Baaghi TV

Category: کراچی

  • پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار کا اردن کی بندرگاہ عقبہ کا دورہ

    پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار کا اردن کی بندرگاہ عقبہ کا دورہ

    پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار کا اردن کی سو سالہ تقریبات کے سلسلے میں اردن کی بندرگاہ عقبہ کا دورہ۔

    عقبہ آمد پر میزبان بحریہ کے حکام نے پاک بحریہ کے جہاز کا استقبال کیا۔ مشن کمانڈر نے کمانڈنگ آفیسر کے ہمراہ عقبہ کے گورنر سمیت دیگر سول و عسکری حکام سے ملاقاتیں کیں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    مشن کمانڈر نے امیرالبحر کی جانب سے اردن کے عوام بالخصوص بحریہ کیلٸے خیر سگالی کا پیغام بھی پہنچایا۔اردن کی رائل نیول فورس کے کمانڈر نے پی این ایس ذوالفقار کا دورہ کیا۔ پی این ایس ذوالفقار آمد پر معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

    پاک بحریہ کے دستے نے اردن کی رائل نیول فورسز کے ساتھ مشترکہ پریڈ میں بھی حصہ لیا۔ دورے کے آخر میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں نے مشترکہ مشق میں حصہ لیا۔ پاک بحریہ کے جہاز کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک بالخصوص بحری افواج کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔

  • 7 ہزار طلبا کو انٹر میں پروموشن پالیسی کے تحت پاس کرنیکی منظوری

    7 ہزار طلبا کو انٹر میں پروموشن پالیسی کے تحت پاس کرنیکی منظوری

    محکمہ تعلیم سندھ نے گزشتہ ایک سال سے امتحانات اور نتائج کے منتظر 4 مختلف کیٹگریز کے کراچی کے 7 ہزار طلبا کو انٹرمیڈیٹ میں پروموشن پالیسی کے تحت پاس کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔
    چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی پروفیسر سعید الدین نے اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان 7 ہزار طلبا کے نتائج پروموشن پالیسی کے تحت آئندہ کچھ روز میں جاری کردیں گے۔
    یاد رہے کہ گزشتہ برس جب سیشن 2020 کے انٹر سال دوئم کے طلبہ کو بغیر امتحانات پاس کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو اس وقت انٹر بورڈ کراچی کی سابقہ انتظامیہ نے بورڈ کی جانب سے بھجوائی گئی سمری میں ان طلبا کی کیٹگری کا تذکرہ ہی نہیں کیا تھا جبکہ امتحانات منعقد ہی نہیں ہوئے تھے جس کے سبب ان طلبا کو امتحانات لے کر پاس یا فیل کیا جاسکا اور نہ ہی پروموشن پالیسی کا فائدہ لیتے ہوئے یہ طلبہ دیگر لاکھوں امیدواروں کی طرز پر انٹر میں کامیاب ہوسکے جس کے بعد پورے سال یہ طلبا اپنے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے سرکار کے فیصلے کے منتظر رہے اور انٹر نہ کرنے کے سبب جامعات میں بھی داخلہ نہ لے سکے اور یوں مختلف مضامین میں کراچی سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے خواہشمندبعض کیٹگری کے ان ہزاروں طلبہ وطالبات کاقیمتی سال ضائع ہوگیااوران طلبہ کا اعلیٰ تعلیم(ہائراسٹڈیز)کاسفررکا رہا۔
    گزشتہ کئی ماہ سے بورڈآف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کی نئی انتظامیہ کی جانب سے ان طلبہ کوگزشتہ پروموشن پالیسی کے تحت دیگرلاکھوں طلبہ کی طرزپر’’پرموٹ‘‘کرنے کی اجازت مانگی جاتی رہی تاہم محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے اس سلسلے میں کردار ادا نہیں کیا جس کے بعد اس معاملے کو محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی میں پیش کیا گیاجن7ہزار سے زائد طلبا کو اب پروموشن پالیسی کے تحت پاس کیا جائے گا۔
    ان میں ’’مشترکہ امتحان دینے والے (TP combine twelve papers)،ایڈوانس /شارٹ سبجیکٹ(اے لیول اورمدارس سے امتحان پاس کرنے والے)،اسپیشل یاآخری چانس والے اور Benefits of passed compulsory subjectsطلبہ شامل ہیں۔

  • وفاقی و صوبائی حکومت چپقلیسں کے بجائے عوامی حقوق دیں طارق حسن

    وفاقی و صوبائی حکومت چپقلیسں کے بجائے عوامی حقوق دیں طارق حسن

    وفاقی و صوبائی حکومت چپقلیسں کے بجائے عوامی حقوق دیں طارق حسن

    مسلم لیگ ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے کوشاں ہے

    پاکستان مسلم لیگ (ق) سندھ کے صدر محمد طارق حسن نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں صرف و صرف ترقی کےجھوٹے دعویے کیئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں اربوں روپے رکھے گئے ہیں اب وفاقی وصوبائی حکومتیں چپقلیسں کے بجائے عوام کے حقوق،بنیادی سہولتیں اور ترقیاتی کاموں پر مل جل کر توجہ دیں تاکہ صوبہ سندھ ترقی کی منازل طے کرئے۔
    طارق حسن نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے اسوقت شہری سندھ کے نوجوانوں پر مختلف بہانوں سے سرکاری نوکریوں کے دروازےبندکردیئے گئےاسکاسدباب اشد ضروری ہےجبکہ سندھ کے عوام کے ساتھ ہونیوالی ناانصافیوں اورحق تلفیوں کا خاتمہ کیاجائے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نے ہمیشہ مثبت سیاست کو فروغ دیا ہے اور ملک کی تمیر و ترقی کیلئے کوشاں ہے۔

  • بلدیہ وسطی استطاعت کے مطابق بہترین بلدیاتی خدمات پیش کررہی ہے، ڈاکٹر محمد علی زیدی

    بلدیہ وسطی استطاعت کے مطابق بہترین بلدیاتی خدمات پیش کررہی ہے، ڈاکٹر محمد علی زیدی

    بلدیہ وسطی استطاعت کے مطابق بہترین بلدیاتی خدمات پیش کررہی ہے، ڈاکٹر محمد علی زیدی

    ڈاکٹر سید محمد علی زیدی کا امام بارگاہِ رضویہ کا خصوصی دورہ۔
    انہوں نے منتظمین امام بارگاہِ رضویہ و شاہِ کربلا ٹرسٹ کے نمائندوں سے ملاقات کی اور رضویہ سوسائٹی کے مسائل کو فوری حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

    ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر محمد بخش دھاریجو کی ہدایات پر میونسپل کمشنر بلدیہ وسطی ڈاکٹر سید محمد علی زیدی کاضلع وسطی لیاقت آباد زون کی مختلف یونین کمیٹی میں صفائی ستھرائی و دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے ہنگامی دورہ کیا۔خصوصی طور پر ناظم آباد رضویہ سوسائٹی میں قائم رضویہ امام بارگاہ ناظم آباد کا دورہ کیا، امام بارگاہ کے منتظمین اور شاہِ کربلا ٹرسٹ کے عہدیداران سے ملاقات۔اس موقع پر امام بارگاہ کے منتظمین و شاہ کربلا کے ٹرسٹ کے نمائندوں نے میونسپل کمشنر ڈاکٹر سید علی زیدی کی ضلع وسطی کو صاف و شفاف ضلع بنانے کی کوششوں کو سراہا جبکہ عوام کے مسائل کو حل کرنے پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔اس موقع پر منتظمین امام بارگاہ رضویہ نے میونسپل کمشنر بلدیہ وسطی ڈاکٹر سید علی زیدی کو اپنے علاقے کے مسائل سے آگاہ کیا خصوصی طور پر محرم الحرام کی آمد کے حوالے سے صفائی ستھرائی،سیوریج سسٹم اور سڑکوں کی تعمیرکا معاملہ زیرِ گفتگو آیا،منتظمین امام بارگاہ اور ٹرسٹ کے نمائندگان نے میونسپل کمشنر سے درخواست کی کہ انکے مسائل محرم الحرام کی آمد سے قبل حل کردئیے جائیں تاکہ محرم کے دوران عزاداری اور ماتمی جلوسوں اور مجالس کے انعقاد میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    میونسپل کمشنر ڈاکٹر محمدعلی زیدی نے ٹرسٹ کے اراکین سے انکے مسائل توجہ سے سنے اور انھیں فوری حل کرنے کے لئے موقع پر ہی متعلقہ شعبوں کے افسران کو ہدایت جاری کیں۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد علی زیدی نے کہا کہ بلدیہ وسطی کی انتظامیہ مسلمانوں کے تمام طبقہ ہائے فکر کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہیں رکھتی بلکہ مسلمانوں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے تما تر ذرائع بروئے کار لارہی ہے۔بعد ازاں انہوں رضویہ سوسائٹی میں قائم پارک کو دورہ کیا اور انتظامیہ سے ملاقات اور مسائل سے آگاہی حاصل کی اس موقع پر انھوںنے پارک میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارک کی انتظامیہ کو تنبیہ کی کہ پارک میں آنے والے شہریوں کو صاف و شفاف ماحول کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر بی اینڈ آ ر لیاقت آباد محمد عنیب، ڈپٹی ڈائریکٹر سینی ٹیشن ناظم آباد ناصر خان،ڈپٹی ڈائریکٹر باغات محمد آصف اور موٹر وہیکل انسپکٹر تفصل حسین بھی انکے ہمراہ تھے۔

  • پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے آج تجارتی جہازوں کے ملاحوں کا عالمی دن منایا

    پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے آج تجارتی جہازوں کے ملاحوں کا عالمی دن منایا

    پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی آج نے تجارتی جہازوں کے ملاحوں کا عالمی دن منایا ۔

    بین الاقوامی سمندری تنظیم آئی ایم او اقوام متحدہ کا ایک خصوصی ادارہ ہے جو کے بحری جہازوں کے امور کا نگران ہے نے 2010 میں 25 جون کے دن کو بحری جہازوں کے ملاحوں کے عالمی دن کے طور پر نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ۔یہ اس حقیقت کو اُجاگر کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ ہماری روزمرہ زندگی میں استعمال ہونےوالی تقریباً ہر چیز بلواسطہ یا بلاواسطہ سمندری ذرائع نقل و حمل سے متاثر ہوتی ہے۔
    بین اقوامی سمندری تنظیم کے مطابق بحری جہاز دنیا کی 90 فیصد اشیاء کی نقل و حمل میں استعمال ہوتے ہیں اور ان جہازوں کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر چیز آسانی سے چلے ۔ تجارتی بحری جہازوں کے ملاح کسی بھی قوم کی معاشی ترقی میں اور اہم سامان مثلا خوراک ادویات تیل اور طبی امداد وغیرہ کی ترسیل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی بھی تجارتی بحری جہازوں کے ملاحوں کی انوکھی اور سخت محنت کا اعتراف کرتی ہے۔ تجارتی بحری جہازوں کے ملاحوں کے عالمی دن کی مہم کے انعقاد کا مقصد ان کی قربانیوں اور انہیں درپیش مشکلات کا اعتراف کرنا اور انہیں خراج تحسین پیش کرنا تھا۔اس سلسلے میں افسران اور عملے کے ارکان کو لیکچر دیئے گئے. جن میں تجارتی بحری جہازوں کے ملاحوں کی کاوشوں کو اجاگر کیا گیا اور سمندری تجارت کے بلا تعطل جاری رہنے میں ان کے کردار کو تسلیم کیا گیا۔مزید برآں مختلف نمایاں مقامات پر متعدد بینرز آویزاں کیے گئے جن پر تجارتی بحری جہازوں کے ملاحوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے حوالے سے پیغامات درج تھے۔”دوسرے کلیدی کارکنوں کی طرح تجارتی بحری جہازوں کے ملاح بھی ہمارے احترام اور شکریہ کے مستحق ہیں۔

  • کراچی پر دعوے کرنے والے جونہ تین میں ہیں نہ تیرا میں،شور شرابہ سے سیاست نہیں ہوتی

    کراچی پر دعوے کرنے والے جونہ تین میں ہیں نہ تیرا میں،شور شرابہ سے سیاست نہیں ہوتی

    صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور نواب تیمور ٹالپر نے کہا ہے کہ وہ نا اہل، نالائق حزب اختلاف کے مشکور ہیں جنہوں نے بجٹ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ، نہ ہی کوئی کٹوتی کی تحریک جمع کروائی اور بجٹ آسانی سے منظور ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے جب بجٹ ووٹنگ کے لیے ایوان میں پیش کیا تو کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بجٹ مشاورت اور اتفاق رائے سے منظور ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجٹ منظوری کے بعد سندھ اسمبلی میں میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بجٹ منظوری کی کوئی جلدی نہیں تھی ، سندھ کے عوام نے انہیں واضح اکثریت دی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کی حکمت عملی کو بہترین طریقے سے ناکام کیا۔حزب اختلاف کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بجٹ پر کٹوتی کی کوئی تحریک نہیں ڈالی ، صرف شور شرابہ اور خلل ڈالتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ شور شرابہ سے سیاست نہیں ہوتی اور پھر یہاں آکر یہ آئین و قانون کی باتیں کرتے ہیں۔ ان کے قائدین ان سے ضرور پوچھیں کہ انہوں نے کٹوتی کی تحاریک کیوں نہیں ڈالی۔ سندھ واحد اسمبلی ہے کہ جہاں پر حزب اختلاف نے مروجہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا اور محض شور شرابہ کرتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پر دعوے کرنے والے جونہ تین میں ہیں نہ تیرا میں وہ زیادہ شور مچا رہے تھے کہ کراچی کے لئے کوئی اسکیم نہیں رکھی گئی۔ کراچی کے سات اضلاع میں سے تین میں تو یہ ہیں ہی نہیں اور کراچی کے عوام نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے لئے 991 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے ہیں، جبکہ رواں سال کے بجٹ میں 90 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی نے کہا کہ وہ نالائق اور نا اہل حزب اختلاف کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے سندھ اسمبلی سے بجٹ منظوری میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی بلکہ ہمیں سپورٹ کیا۔ نہ کوئی کٹ موشن دیئے اور ناہی بجٹ کی مخالفت کی۔ آج تاریخی دن ہے بجٹ آسانی سے منظور ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ہم پر الزام لگانے کے بجائے اپنے اندر دیکھے کہ پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں میں کوآرڈینیشن کتنی بہتر تھی۔ جو کچھ وہ کرتے رہے اس کا نقصان صرف حزب اختلاف کو ہوا ، اپوزیشن کو موقع ملتا ہے کہ وہ تمام محکموں کے بجٹ پر بات کرے، لیکن انہوں نے یہ موقع گنوا دیا۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن نے آج یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ایم کیو ایم نے ان سے ہاتھ کر لیا ہے۔ کل کے احتجاج میں حلیم عادل شیخ نے ایم کیو ایم کے ساتھ فلور پر دھرنا دیا اور ان کے ساتھ احتجاج کرتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کا آپس کا مسئلہ ہے ، یہ خود طے کریں کہ کس نے کس کے ساتھ ہاتھ کیا ہے۔
    اس موقع پر صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نواب تیمور ٹالپر نے کہا کہ 25 سال میں پہلی بار سندھ حکومت کی پالیسیوں اور بجٹ کے خلاف کٹوتی کی کوئی تحریک نہیں آئی ، جس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن ہمارے بجٹ سے سو فیصد متفق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ حلیم عادل شیخ اس وقت کا سب سے بدترین قائد حزب اختلاف ہے، جس کو بجٹ تقریر بھی نصیب نہیں ہوئی۔

  • پیپلز پارٹی خواتین ونگ لیاری کی متحرک رہنماء نسیمہ ناز بلوچ صاحبہ انتقال کر گئیں

    پیپلز پارٹی خواتین ونگ لیاری کی متحرک رہنماء نسیمہ ناز بلوچ صاحبہ انتقال کر گئیں

    اِنَّالِلَه وَاِنَّااِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ

    رکن قومی اسمبلی NA-238 پاکستان پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ ملیر سید آغا رفیع اللہ کا معاون خصوصی برائے وزیراعلیٰ سندھ و پیپلز پارٹی خواتین ونگ لیاری کی متحرک رہنماء نسیمہ ناز بلوچ صاحبہ کے انتقال پر اپنے دکھ غم و افسوس کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ دکھ کی اس گھڑی میں انکے خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔نسیمہ ناز بلوچ کی پاکستان پیپلزپارٹی کے لئے جدوجہد اور خدمات ناقابلِ فراموش ہے.

    دعا ہے، اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)

  • اورنگی ٹاؤن میں کم آمدنی والے افراد کے لیےچلنے والے کچن میں شر پسند عناصر کی توڑ پھوڑ

    اورنگی ٹاؤن میں کم آمدنی والے افراد کے لیےچلنے والے کچن میں شر پسند عناصر کی توڑ پھوڑ

    کراچی کے ایم سی اورنگی ٹاؤن کے آفس میں کل شب ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، پراجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی ٹاؤن رضا عباس رضوی کی جانب سے چلنے والے کچن میں شر پسند عناصر کی توڑ پھوڑ، اورنگی ٹاؤن میں پہلی مرتبہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے ایک کچن کا اہتمام کیا گیا تھا، جہاں روز کی بنیاد پر 150 افراد کھانا تناول کرتے تھے، رضا عباس رضوی کی جانب سے اس کچن کی بنیاد کم آمدنی والے افراد کے لئے رکھی گئی تھی، جہاں ایک شخص اگر ایک وقت میں 100 روپے کا کھانا کھائے گا تو مہینے میں3000 روپے اس کے کھانے پر خرچ ہوجائینگے، پراجیکٹ ڈائریکٹر رضا عباس رضوی کی ان کم آمدنی والے افراد کے سہولت کے لئے کچن کا اہتمام کیا جہاں روزانہ کی بنیاد پر 150 افراد کھانا کھایا کرتے تھے، لیکن کل شب کے ایم سی آفس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر رضا عباس رضوی کی جانب سے چلنے والے کچن میں نامعلوم افراد کی جانب سے توڑ پھوڑ، پراجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی ٹاؤن رضا عباس رضوی کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد تالا توڑ کر کچن میں داخل ہوئے، وہاں توڑ پھوڑ کی، جبکہ چوکیداروں سے معلوم کرنے پر انھوں نے لاعلمی ظاہر کی.
    رضا عباس رضوی کا کہنا تھا کہ اگر مجھ سے کسی کی کوئی ناراضگی یا جھگڑا تھا تو مجھ سے بات کرتا، نادار افراد کے کھانے کے لئے بنائے گئے کچن سے کیا تکلیف تھی، اگر کسی نے یہ جلن یا حسد کی بن پر کیا ہے تو میری دعوت ہے آپ اس کام کو جاری رکھیں میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، رضا عباس رضوی نے مزید کہا کہ معاشرے میں چلتے ہوئے نیک کام میں روڑے اٹکانے والے شیطان کے پیروکار ہی ہوسکتے ہیں.

  • سندھ کا بجٹ منظور،اپوزیشن کا شور شرابا

    سندھ کا بجٹ منظور،اپوزیشن کا شور شرابا

    اپوزیشن اراکین نعرے لگاتے رہے ، شور مچاتے رہے، سندھ اسمبلی نے آئندہ مالی سال کیلئے ایک سو چھپن مطالبات زر کی ایک منٹ میں منظوری دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بطور صوبائی وزیر خزانہ بجٹ کے مطالبات زرپیش کیے۔

    اپوزیشن کے شور شرابے اور ہلڑبازی کا جواب دینے کی حکمت عملی کے تحت حکومتی اراکین وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے گرد حصار بنایا اور بجٹ تجاویز منظوری کیلئے پیش کیں جن کو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کیا۔

    اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے سوائے احتجاج کے کچھ نہیں کیا گیا، اپوزیشن نے نہ تو بجٹ بحث میں حصہ لیا اور نہ ہی کٹوتی کی تحاریک پیش کیں، یہی وجہ تھی کہ سندھ اسمبلی نے آئندہ مالی سال کیلئے ایک سو چھپن مطالبات زر کی ایک منٹ میں منظوری دے دی۔

    صوبائی بجٹ پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعر ہ بازی کی گئی۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ کی پندرہ تاریخ کو سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال 22-2021 کیلئے 1477.903ارب روپے کا سندھ بجٹ پیش کیا تھا، بجٹ میں خسارے کا تخمینہ 25،738 ارب تھا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کیلئے کل تخمینہ1452،168 ارب روپے ہے جبکہ صوبے کی اپنی وصولیاں 329،319 ارب روپے متوقع ہیں۔

  • نومولود بچہ اسپتال سے اغواء کا کیس 10گھنٹے سے پہلے حل

    نومولود بچہ اسپتال سے اغواء کا کیس 10گھنٹے سے پہلے حل

    نومولود بچہ اسپتال سے اغواء کا کیس 10 گھنے سے پہلے حل

    بلدیہ ٹاون نمبر 4 سے نجی اسپتال سے نومولود بچہ کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا۔ جس کی ملزمہ گرفتار بچہ بازیاب پولیس نے واقعہ کی تفتیش ٹیکنیکل بنیاد پر کی اور ملزمہ گرفتار ۔

    نجی اسپتال کی نرس نے بچے کو 30000 ھزار روپے میں فروخت کیا تھا۔ نجی اسپتال کی نرس کی گرفتاری کے لیے پولیس روانہ کردی گئی۔

    والدین ھی اولاد کی گمشدگی کا درد سمجھ سکتے ھیں.تفصیلات کے مطابق آج صبح 6 بجے کو بچہ کا جنم ہوا تھا.پولیس کے مطابق واقعہ کی مزید تفتیش کی جارہی ہے۔