Baaghi TV

Category: کراچی

  • چیمبر میں چھوٹے اور بڑے بڑے تاجر میں کوئی تفریق نہیں نثارصدیقی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں حفیظ عزیز

    چیمبر میں چھوٹے اور بڑے بڑے تاجر میں کوئی تفریق نہیں نثارصدیقی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں حفیظ عزیز

    کراچی چیمبر آف کامرس پولیس چیمبر لیژان کمیٹی(پی سی ایل سی)کے چیئرمین حفیظ عزیز نے کہا ہے کہ کراچی چیمبر سارے تاجروں کا چیمبر ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہم بابر مارکیٹ کے صدر نثار احمد صدیقی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں نثار احمد صدیقی نے اپنی پوری زندگی تاجر برادری کی خدمت میں لگائی اخلاص کے ساتھ لوگوں کی خدمت کی یہی وجہ ہے کہ آج ہم سب ان کی یاد میں جمع ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد بی ایم جی گروپ کے سربراہ سراج قاسم تیلی مرحوم نے ہمیں یہی درس دیا تھا کہ ہم مظلوموں کی داد رسی کریں ان کا کہنا تھا کہ کوئی شخص ہمارا ممبر ہے یا نہیں اگر وہ ہماری مدد کے لیے چیمبر کی سیڑھیاں چڑھ کر آیا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی مدد کریں اسی مشن کو ان کے انتقال کے بعد بھی ہم نے جاری رکھا ہوا ہے اور انشااللہ خدمت کا یہ سفر جاری رہے گا اسمال ٹریڈرز کراچی کے صدر محمود حامد نے اپنے خطاب میں کہا کہ نثار احمد صدیقی جرات اور بہادری کا پیکر تھے انہوں نے بھتہ خوروں دہشت گردوں اور بوری میں بند لاشیں پھینکنے والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا ان کے بیٹے کو اغوا کیا گیا اس پر تشدد کیا گیا پھر ان کے کارخانے کو آگ لگا کر بھسم کر دیا گیا مگر انہوں نے ان دہشتگردوں سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا ہم ان کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں جماعت اسلامی بن قاسم کے امیر اور کورنگی ٹان کے سابق ناظم عبدالجمیل خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نثار احمد صدیقی نے زندگی خدمت خلق کے کاموں میں صرف کی ہوئی تھی انہوں نے جہاں تاجر رہنما کی حیثیت سے لوگوں کی خدمت کی وہاں انہوں نے بحیثیت منتخب کونسلر اپنے علاقے کے عوام کی بھر پور خدمت کی ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے اجلاس سے انجمن تاجران کے جنرل سیکرٹری عزیز احمد نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا کہ ہم نثار احمد صدیقی کے مشن کو جاری رکھیں گے اجلاس سے جیولرز ایسوسی ایشن بابر مارکیٹ کے رہنما راشد علی شاہ شاہ کراچی چیمبر کی لااینڈ آرڈر کمیٹی کے ممبر امین میمن فہیم نوری کورنگی پریس کلب کے صدر اوشاق میرانی نہال احمد صدیقی نیبھی خطاب کیا نثار احمد صدیقی کی صاحبزادی شاہین صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ والد کے انتقال کے بعد میں سمجھتی تھی کہ میں والد کے سائے سے سے محروم ہوگئی لیکن آج ان کے دوستوں اور ساتھیوں کے اظہار خیال کے بعد مجھے ایسا لگا ہے کہ میرے اوپر بزرگوں کا سائبان سایہ کئے ہوئے ہے میں اس پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں اور تمام بزرگوں کی مشکور ہوں اللہ تعالی ہمارے والد کو نیکیوں کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

  • حکومت کی جانب سے ناجائز ٹیکسز کے خلاف جیولرز برادری متحد ہوگئی

    حکومت کی جانب سے ناجائز ٹیکسز کے خلاف جیولرز برادری متحد ہوگئی

    تحفظ حقوق الصراف کااہم اجلاس چیئرمین فہیم الدین انصاری کے زیرصدارت صرافہ بازارکراچی میں منعقدہواجس میں بلین ہال کے چیئرمین قاسم شکارپوری ودیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔اجلاس میںفیصلہ کیاگیا کہ حکومت کی جانب سے جیولرزوزرگراوربلین برادری پر لگائے گئے ناجائز ٹیکس کے خلاف جیولرز وزرگراور بلین برادری کا اعلیٰ سطحی اجلاس 9جولائی کو لاہور میں ہوگا ۔
    اجلاس سے ٹیلیفونک خطاب میں آل پاکستان جیمزاینڈجیولرز ایسوسی ایشن کے سربراہ الحاج ہارون رشید چاند،چیئرمین کے پی کے حاجی امین حسین بابر نے کہاکہ متفقہ فیصلے کے مطابق جمعے کو لاہور میں ہونے والے اجلاس میں ملک بھر سے جیولرز ، زرگران ، امپورٹرز ، ایکسپورٹرز ، بلینرزاور کاریگربڑی تعداد میں شریک ہوں گے۔
    حاجی امین حسین بابر نے اجلاس سے اپنے ٹیلی فونک خطاب میں کہا کہ ہمیں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہورہی ہے کہ پاکستان بھر کے جیولرز،زرگران،امپورٹرز،ایکسپورٹرز،بلینرزاور کاریگرایک متفقہ پلیٹ فارم پر حاجی ہارون رشید چاند کی سربراہی میں متحد ہوگئے ہیں۔

    انہوں نے بتایاکہ لاہور اجلاس میں حاجی ہارون رشید چاند کی سربراہی میں حکومت کی جانب سے جیولرز وبلینرز اور زرگر برادری پر لگائے گئے ناجائز ٹیکسوں پر مذاکرات بھی ہوں گے اور FATFکی جانب سے ٹیکسز اور سیلز ٹیکس کے بارے میں بھی لائحہء عمل طے کیاجائے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ زرگربرادری اور جیولرز اور تمام متعلقین اتحاد کی برکت سے اپنے مسائل کے حل اور حکومت سے اپنی بات منوانے میںکامیاب ہوجائیں گے۔انہوں نے کہاکہ حاجی ہارون رشید چاند کی قیادت پر پوری زرگر برادری کا اعتماد ہے۔انہوںنے بتایاکہ اجلاس کے بعد متفقہ لائحہء عمل کا اعلان کیاجائے گا۔

  • قادیانیوں کو پروان چڑھانے کی سازش میں ملوث افراد کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمات قائم کئے جائیں،ثروت اعجاز قادری

    قادیانیوں کو پروان چڑھانے کی سازش میں ملوث افراد کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمات قائم کئے جائیں،ثروت اعجاز قادری

    سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو پروان چڑھانے کی سازش میں ملوث افراد کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمات قائم کئے جائیں ،سندھ یونیورسٹی میں امتحانی نظام میں قادیانیوں کی تعلیمات دینے کی سازش کرنیوالوں کو فوری گرفتار کیا جائے ،قادیانی ترویج کرنے والے عناصر ملک کے غدار اور اسلام کے دشمن ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے اور اگر یہ گورنمنٹ ملازم ہیں تو ان کی نوکری بھی فوری ختم کی جائے ،امتحانی پرچے یا داخلہ ٹیسٹ میں قادیانی مذہب کیلئے سوالات دین اسلام سے کھلی دشمنی اور ملک کے آئین سے غداری ہے ،انکوائری کمیٹی تشکیل دینے سے کام نہیں چلے گا قادیانی سے متعلق سوالات پر چہ بنانے اور یونیوارسٹی کے چانسلر ،وائس چانسلر کو فوری گرفتار کیا جائے اور اس سنگین جرم میں جو بھی ملوث پایا جائے اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے ،ملک کا آئین کلیئر وضاحت کرتا ہے قادیانیوں کی عبادگاہوں اور مخصوص شعائر کو اسلام کے نام سے استعمال نہیں کیا جاسکتا ،قادیانی غیر مسلم ہیں جو بھی انہیں اسلام سے منسلک کرتا ہے وہ اسلام کادشمن اور ملک کے آئین کا غدار ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے محمد علی قریشی پریذیڈنٹ سندھ آٹو ایسوسی ایشن کے بھتیجے حفیظ قریشی کی شادی کے موقع پر سیاسی ومذہبی رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں ،ملک میںنظام مصطفی کے نفاذ کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ،انشاء اللہ جلد ملک میں قرآن وسنت کی بالادستی ہوگی ،ہمارا گورنر سندھ ،وزیر اعلیٰ سندھ ،وزیر تعلیم سندھ ،چیف سیکریٹری،سیکریٹری تعلیم سے مطالبہ ہے قادیانیوں کے متعلق پرچے میں سوالات پر فوری کاروائی عمل میں لائیں ،نظام تعلیم میں قادیانیت کا پرچار کسی طور بھی برداشت نہیں کرینگے ،مذہبی انتہاپسند نہیں ہیں مگر ملک کے آئین اور شریعت سے غداری کرنیوالوں کیلئے رحم بھی نہیں کیاجاسکتا ،قانون کو فوری حرکت میں لاکر قادیانیت کی ترویج کرنیوالوں کو فوری گرفتار کرکے عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • کراچی شہر میں ماہانہ 30 ہزار لوگ داخل ہوتے ہیں، سی ای او کے الیکٹرک

    کراچی شہر میں ماہانہ 30 ہزار لوگ داخل ہوتے ہیں، سی ای او کے الیکٹرک

    کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے کہاہے کہ کراچی کے کئی علاقوں کو ہم نے لوڈ شیڈنگ فری بنایا ہے اور شہر میں کنڈوں کے مسئلے پر انویسٹمنٹ کی ہے ،شہر قائد میں ماہانہ 30 ہزار لوگ داخل ہوتے ہیں اور شہر کی 40 فیصد آبادی کچی ہے۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے کہا کہ کراچی کے کسی بھی علاقے میں جائیں وہاں تاروں کے جال نظرآتے ہیں۔
    سی ای او کے الیکٹرک کے کہا کہ تقریبا 30 ہزار لوگ ماہانہ کراچی میں داخل ہوتے ہیں اور شہر کی 40 فیصد آبادی کچی ہے۔بنارس اور کھوکرا پار جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کراچی ہے۔مونس علوی نے دعوی کیا کہ کراچی کے کئی علاقوں کو ہم نے لوڈ شیڈنگ فری بنایا ہے اور شہر میں کنڈوں کے مسئلے پر انویسٹمنٹ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں ہماری ریکوریز کم تھیں وہاں کم پیسوں میں میٹرز فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ بارشوں کے بعد رین ایمرجنسی میں کام کیا ہے۔

  • کہاں سے لائے ہو یہ بدتمیز جاہل لوگ،فیصل لائیو شو میں ٹک ٹاکر ز پر برس پڑے، ویڈیو وائرل ہوگئی

    کہاں سے لائے ہو یہ بدتمیز جاہل لوگ،فیصل لائیو شو میں ٹک ٹاکر ز پر برس پڑے، ویڈیو وائرل ہوگئی

    پاکستان کے سینئر اداکار و میزبان فیصل قریشی لائیو شو کے دوران ٹک ٹاکرز پر برس پڑے۔سوشل میڈیا پر فیصل قریشی کی ایک نجی ٹی وی شو میں بطور میزبان ٹک ٹاکرز پر برسنے کی ویڈیو وائرل ہو گئی نجی ٹی وی شو کے دوران میزبان فیصل قریشی ٹک ٹاکرز کے ہمراہ سالگرہ کا گیت گانے میں مصروف تھے کہ اچانک ہی ایک خاتون ٹک ٹاکر نے ساتھی ٹک ٹاکر کو تھپڑ مارنے شروع کر دیئے۔
    فیصل قریشی ٹک ٹاکر خاتون کی بد اخلاقی دیکھ کر لائیو شو کے دوران اپنا غصہ کنٹرول نا کرسکے اور مسکان نامی ٹک ٹاکر پر برہم ہوگئے۔فیصل قریشی نے مسکان پر غصہ کرتے ہوئے انھیں ٹوکا اور یاد دلایا کہ پروگرام آن ائیر جا رہا ہوتا ہے۔میزبان کے مطابق گیم کو اتنا مذاق بنا دیا ہے کہ آپ انھیں آن ائیر پروگرام کے دوران تھپڑ مار رہی ہیں، فیصل قریشی دوران شو ہاتھ میں موجود کارڈز غصے سے پھینکتے ہوئے ٹک ٹاکرز کو بدتمیز کہہ کر اسٹیج سے ہی چلے گئے۔
    اسٹیج سے نیچے اترنے کے بعد فیصل قریشی کا کہنا تھا کوئی احساس نہیں اگر شو میں مہمان آجائے تو اس پر چڑھ جاتے ہیں اور ابھی سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں تو وہ ان کو گردن پر تھپڑ مار رہی ہیں۔ انھوں نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ یہ بدتمیز جاہل لوگ کہاں سے لائے ہو .

  • کراچی پریس کلب میں ممبران اور ان کے اہل خانہ کے لئے منفرد”آم فیسٹیول” کا انعقاد

    کراچی پریس کلب میں ممبران اور ان کے اہل خانہ کے لئے منفرد”آم فیسٹیول” کا انعقاد

    کراچی پریس کلب نے اتوار کو پریس کلب کے ممبران اور ان کے اہل خانہ کے لئے منفرد”آم فیسٹیول” کا انعقاد کیا گیا۔آم فیسٹول میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری محمدرضوان بھٹی،جوائنٹ سیکرٹری ثاقب صغیر، کے یو کے جے صدر راشد عزیز ،سابق صدر پریس کلب امتیاز خان فاران ، آم فیسٹیول میں چیئرمین پاکستان امریکہ بزنس ڈیولپمنٹ فورم کے چیئرمین ذیشان الطاف لوہیا، صدرشیخ امتیاز حسین،جنرل سیکرٹری سید ناصر وجاہت، پریس کلب کی مجلس عاملہ کے ارکان اور ممبران کے پی سی اور ان کے اہل خانہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
    اس موقع پر پرتکلف ناشتے اور دوپہر کے کھانے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ آم فیسٹیول میں 20سے زائدآموں کی اقسام رکھی گئی تھیں۔
    اراکین پریس کلب اور ان کے اہل خانہ نے ناشتے اور آم بھرپور انداز میں کھائے اور مینگو فیسٹیول سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کے سیکریٹری محمدرضوان بھٹی نے ممبران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کراچی پریس کلب اپنے ارکان اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن سہولیات فراہم کررہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس طریقے کی سرگرمیوں کا انعقاد صحت مند معاشرے کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب اپنے اراکین اور ان کے اہل خانہ کیلئے مزید تفریح کے ایونٹ کا انعقاد کرے گا۔ واضح رہے کہ کراچی پریس کلب کی جانب سے اپنی نوعیت کا یہ پہلا پروگرام تھا جس میں ایک ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ کراچی پریس کلب کے ممبران کے اہل خانہ نے کراچی پریس کلب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کورونا لہر کے سبب لاک ڈائون اور دیگر معاشی وسائل کی وجہ سے تفریح کے مواقع ختم ہوگئے تھے۔
    آج کراچی پریس کلب نے آم فیسٹیول کا انعقاد کرکے صحافیوں کی فیملی کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع فراہم کیاہے۔کراچی پریس کلب کے ممبران اور ان کے اہل خانہ آم فیسٹول کے انعقاد کر کراچی پریس کلب کے عہدیداران کا شکریہ ادا کیااور اس توقع کا اظہار کیاکہ پریس کلب کے عہداران آئندہ بھی اس طرح کی سرگرمیوں کے انعقاد میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔

  • 5 جولائی کو ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طورپر یاد رکھا جائے گا : بلاول زرداری

    5 جولائی کو ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طورپر یاد رکھا جائے گا : بلاول زرداری

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 5 جولائی کو ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طورپر یاد رکھا جائے گا۔ ایک فوجی بغاوت ، جس نے وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں ، جمہوری طور پر منتخب عوامی حکومت کا تختہ پلٹ دیا ، جس کی سربراہی ایک آمر جنرل ضیا نے کی ، جس سے پاکستانی عوام کی جمہوری امنگوں پر بہیمانہ حملہ ہوا۔
    5 جولائی کویوم سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سقوط ڈھاکہ کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے قوم کو متحد کیا تھا ، اور مضبوط معاشی عزائم کے ساتھ قوم کو متحرک جمہوری نظام میں اکٹھا کیا تھا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ریاست کو جمہوری بنانے کے ذریعے ، بااختیار منتخب لوگوں سے اقتدار حاصل کرکے اور لوگوں تک پہنچا کر عوام کو بااختیار بنایا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 1977 کا مارشل لائ پاکستان کے عوام پر بدترین حملہ تھا اور آمروں کے خاتمے کے کئی دہائیوں بعد اس قوم نے اس کا شکار کیا ہوا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ 5 جولائی 1977 کی بغاوت نے عدم رواداری ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیج بوئے اور انہیں پانی پلایا ، جس کی جڑیں بڑھ کر ہمارے معاشرے میں اپنے آپ کو سرایت کر رہی ہیں اورمعاشرہ اس کی لپیٹ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے امت مسلمہ کو متحد کیا اور عالم اسلام کی سیاسی بیداری کے ساتھ رہنمائی کی اور دو آمروں کا مقابلہ کیا اور اسے للکارا ، اور بہادری کے ساتھ لوگوں کے حقوق کے لئے جنگ لڑی ، ایک بار بھی ڈگمگاتی نہیں ، یہاں تک انہیں تختہ دار کا سامنا کرنا پڑا۔
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ ان کے حامیوں اور پیروکاروں کو کوڑے ، تنہائی قید ، قید اور پھانسی سمیت غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج بھی جمہوری اور آمریت پسند قوتوں کے مابین جنگ بدستور بدستورجاری ہے ، اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کا فلسفہ تمام جمہوری قوتوں کا پیش رو ہے۔ "شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا ،” یا تو اقتدار لوگوں تک پہنچانا چاہئیے ، یا سب کچھ ختم ہوجائے گا "، جو الفاظ آج بھی اتنے ہی سچے ہیں جیسے آج ہم پاکستان کی جمہوری بقا کے لئے لڑ رہے ہیں۔
    یہ ایک سچائی ہے جو جمہوری پاکستان کے لیے اصل حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو عوام کے ساتھ ملک کے حقوق پرا?مروں سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے اپنی جان نچھاور کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

  • سی این جی کی قیمت میں 30 روپے فی کلو اضافہ

    سی این جی کی قیمت میں 30 روپے فی کلو اضافہ

    یل این جی پر جی ایس ٹی کی شرح بڑھنے کے باعث سی این جی کی قیمت میں 30 روپے فی کلو اضافہ ہوگیا، سی این جی ایسوسی ایشن نے ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کرلیاہے۔تفصیلات کے مطابق ایل این جی پر جی ایس ٹی(جنرل سیلز ٹیکس)کے نفاذ کے بعد آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، جس میں مہنگے ایل این جی کارگو اور سیلز ٹیکس میں اضافے کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
    غیاث الدین پراچہ کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس کی شرح بڑھنے اور ایل این جی کی درآمدی قیمت میں اضافے کی وجہ سے جن صوبوں میں لیٹر کے لحاظ سے سی این جی فروخت ہوتی ہے وہاں 18 روپے فی لیٹر اور جہاں کلو گرام کے لحاظ سے سی این جی فروخت ہوتی ہے وہاں 30 روپے فی کلو اضافہ ہوگا۔
    غیاث پراچہ نے کہاکہ اس صورت حال میں صارفین کے ساتھ ساتھ سی این جی اسٹیشن مالکان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا، اجلاس میں کاروبار جاری رکھنے یا بند کرنے پر بھی غور کیا گیا ہے، اس قیمت پر سی این جی کھولنے کی صورت میں صارفین پر تمام بوجھ ڈالنا ممکن نہیں حکومت دیگر شعبوں کی طرح سی این جی پر بھی سبسڈی فراہم کرے۔

    انہوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اگر حکومت نے سی این جی کے لیے ایل این جی پرسبسڈی فراہم نہ کی تو سی این جی کا کاروبار بند کرنا پڑے گا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں قائم 3 ہزار اسٹیشن بند ہوجائیں گے اورسی این جی پر چلنے والی 20 لاکھ گاڑیوں کے مالکان کو پریشانی کا سامنا ہوگا اور سی این جی اسٹیشن سے وابستہ 4لاکھ افراد کا روزگار بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے یکم جولائی سے ایل این جی پر سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کردی ہے۔ قدرتی گیس کی قلت کی وجہ سے 90 فیصد سی این جی اسٹیشنز ایل این جی پر منتقل ہوچکے ہیں۔

  • آمر ہلاک ہوگئے لیکن تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی، آصف علی زرداری

    آمر ہلاک ہوگئے لیکن تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی، آصف علی زرداری

    سابق صدر پاکستان اور صدر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز ، آصف علی زرداری نے 5 جولائی کے موقع پراپنے ایک پیغام میں کہا کہ آمر ہلاک ہوگئے لیکن تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔ 5 جولائی 1977 کو پاکستان کی تاریخ میں ایک فوجی بغاوت میں جب ایک آمر نے جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا تو وہ کالا دھبہ رہا۔
    صدر زرداری نے کہا کہ آمروں کے چہرے بدلتے رہتے ہیں لیکن ان کی سوچ نہیں بدلی۔
    شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوری جدوجہد کے ذریعے دو آمروں کو شکست دی اور جمہوریت کے لئے جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اعلی ہے کہ بیانیہ غالب آئے گا۔ انہوں نے ان لوگوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے پاکستان میں آئین اور جمہوریت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔صدر زرداری نے کہا کہ 18 ویں ترمیم آمروں کے خلاف جمہوری انتقام ہے۔ پارلیمنٹ کو مجروح کرنا جمہوریت سے انتقام ہے۔ 1973 کا آئین وفاق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

  • پا کستان رینجرز سندھ کی ایک اور بڑی کامیابی

    پا کستان رینجرز سندھ کی ایک اور بڑی کامیابی

    پا کستان رینجرز (سندھ) کی اندرون سندھ میں ایک اور بڑی کا میا بی۔ تر جمان سندھ رینجرز

    کو ٹ سبزل میں اسنیپ چیکنگ کے دوران بسوں کو لو ٹنے والا گروہ گر فتار۔

    گروہ میں شا مل 7ملز مان وقا ص، افضل، احسان اللہ،مستنصر،محمد عمران،ذیشان علی اور مدثر ریا ض کو گر فتار کر لیا۔

    ابتدائی تفتیش کے مطا بق ملزمان نے انکشا ف کیا کہ بس ڈرائیور مدثر ریا ض کی مخبری پر پنجا ب کے ضلع سیالکو ٹ سے آ نے والی بس میں سوار مال مو یشیوں کے بیو پار یوں سے لوٹ ما ر کر نے کے لیے تعا قب کر رہے تھے۔لو ٹ مار کے ارادے سے تعا قب کر نے والے با قی 6ملزمان کار میں سوار تھے۔

    ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، ایمونیشن، کار اور دیگراشیاء جن میں ایک عدد 30بور پسٹل بمعہ دو عدد میگزین، ایک عدد 30بور مو زر بمعہ ایک میگز ین، ایک عدد ٹیو ٹا کرولا کار، 8عدد موبائل فونز، نقد رقم(بمعہ قطر ی ریا ل)14677روپے اور 2عدد سو نے کی چین شا مل ہیں بھی برآمد کر لیا۔
    گر فتار ملزمان کو بمعہ اسلحہ ایمو نیشن اور مسروقہ سامان قا نو نی کاروائی کے لیے پو لیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔