ڈاکو احساس پروگرام کے دفترسے 12 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے ادارلحکومت کراچی میں احساس پروگرام کے دفتر سے 6 مسلح ملزمان 12 لاکھ روپے کی رقم لوٹ کر فرار ہوگئے، ڈکیتی کا یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا، جہاں کراچی کے علاقہ گلشن اقبال میں واقع احساس پروگرام کے دفتر میں تعینات پولیس اہلکار آج غیر حاضر تھے جس کو موقع غنیمت جانتے ہوئے 6 مسلح ملزمان 12 لاکھ روپے کی رقم لوٹ کر فرار ہوگئے ، پولیس کی جانب سے واقعے کا مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی۔
دوسری طرف عمر کوٹ میں احساس کفالت پروگرام میں مبینہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کا رشوت لینے کا انکشاف ہوگیا ، احساس کفالت پروگرام مراکز میں حکومتی امداد لینے والی نادار اور مستحق خواتین نے 500 روپے فی کس کٹوتی پر احتجاج کیا گیا ، احتجاج میں شامل ایک خاتون نے پیسے دکھاتے ہوئے کہا کہ ان کے 500 روپے کاٹے گئے ہیں، ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ زبردستی 500 روپے کاٹ کر ساڑھے گیارہ ہزار روپے دیے جا رہے ہیں ، احتجاج میں شریک خاتون نے بتایا کہ منتیں کرنے پر پوری رقم فراہم نہیں کی جا رہی، بلکہ ساڑھے 11ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔
جس کے بعد گلے میں پاکستان تحریک انصاف کا کارڈ ڈالے احساس کفالت مراکز میں کچھ افراد کی غیر قانونی سرگرمیوں نے کئی سوالات کھڑے اُٹھا دیئے لیکن حکام نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کو پولیس کی مدد سے باہر نکال دیا گیا ہے ، پاکستان تحریک انصاف کی ایک خاتون ورکر کا کہنا تھا کہ ہماری یہاں ذمہ داری ہے کہ پیسے واپس یا کٹوتی نہیں کرنی ، ہماری ڈیوٹی ببلی رند نے لگائی ہے ، اس حوالے سے احساس کفالت پروگرام کے ضلع انچارج خدا بخش مہر سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس سے غیرذمہ دار افراد کی موجودگی کی شکایت کی جس پر ان افراد کو احساس کفالت مراکز سے باہر نکال دیا گیا۔
Category: کراچی
-

ڈاکو احساس پروگرام کے دفترسے 12 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے
-

پی ٹی آئی اراکین کا الیکشن کمیشن سے بڑا مطالبہ
پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان ،جنرل سیکریٹری کراچی سعید آفریدی اراکین سندھ اسمبلی شہزاد قریشی،راجہ اظہر، رہنماء سلیم بٹ، سمیر میر شیخ ودیگر کا وفد الیکشن کمشن دفتر پہنچا اور چیف الیکشن کمیشنر سے ملاقات کی.
اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے کنٹونمنٹ الیکشن جمعرات کے بجائے اتوار کے روز جمع کروانے کی تحریری درخواست جمع کروائی۔
میڈیا سے گفتگو میں خرم شیر زمان کا کہنا تھا الیکشن کمیشن غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے الیکشن کا دن تبدیل کرے.شہری باآسانی اپنا چھٹی کے روز اپنا ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔
الیکشن کمیشن کے دفتر آنے کی 2 وجوہات تھیں. الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر نااہلی کا مظاہرہ کیا. ہم نے بلدیہ کے ضمنی الیکشن کیلئے مطالبہ کیا تھا کہ چھٹی کے روز الیکشن کیا جائے.
کنٹونمنٹ کے الیکشن سر پر ہیں، ہم نے الیکشن کیلئے جمعرات کو نہ کروانے کی درخواست کی ہے
یہ درخواست اسلام آباد الیکشن کمیشن کے دفتر میں بھی جمع کرائی گئی ہے.ہمارے انٹرویوز کا مرحلہ شروع کیا جاچکا ہے. ہم نے کنٹونمنٹ کے الیکشن چھٹی کے روز کروانے کا مطالبہ کیا ہے، چھٹی کے روز شہری باآسانی اپنا ووٹ کاسٹ کرسکتے ہیں.
ہمیں الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کروائی ہے
ہم عدالتوں سے بھی رجوع کریں گے، ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن جان بوجھ کر کنٹونمنٹ کے الیکشن کو ورکنگ کے دنوں میں رکھ رہا ہے۔ -

جب تک ہر ادارہ اور ہر شخص اپنا کردار ادا نہیں کریگا شہر کی ترقی نہیں کرسکتا، لئیق احمد
ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ شہر کی ترقی اور بہتری معیاری تعلیمی نظام سے وابستہ ہے، اب زمانہ روایتی مینجمنٹ کا نہیں رہا، جب تک ہر شخص اور ہر ادارہ شہر کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کرے گا اس وقت تک یہ شہر دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں شامل نہیں ہوسکتا، کراچی کی بہتری اور ترقی کے لئے سول سوسائٹی ،سماجی و فلاحی اداروں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں،ناصرہ اسکول نے مقامی سطح پر اعلیٰ معیار اپنا کر تعلیم کو فروغ دیااور یہ اسکول کراچی کے طالب علموں کا فخر ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناصرہ اسکول میں قائم وزیر علی میموریل ہال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سرمد جلال عثمانی، سابق وزیر مملکت شہناز وزیر علی، ڈائریکٹر ایجوکیشن منصوب احمد صدیقی اور عامر ایس فینسی نے بھی خطاب کیا، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا کہ ملک وزیر علی نے کراچی میں اس وقت ناصرہ اسکول کا سنگ بنیاد رکھا جب وسائل سے محروم نوزائیدہ مملکت کو معیاری تعلیمی اداروں کی بے انتہا ضرورت تھی، آج بھی ناصرہ اسکول کا تعلیمی معیار بہت بلند ہے، اس اسکول سے ملک کی کئی نامور شخصیات نے تعلیم حاصل کی اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے اداروں کی جانب سے حوصلہ افزاء نتائج ملے ہیں اوریہ امر اطمینان کا باعث ہے کہ کراچی کی بہتری اور ترقی کے خواہش مند تمام ادارے ایک پیج پر ہیں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ان تمام کاموں میں بھرپور معاونت فراہم کررہے ہیں جو شہر کی ترقی ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، شجر کاری اور باغات کے حوالے سے شروع کئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ منگھوپیر میں ان فلاحی و سماجی اداروں کے اشتراک سے 34 ایکڑ رقبے پر ہیلتھ سٹی بنانے کے خواب کو تعبیر دینے کی جانب پہلا قدم اٹھایا جاچکا ہے جبکہ منشیات کے عادی افراد کے علاج کی غرض سے ری ہیبلی ٹیشن سینٹر بھی بنایا جا رہا ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے شہر کے تمام اداروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ آگے بڑھیں اور صحت کے حوالے سے شہریوں کو جو بھی سہولت مہیا کرنا چاہیں کے ایم سی اس میں تعاون کے لئے تیار ہے، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر میں درختوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے شجر کاری کے حوالے سے جدید ترین طریقے اپنا رہی ہے جس میں میاواکی فارسٹ کا قیام شامل ہے اور اس مقصد کے تحت کراچی میں 300 میاواکی فارسٹ بنائے جا رہے ہیں جس سے شہر کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا، اس کے ساتھ ساتھ کراچی کے قدیم درختوں کو بھی شہر کی زینت بنایا جا رہا ہے اور بتدریج کرونا کارپس کے درختوں کو ماحول دوست اور کراچی کے قدیم درختوں مثلاً نیم، پیپل، ناریل، کھجور، جنگل جلیبی، آم، امرود، جامن اور دیگر درختوں سے تبدیل کردیا جائے گا، قبل ازیں ایڈمنسٹریٹر کراچی نے ناصرہ اسکول میں قائم وزیر علی میموریل ہال کا فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا اور 1949ء میں قائم ہونے والے ناصرہ اسکول کی جدید لیبارٹری اور دیگر سہولیات کا معائنہ کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر مملکت اور منیجنگ ٹرسٹی ناصرہ اسکول شہناز وزیر علی نے کہا کہ ناصرہ اسکول کے قیام کا مقصد تعلیم عام کرنا تھا اور آج بھی ہم اپنے اس عزم پر قائم ہیں،تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد کو ناصرہ اسکول کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔
-

ڈاکٹرعبدالرزاق سکندر نیک سیرت و فرشتہ صفت انسان تھے،مولانا اللہ وسایا
شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر عالم اسلام کے ممتاز عالم دین، بزرگ رہنما، اکابر و اسلاف کی نشانی، نیک سیرت و فرشتہ صفت انسان تھے۔ شہر کراچی میں جن علمائے کرام نے اسلام کی فضا کو بقا بخشی، ان میں محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بًنوری قدس سرہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا یوسف بًنوری ہی کے تربیت یافتہ، صحبت نشین، خصوصی تلمیذ اور جانشین و مسند نشین تھے۔
ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیرمرکزیہ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بًنوری ٹاؤن کے رئیس و شیخ الحدیث، استاذ العلمائ ، رئیس المحدثین حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ تعالیٰ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔
وہ جامع مسجد فلاح (شارع حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید، بلاک 14،ایف.بی.ایریا میں جمعہ مبارک کے اجتماع سے خطاب فرما رہے تھے۔ انہوں نے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ کے ساتھ میرا تعلق چالیس سے پینتالیس سالوں کو محیط ہے، آپ کے ساتھ اسفار اور مختلف مواقع پر میں شریک رہا، میں عنداللہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ کو کبھی کسی پر غصہ کرتے نہیں دیکھا۔
آپ انتہائی نیک سیرت اور فرشتہ صفت انسان تھے۔ ختم نبوت پر آپ کی خدمات کا زمانہ گواہ ہے۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ نے 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں قومی اسمبلی میں امت مسلمہ کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف ’’قادیانی فتنہ اور ملت اسلامیہ کا مؤقف‘‘ کا عربی میں ترجمہ کر کے اسے عرب ممالک میں عام کیا اور عالم عرب قادیانی فتنہ کی زہر ناکیوں سے واقف ہوا۔
اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد قاسم، مولانا کلیم اللہ نعمان، سید انوار الحسن، مولانا مفتی محمد عمیر، حافظ اویس، حافظ یحیٰ، محمد عمر، اجمل لیاقت و دیگر بھی موجود تھے۔ آخر میں مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ تعالیٰ کے لیے اجتماعی ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی گئی۔ -

سندھ میں کاروباری اوقات کار بڑھا کر رات 10 بجے تک کردئیے گئے
محکمہ داخلہ سندھ نے کورونا ایس اوپیز سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت سندھ میں کاروباری اوقات کار بڑھا کر رات 10 بجے تک کردئیے گئے، سینما گھر، تھیٹرز، مزارات کھولنے کی اجازت ہوگی، ہوٹلز، ریسٹورنٹس شادی ہالز بھی کھولے جاسکیں گے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ نے کورونا ایس اوپیز سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت سندھ میں کاروباری اوقات کار بڑھا کر رات 10 بجے تک کردئیے گئے۔
ہوٹلز اور ریسٹورنٹس میں انڈور ڈائننگ رات 12 بجے تک ہوسکےگی۔ انڈور ڈائننگ کیلئے ویکسین کرانے والے مہمانوں کو اجازت ہوگی۔ ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروس 24 گھنٹے کی جاسکےگی۔ شادی ہالز میں آوٹ ڈور تقریبات کا انعقاد 400 مہمانوں کے ساتھ کیا جاسکےگا۔
شادی ہالز میں 200 مہمانوں کے ساتھ ان ڈور تقریبات کی اجازت ہوگی۔ سینما گھر اور تھیٹر رات ایک بجے تک کھلے رکھے جاسکیں گے۔مزارات ایس اوپیز کے ساتھ کھلے رہیں گے۔ ترجمان وزارت صحت سندھ کے مطابق سندھ میں کورونا وائرس کے مثبت آنے کی شرح4 اعشاریہ 28 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، کورونا کے باعث 14 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ اسی طرح کورونا وائرس کی جاری تیسری لہر کے دوران پاکستان کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں 29 ویں نمبر پر ہے، ملک میں کورونا کیسز میں معمولی اضافہ سامنے آیا ہے۔
-

عزیر بلوچ عدالت میں ایک بار پھر اقبالی بیان سے منحرف
لیاری گینگ وار کا سرغنہ عزیر بلوچ کمرہ عدالت میں ایک بار پھر اقبالی بیان سے منحرف ہوگیا اور کہا میں نے کبھی اقبالی بیان نہیں دیا ، مجسٹریٹ کو عدالت میں بلایا کر پوچھا جائے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں لیاری میں پولیس پرحملے ،قتل سمیت دیگرکیسز سماعت ہوئی ، دوران سماعت گینگسٹر عزیربلوچ کمرہ عدالت میں ایک بار پھر اقبالی بیان سے منحرف ہوگیا۔
عزیربلوچ نے عدالت میں بیان دیا کہ میں نے کبھی اقبالی بیان نہیں دیا ،جوڈیشل مجسٹریٹ عمران زیدی کوکئی ماہ سے بلایا جارہا ہے پیش نہیں ہورہے، مجسٹریٹ کو عدالت میں بلایا جائے اور پوچھا جائے اقبالی بیان دیا تھا یا نہیں، مجھے یقین ہے مجسٹریٹ جھوٹ نہیں بولیں گے۔
یاد رہے جوڈیشل کمپلکس میں جمع کرائے گئے اقبالی بیان میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ نے اہم انکشافات کیےتھے اور عدالت نے اس اقبالی بیان کو کیس کا حصہ بنا دیا تھا۔
اقبالی بیان میں عزیر بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ پولیس افسران یوسف بلوچ، جاوید بلوچ اور چاند نیازی کی مدد سے اس نے لیاری گینگ وار کے ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا.
ان تینوں کے سر تن سے جدا کر کے لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا، اس کے بعد دہشت پھیلانے کے لیے لاشوں کی ویڈیو بنا کر پورے ملک میں پھیلا دی۔
جوڈیشل کمپلیکس میں جمع کرائے گئے 164 کے اقبالی بیان میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے سابق صدر آصف زرداری، اویس مظفر ٹپی، شرجیل میمن اور قادر پٹیل و دیگر کے بھی راز کھولے تھے۔
رینجرز اہل کاروں کے قتل کیس میں جمع اقبالی بیان میں عزیر بلوچ نے ایرانی خفیہ ایجنسی کو پاکستان کی حساس معلومات دینے کا بھی اعتراف کیا جبکہ اقبالی بیان کے آخری حصے میں عزیر نے کہا کہ ایران کو کراچی کے حساس اداروں کے اعلیٰ افسران کے نام اور رہائش گاہوں کی معلومات بھی دی۔
-

پی ٹی آئی کا سندھ اسمبلی اجلاس سے بائیکاٹ،صوبائی حکومت سے بڑا مطالبہ
پاکستان تحریک انصاف سندھ نے سندھ اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی سندھ نے معطل ارکان کی پابندی نہ ختم کئے جانے پر سندھ اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کردیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے آٹھ ارکان کی پابندی ختم نہ کئے جانے کے خلاف بطور احتجاج سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے، جب تک ارکان اسمبلی کی معطلی ختم نہیں کی جاتی، کوئی بھی رکن اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔
دوسری جانب سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت جاری ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کرنے پر وزیر پارلیمانی امور مکیش چاؤلہ نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج ایوان میں کتناسکون ہے، جس پر متحدہ پاکستان کی رکن رعنا انصار نقوی نے کہا کہ اسی لئے تو وزیرصاحب بھی سکون سے جواب دے رہےہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند روز سے سندھ اسمبلی اجلاس شدید بدنظمی کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کا ایوان میں چارپائی لانا تھا، ایوان کا تقدس پامال کرنے پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے سخت ایکشن لیا اور واقعے میں ملوث پی ٹی آئی کے آٹھ ارکان اسمبلی کے داخلے پر پابندی عائد کی۔
دوسری جانب اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے بھی پی ٹی آئی کے طرزاحتجاج کو نامناسب قرار دیا اور پران کے احتجاج سے لاتعلقی کا اعلان کیا، لاتعلقی کا اعلان کرنے والوں میں متحدہ پاکستان اور جی ڈی اے شامل تھی۔
-

سندھ ہائی کورٹ میں ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت
سندھ ہائی کورٹ میں ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف پی ٹی اے کی درخواست کی سماعت آج ہوئی۔
عدالت نے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا
پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے متعلق درخواستیں جلد نمٹانے کا حکم دے دیا ہے۔واضع رہے کہ پی ٹی اے نے تیس جون کو ٹک ٹاک کو ملک بھر میں بند کر دیا تھا، جبکہ سندھ ہائیکورٹ نے 28 جون کو ٹک ٹاک معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔جس پر پی ٹی اے نے حکم امتناعی واپس لینے کی استدعا کی تھی۔
پی ٹی اے شکایت کنندہ کی درخواست پر عدالت 5 جولائی تک فیصلہ کرے گی۔ٹک ٹاک کی جانب سے ہم جنسی پرستی فروغ کرنے پر درخواست دائر کی گئی تھی۔عدالت نے سماعت 5 جولائی کے لیے ملتوی کردی.
-

احساس پروگرام سینٹر پر ڈکیتی کی فوٹیج، 6 ڈکیتوں کے خلاف مقدمہ درج
مستحقین کی رقم پر ہاتھ صاف کرنے والے ڈکیتوں کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا، واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں 6 ڈکیتوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آج کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ناریل پارک پر واقع احساس سینٹر پر ڈکیتی کی واردات ہوئی تھی، چھ ڈکیتوں نے سینٹر میں داخل ہو کر مستحقین کو رقوم سے محروم کر دیا تھا۔
گلشن پولیس نے احساس سینٹر کے ملازم ریاست کی مدعیت میں واردات کی ایف آئی آر درج کر لی، متن میں لکھا گیا کہ ڈکیت 3 موٹر سائیکلز پر واردات کے لیے آئے تھے، اور واردات کے بعد بہ آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
مقدمے کے متن کے مطابق احساس سینٹر میں چھ نامعلوم ڈکیتوں نے لوٹ مار کی واردات انجام دی، جو احساس کے عملے سے 12 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوئے تھے، لٹیروں نے سرکاری امداد کی رقم لینے کے لیے آنے والے مستحقین سے بھی موبائل فون چھینے۔
گلشن اقبال بلاک 5 احساس مرکز پر، مستحقین کی جیب میں جانے سے قبل ہی مستحقین کی رقم پر ڈاکے کی اس واردات کی فوٹیج میں لٹیرے فرار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
چھ مسلح ملزمان ناریل پارک احساس پروگرام میں داخل ہوئے، واردات ہوتے وقت وہاں لوگوں میں ایک دم سراسیمگی پھیل گئی، فوٹیج میں وہاں کھڑے تین موٹر سائیکل سوار بھی دکھائی دیتے ہیں، جنھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ بھی عام لوگ ہیں۔
واردات کے دوران موٹر سائیکلز پر سوار ڈکیت فرار کے لیے بالکل تیار تھے، لوٹ مار کرنے والے فوراً آئے اور بیٹھ کر چلے گئے، فوٹیج میں ایک لٹیرے کے ہاتھ میں پستول بھی واضح دکھائی دیتا ہے، اور وہ ایک لمحے کے لیے رک کر پیچھے بھی مڑ کر دیکھتا ہے جیسے کسی کو آگے بڑھنے سے دھمکی آمیز انداز میں روک رہا ہو۔
مقدمے کے متن کے مطابق واردات میں ملوث ایک لٹیرا سیکیورٹی گارڈ کی وردی میں ملبوس تھا، اور انھوں نے اسلحے کے زور پر لاکھوں روپے نقدی اور موبائل فونز چھینے، اور انھوں نے مستحقین کو بھی نہیں چھوڑا۔
-

گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جامعہ بنوریہ ٹاؤن آمد
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے جید عالم دین ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کے انتقال پر تعزیت کی لیے جمعہ کو جامعتہ الاسلامیہ بنوریہ ٹاؤن کا دورہ کیا اور مرحوم کے صاحبزادوں ڈاکٹر سعید عبدالرزاق اور مفتی یوسف عبدالرزاق کے علاوہ جامعتہ میں موجود علما اوراساتذہ سے ملاقات کرکے مہتمم اعلی کی رحلت پر تعزیت اور مرحوم کے درجات بلندی کی لئیے دعا بھی کی۔
گورنر سندھ نے کہا کہ مرحوم آخری سانس تک دین اسلام کی ترویج اور تبلیغ سے منسلک رہے۔ دین کے لئیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔