Baaghi TV

Category: کراچی

  • وزیراعلیٰ سندھ  سید مراد علی شاہ نےبجٹ 22-2021ء سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےبجٹ 22-2021ء سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےبجٹ 22-2021ء سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری کامیابیوں کی تعمیر ہماری پالیسیوں کا تسلسل ہے، ہم نے صحت کے شعبہ کی توسیع و پھیلاؤ کیلئے ایک مفصل لائحہ عمل پر کام کیا۔

    اگلےمالی سال میں ہم درج ذیل کارگزاریاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وو* بالخصوص وبا سے نپٹنے کے لیے 24.72بلین روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، صحت کے شعبہ میں مختلف سطح کی 964 اسامیاں تخلیق کی جائے گی۔ادویات کی خریداری کے لیے 18.32 بلین تجویز کیے گئے ہیں، کووڈ 19کے تناظر میں پی سی آر اور پی پی ای کی کٹس کی خریداری کیلئے 2بلین روپے رکھے گئے ہیں، وبائی صورتحال میں میڈیکل گیس(آکسیجن) کی خریداری کیلئے 646.22ملین روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے، ایم اینڈ آر فنڈز صحت کی مختلف سہولیات کیلئے ہیں، اگلے مالی سال میں ایم اینڈ آر فنڈز کیلئے 1.594بلین روپے کی رقم رکھی گئی ہے ،

    رواں مالی سال میں ایم اینڈ آر فنڈز کیلئے مختص رقم 1.254بلین تھی جس میں 27فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے، ہم نے صحت عامہ کے اداروں کی استعداد اور کارکردگی کو مد نظر رکھا ہے۔ صحت عامہ کے اداروں کیلئے گرانٹ ان ایڈ کی تجویز دی گئی ہے،

    پی پی ایچ آئی سندھ کیلئے 8.2بلین روپے مختص کیے گئے ہیں، ایس آئی یو ٹی کیلئے 7.1بلین روپے مختص کیے گئے ہیں،

    انڈس اسپتال کراچی کیلئے 4.5بلین بطور اسپیشل گرانٹ مختص کیے گئے ہیں۔

    انڈس اسپتال کراچی کی گرانٹ میں 2.5بلین روپے انتظام کو چلانے اور 2 بلین روپے توسیع کیلئے ہیں، این آئی سی وی ڈی کراچی کیلئے 6.1بلین روپے مختص کیے گئے ہیں، 6.4بلین کی رقم ایس آئی سی وی ڈی (لیاری کراچی، لاڑکانہ، سیہون، حیدرآباد، سکھر، ٹنڈو محمد خان، شہید بے نظیر آباد، خیرپور، مٹھی اور کراچی)کیلئے مختص ہے۔پی پی پی نوڈ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کیلئے 3بلین روپے رکھے گئے ہیں۔انسٹیٹیوٹ آف پیر عبدالقادر شاہ جیلانی گمبٹ کیلئے 4بلین روپے کی رقم رکھی گئی ہے، انسٹیٹیوٹ آف آپتھلمالوجی ویژیول سائنسز حیدرآباد کیلئے 473.9ملین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے،جیکب آبادانسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کیلئے 600ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر کراچی کیلئے 2بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شہداد پور انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کیلئے 300ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، این آئی بی ڈی کیلئے 500ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کیلئے 1.2بلین روپے مختص کیے گئے ہیں، انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن کراچی کیلئے 300 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،ہیلتھ کیئر کمیشن کراچی کیلئے 365ملین روپے مختص کیے گئےہیں۔
    300ملین روپے کی رقم 10تھلیسیما سینٹرز کے لیے مختص کی گئی ہے، جن میں بدین، جیکب آباد، شکار پور، مٹھی، شہید بے نظیر آباد، ٹھٹھہ، سجاول، حیدرآباد، کراچی اور عمر کوٹ شامل ہیں 170ملین روپے کی رقم 10ڈائیلائسس سینٹر ز کے لیے رکھی گئی ہے۔

    جن میں جام شورو، کوٹری، کشمور کندھ کوٹ، میرپورخاص، تھرپارکر مٹھی، ہالا، سجاول، شہداد پور، ٹھٹھہ، نوشہروفیروز اور عمر کوٹ شامل ہیں
    سندھ حکومت آئندہ مالی سال میں ترقیاتی امور کیلئے بھی اقدامات اٹھا رہی ہے، کووڈ ریسپانس اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے پروگرام میں وفاقی اور سندھ حکومت نے 50فیصد رقم مختص کی ہے۔

    جس میں حکومتِ پاکستان 10.411بلین روپے اور حکومت سندھ 10.411بلین روپے دے گی،
    جس کا مجموعی تخمینہ 20.822بلین روپے ہے،
    سندھ اینفیکشن ڈیزیز اسپتال کراچی میں بائیو سیفٹی لیب III کا قیام کیا جائے گا

    ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی میں لائنر ایکسیلیریٹر بمع انٹیگریٹڈ ہائی فیلٹ MRIسسٹم کی فراہمی شامل ہے، سندھ کے بڑے اسپتالوں میں آکسیجن جنریشن /میڈیکل گیس پلانٹ کی تنصیب و فراہمی کی جائے گی، سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ بمع MNCHسروسز کورنگی نمبر 5کا قیام کیا جائے گا، ایکسیڈنٹ ایمرجنسی سینٹرز کو قائم کیا جائے گا، ایکسیڈنٹ ایمرجنسی سینٹرز کی دو اسکیمز ہیں ، ایک موٹروے تھانہ بولا خان انٹر چینج اور دوسرا ہاکس بے کراچی میں بنایا جائے۔

  • خورشید شاہ اور ان کے بیٹے کو پے رول پر رہا کر دیا گیا

    خورشید شاہ اور ان کے بیٹے کو پے رول پر رہا کر دیا گیا

    خورشید شاہ اور ان کے بیٹے کو پے رول پر رہا کر دیا گیا

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سید خورشید شاہ اور ان کے بیٹے کو بھتیجے کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے پیرول پر جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یپلزپارٹی کے اسیر رہنما خورشید شاہ کے بھتیجے غلام مرتضیٰ شاہ علالت کے بعد انتقال کر گئے، جس کے بعد نماز جنازہ میں شرکت کیلئے پی پی رہنما نے پیرول پر رہائی کے لئے درخواست جمع کروائی۔محکمہ داخلہ سندھ نے خورشید شاہ کی رہائی کے لیے حکم جاری دیا۔
    جس کے بعد رہنما خورشید شاہ اور ان کے بیٹے فرخ شاہ کو 48 گھنٹوں کے لیے پے رول پر رہا کردیا گیا۔
    دوسری جانب سکھر کی احتساب عدالت میں خورشید شاہ کیخلاف زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت ہوئی ، خورشید شاہ اور دیگر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کو بتایا کہ خورشید شاہ کے بھتیجے کے انتقال کی وجہ سےپے رول پررہاہیں جبکہ ریفرنس میں شامل خورشیدشاہ کےبیٹےایم پی اےفرخ شاہ بھی پےرول پر رہا پر ہیں۔
    خیال رہے خورشیدشاہ سمیت18 افراد پرایک ارب 23کروڑ کاریفرنس دائرہے اور وہ 21ماہ سے زیر حراست ہیں جبکہ ایم پی اے فرخ شاہ گزشتہ 4 روزسے زیرحراست میں ہیں۔

  • سندھ بجٹ،سرکاری ملازمین کے لئے بڑی خوشخبری

    سندھ بجٹ،سرکاری ملازمین کے لئے بڑی خوشخبری

    سندھ سرکار نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بحیثیت وزیر خزانہ سندھ مالی سال2021-22کابجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کیا، اس دوران انہوں نے صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ مزدور کی کم سےکم اجرت17500 سےبڑھا کر25000روپےکردی گئی ہے اس کے علاوہ سندھ حکومت ملازمین کیلئے ماسوائے پولیس کانسٹیبلز،گریڈ ایک سے پانچ تک ذاتی الاؤنس متعارف کرایا گیا ہے۔

    *بجٹ کا کل حجم*

    وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال 22-2021 کیلئےسندھ کا بجٹ 1477.903ارب روپےہے، خسارے کا تخمینہ 25،738 ارب روپےلگایاگیا ہے، صوبائی بجٹ میں19.1فیصداضافہ کیاگیاہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کیلئے کل تخمینہ1452،168 ارب روپے ہے جبکہ صوبے کی اپنی وصولیاں 329،319 ارب روپے متوقع ہیں۔

    *ترقیاتی اخراجات*

    وزیراعلیٰ سندھ کا بجٹ تقریر میں کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے دوران ترقیاتی اخراجات میں41.3 فیصد کا اضافہ کیاگیا ہے، صوبے کے ترقیاتی اخراجات329.033ارب روپےمتوقع ہیں جبکہ متواتر اخراجات 1089،372 ارب روپےہیں۔

    مراد علی شاہ نے بحیثیت وزیر خزانہ اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ صوبائی اےڈی پی کیلئے222،500 ارب روپے مختص کئےگئے ہیں، ضلعی اے ڈی پی میں 100 فیصد اضافہ کیا گیاہے اور اس کے لئے 30 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    *تعلیمی بجٹ میں اضافہ*

    وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں تعلیمی شعبے کیلئے بڑاحصہ رکھا گیا ہے اور چودہ فیصد تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا ہے، تعلیم کے شعبے کیلئے 277.56 ارب روپےمختص کئےگئےہیں، اسکولز فرنیچر کی خریداری کیلئے6.623 ارب روپے مختص ، اسکولوں کی تزئین وآرائش کیلئے 5 ارب روپےمختص کئےگئےہیں، کالجز کی مرمت،بحالی کیلئے425ملین روپےمختص کئےگئےہیں، اس کے علاوہ تعلیمی شعبےکیلئےترقیاتی بجٹ کی مدمیں26ارب روپےرکھےگئےہیں۔

    *صحت کے بجٹ میں 29 فیصد اضافہ*

    وزیراعلیٰ سندھ کا بجٹ تقریر میں کہنا تھا کہ صحت کی خدمات کیلئے بجٹ میں 29.5 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے، صحت کی خدمات کیلئے مختص شدہ 172.08ارب رکھےگئےہیں جبکہ وبائی امراض کا مقابلہ کرنےکیلئے24.73 ارب مختص کئےہیں، اس مختص رقم میں ہیلتھ رسک الاؤنس بھی شامل ہے۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ پی پی ایچ آئی کیلئے26 فیصد اضافے سے رقم8.2 ارب کردی گئی ہے، انڈس اسپتال کیلئےسالانہ گرانٹ 2.5 ارب روپے جبکہ اسپتال کی توسیع کیلئے2 ارب روپےرکھےگئےہیں، ایس آئی یو ٹی کو دی جانے والی گرانٹ میں27 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، ایس آئی یوٹی کی گرانٹ 7.12 ارب روپےکی گئی ہے، ساتھ ہی صحت کیلئے ترقیاتی بجٹ میں 18.50 ارب روپےرکھےگئےہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے24.72بلین روپےمختص کیےگئےہیں، پی سی آر ،پی پی ای کی کٹس کی خریداری کیلئے 2بلین رکھےہیں، آکسیجن خریداری کیلئے 646.22ملین کی رقم تجویزکی گئی ہے، پی سی آر ،پی پی ای کی کٹس کی خریداری کیلئے 2بلین رکھےہیں۔

    بجٹ تقریر میں مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انسٹیٹیوٹ آف پیرعبدالقادر شاہ جیلانی گمبٹ کیلئے 4بلین روپے مختص کئے گئے ہیں، انسٹیٹیوٹ آف آپتھلمالوجی ویژول سائنسز حیدرآباد کیلئے 473.9ملین، جیکب آباد انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کیلئے 600ملین، شہیدمحترمہ بےنظیربھٹوٹراماسینٹرکراچی کیلئے 2بلین روپےمختص اور شہدادپورانسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کیلئے 300ملین روپےمختص کئے گئے ہیں۔

    *محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کا بجٹ*

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کیلئےمختص شدہ رقم کو15فیصدبڑھادیاہے، محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈماس ٹرانزٹ کی رقم 7.64 ارب کردی گئی ہے، اس بجٹ سے 250ڈیزل ہائبرڈالیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی، ٹرانسپورٹ اینڈماس ٹرانزٹ کی اے ڈی پی میں 8.2 ارب رکھےگئےہیں۔

    *بلدیاتی بجٹ*

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ بلدیات کابجٹ 31.3 فیصداضافہ کے ساتھ 10.48ارب روپے کردیا گیا ہے، بلدیاتی اداروں کےترقیاتی بجٹ کیلئے 25.500 ارب رکھےگئےہیں جبکہ مقامی کونسلرز کےفنڈزکیلئے82.00ارب روپےرکھےگئےہیں۔

    صوبائی بجٹ کے دیگر اہم نکات صوبے میں امن وامان برقراررکھنےکیلئے119.97ارب روپے مختص

    محکمہ سوشل ویلفیئر کیلئے 18.61ارب روپے مختص

    محکمہ ری ہیبلی ٹیشن کیلئے60.9 فیصد اضافے سے1.840ارب رکھنے کا فیصلہ

    محکمہ وومن ڈیولپمنٹ کیلئےرقم 571.97ملین روپے مختص۔

    محکمہ ورکس اینڈسروسزکیلئے16.03 ارب مختص۔

  • بجٹ اجلاس کے دوران صحافیوں سے میڈیا سہولت چھننے پر رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی کی مزمت

    بجٹ اجلاس کے دوران صحافیوں سے میڈیا سہولت چھننے پر رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی کی مزمت

    بجٹ اجلاس کے دوران صحافیوں سے میڈیا سہولت چھننے پر رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی کی مزمت

    اپوزیشن کے متوقع احتجاج کی کوریج سے روکنے پر میڈیا روم کا وائی فائی بند کیا گیا، جمال صدیقی

    صحافی حضرات احتجاجاً میڈیا گیلری سے باہر آگئے ہیں، سندھ حکومت کے غیر جمہوری روئیے کی مزمت کرتے ہیں،سندھ حکومت اپوزیشن کے احتجاج سے خوفزدہ ہے.

    واضع رہے کہ جوائنٹ اپوزیشن کا سندھ اسمبلی میں بجٹ کے خلاف احتجاج جاری۔اپوزیشن لیڈرریلی کی صورت میں اسمبلی گیٹ پر پہنچے،اپوزیشن کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی ہوئی۔

  • کراچی میں شراب خانے سے بھتہ لینے والے رینجرز افسر کی بحالی معطل

    کراچی میں شراب خانے سے بھتہ لینے والے رینجرز افسر کی بحالی معطل

    سپریم کورٹ نے لیاری سے وائن شاپ سے 60 ہزار روپے بھتہ وصولی سے متعلق سروسز ٹربیونل کا رینجرز کے سابق ڈی ایس آر کی بحالی کا فیصلہ معطل کردیا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ کے روبرو لیاری سے وائن شاپ سے 60 ہزار روپے بھتہ وصولی کے الزام میں رینجرز کے سابق ڈی ایس آر بشارت علی سے متعلق سروس ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف سماعت ہوئی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف دیا کہ سابق ڈی ایس آر بشارت پر الزامات کی تحقیقات کے لئے کمیٹی بنائی گئی تھی۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں بشارت علی کو برطرف کیا گیا تھا۔ سروس ٹربیونل نے بشارت علی کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عدالت نے سروسز ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف رینجرز کی اپیل پر نوٹس جاری کرتے ہوئے سروسز ٹربیونل کا ڈی ایس آر کی بحالی کا فیصلہ معطل کردیا۔ سابق ڈی ایس آر بشارت علی کے مطابق رقم اہلکار امداد نے وصول کی تھی۔ اہلکار امداد نے اپنے بیان میں خود اعتراف کیا۔

  • پولیس اہلکار کو شہید کرنے والا ملزم گرفتار

    پولیس اہلکار کو شہید کرنے والا ملزم گرفتار

    سٹی ڈسٹرکٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس اہلکار کو شہید کرنے والے ملزم عبدالرحمان کو گرفتار کرکے پستول اور 7موبائل فون برآمد کرلئے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں سٹی ڈسٹرکٹ پولیس نے کارروائی لیاری میں کارروائی کی ، کارروائی کے دوران پولیس اہلکار کو شہید کرنے والے ملزم عبدالرحمان کو بغدادی سے گرفتار کرلیا جبکہ پستول اور 7موبائل فون برآمد ہوئے۔

    ایس ایس پی سٹی سرفرازنواز کا کہنا ہے کہ ملزم بیک وقت 2پستول پاس رکھتا تھا، ملزم کو شہری سے واردات کرتے دیکھ کر ایس پی کے گن مین نے اسلحہ نکالا، جس پر ملزم نے فوراًاہلکارمعیزکوگولیاں مار کرشہید کردیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم ڈکیتی مزاحمت پر شہری ممتاز احمد اور محمد اصغر کو قتل کرچکا ہے جبکہ دوران ڈکیتی گل محمد نامی شخص کو بھی قتل کیا۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ ڈکیتی کےدوران ملزم نے2افرادکوگولیاں مارکرزخمی کیاتھا، ملزم پردہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی سمیت 10 مقدمات درج ہیں۔

  • کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے تعمیر کئے جانے والے ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے تعمیر کئے جانے والے ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کے لئے تعمیر کئے جانے والے چوتھے ملجئم کلاس کارویٹ جہاز کی اسٹیل کٹنگ کی تقریب.

    چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی تقریب کے مہمان خصوصی تھے.

    ترجمان پاک بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ جہاز جدید ترین ہتھیاروں اور سینسرز سے لیس ہو گا.
    جنگی جہازوں کی تعمیر کے لئے وزارت دفاعی پیداوار, پاک بحریہ, کراچی شپ یارڈ اور ترک کمپنی کا باہمی تعاون خوش آئند ہے.

    کرونا کی عالمی وبا کے باوجود کراچی شپ یارڈ اور اسفات ترکی کا بروقت اہم سنگ میل عبور کرنا لائق تحسین ہے.

    ملجئم کلاس کارویٹ جہازوں کی شمولیت سے روائتی اور غیر روائتی خطرات سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت مزید بہتر ہو گا۔

    تقریب میں ترک کمپنی اسفات کے سربراہ, سرکاری عہدیداران,پاک بحریہ اور شپ یارڈ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے.

  • پسند کی شادی کرنے والےجوڑے کو سندھ ہای کورٹ کا پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم

    پسند کی شادی کرنے والےجوڑے کو سندھ ہای کورٹ کا پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم

    پسند کی شادی کرنے والےسجاول کے رہائشی جوڑے کو سندھ ہای کورٹ نے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے حکومت سندھ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس سمیت ایس ایچ او تھانہ جتی سجاول کوحفیظاں اور اس کے شوہر مجاہد کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

    سندھ ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، حکومت سندھ،انسپکٹر جنرل سندھ پولیس ،ایس ایچ او تھانہ جتی کو مورخہ 18 اگست 2021 تک نوٹس جاری کرتے ہوے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔
    اطلاعات کے مطابق حفیظاں اور اس کے شوہر مجاہد نے 29 اکتوبر 2020 کو ضلع بدین میں کورٹ میرج کی تھی۔جس پرحفیظاں کے سابقہ شوہر وزیر علی نے حفیظاں اور اس کے شوہر مجاہد کے خلاف تھانہ جتی سجاول میں نکاح پر نکاح اور ڈکیٹی کی ایف آئی آر درج کروادی تھی۔
    مقدمہ اندراج کے بعد حفیظاں اور اس کے شوہر نےسندھ ہا ئ کورٹ میں آ ئینی پٹیشن نمبر 01/2021 داخل کی جس پر سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ جسٹس محمد کریم آ غا اور جسٹس عبدالمبین لاکھو نے پولیس کو مغویہ کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔

    مغویہ حفیظاں نے پولیس کو بیان دیا کے چھ ماہ قبل مجھے سابقہ شوہر وزیر علی نے طلاق دے دی تھی عدت کے بعد میں نے مجاہد کے ساتھ کورٹ میرج کی ہے مقدمہ جھوٹا ہے۔
    تھانہ جتی سندھ کی پولیس نے سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ میں مقدمہ کو کینسل کرنے کی رپورٹ مورخہ 15اپریل 2021کو جمع کرائی عدالت نے پٹیشن نمٹا دی۔
    درخواست گزار حفیظاں نے کہا کہ میرے سابقہ شوہر نے مقدمہ ختم ہونے کے بعد نورالدین،علی اکبر ،سکندراور محمد سومار کے ساتھ ملکر ہمیں کاروکاری قرار دے کر قتل کرنا چاہتے پیں۔ عدالت پولیس کو حکم دے مجھے اور میر ے شوہر مجاہد کو قانونی تحفظ فراہم کرے۔
    حفیظاں کےوکیل لیاقت گبول کا کہنا تھا کہ اس کے سابقہ شوہر اور اس کے گھر والوں نے دونوں میاں بیوی کو قتل کرنے کے لیے کرایے کے قاتلوں کو جوڑے کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے آئینی پٹیشن نمبر 385سال 2021 میں نوٹس جاری کرتے ہوے پٹیشنر کوتحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا بجٹ سیشن میں پہنچنے کا انوکھا انداز

    پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا بجٹ سیشن میں پہنچنے کا انوکھا انداز

    ‎‏پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا بجٹ سیشن میں انوکھا انداز، بس میں سوار ہونے کا مقصد 13 سال میں سفری سہولیات عوام کو دکھانہ ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے عوام کو دی گئی میٹرو بس میں سندھ اسمبلی بجٹ سیشن میں پہنچے۔

    ‏پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا بجٹ سیشن میں انوکھا انداز اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ، اراکین سعید آفریدی، راجہ اظہر بس میں سوار ہوکر اسمبلی پہنچے۔

    سعید آفریدی کا کہنا تھا کہ سندھ کی عوام کے لیے سفری سہولیات نہیں، آپ پشاور جائیں وہاں سفری سہولیات اور سڑکیں دیکھیں۔

    کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے۔اس لیے نہ پانی ہے،نہ بس ہے،نہ سڑکے ہے،نہ دوائی ہے،نہ سیوریج کا نظام ہے،نہ پولیس کے لیے موبائیل گاڑی ہے،نہ انتظامات ہے ،نہ انسانیت ہے،نہ انصاف ہے اگر کچھ ہے تو وہ نالائقے الہ کی حکمرانی ہے اسی لیے تو بھٹو زندہ ہے۔

    ‏کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے
    سندھ حکومت 13 سال حکمرانی کے بعد چودواں بجیٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔

    ‏حلیم عادل شیخ کہتے ہیں سندھ حکومت نے 13 سال میں عوام کو صرف لالی پاپ دیے، سندھ حکومت میٹرو کو دیکھ کر ہی کچھ شرم کرلے، آج بجٹ پیش کیا جائے گا بڑے بڑے دعوے کیے جائیں گے۔

  • سارا بجٹ کھا گئے، سندھ کو ایڈز لگا گئے

    سارا بجٹ کھا گئے، سندھ کو ایڈز لگا گئے

    جوائنٹ اپوزیشن کا سندھ اسمبلی میں بجٹ کے خلاف احتجاج اور اپوزیشن کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی چل ری ہے۔‏

    "لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی، نہیں چلے گی”

    جوائنٹ اپوزیشن کا سندھ اسمبلی میں بجٹ کے خلاف احتجاج۔‏جوائنٹ اپوزیشن کا سندھ اسمبلی میں بجٹ کے خلاف احتجاج اپوزیشن کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی۔

    نعرے بازی لگاتے ہوئے کہا یہ بجٹ بھی اومنی کے منشی پیش کریں گے، یونس میمن کو نوازنے کے لیے بجٹ بڑھایا جارہا ہے، اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ‏سارا بجٹ کھا گئے، سندھ کو ایڈز لگا گئے۔

    جوائنٹ اپوزیشن کا سندھ اسمبلی میں بجٹ کے خلاف احتجاج ریلی کی صورت میں اسمبلی گیٹ پر پہنچے ۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ حکومت پر باد اعتمادی کا اظہارِ کیا ہے۔کہتے ہیں سندھ کی تمام بربادی تباہی کی ذمے دار سندھ حکومت مراد علی شاہ ہے