Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی میں نمایاں کمی ریکارڈ

    پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی میں نمایاں کمی ریکارڈ

    نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) نے کہا ہے کہ ملک میں پولیو وائرس کی موجودگی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    نیشنل ای او سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح 48.1 فیصد سے کم ہو کر 13.1 فیصد رہ گئی ہے جون 2026 کے دوران ملک بھر سے پولیو وائرس کی نگرانی کے لیے 127 ماحولیاتی نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 117 نمونے پولیو وائرس سے منفی جبکہ 10 نمونوں میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

    اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران مثبت ماحولیاتی نمونوں کی تعداد 369 سے کم ہو کر 100 رہ گئی، جو پولیو کے خلاف جاری مہم کی مؤثریت کی عکاسی کرتی ہے صوبائی سطح پر پنجاب سے حاصل کیے گئے تمام 31 ماحولیاتی نمونے منفی قرار پائے، جبکہ سندھ کے 29 میں سے 28، خیبر پختونخوا کے 34 میں سے 30 اور بلوچستان کے 23 میں سے 18 نمونے بھی پولیو وائرس سے پاک پائے گئے۔

    نیشنل ای او سی کے مطابق سال 2026 کے دوران اب تک ملک میں پولیو کے صرف 3 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے نگرانی اور انسداد پولیو مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔

  • ‎پیٹرول اور ڈیزل مہنگا، حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا

    ‎پیٹرول اور ڈیزل مہنگا، حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا

    ‎وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتوں کا فوری اطلاق کر دیا گیا ہے۔
    ‎حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
    ‎اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 375 روپے 4 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
    ‎پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ ڈیزل کا استعمال مال بردار گاڑیوں، زرعی مشینری اور پبلک ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر مرتب ہوتے ہیں اور اس سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ عوام کو روزمرہ کے اخراجات میں بھی اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    ‎حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جبکہ آئندہ جائزے تک یہی نرخ نافذ العمل رہیں گے۔

  • ‎پی آئی اے اور ایئر فرانس میں شراکت داری، اب ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

    ‎پی آئی اے اور ایئر فرانس میں شراکت داری، اب ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے یورپ کے سفر کو مزید آسان اور سہل بنانے کے لیے ایئر فرانس کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس تعاون کے تحت پاکستان سے سفر کرنے والے مسافر اب ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 مختلف شہروں تک آسانی سے سفر کر سکیں گے۔
    ‎نئی شراکت داری کے ذریعے مسافروں کو الگ الگ ٹکٹ خریدنے یا مختلف ایئرلائنز کی بکنگ کے جھنجھٹ سے نجات ملے گی۔ مربوط فلائٹ شیڈول اور بہتر کنیکٹنگ سروسز کی بدولت یورپ کے بڑے شہروں تک سفر زیادہ آسان، تیز اور آرام دہ ہو جائے گا۔
    ‎پی آئی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی فضائی روابط کو مزید وسعت دینا اور مسافروں کو عالمی معیار کی سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ایئر فرانس کے وسیع یورپی نیٹ ورک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی مسافر ایک ہی بکنگ کے ذریعے اپنی منزل تک باآسانی پہنچ سکیں گے۔
    ‎اس شراکت داری سے کاروباری افراد، طلبہ، سیاحوں اور یورپ میں مقیم پاکستانیوں کو خصوصی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، کیونکہ انہیں مختلف شہروں تک سفر کے لیے متعدد بکنگ یا الگ الگ سفری انتظامات نہیں کرنا پڑیں گے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ تعاون نہ صرف مسافروں کے لیے سفری سہولت میں اضافہ کرے گا بلکہ پی آئی اے کے بین الاقوامی روٹ نیٹ ورک کو بھی مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ مربوط ٹرانسفر، آسان بکنگ اور بہتر سفری تجربہ اس شراکت داری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
    ‎پی آئی اے کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بین الاقوامی شراکت داریاں مستقبل میں مزید ممالک اور شہروں تک فضائی رابطوں کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہوں گی، جس سے قومی ایئرلائن کی عالمی سطح پر موجودگی مزید مستحکم ہوگی۔

  • ‎حکومت سے مذاکرات کامیاب، پیٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال مؤخر کر دی

    ‎حکومت سے مذاکرات کامیاب، پیٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال مؤخر کر دی

    ‎حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن اور پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مجوزہ ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول پمپس معمول کے مطابق کھلے رہیں گے اور ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
    ‎مذاکرات کے نتیجے میں پیٹرول پمپ مالکان نے آج رات 12 بجے سے شروع ہونے والی ہڑتال کی کال واپس لے لی، جبکہ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے بھی صبح 6 بجے سے مجوزہ احتجاج مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ حکومتی یقین دہانی کے بعد دونوں تنظیموں نے مذاکرات کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
    ‎وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے مذاکرات کی کامیابی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن اور دیگر ڈیلرز تنظیموں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیلرز کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ان کے مسائل مشاورت کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
    ‎وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ 28 فروری سے خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال نے حکومت اور عوام دونوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ ایک بار پھر خطے میں کشیدگی کے باعث غیر یقینی حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عوام کو درپیش مشکلات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
    ‎علی پرویز ملک کے مطابق حکومت اب تک توانائی کے شعبے میں کئی سو ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر چکی ہے، جبکہ مستحق طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا مؤثر نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے آئل ریفائنریز اور پیٹرولیم تنظیموں کے تعاون کو بھی سراہا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن سے متعلق معاملہ باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا اور اس حوالے سے ایک سمری وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ مزید برآں، یومیہ پیٹرولیم قیمتوں کے نظام کا دو ہفتوں بعد متعلقہ تنظیموں کے ساتھ دوبارہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کے اثرات کا مکمل تجزیہ کیا جا سکے۔
    ‎پیٹرولیم اونرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات ندیم خان نے کہا کہ حکومت نے ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے بعد احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے آئندہ دو ہفتوں کے دوران کمیشن اور مارجن سے متعلق تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کر لیے جائیں گے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے یومیہ پیٹرولیم نرخوں کے نظام کو بھی دو ہفتوں کے لیے آزمائشی بنیادوں پر جاری رکھنے کی تجویز دی ہے، جس پر دونوں فریقوں نے اتفاق کیا ہے۔ ڈیلرز نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کا مستقل حل نکال لیا جائے گا۔

  • پاکستان جدید ٹیکنالوجی سے دفاع مضبوط بنائے گا، وزیراعظم

    پاکستان جدید ٹیکنالوجی سے دفاع مضبوط بنائے گا، وزیراعظم

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان دفاع، معیشت اور قومی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو ترجیح دے رہا ہے اور ملک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جدید سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرے گا۔ انہوں نے روبوٹکس، ڈرون ٹیکنالوجی اور خودکار نظاموں کی ترقی کے لیے اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام اور 20 ملین ڈالر کے پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا۔
    ‎اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سلامتی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک نے ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی سطح پر تیاری ممکن ہو چکی ہے، جو قومی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام نہ صرف ملکی سلامتی کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ معیشت، صنعت، زراعت، صحت اور دیگر شعبوں میں بھی ترقی کی نئی راہیں کھولیں گے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، نئی سرمایہ کاری آئے گی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
    ‎شہباز شریف نے کہا کہ حکومت خودکار نظاموں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے واضح قانون سازی اور ایک مؤثر اخلاقی فریم ورک تشکیل دے گی تاکہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ذمہ دارانہ انداز میں کیا جا سکے۔
    ‎وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ "معرکۂ حق” کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے جدید خودکار نظاموں، سائبر سیکیورٹی اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے ذریعے ملکی سرحدوں کا مؤثر دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں اپنایا، جبکہ ایئر چیف اور نیول چیف نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
    ‎انہوں نے پاکستان میں روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی تحقیق اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت عالمی معیار کی تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے اداروں اور نوجوان ماہرین کی بھرپور معاونت کی جائے گی۔
    ‎وزیراعظم نے اس موقع پر 20 ملین ڈالر کے پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپس اور اختراعی منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے تاکہ پاکستان عالمی ٹیکنالوجی معیشت میں اپنا کردار مزید مؤثر بنا سکے۔
    ‎تقریب میں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، اعلیٰ عسکری و سول حکام، ٹیکنالوجی ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

  • پاکستان کی سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں کی سخت الفاظ میں مذمت

    پاکستان کی سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں کی سخت الفاظ میں مذمت

    پاکستان نے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بحری آمدورفت کی آزادی، بین الاقوامی بحری نظام اور عالمی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو بھی متاثر کرتے ہیں،’سعودی عرب کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں اور بحیرہ احمر میں کمرشل شپنگ کو دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

    پاکستان نے خاص طور پر ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا جن کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،پاکستان واضح کرتا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو قومی سلامتی اور خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔

    پاکستان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اسے اپنے دفاع کے حق کے تحت اپنی بحری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کے قانونی استعمال سمیت تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے،دفتر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برادر ملک کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

    پاکستان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حامی رہے گا، جبکہ تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور عالمی بحری تجارت اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

  • اسحاق ڈار  آسیان ریجنل فورم میں شرکت کیلئے فلپائن پہنچ گئے

    اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کیلئے فلپائن پہنچ گئے

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار 33ویں آسیان ریجنل فورم (اے آر ایف) کے وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے وفد کے ہمراہ فلپائن کے دارالحکومت منیلا پہنچ گئے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اجلاس کے دوران اے آر ایف کے مکمل اجلاس (پلینری سیشن) میں شرکت کریں گے، جبکہ مختلف ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں باہمی تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    منیلا ایئرپورٹ پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا استقبال فلپائن کی وزارت خارجہ کے دفتر برائے انٹیلیجنس و سکیورٹی سروسز کے اسسٹنٹ سیکریٹری ایلمر جی کیٹو، فلپائن میں پاکستان کی سفیر عاصمہ ربانی اور پاکستانی سفارتخانے کے حکام نے کیا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کی اس دورے کے دوران متعدد اہم سفارتی مصروفیات طے ہیں، جن میں آسیان ریجنل فورم کے اجلاس میں شرکت اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اہم ملاقاتیں شامل ہیں۔

  • حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

    حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے،جبکہ وزارت خزانہ سے جاری آفس میمور نڈم کے تحت سرکاری ملازمین کے نظرثانی شدہ نئے پے اسکیلز بھی جاری کردیے ہیں۔

    وزارت خزانہ کے جاری کردہ آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026سے وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز پر نظرثانی کا اطلاق کیا گیا ہے اور متعارف کروائے گئے۔

    آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ نظرثانی شدہ نئے بنیادی پے اسکیلز 2026 میں ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 کو ضم کیا گیا ہے اور موجودہ ملاز مین کی تنخواہیں یکم جولائی 2026 سے نئے پے اسکیلز میں پوائنٹ ٹو پوائنٹ بنیاد پر مقرر کی جائیں گی جبکہ سالانہ انکریمنٹ بدستور ہر سال یکم دسمبر کو موجودہ قواعد کے مطابق دی جائے گی۔

    وزارت خزانہ نے بتایا کہ یکم جولائی 2026 سے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 ختم تصور کیے جائیں گے جبکہ وفاقی حکومت کے سول ملازمین، دفاعی تخمینوں سے تنخواہ پانے والے سویلین ملازمین، کنٹریکٹ پر تعینات اہلکاروں اور دیگر متعلقہ ملازمین کو بی پی ایس 2026کی رننگ بنیادی تنخواہ پر 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا، یہ الاؤنس انکم ٹیکس کے تابع ہوگا اور اس کے اطلاق سے متعلق دیگر شرائط بھی آفس میمورنڈم میں درج کی گئی ہیں۔

    وزارت خزانہ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ تمام وزارتیں، ڈویڑنز اور محکمے اپنے ملازمین سے 30 روز کے اندر تحریری اور ناقابل واپسی آپشن حاصل کریں کہ وہ بنیادی پے اسکیل 2022کے تحت تنخواہ لینا چاہتے ہیں یا نئے بیسک پے اسکیل 2026کے تحت تنخواہ حاصل کرنا چاہتے ہیں،مقررہ مدت میں آ پشن نہ دینے والے ملازمین کو خودکار طور پر بیسک پے اسکیل 2026 کا انتخاب کرنے والا تصور کیا جائے گا نئے پے اسکیلز کے نفاذ کے دوران پیدا ہونے والی ممکنہ بے ضابطگیوں کے ازالے کے لیے وزارت خزانہ میں ایناملی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

  • تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی-

    باوثوق زرائع کے مطابق تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے بڑوں کے اہم رابطے ہوئے جس میں دونوں اطراف سے باہمی تعلقات کو بہتر کرنے پر تجاویز دی گئی تاکہ یہ مل کر حکومت وقت کے خلاف ایک مضبوط محاذ بنا سکیں۔

    جمعیت کی طرف سے اہم شرط یہ تھی کہ مولانا کے بھائی عطاالرحمان صاحب کو وزیر اعلی خیبر پختونخواہ بنایا جائے تحریک انصاف کے وفد نے جب کہا کہ آپ کے پاس اتنی سیٹس نہیں کہ آپ یہ ڈیمانڈ کر سکیں تو جمعیت کے وفد نے کہا کہ آپ نے پنجاب میں ق لیگ کی دس سیٹیں ہونے کے باوجود پرویز الہی صاحب پر جب اعتماد کیا تو پھر ہم پر کیوں نہیں۔

    دوسری اہم پیشکش مولانا فضل الرحمان کو جوائنٹ اپوزیشن لیڈر بنانے کی تھی،دونوں وفود اس بات پر متفق نظر آئے کے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس ایک کمزور انتخاب ثابت ہوئے، ان کی نہ اسمبلی میں طاقت ہے اور نہ ہی یہ میدان میں کچھ خاطر خواہ کام کر سکے، تحریک انصاف انہیں اپنی مدد کے لیے لے کر آئی لیکن یہ تحریک انصاف کے سہارے سانس لے رہیں ہیں، جبکہ مولانا فضل الرحمان کا خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اچھا خاصا اثر ہے، اگر یہ تحریک انصاف کے ساتھ مل گئے تو طاقت دوگنا ہو گی۔

    مولانا کی تجاویز کو جب تحریک انصاف کے حلقوں میں علیحدہ جانچہ گیا تو علیمہ خانم گروپ کے ممبران نے وزارت اعلی اور اپوزیشن لیڈر والی تجاویز پر سخت تشویش ظاہر کی، ان کے مطابق یہ اپنے ہاتھ کٹانے کے برابر ہے، اگر ایسا کیا گیا تو تحریک انصاف کو جمعیت ہائجیک کر لے گی، دوسری طرف بیرسٹر گوہر گروپ اور انفرادی طور پر سہیل آفریدی مولانا کی تجاویز پرلبیک کہتے نظر آئے۔

    اب تو یہ وقت بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا لیکن یہ رابطے سیاست میں ایک ہلچل پھیلانے کا پیش خیمہ ہے-

  • فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ملاقات کی ، ملاقات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے جب کہ ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق منگل کے روز ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راو لپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور دو طرفہ سیکیورٹی اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور امن کے لیے بامقصد کوششوں پر پاکستان کی مؤثر سفارتی کردار کو سراہا،ملاقات میں علاقائی سلامتی اور باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی رابطہ کاری اور تعاون پر مبنی میکانزم کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورت حال پر غور کیا گیا، ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اور حالیہ کشیدگی کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جب کہ اسکندر مومنی نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔