کراچی میںمطلع جزوی ابرآلود رہا، رات گئے شہر کے مختلف مقامات میں بوندا باندی بھی ہوئی، محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں اتوارکوتیز گرد آلودہوائیں چلتی ہیںجبکہ رات اور صبح کے اوقات میں بوندا باندی بھی ہوئی، جس سے موسم خوشگوارہوگیا۔شہر میں رات گئے نارتھ کراچی، اورنگی ٹائون، لانڈھی، ملیر، صدر، ناظم آباد اور گلشن اقبال سمیت دیگر مقامات پر بوندا باندی ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں مطلع جزوی ابر آلود رہے گا، رات اور صبح کے اوقات میں بوندا باندی کا بھی امکان ہے،پیرکو بھی شہرِ میں تیز اور گردآلود ہوائیں چلیں گی۔محکمہ موسمیات کے مطابق پیرکوکراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے، ہوا میں نمی کا تناسب 61 فیصد ہے جبکہ جنوب مغرب سے 28 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔
Category: کراچی
-

کراچی کا موسم ایک بار پھر تبدیل، مطلع جزوی ابر آلود، بوندا باندی کا امکان
-

دوران ڈکیتی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کو قتل کرنے کے الزام میں 3 مشتبہ افراد گرفتار
رپورٹ کے مطابق ایس پی گلشن اقبال معروف عثمان نے بتایا ہے کہ ‘اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔
انہوں نے بتایا کہ مشتبہ افراد میں سے ایک دیگر 2 کے لیے سہولت کار تھا جس نے متاثرہ شخص کو لوٹنے کی کوشش کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ‘ملزمان منشیات کے عادی تھے جنہوں نے ڈکیتی کی کوشش کے دوران فائرنگ کی جبکہ سہولت کار مشتبہ افراد کو ‘کرائے پر پستول دیتا تھا ۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران دو مشتبہ افراد کی شناخت رستم اور ابراہیم کے نام سے ہوئی ہے اور انہوں نے شہر میں 22 ڈکیتیاں کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
معروف عثمان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے سہولت کار جس کی شناخت ذاکر کے نام سے کی گئی ہے، لوٹے ہوئے قیمتی سامان کا 50 فیصد وصول کرتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ رستم نے پروفیسر کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی جبکہ ابراہیم موٹر سائیکل پر سوار تھا۔
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ان دونوں نے متاثرہ شخص کو قتل کرنے سے قبل ایک خاتون سمیت 3 دیگر افراد کو لوٹنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ذاکر کا کرمنل ریکارڈ بھی موجود ہے اور اسے ماضی میں گرفتار کرکے جیل بھیجا جاچکا ہے، ملزمان نے تفتیش کاروں کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ متاثرہ شخص کے گاڑی نہ روکنے پر انہوں نے کار پر فائرنگ کی تھی۔
ایس پی نے بتایا کہ مشتبہ افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کرلیا گیا اور انہیں ‘مثالی سزا’ دلوائی جائے گی۔
دریں اثنا ڈی آئی جی ایسٹ ثاقب اسمٰعیل میمن نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مبینہ قاتلوں میں سے ایک کو اطلاع ملنے پر کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد مشتبہ شخص نے اہلکاروں کو اپنے ساتھی کا پتا بتایا جس کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے واقعے میں استعمال ہونے والا پستول سہولت کار کو واپس کردیا تھا جسے بھی بعد ازاں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ -

آمدنی چھپانے پر ایف بی آر کو بغیر صفائی ملزم کی گرفتاری کا اختیار دینے کا فیصلہ
حکومت نے بجٹ میں فنانس بل کے ذریعے ایف بی آر کو آمدنی چھپانے پر صرف شک کی بنیاد پر سیاست دانوں، بیورو کریٹس، صحافیوں، صنعت کاروں اور تاجروں سمیت کسی بھی شخص کو صفائی کا موقع دیئے بغیر گرفتار کرنے کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیاہے۔ایف بی آر کی جانب سے آمدنی چھپانے کے شبہ میں گرفتار کیے جانے والے فرد کو 24 گھنٹے کے اندر اندر متعلقہ اسپیشل جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
اس بارے میں ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے سیاسی مقاصد کے لیے غلط استعمال کے ساتھ ساتھ ایف بی آر کی ٹیکس اتھارٹیز کی طرف سے صنعت کاروں و تاجروں سمیت دوسرے ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے لیے غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ یہ قانون کسی خاص طبقے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق سیاست دانوں، بیورو کریٹس، صحافیوں، صنعت کاروں و تاجروں اور خود ایف بی آر کے اپنے افسران و اہل کاروں سمیت ہر شخص پر لاگوہوگا۔
جس کسی پر بھی ٹیکس چوری کرنے اور ٹیکس بچانے کے لیے آمدنی چھپانے کا شک ہوگا، ایف بی آر کا ان لینڈ ریونیو آفیسر اس سیاست دان، بیورو کریٹ، صحافی، وکیل یا کسی عام شخص کو گرفتار کرسکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈی ننس کی سیکشن 203 اے میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے اور سیکشن 203 بی میں گرفتاری کا طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ سے فنانس بل کے ذریعے ان مجوزہ قوانین کی منظوری کے بعد صدر کے دستخطوں کے بعد اس کا اطلاق ہوگا تاہم حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری سے ہوگا۔فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈی ننس کی سیکشن 203 اے میں تجویز کردہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے کم از اکم اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے عہدے کے برابر کے ان لینڈ ریونیو آفیسر کو کسی بھی شخص کے بارے میں آمدنی چھپانے کے شواہد سے متعلق مواد کی بنیاد پر اسے گرفتار کرنے کے اختیارات ہوں گے اور اس آرڈیننس کے تحت تمام گرفتاریاں کوڈ آف کریمنل پروسیجر ایکٹ 1898 کی متعلقہ شقوں کے مطابق عمل میں لائی جائیں گی۔
اگر کسی کمپنی کے آمدنی چھپانے کا شبہہ ہوا یا مذکورہ کمپنی آمدنی چھپانے میں ملوث پائی گئی تو اس کمپنی کے مجاز ڈائریکٹر اور آفیسرکو گرفتار کیا جاسکے گا۔مجوزہ قانون میں بتایا گیا ہے کہ متعلقہ ان لینڈ ریونیو آفیسر کو آمدنی چھپانے کے جرم اور آمدنی چھپانے کے شبہے میں گرفتار کیے جانے والے شخص کے بارے میں فوری طور پر متعلقہ اسپیشل جج کو حقائق کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا، اسپیشل جج متعلقہ ان لینڈ ریونیو آفیسر کو گرفتار شخص کو پیش کرنے کے لیے ہدایات جاری کرسکتا ہے ان لینڈ ریونیو افسر کو ان ہدایات پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی جگہ اسپیشل جج نہیں ہے یا اسپیشل جج کی عدالت کا فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے گرفتار شخص کو 24 گھنٹے کے اندر پیش کرنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں ان لینڈ ریونیو آفیسر گرفتار شخص کونزدیکی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گا۔ سماعت کے دوران ملزم کو ضمانت دینا یا ضمانت مسترد کرنے کا اختیار اسپیشل جج کو ہوگا جوکہ ضمانتی مچلکوں پر بھی ضمانت دے سکتا ہے۔
علاوہ ازیں کیس کی سماعت کے دوران اسپیشل جج کسی بھی مرحلے پر کسی بھی وجہ سے ضمانت منسوخ بھی کرسکے گا اس کے علاوہ کیس کی انکوائری کے لیے اگر ملزم کو زیر حراست رکھنا ہوگا تو اس صورت میں ان لینڈ ریونیو آفیسر اسپیشل جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ کو ملزم کے ریمانڈ کی تحریری درخواست کرسکتا ہے اسپیشل جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ ریکارڈ دیکھ کر ملزم کا 14 دن کا ریمانڈ دے سکتا ہے۔ -

چوری شدہ کاریں آن لائن ٹیکسی سروس میں چلنے لگیں
کراچی کے شہریوں کی چوری شدہ کاریں آن لائن ٹیکسی سروس میں چلنے لگیں، پولیس نے کاریں چوری کرنے والے بین الصوبائی کار لفٹر گینگ کو گرفتار کرلیا ، ملزمان میں دو اہم سرکاری ادارے کے ملازمین بھی شامل ہیں، گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم معروف کار کمپنی میں ٹیکسی سروس چلواتا ہے، ملزمان آن لائن ٹیکسی سروس کے علاوہ رینٹ پر بھی کاریں دیتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں ایس ایس پی اے وی ایل سی عارف اسلم راؤ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق کراچی اوربلوچستان کے علاقے خضدار سے ہے، گرفتار کیے گئے ملزمان کے قبضے سے مختلف علاقوں سے چوری کی گئی 5 کاریں برآمد کی گئیں ، کراچی کے شہریوں کی چوری شدہ کاریں آن لائن ٹیکسی سروس میں چلتی ہیں، گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم معروف کار کمپنی میں ٹیکسی سروس چلواتا ہے، ملزمان آن لائن ٹیکسی سروس کے علاوہ رینٹ پر بھی کاریں دیتے ہیں، گرفتارملزمان میں کراچی کا کار لفٹر گروہ اور بلوچستان کا خریدار بھی شامل ہے ، 3 ملزمان کو اسسٹنٹ کمشنر خضدار نے گرفتار کیا جب کہ ایک کو کراچی میں گرفتار کیا گیا، ملزمان میں 2 اہم سرکاری ادارے کے ملازمین بھی شامل ہیں۔ -

شہر قائد میں غیر قانونی پارکنگ مافیا کا راج،شہریوں کا منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل
شہر قائد میں غیر قانونی پارکنگ مافیا کا راج
شہریوں کا منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل،جگہ جگہ غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے شہریوں کوآئےدن ٹریفک جام کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایکطرف سرکاری خزانے کونقصان تو دوسری جانب عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔ڈسٹرکٹ ایسٹ میں ایک سے زائد پارکنگ سائٹس غیرقانونی طور پر چلانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ڈائریکٹر چارج پارکنگ افتخار اور دیگر عملہ غیرقانونی پارکنگ کی پشت پناہی میں ملوث ہونے کاانکشاف ہوا ہے۔اخبار میں دیے گئے ٹینڈرز کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ جیل چورنگی پر پارکنگ سائٹس ڈی ایم سی ایسٹ کی ہے۔مگردوسری جانب ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ کی مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ سامنے آ گئی ہے۔ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ کی غفلت سے پوری سائٹس ہی غائب ہے۔چلان میں جیل چورنگی کی سائٹس ہی غائب کردی گئی۔

جیل چورنگی پارکنگ سائٹ سے روزانہ بیس ہزار پارکنگ فیس جمع ہوتی ہے۔ سالانہ تہتر لاکھ کا سرکاری خزانہ کو چونا لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔غیر قانونی چارج پارکنگ علی اور جعفر نامی شخص چلا رہے ہیں۔غیر قانونی عمل میں ڈائریکٹر چارج پارکنگ افتخار کی مبینہ سرپرستی شامل ہے۔جیل چورنگی پارکنگ سائٹ سے ڈیپارٹمنٹ کو آدھا حصہ دیا جاتا ہے۔
نشان دہی پر مقامی پولیس کا سخت ایکشن،ایس ایچ او فیروزآباد اورنگزیب خٹک کی بروقت کاروائی موقع پر گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔غیر قانونی چارج پارکنگ کرنے والے 4 افراد کو موقع پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس نے دفعہ 341 کے تحت گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔
-

چین سے انجینئرنگ کی ڈگری لانے والا تربوز کا جوس بیچنے لگا
چین سے ایئرو ناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری لے کر وطن واپس آنے والا تربوز کا جوس بیچنے لگا ۔ تفصیلات کے مطابق عبدالملک چین سے ایئرو ناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری لے کر وطن واپس آئے تھے مگر سفارش نہ ہونے کے باعث مناسب نوکری کی تلاش میں ہیں۔عبدالملک کی اسکولنگ عرب امارات میں ہوئی،ایئروناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری انہوں نے چین کی یونیورسٹی سے حاصل کی۔
سوات سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان اچھے مستقبل کا خواب لے کر پاکستان آیا تھا، ایئرو ناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں انٹرن شپ کی۔پشاور فلائنگ کلب میں ٹرینی انجینئر اور ایک نجی ایئرلائن میں اسسٹنٹ ریمپ آفیسر کی ملازمتوں میں چند سال بھی لگائے مگر نہ اہلیت کے مطابق عہدہ ملا، نہ حق کے مطابق تنخواہ ہی ملی۔جب بیس پچیس ہزار میں گھر چلانا ممکن نہ رہا تو عبدالملک زندگی کی گاڑی گھسیٹنے کراچی آ گئے اور یہاں تربوز کا جوس بیچنے لگے۔عبدالملک پشتو، اردو، انگریزی، عربی اور چائنیز زبانیں جانتے ہیں ۔ -

کراچی کے شہریوں کو تکلیف سے بچانے کیلئے پورا ملک تکلیف برداشت کرتا ہے، فواد چوہدری
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ قوم پرست سیاست کررہےہیں، وہ خود کو بینظیر اورذوالفقار بھٹو کی سیاست سے الگ کررہے ہیں، سندھ کو 3 سالوں میں 1600 سے 1800 ارب روپےدیئےگئے، اس بجٹ میں بھی سندھ کا حصہ بڑھایا گیا ہے، ان کے پاس اتنا پیسہ آیا لیکن وہ کہاں گیا۔
وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اتنا پیسہ ملنے کے باوجود بھی صوبائی حکومت اب تک اپنا محکمہ پولیس بھی ٹھیک نہ کرسکی، اور ہر سال وفاق کی منت کرتی ہے کہ رینجرز کو صوبے میں رہنے دیا جائے، کراچی پولیس میں اتنی اہلیت نہیں کہ امن بحال کرے، سندھ میں اس وقت آرٹیکل 140 اے لاگو کرنےکی ضرورت ہے، گورنر راج حل نہیں کیونکہ یہ غیرجمہوری عمل ہے، سندھ اور کراچی کے شہریوں کو تکلیف سے بچانے کیلئے پورا ملک تکلیف برداشت کرتا ہے، وفاقی حکومت نے کےالیکٹرک کو 500 میگا واٹ اضافی بجلی فراہم کی، جس کی وجہ سے شدید گرمی میں کراچی والوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا نہیں پڑا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ رواں سال سندھ کو 7 سے ساڑھے 7 سو ارب روپے ملیں گے، گزشتہ چند سال میں لاڑکانہ پر 90 ارب روپے خر چ ہوچکے لیکن کام نظرنہیں آرہا، بدین، گھوٹکی اور دیگرعلاقوں کے نام پر بھی پیسہ لیا جاتا ہے لیکن وہاں کام نہیں ہوتا ہے، من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دے کر سندھ کو کب تک چلایا جائےگا، سب سے زیادہ پلی بارگین کے کیسز سندھ کے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں اس سال گندم، چاول اور مکئی کی ریکارڈ فصل ہوئی، کورونا کے باوجود پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم رہی، حکومت نے اس بجٹ میں چھوٹی گاڑیوں کی قیمت میں بھی کمی کی، موبائل ڈیٹا اور کالز پر ٹیکس کو بھی مسترد کردیا گیا ہے، بجٹ میں کم سےکم تنخواہ 20 ہزار کردی ہے، رواں سال پاکستان کی گروتھ اور عام آدمی کی بہتری کا سال ہوگا، خوشی ہے پاکستان کے تمام طبقوں نے بجٹ کو ویلکم کیا ہے، لیکن (ن) لیگ کی ایک خوبی ہے کہ وہ ہر چیز کو پڑھے بغیرمسترد کردیتے ہیں، انہوں نے بجٹ پڑھا بھی نہیں اور کہا ہم اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں، انہوں نے الیکٹرونگ میشن کو دیکھا بھی نہیں اور مسترد کردیا، ان کو اگلے الیکشن میں ناکامی نظرآرہی ہے اس لیے وہ الیکشن اصلاحات نہیں چاہتے، یہ لوگ ابھی سے یہ کہہ رہے ہیں اگلے الیکشن میں دھاندلی ہوگی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ (ن) لیگ نے سوچا رکھا ہے کہ ہرچیز کو مسترد کرنا ہے،انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے حقارت کے ساتھ مسترد کردیا، اور احسن اقبال نے کہا کہ اوورسیز کو پاکستانی مسائل کا ادراک نہیں ہے، نوازشریف، اسحاق ڈار اوران کے بیٹے بھی تو اوورسیز ہیں، ان کے بارے میں کیا خیال ہے، اوورسیز پاکستانی ملک سے پیسہ باہر نہیں لے کرجاتے بلکہ باہر سے اپنے ملک بھیجتے ہیں،اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق جو ریمارکس دیئے گئے ہیں اس کی مذمت کرتاہوں، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، سعدرفیق اور دیگر لیگ رہنما خطاطی سیکھیں اور قلم دوات لے کر لکھا کریں حکومت نامنظور، اس سے ان کا بینرز کا خرچہ بچے گا۔
-

امید ہے ایمان علی خواجہ سراؤں سے معافی مانگیں گی‘حمائمہ ملک
معروف اداکارہ حمائمہ ملک نے ایمان علی کے بیان پر رد عمل میں کہا ہیکہ انہیں امید ہے ایمان خواجہ سراؤں سے معافی مانگیں گی۔انسٹاگرام پر حمائمہ ملک کی جانب سے اسٹوری شیئر کی گئی جس میں انہوں نے لکھا کہ ہم ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں دوسرے کو نیچا دکھانا بہت عام تصور کیا جاتا ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ خواجہ سرا کسی سے کمتر نہیں، وہ اللہ کی بنائی گئی مخلوق ہیں جو ہماری ہی طرح انسان ہیں، بجائے اس کے کہ ہم اللہ کی دوسری مخلوق کی طرح ان سے محبت کریں، ہم ان میں تفریق کرتے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں۔حمائمہ نے کہا کہ ایک سلیبریٹی ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنے الفاظ بہت سوچ سمجھ کر کہنے چاہئیں، کسی کے جذبات مجروح کرنے کے بجائے ہمیں اپنی نسل کیلئے کچھ اچھا اور سیکھنے کے قابل کرنا چاہیے۔
اداکارہ نے ایمان علی کے بیان کو ایک سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایمان خواجہ سرا کمیونٹی سے معافی مانگ لیں گی۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل ایمان علی ایک پروگرام میں جلوہ گر ہوئیں جہاں انہوں نے خود کو خراجہ سرا سے تشبیہ دی اور کہا کہ انہیں اپنا آپ اور شکل پسند نہیں۔اداکارہ کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین اور معروف شخصیات کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ -

متوازن بجٹ پیش کیا گیا , کارپٹ ایسوسی ایشن
پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وفاقی بجٹ کو مجموعی طو رپر خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معیشت کی بنیادبرآمدات پر رکھنا چاہتی ہے تواس کیلئے مزید غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے،بجٹ میں پاکستانی برآمدی مصنوعات کی تشہیر کیلئے پالیسی کا اعلان ہونا چاہیے تھا،سرمائے کی قلت کو ختم کرنے کیلئے ریفنڈز کے حجم کو بڑھایا جائے اور ادائیگی کے طریق کار کو مزید سہل کیا جائے ۔
ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عبد اللطیف ملک ،سینئر وائس چیئرمین ریاض احمد ، سعید خان، اکبر ملک، میجر (ر) اختر نذیر، اعجاز الرحمان ،دانیال حنیف، فیصل سعید نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لئے متوازن بجٹ پیش کیا ہے اوراگر اعلانات کو حقیقت کا روپ دیا گیا تو اس سے معیشت پر مزید مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو برآمدات میں اضافے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے ، مصنوعات کی تشہیر اوربرآمد کنندگان کی عالمی نمائشوں میں شرکت کے لئے معاونت کے 20/80کے فارمولے پر عملدرآمد کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں خام مال کی درآمد پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے حوالے سے مثبت اعلانات کئے گئے ہیں تاہم ان کی تفصیلی وضاحت سامنے آنی چاہیے ۔ -

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی لسانی و تعصب زدہ سیاست نے شہری سندھ کو زندہ در گور کردیا ہے، مصطفی کمال
پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہاہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی لسانی و تعصب زدہ سیاست نے شہری سندھ کو زندہ در گور کردیا ہے۔اقتدار و وسائل پرقابض حکمرانوں نے بلدیاتی نظام کو معطل کرکے جہاں ایک جانب آئین پاکستان کی دھجیاں اڑا دی ہیں تو وہیں دوسری جانب عوام کو تمام بنیادی ضروریات سے بھی محروم کردیا ہے، بلدیاتی نظام کے حوالے سے مکمل تشریح آئین کا حصہ ہونی چاہیے تاکہ کوئی وزیر اعلی اپنی مرضی کے مطابق آئین کی تشریح نا کرسکے۔
گزشتہ 72 سال سے مسند اقتدار پر براجمان حکمرانوں نے حیدرآباد سمیت پورے پاکستان کے ساتھ بدترین سیاسی اور معاشی کھلواڑ کیا ہے، جس کے نتیجے میں صوبہ اور اس کے عوام تعلیمی، طبی اور معاشی پسماندگی کیساتھ ساتھ بدامنی اور لاقانونیت کے دلدل میں دھنستے چلے گئے ہیں۔
ن خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد میں معززین شہر، تاجر برادری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اکابرین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے مزید کہا کہ پی ایس پی کا مقصد عوام کو حکمراں بنانا ہے، ہمیں حکومت ملی تو ہم پی ایف سی ایوارڈ کے زریعے اختیارات اور وسائل کو نچلی ترین سطح پر اس مثالی انداز میں منتقل کریں گے کہ عوام خود بخود حکمران بن جائیں گے۔
ہم اختیارات اور وسائل کو ایوان وزیر اعظم اور ایوان وزیر اعلی سے نکال کر پاکستان کی ایک ایک گلی میں ایسے منتقل کریں گے کہ عوام کیساتھ ظلم و زیادتی کرنے والوں کے محاسبے کے لیے کسی الگ ادارے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آسان، سستا اور نظر آتا ہوا انصاف عوام کو انکی دہلیز پر ملے گا۔ اٹھارویں ترمیم سے صوبے کے وزیر اعلی اختیارات اور وسائل پر قابض ہیں، اب یہ وزرا اعلی کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ کسی ڈسٹرکٹ کو وسائل فراہم کریں یا نا کریں، اٹھارویں ترمیم میں مزید ترمیم کیے بغیر اختیارات اور وسائل نچلی ترین سطح پر عوام تک نہیں پہنچ سکتے، لحاظہ این ایف سی ایوارڈ کی طرز پر پی ایف سی ایوارڈ کا اجرا کیا جائے، وفاقی حکومت این ایف سی کو پی ایف سے کیساتھ لازم و ملزوم قرار دینے کے علاوہ تواتر سے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، تب ہی ملک میں تباہ حال معیشت، انفرااسٹرکچر اور سماجی معاملات کو بحالی کی جانب گامزن کیا جاسکتا ہے۔