Baaghi TV

Category: کراچی

  • ن لیگ کے 2 سینئر رہنماؤں کا ساتھیوں سمیت پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان

    ن لیگ کے 2 سینئر رہنماؤں کا ساتھیوں سمیت پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان

    ن لیگ کی 2 بڑی وکٹیں گری گئیں، سابق وزیراعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری اور عبدالقادر بلوچ کی آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات، دونوں رہنماؤں نے ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا- تفصیلات کے مطابق ن لیگ کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری اور عبدالقادر بلوچ نے بلاول ہاوس میں سابق صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات کی، دونوں رہنماون نے ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت اخیتار کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا، دونوں رہنما آئندہ چند دنوں میں پیپلز پارٹی میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کریں گے- واضح رہے کہ گزشتہ برس مسلم لیگ ن بلوچستان کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے جماعت سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا جبکہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیٹیو کمیٹی سے مستعفی ہوگئے تھے۔
    عبدالقادر بلوچ نے پارٹی ورکر کنوینشن سے خطاب میں کہا تھا کہ پی ڈی ایم جلسے میں کچھ ایسے واقعات ہوئے جس پر ن لیگ سے راستہ جدا کرنے کا سوچا۔ ہم 2010 میں ن لیگ میں شامل ہوئے۔ ہم نے پارٹی کیلئے بلوچستان میں خون دیا۔ 22 اراکین کے باوجود پارٹی نے ہمارا وزیر اعلیٰ نہیں آنے دیا۔ ہم نے پھر بھی قربانی دی نواب زہری نے ڈھائی سال حکومت نیشنل پارٹی کو دی۔
    انہوں ںے کہا کہ نواز شریف پانچ سالہ دور میں سوائے کوئٹہ اور گوادر کے کہیں نہیں گئے، مجھے ایسی وزارت دی گئی جس کا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جلسہ سے ایک دن قبل مجھے فون کیا گیا کہ نواب زہری اسٹیج پر نہیں آئیں گے۔ نواب زہری چیف آف جھالاون سابق وزیر اعلیٰ اور سابق صدر ن لیگ تھا۔ نواز شریف کہتے ہیں کہ سپہ سالار کوئی حکم دے تو آئین کو دیکھیں۔
    ہم حلف لیتے ہیں کہ جو حکومت حکم دے گی ہم عمل کریں گے۔ نواز شریف کا بیانیہ فوج میں بغاوت کا باعث بن سکتا ہے۔نواز شریف سپہ سالار کے خلاف نام لیکر اْکساتے ہیں۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم و مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ عبدالقادر بلوچ اور ثنا اللہ زہری نے اپنی سیاست کو تباہ کر دیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ ن لیگ نے عبدالقادر بلوچ اور ثنااللہ زہری کو ہمیشہ عزت دی، انہوں نے پارٹی چھوڑنا تھی تو استعفیٰ دیتے۔
    ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو نوازشریف کے بیان پر اعتراض تھا تو پارٹی میں بات کرتے۔ خیال رہے کہ سابق وزیراعلی بلوچستان ثناءاللہ زہری اور مسلم لیگ ن کے رہنما عبدالقادر بلوچ نے آج پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ثناءاللہ زہری نے کہا کہ آج سے میرا نواز شریف سے کوئی تعلق نہیں ہے، ڈسنا ان کی فطرت ہے، نوازشریف نے ہر اس شخص کو نقصان پہنچایا جس نے ان کے ساتھ اچھائی کی ۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی فوج پر تنقید مودی کا ایجنڈا ہے، بھگوڑا بیماری کا بہانہ بنا کر لندن بیٹھا ہے ، پاکستان آکر مقابلہ کرے۔

  • شارع فیصل کی تزئین کیلئے ماسٹر پلان کی تیاری کا کام آخری مراحل میں ہے،لئیق احمد

    شارع فیصل کی تزئین کیلئے ماسٹر پلان کی تیاری کا کام آخری مراحل میں ہے،لئیق احمد

    ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ شارع فیصل کی تزئین و آرائش کے لئے ماسٹر پلان کی تیاری کا کام آخری مراحل میں ہے، شارع فیصل کراچی کا گیٹ وے اور شہر کی پہچان ہے، ایئرپورٹ روڈ ہونے کی وجہ سے روزانہ لاکھوں افراد یہاں سے گزرتے ہیں، بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں اور مہمانوں کا کراچی سے پہلا تعارف بھی اسی شاہراہ کے ذریعے ہوتا ہے لہٰذا اس شاہراہ کی تزئین عالمی معیار کی ہونا چاہئے تاکہ کراچی کے شہریوں کا ایک اچھا اور خوشگوار تاثر قائم ہو، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز شارع فیصل کی بیوٹیفکیشن کے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن خالد خان، ڈائریکٹر جنرل ورکس شبیہہ الحسنین زیدی، ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹی کلچر طٰحہ سلیم، سینئر ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ علی حسن ساجد، سینئر ڈائریکٹر اسٹیٹ امتیاز ابڑو، فیض قدوائی اور دیگر افسران بھی موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا کہ اب دنیا بھر میں شہروں کی تعمیر کے بعد ان کو سجانے سنوارنے کا عمل جاری ہے اور ترقی یافتہ دنیا میں اسمارٹ سٹیز کا تصور تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے، دنیا کے کئی شہر پہلے ہی انتہائی ترقی یافتہ اور جدید سہولیات سے مزین ہوچکے ہیں جن کی تقلید میں دیگر میٹروپولیٹن شہروں کی انتظامیہ نے بھی جدید طریقوں اور ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا ہے اور سڑکوں پر روایتی سائن بورڈز، فٹ پاتھوں، گرین بیلٹ اور آئی لینڈ کو دیدہ زیب شکل دی گئی ہے جبکہ جدید الیکٹرونک اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے نت نئے انداز اپنائے جارہے ہیں لہٰذا ہمیں ان سب چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شارع فیصل اور کراچی کی دیگر اہم اور بڑی شاہراہوں کو ترقی دے کر بہتر بنانا ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کی بیوٹیفکیشن میں تخلیقی عنصر کو پیش نظر رکھا جائے اور اس سلسلے میں مختلف اداروں سے تعاون حاصل کیا جائے، دنیا کے بڑے اور کمرشل شہروں میں سڑکوں اور شاہراہوں کو ریونیو حاصل کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے لیکن ہمیں کمرشل پہلو کے ساتھ ساتھ کراچی کی اہمیت کو اس کے تہذیبی اور ثقافتی پس منظر میں اجاگر کرنا ہے، اس حوالے سے کراچی میں کام کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کو بھی اپنے حصے کا کردارا دا کرنا ہوگا، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ شارع فیصل کی تزئین اس انداز میں کی جائے جس سے یہ اہم اور مصروف ترین کوریڈور ایک نئی شکل میں ابھر کر سامنے آئے، فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کے لئے کھلا رہنا چاہئے اور اگر کہیں بھی کوئی رکاوٹ یا تجاوزات ہیں تو انہیں فوری ختم کیا جائے تاکہ شہریوں کو سہولت ملے، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا کہ کراچی اپنی تہذیب و ثقافت کے اعتبار سے ایک قابل فخر ماضی رکھتا ہے، دنیا کے چند بڑے شہروں میں شامل اور ساحلی شہر ہونے کے ناطے اس شہر کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اجلاس کے دوران مختلف علاقوں میں سڑکوں ، پلوں اور انڈرپاسز سمیت دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے کاموں کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ بیوٹیفکیشن کے ساتھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا کام بھی ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھا جائے کیونکہ شہریوں کو سہولیا ت کی فراہمی کے لئے سڑکوں، شاہراہوں، پلوں اور انڈرپاسز کو بہتر حالت میں رکھنا ضروری ہے،ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا کہ شہر کی بیوٹیفکیشن کے لئے بنائے گئے ماسٹر پلان میں مختلف علاقوں کی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے، موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تمام امور انجام دیئے جائیں گے جس میں الیکٹرونک اور ڈیجیٹل آلات کا استعمال شامل ہے، بیوٹیفکیشن کے مقاصد تبھی حاصل ہوں گے جب دستیاب انفراسٹرکچر کو کارآمد حالت میں رکھا جائے جس کے لئے محکمہ ورکس کی فیلڈ ٹیمیں کام کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی کو خوبصورت اور سرسبز بنانے کے لئے شروع کی گئی شجرکاری مہم کے نتائج بھی جلد سامنے آنا شروع ہوجائیں گے جس سے شہر کے مختلف علاقوں میں واقع بڑی اور اہم سڑکوں اور شاہراہوں کو بہتر اور جدید بنانے میں مدد ملے گی.

  • کراچی پولیس کاایک اور افسر کرونا وائرس کی زد میں آکر شہید ہو گیا

    کراچی پولیس کاایک اور افسر کرونا وائرس کی زد میں آکر شہید ہو گیا

    کراچی پولیس کاایک اور افسر کرونا وائرس کی زد میں آکر شہید ہوگیا ، ڈی ایس پی طارق ملک گذشتہ ایک ماہ سے کرونا وائرس میں مبتلاتھے۔
    تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی اسپیشل برانچ ایسٹ طارق ملک نجی اسپتال میں دوران علاج انتقال کرگئے ، پولیس افسران اور انکے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ طارق ملک گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے کرونا وائرس میں مبتلا تھے جنہیں نجی اسپتال میں طبی امد اد دی جارہی تھی لیکن جمعرات کی صبح وہ دوران علاج چل بسے ، شہید پولیس افسر کی نماز جنازہ انکے آبائی علاقے اورنگی ٹاون نمبر 15میں بھائی کے گھر سے ہوئی اور اورنگی ٹاون میں قائم قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا ، نماز جنازہ میں پولیس افسران اور رشتے داروں کی بڑی تعداد موجود تھی ،شہید پولیس افسر نے سوگواران میں اہلیہ ، ایک بیٹا اور دو بیٹیوں کو چھوڑا ہے ، رشتے داروں نے بتایا کہ انکا بیٹا اور دونوں بیٹیاں بیرون ملک میں مقیم ہے جو اپنے والد کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکے اسلئے فری طور انکے بچوں کو فلائٹ نہیں مل سکی۔

  • جماعت اسلامی کے تحت، بد ترین لوڈشیڈنگ ، کے الیکٹرک کی نا اہلی و نا قص کارکردگی کیخلا ف آج شاہراہ فیصل پر دھرنا دیا جائے گا

    جماعت اسلامی کے تحت، بد ترین لوڈشیڈنگ ، کے الیکٹرک کی نا اہلی و نا قص کارکردگی کیخلا ف آج شاہراہ فیصل پر دھرنا دیا جائے گا

    جماعت اسلامی کے تحت سخت گرمی میں بد ترین لوڈشیڈنگ ، کے الیکٹرک کی نا اہلی و نا قص کارکردگی کے باوجود وفاقی حکومت اور نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کی سرپرستی کے خلاف احتجاجی تحریک کے سلسلے میں پر امن احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ضلع غربی کے تحت اورنگی ٹائون اور ضلع شرقی کے تحت گلستان جوہر میں زبردست احتجاجی دھرنوں کے بعد آج بروز جمعہ 11جون کو شام 5 بجے ضلع ائیر پورٹ کے تحت اسٹار گیٹ مین شاہراہ فیصل پر دھرنا دیا جائے گا ۔
    جس سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور ضلع ائیر پورٹ کے امیر توفیق الدین صدیقی سمیت دیگر رہنما خطاب کریں گے ۔جبکہ احتجاجی مہم کے شیڈول کے مطابق ہفتہ 12جون کو کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس گذری پر احتجاجی دھرنا دیا جائے گا ۔
    جس میں شہر بھر سے شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش کے باعث کے الیکٹرک کے ستائے ہوئے عوام بڑی تعداد میں شرکت کریں گے ۔

    کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر دھرنے کی تیاریاں اور انتظامات تیزی سے جاری ہیں ، کے الیکٹرک کے خلاف عوام کے اندر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم کو عوام کے اندر بڑی پذیرائی مل رہی ہے ۔ اضلاع کی سطح پر ہونے والے دھرنوں میں بھی 12جون کو کے الیکٹرک ہیڈ آفس کے گھیرائو اور دھرنے کی دعوت دی گئی اور شہربھر میں جماعت اسلامی کے تحت جاری حقوق کراچی تحریک اور کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی مہم کے سلسلے میں کارکنان اور ذمہ داران عوام سے رابطے کر رہے ہیں ۔
    جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت ہے جو اہل کراچی کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے 3کروڑ سے زائد لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے موثر اور توانا آواز اُٹھا رہی ہے ۔ کے الیکٹرک اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی نا اہلی اور عوام دشمنی کو بے نقاب کر رہی ہے۔

  • وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اپنے صوبے کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی، سید ناصر حسین شاہ

    وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اپنے صوبے کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی، سید ناصر حسین شاہ

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اپنے صوبے کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی، وفاق نے ابھی تک ہمارے 87اراب روپے نہیں دیئے جس سے ہمارے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں،ہم سندھ کارڈ نہیں پاکستان کارڈ کی بات کر رہے ہیں، پانی کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے کچھ اضلاع میں پانی کا بحران پیدا ہو چکا ہے ،لوگوں کو پینے کا پانی دستیاب نہیں، بدین کے الیکشن میںحکومت کو امیدوار ہی نہیں ملا،سندھ رورل سپورٹ پروگرام کے تحت خواتین کو اپنے پاوں پر کھڑا کیا ہے،بی بی شہید کے نام پر غریب لوگوں کو گھر بنا کر دیئے،بحریہ ٹاون میں املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی،کچے کے آپریشن کو انجام تک پہنچائینگے۔
    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی دارالحکومت میں اجلاس میں شرکت کی اور وہاں انہوں نے اپنے صوبے کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی کہ سندھ کا حصہ نہیں دیا جا رہا جبکہ سندھ کے حصے میں سے کٹوتی نہ کی جائے۔وفاق نے ابھی تک ہمارے 87اراب روپے نہیں دیئے جس سے ہمارے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔
    سندھ 70فیصد ریونیو دیتا ہے مگر پی ایس ڈی پی ہمارے لیئے بہت کم فنڈز رکھے گئے ہیں۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم سندھ کارڈ کھیل رہے ہیں ،ہم سندھ کارڈ نہیں پاکستان کارڈ کی بات کر رہے ہیںکیونکہ ہم پورے پاکستان کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے کچھ اضلاع میں پانی کا بحران پیدا ہو چکا ہے ،لوگوں کو پینے کا پانی دستیاب نہیں،1991کے واٹر ایکارڈ معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
    وزرا اپنی وزارتیں بچانے کیلئے حقائق پیش کرنے کی بجائے جھوٹ بول رہے ہیںاور 18ویں ترمیم کی مخالفت کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بدین کے الیکشن میں انہیں امیدوار ہی نہیں ملا تب انہوں نے جے یو آئی(ف) کے امیدوار کی حمایت کی جو کہ صرف ساڑھے چھ ہزار ووٹ لے سکا۔حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام نے حکومتی امیدواروں کو مسترد کر دیا ہے۔
    ان کی غلط پالیسیوں کو عام آدمی بھگت رہے ہیں،لوڈ شیڈنگ سے عوام کا برا حال ہے۔کسی کام کا نتیجہ عوامی عدالت ہے ،ہم نے اپنے وسائل کے مطابق ترقیاتی کام کیئے جس کی وجہ سے عوام نے ہمارا ساتھ دیا،ہم نے سندھ سے پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں،فیصل واڈا کی سیٹ چھوڑنے پر پی ٹی آئی ایکسپوز ہوئی۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں صحت کے شعبہ میں دل کے امراض،لیور ٹرانسپلانٹ اور کینسر کا مفت علاج ہو رہا ہے۔
    سندھ رورل سپورٹ پروگرام کے تحت خواتین کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا ہے،بی بی شہید کے نام پر غریب لوگوں کو گھر بنا کر دیئے کسی اور صوبے میں ایسا نہیں ہوا۔ہم کسی بھی منصوبے کو روک نہیں رہے۔سندھ کے منصوبے ایک کمپنی کو دے رہے ہیں ،کیا یہ کمپنی دوسرے صوبوں میں بھی کام کر رہی ہی اس پر ہم نے اعتراض اٹھایا ہے۔این ڈی ایم اے کراچی کے صرف تین نالے صاف کر رہی ہیدیگر 38نالوں کی صفائی کا کام سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کر رہی ہے اور اس کی نگرانی نیسپاک کریگا،وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا تھا کہ اس نے ایک لاکھ 28ہزار ٹن کچرہ اٹھایا ہے جبکہ جہاں کچرہ پہنچا وہ صرف 18ہزار ٹن تھا۔
    بلدیاتی اداروں کو کام کرنے نہیں دیا جارہا،بلدیاتی اداروں کے جلد انتخابات کروائے جائیں،ہم نے کورڈ میں لاک ڈاون کی مخالفت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ معاشی قتل کی بات کر رہے ہیں ،انہوں نے ہی جلاو ،گھیراو ،لوٹ مار اور قتل وغارت کا بازار گرم رکھا یہ الگ صوبے کی بات کر رہے ہیں۔پیپلز پارٹی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم بحریہ ٹاون کی حمایت کرتے ہیں اور اب بحریہ ٹاون پر حملے کا الزام بھی ہم پر لگایا جا رہا ہے،اس واقعہ کا چیئر مین بلاول بھٹو نے نوٹس لیا اور ہم ہسپتال اور گاون بھی گئے ،ہم کسی کیساتھ زیادتی نہیں ہونے دینگے۔
    مظاہرین نے پرامن احتجاج کا وعدہ کیا تھالیکن ان لوگوں نے روڈ بلاک کیا،پاکستان کے خلاف نعرے لگائے،املاک کو نقصان پہنچایا،بعض مظاہرین نے الطاف حسین کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں،ان لوگوں نے اپنے قائد کو چھوڑا ہے لیکن اس کے نظریات اور لسانیت کو نہیں چھوڑا،یہ کراچی کیلئے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں ،انہوں نے اداروں کو تباہ کیا،ہم ذمہ داران کو نہیں چھوڑینگے۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کچے میں ڈاکووں کے خلاف آپریشن میں ہمارے کئی جوان شہید ہوئے،کئی مغوی بازیاب کروائے،کئی ڈاکو مارے گئے ،کئی گرفتار ہوئے ، آپریشن جاری ہے اور اس کو مکمل کرینگے۔

  • سندھ کابینہ کا اجلاس طلب، بجٹ تجاویز کی منظوری لی جائے گی

    سندھ کابینہ کا اجلاس طلب، بجٹ تجاویز کی منظوری لی جائے گی

    سندھ کابینہ کا اجلاس 15 جون کو طلب کرلیا گیا جس میں بجٹ تجاویز کی منظوری لی جائے گی۔

    سندھ کابینہ اجلاس میں تنخواہوں و پنشن میں اضافے سے متعلق سفارشات کی منظوری دے گی، سندھ کے ٹیکس ٹارگٹ، شرح کی تفصیلات سندھ کابینہ میں پیش کی جائیں گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف میرپورخاص کا چارٹر بھی سندھ کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ سندھ حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ 15 جون کو پیش کرے گی، سندھ کا بجٹ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بطور وزیر خزانہ سندھ اسمبلی میں پیش کریں گے، بجٹ کا حجم 12 کھرب روپے سے زائد ہوگا۔

    وزیر خزانہ سندھ 15 جون کو سہ پہر 3 بجے اسمبلی ایوان میں بجٹ پیش کریں گے، 16 جون کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

    علاوہ ازیں بجٹ میں گریڈ ایک سے 4 تک کے ملازمین کی گروپ انشورنس 3 لاکھ سے بڑھا کر 3 لاکھ ‏‏75000 کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گریڈ 5 تا 10کےملازمین کی گروپ انشورنس 3 لاکھ 50 ہزار سے بڑھا کر 4 لاکھ37 ہزار500 کیا جا رہا ‏ہے۔

    گریڈ19 کے ملازمین کی گروپ انشورنس 21لاکھ سےبڑھاکر26 لاکھ25ہزار اور گریڈ20کےملازمین کی ‏گروپ انشورنس 25 لاکھ سے بڑھا کر31لاکھ25ہزار کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔

  • رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج دیکھا جا سکے گا

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج دیکھا جا سکے گا

    کراچی: رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج دیکھا جا سکے گا. ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سربراہ ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا ہےکہ سورج گرہن روس،گرین لینڈ ،شمالی کینیڈا، شمالی ایشیا، یورپ، امریکا اور دیگر ممالک میں دیکھا جاسکےگا تاہم سورج گرہن کا نظارہ پاکستان میں نہیں کیا جاسکےگا۔

    پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق سورج گرہن کے دوران چاند زمین اور سورج کے درمیان سے گزرے گا، چاند زمین سے دور ہونے کے باعث سورج کو مکمل ڈھانپ نہیں سکے گا۔

    سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 12 منٹ پر شروع ہوا اور 3 بجکر 42 منٹ پر اپنے عروج پر ہوگا جب کہ 4 بجکر 34 منٹ پر سورج گرہن ختم ہوجائے گا، سورج گرہن کے دوران رنگ آف فائر دیکھا جائے گا۔

  • حلیم عادل شیخ نے مراد علی شاہ سے کیا مطالبہ کر ڈالا؟؟

    حلیم عادل شیخ نے مراد علی شاہ سے کیا مطالبہ کر ڈالا؟؟

    وزیراعلیٰ سندھ کو عہدے پر رہنے کا حق نہیں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔

    تفصیلات کے مطابق عالمی جریدے کی رپورٹ پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا بیان سامنے آیا. جس میں حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ عالمی جریدے اکانومسٹ کی شہر کراچی کے حوالے سے رپورٹ جاری کی گئی۔

    بیان میں حلیم عادل شیخ نے بتایا عالمی جریدے نے کراچی کو دنیا کے دس بدترین شہروں میں شمار کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے بیرون ملک جانے سے قبل یہ رپورٹ ضرور پڑھی ہوگی۔

    ‏یہ سندھ حکومت کی نااہلی اور ناکامی ہے، ڈی ایم سی، کے ایم سی واٹر بورڈ کو تباہ کرنے والے بھی ذمیدار ہیں۔

    لیکن اصل ذمیدار اس شہر کو جوں کی طرح 14 سال سے لگی پی پی ہے۔وزیر پے وزیر تبدیل کیے گئے کہ کون زیادہ بہتر کراچی کو تباہ کرسکتا ہے۔

    ‎‏کراچی کو تباہ کرکے گٹرستان اور کچرہ کنڈی بنادیا گیا ہے۔ایک بس 14 سال میں کراچی کو نہیں دی گئی۔کراچی کے اسکول اسپتال تباہ کردیے گئے۔

    وزیراعلیٰ صاحب اب کچھ اس شہر پر رحم کھالیں۔بیرون ملک بیٹھ کر استعفیٰ دے دیں بہت کھالیا بہت کمالیا اس شہر کو برباد کرکے اب ‏کراچی سے دشمنی پاکستان سے دشمنی ہے سندھ سے دشمنی ہے۔

    جو شہر 70 فیصد ریونیو وفاق اور 90 فیصد صوبہ چلاتا ہو اسے تباہ کر دیا گیا۔کراچی دشمنی پر سندھ حکومت کو کراچی والے معاف نہیں کریں گے۔

  • بچی لاپتہ نہیں ہوئی بلکہ اس نے کیا کام کیا؟ عدالت میں انکشاف

    بچی لاپتہ نہیں ہوئی بلکہ اس نے کیا کام کیا؟ عدالت میں انکشاف

    بچی لاپتہ نہیں ہوئی بلکہ اس نے کیا کام کیا؟ عدالت میں انکشاف

    سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ بچوں کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کوششوں سے بہت سے بچے بازیاب ہوچکے ہیں، لاپتا بچہ ندا کی بازیابی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی،رپورٹ مین کہا گیا کہ بچی کی بازیابی کے لئے تمام ماڈرن ڈیوائسز استعمال کررہے ہیں، تاہم کہیں سے بھی بچی ندا سے متعلق کوئی معلومات نہیں ملی ہیں،بچی ندا کی گمشدگی کا مقدمہ نیو کراچی تھانے میں درج کیا گیا ہے،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ابھی بھی کچھ بچے لاپتا ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست 2011 سے زیر سماعت ہے؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ پولیس و دیگر کی جانب سے جواب جمع کرادیا گیا ہے، زنیب الرٹ کے بعد مِسنگ بچوں کا معاملہ بھی دیکھا جارہا ہے،فوکل پرسن نے عدالت میں کہا کہ ہم نے جے آئی ٹیز کے دو سیشن کئے ہیں 14 بچے لاپتا تھے جن میں سے 13 باقی ہیں ،ایک بچی اسماء کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ اس نے شادی کرلی ہے بچی اسماء کو اغواء نہیں کیا گیا ہے مزید بچوں کی تلاش سے متعلق کوششیں جاری ہیں ،

    عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ لاپتا بچوں کی بازیابی کوشش جاری رکھیں، عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کریں، عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 14 جولائی تک ملتوی کردی

  • سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا کراچی میں کچرا اٹھانے کے کام میں بہتری لانے کے  اقدامات

    سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا کراچی میں کچرا اٹھانے کے کام میں بہتری لانے کے اقدامات

    سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے کراچی میں کچرا اٹھانے کے کام میں بہتری لانے کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں۔

    منیجنگ ڈائریکٹر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ زبیر چنہ کی ہدایت پر چائنیز کمپنی چھانگی کانجی نے گھر گھر سے کچرا اٹھانے کے انتظامات مزید بہتر بنانے کے لئے 3 وہیلر رکشوں میں مزید اضافہ کردیا۔
    جمشید زون میں 77 اور گلشن زون میں 77 رکشے اور 11 سائڈ لوڈر امور انجام دیں گے جبکہ ہر یوسی میں 5 رکشے کام کریں گے۔ یہ رکشے یوسی ون سے یوسی تیس تک گھر گھر سے کچرا اٹھانے پر مامور ہوں گے جبکہ شکایات کے ازالے کے لئے بھی ایک ٹیم، رکشہ اور مشینری کے ساتھ تشکیل دی گئی ہے۔
    ایم ڈی سالڈ ویسٹ زبیر چنہ نے کہا کہ ہر یوسی سے گھر گھر سے کچرا اٹھانے کا عمل یقینی بنایا جا رہا ہے، اس سلسلے میں متواتر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ صفائی ستھرائی کے معیار میں بہتری لانے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ اور شکایات کا ازلہ یقینی بنایا جا رہا ہے، عوام کوصاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے۔