ہو سکی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے مختلف مقدمات کی سماعت مقرر کروانے کے لیے بیرسٹر گوہر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیمبر پہنچے، تاہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر سے ملاقات نہ ہو سکی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وہ عدالتی معاملات کے حل اور کیسز کی بروقت سماعت کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر گئے تھے، مگر ملاقات ممکن نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈویژن بینچ میں پیشی کے بعد ایک مرتبہ پھر چیف جسٹس کے چیمبر جانے کا ارادہ ہے اور کوشش کی جائے گی کہ کیسز کی سماعت کے لیے تاریخ حاصل کی جا سکے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم چیف جسٹس پاکستان سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے، کیونکہ ہم بارہا عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اب تک تقریباً 15 مرتبہ اسلام آباد ہائیکورٹ آ چکی ہے، مگر اس کے باوجود کیسز کی سماعت مقرر نہیں ہو پا رہی۔

    انہوں نے خاص طور پر بشریٰ بی بی کے کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کی اپیل قانون کے مطابق جلد سنی جانی چاہیے، مگر بدقسمتی سے اس معاملے میں بھی تاخیر کی جا رہی ہے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ صرف متاثرہ فریق کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے بلکہ عدالتی نظام پر سوالات بھی اٹھاتی ہے۔بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ عدالت عظمیٰ اور اسلام آباد ہائیکورٹ اس معاملے کا نوٹس لیں گی اور عمران خان و بشریٰ بی بی کے کیسز کی جلد سماعت یقینی بنائی جائے گی تاکہ قانونی تقاضے پورے ہو سکیں اور انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔

  • قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے،غریب کیا کرے،شیخ رشید

    قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے،غریب کیا کرے،شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک میں “تاریخ پہ تاریخ” پڑ رہی ہے اور آج ایک بار پھر تاریخ ڈال دی گئی ہے، جبکہ پاکستان کو جرمانستان میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شیخ رشید احمد نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹا اور چینی کی قیمتیں 150 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہیں، جبکہ مرنا بھی مہنگا ہو چکا ہے اور قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جو غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔

    انہوں نے حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں پر عائد کیے گئے جرمانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیکیہ چلانے والے پر 2 ہزار روپے، ریڑھی بان پر 5 ہزار روپے جبکہ دکاندار پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ شیخ رشید کے مطابق یہ فیصلے عام آدمی پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہا ہے۔سابق وزیر داخلہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حالات کو بہتر بنایا جائے تاکہ غریب طبقہ بھی عزت اور آسانی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو عوام کے لیے جینا مزید مشکل ہو جائے گا۔

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں شیخ رشید احمد اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالتی عملے کی جانب سے ان کی حاضری کا عمل مکمل کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔