Baaghi TV

Category: کراچی

  • گھوٹکی آپریشن کے دوران ایک اور پولیس کا جوان شہید

    گھوٹکی آپریشن کے دوران ایک اور پولیس کا جوان شہید

    صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے دوران ایک اور پولیس جوان شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق گھوٹکی کے تھانہ کچو بندی ٹو کی پولیس نے کندھ کوٹ کے تھانہ غوثپور کے حدود میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی، کارروائی کے دوران اوگاہی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ڈاکوؤں نے پولیس موبائل وین پر فائرنگ کردی۔

    ڈاکوؤں کی فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار عبد الرحمان وزیر موقع پر شہید جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا، پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹے جاری رہا، پولیس کی موثر حکمت عملی کے باعث ڈاکو پسپا ہوئے اور گھنے جنگل میں فرار ہوگئے، واقعے کے بعد ضلع بھر سے پولیس کی بھاری نفری کچے کی طرف طلب کرلی گئی ہے۔

    فائرنگ کا سلسلہ تھمنے کے بعد پولیس نے شہید اہلکار اور زخمی کو گھوٹکی اسپتال منتقل کیا۔

    دوسری جانب ایس ایس پی شکارپور تنویرحسین تنیو کی زیر نگرانی ڈاکوؤں کیخلاف آپریشن جاری ہے، ڈاکوؤں نےگھیرا تنگ محسوس کرتے ہوئےایک مغوی کو چھوڑدیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ڈاکوک ی جانب سے مغوی حافظ محمدطاہر کو ناپرکوٹ کی حدود میں چھوڑا گیا، حافظ محمدطاہر کو تھانہ چک کی حدودسے19رمضان کواغوا کیا گیا تھا۔

    ایس ایس پی شکارپور کا کہنا ہے کہ مغویوں کی بازیابی اور ڈاکوؤں کی سرکوبی تک آپریشن جاری رہےگا۔

  • کراچی: بھابھی کے قتل میں ملوث ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    کراچی: بھابھی کے قتل میں ملوث ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    کراچی کے علاقے پاپوش نگر کی بنگش کالونی میں بھابھی کے قتل میں مطلوب ملزم پولیس مقبلے میں ہلاک ہو گیا-

    باغی ٹی وی: پاپوش نگر میں بھابھی کے قتل میں ملوث ملزم نے اسلحے کے زور پر اہلِ خانہ کو یرغمال بنا لیا، پولیس کے مطابق انہیں اطلاع ملی کہ کچھ روز قبل گھر میں فائرنگ کر کے اپنی بھابھی کو قتل کرنے والا ملزم عارف بنگش کالونی میں واپس آگیا ہے اور ملزم نے اپنے اہلِ خانہ کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا ہوا ہے۔

    اس اطلاع پر پولیس جب ملزم کو پکڑنے کے لیے گئی تو ملزم نے گھر کی چھت پر چڑھ کر پولیس پر فائرنگ شروع کردی تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • ڈھول والے سندھ اسمبلی میں حریم شاہ کے شوہرکو خوش آمدید کہنے آئے

    ڈھول والے سندھ اسمبلی میں حریم شاہ کے شوہرکو خوش آمدید کہنے آئے

    آج سندھ اسمبلی کے اندر اور باہر بینڈ باجوں کے ساتھ ساتھ حریم شاہ کی شادی کے بھی چرچے رہے۔

    سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان پیپلزپارٹی کے خلاف نت نئے انداز میں احتجاج کررہے ہیں،گزشتہ روز چار پائی اور چادر لاکر جمہوریت کا علامتی جنازہ نکالا تھا، آج ڈھول والوں کو ساتھ لے آئے۔

    اسمبلی کےباہرڈھول تماشوں کے ساتھ احتجاج پر بیٹھے خرم شیر زمان نے ڈھول کو حریم شاہ کی شادی سے جوڑ دیا، خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ ڈھول والے حریم شاہ کے شوہر کو خوش آمدید کہنے آئے ہیں۔

    ڈھول والے سندھ اسمبلی میں حریم شاہ کے شوہرکو خوش آمدید کہنے آئے، خرم شیر زمان
    پابندی کے شکار پی ٹی آئی ارکان ڈھول باجوں کیساتھ سندھ اسمبلی پہنچ گئے.

    پیپلزپارٹی کے رکن سید ذوالفقار علی شاہ نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے انہیں حریم شاہ سے منسلک کرنا مذموم حرکت ہے اور وہ اس الزام کی انکوائری کرائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف والوں نے ایک شخص کو پیسے دے کر انہيں بدنام کیا ، اس شخص نے سوشل میڈيا پر ان کا نام جوڑا، وہ اس کے خلاف ایف آئی اے سائبرکرائم کو درخواست دیں گے۔

    سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعت ایم کیو ایم اور جی ڈی اے اراکین پی ٹی آئی کے حالیہ احتجاج سے لاتعلق رہے جب کہ پی ٹی آئی رکن فردوس شمیم نقوی نے ترقیاتی فنڈز نہ دیے جانے پر مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔

  • سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے طرز احتجاج پر اپوزیشن تقسیم

    سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے طرز احتجاج پر اپوزیشن تقسیم

    سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے طرزاحتجاج پر اپوزیشن تقسیم ہوگئی، دو اہم سیاسی جماعتوں نے احتجاج سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے طرز احتجاج پر ایم کیوایم اور جی ڈی اے نےلاتعلقی کا اظہار کیا، جس کے بعد پی ٹی آئی کا مشاورتی اجلاس بھی اپوزیشن چیمبر کےبجائےگورنرہاؤس میں ہوا۔

    گورنر ہاؤس میں اپوزیشن کے اجلاس پر جی ڈی اے رکن نے اعتراض کیا کہ کیا اپوزیشن چیمبر گورنرہاؤس میں ہےجو مشاورت وہاں ہو رہی ہے؟۔

    ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے ایوان کے اندر چارپائی لانا اپوزیشن کی تقسیم کی وجہ بنی ہے۔

    دوسری جانب اسپیکرسندھ اسمبلی کی زیر صدارت اجلاس جاری ہے، اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسپیکر آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ کل جو واقعہ پیش آیا دنیا نے دیکھا، جی ڈی اے کا شکریہ کہ انہوں نےسنجیدگی کا ثبوت دیا۔

    آغاسراج درانی نے کہا کہ ہمارے لوگوں کوگالیاں دی گئی، ہمارے بڑوں نے یہ ملک بنایا اسمبلی کی بنیاد رکھی، تیس سال سے اسمبلی میں ہوں ایسےحالات نہیں دیکھے، ہاؤس کا کسٹوڈین ہوں،اسمبلی کوڈی گریڈ کرنےنہیں دونگا۔

    اسپیکر سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی کو بتائیں جو فورس باہر کھڑی ہے وہ گیٹ بند کردے، اتنی بڑی چارپائی لےآئے لوگوں کو گھسیٹا گیا، سکیورٹی اہلکاروں کوگالیاں اور دھمکیاں دی گئیں، خواتین اراکین نےبھی اس عمل کاساتھ دیا، اپوزیشن جان لے کہ اسمبلی کی بے حرمتی کبھی بھی برداشت نہیں کروں گا۔

  • بلدیہ عظمیٰ کا 25 ارب سے زائد کا بجٹ منظور

    بلدیہ عظمیٰ کا 25 ارب سے زائد کا بجٹ منظور

    ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے ایک قرارداد کے ذریعے کے ایم سی کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

    بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مالی سال 22-2021 کے 25 ارب 98 کروڑ 24 لاکھ روپے سے زائد کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔

    بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 25 ارب 97 کروڑ 4 لاکھ 67 ہزار روپے ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے سٹی کونسل اختیارات استعمال کر کے بجٹ کی منظوری دی۔

    ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد کا کہنا ہے کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس شامل نہیں کیا گیا ہے، غیر ترقیاتی اسکیمیں بھی کم رکھی گئی ہیں، انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے سڑکوں، باغات، اسپورٹس کمپلیکس اور انجینئرنگ منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔

    بجٹ میں کے ایم سی کی طرف سے 700 سے زائد ترقیاتی اسکیمیں رکھی گئی ہیں، جن کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں، 700 اسکیموں میں سے 409 اسکیمیں شہر میں جاری ہیں، ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں شروع کیے جانے والی 200 اسکیموں کو آئندہ سال مکمل کیا جائے گا۔

    مالی سال 22-2021 کا یہ بجٹ 11 ملین روپے سرپلس کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ آج قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی ہے، فنانس بل 2021-22 ترامیم کے ساتھ کثرت رائے سے منظور کیا گیا، قومی اسمبلی میں مالیاتی بل وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیش کیا، فنانس بل پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 172 ووٹ آئے، جب کہ 138 ووٹ تحریک کے خلاف آئے۔

  • ایک طرف حریم شاہ اور ایک طرف حلیم عادل شیخ ہیں‏

    ایک طرف حریم شاہ اور ایک طرف حلیم عادل شیخ ہیں‏

    وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے تحریک انصاف کے رکن اسمبلی جمال صدیقی کے بیان پر ‏ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف حریم شاہ اور ایک طرف حلیم عادل شیخ ہیں۔

    میڈیا سے گفتگو میں وزیراطلاعات نے کہا کہ اسمبلی میں جوحرکات ہوئی ماضی میں نہیں ہوئیں ‏پی ٹی آئی والے اسمبلی کےاہل ہی نہیں ہیں ایک مرتبہ آگئے یہ لوگ آئندہ اسمبلیوں میں نہیں آئیں ‏گے۔

    ناصرشاہ نے کہا کہ عوام نےفیصلہ دے دیا ہےضمنی انتخابات میں یہ لوگ ہارے، فردوس شمیم کے ‏استعفے کے اعلان پر کچھ نہیں کہوں گا۔

    تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاکر حریم شاہ شاید اپنے ‏دلہا ناصر شاہ کو تلاش کررہی ہیں۔

    جمال صدیقی نے کہا کہ ناصر شاہ ماضی سے فراموش نہ ہوں، ان کی جماعت نے ماضی میں ‏اسمبلی میں آگ لگائی تھی، پی پی نے اسمبلی میں ڈیسک پر چڑھ کر دستاویزات کو جلایا تھا۔

    خیال رہے گزشتہ روز حریم شاہ کی پیپلز پارٹی کے رکنِ سندھ اسمبلی سے شادی کی خبریں آئی ‏تھیں جس کے بعد صارفین میمز کے طور پر مختلف لوگوں کے ساتھ حریم شاہ کا نام جوڑ رہے ‏تھے۔

    معروف ٹک ٹاکر نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی اور سوشل میڈیا صارفین سے گزارش کی کہ ان ‏کا نام کسی شخص کے ساتھ نہ جوڑا جائے کیونکہ اس سے قبل وہ کسی کے ساتھ تعلق میں نہیں ‏تھیں۔

  • سندھ میں آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے کا منصوبہ

    سندھ میں آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے کا منصوبہ

    صوبہ سندھ میں آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا، منصوبے میں کتوں کو کنٹرول کرنے اور کاٹنے سے روکنے کے لیے جدید طریقے استعمال کیے جائیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ میں 18 لاکھ آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا، منصوبے کے تحت 75 کروڑ روپے سے زائد رقم سے انڈس اسپتال کی خدمات حاصل کرلی گئیں۔

    جاری کردہ دستاویزات کے مطابق محکمہ بلدیات نے ریبیز کنٹرول پروگرام کا نیا منصوبہ منظور کرلیا ہے، آوارہ کتوں کو ویکسین، چپ اور ٹیگ سمیت دیگر مد میں 75 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ 18 لاکھ کتوں کی آبادی میں 40 فیصد بچے، 35 فیصد مادہ اور 25 فیصد نر کتے ہیں، آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے کے لیے 80 ڈاکٹر بھی بھرتی ہوں گے۔

    آوارہ کتوں کو لگائی جانے والی ویکسین کا 3 سال تک اثر ہوگا، منصوبے میں کتوں کو کنٹرول کرنے اور کاٹنے سے روکنے کے لیے جدید طریقے استعمال کیے جائیں گے۔

  • پاکستان کے بڑے شہر کے دینی مدارس میں آج سے کورونا ویکسی نیشن مہم کا آغاز ہوگیا

    پاکستان کے بڑے شہر کے دینی مدارس میں آج سے کورونا ویکسی نیشن مہم کا آغاز ہوگیا

    دینی مدارس کے علماء کرام، اساتذہ اور طلباء کو کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے کراچی میں قائم جامعتہ الرشید احسن آباد میں ویکسی نیشن مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں2ہزار طلبہ اور اساتذہ کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی، کسی بھی دینی ادارے میں کورونا ویکیسن لگانے یہ پہلا اقدام ہے۔

    ذرائع کے مطابق جامعتہ الرشید میں ساینو ویک ویکیسن لگائی جارہی ہے۔ اس اقدام سے عوام الناس میں آگاہی پیدا ہوگی اور معاشرے کے دیگر طبقات بھی اس وباء سے محفوظ رہ سکیں گے۔

    منتظمین کا کہنا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کی رجسٹریشن جاری ہے، جامعتہ الرشید احسن آباد کا یہ اقدام کورونا ویکیسن سے متعلق پیدا ہونے والے شکوک وشہبات کو دور کرے گا۔

    جامعۃ الرشید کراچی کی ایک عظیم دینی درسگاہ ہے جس میں 36 شعبہ جات اور 6 ہزار سے زائد طلبہ اور طالبات زیر تعلیم ہیں، ایک ہزار سے زائد تدریسی و غیر تدریسی عملہ اور فنی ماہرین مصروف کار ہیں۔

    وزارت صحت کی جانب سے جامعۃ الرشید میں کورونا ویکسین لگانے کے لئے دوروزہ کیمپ لگایا گیا تھا۔ جہاں اساتذہ اور طلبہ کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی۔

    جامعۃ الرشید کے مختلف شعبوں درس نظامی، معہد الرشیدالعربی، کلیۃ الشریعہ، تخصص فی الافتاء، فقہ الحلال، کلیۃ القرأت، فقہ المعاملات، انگلش لینگویج کورس، عربی لینگویج کورس، کلیۃ الفنون، کلیۃ الدعوۃ، تدریب المعلمین، کمز، البیرونی ماڈل سیکنڈری اسکول اینڈ کالج کے مسئولین، اساتذہ اور طلبہ کا ڈیٹا پہلے سے ہی اکھٹا کر لیا گیا تھا۔

    سب سے پہلے جامعۃ الرشید کے تمام شعبوں کے منتظمین اور مسئولین کو ویکسین لگائی گئی۔ اس کے بعد اساتذہ کرام کو اور پھر 18 سال سے زائد عمر والے طلبہ کو کرونا ویکسین لگائی گئی، کیمپ کے منتظمین کے مطابق سائنو ویک ویکسین کی دو خوراکیں لگنی ہیں۔

    کسی بھی دینی ادارے کی ادارتی سطح پر یہ پہلا قدم تھا کہ کسی دینی مدرسے میں کورونا ویکسین کے لئے کیمپ لگایا گیا۔ اس دوران جامعۃ الرشید کےمسئولین، اساتذہ اور طلبہ نے ویکسینیشن کروائی۔

    یاد رہے کہ جامعۃ الرشید کراچی کا شمار پاکستان کے بڑے مدارس میں ہوتا ہے، یہاں پر دینی و عصری دونوں تعلیمیں متوازی طور پر دی جاتی ہیں۔ جامعۃ الرشید میں یہ کیمپ لگانے کا مقصد یہ بھی تھا کہ معاشرے کے دیگر طبقات بھی تمام شکوک و شبہات سے نکل کر اس وبا سے بچاؤ کے لئے ویکسین لگوائیں۔

  • جعلی اکاؤنٹس کیس،مزدور کے اکاؤنٹس سے 200 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف

    جعلی اکاؤنٹس کیس،مزدور کے اکاؤنٹس سے 200 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف

    نیب نے جعلی اکاؤنٹس کےذریعے منی لانڈرنگ کرنے کا بڑانیٹ ورک بے نقاب کیا ہے تاہم اس بار پاپڑ والے کی جگہ ایک مزدور استعمال ہوا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے محمد اکبر نامی مزدور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے، نیب نے نارتھ ناظم آباد کے رہائشی مزدور کو تحقیقات کےلیےنیب راولپنڈی طلب کرلیا ہے اور اسے نوٹس طلبی جاری کردیا ہے۔

    نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دو ہزار سولہ اورسترہ کےدرمیان جاپان سےچوری شدہ دو سو گاڑیاں خریدی گئیں، گاڑیوں کی خریداری کیلئے منی لانڈرنگ کے ذریعے رقم کی ادائیگی کی گئی۔

    نیب کی جانب سے محمد اکبر نامی مزدور کو یہ دوسرا نوٹس طلبی بھیجا گیا ہے، اس سے قبل نیب نے پندرہ جون کو بھی کراچی کے مزدور کو تحقیقات کےلیےکال اپ نوٹس جاری کیا تھا اور اسے چوبیس جون کو دن گیارہ بجےتحقیقاتی ٹیم کےسامنےپیش ہونےکی ہدایت کی تھی۔

    دوسری جانب محمد اکبر کا بھی موقف سامنے آیا ہے، مزدور اکبر کا کہنا ہے کہ کراچی میں شٹرنگ کا کام کرتا ہوں، جاپان کا نام سناہےکبھی نہیں گیا، ملازمت میں ناکامی کےبعد دو ہزار سترہ میں سعودی عرب سے واپس آیا تھا۔

    نیب نوٹس سے متعلق محمد اکبر کا کہنا تھا کہ راولپنڈی جانے کے لیے کرائے کے پیسےنہیں کیسےجاؤں؟

    یاد رہے کہ گذشتہ سال نیب لاہور نے صدر مسلم لیگ(ن) شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کے حوالے سے مزید شواہد حاصل کئے تھے، اس دوران انکشاف ہوا تھا کہ شہباز شریف اور انکی فیملی کو پاپڑ فروش بھی کروڑوں روپے اکاؤنٹس میں منتقل کر تا رہا۔

    نیب لاہور کے مطابق منظور پاپڑ فروش کے نام سے 13 لاکھ 69 ہزار 915امریکن ڈالڑز منتقل ہوئے، جو رپورٹ تحقیقاتی ٹیم نے بینکوں سمیت دیگر مالیاتی اداروں سےحاصل کی انکے مطابق 12 ٹرانزیکشن پر مشتمل ڈالرز پاکستانی روپوں میں 8 کروڑ 8 لاکھ 26 ہزار 141 روپے بنتے ہیں۔

  • ٹیلی کام کمپنیوں کا کال پر 75 پیسے اضافی ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ

    ٹیلی کام کمپنیوں کا کال پر 75 پیسے اضافی ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ

    پاکستان میں خدمات انجام دینے والی 5 ٹیلی کام کمپنیوں نے 5 منٹ کی کال پر ٹیکس کا معاملہ وفاقی وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کام کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    ٹیلی کام کمپنیوں کا نمائندہ وفد آج وفاقی وزیر آئی ٹی اور ٹیلی کام امین الحق سے ملاقات کرے گا جس میں موبائل کال پر ٹیکس کے معاملے پر تکنیکی رکاوٹوں کے ساتھ صارفین، ٹیلی کام کمپنی اور خود حکومت کے لیے ممکنہ دشواریوں اور اثرات کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔

    ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والی پانچوں کمپنیوں نے 5 منٹ کی کال پر 75 پیسہ ٹیکس کو تکنیکی لحاظ سے ناقابل عمل قرار دے دیا ہے اور اس حوالے سے انڈسٹری کے تحفظات سے وفاقی وزیر امین الحق کو آگاہ کیا جائے گا۔

    ٹیلی کام انڈسٹری نے 5 منٹ کی کال پر ٹیکس کے حوالے سے وفاقی وزارت خزانہ سے بھی رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انڈسٹری کا کہنا ہے کہ موبائل فون سروسز پر ٹیکسوں کی بلند شرح کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے سرفہرست ملکوں میں شامل ہے تاہم اب پاکستان کال کے دورانیے پر ٹیکس لاگو کرنے والا دنیا کا واحد ملک بھی بن گیا ہے۔

    ٹیلی کام کمپنیوں نے 5 منٹ کی کال پر ٹیکس پر ٹیلی کام کمپنیوں نے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے وزارت خزانہ اور آئی ٹی و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے موبائل کال پر ٹیکس کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    پاکستان میں خدمات انجام دینے والی پانچوں ٹیلی کام کمپنیوں نے 5 منٹ کی کال پر ٹیکس کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مشترکہ طور پر وفاقی وزارت خزانہ اور وفاقی وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کام سے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی ہے۔

    پاکستان میں کام کرنے والی پانچوں ٹیلی کام کمپنیوں نے وفاقی وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کام اور وفاقی وزارت خزانہ کو مشترکہ خط ارسال کردیا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ فنانس بل 2020-21 میں موبائل فون کال پر فی کال ایک روپیہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، ایس ایم ایس پر ایک پیسہ اور ہر ایک جی بی انٹرنیٹ پر 5 روپے کی ایف ای ڈی کی تجویز دی گئی تاہم کابینہ کی عدم منظوری کی بنا پر وفاقی وزیر خزانہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں مذکورہ ٹٰیکس فنانس بل کا حصہ نہ بنانے کا اعلان کیا۔

    حیرت انگیز طور پر وفاقی وزیر خزانہ نے سینیٹ میں اپنی تقریر میں ایک بار پھر5 منٹ کی کال پر 75 پیسہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔