Baaghi TV

Category: کراچی

  • پیپلز پارٹی جلد حکومت مخالف تحریک شروع کرسکتی ہے

    پیپلز پارٹی جلد حکومت مخالف تحریک شروع کرسکتی ہے

    صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ عمران خان بھی آجائیں سندھ فتح نہیں کرسکتے، پیپلز پارٹی جلد حکومت مخالف تحریک شروع کرسکتی ہے۔

    وزیر تعلیم سندھ نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وفاق لاک ڈاؤن کے معاملے پر محض سیاست کررہا ہے، پی ڈی ایم حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ میں پی ٹی آئی کےدو ایم پی ایز پیپلز پارٹی کےساتھ رابطے میں ہیں، پی ٹی آئی کے دونوں ممبر صوبائی اسمبلی اپوزیشن کو چھوڑ چکے ہیں۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی کے پی ٹی آئی کے ممبران قومی وصوبائی اسمبلی پی پی میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں، جی ڈی اے کے سندھ کےممبرز بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔انہوں نے یہ کہا کہ سازش کے ذریعے پیپلزپارٹی اور اے این پی کو پی ڈی ایم سے دور کیا گیا۔

    سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی جلد حکومت مخالف تحریک شروع کرسکتی ہے، حکومت افغان مسئلے پرسیاسی جماعتوں کواعتماد میں نہ لے کرغلطی کررہی ہے۔

  • کراچی کے لیبر اسکوائر لانڈھی میں تصادم کے 3 مقدمات درج

    کراچی کے لیبر اسکوائر لانڈھی میں تصادم کے 3 مقدمات درج

    پولیس نے لیبراسکوائرلانڈھی میں دوگروپوں کے درمیان تصادم کے تین مقدمات درج کر لیے، تصادم میں ایک شخص جاں بحق2افراد زخمی ہوئے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے لیبر اسکوائرلانڈھی میں تصادم کے معاملے پر پولیس نے واقعے کے تین مقدمات درج کر لیے جبکہ واقعے کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آگئی۔

    ویڈیو میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں جبکہ کئی افراد اپنے ہاتھوں میں اسلحہ لیکر گھومتے رہے اور پولیس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم سمیت5مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور ویڈیو کی مدد سے مزید ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

    گذشتہ روز کراچی میں لانڈھی لیبراسکوائرکے قریب فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا تھا ، پولیس کا کہنا تھا کہ واقعہ دوگروپوں کےدوران جھگڑے کے دوران پیش آیا، جھگڑے کے دوران فائرنگ اور ڈنڈوں کےوارسے 3 افراد بھی زخمی ہوئے۔

    پولیس نے بتایا تھا کہ اسپتال منتقلی کےدوران ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ جھگڑےمیں زخمی ہونے والے 2افرادکوطبی امداد دی ، جھگڑے میں نامعلوم افراد نے 2دکانوں اورگاڑیوں کےشیشےتوڑدیئے

  • کراچی والے ویکسینیشن کیلئے بڑی تعداد میں ایکسپو سینٹر کیوں آرہے ہیں؟

    کراچی والے ویکسینیشن کیلئے بڑی تعداد میں ایکسپو سینٹر کیوں آرہے ہیں؟

    شہریوں نے بڑی تعداد میں ویکسی نیشن کرانے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا نہیں معلوم انتظامیہ نےعلاقائی سطح پرویکسین مراکزکہاں بنائے ہیں، حکومت ایکسپوسینٹرجیسے ویکسی نیشن مراکزمختلف علاقوں میں بنائے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی والوں نے ویکسینیشن کیلئے بڑی تعداد میں ایکسپوسینٹر آنے کی کئی طرح کی وجوہات بتا دی، شہری کا کہنا ہے کہ صحت کےمراکز میں24گھنٹے ویکسین کی سہولت نہیں ہے اور گھرکےقریبی اسپتالوں میں محدودتعداد میں ویکسین فراہم کی جاتی ہے۔

    شہری نے مزید بتایا کہ دن بھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھر سے نہیں نکل سکتے، ویکسین لگانے کیلئے شام کے بعد ایکسپو سینٹر آجاتے ہیں، نہیں معلوم انتظامیہ نےعلاقائی سطح پرویکسین مراکزکہاں بنائے ہیں۔

    شہری نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایکسپو سینٹر جیسے ویکسی نیشن مراکزمختلف علاقوں میں بنائے۔

    یاد رہے ذرائع محکمہ صحت نے ویکسینیشن کے اعدادو شمار کے حوالے سے بتایا کہ 6روز میں سندھ میں 10لاکھ سےزائدویکسین لگائی گئیں ، صر گزشتہ روزسندھ میں ایک لاکھ 93ہزار سےزائد ویکسین لگائی گئیں۔

    ذرائع محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ 31جولائی کو کراچی میں 71ہزار379افراد نے ویکسین کی پہلی ڈوز لگوائی اور اسی روز کراچی میں 13ہزار 742افراد نے دوسری ڈوزلگوائی۔

    ذرائع کے مطابق 26سے31جولائی 6اضلاع میں 6لاکھ سےزائد ویکسین لگائی گئیں، سندھ بھر میں کورونا ویکسین کے64لاکھ51ہزار ڈوز لگائےجاچکے ہیں۔

  • پاکستانیوں کی جانب سے "PrayForTurkey” کا دعائیہ ٹرینڈ سوشل میڈیا پر سرفہرست

    پاکستانیوں کی جانب سے "PrayForTurkey” کا دعائیہ ٹرینڈ سوشل میڈیا پر سرفہرست

    ترکی کے درجنوں صوبوں کے جنگلات اور دیہات آگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں جس کے بعد پاکستانیوں کی جانب سے "PrayForTurkey” کا دعائیہ ٹرینڈ سوشل میڈیا پر سرفہرست ہے۔

    آتشزدگی کے باعث ترکی کے کئی شہروں کا درجہ حرارت بڑھ گیا ہے اور گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، آگ کے نتیجے میں تاحال 4 افراد ہلاک اور 180 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ہزاروں فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    مقامی ترک میڈیا کے مطابق ترکی میں 48 گھنٹوں کے دوران 81 صوبوں میں سے 21صوبوں میں 44 مختلف مقامات پر جنگل میں آگ لگی ہے جبکہ ان میں سے 23 مقامات پر آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ لیکن موالہ، اڈان، انطالیہ، کرمان، کٹاہیہ، مرسین، اڈانا، عثمانیے اور قیصری سمیت 21 مختلف علاقوں میں آگ اب بھی بدستور جاری ہے اور جاری آگ میں سب سے زیادہ تباہی انتالیا کے ضلع منا گت میں ہوئی ہے۔

    چار مختلف جنگلاتی علاقوں میں لگی آگ تھوڑی ہی دیر میں رہائشی علاقوں کی طرف بڑھ گئی جس کے بعد منا وگت کے میئر سکرو سزن نے اعلان کیا کہ ضلع کے کم از کم سات محلے غیر آباد ہوچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ ترکی کے آتش زدگی سے متاثر ہونے والے علاقوں میں گرمیوں میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ البتہ ماضی میں بعض اوقات حکام ان آگ لگنے کے واقعات میں کرد عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

    ٹی آر ٹی کے مطابق حالیہ دنوں میں جنوبی علاقوں مرسین، عثمانیہ، آدانا، انطالیہ اور قہرمان مرعش میں آتش زدگی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔جنگلات میں لگنے والی آگ سے جو علاقے متاثر ہوئے ہیں یہ سیاحت کے لیے مشہور ہیں۔

  • کراچی میں رکن قومی اسمبلی نے لاک ڈاؤن کی دھجیاں‌ اڑا دیں

    کراچی میں رکن قومی اسمبلی نے لاک ڈاؤن کی دھجیاں‌ اڑا دیں

    شہر قائد میں لاک ڈاؤن اور شادی پر پابندی کے باوجود ڈیفنس میں رکن قومی اسمبلی کے بیٹے کی تقریبِ ولیمہ منعقد کی گئی۔

    کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان سحر میں پابندی کے باوجود ایم این اے اسلم خان کے بیٹےکی ولیمےکی تقریب منعقد کی گئی جس میں لاک ڈاؤن اور ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی گئیں۔

    ذرائع کے مطابق ایم این اے اسلم خان نے تقربی میں شرکت کے لیے پانچ سو مہمانوں کو دعوت بھی دی، جن میں سے 250 شریک ہوئے اور اپنی گاڑیاں سڑک پر ہی کھڑی کیں۔

    ایس اوپی کی سنگین خلاف ورزی پر پولیس تقریب کے مقام پر پہنچی اور صرف سرزنش کر کے روانہ ہوئی جبکہ ضلع جنوبی کے اسسٹنٹ کمشنر بھی وہاں پہنچے اور بغیرکارروائی کے واپس چلے روانہ ہوگئے۔

    پولیس نے کارروائی نہ کرنے کی وضاحت کچھ اس طرح پیش کی کہ انتظامیہ کی اجازت اور موجودگی کے بغیر کارروائی کی اجازت نہیں، اسسٹنٹ کمشنریاڈی سی اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کراتے ہیں۔

    نیوز پر خبر نشر ہونے کے بعد مختیارکارسول لائن نے خیابان سحر میں ہونے والی شادی کی تقریب پرچھاپہ مارا۔

    مختیار کار کے مطابق ایک ایم این اےکےگھر میں تقریب منعقدہوئی، شادی کیلئے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سے اجازت نہیں دی گئی تھی۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق ایم این اے نے اپنے گھر میں تقریب رکھی، مختیارکارسول لائن نے شادی کی تقریب رکواکر مہمانوں کو رخصت کردیا۔

  • کورونا ویکسین لازمی قرار دینے پر فیکٹری ملازمین کی مشکلات میں اضافہ

    کورونا ویکسین لازمی قرار دینے پر فیکٹری ملازمین کی مشکلات میں اضافہ

    سندھ حکومت کی جانب سے صنعتوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے ورکرز کے لیے کورونا ویکسین کو لازمی قرار دیے جانے کے بعد مزدوروں اور نوکری پیشہ افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔

    ایکسپو سینٹر میں اتوار کو بھی ویکسین لگوانے کے لیے آنے والے شہریوں کی طویل قطاریں لگی رہیں، مزدور اور ورکرز ایک سے دوسرے ویکسین سینٹر کے درمیان گھومتے رہے، ورکرز نے تنگ آکر ایکسپو سینٹر میں قائم میگا ویکسین سینٹر کا رخ کرلیا تاہم انہیں یہاں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

    ایکسپو سینٹر میں ہفتہ کو بدنظمی کے واقع کے بعد پولیس کی نفری بڑھادی گئی لیکن نظم و ضبط بہتر نہ ہوسکا۔ قطاروں میں لگے افراد قطار آگے نہ بڑھنے اور قطاروں کے بغیر لوگوں کے اندر جانے پر تھوڑی تھوڑی دیر بعد شور مچاکر احتجاج کرتے رہے۔

    صبح سویرے سے قطاروں میں لگے ورکرز کی شام تک بھی باری نہ آئی کچھ مزدور تو تھک ہار کر زمین پر ہی بیٹھ گئے جبکہ متعدد مزدوروں نے باری نہ آنے اور طویل قطاروں سے تنگ آکر گھروں کا رخ کرلیا۔

    ورکرز کا کہنا تھا کہ مہینے کا اختتام ہے آئندہ ہفتہ تک تنخواہیں ملنا تھیں لیکن سندھ حکومت کی شرط کے باعث ان کی تنخواہیں خطرے میں پڑ گئی ہیں، آجروں نے صاف کہہ دیا ہے کہ ویکسین لگوا کر آؤ گے تو تنخواہ ملے گی۔

    قطاروں میں لگے افراد نے کہا کہ صبح سے لائن میں لگے ہوئے ہیں لیکن باری نہیں آرہی جب کہ بااثر اور سفارشی افراد اہل خانہ کے ہمراہ قطاروں کے بغیر ہی ہال میں جارہے ہیں۔ انہوں نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ نجی شعبہ میں فیکٹریوں اور صنعتوں میں ہی ویکسین لگائی جائے تاکہ مزدوروں کی مشکلات کم ہوسکیں۔

    ایکسپو سینٹر کی قطاروں میں لگے شہریوں کا کہنا تھاکہ ایکسپو سینٹر میں کوئی سہولت نہیں نہ پینے کا پانی ہے نہ ہی پیٹ کی آگ بجھانے کا کوئی انتظام ہے، کئی گھنٹوں قطاروں میں لگ کر بھوکے پیاسے ویکسین لگانے جائیں تو بلڈ پریشر ویسے ہی اوپر یا نیچے ہوتا ہے جس سے ویکسین لگنے کے بعد حالت غیر ہونے کاخدشہ ہوتا ہے۔

    قطاروں میں لگے بہت سے شہریوں نے آن لائن ڈیلیوری پر آرڈر دے کر کھانا منگوایا تاہم مہنگا کھانا خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے افراد بھوکے پیاسے ہی قطاروں میں لگے رہے۔

  • سندھ حکومت کا کرونا ویکسینیشن مراکز پر بڑھتے رش کے پیش نظر اہم فیصلہ

    سندھ حکومت کا کرونا ویکسینیشن مراکز پر بڑھتے رش کے پیش نظر اہم فیصلہ

    سندھ حکومت کا کرونا ویکسینیشن مراکز پر بڑھتے رش کے پیش نظر اہم فیصلہ

    محکمہ صحت سندھ نے کراچی کے 6 اضلاع میں قائم ویکسینیشن سینٹرز کو 24 گھنٹے کھلے رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    کراچی ایسٹ ضلع میں ڈاؤ اوجھا کئمپس، ویسٹ ضلع میں سندھ گورنمینٹ قطر ہسپتال میں انتظامات مکمل۔

    کراچی ساؤتھ میں ضلع میں خالق ڈنا ہال، جی پی ایم سی اور لیاری جنرل ہسپتال میں 24 گھنٹے ویکسین کی سہولت ہوگی۔

    ملیر ضلع میں سندھ گورنمینٹ ہسپتال مراد میمن میں 24 گھنٹے سہولت فراہم کردی گئی ہے۔

    ضلع کورنگی میں سندھ گونمینٹ ہسپتال کورنگی 5، سندھ گونمینٹ ہسپتال سعودآباد میں 24 گھنٹے ویکسین لگائی جا سکے گی۔

    محکمہ صحت کے کئیتمام مذکورہ مراکز پر یہ سہولت ہفتہ بھر مہیا رہے گی۔ویکسین مراکز پر حفاظتی ایس او پیز کا خیال رکھا جاۓ۔

  • حلیم عادل شیخ نےنواب شاہ میں اپنے اوپر حملے کا الزام کس پر لگایا؟

    حلیم عادل شیخ نےنواب شاہ میں اپنے اوپر حملے کا الزام کس پر لگایا؟

    سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی جانب سے نواب شاہ میں اپنے اوپر حملے کا الزام پی پی پی قیادت پر لگانے پر سندھ کے صوبائی وزیر نواب تیمور تالپور نے کہا ہیکہ حلیم عادل شیخ آئے روز حملوں کے ڈرامے رچا کر پاپولر ہونے کی ناکام کوشش کر رہا ہے لیکن سندھ کی عوام لینڈ مافیا کے اس سرغنہ کو اچھی طرح جانتی ہے انہوں نے کہا کہ حلیم عادل شیخ اپنے قد سے بڑھکر اور پارٹی قیادت کیخلاف مغلظات بکے گا تو کارکن اس کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے پھر ردعمل کے طور پر گندے انڈوں اور جوتوں کا سامنا تو کرنا پڑے گا انہوں نے کہا کہ جیالے اپنی قیادت کیخلاف بدزبانی کرنے والوں کی زبانیں کھینچنا جانتے ہیں اگر حلیم عادل شیخ نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو اس کا سندھ کے ہر شہر میں گندے انڈوں اور جوتوں سے ہی استقبال کریں گے آئندہ وہ ہماری لیڈر شپ کے خلاف بیان دیں تو اپنی حیثیت دیکھ کر اور سوچ سمجھ کر دیں.

  • کورونا وائرس کی صورتحال،2549 نئے کیسز رپورٹ،20 اموات

    کورونا وائرس کی صورتحال،2549 نئے کیسز رپورٹ،20 اموات

    وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں18618 نمونوں کی جانچ کی گئی.گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید2549 نئے کیسز رپورٹ ہوئے.

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں20 اموات رپورٹ ہوئیں. اموات کی مجموعی تعداد6021 ہوچکی ہے آج مزید368مریض صحتیاب ہوئے ہیں.

    صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد332777 ہوچکی ہے اب تک5026810نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے اب تک 385397 کیسزرپورٹ ہوچکے ہیں.

    اس وقت46599مریض زیر علاج ہیں45120 گھروں میں،39آئسولیشن سینٹرز میں اور1440 مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج .

    1266 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے 100 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں صوبے کے2549نئے کیسز میں سے 1755کا تعلق کراچی سے ہے.

    ضلع شرقی 690، ضلع وسطی 331، کورنگی 267،ضلع جنوبی 208، ملیر 202 اور ضلع غربی میں سے 57 نئے کیسز رپورٹ ہوئے.

    حیدرآباد 173،تھرپارکر 90، بدین81،سانگھڑ 68،سجاول 58،ٹھٹھہ 56، مٹیاری 40، شہید بے نظیر آباد 38، عمر کوٹ 33، نوشہروفیروز 27، جامشورو 24، دادو اور ٹنڈو الہیار 18۔

    18،خیرپور 12،کشمور7،میرپورخاص اور سکھر 2۔ 2، گھوٹکی اور جیکب آباد میں سے 1۔ 1نئے کیسز سامنے آئے؛ وزیراعلیٰ سندھ

  • سندھ حکومت کراچی کے ہر ٹاؤن میں ویکسینیشن سینٹر کے قیام کو یقینی بنائے    ارشد وہرہ

    سندھ حکومت کراچی کے ہر ٹاؤن میں ویکسینیشن سینٹر کے قیام کو یقینی بنائے ارشد وہرہ

    پاک سر زمین پارٹی(پی ایس پی) کے وائس چئیرمین ارشد وہرہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کے ہر ٹاؤن میں ویکسینیشن سینٹر کے قیام کو یقینی بنائے-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پی ایس پی کے وائس چئیرمین ارشد وہرہ نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ویکسینیشن سینٹرز پر غیر معمولی رش کے باعث عوام شدید اذیت کا شکار ہیں تاہم سندھ حکومت کراچی کے ہر ٹاؤن میں ویکسینیشن سینٹر کے قیام کو یقینی بنائے-

    ارشد وہرہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے نظام کو بہتر اور مربوط بنا کر عوام کو اذیت سے نجات دلوائے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل پاک سرزمین پارٹی کے سیکرٹری جنرل حسان صابر نے کہاتھا کہ 46 روپے فی لیٹر پیٹرول اور تبدیلی کے جھوٹے خواب دکھا کر بھیانک تعبیر دینے والوں نے آج پیٹرول 120 روپے فی لیٹر کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں لگاتار دسویں مرتبہ بڑھانا انتہائی ظالمانہ اقدام ہے۔ نااہلی اور ظلم میں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی زمہ داری اب سابقہ حکومتوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

    پاکستانی رواں سال بھی عمرہ کی سعادت حاصل نہیں کر سکیں گے، سعودی حکومت کا فیصلہ

    حسان صابر نے کہا تھا کہ کورونا وبا کی آڑ میں پہلے ہی پاکستان کے معاشی حب کراچی کے کاروبار کو تباہ کیا جا رہا ہے اس پر وفاقی حکومت کی خاموشی، روپے کی بے قدری، مہنگائی کے طوفان اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لگاتار اضافے کا باعث ہے۔

    ایڈوکیٹ حسان صابر نے مطالبہ کیا تھا کہ کورونا کی اس نئی لہر کے تناظر میں حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فی الفور واپس لیا جائے۔

    راولپنڈی: گداگر خاتون نسیم بی بی اور کم سن بچے کے قاتل کا دوران تفتیش حیران کن…