Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی چیمبر نے وفاقی بجٹ کو متوازن بجٹ ، چھوٹے تاجروں نے الفاظ کا ہیرپھیر قرار دیا

    کراچی چیمبر نے وفاقی بجٹ کو متوازن بجٹ ، چھوٹے تاجروں نے الفاظ کا ہیرپھیر قرار دیا

    کراچی چیمبر آف کامرس نے وفاقی بجٹ برائی2021-22کو متوازن بجٹ جبکہ چھوٹے تاجروں نے الفا ظ کا ہیرپھیرقرار دیا ہے۔بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بجٹ انقلابی نہیں ہے،بزنس کمیونٹی کا خیال تھا کہ فنانس بل سامنے آنے پر ہی پتا چلے گا کہ اعداد وشمار کیا ستم ڈھائیں گے،چھوٹے تاجروں نے بجٹ کو الفاظوں کا گورکھ دھندا اورآئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیا ہے۔
    ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر محمدحنیف لاکھانی نے کہا کہ بجٹ مثبت ہے لیکن حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ وہ 5ہزار632ارب روپے کا ریونیووصو لی کا ہدف کیسے حاصل کرے گی اور نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں لانے کیلئے کیا قدم اٹھایا جائے گا اس کا کوئی واضح اعلان نہیں ہے،تاہم درآمدی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں کمی سے چھوٹی گاڑیاں سستی ہونگی جبکہ سیلف اسسمنٹ سے ہراسمنٹ کم ہوگی،پی ایس ڈی پی 600ارب روپے سے بڑھا کر950ارب روپے کرنا اچھا اقدام ہے۔

    پاکستان میں کرونا وائرس کی صورتحال

    مریض939,931اموات21,633صحت یاب875,581

    زیر بحثبجٹ 2021ءگھوٹکی ٹرین حادثہپاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر
    Multan Sultans ملتان سلطانز بمقابلہ Quetta Gladiators کوئٹہ گلیڈی ایٹرز – ہفتہ 12 جون

    Islamabad United اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ Lahore Qalandars لاہور قلندرز – اتوار 13 جون

    HBL PSL6 2021 Live Streaming
    Live Updates
    ایف پی سی سی آئی،کراچی چیمبر نے وفاقی بجٹ کو متوازن بجٹ ، چھوٹے تاجروں نے الفاظ کا ہیرپھیرقرار دیا
    ہفتہ 12 جون 2021 00:02

    کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 11 جون2021ء) ایف پی سی سی آئی،کراچی چیمبر آف کامرس نے وفاقی بجٹ برائی2021-22کو متوازن بجٹ جبکہ چھوٹے تاجروں نے الفا ظ کا ہیرپھیرقرار دیا ہے۔بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بجٹ انقلابی نہیں ہے،بزنس کمیونٹی کا خیال تھا کہ فنانس بل سامنے آنے پر ہی پتا چلے گا کہ اعداد وشمار کیا ستم ڈھائیں گے،چھوٹے تاجروں نے بجٹ کو الفاظوں کا گورکھ دھندا اورآئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیا ہے۔
    ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر محمدحنیف لاکھانی نے کہا کہ بجٹ مثبت ہے لیکن حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ وہ 5ہزار632ارب روپے کا ریونیووصو لی کا ہدف کیسے حاصل کرے گی اور نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں لانے کیلئے کیا قدم اٹھایا جائے گا اس کا کوئی واضح اعلان نہیں ہے،تاہم درآمدی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں کمی سے چھوٹی گاڑیاں سستی ہونگی جبکہ سیلف اسسمنٹ سے ہراسمنٹ کم ہوگی،پی ایس ڈی پی 600ارب روپے سے بڑھا کر950ارب روپے کرنا اچھا اقدام ہے۔
    (جاری ہے)

    بزنس کمیونٹی کے رہنما اور یونائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے کہا کہ میں وزیراعظم عمران خان اور وزیرخزانہ شوکت ترین کو کووڈ 19 کے سبب مشکلات کے باوجود بہترین بجٹ پیش کیا ہے اور جی ڈی پی4.8فیصد ہونے سے معیشت میں بہتری آئے گی،حکومت کو بجلی اور گیس کے نرخ کم کرنے چاہئیں تھے جبکہ مہنگائی اب بھی زیادہ ہے جسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔
    وفاقی بجٹ پر کراچی چیمبر آف کلامرس کے صدرشارق وہرہ،بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا، انجم نثار،ہارون فاروقی ،سراج قاسم تیلی کے صاحبزادے نٴْصیرسراج تیلی ا وردیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ انقلابی بجٹ نہیں مگر ابھی تک بیلنس بجٹ ہے ،حکومت ریونیو کلیکشن 24فیصد زائد مانگ رہی ہے سوال یہ ہے کہ1230ارب سے زائد اضافہ ریونیو کہاں سے آئے گا، بجٹ میں عام آدمی کیلئے ریلیف ہے،ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے بہت کچھ رکھا گیا ہے، ایف بی آر کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کئے گئے ہیں،تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کا اعلان یہ بہت اچھا فیصلہ ہے ۔
    زبیر موتی والا نے کہا کہ یہ ایک اچھا اور بہتر بجٹ ہے،اس بجٹ میں انڈسٹریل سیکٹر اور م معیشت کی بہتری کیلئے اچھے فیصلے ہوئے،سیلف اسسمنٹ اسکیم ایک بہت بڑا فیصلہ ہے اگر اس پر عمل ہوتا ہے یہ بہت فائدہ مند ہوگا، ٹیکس ادا کرنیوالوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا،حکومت وبزنس کمیونٹی کیلئے اچھے الفاظ کا استعمال کرنا چاہئیے،لوگ ٹیکس نیٹ میں کیوں نہیں آنا چاہتے اس کو دیکھنا ہوگا،سوال یہ ہے کہ مسائل کی وجہ سے جو لوگ ٹیکس نہیں دے رہے توکیا حکومت بزنس کمیونٹی کو جیل میں ڈال دے گی، کاٹن یارن پر ڈیوٹی کو 5فیصد کم کیا ہے لیکن حقیقت میں ایسا ہوہے یا نہیں،حقائق کل ہی سامنے آئیں گے،غریب کے استعمال کی اشیاء میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا،سال کا 6سے 7سو ارب کا نقصان کرنیوالے اسٹیل مل اور پی آئی اے کو کیوں پیسے دئیے جارہے ہیں،ان دونوں اداروں کو پرائیوٹائز یا جائے،: موجودہ حالات میں 24 فیصد آمدن بڑھانا سمجھ نہیں آتا،بیوروکریسی کے پاور کم کرنا بڑا فیصلہ ہے، سیلف اسسمنٹ اسکیم کا دورانیہ پانچ سال کا اعلان کرتے تو اعتماد اور بڑھ جاتا،ریٹیل پر سیلز ٹیکس لانے کی بات اچھا اقدام ہے۔
    چھوٹے تاجروں کے رہنما اورآل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرزاینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر محمود حامد نے کہا کہ بجٹ الفاظوں کا گورکھ دھندہ اورآئی ایم ایف کا چربہ بجٹ ہے،چھوٹا تاجر جو پہلے ہی کرونا وائرس کی وجہ سے شدید ترین مشکلات میں ہے اور حکومت نے اسے کوئی سہولیات ومراعات نہیں دی ہیں لیکن اب بجٹ میں بھی انکے لئے کوئی خوشخبری نہیں ہے اور یہ بجٹ بھی امیروں،صنعتکاروں اوروڈیروں کیلئے ہے۔
    انہوں نے کہا کہ زرعی سیکٹر پر انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا اور عام آدمی کو زمین میں دفن کردیا جاتا ہے۔حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میںمقامی کار مینو فیکچرنگ سیکٹر کیلئے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے خاتمے اور سیلز ٹیکس کی شرح میںکمی کے نتیجے میںکاروں کی قیمتوںمیں بھی کمی کا امکان ہے۔آٹو سیکٹر سے وابستہ راشد محمود اعوان کے مطابق850سی سی کی مقامی کار پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمہ اور سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے گھٹا کر12.5فیصد کرنے سے 850سی سی کی کار کی قیمت میں1لاکھ تا سوا لاکھ روپے کی کمی متوقع ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت نے مقامی کار مینو فیکچررز کیلئے مراعات کا اعلان کیا ہے ،تاہم گزشتہ چند ماہ کے دوران ڈالرز کی قدر میںزبردست کمی کی مطابق مقامی طور پر تیار ہونے والی کاروںکی قیمتوںمیںکمی نہیںہوسکی ہے ،انہوںنے کہا کہ حکومت کو در آمدی گاڑیوںکے ضمن میں بھی مراعات کا اعلان کرنا چاہیئے کیونکہ در آمدی گاڑیوںمیں جوخصوصیات اور حفاظتی فیچرز سامل ہوتے ہیں،مقامی کار ساز ادارے ایسی خصوصیات کی فراہمی میںناکام رہے ہیںجبکہ مقامی طور پر تیار ہونے والی کاریں متوسط طبقہ کی پہنچ سے بھی دور ہوگئی ہیں۔

  • وفاقی بجٹ میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے لیے 739 ارب روپے مختص

    وفاقی بجٹ میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے لیے 739 ارب روپے مختص

    وفاقی بجٹ میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے لیے 739 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت 98 ارب روپے دے گی ، سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے 509 ارب شامل ہوں گے۔اس کے ساتھ سندھ کے 14 سے زائد اضلاع کی ترقی کیلیے 444 ارب روپے سے 107 منصوبے مکمل ہوں گے۔
    بجٹ تقریر میں شوکت ترین نے کہا کہ سکھر حیدرا?باد موٹر وے اور سیالکوٹ کھاریاں موٹر وے پر کام شروع کردیا گیا ہے، مین لائن (ایم ایل) ون منصوبے کا آغاز جولائی میں ہوگا، ریلوے کا مین لائن ون منصوبہ 9 ارب 30 کروڑ ڈالرز کی لاگت سے مکمل ہوگا۔

    بجٹ میں زرعی شعبے کیلئے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ کم آمدنی والوں کیلئے گھروں کی تعمیرپر 3 لاکھ روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔

  • لوڈ شیڈنگ لوگوں کی برداشت سے باہر ہوگئی ہے ، امتیاز احمد شیخ

    لوڈ شیڈنگ لوگوں کی برداشت سے باہر ہوگئی ہے ، امتیاز احمد شیخ

    وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے چیئرمین نیپرا اور پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار تمام کمپنیوں کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسرز کے زوم اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوڈ شیڈنگ لوگوں کی برداشت سے باہر ہوگئی ہے سندھ کے متعدد شہروں میں اٹھارہ اٹھارہ، بیس بیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ کوئی بھی فیڈر ایسا نہیں ہے جسے لوڈ شیڈنگ فری کہا جاسکے۔
    کراچی جیسے شہر میں گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنادیا ہے۔ مجھے روزانہ لیاری، ملیر، گلشن اقبال، ناظم آباد اور ڈیفنس سمیت کراچی کے مختلف علاقوں سے بجلی کے طویل تعطل کی ٹیلیفون کالز موصول ہوتی ہیں۔وزیر توانائی نے کہا کہ ہمارے لوگ قطاروں میں کھڑے رہ کر باقاعدگی سے بجلی کے بل جمع کراتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں اس شدید گرمی میں بجلی میسر نہیں جس کے لئے نیپرا کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے بازپرس کرنی ہوگی تاکہ یہ کمپنیاں لوگوں کو بجلی بلا تعطل فراہم کریں۔
    صوبائی وزیر نے بتایا کہ سندھ میں حیسکو اور سیپکو کی کارکردگی بھی انتہائی خراب ہے حالت یہ ہے کہ دا دو کے علاقے جوہی میں 2010 سے جو ٹرانسفارمر اور لائنیں ناکارہ اور گری ہوئی ہیں ان کی ابھی تک مرمت نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی چوری میں ڈسکوز کے اہلکار خود ملوث ہیں اور ڈسکوز کے لوگوں کی ملی بھگت کے بغیر بجلی کی چوری ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی صرف باتوں اور وعدوں سے صورتحال مزید خراب ہوگی اور سندھ حکومت اپنے لوگوں کو حیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک کی خراب کارکردگی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
    لہذا چیئرمین نیپرا ڈسکوز کو پابند کریں کہ وہ معینہ وقت میں بجلی کی صورتحال بہتر بنائیں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔زوم اجلاس میں پاکستان کی تمام ڈسکوز کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز کے ساتھ ساتھ چیئر مین نیپرا اور این ٹی ڈی سی کے افسران اور عام شہریوں نے بھی شرکت کی

  • کراچی سے موٹر سائیکلیں چھین کر ٹھٹھہ میں بیچنے والے ملزم گرفتار

    کراچی سے موٹر سائیکلیں چھین کر ٹھٹھہ میں بیچنے والے ملزم گرفتار

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں موٹر سائیکلیں چھیننے والے گروہ کا اہم کارندہ گرفتار کرلیا گیا، ملزمان موٹر سائیکلیں ٹھٹھہ میں بیچتے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کا کہنا ہے کہ میمن گوٹھ پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی، کارروائی میں 125 سی سی موٹر سائیکلیں چھیننے والے گروہ کا اہم کارندہ گرفتار کرلیا گیا۔

    ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ملزم ساجد کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزم نے 30 سے زائد وارداتوں کا اعتراف کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ ملزمان موٹر سائیکلیں ٹھٹھہ میں بیچتے تھے، ملزمان نئی موٹر سائیکل 20 ہزار میں فروخت کرتے تھے۔

  • کراچی میں ویکسی نیشن مراحل نظرانداز کئے جانے کا انکشاف

    کراچی میں ویکسی نیشن مراحل نظرانداز کئے جانے کا انکشاف

    شہر قائد میں شہریوں کی جانب سے کورونا ویکسی نیشن کے مراحل نظرانداز کیے جانے کا انکشاف ہواہے ‘ شہری ویکسین لگا کر انٹری کے بغیر چلے جاتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں 50سے زائد مراکز پرویکسی نیشن کاسلسلہ جاری ہے تاہم ویکسی نیشن کی دونوں ڈوز مکمل کرنے والے متعدد شہری سرٹیفکیٹ کے حصول سے محروم ہیں۔

    شہریوں کی جانب سے ویکسی نیشن کے مراحل نظرانداز کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ، ڈیٹا انٹری آپریٹر کا کہنا ہے کہ ویکسی نیشن کیلئے تین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے‘ پہلا مرحلہ رجسٹریشن ، دوسرا ویکسین اور تیسرا مرحلہ سسٹم میں اندارج کا ہے، رش کی صورت میں شہری ویکسین لگا کر انٹر ی کے بغیر چلے جاتے ہیں۔

    ماہرین نے کہا کہ مطلوبہ معلومات نہ ہونے کے سبب سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا، نادرا میں انٹرنیٹ کنیکٹویٹی اور لوڈشیڈنگ بھی مسائل کی وجہ ہے۔

  • روس نے پاکستان سے چاول درآمد کرنے پر عائد پابندی اٹھالی

    روس نے پاکستان سے چاول درآمد کرنے پر عائد پابندی اٹھالی

    روس نے پاکستان سے چاول درآمد کرنے پر عائد پابندی اٹھالی

    کراچی : روس نے پاکستان سے چاول درآمد کرنے پر عائد پابندی 11 جون 2021 سے اٹھا لی۔روس کے پلانٹ پروٹیکشن کے ادارے روزل خوزنادزور نے اپنے خط میں وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے ماتحت ادارے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کےڈائریکٹر ٹیکنکل محمد سہیل شہزادکو پاکستان سے چاول کی درآمد سے باضابطہ پابندی اٹھانے سے متعلق آگاہ کیا۔

    ابتدائی طور پر روسی پلانٹ پروٹیکشن ادارے نے پلانٹ پروٹیکشن کے سفارش کردہ چاول پرو سیسنگ اور برآمد کرنے والے چار یونٹس سے روس میں چاول درآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ جن میں دو کارخانے کراچی میں واقع ہیں اور ایک لاہور اور ایک چنیوٹ میں ہے جب کہ روس نے دیگر چاول پروسس اور برآمد کرنے یونٹس اور برآمد کنندگان سے روس میں چاول کی درآمدان یونٹس کی پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن ادارے کی سفارش اور آن لائن معائنہ اور تصدیق سے مشروط کیا ہے۔

    روس کے پلانٹ پروٹیکشن کے ادارے نے 16مئی 2019 کو چاول کی ایک کنسائنمنٹ سے کیڑا نکلنے پر پاکستان سے مزید چاول کی درآمد پر پابندی لگادی تھی جس پر وزارت قومی خوراک اور ان کے ماتحت ادارے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن پاکستان نے اس معاملہ کی تحقیق کرکے وجوہات معلوم کی اور ان وجوہات کا روس کے ساتھ تبادلہ کیا، مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے ایک جامع فائٹو سینٹری رہنمائی پروگرام بنایا اور پھر اس کو چاول پروسیسنگ فیکڑیوں اوریونٹس پر لاگو کردیا۔ پروگرام سے متعلق روس کو بھی آگاہ کیا گیا.

  • سپرہائی وے کراچی پرایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی کا دوسرا روز

    سپرہائی وے کراچی پرایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی کا دوسرا روز

    کراچی:سپرہائی وے پرایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی کا دوسرا روز

    شہریوں کی بڑی تعداد نے بھاؤ تاؤ کے لیے مویشی منڈی کارخ کرلیا.پنجاب،بلوچستان،خیبر پختونخوا سے ہلکے بھاری جانور بھی مویشی منڈی پہنچ گئے ہیں۔اس وقت300سے زائد جانور مویشی منڈی پہنچ چکے ہیں۔ مویشی منڈی کے مختلف بلاکس میں تعمیراتی کام تیز کر دیا گیا ہے۔24 گھنٹے بجلی سپلائی کیلئے بڑے بڑے پول نصب کئے گئے ہیں۔

    وی آئی پی بلاکس میں بھی ٹینٹ،شامیانے گاڑدیئےگے ہیں ۔سپرہائی وے مویشی منڈی میں ننھے بیوپاری نے دھوم مچادی۔پنجاب،سندھ، بلوچستان اور کےپی کےسےقربانی کے جانوروں کی آمد شروع ،کراچی مویشی منڈی میں اس بار 6لاکھ سے زائد جانوروں کی گنجائش رکھی گئی یے.

  • بجٹ اجلاس کے موقع پہ اپوزیشن سے کس طرح کے رویے کی توقع ہے راجہ اظہر نے بتا دیا

    بجٹ اجلاس کے موقع پہ اپوزیشن سے کس طرح کے رویے کی توقع ہے راجہ اظہر نے بتا دیا

    بجٹ اجلاس کے موقع پہ اپوزیشن سے اچھی رویہ کی توقع ہے راجہ اظہر رکن صوبائی اسمبلی تحریک انصاف

    وفاقی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کر رہی ہے
    غریب کی مشکلات کا وزیراعظم عمران خان کو بخوبی احساس ہے.بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود کوپیش نظررکھا گیاہےقومی اسمبلی میں اپوزیشن نے احتجاج اور ھٹ دھرمی کا رویہ اختیار کیا تو خاموش نہیں رہیں گے.قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں احتجاج کا جواب سندھ اسمبلی میں دیا جائیگا.

    سندھ اسمبلی میں بجٹ کے موقع پہ بھرپور احتجاج کریں گے.چھوٹے بڑوں سے سیکھتے ہیں امید ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن مثبت رویہ رکھے گی.قومی اسمبلی میں احتجاج نہ ہوا تو سندھ اسمبلی میں تعاون کریں گےاراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو پارلیمانی روایات کا پاس رکھنا چاہئیے .

  • سندھ کی تیسری بجٹ سہہ ماہی رپورٹ نے سندھ حکومت کی نالائقی کو بےنقاب کردیا

    سندھ کی تیسری بجٹ سہہ ماہی رپورٹ نے سندھ حکومت کی نالائقی کو بےنقاب کردیا

    سندھ کی تیسری بجٹ سہہ ماہی رپورٹ نے سندھ حکومت کی نالائقی کو بےنقاب کردیا ہے، پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفار

    سندھ حکومت ٹیکس ہدف مکمل کرنے میں ناکام رہی.سندھ حکومت نے این ایف سی کے حوالے جھوٹے بیانات جاری کیے.سندھ حکومت کے پاس پیسہ خرچ کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔

    کراچی:پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفار نے کہاکہ سندھ کی تیسری بجٹ سہہ ماہی رپورٹ سے سندھ حکومت کی کارکردگی واضح اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوچکا ہے ٹیکس کلیکشن ہویا پھرصوبے کی ترقی سندھ حکومت اپنی کارکردگی دکھانے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے دستاویزات کے مطابق وفاق نے این ایف سی کی مد میں 9 ماہ میں509 ارب یعنی 66 فیصد سندھ حکومت کو دیدیا ہے جبکہ مجموعی این ایف سی رقم 700 ارب ہے دوسری جانب سندھ حکومت ٹیکس کلیکشن کے ہداف پورے نہ کرسکی سندھ حکوت نے صوبے بھر سے 47 فیصد ٹیکس وصول کیا گیا جبکہ نان ٹیکس ریونیو 18 فیصد وصول کیا گیاجو کہ انتہائی حیران کن ہے 9 ماہ میں سندھ حکومت نے 2.9 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جو کہ مجموعی رقم کا 10 فیصد بنتا ہے ، ایگریکلچر اور دیگر زرائع سے سندھ حکومت کا 3.874ارب ٹیکس جمع کرنے کاہدف تھا جس میں 484 ملین روپےٹیکس جمع ہوا جوکہ 12 فیصد بنتاہے،پراپرٹی ٹیکس کا ہدف 9ارب 37 کروڑ جو کہ96 کروڑ وصول کیے گئے جوکہ 10 فیصد بنتا ہے،بورڈ آف ریونیو 13 فیصد،ایگریکلچر 10 فیصد ، اریگیشن 27 فیصد ، جنگلات 11 فیصد ، انرجی ڈپارٹمنٹ 4 فیصد ٹیکس وصول کیا گیا یہ سندھ حکومت کی کارکردگی ہے جو ٹیکس اکھٹا کرنے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفار نے کہا کہ سندھ حکومت کے 9 ماہ کے اخراجات کے حوالے سے بات کیجائے 646 ارب ہے جس میں 570 کرنٹ ایکسپینڈیچر ہے حکومت چلانے کیلئے 560 ارب خرچ کیے گئے ترقیاتی اخراجات کی بات کریں تو سندھ حکومت کا ہدف235 ارب روپے تھا وہ 9 ماہ میں صرف 77 ارب روپے خرچ کیے یعنی سندھ کی ترقی کیلئے 31 فیصد بجٹ خرچ کیا گیا، نئی اسکیموں کیلئے 34 ارب مختص کیے گئے 9 ماہ میں نئی اسکیموں پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا جو ثابت کرتا ہے سندھ حکومت نااہل ہے بری طرح ناکام ہوگئی ہے بلال غفار نے مزید کہا کہ ہر بار سندھ حکومت کہتی ہے کہ وفاق نے این ایف سی کا شئیر کم دیا مگر یہ جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں وفاق کی جانب سے این ایف سی کی رقم پوری دی جارہی ہے تیسری سہہ ماہی رپورٹ واضح بتاتی ہے کہ سندھ حکومت کے پاس ساڑے 35 ارب روپے بیلنس میں موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے سندھ حکومت کے پاس وسائل ہیں مگر کوئی حکمت عملی نہیں سندھ حکومت کے پاس پیسہ خرچ کرنے کی اہلیت نہیں ہے بلال غفار نے مزید کہا کہ ہیلتھ کا بجٹ 31 ارب تھا جس میں ریلیز 7 ارب ہوا جبکہ خرچہ صرف 2 بلین کیا گیا جو کہ 7 فیصد ہے، اسی طرح دوسری جانب ٹرانسپورٹ کا بجٹ 17.7 ارب تھا ریلیز صرف 1.8 بلین ہوا اور خرچ صرف 7 کروڑ کیا گیا یعنی 3 فیصد صوبے کی ٹرانسپورٹ پر خرچ کیا گیا یہی وجہ ہے کراچی جیسے میگا سٹی میں ٹرانسپورٹ کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے بلال غفار نے کہا کہ پلینگ ڈپارٹمنٹ کا بجٹ 33 ارب ریلیز 10ارب ہوااور اب تک 4.9 ارب خرچ کیا گیا جو کہ 12 فیصد ہے ، لوکل گورنمنٹ 36 ارب مختص ریلیز 20 بلین اور 12 بلین خرچ کیے گئے تعجب ہے کہ جو اہم محکمے ہیں ان میں پیسہ خرچ نہیں کیا جارہا مگر ایریگیشن ، جنگلات میں سندھ حکومت نے اتنا پیسہ خرچ کیا۔

  • مراد علی شاہ چاہتے ہیں کراچی موئن جوڈرو بن جائے

    مراد علی شاہ چاہتے ہیں کراچی موئن جوڈرو بن جائے

    وزیراعظم عمران خان کے خصوصی ترقیاتی پیکچ برائے کراچی سے گلشن اقبال کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔

    گلشن اقبال سے رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج نے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔ارسلان تاج نے مختلف گلشن اقبال میں ترقیاتی منصوبوں کا ہنگامی دورہ کیا۔

    ارسلان تاج کا کہنا تھا پیپلزپارٹی کو دکھ ہے کہ کراچی میں کام کیوں ہو رہا ہے۔ مراد علی شاہ خود کچھ کرتے نہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔

    سندھ حکومت کو صرف مال سے مطلب ہے کام ان کو کرنا نہیں۔ جو کام اس وقت کراچی میں وفاق کر رہا ہے پیپلز پارٹی نے دس سال میں نہیں کئے۔

    مراد علی شاہ چاہتے ہیں کراچی موئن جو ڈرو بن جائے۔ پیپلز پارٹی کو برا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کراچی میں وعدے پورے کر رہی ہے۔

    جتنا پیسہ وفاق سندھ کو دیتا ہے اتنے پیسے سے لاڑکانہ بھی پیرس بن جاتا۔مراد علی شاہ پریس کانفرنس کرنے کے بجائے اپنا کام کریں۔