Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ میں پرائمری اسکول 21 جون سے کھولنے کا فیصلہ

    سندھ میں پرائمری اسکول 21 جون سے کھولنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے پرائمری سکول 21 جون سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا، پارکس، انڈور جمز اور درگاہیں بھی 28 جون سے اوپن ہوگی۔

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کورونا وائرس پر صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا۔ وزیراعلی نے کہا کہ ویکسین کم ہونے کی وجہ سے سینٹرز اتوار کو بند رہیں گے، بتایا گیا کہ اب تک 32 لاکھ 43 ہزار 988 ویکسینیشن صوبے کو موصول ہوئیں، جن میں سے 28 لاکھ 73 ہزار 857 ویکسین استعمال ہو چکیں۔

    اجلاس میں پرائمری سکولز 21 جون سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا، امیوزمنٹ پارکس، انڈورجمز اور مزارات 28 جون سے کھول دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کورونا کیسز میں کمی آرہی ہے، صوبے میں تشخیصی شرح 3.9 ہوگئی ہے جبکہ کراچی میں تشخیصی شرح 8.08 اور حیدرآباد 4.3 فیصد ہے، جون میں 263 کورونا مریض انتقال کرگئے۔

    وزیراعلی کا کہنا تھا شہری ایس او پیز پر عمل کرتے رہیں۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سعید غنی، ناصر شاہ، مشیر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری، آئی جی سندھ، ڈاکٹر باری، ڈاکٹر فیصل، ڈاکٹرقیصر سجاد سمیت دیگر نے شرکت کی۔

  • کراچی میں ینگ ڈاکٹرز ایک بار پھر سراپا احتجاج

    کراچی میں ینگ ڈاکٹرز ایک بار پھر سراپا احتجاج

    صوبے کے ینگ ڈاکٹرز این ایل ای ٹیسٹ اور پاکستان میڈیکل کمیشن کیخلاف سراپا احتجاج بن گئے، بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر یوم سیاہ منایا۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں پاکستان میڈیکل کمیشن کیخلاف ڈاکٹروں نے یوم سیاہ منایا، اس موقع پر ڈاکٹرز بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر معمول کی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے تحت احتجاجی مظاہرے میں اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین وائی ڈی اے سندھ ڈاکٹر عمرسلطان نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن این ایل ای قانون کو ختم کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل کالجوں میں داخلے کا ٹیسٹ اور امتحانات کے10سمسٹرز کے بعد این ایل ای ٹیسٹ کی کیا ضرورت ہے؟ این ای ایل ٹیسٹ ڈاکٹروں سے پیسے کمانے کا ذریعہ ہے۔

    ڈاکٹر عمرسلطان کا کہنا تھا کہ این ایل ای کے امتحان سے کوئی ڈگری نہیں ملتی، پوسٹ فیلو شپ کے لئے الگ امتحانات دیتے ہیں، ڈاکٹروں کی قابلیت پر کوئی شک ہے تو پہلے سرکاری اداروں سے کرپشن ختم کی جائے۔

  • سندھ میں شادی ہالز کے حوالے سے فیصلہ ہوگیا

    سندھ میں شادی ہالز کے حوالے سے فیصلہ ہوگیا

    سندھ کورونا ٹاسک فورس نے شادی ہالز تاحال نہ کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بھارتی وائرس کے پھیلنے کی اطلاعات پرتشویش کا اظہار کیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں کرونا وائرس پر صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء سمیت چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، صوبائی سیکریٹریز، ڈاکٹر باری، ڈاکٹر فیصل، ڈاکٹر سارہ خان، ڈاکٹر قیصر سجاد، کور فائیو اور رینجرز کے نمائندے شریک ہوئے۔

    اجلاس میں کوروناٹاسک فورس نے شادی ہالز تاحال نہ کھولنے اور آئندہ فیصلوں تک سینماگھروں کو بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔

    ٹاسک فورس نے بھارتی وائرس کے پھیلنے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ طبی ماہرین نے بھارتی وائرس کے مبینہ پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کی ہدایت کردی۔

    ذرائع سندھ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شادی ہالزاورسوئمنگ پولز کھولنے کا فیصلہ 28جون کوہوگا۔

  • بحریہ نہیں سندھ بچاؤ ، لاہور میں بھی سندھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ

    بحریہ نہیں سندھ بچاؤ ، لاہور میں بھی سندھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ

    گزشتہ روز لاہور میں بھی سندھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کیا گیا احتجا میں بچاؤ بچاؤ سندھ بچاؤ کے سلوگن لگائے گئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز 18 جون جمعہ کو پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو، حقوقِ خلق موومنٹ اور عورت مارچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے سندھیوں کی زمینوں پر قبضے، گجر نالہ اور اوورنگی نالہ کاروائی میں عوام کی گھروں سے بے دخلی اور ہزاروں سندھی سیاسی و سماجی کارکنان پر مقدمات کے خلاف جبکہ جانی خیل دھرنے کے لواحقین کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے پریس کلب لاہور کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرے میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرے میں سندھ ایکشن کمیٹی کے وفد نے سندھ سے لاھور آ کر خصوصی شرکت کی یہ احتجاجی مظاہرہ دو گھنٹے تک جاری رہا جبکہ پریس کلب لاہور کے اطراف میں ریلی بھی نکالی گئی-

    ریلی کے دوران سندھی عوام کی زمینوں پر قبضے کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ یہ ریلی شملہ پہاڑی کے اطراف میں نکالی گئی جس میں بحریہ ٹاؤن، سندھ حکومت کی سندھی عوام کے خلاف انتقامی کاروائیوں اور سندھ میں سیاسی کارکنان کے خلاف مقدمات درج کرنے کے خلاف شدید نعرے بازی کی جاتی رہی۔

    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں سیاسی و سماجی کارکنان کے خلاف جاری کریک ڈاون کو فی الفور بند کیا جائے جبکہ تمام اسیر کارکنان کو رہا کیا جائے مزید یہ کہ گجر نالے اور بحریہ ٹاون قبضہ کے متاثرین کو نہ صرف ان کی زمینیں واپس کی جائیں بلکہ بحریہ ٹاون انتظامیہ اور دیگر ملوث ارکان اور اداروں کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے۔

    ٔٔپاک سرزمین پارٹی نے بحریہ ٹاون پرپیش آنے والے واقعہ پرکس کوذمہ دارقراردیا،اہم خبرآگئی

    ریلی سے خطاب کرنے والوں میں سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماء اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے مرکزی نائب صدر جگدیش آہوجا، حقوق خلق موومنٹ کے رہنماء فاروق طارق، ثنا اللہ امان، مزمل خان، حیدر بٹ، بلال ظہور، عائشہ احمد، پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر محسن ابدالی اور سندھ کونسل پنجاب یونیورسٹی کے رہنماء ظفر بگٹی نے خطاب کیا۔

    فاروق طارق نے کہا پنجاب کے ترقی پسند عوام نے آج لاھور میں سندھیوں سے یک جہتی مظاہرہ کر کے پاکستان کے مظلوم عوام کے اتحاد کو فروغ دیا ہے، ہم سندھ کے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے پنجاب اپنے سندھیوں بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔

    جگدیش آہوجا نے کہا کہ سندھی عوام کے پرامن لاکھوں کے مجمعے پر آنسو گیس کے شیل چلا کر سندھ کی بیٹیوں، قوم پرست رہنماؤں اور کارکنوں کو پیغام دیا کہ ملک ریاض اور زرداری کے خلاف مزاحمتی تحریک برداشت نہیں کی جائے گی، سندھ کے عوام نے 6 جون کو بحریہ ٹاؤن پر واضع کر دیا کہ ان کی زمینوں پر قبضے اور دہشت گردی کے سامنے سندھی قوم کبھی نہیں جھکے گی۔

    سندھ کے وسائل سے مقامی آبادی کو بے دخل کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور بحریہ ٹاؤن قبضہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں شہریوں سے زمینں خالی کروا کر پراپرٹی ڈیلروں کو دی جا رہی ہیں جبکہ اندرونی علاقوں میں سندھ کی ندیوں اور پہاڑوں پر قبضہ کر کے انہیں ٹھیکے پر دیا جارہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مصنوعی طریقہ سے پانی کا رخ تبدیل کر کے لوگوں کی زمینیں بنجر کی جا رہیں ہیں۔ ہم اس ظلم پر کسی صورت چپ نہیں بیٹھیں گے اور آخری سانس تک مزاحمت کریں گے۔ مقررین نے کہا کہ اگر زیادتیوں کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ان احتجاجی مظاہروں کو ملک گیر سطح پر بھی منظم کیا جائے گا۔

    بحریہ ٹاؤن واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرانے کیلئے درخواست دائر

    ‎پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر محسن ابدالی نے بحریہ ٹاون کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنان کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی کاروائیوں کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام پر دوہرا ظلم جاری ہے، ایک طرف ان کو گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب مقدمات بھی انھیں کے خلاف بنائے جا رہے ہیں۔ جو ایک انتہائی شرمناک قدم ہے۔

    انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے سیاسی کارکنان پر جاری کریک ڈاؤن نے پیپلز پارٹی کے ترقی پسند اور عوامی پارٹی ہونے کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ صرف ملک ریاض جیسے سرمایہ داروں کے سہولت کار ہیں۔

    ‎عورت مارچ کی ترجمان شمائلہ کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن اور سندھ گورنمنٹ کے رویہ کی مزمت کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ رویہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ لوگوں کو ان کی زمینیں واپس کی جائیں اور تمام سیاسی کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ سندھ سے آنے والے وفد میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری مختار میمن اور منیر نائچ بھی شامل تھے احتجاج میں سندھ گریجویٹس ایسوی ایشن لاھور برانچ کے کارکنان نے بھی شرکت کی۔

    احتجاج میں لاہور کی کچی آبادیوں سے بڑی تعداد میں مزدوروں اور خواتین نے شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب لوگ ہر جگہ پس رہے ہیں چاہے پنجاب میں راوی ریور پروجیکٹ کے نام پر ان کا استحصال کیا جائے یا سندھ میں ترقی کے نام ہر غریبوں کے گھر مسمار کئے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دکھ سانجھے ہیں اور ہمیں مل کر اس استحصالی نظام کے خلاف لڑنا ہے۔

    واضح رہے کہ 17 جون کو بحریہ ٹاؤن واقعے پر جوڈیشل انکوائری کرانے کیلئے درخواست دائر کر دی گئی تھیدرخواست عوامی تحریک کے رہنما ایڈووکیٹ سجاد چانڈیو کی جانب سے دائر کی گئی تھی لیکن عدالت نے فوری سماعت کیلئے استدعا کی درخواست مسترد کردی تھی ایڈووکیٹ سجاد چانڈیو نے الزام لگایا تھا کہ اس واقعے میں پیپلز پارٹی خود شامل ہے لوگوں کے خلاف دھڑا دھڑ مقدمات ہو رہے ہیں، پورے واقعے پر جوڈیشل انکوائری کرائی جائے-

    درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ بے گناہ لوگوں کو جس طرح گرفتار کیا جا رہا ہے یہ غیر قانونی عمل ہے-

    اس سے قبل رواں ماہ کے شروع میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مبینہ طور پر مقامی گوٹھوں کو مسمار کرنے کے خلاف سندھ کی قوم پرست جماعتوں، مزدور و کسان تنظیموں اور متاثرین کی جانب سے ’غیر قانونی قبضے چھڑوانے کے لیے‘ ہونے والے احتجاج کے دوران متعدد عمارتیں اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئی تھیں۔

    سرکار کی مدعیت میں دائر ایف آئی آر میں ایس ایچ او گڈاپ پولیس سٹیشن انسپکٹر اشرف جان نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں سندھ یونائیٹڈ پارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی، جئے سندھ محاذ، جئے سندھ قوم پرست پارٹی، قومی عوامی تحریک و دیگر قوم پرست تنظیموں نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا اور 6 جون کو پارٹی رہنما اور کارکن گاڑیوں میں ٹولیوں کی صورت میں بحریہ ٹاؤن کے سامنے ایم نائن پر دن ساڑھے بارہ بجے کے قریب پہنچا شروع ہوئے تھے-

    مدعی کے مطابق مقررین نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف ’پاکستان نہ کھپے‘ کے نعرے لگوائے اور سرکاری اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں، جو قابل گرفت جرم ہے۔

    پولیس نے ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی سیکشن سات، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 بی (پاکستان کے قومی جھنڈے کو نذر آتش کرنا) اور کارِ سرکار میں مداخلت ڈالنے کے الزامات کے تحت یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔

    جس کے بعد کراچی پولیس نے 80 سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں قوم پرست جماعتوں کے کارکن بھی تھے بعد ازاں پولیس نے انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ان کارکنوں کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا-

    بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے بھی پولیس کے موقف سے ملتے جلتے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کروایا گیا تھا بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے دی گئی درخواست میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ بحریہ میں بحیثیت سکیورٹی مینیجر تعینات ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھی قوم پرست جماعتوں کے احتجاج میں قادر مگسی، مشتاق سرکی، جلال محمود شاہ، صنعان قریشی، جان محمد جونیجو اور دیگر رہنما اپنے آٹھ سے دس ہزار کارکنوں کے ساتھ پہنچے اور اپنی تقاریر میں بحریہ کی زمین پر قبضہ کی دھمکیاں اور اپنے کارکنوں کو مسلسل اشتعال دلاتے رہے۔

    مدعی کے مطابق مشتعل لوگوں نے بحریہ کے مین گیٹ کے باہر کنٹینروں کی توڑ پھوڑ شروع کر دی اور خار دار تاروں کو کاٹ کر سکیورٹی سٹاف کو زد وکوب کیا اور آتش گیر مادہ پھینک کر مین گیٹ کو آگ لگا دی، اس دوران ہوائی فائرنگ کر کے دہشت پھیلائی گئی۔

    درخواست کے مطابق 400 سے 500 کے قریب لوگ اندر داخل ہو گئے جن میں قادر مگسی، مشتاق سرکی، شیر لاشاری، جان شیر جوکھیو، مراد گبول، علی حسن جوکھیو، داد کریم، گل حسن کلمتی( کراچی کی تاریخ پر کئی کتابوں کے مصنف) ،جھانزیب کلمتی، جلال محمود شاہ، ریاض چانڈیو، سجاد چانڈیو، اسلم خیرپوری، ظفر حسین، زین شاہ، صنعان قریشی، یعقوب خاصخیلی، سلام سولنگی قدوس شیخ اندر داخل ہوئے اور کمرشل ایریا میں توحید اسکوائر کے نزدیک توڑ پھوڑ کی، آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگا دی اور سٹور روم اور اس کے اندر موجود گاڑیوں کو کیمیکل چھڑک کر آگ لگائی۔

  • کراچی ہاکی کی تاریخ میں حیدرحسین کا نام نمایاں رہے گا : شہلا رضا

    کراچی ہاکی کی تاریخ میں حیدرحسین کا نام نمایاں رہے گا : شہلا رضا

    گراس روٹ لیول پر قومی کھیل کے فروغ کے سلسلے میں کراچی ہاکی ایسوسی ایشن اور شاہ ولایت پبلک اسکول کے مابین ایم او یو طے پاگیا جس کے تحت دونوں فریق ہاکی کے فروغ میں مل کر کام کریں گے ۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں سابق اولمپئنز سمیع اللہ اور حنیف خان نے بھی شرکت کی ۔تفصیلات کے مطابق قومی کھیل ہاکی کو اسکولوں میں ایک بار پھر مقبول بنانے اورگراس روٹ لیول پر اسے ترقی اور فروغ دینے کے لئے شاہ ولایت پبلک اسکول اور کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے ۔
    ایم او یو پر کے ایچ اے کی چیئر پرسن صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں سیدہ شہلا رضا اور سیکریٹری کے ایچ حیدر حسین جبکہ اسکول انتظامیہ کی جاب سے منیجنگ ٹرسٹی اعزاز حسن خان اور اسکول پرنسپل ندرت امام نے دستخط کئے، اس طرح قومی کھیل کے فروغ کے لئے کراچی ہاکی ایسوسی ایشن نے نئی تاریخ رقم کرکے پورے ملک میں ہاکی کے فروغ کے لئے کام کرنے والی دیگر ایسوسی ایشنز کے لئے مثال بھی قائم کردی۔
    اسکولوں میں ہاکی کے فروغ میں شانہ بشانہ کام کریں گے، واضح رہے کہ شاہ ولایت اسکول کراچی کے ان چند اسکولوں میں سے ایک اسکول ہے جہاں آج بھی ہاکی کھیلی جاتی ہے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے موقع پر شاہ ولایت پبلک اسکول کے ساجد رضا (جی ایس) کے ایچ اے کے پیٹرن انچیف میجر جنرل (ر) طارق حلیم سوری، اولمپیئن سمیع اللہ (فلائنگ ہارس)، اولمپیئن حنیف خان، چیئرمین کے ایچ اے گلفراز احمد خان، ایس وی پی کے ایچ اے اعجاز الدین، ڈی ایس پی خالق اور سابق صدر پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن ایس ایم سبطین،حسن عابدی، ایس سبطین آصف نقوی، ارسلان مسعود،علی اشرف اور اختر رضا بھی موجود تھے۔
    اس موقع پر سیدہ شہلارضا نے کہا کہ کے ایچ اے اور شاہ ولایت پبلک اسکول کے درمیان ہونے والا معاہدہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لئے کسی بھی اسکول کے ساتھ پہلا معاہدہ ہے،صوبائی وزیر نے اسکول پر طلباء کو وظائف دینے اور کھیل کی بنیاد پر اسکالر شپ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف طلباء کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ یہ عمل قومی کھیل کے فروغ کا بھی سبب بنے گا،شہلا رضا نے کے ایچ اے کی محنت کو سراہا اور کہا کہ جب بھی کراچی میں ہاکی کی تاریخ لکھی جائے گی تو موجودہ سیکریٹری کے ایچ اے حیدر حسین کا نام سب سے اوپر نظر آئے گا۔
    بعد ازاں صوبائی وزیر نے کھلاڑیوں میں 32 ہاکی اسٹکس اور 32 گیندیں تقسیم کیں۔ ان میں آرمی اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے 17 ہاکی اسٹکس بھی شامل تھیں۔کے ایچ اے کے سیکرٹری اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کوآرڈینیٹر حیدر حسین کے مطابق کے ایچ اے اور شاہ ولایت پبلک اسکول کے درمیان ایم او یو پی ایچ ایف کے ڈومیسٹک وژن کا حصہ ہے۔ پی ایچ ایف کے صدر برگیڈیر (ر) ایم خالد سجاد کھوکر پہلے ہی سندھ کے نوجوانوں کو گروم کرنے کے لئے دو کوچز معین عالم اور اذلان خان کو کوچنگ کی زمہ داری سونپ چکے ہیں ان اقدامات کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔

  • کراچی ،سائٹ صنعتی ایریا میں گیس کا بحران، صنعتوں کو فراہمی معطل

    کراچی ،سائٹ صنعتی ایریا میں گیس کا بحران، صنعتوں کو فراہمی معطل

    کراچی ،سائٹ صنعتی ایریا میں گیس کا بحران، صنعتوں کو فراہمی معطل

    باغی ٹی وی : صدرسائٹ ایسوسی ایشن انڈسٹری عبدالہادی کے مطابق گیس نہ ہونے کےباعث صنعتوں میں کام متاثر، سائٹ ایریا کی صنعتوں کو ایک ہفتہ سے گیس کی قلت کا سامنا ہے-

    صد رسائٹ ایسوسی ایشن انڈسٹری نے وزیراعظم سے گیس کی عدم فراہمی کا نوٹس لینے کی اپیل ہے-

    دوسری جانب سوئی سدرن حکام کا کہنا ہے کہ گیس پریشر بہتری میں مزید 2 سے3 دن لگ سکتے ہیں، ایس ایس جی سی لائن پیک میں کمی کاسامنا ہے-

    اے پی سی این جی ایسوسی ایشن کے مطابق سندھ زون پاکستان سی این جی ایسوسی سندھ کے تمام سی این جی اسٹیشنز پیر کی صبح 8 بجے تک بند رہے گی-

  • جامعہ سندھ میں ایم ایس،ایم فل پروگرامز میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ  کا شیڈیول جاری

    جامعہ سندھ میں ایم ایس،ایم فل پروگرامز میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ کا شیڈیول جاری

    جامعہ سندھ میں ایم ایس/ ایم فل پروگرامز میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ کا شیڈیول جاری، مختلف شعبوں میں ٹیسٹ 28 جون سے 2 جولائی تک منعقد ہونگے، تیاریاں مکمل

    باغی ٹی وی : جاتفصیلات کے مطابق معہ سندھ جامشورو کی جانب سے تعلیمی سال 2021ء کیلئے ایم ایس/ ایم فل ڈگری پروگرامز میں داخلوں کے لیے پری انٹری ٹیسٹ کا شیڈیول کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت انٹری ٹیسٹ 28 جون سے 2 جولائی 2021ء تک منعقد ہونگے۔

    اس ضمن میں ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ گریجویٹ اسٹڈیز کے مطابق انگلش لنگوسٹکس، انگلش لٹریچر، بزنس ایڈمنسٹریشن، کامرس، اسلامک کلچر، اردو، سندھی، پبلک ایڈمنسٹریشن، اکنامکس، سوشالوجی، مسلم ہسٹری، کرمنالوجی، انٹرنشنل رلیشنز، پولیٹیکل سائنس، سائکالوجی، جینیٹکس، ِبایو ٹیکنالوجی، مائکرو بایئولاجی اور بایو کمسٹری کے امیدواروں سے انٹری ٹیسٹ 28 جون کو صبح 10 بجے متعلقہ شعبوں میں منعقد کیا جائے گا۔

    اسی طرح زولاجی، آئی ٹی، سافٹ ویئر انجنئرنگ، ڈیٹا سائنسز، ٹیلی کمونیکیشن، الیکٹرانکس، کمپیوٹر سائنس، میتھمیٹکس، فزکس، آرگینک کیمسٹری، ان آرگینک کیمسٹری، فزیکل کیمسٹری اور اینالیٹیکل کیمسٹری میں ٹیسٹ 29 جون کو صبح 10 بجے منعقد ہوگا۔

    کیمیکل سائنسز، جاگرافی، باٹنی، فزیالوجی، انوائرنمنٹل سائنسز، فزیکل ایجوکشن اینڈ ہیلتھ، جینڈر اسٹڈیز، اسٹیٹسٹکس، فارماسیوٹکس، فارماکوگنوسی، فارماکولوجی اور فارمیسی پریکٹس میں انٹرنس ٹیسٹ یکم جولائی کو متعلقہ شعبوں مں لیا جائے گا ۔

    دوسری جانب ایجوکشن، فیکلٹی میں انٹری ٹیسٹ 2 جولائی کو ایلسا قاضی کیمپس حیدرآباد میں منعقد ہوگا۔ انٹری ٹیسٹ کیلئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

  • نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر عبدالمالک بلوچ اور مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی سے سابق صوبائی وزیر منشی محمد بلوچ کی ملاقات

    نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر عبدالمالک بلوچ اور مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی سے سابق صوبائی وزیر منشی محمد بلوچ کی ملاقات

    نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی نے سابق صوبائی وزیر سیاسی و قبائلی رہنما منشی محمد بلوچ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، ملاقات میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر اور دلچسپی کے دیگر سیاسی و علاقائی صورتحال پر گفتگو کی گئی اور نیشنل پارٹی میں انکی اور خاندان کی شمولیت پر ان کا شکریہ ادا کیا یاد رہے کہ گزشتہ دنوں جب گرینڈ شمولیتی جلسہ میں منشی محمد بلوچ کے عزیز و اقارب نے ان کے بیٹے فیصل منشی محمد بلوچ کی قیادت میں نیشنل پارٹی میں شمولیت کی تو منشی محمد بلوچ خرابی صحت کے پیش نظر اس جلسے میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔
    انھوں نے نیشنل پارٹی کے قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنے خاندان دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ نیشنل پارٹی کے ہر سیاسی جدوجہد و عمل میں ساتھ ہونگے انھوں نے پارٹی قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا۔
    نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے وقت و حالات کے نزاکت کو دیکھتے ہوئے نیشنل پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا نیشنل پارٹی کی مرکزی قیادت اور رہنما ان کو اور ان کے خاندان کو کبھی مایوس نہیں کریں گے نیشنل پارٹی بلوچستان کے عوام کے قومی سیاسی جماعت ہے اور بلوچستان کے عوام کی قومی و جمہوری حقوق کے دفاع اور جدوجہد میں نمایاں کردار جمہوری و سیاسی انداز میں ادا کرنے میں کوئی کسر فروگزاشت نہیں کرے گی۔

  • 10 سال میں 8 ہزار ارب خرچ کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی شہر کے نالے تک صاف نہ کرسکی، مصطفی کمال

    10 سال میں 8 ہزار ارب خرچ کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی شہر کے نالے تک صاف نہ کرسکی، مصطفی کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ 10 سالوں میں 8 ہزار ارب روپے سے زائد خرچ کرنے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت سندھ کو 90 فیصد ریونیو دینے والے شہر کے نالے تک صاف نہیں کرسکی۔ سندھ حکومت متبادل فراہم کیے بغیر اینٹی انکروچمنٹ کے نام پر امن و امان کا مسئلہ پیدا کرکہ ملک دشمنی کررہی ہے۔
    ہم پہلے روز سے مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ نالوں کی صفائی کے نام پر جن لوگوں کے گھروں مسمار کیا جا رہا ہے انہیں سندھ حکومت متبادل جگہ فراہم کرے کیونکہ چھت فراہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے اور اب عدالتی حکم کے بعد حکومت کو اپنی آئینی زمہ داری پوری کرنی ہوگی لیکن جن لوگوں کو متبادل فراہم کیئے بغیر بے گھر کیا گیا وہ ان بارشوں میں کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار ریاست کی جانب مدد کیلئے دیکھ رہے ہیں۔
    زرا سی بارش میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔ انفرااسٹرکچر بد انتظامی، نااہلی اور کرپشن کے باعث تباہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب ہر سال بارشوں میں کرنٹ لگنے سے اموات ہوتی ہیں، جس پر وفاقی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کے الیکٹرک جبکہ نیپرا کے ماتحت ادارہ ہے جس سے آٹھارویں ترمیم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس سال کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں عوام کے الیکٹرک کے بجائے حکمرانوں کے گھروں کے باہر ہوگی۔
    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب NA 249 ڈسٹرکٹ ویسٹ کے آفس آمد اور ذمہ دران و کارکنان سے میٹنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر نائب صدر نیک محمد، اراکین نیشنل کونسل ملک نثار، نادر خلجی اور ڈسٹرکٹ ویسٹ کے صدر ہمایوں عثمان راجپوت بھی موجود تھے۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ ہم نے جہاں ایک جانب عوام میں شعور اجاگر کیا ہے تو دوسری جانب شہر سمیت پاکستان کے پیچیدہ مسائل کے قابلِ عمل حل بھی پیش کیے اور حکمرانوں کی سازشوں کو بے نقاب کر کے عوام کو حقائق سے آگاہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام تیزی سے بلاتفریق لسانیت اور زبان کی بنیاد پر نفرتوں کو مٹا کر ہمارے ساتھ شامل ہو رہی ہے۔

  • آج ایم کیو ایم کو شکست دینے کا خو اب دیکھنے والے خو د شکست سے دوچار ہیں،ڈاکٹر خالد مقبو ل صدیقی

    آج ایم کیو ایم کو شکست دینے کا خو اب دیکھنے والے خو د شکست سے دوچار ہیں،ڈاکٹر خالد مقبو ل صدیقی

    ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے 19جون 1992 کے آپریشن کے دوران شہید ہو نے والے کا رکنان کو زبر دست خراج عقید ت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج سے 29بر س قبل پاکستان کی نما یا ں سیا سی جما عت ایم کیو ایم کیخلا ف ایک آپر یشن شروع کیا گیا۔
    اس کی بڑی بھاری قیمت سندھ کے شہر ی علا قوں کے عوام کو ادا کر نی پڑی پاکستان کی سیا سی تا ریخ میں سیا سی جما عتو ں کو اس قسم کی صورتحا ل کا سامنا ما ضی میں رہا ہے لیکن جوکچھ ایم کیوایم پاکستان کی قیا دت اور کا رکنان کو جھیلنا پڑا، اس کی نظیر پاکستان کی سیا سی تا ریخ میں نہیں ملتی کا رکنان اور قیادت پا بند سلا سل کر دئیے گئے سینکڑ وں کا رکنان کو قتل کیا گیا اور درجنو ں کو لا پتہ کیا گیا،لیکن اس تنظیم کے کا رکنان نے نظم وضبط اور ثا بت قدمی سے اس سازش کا مقابلہ کیا ڈاکٹر خالدمقبو ل صدیقی نے 19جون 1992کے آپریشن کے دوران شہید ہو نے والے کا رکنان کو زبر دست خراج عقید ت پیش کر تے ہوئے کہا کہ تمام تر جبر اور ظلم کے با وجو د ان کا رکنان نے اپنے نظریہ سوچ اور فکر کو بر قرار رکھا، انکی ثا بت قدمی ہمیں درس دیتی ہے کہ حا لا ت کتنے ہی خراب کیو ں نہ ہوں ایک منظم سیا سی جما عت کو نقصان نہیں پہنچاسکتی ما ضی قریب میں ایم کیو ایم نے جن حالا ت کا سامنا کیا اس میں بھی استقامت نے بنیا دی کر دار ادا کیا اور آج ایم کیو ایم کو شکست دینے کا خو اب دیکھنے والے آج خو د شکست سے دوچار ہیں، وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنے عزم واستقا مت سے سازشوں کو ناکام بنا ئینگے اور غریب متوسط طبقہ کے عوام کی حکمر انی کیلئے اپنی جد وجہد کو تیز کر ینگے۔