Baaghi TV

Category: کراچی

  • مرتضیٰ وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی بنائے جانے کا امکان

    مرتضیٰ وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی بنائے جانے کا امکان

    سندھ حکومت کی جانب سے موجودہ ایڈمنسٹریٹر کراچی کو تبدیل کرکے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو نیا ایڈمنسٹریٹر کراچی بنائے جانے کا امکان ہے۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر مرتضیٰ وہاب کو ایڈمسنٹریٹر کراچی لگایا جائے گا۔

    آئندہ ہفتے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کا امکان ہے۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو تباہ حال نظام درست کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

    اس حولے سے پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب کے بجائے اگر بلاول بھٹو کو بھی ایڈمنسٹریٹر کراچی لگا دیا جائے تب بھی یہ کام نہیں کریں گے کیونکہ انکی خون کی رگوں میں ڈلیوری نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔

    خرم شیر زمان نے کہا کہ یہ وہ سیاسی جماعت ہے جس نے 13سالوں میں سندھ کو تباہ کر دیا اور کراچی کی بربادی کی زمہ دار بھی پیپلزپارٹی ہے۔

    صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب کيا تير مارليں گے۔ پيپلزپارٹی کی مال بنانے کی منطق ہے اور کچھ نہيں.

  • کراچی سے ٹینکر مافیا کی چھٹی، اکتوبر دوہزار تئیس سے روشنیوں کے شہر کو اضافی پانی دینے کا منصوبہ تیار

    کراچی سے ٹینکر مافیا کی چھٹی، اکتوبر دوہزار تئیس سے روشنیوں کے شہر کو اضافی پانی دینے کا منصوبہ تیار

    کراچی کے شہریوں کیلئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے بڑے منصوبے کے فور کی ڈیزائن کنسلٹنٹسی کا معاہدہ آسٹرین کمپنی سے طے پا گیا ہے۔

    وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کہتے ہیں کہ کراچی سے ٹینکر مافیا کی چھٹی کا آغاز کر دیا اکتوبر دوہزار تئیس سے روشنیوں کے شہر کو چھ سو پچاس ملین گیلن یومیہ پانی ملے گا۔

    اسلام آباد میں واپڈا اور آسڑین کمپنی آئی ایل ایف کے درمیان کے فور منصوبے کی کنسلٹنسی کے ایک ارب چودہ کروڑ روپے کے معاہدے پر دستخط ہوئے ۔ تقریب کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ کراچی پیکیج پر عمل درآمد کا آغاز ہو چکا ہے۔ دو سال میں منصوبہ مکمل کرلیا جائے گا۔

    چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کے مطابق کے فور منصوبے کی تاخیر کی بنیادی وجہ سروے اور الائنمنٹ کی تھی۔منصوبے کی اصل لاگت کا تعین کنسلٹنسی رپورٹ کرے گی۔ چیئرمین واپڈا کے مطابق راستے کے حصول اور فنڈز میں رکاوٹ نہ ہوئی تو منصوبے کو ستمبر دوہزار تئیس تک مکمل کر لیں گے.

  • کراچی میں کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کی جانچ شروع

    کراچی میں کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کی جانچ شروع

    کراچی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی ہدایت پرحکام نے شہر کے مختلف علاقوں دکانوں پر چھاپہ مارکر کرونا سرٹیفکیٹ چیک کرنا شروع کردیئے۔

    کراچی کے جن علاقوں میں شہریوں سے کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ طلب کیےگئے ان میں صدر، کلفٹن، ڈیفنس، گزری اور لیاری کے علاقے شامل ہیں۔

    کراچی کی مارکیٹس، شاپنگ سینٹرز، سینیما، ریسٹورنٹس، بیکرز اور مختلف دکانوں پر عملے اور دکانداروں کےکرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کی چیکنگ جارہی ہے۔

    گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر ساؤتھ حسام طارق نے کئی دکانوں کا دورہ کیا اور عملے کے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ چیک کئے۔ حکام نے دکانداروں کے پاس سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر جرمانے بھی عائد کیے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری کرونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرے، ویکسینیشن کے بغیر کسی کو مارکیٹس، ریسٹورنٹ، شاپنگ مال، شادی ہال اور سینما گھروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔

    اس سے قبل کراچی میں کرونا ویکسینیشن سے قبل سب سے زیادہ مثبت کیسز کی شرح 11فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

    سندھ حکومت کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر سندھ میں کرونا کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، آئی جی کا اعتراف

    کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، آئی جی کا اعتراف

    انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ مشتاق احمد مہر نے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھرمیں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے.

    جسے کنٹرول کرنے کے لیے صنعت کاروں سمیت سب کو باہمی تعاون کے ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا۔

    بدھ کے روز کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) میں ممبران سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ مشتاق احمد مہر نے کہا کہ سندھ پولیس کے 30جوان شہید ہوچکے ہیں.

    پولیس فنڈز سے شہداکی امداد جاری ہے،پولیس ویلفیئربورڈ میں ہم نے نجی شعبے کو بھی شامل کیا ہے اورہماری خواہش ہے کہ بورڈ میں کاٹی کا ایک نمائندہ بھی شامل ہو.

    کراچی کے رہائشی اور صنعتی علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اس کی روک تھام کے لیے صنعتکاروں سمیت پولیس کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ کچے میں آپریشن روکنے کا تاثر غلط ہے اورکچے میں آپریشن جاری ہے، ایس ایم منیرنے کہا کہ پولیس کے شہدا کے لیے فنڈ قائم ہونا چاہیے، ہم نے ماضی میں بھی شہداکے فنڈز میں رقوم جمع کرائیں.

    کراچی میں اسٹریٹ کرائم کو قابو کرنے کی ضرورت ہے،اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات لمحہ فکریہ ہیں، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس اورچندے دیتا ہے اس لیے کراچی کو اس کا حق دیا جائے۔

    کاٹی کے صدر سلیم الزماں نے کہا کہ کراچی میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا جسے کنٹرول کرنا ضروری ہے،ملک کی 78 فیصد تیل کی طلب کاٹی علاقے سے پوری ہوتی ہے.

    صرف کورنگی صنعتی ایریا کو بند کردیں پورا ملک بند ہوجائے گا،اس علاقہ کی اپنی اہمیت ہے،ملک کے کئی بڑے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کورنگی صنعتی ایریا میں موجود ہیں۔

    چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے لا اینڈ آرڈر دانش خان نے کہا کہ کراچی کی آبادی 3 کروڑ سے زائد ہے اور ملک کی ایکسپورٹ میں 54فیصد حصہ ادا کرتا ہے۔

  • کراچی کی عوام کے لئے ایک تحفہ دنیا کی بلند ترین اسنارکل اب کراچی میں

    کراچی کی عوام کے لئے ایک تحفہ دنیا کی بلند ترین اسنارکل اب کراچی میں

    کراچی کی عوام کے لئے ایک تحفہ دنیا کی بلند ترین اسنارکل کراچی فائبر برگیڈ کے حوالے کر دی گئی ہے۔
    یہ اسنارکل ناظم آباد فایر اسٹیشن میں موجود ہے ۔ایسی اسنارکل لاہور شہر کو بھی دی گئی ہے اس اسنارکل کی اونچائی332 فٹ ہے جو ہنگامی صورتحال میں 32 منزل تک بآسانی کام سرانجام دے سکتی ہے اسنارکل میں وافر مقدار میں پانی جمع ہوتا ہے۔اس میں پانی کا پریشر بہت طاقت ور ہوتا ہے جس کی وجہ سے آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا جاتا ہے۔
    عوام کو فائر مین کا بہت خیال رکھنا چاہیے کیونکہ وہ اپنی جانوں پر کھیل کر لوگوں کی جان بچاتے ہیں عوام الناس سے اپیل ہے کے جب بھی فائر برگیڈ کی گاڑی کو آتے دیکھے تو فوراً راستہ دیں اور اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیں

  • عبدالستار ایدھی اور کراچی کے ایک ’لاوارث بچے‘ کی کہانی

    عبدالستار ایدھی اور کراچی کے ایک ’لاوارث بچے‘ کی کہانی

    سنہ 1985 میں سندھ کے دارالحکومت کراچی میں لسانی بنیادوں پر ہونے والے ہنگاموں کے دوران لالو کھیت کے صرافہ بازار میں ڈیوٹی دیتے چوکیدار سلیم کو سٹرک پر ایک ڈیڑھ سالہ لاوارث بچہ پڑا ہوا ملا۔

    سلیم کافی دیر تک علاقہ مکینوں سے اس بچے کی بابت پوچھتے رہے مگر سب نے بچے کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔

    تھک ہار کر سلیم بچے کو لیے کورنگی میں واقع ایدھی سینٹر پہنچ گئے۔

    اس بچے کو بدر کا نام دیا گیا جس کے والدین کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں پتا تھا۔

    بدر نے جب ہوش سنبھالا تو اس نے خود کو ایدھی ہوم میں پایا جہاں عبدالستار ایدھی اس کے لیے ’بابا‘ اور بلقیس ایدھی ’اماں‘ تھیں۔ ایدھی سینٹر میں بدر کے کوئی دو، چار نہیں بلکہ درجنوں بہن بھائی تھے اور کم و بیش سب کے سب یہاں اسی طرح پہنچے تھے جیسا کہ بدر خود۔

    بلوغت کی عمر کو پہنچنے پر بدر نے اس فائل کا مطالعہ کیا جو ایدھی سینٹر میں داخلے کے وقت ہر بچے کے حوالے سے بنائی جاتی ہے۔ اس فائل میں یہ درج کیا جاتا ہے کہ بچہ کیسے اور کس حالت میں ایدھی سینٹر پہنچا اور اسے یہاں لانے والا کون تھا۔

    اپنی فائل پڑھنے کے بعد بدر میں اپنے حقیقی والدین کو تلاش کرنے کی جستجو پیدا ہوئی اور وہ صرافہ بازار والے سلیم چوکیدار کے گھر پہنچ گئے۔

    بدر بتاتے ہیں کہ ’میں اس پتے پر گیا تو وہاں جا کے معلوم کہ سلیم صاحب کا 15 برس پہلے انتقال ہو چکا تھا اور ان کے گھر والوں کے پاس میرے حوالے سے مزید کوئی معلومات نہیں تھیں۔ لالو کھیت کے صرافہ بازار سے بھی کوئی معلومات نہیں ملیں تو پھر میں صبر شکر کر کے بیٹھ گیا۔‘

    وہ بتاتے ہیں کہ ’جب شناختی کارڈ بنانے کا مرحلہ آیا تو اس وقت مجھے حقیقت میں احساس ہوا کہ ماں باپ کی شناخت نہ رکھنے والے بچوں کو اپنی پہچان کروانے کے لیے کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں ’جب میں شناختی کارڈ بنوانے گیا تو وہاں طرح طرح کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ کہا گیا کہ ماں باپ کے شناختی کارڈ لاؤ، پھر میرے بتانے پر کہا گیا تمھارا کوئی آگے پیچھے نہیں ہے، کیا پتا کہ تم پاکستانی ہو بھی کہ نہیں۔ اس کے علاوہ وہاں موجود عملے نے اور بہت سے چبھتے ہوئے سوالات کیے جس سے میری عزت نفس کو ٹھیس پہنچی۔‘

    بدر ایدھی سینٹر واپس آئے اور تمام روداد ایدھی صاحب کو بیان کی۔ بدر کہتے ہیں کہ ایدھی صاحب نے نادرا کے مقامی حکام سے بات کی اور انھیں ادارے کا لیٹر بنا کر دیا جس میں میری فائل میں موجود تفصیلات درج تھیں۔

    اس کے بعد میرا شناختی کارڈ بنا اور میرے والد کے نام کے خانے کے آگے عبداللہ لکھ دیا گیا۔ ’میں بالکل بھی نہیں جانتا کہ عبداللہ کون تھے یا ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ بعد کے دنوں میں ایدھی سینٹر میں موجود بیشتر ایسے بچے جن کے والدین کا پتا نہیں ہوتا تھا انھیں ب فارم اور شناختی کارڈ کے حصول میں اسی نوعیت کی مشکلات درپیش تھیں۔

    بدر سمیت فلاحی اداروں میں پرورش پانے والوں بچوں کو درپیش انہی مشکلات نے ایدھی صاحب کو مجبور کیا اور سنہ 2011 میں انھوں نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ایک درخواست بھیجی۔

    اپنی درخواست میں ایدھی صاحب نے شکایت کی کہ ایسے بچے جن کی والدین کا کچھ پتا نہیں اور وہ فلاحی اداروں میں رہائش پذیر ہیں، نادرا ایسے بچوں کو ب فارم جاری نہیں کر رہا ہے۔

    سنہ 2014 میں یہ درخواست اس وقت نمٹی جب نادرا نے اس حوالے سے نئی پالیسی ترتیب دی۔

    اس پالیسی کے تحت کسی بھی یتیم خانے کا سربراہ ایک حلف نامہ دے کر وہاں موجود کسی بھی بچے کا قانونی سرپرست بننے کا اہل ہو گیا اور اس کے بعد وہ سلسلہ شروع ہوا جس کے تحت بچوں کی ولدیت کا مسئلہ حل ہوا۔

    ’عبدالستار اور بلقیس‘ کے 53 بچے ہیں
    ویسے تو عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کے چار حقیقی بچے ہیں تاہم اگر نادرا ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو 53 ایسے بچے ملتے ہیں جنھیں عبدالستار اور بلقیس نے اپنا نام دیا۔

    تاہم یہ پالیسی کچھ عرصہ ہی چلی اور اس کے بعد سنہ 2018 میں ایک نئی پالیسی بنائی گئی جس کے تحت یتیم بچوں کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے یعنی چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کی نادرا میں رجسٹریشن لازمی ہے۔

    18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے یتیم بچے کے والدین کے نامعلوم ہونے کی صورت میں والد کے خانے میں نادرا سافٹ ویئر کے ذریعے تخلیق کیا گیا کوئی بھی فرضی نام ڈالا جاتا ہے۔

    پالیسی کے تحت جن بچوں کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے ان کے گارجئین یا سرپرست کے خانے میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے اہلکار کا نام لکھا جائے گا جو بچے کو لے کر نادرا کے دفتر گیا ہو۔

    نادرا ترجمان فائق علی چاچڑ نے بتایا کہ ’ایسے لاوارث بچے جن کے ماں باپ کا علم نہیں ہوتا ان کا شناختی کارڈ بناتے وقت ’اَن نون پئیرینٹج‘ یعنی نامعلوم والدین کی کٹیگری میں سسٹم میں ان کے دیگر کوائف ڈالے جاتے ہیں، کمپیوٹر سسٹم میں موجود لنک طریقہ کار کے تحت والد کی جگہ ڈیٹا بیس سے کوئی بھی نام خود سے جنیریٹ کرتا ہےاور وہی نام بچے کی ولدیت کے خانے میں لکھا جاتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی شخص خود سے نام اس میں داخل نہیں کر سکتا بلکہ کمپیوٹرسافٹ ویئر سے دی گئی کمانڈ کے تحت نام چُنا جاتا ہے۔‘

    ’ہم سچ مچ یتیم ہو گئے‘

    بدر یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ آٹھ جولائی 2016 کو عید کا تیسرا دن تھا جب ایدھی بابا کا کراچی میں انتقال ہوا۔ ’مجھے ایسا لگا کہ ہم سچ مچ آج یتیم ہو گئے ہوں اور ہمارے سر سے باپ کا سایہ چھن گیا ہو۔‘

    بدر نے اپنا سارا بچپن ایدھی سینٹر میں گزارا اور اب جوان ہونے کے بعد وہ خود بھی ایدھی فاؤنڈیشن سے وابستہ ہیں۔

    ’میں نے تو بچپن سے ہی ایدھی بابا کو اپنا والد اور بلقیس ممی کو ماں سمجھتا رہا ہوں، کیونکہ ان رشتوں کی پہچان ہمیں ان دونوں نے ہی دی۔‘

    ایدھی سینٹر میں رہتے ہوئے بدر نے مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ میں بچپن میں کھیل کود میں لگا رہتا تھا اور پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا۔

    ‘ایدھی صاحب نے مجھے کہا کہ اگر تم آگے پڑھنا نہیں چاہ رہے تو پھر کوئی کام اور ہنر سیکھو۔ اس طرح میں نے پہلے درزی، پھر پلمبر اور الیکٹریشن کا کام سیکھا اور پھر کمپیوٹر ہارڈ ویئر سیکھا۔ اس وقت میں ایدھی فاؤنڈیشن کے آفس میں نیٹ ورکنگ کا کام، کیمرہ اور انٹر کام کی انسٹالیشن بھی سنبھالتا ہوں اور بطور کلرک بھی کام کرتا ہوں۔’

    پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بدر نے بتایا کہ ’ایدھی بابا اکثر ہم سے ملنے آتے رہتے تھے، وہ جب بھی آتے اپنے ساتھ پھل اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں ہم سب کے لیے لاتے، ہمارے درمیان بیٹھ کر سب کو کھلاتے اور خود بھی کھاتے، ہنسی مذاق بھی کرتے اور پیار بھی کرتے، ہمیشہ ان کا رویہ بہت مشفقانہ ہوتا تھا، ایدھی صاحب نے ہمیشہ سب کو یہی سمجھایا کہ زندگی میں آگے بڑھو، جو ہو چکا اس پر نہ سوچو بلکہ پڑھو لکھو اور کوئی کام سیکھو تاکہ جب ہم تم سب کے ساتھ نہ بھی ہوں اس وقت تمھیں کوئی مشکل نہ ہو اور تمھارا ہنر تمھارے کام آئے۔‘

    ’میری شادی بھی ایدھی صاحب نے خود کروائی، بلقیس ممی اور ستار ایدھی نے ہی لڑکی ڈھونڈی اور رشتہ کروایا، اور جب لڑکی والوں نے مجھ سے تفصیلات پوچھیں تو میں نے کچھ نہیں چھپایا۔ شادی میں ایدھی بابا، مما اور فیصل بھائی کی سرپرستی رہی اور اب ماشا اللہ میری چار بچیاں ہیں۔‘

    بدر کہتے ہیں کہ ’اگر بچے کو کوئی جھولے میں ڈال گیا اور اس نے ایدھی سینٹر میں پرورش پائی تو لوگ طرح طرح کے سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ جائز ہے یا نا جائز اورایسے سوال بڑے ہونے کے بعد خاص طور پر بچیوں کی عزت نفس کو بہت متاثر کرتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ معاشرے کے افراد کو اس بات کو ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے کوئی بھی بچہ اپنے ماں باپ کے گھر سے گُم ہوتا ہے یا کوئی ادارے کے جھولے میں ڈال کے چلا جاتا ہے تو اس میں بچے کا کیا قصور ہے؟

    بدر کہتے ہیں کہ انھیں آج بھی ایدھی صاحب کی کمی بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

    ’اُن کی باتیں اور ان کا انداز سب سے مختلف تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہمیشہ سچ بولو چاہے اس کے لیے کتنی ہی تکلیفیں یا نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑیں اور اپنی ذات سے کسی کو نقصان نہ پہنچنے دو۔ ہمیں ہمیشہ ایدھی بابا نے یہ سکھایا کہ اگر کسی سے غلطی ہو جاتی ہے یا کوئی آپ سے سخت لہجے میں نامناسب بات کرے تو اس کو ہمیشہ درگزر کرو ورنہ ان باتوں کو یاد رکھنے سے دلوں میں گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔‘

    یہ تحریر پہلی مرتبہ آٹھ جولائی سنہ 2020 کو شائع کی گئی تھی۔ آج عبدالستار ایدھی کی برسی کے موقع پر قارئین کے لیے اس تحریر کو دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے

  • گارڈز کی بروقت کارروائی کے باعث مفتی تقی عثمانی محفوظ، مشتبہ شخص گرفتار‎

    گارڈز کی بروقت کارروائی کے باعث مفتی تقی عثمانی محفوظ، مشتبہ شخص گرفتار‎

    ‏ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمان پر ایک بار پھر قاتلانہ حملے کی کوشش ہوئی ہے، تاہم گارڈز کی بروقت کارروائی کے باعث مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے ہیں۔ جبکہ مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    تاہم اس حوالے سے جامعہ کے ایک استاد مولانا مفتی اعجاز صمدانی ایک دوسری کہانی بیان کرتے ہیں۔

    مفتی اعجاز کہتے ہیں کہ اس واقعے میں کچھ بات مبالغے والی ہے۔ مفتی صاحب پر حملہ کی بات میں صداقت نہیں۔

    میں فجر کی نماز کے بعد حضرت کے دو تین صف پیچھے ہی تھا کہ ایک صاحب آئے، ان کے ہاتھ میں ایک گفٹ پیک جیسا کاغذ کا شاپر تھا، وہ آکر حضرت سے کچھ بات کرتا رہا ہمیں کچھ پتا نہیں کہ کیا بات ہو رہی ہے۔

    گارڈ نے یہ بتایا کہ اس نے حضرت سے کہا کہ مجھے آپ سے علیحدگی میں کچھ بات کرنی ہے آپ ان سب کو الگ کردیں۔ تو حضرت نے فرمایا کہ میں آپ کو جانتا نہیں ہوں لہذا میں آپ سے علیحدگی میں بات کیسے کرسکتا ہوں۔

    جس پر وہ شخص پیچھے ہٹا اور ایک کھلا ہوا چاقو جو اس کے بازو کے ساتھ تھا بند کر کے اس بیگ میں رکھنے لگا جسے گارڈ نے دیکھ لیا، جس پر گارڈ اسے ایک طرف لیکر گئے۔ جب یہ بات حضرت کے علم میں آئی تو حضرت وہاں سے اٹھ کر آگئے۔

    اس حوالے سے ایس ایس پی کورنگی شاہجہان خان کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے بعد نماز فجر مفتی تقی عثمانی سے علیحدگی میں ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا.

    اور دعویٰ کیا کہ گھریلو مسئلے کے حوالے سے مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں، لیکن جب محافظ نے اس شخص کی تلاش لی تو جیب سے چاقو نکل آیا.

    جیب سے چاقو برآمد ہونے پر محافظوں نے اسے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کردیا، زیر حراست مشتبہ شخص سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے

  • کراچی یونین آف جرنلسٹس کا فواد چوہدری کو مناظرے کا چیلنج

    کراچی یونین آف جرنلسٹس کا فواد چوہدری کو مناظرے کا چیلنج

    کراچی یونین آف جرنلسٹس نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کو مناظرے کا چیلنج دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ملک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے سے متعلق اپنے دعووں کو اگر درست سمجھتے ہیں تو مناظرے کا چیلنج قبول کریں

    کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فواد چوہدری اپنے سابقہ دور میں بھی میڈیا سے متعلق حقائق کے برخلاف بیانات دیتے رہے ہیں اور دوبارہ وزارت ملنے کے بعد بھی ان کے غیرسنجیدہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے فواد چوہدری حکومت کے اس ایجنڈے پر کام کررہے ہیں جس کے تحت ملک میں اٹھنے والی ایسی تمام آوازوں کا گلا گھونٹنا ہے جو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتی ہیں

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر نے اپنے حالیہ بیان میں رپورٹرز وداوٹ بارڈر کی رپورٹ پر جو ردعمل دیا ہے وہ ان کی پریشانی کا اظہار ہے کہ اب بیرون ملک بھی پاکستان میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے حوالے سے سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر پاکستان میں آزادی صحافت اور آزادی اظہا رائے کو ثابت کرنے کے لیے نیوز چینلز اور اخبارات کی تعداد گنوانا شروع کردیتے ہیں حالانکہ یہ تمام چینلز اور اخبارات سابقہ حکومتوں کے ادوار سے کام کرتے اور شائع ہوتے چلے آرہے ہیں لیکن انہیں یا ملک میں عامل صحافیوں کو کبھی ان حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سے ہے۔ ملک میں صحافیوں کو مسلسل انتہائی جبر کے ماحول کا سامنا ہے کراچی سے اسلام آباد تک صحافیوں کے اغوا، ان پر دن دھاڑے حملوں اور پر تشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان کے ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوسکے ہیں حالانکہ وفاقی وزیر قومی اسمبلی کے فلور پر دعووں سے بھری تقریر کرچکے ہیں لیکن انہوں نے مطیع اللہ جان، اور علی عمران کے اغوا کاروں، ابصار عالم اور اسد طور پر حملوں کے ملزمان کی گرفتاری کا کوئی ذکر نہیں کیا کیونکہ ایسا کوئی قدم موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھایا ہی نہیں گیا جس کے نتیجے میں ملزمان کی گرفتاری عمل میں آتی۔

    بیان میں کہا گیا ہے وفاقی وزیر اب ایسے کسی بھی واقعے پر اٹھنے والی آوازوں کو بھی دبانا چاہتے ہیں اور ان کا یہ کہنا کہ صحافیوں پر حملوں پر پاکستان میں آنے والا ردعمل بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے انتہائی قابل مذمت عمل ہے وفاقی وزیر نے پاکستان کی سالمیت اور بقا پر یقین رکھنے والے صحافیوں اور ان کی تنظیموں پر یہ الزام بھی لگانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس عالمی ایجنڈے کا حصہ بن رہے ہیں جو پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے نکلنے نہیں دینا چاہتے۔ کے یو جے نے وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں عامل صحافیوں اور ان کی تنظیموں کو اپنی ناکامیوں سے جوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ میڈیا کو آزاد کریں، اظہار رائے کی آزادی دیں اور اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر بنائیں تاکہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالا جاسکے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے قانون کی کابینہ سے منظوری کو اپنے کارنامے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ان سے سوال ہے کہ پاکستان میں ایسے کسی مخصوص قانون کی ضرورت کیوں پیش آئی وہ بیان دینے سے پہلے ذرا اس پر بھی غور کرلیتے تو بہتر ہوتا پاکستان صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ترین ملک سمجھا جاتا ہے اسی لیے یہاں صحافیوں کے تحفظ کے قوانین کا مطالبہ کیا گیا لیکن وفاقی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ ایک ہی روز قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں بل پیش کیے جانے کے بعد سندھ اسمبلی سے قانون باوجود گورنر کے اعتراض کے دو بار منظور بھی ہوگیا لیکن قومی اسمبلی سے اس کی منظوری میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں؟

    کراچی یونین آف جرنلسٹس نے وفاقی وزیر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اصل کام پر توجہ دیں اور پاکستان میں عامل صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کوششیں کریں کے یو جے نے ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ وزیراعطم کے ایک معاون خصوصی جو نیوز ون چینل کے مالک ہیں ان کے چینل میں صحافیوں اور دیگر میڈیا ورکرز کو 6 سے 9 ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں اور ان کے دو ملازمین دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوچکے ہیں لیکن وفاقی وزیر فواد چوہدری یا وزیراعظم نے اس کا کبھی نوٹس نہیں لیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک طرف ملک کی مختلف بارز میں کروڑوں روپے کے چیکس تقسیم کیے جارہے ہیں اور دوسری طرف چینل مالکان کو کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کی جارہی ہیں حکومت اسے اپنا کارنامہ گردانتی ہے لیکن یہ رقوم جن مقاصد کے لیے لٹائی جارہی ہیں یہ بھی جاننا قوم کا حق ہے

    بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا مالکان کو 70 کروڑ روپے کی ادائیگی کا صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حکومت نے پی ایف یو جے کے مطالبے پر بظاہر یہ شرط عائد کی تھی کہ ملنے والی رقوم تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوگی لیکن تاحال ملک کے مختلف چینلز اور اخبارات میں کئی کئی ماہ کی تنخواہیں واجب الادا ہیں بیان میں وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اس اصل کام کی طرف بھی توجہ دیں تاکہ ان کی کارکردگی مثبت سمجھی جاسکے۔

  • عبدالستار ایدھی کی پانچویں برسی آج منائی جا رہی ہے

    عبدالستار ایدھی کی پانچویں برسی آج منائی جا رہی ہے

    عبدالستار ایدھی کی پانچویں برسی آج منائی جا رہی ہے.
    عبدالستار ایدھی کی پانچویں برسی آج منائی جا رہی ہے.بابائے انسانیت عبدالستار ایدھی کی پانچویں برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ عبدالستار ایدھی نے اپنی زندگی کے 65 برس دکھی انسانیت کی خدمت میں گزاری۔

    ملک کے مختلف شہروں میں عبد الستار ایدھی کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کی جارہی ہے.ایدھی ہومز میں رہنے والے بچوں کا کہنا کہ رنگ ونسل،عقیدے اور مذہب سے بالاتر، انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے والے عبدالستار ایدھی کی وفات کے بعد جیسےان کے سروں سے باپ کا سایہ ہی اٹھ گیاہو ۔

    ایدھی ہومز کی انتظامیہ بھی عبدالستار ایدھی کی جدائی میں غمگین ہے۔وہ کہتے ہیں ایدھی صاحب کی سماجی خدمات کوہمشہ یاد رکھا جائے گا ان کی وفات کے بعد ایسا خلا پیدا ہوا ہے جس کو کوئی پُر نہیں کر سکتا ۔

    عبدالستار ایدھی وطن عزیز کا ایک بہت بڑا نام ، جو شاید دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے انسانوں کی خدمت کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنائے رکھا۔ ایدھی جیسی ہستی کی یاد ہر دل میں کسی کسک کی طرح موجود رہے گی۔

  • اپوزیشن كا وزیر تعلیم سندھ کو فوری ہٹانے اور امتحانی مراکز میں رینجرز تعیناتی کا مطالبہ

    اپوزیشن كا وزیر تعلیم سندھ کو فوری ہٹانے اور امتحانی مراکز میں رینجرز تعیناتی کا مطالبہ

    اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے میٹرک امتحانات میں پرچہ آؤٹ ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کو فوری ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تمام امتحانی مراکز اور پرچوں کی تقسیم رینجرز کے حوالے کی جائے۔

    تفصیلات کے مطابق میٹرک امتحانات کی صورتحال پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے اپنے بیان میں حلیم عادل شیخ کاوزیر تعلیم سندھ اورمشیر بورڈیونیورسٹیز کو فوری ہٹانے اور پرچے آؤٹ ہونے کے معاملے پر اعلیٰ سطح انکوائری کا مطالبہ کردیا۔

    اپوزیشن لیڈر سندھ کا کہنا ہے کہ تمام امتحانی مراکز اور پرچوں کی تقسیم رینجرز کے حوالے کی جائے، نوجوان نسل کی حوصلہ شکنی کرنے والے رعایت کے مستحق نہیں، صورتحال سےثابت ہوگیا کہ وزیرتعلیم ابھی زیرتعلیم ہیں۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا پرچی پرآئےچیئرمین سندھ کے نوجوانوں کو بھی پرچی پاس بناناچاہتے ہیں، وزیرتعلیم اور مشیر کو ہنگامی بنیادوں پر گراؤنڈمیں ہونا چاہیے تھا، دونوں ایک دوسرے پر ذمےداری ڈال کر بھاگ رہےہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر تعلیم سندھ کشمیرالیکشن میں بروکری کررہےہیں اور بجٹ ٹھکانے لگانے میں مصروف ہیں، ڈیکوریشن کی کرسیاں اورسامان منگواکر کرپشن کا نیا باب بنایا جائے گا،حلیم عادل

    اپوزیشن لیڈر سندھ نے کہا کہ وزیرتعلیم اپنے محکمےکےسوا ہرمسئلے پرپریس کانفرنس کررہے ہوتے ہیں، کشمیر الیکشن میں چیئرمین کے پیچھے پرچیاں پکڑے کھڑے ہیں، سندھ حکومت کانام لینا بھی شرمندگی کا باعث بن چکا ہے۔

    حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ پی پی نےسندھ کو ہرطرح سے برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، سندھ کے بچوں کا مستقبل تباہ ہونے نہیں دیں گے، vامتحانی مراکز میں رینجرز کوتعینات کیا جائے اور وفاقی حکومت سندھ کے ابتر حالات پر اپنا کردار ادا کرے۔