Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • پولیو مہم کی تاریخ کا اعلان ہوگیا

    پولیو مہم کی تاریخ کا اعلان ہوگیا

    ملک کے 159 اضلاع میں 2 تا 8 فروری قومی پولیو مہم شروع کی جائے گی۔

    نیشنل ای او سی کے مطابق 2 تا 8 فروری 2026 کی پہلی پولیو مہم میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے2 تا 8 فروری 2026 کی پہلی پولیو مہم کے دوران 4 لاکھ سے زائد مرد و خواتین پولیو ورکرز اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیں گے والدین سے اپیل ہے کہ پولیو ورکرز کے لیے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلَوائیں پیدائش سے 15 ماہ تک کے تمام بچوں کا حفاظتی ٹیکوں کا کورس بروقت مکمل کروائیں، علا و ہ ازیں پولیو مہم سے متعلق معلومات کے لیے 1166 پر کال کریں یا 03467776546 پر واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔

    اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

  • نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر نااہل قرار دیے گئے سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان کی رکنیت بحال کر دی ہے۔

    قومی اسمبلی کے 8 اور پنجاب اسمبلی کے 14 ارکان کی رکنیت بحال کی گئی ہے،سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے چار، چار اراکین کی رکنیت بحال کر دی گئی،سینٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ایک ایک رکن کی رکنیت بحال کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ ارکان نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد وہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت قانونی تقاضے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

    اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 کے تحت تمام ارکانِ اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں،اس قانون کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے 16 جنوری 2026 کو متعدد ارکان کو رکنیت سے محروم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اب تمام متعلقہ ارکان نے اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137(3) کے تحت ان کی اراکین اسمبلی کی حیثیت بحال کر دی گئی ہےیہ فیصلہ قانون کے مطابق اور فراہم کردہ اختیارات کے تحت کیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق جن ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت بحال کی گئی ہے، ان میں سینیٹ سے عابد شیر علی (پنجاب) ، سید کاظم علی شاہ( سندھ)، نورالحق قادری(خیبر پختونخوا) اور عبد القدوس(بلوچستان) کی رکنیت بحال کی گئی-

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    قومی اسمبلی سے سردار غلام عباس، محمد محبوب سلطان، سید عبدالقادر گیلانی، میر عامر علی خان مگسی، ارشد عبداللہ ووہرا اور صوفیہ سعید شاہ کی رکنیت بحال کی گئی-

    پنجاب اسمبلی سے سردار محمد عاصم شیر میکن، علی حسین خان، جعفر علی ہوچھا ،محمد طاہر پرویز میاں محمد آصف ، امتیاز محمود، اسامہ فضل، محمد معین الدین ریاض، کاشف نوید، میاں علمدار عباس قریشی، محمد عون حمید، سردار شیر افغان گورچانی اور روبینہ نذیر کی رکنیت بحال کی گئی-

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    جبکہ سندھ اسمبلی سے آغا شہباز علی درانی، نوابزادہ برہان چانڈیو، سید اویس قادر شاہ، شیراز شوکت راجپر، جام خان شورو، سعید غنی، فرح سہیل اور کو مل کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میاں محمد عمر اور خدیجہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی،علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی سے فیصل خان جمالی، بخت محمد، زارق خان اور صفیہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    الیکشن کمیشن نےاس امر پر زور دیا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی جانب سے اثاثہ جات کی بروقت تفصیلات جمع کرانا شفافیت اور احتساب کے عمل کا اہم حصہ ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصری ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کرکے خطے کی صورتحال پر گفتگو کی ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک گفتگو کی،گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور کثیرالجہتی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر مسلسل رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

    گفتگو میں پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں رہنما عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں ملاقات کریں گے تاکہ دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

  • سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بھارتی اور افغان میڈیا کے پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستانی فوج بلوچستان میں کسانوں کے ذریعہ معاش تباہ کر رہی ہے اور ایک ویڈیو کے ذریعے دکھایا گیا کہ اہلکار سولر پینلز تباہ کر رہے ہیں،وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ دعویٰ بے بنیاد ہے اور ویڈیو اصل میں بلوچستان میں ایف سی اور اینٹی نارکورٹکس فورس کے آپریشن کی فوٹیج ہے۔ ان آپریشنز کا مقصد غیر قانونی منشیات کی کاشت اور دہشت گردوں کو فنڈنگ پہنچنے سے روکنا ہے،وزارت نے واضح کیا کہ نہ تو کسی پاکستانی اور نہ ہی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اس جھوٹے دعوے کی تصدیق کی ہے۔

    وزارت نے کہا کہ پاکستان مخالف منظم منفی پروپیگنڈا مہم بھارتی اور افغانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی پہچان بن چکی ہے۔

  • سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    وفاقی حکومت نے سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔

    کابینہ ڈویژن نے سال 2026 کی تعطیلات کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق کشمیر ڈے 5 فروری، پاکستان ڈے 23 مارچ کو سرکاری تعطیل ہوگی،عیدالفطر کے لیے 21، 22 اور 23 مارچ 2026 کو عام تعطیل ہوگی، یومِ مزدور یکم مئی کو منایا جائے گا جبکہ یومِ تکبیر کی مناسبت سے 28 مئی کو تعطیل ہوگی۔

    کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق عیدالاضحیٰ کے لئے عام تعطیل 27، 28 اور 29 مئی 2026 کو ہوگی،یومِ آزادی 14 اگست اور عید میلادالنبی ﷺ کے سلسلے میں 25 اگست کو تعطیل دی جائے گی، علامہ اقبال ڈے 9 نومبر، قائداعظم ڈے اور کرسمس کے موقع پر 25 دسمبر کو عام تعطیل ہوگی۔

    سانحہ گل پلازہ،جس کی غلطی ہوئی،سزائیں ہوں گی،وزیراعلیٰ سندھ

    سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

    جنید صفدر کی شادی، دلہن کے ملبوسات پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

  • متنازعہ ٹویٹ کیس، ایمان مزاری کی گرفتاری نہ ہو سکی

    متنازعہ ٹویٹ کیس، ایمان مزاری کی گرفتاری نہ ہو سکی

    اسلام آباد پولیس اور این سی سی آئی ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری کے وارنٹ کی تعمیل نہ کراسکی۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج افضول مجوکہ نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کےخلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت کی،نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) حکام سمیت پولیس حکام اور اسپیشل پراسیکیوٹرز عدالت پیش ہوئے جہاں دونوں اداروں کی جانب سے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ کی جاسکی،این سی سی آئی اے اور پولیس کی جانب سے رپورٹ جمع کرانے کے لیے وقت مانگا گیا جس پر جج افضل مجوکہ نے کہا کہ جس کی رپورٹ غیراطمینان بخش ہوگی اس کے خلاف کارروائی ہوگی،عدالت نے کہا کہ دن 2 بجے تک این سی سی آئی اے اور پولیس وارنٹ سے متعلق رپورٹ جمع کرائے جس کے بعد عدالت نے سماعت میں 2 بجے تک وقفہ کردیا۔جج افضل مجوکہ نے دن دو بجے تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    جج افضل مجوکہ نے کہا کہ این سی سی آئی اے کے پراسیکوٹر لکھ کر رپورٹ دیں گے،اس رپورٹ کے مطابق کاروائی کے حوالے سے لکھوں گا ،ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیش نہیں کیا گیا ، جج نے استفسار کیا کہ کیا صورتحال ہے ؟ اسلام آباد پولیس اہلکار نے عدالت میں کہا کہ سر کوشش کر رہے ہیں ،جج نے این سی سی آئی اہلکار سے استفسار کیا کہ وارنٹ کدھر ہیں ؟ یہ تو رپورٹ غیر تسلی بخش ہے،ریاست آزاد پرسوں بتا رہے تھے ہائیکورٹ میں ہونے کی وجہ سے آج کے لئے کیس رکھوایا تھا ، ، این سی سی آئی اے پراسیکوٹر نے کہا کہ آرڈر کے مطابق این سی سی آئی اے کی ٹیم گئی ہوئی،عدالت نے سماعت میں دو بجے تک وقفہ کر دیا

  • اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان میں زلزلہ،ہنزہ میں مکانات اور سڑکیں متاثر

    اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان میں زلزلہ،ہنزہ میں مکانات اور سڑکیں متاثر

    اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز کشمیر کا شمال مغربی حصہ بتایا گیا ہے۔ جھٹکے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، سوات، ہنزہ، گلگت اور گرد و نواح میں واضح طور پر محسوس کیے گئے، جبکہ بعض علاقوں میں ہلکے جھٹکے بھی رپورٹ ہوئے۔

    زلزلے کے باعث ضلع ہنزہ کے مختلف علاقوں میں نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ذرائع کے مطابق ہنزہ کے گاؤں چپورسن میں زلزلے کے نتیجے میں مکانات اور سڑکیں متاثر ہوئیں۔ اسی طرح ریشت گاؤں میں زلزلے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس سے رابطہ سڑک کو نقصان پہنچا اور آمد و رفت میں مشکلات پیش آئیں۔ہنزہ کے علاقوں شٹمرگ اور زودخون میں بھی زلزلے کے جھٹکوں سے کئی مکانات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گینش سمیت متعدد مقامات پر شاہراہ قراقرم بلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعلقہ ادارے شاہراہ کو کھولنے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں

  • وکلا کی عدم پیشی اور التوا کی درخواستوں پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی برہم

    وکلا کی عدم پیشی اور التوا کی درخواستوں پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی برہم

    سپریم کورٹ ،وکلا کی عدم پیشی اور التوا کی درخواستوں پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی برہم، صدر سپریم کورٹ بار کو طلب کر لیا

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے دوران سماعت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک طرف جلد سماعت کی درخواستیں دائر کی جاتی ہیں،دوسری طرف وکلا پیش نہیں ہوتے،ویڈیو لنک کی سہولت موجود ہے اسلام آباد نہیں آسکتے تو ویڈیولنک کی سہولت موجود ہے، جسٹس شاہد بلال نے کہا کہ وکلا کی جانب سے کیسز ملتوی کرنے کی بہت زیادہ درخواستیں آرہی ہیں،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ بار کے زریعے وکلا کو پابند کریں،صدر سپریم کورٹ بارہارون الرشید نے کہا کہ پیش نہ ہونے وکلا پر جرمانہ کیا جائے،جس پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پہلی دفعہ جرمانہ نہیں کرتے آپ پابند کریں،

  • کھلاڑیوں کو ملنے والے کیش انعامات کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش

    کھلاڑیوں کو ملنے والے کیش انعامات کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش

    مالی سال 25-2024 میں پاکستانی کھلاڑیوں کو حکومت کی جانب سے ملنے والے کیش انعامات کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کردی گئیں۔

    حکومتی دستا ویز کے مطا بق حکومت کی جانب سے پا کستان کھلاڑیوں کو 20 کروڑ 64 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کے انعامات دیے گئے، تفصیلات کے مطابق قومی ایتھلیٹ ارشد ندیم کو 15 کروڑ20 لاکھ روپے، کوچ سلمان اقبال بٹ کو ایک کروڑ 6 لاکھ روپے انعام ملا جب کہ ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ جیتنے والے محمد آصف کو 25 لاکھ روپے انعام دیا گیا،ایشین انڈر 21 سنوکر چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتنے والے احسن رمضان کو 5 لاکھ روپے کا انعام ملا، سارک اسنوکر چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے پر محمد آصف کو 5 لاکھ، محمد نسیم اختر کو کانسی کا تمغہ جیتنے پر ایک لاکھ روپے انعام ملا جب کہ ساؤتھ ایشین ریجنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ جیتنے پر مختلف کھلاڑیوں کو 14 لاکھ 50 ہزار مالیت کے انعامات دیے گئے،اسپیشل اولمپکس ورلڈ ونٹر گیمز میں مختلف میڈلز حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو 30 لاکھ 50 ہزار روپے کے انعامات سے نوازا گیا۔

    ایشین جونئیر اسکواش چیمپئن شپ جیتنے پر مختلف قومی کھلاڑیوں کو 17 لاکھ 50 ہزار روپے، ورلڈ انڈر 23 انفرادی سکواش چیمپئن شپ جیتنے پر مختلف کھلاڑیوں کو 75 لاکھ روپے کے انعامات دیے گئے،ایشین اوپن عالمی ٹائک وونڈو چیمپئن شپ میں مختلف میڈلز حاصل کرنے پر کھلاڑیوں کو 1 کروڑ 15 لاکھ روپے انعامات ملے۔

  • بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ   شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید پاکستان کی سیاست کے وہ نام ہیں جنہوں نے صرف اقتدار نہیں کیا بلکہ ایک سیاسی سوچ، ایک نظریہ اور ایک سمت دی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بجا طور پر عالمی سطح کا رہنما اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قومی خودمختاری، عوامی وقار اور خارجہ پالیسی میں خودداری کو ترجیح دی، جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے مقابل جمہوریت کو ایک عالمی آواز دی آج بلاول بھٹو زرداری انہی دو فکری روایتوں کے وارث ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس وراثت کو مستقبل کے پاکستان کے لیے کس وژن میں ڈھالتے ہیں۔ پاکستان اس وقت معاشی کمزوری، ادارہ جاتی عدم توازن، سماجی ناانصافی، اور عوام کا نظام سے اعتماد اٹھ جانا ایسے مسائل ہیں جن کا حل وقتی نعروں سے ممکن نہیں۔ بلاول بھٹو کے لیے یہ موقع بھی ہے اور امتحان بھی کہ وہ خود کو صرف ایک جماعتی لیڈر نہیں بلکہ ریاستی سطح کے سیاستدان کے طور پر پیش کریں۔

    پیپلز پارٹی کا بنیادی نظریہ ہمیشہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک مضبوط سماجی معاہدے پر مبنی رہا ہے۔ آج اس معاہدے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جہاں ریاست شہری کو تعلیم، صحت اور انصاف فراہم کرے اور شہری ریاست پر اعتماد بحال کرے۔ بلاول بھٹو اگر اس سماجی معاہدے کو اپنی سیاست کی بنیاد بنا لیں تو وہ بھٹو ازم کو محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت بنا سکتے ہیں۔ سیاسی وژن کا تقاضا یہ بھی ہے کہ معیشت کو محض اعداد و شمار کے بجائے انسانی ترقی سے جوڑا جائے۔ روزگار پر مبنی معیشت، زرعی اصلاحات، مقامی صنعت کی سرپرستی اور کمزور طبقات کے لیے سماجی تحفظ—یہ وہ نکات ہیں جو بلاول بھٹو کو دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کر سکتے ہیں۔ ایک واضح معاشی بیانیہ ہی عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔

    خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی بلاول بھٹو کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی خوددار اور فعال سفارت کاری کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائیں۔ عالمی طاقتوں سے برابری کی بنیاد پر بات چیت اور کشمیر و فلسطین جیسے اصولی مؤقف یہ سب ایک قومی لیڈر کے وژن کا حصہ ہوتے ہیں۔ آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا بلاول بھٹو زرداری سیاست کو صرف اقتدار کی جنگ سمجھتے ہیں یا ریاست کی تعمیر کا عمل؟ اگر وہ وژن، اصول اور عوامی وابستگی کو اپنا راستہ بناتے ہیں تو وہ صرف ایک بڑے نام کے وارث نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی سیاست کا ایک سنجیدہ حوالہ بن سکتے ہیں۔ قوم آج بھی ایک ایسے سیاسی وژن کی منتظر ہے جو ماضی کی عظمت سے سبق لے کر مستقبل کی سمت متعین کرے—اور یہ موقع بلاول بھٹو کے سامنے ہے۔