Baaghi TV

Category: کراچی

  • پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری کردیا

    پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری کردیا

    پسند کی شادی کرنے والے سجاول کے رہائشی جوڑے کو سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے حکومت سندھ۔ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس سمیت ایس ایچ او تھانہ جتی سجاول کوحفیظاں اور اس کے شوہر مجاہد کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

    سندھ ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ۔ حکومت سندھ۔ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس ۔ایس ایچ او تھانہ جتی کو مورخہ 18 اگست 2021 تک نوٹس جاری کرتے ہوے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ لیاقت گبول ایڈووکیٹ

    حفیظاں اور اس کے شوہر مجاہد نے 29 اکتوبر 2020 کو ضلع بدین میں کورٹ میرج کی تھی۔

    لیاقت گبول ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حفیظاں کے سابقہ شوہر وزیر علی نے حفیظاں اور اس کے شوہر مجاہد کے خلاف تھانہ جتی سجاول میں نکاح پر نکاح اور ڈکیٹی کی ایف آئی آر درج کروادی تھی۔

    مقدمہ اندراج کے بعد حفیظاں اور اس کے شوہر نےسندھ ہا ئ کورٹ میں آ ئینی پٹیشن نمبر 01/2021 داخل کی جس پر سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ جسٹس محمد کریم آ غا اور جسٹس عبدالمبین لاکھو نے پولیس کو مغویہ کاپولیس کو بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دہا.

    مغویہ حفیظاں نے پولیس کو بیان دیا کے چھ ماہ قبل مجھے سابقہ شوہر وزیر علی نے طلاق دے دی تھی عدت کے بعد میں نے مجاہد کے ساتھ کورٹ میرج کی ہے مقدمہ جھوٹا ہے۔

    تھانہ جتی سندھ کی پولیس نے سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ میں مقدمہ کو کینسل کرنے کی رپورٹ مورخہ 15اپریل 2021کو جمع کرائی عدالت نے پٹیشن نمٹا دی۔

    میرے سابقہ شوہر نے مقدمہ ختم ہونے کے بعد نورالدین،علی اکبر ،سکندراور محمد سومار کے ساتھ ملکر ہمیں کاروکاری قرار دے کر قتل کرنا چاہتے پیں۔

    عدالت پولیس کو حکم دے مجھے اور میر ے شوہر مجاہد کو قانونی تحفظ فراہم کرے۔ درخواست گزار حفیظاں

    حفیظاں کا سابقہ شوہر اور اس کے گھر والوں نے دونوں میاں بیوی کو قتل کرنے کے لیے کرایے کے قاتلوں کو جوڑے کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ ،وکیل لیاقت گبول۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے۔ آئینی پٹیشن نمبر385سال 2021 میں نوٹس جاری کرتے ہوے پٹیشنر کوتحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • سندھ کا آئندہ مالی سال کیلیے خسارے والا بجٹ تیار، آج سندھ اسمبلی میں پیش کریں گے

    سندھ کا آئندہ مالی سال کیلیے خسارے والا بجٹ تیار، آج سندھ اسمبلی میں پیش کریں گے

    حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال کے لیے خسارےوالابجٹ تیار کرلیا ،وزیر اعلیٰ سندھ آج شام 4 بجے نئے مالی سال کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال کے لیے خسارےوالابجٹ تیار کرلیا ، بجٹ کا مجموعی حجم 14کھرب روپے سے زائد ہے جبکہ بجٹ میں مجموعی ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 330ارب روپے اور مجموعی غیرترقیاتی اخراجات کاتخمینہ تقریباً 11کھرب20 ارب روپے ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ آج سندھ کابینہ سے نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری لیں گے اور شام 4بجےنئےمالی سال کابجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کریں گے ، بجٹ کامجموعی حجم ساڑھے 14کھرب روپے ہے جبکہ بجٹ خسارہ 20 ارب روپےسےبھی زیادہ ہوسکتا ہے۔

    این ایف سی ایوارڈز کے تحت ملنے والےفنڈزکاتخمینہ 870 سے880ارب روپے اور صوبائی محصولات و وسائل سے ہونے والی آمدنی کا تخمینہ 350 ارب روپےہے جبکہ وفاقی حکومت سے حکومت سندھ کے زیر انتظام چلنے والے منصوبوں کے لیے وفاق سے تقریباً سوا پانچ ارب روپے ملنے کا تخمینہ ہے۔

    بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرضوں اور امداد کا تخمینہ 70 ارب روپے سے زائد ہے ، اس سرمایہ جاتی آمدنی کا تخمینہ 25سے35 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

    رواں مالی سال کے دوران اخراجات سے بچ جانے والےفنڈز ،پبلک اکاوٴنٹس وغیرہ سےتقریباً 75ارب کےفنڈزحاصل کرکے خسارے کی رقم کوکم کیا جائے گا جبکہ صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اے ڈی پی کے فنڈز کا تخمینہ تقریباً 222 ارب روپے اور ضلعی اے ڈی پی کا تخمینہ تقریباً 30 ارب روپے ہے۔

    بیرونی امداد اور وفاقی فنڈنگ سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 77 ارب روپے ہے جبکہ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 11کھرب 20 ارب روپے لگایا گیا ہے، جن میں تقریباً 40 ارب روپے غیر ترقیاتی ہیں

    سرمایہ جاتی اخراجات اور تقریباً 10 کھرب 80 ارب روپے غیر ترقیاتی محصولاتی اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، جن میں ملازمین کی تنخواہوں، الاوٴنس، ایم اینڈ آر گاڑیوں ، تیل سمیت دیگر تمام اخراجات شامل ہیں۔

  • پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے یونیفارم، کیپس اور نام کا استعمال کر کے واردات کرنے والا گروہ گرفتار۔

    پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے یونیفارم، کیپس اور نام کا استعمال کر کے واردات کرنے والا گروہ گرفتار۔

    ویسٹ پولیس ایس ایس پی ویسٹ سوہائی عزیز کی بڑی کاروائی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے یونیفارم، کیپس اور نام کا استعمال کر کے ڈکیتی کی واردات کرنے والا گروہ گرفتار۔

    تفصیلات کے مطابق ملزمان گروہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے یونیفارم اور اسلحہ کا استعمال کر کے ہاؤس روبری کے لئے گھر میں داخل ہوتے تھے۔

    ملزمان مورخہ 05 مئی 2021 کو بھی رات کی تاریخی میں شہری محمد نعیم کے گھر میں اسلحہ کے زور پر داخل ہوئے گھر میں موجود افراد کو یرغمال بنایا اور قیمتی زیورات، نقدی اور لائسنس شدہ اسلحہ چھین کر فرار ہوئے۔

    واردات کا مقدمہ الزام نمبر 472/2021 بجرم دفعہ 392/397/34 شہری کی مدعیت میں تھانہ پاکستان بازار میں درج ہے۔سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج کی مدد سے حاصل کی گئی تصویروں میں بھی ملزمان کو واردات کے بعد فرار ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ملزمان مورخہ 12 جون 2021 کو پولیس کی وردی میں ملبوس شہری ارشاد علی کے گھر میں دیوار کود کر داخل ہوئے گھر میں موجود افراد کو یرغمال بنایا اور قیمتی زیورات اور 360000 نقدی لوٹ کر فرار ہوئے۔

    واردات کا مقدمہ الزام نمبر 501/2021 بجرم دفعہ 392/397/34 شہری کی مدعیت میں تھانہ پیرآباد میں درج ہے۔ایس ایچ او پاکستان بازار نے CCTV فوٹیج کی مدد اور خفیہ اطلاع پر کاروائی کر کے ملزمان گروہ کو گرفتار کیا۔

    گرفتار ملزمان سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن، پولیس یونیفارم، بیج اور پولیس/رینجرز کیپس، نقدی اور موٹرسائیکل برآمد۔

    ملزمان نے دوران انٹروگیشن اعتراف کیا کہ ایک ہفتہ قبل بھی گبول کالونی میں واقعہ گھر میں پولیس یونیفارم میں ملبوس ہو کر داخل ہوئے اور طلائی زیورات اور نقدی لوٹ کر فرار ہوئے۔گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات الزام نمبر 540/2021 اور 541/2021 درج۔

    ملزمان کو مزید مقدمات میں شناخت اور تفتیش کے لئے تفتیشی حکام کے حوالے کیا جائے گاملزمان گروہ عادی مجرم ہیں اور ملزم احسن فاروقی قبل از بھی ذیل مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جاچکا ہے۔
    مقدمہ الزام نمبر 482/202 بجرم دفعہ 384/385/419/171/34 تھانہ مومن آبادمقدمہ الزام نمبر 483/202 بجرم دفعہ 23(i)A تھانہ مومن آباد۔

    ملزمان سے برآمد اسلحہ فارنزک معائنے کیلئے بھیجا جائے گا۔گرفتار ملزمان میں احسن فاروقی ولد خلیل احمد، واحد ولد جان محمد اور سُہیل خان ولد محمد انور شامل ہیں۔

  • کراچی کے یتیم خانے میں 16 سالہ لڑکی سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    کراچی کے یتیم خانے میں 16 سالہ لڑکی سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    پولیس نے کشمیرروڈ کے قریب واقع یتیم خانے میں 16 سالہ لڑکی سے زیادتی کرنےوالے ملزم کو گرفتار کرلیا، گرفتارملزم یتیم خانے کا اکاؤنٹنٹ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں کشمیر روڈ کے قریب واقع یتیم خانے میں 16 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بناڈالا ، ایس پی فاروق بجارانی نے کہا ہے کہ زیادتی میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیاگیاہے، گرفتارملزم یتیم خانے کا اکاؤنٹنٹ ہے۔

    فاروق بجارانی کا کہنا تھا کہ ملزم نے 26 مئی کوڈرا دھمکا کالڑکی سے زیادتی کی اور 13 جون کوخالہ سے ملاقات پرلڑکی نےزیادتی کابتایا، جس کے بعد متاثرہ لڑکی کی خالہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ ملک میں ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عوام کے سخت ردِ عمل کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی لانے کا اعلان کیا تھا۔

    بعد ازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں ریپ کے واقعات کی روک تھام اور اس سے متعلق کیسز کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اینٹی ریپ (انویسٹگیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس 2020 کی باضابطہ منظوری دی۔

  • کورنگی ضیاء کالونی سے اغواء ہونے والی مہوش بازیاب کرالی گئی

    کورنگی ضیاء کالونی سے اغواء ہونے والی مہوش بازیاب کرالی گئی

    ایس ایس پی کورنگی شاہ جہان خان کی کامیاب کارروائی

    باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق کورنگی ضیاء کالونی سے اغواء ہونے والی مہوش بازیاب کرا لی گئی۔گزشتہ روز مہوش کی اغواء ہونے کی ویڈیو اس کی والدہ کی جانب سے سوشل میڈیا میں وائرل کی گئی تھی۔

    رات گئے انٹیلیجنس افسران اور ایس ایچ او نے واقعہ میں ملوث ایک ملزم بابل ابڑو کو گرفتار کرلیا تھا، واقعہ کا مقدمہ کورنگی تھانے میں مہوش کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

    کورنگی پولیس نے واقعہ کے مرکزی ملزم اختر ابڑو کو گرفتار کرلیا , اغواء کاروں کو تفتیشی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے ۔

  • جو شخص ویکسینیشن نہیں کرائے گا اسکے موبائل فون کی سم بند کردی جائے گی

    جو شخص ویکسینیشن نہیں کرائے گا اسکے موبائل فون کی سم بند کردی جائے گی

    وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے جو شخص ویکسی نیشن نہیں کرائے گا اس کے موبائل فون کی سم بند کردی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگائی جانے والی پابندیوں میں آج سے نرمی کا آغاز ہوگا بازار ہفتے میں صرف ایک روز بند رہیں گے۔

    آج سے ہونے والی نرمی کے بعد دفاتر میں 100 فیصد حاضری کی اجازت ہوگی جبکہ جِم بھی جزوی طور پر کھل جائیں گے۔

    کراچی سمیت سندھ میں چھٹی سے آٹھویں کلاس کے اسکول آج سے پچاس فیصد حاضری کے ساتھ کھل گئے ہیں ، اسکولوں میں چھٹی سے آٹھویں جماعت تک آج سے تدریسی عمل شروع ہو گیا ہے۔

    بچوں کی اسکول آمد کے موقع پر کورونا ایس او پیز کا خیال رکھا گیا ہے کلاس رومز میں طلباء کو کورونا ایس او پیز کے تحت فاصلے سے بٹھایا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صورتحال بہتر رہی تو پرائمری کلاسز 21 جون سے کھل جائیں گی۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے جو شخص ویکسی نیشن نہیں کرائے گا اس کے موبائل فون کی سم بند کردی جائے گی۔

  • مراد علی شاہ آج سندھ کا مالی سال 22-2021 کا بجٹ پیش کریں گے

    مراد علی شاہ آج سندھ کا مالی سال 22-2021 کا بجٹ پیش کریں گے

    وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ آج سندھ کا مالی سال 22-2021 کا بجٹ پیش کریں گے-

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے لئے سندھ کے بجٹ کا مجموعی حجم 14 کھرب سے زائد ہوگا سندھ کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگائے جانے کا امکان ہے –

    سکول ایجوکیشن کے لئے 215 ارب اور کالج ایجوکیشن کے لئے 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    پولیس اور امن و امان کیلئے 105 ارب، صحت کیلئے 172 ارب، ٹرانسپورٹ کیلئے 14 ارب، بلدیات کیلئے 75 ارب اور محکمہ آبپاشی کے لیے 53 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بجٹ تجاویز سندھ اسمبلی میں پیش کریں گے سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس دوپہر تین بجے بلایا گیا ہے۔

  • کراچی کے انتہائی ریڈ زون میں پولیس اہلکار کی رشوت لینے کی ویڈیو سامنے آگئی

    کراچی کے انتہائی ریڈ زون میں پولیس اہلکار کی رشوت لینے کی ویڈیو سامنے آگئی

    ہم ادھر کھڑے رہے تو افسر آجائے گا پھر میرے ہاتھ سے بات نکل جائے گی، جلدی سے پیسے دو، کراچی کے انتہائی ریڈزون علاقے میں پولیس اہلکار کی موٹر سائیکل سوار سے رشوت طلب کرنے کی خفیہ ویڈیو سامنے آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد کے علاقے شاہراہ فیصل کے قریب پولیس اہلکار کی شہری سے رشوت طلب کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔
    نجی ٹیلی ویژن چینل کےمطابق کراچی کے انتہائی ریڈ زون آواری ٹاور کے قریب پولیس اہلکار نے موٹر سائیکل نوجوانوں سے رشوت طلب کی اس دوران ایک نوجوان نے پولیس اہلکار کی خفیہ ویڈیو بنالی۔
    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار نے شہری سے پہلے دو ہزار روپے طلب کیے پھر کہنے لگا کہ پانچ سو روپے سے ایک روپیہ بھی کم نہیں ہوگا۔

  • تمام تر رکاوٹوں کے باوجود عوام کی خدمت جاری رکھیں گے، عمران اسماعیل

    تمام تر رکاوٹوں کے باوجود عوام کی خدمت جاری رکھیں گے، عمران اسماعیل

    گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سندھ کے عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہے جس کے لیے 3.5ا رب روپے کے خطیر فنڈز مختلف اضلاع کے لیے مختص کیے گئے مگر افسوس سندھ حکومت نے این او سی فراہم نہیں کی جس کی وجہ سے سندھ میں ترقیاتی کاموں پر کام شروع نہ ہوسکا بلکہ فنڈز بھی واپس ہوگئے ۔
    جب ایدھی فاؤنڈیشن، سیلانی اور دیگر ادارے کراچی میں کام کرسکتے ہیں تو وفاق کیوں کام نہیں کرسکتا انہوں نے عوام کے بہتر ترین مفاد میں سندھ حکومت سے درخواست کی کہ وہ ترقیاتی کاموں کے لیے این اوسی جاری کرے اور روڑے نہ اٹکائے اور وفاق کو کام کرنے دے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ سندھ حکومت کے ساتھ سیاسی تعلقات شاید ہی استوار ہوں تاہم ورکنگ ریلیشن کی ضرور کوشش کریں گے جس کا پی ٹی آئی یا پیپلز پارٹی کو فائدے سے قطع نظر سندھ کی عوام کو ضرور فائدہ پہنچنا چاہیے۔
    آج کراچی کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہیں مگر سندھ حکومت کچھ کرنے کے موڈ میں نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نارتھ کراچی صنعتی ایریا میں’’ کیپٹن معیز فائر اینڈ ریسکیو اسٹیشن ‘‘کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں نکاٹی کے صدر فیصل معیز خان، سینئر نائب صدر شبیر اسماعیل، نائب صدر نعیم حیدر، این کے آئی ڈی ایم سی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر صادق محمد ،چیئرمین بورڈ فراز مرزا، سینئر ممبرز سید عثمان علی،سید طارق رشید، اختر اسماعیل و دیگر بھی موجود تھے۔
    عمران اسماعیل نے ’’ کیپٹن معیز فائر اینڈ ریسکیو اسٹیشن ‘‘ کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہاکہ صنعتی علاقوں کو فائر ٹینڈرز کی فراہمی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کی گئی ہے تا کہ صنعتی ایریاز میں کسی ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے کی صورت میں بروقت امدادی سرگرمیاں انجام دی جاسکیں جس کے لیے ہمیں فائر بریگیڈ محکمے کی مہارت کی بھی ضرورت ہے۔
    انہوں نے سندھ انڈسٹریل لائژن کمیٹی ( ایس آئی ایل سی) کو صنعتکار برادری اور وفاق کے درمیان روابط کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایل سی کی وجہ سے صنعتوں کو درپیش مسائل کے حل میں خاطر خواہ مدد میسر آئے گی۔نکاٹی کے صدر فیصل معیز خان نے کہا کہ گورنر سندھ کی جانب سے صنعتی زونز کو فائر ٹینڈرز کی فراہمی قابل تعریف ہے لیکن ہماری درخواست ہے کہ فائر ٹینڈرز کے لیے تربیت یافتہ عملہ بھی فراہم کیا جائے۔
    انہوں نے کہا کہ این کے آ ئی ڈی ایم سی نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے تمام تر قیاتی کام مکمل کیے لیکن اس کی دیکھ بھال کے اختیار ڈی ایم سی کے پاس ہیں جوکہ این کے آئی ڈی ایم سی کے پاس ہی ہونے چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ صنعتکاروں کو روزانہ 22 سے 23 سرکاری محکموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ ون ونڈو سہولت کا نظام رائج کیا جائے ۔

  • پی ٹی آئی نالہ پارٹی بن گئی ہے اور نالے میں بہہ جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

    پی ٹی آئی نالہ پارٹی بن گئی ہے اور نالے میں بہہ جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے پاکستان تحریک انصاف کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نالہ پارٹی بن گئی ہے اور نالے میں بہہ جائے گی۔ پیر کو چیف منسٹر ہائوس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر ان کے ہمراہ صوبائی وزرا، امتیاز شیخ ، ناصر حسین شاہ اور اسماعیل راہو بھی تھے۔
    انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں سندھ کو پیسے نہیں دیں گے، یہ کھاجائیں گے، وفاق سندھ کو پیسے دے کر احسان نہیں کررہا، 70فیصد ریونیو سندھ سے جمع ہوتا ہے اس لیے ہمارے حصے کے مطابق ہمیں پیسے دیں، ان لوگوں نے 742ارب میں سے 62 ارب پہلے کی پہلے ہی کٹوتی کرلی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی صوبے سے کوئی اختلاف نہیں، مگروفاق کو چاہیے کہ وہ سب کو برابری کی نگاہ سے دیکھے، سندھ سے شدید ناانصافی ہوئی، باقی صوبوں کے برعکس سندھ میں روڈ کا کوئی نیا پراجیکٹ نہیں رکھا بلکہ غیر ضروری پراجیکٹس زبردستی تھوپے گئے، وفاقی حکومت میگا پراجیکٹس کے بجائے نالوں اور مین ہول پر کام کررہی ہے، پی ٹی آئی نالہ پارٹی بن گئی ہے اور نالے میں بہہ جائے گی۔
    وزیراعلی سندھ کا کہنا تھاکہ وفاق جس طرح سے سوچ رہا ہے صوبوں کو اس طرح نہیں کچل سکتا، سندھ پر کوئی آرٹیکل نہیں لگ سکتا، سندھ کے ساتھ نا انصافی ہورہی ہے اور میں سندھ کا وزیراعلی ہوں اس لیے سندھ کی حقوق کی بات کرتا ہوں، میں جب سندھ کے مسئلے بتاتا ہوں تو چڑ کیوں لگتی ہی ایک دم حملہ آور کیوں ہوجاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر گروتھ بڑھ گئی ہے تو ٹیکسز بھی بڑھنے چاہئیں، صوبائی بجٹ وفاق کے فنڈز پر منحصر ہوتا ہے، اکثر ٹیکسز وفاق کلیکٹ کرتا ہے، میں فیکٹ پیش کرتا ہوں تو انہیں ب را لگتا ہے، اس وقت ایف بی آر کے ٹیکسز کی گروتھ 17 فیصد ہے اور 17 فیصد گروتھ 3 سال کی ہے جس کے بارے میں ڈھول بجارہے ہیں۔
    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہمیں کورونا وائرس کے باعث مزید اخراجات کرنا پڑے جب کہ این ایف سی کو 11 برس ہوگئے، این ایف سی کو لیکر یہ اٹھارہویں ترمیم کو نشانہ بناتے ہیں، ٹارگٹ پر کسی نے فوکس نہیں کیا بس سندھ پر تنقید کرنا شروع ہوجاتے ہیں، سندھ ریونیو بورڈ کی ٹیکس وصولی 21 فیصد ہے، ہمارے سندھ ریونیو بورڈ کی شرح ایف بی آر سے بہتر ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہمارے حساب سے سندھ کی آبادی 6 کروڑ 20 لاکھ سے زائد ہے اور امید ہے پارلیمنٹیرین سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مردم شماری پر بات کریں گے۔
    ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم کسی صوبے پر پانی چوری کا الزام لگا رہے ہیں، ہمارے تحفظات کسی صوبے سے نہیں بلکہ ارسا اور وفاق سے ہیں، پانی کی تقسیم سیاسی ایشو نہیں، یہ قانونی اور ٹیکنیکل ایشو ہے، میں کسی پر الزام نہیں لگارہا، میں ارسا پر الزام لگارہا ہوں، ارسا پانی کی منصفانہ تقسیم نہیں کررہا۔وزیر اعلی نے کہا کہ میں سندھ کا انتظامی سربراہ ہوں میں سندھ صوبے کی بات نہیں کرونگا تو یہ زیادتی ہوگی ۔
    میں جب سندھ کی بات کرتا ہوں تو انہیں غصہ کیوں آجاتا ہے۔نہ صرف مجھے بلکہ پورے سندھ کو بدنام کیوں کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ کل ہم اپنا بجٹ پیش کرینگے ۔صوبائی بجٹ وفاق کے فنڈز پر منحصر ہوتا ہے ۔اکثر ٹیکسز وفاق کلیکٹ کرتا ہے ۔مجھے صرف یہ بتا دیں کہ اگر اکانومی بہتر ہورہی ہے تو ٹیکسز بڑھنے کی بجائے کم کیوں ہوگئے ۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ابھی تک گیارہ ماہ میں ہمیں پانچ سو اٹھانوے ارب روپے ملے ہیں۔
    اگر آپ اوریجنل ٹارگٹ پر چلتے تو انہیں ہمیں آخری مہینے میں 144 ارب روپے دینا چاہئیں تھے ۔انہوں نے کہا کہ ایک صوبے سے آپ نے 544 ارب کا وعدہ کیا مگر دیا کیا ہمیں کورونا وائرس کے باعث مزید اخراجات کرنا پڑے ۔این ایف سی کو گیارہ برس ہوگئے ۔یہ لوگ این ایف سی کو لیکر یہ اٹھارویں ترمیم کو نشانہ بناتے ہیں۔وفاقی بجٹ میں سندھ کو نظر انداز کیا گیا۔
    میں دہراتا ہوں کہ ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ہمیں وہ منصوبے دئیے گئے جن کی ہمیں ضرورت نہیں تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ میرا کسی صوبے سے اختلاف نہیں ہے ۔