Baaghi TV

Category: کراچی

  • جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کل کراچی پہنچیں گے

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کل کراچی پہنچیں گے

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کل (بدھ) تین روزہ دورے پر کراچی پہنچیں گے۔
    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمان 24 جون کو کراچی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کریں گے ۔کراچی پریس کلب کی خصوصی دعوت پر میٹ دی پریس پروگرام میں شرکت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان مختلف سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے ۔

  • ملک کے معروف اردو ادیب ،دانشور، نقاد اور شاعر جاذب قریشی کو عزیز آباد قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا

    ملک کے معروف اردو ادیب ،دانشور، نقاد اور شاعر جاذب قریشی کو عزیز آباد قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا

    ملک کے معروف اردو ادیب ،دانشور، نقاد اور شاعر جاذب قریشی کو عزیز آباد قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا، ان کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر مسجد عائشہ گلشن کنیز فاظمہ میں پڑھائی گئی جس میں مرحوم کے عزیز و اقارب، رفیع الدین راز، راشد نور، قادربخش سومرو، اختر سعیدی، جاوید صبا، اکرم کنجاہی، اویس ادیب انصاری، رونق حیات، ڈاکٹر نثار احمد نثار، محمود رانا، یاسر سعید صدیقی، فہیم برنی ہم عصر دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں اور اہل محلہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
    جاذب قریشی طویل علالت کے بعد پیر کو کراچی میں وفات پا گئے تھے، ان کی عمر 81 برس تھی۔ مرحوم نے پس ماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔
    جاذب قریشی ایک سال سے مثانے کی بیماری میں مبتلا ہو کر گھر پر صاحب فراش تھے اور ایک ہفتے قبل ان کے گردے کا بھی آپریشن ہوا تھا جس کے بعد ان کی طبیعت سنبھل نہ پائی اور پیر 21 جون 2021 کی رات انہوں نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔

    جاذب قریشی 3 اگست 1940 کو بھارت کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئے تھے جہاں انہوں نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ جب وہ چھ سال کے تھے تو ان کے والد کی وفات ہوگئی جس کے نتیجے میں وہ مالی مشکلات کے سبب مزید تعلیم حاصل نہیں کر سکے اور اپنی زندگی گزارنے اور خاندان کی کفالت کے لئے سخت محنت کی۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے 1950 میں لاہور آ گئے جہاں انہوں نے ایک پرنٹنگ پریس میں ملازمت اختیا کرلی۔
    بر سر روزگار ہونے کے بعد وہ ایک بار حصول تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور شعربھی لکھنا شروع کر دیئے جو ان کے بچپن کا شوق تھا۔ لاہور میں وہ باقاعدہ ادبی محفلوں میں شرکت کرنے لگے اور مشاعروں میں اپنی شاعری بھی پڑھنا شروع کر دی۔ انہیں پہلی بار شاہی قلعہ میں منعقدہ اس مشاعرے میں اپنا کلام سنانے کا موقع ملا جس کی صدارت شہرہ آفاق اردو شاعر حضرت احسان دانش کر رہے تھے۔
    وہ معروف شاعر شاکر دہلوی کے شاگرد تھے جو داغ دہلوی کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ جاذب قریشی 1962 میں مستقلا کراچی چلے آئے جہاں انہوں نے مختلف رسائل اور اخبارات میں کام کیا، وہ دس برس تک روزنامہ جنگ کے ادبی صفحے کے انچارج بھی رہے۔ کراچی آ کر انہوں نے اپنی تعلیم بھی مکمل کی اور جامعہ کراچی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔
    انہوں نے ایک فیچر فلم پتھر کے صنمبھی بنائی جو عوامی توجہ حاصل نہ کر پائی اور ناکامی سے دو چار ہوئی ، فلم سازی میں انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ جاذب قریشی نے بہت سی نثری اور شعری کتابیں لکھی ہیں جن میں پہچان تخلیقی آواز، آنکھ اور چراغ، شاعری اور تہذیب،دوسرے کنارے تک کلیات شناسائی، شیشے کا درخت، نیند کا ریشم، آشوب جاں، اجلی آوازیں، شکستہ عکس، جھرنے، عقیدتیں، مجھے یاد ہے، نعت کے جدید رنگ، میری شاعری، میری مصوری قابل ذکر ہیں۔
    اپنے ساٹھ سال فنی سفر میں جاذب قریشی نے دنیا کے کئی ممالک جا کر عالمی مشاعروں میں شرکت کرکے اردو زبان اور پاکستان کا نام روشن کیا۔ یوں تو ان کے شعر زبان زد عام ہوئے لیکن ان کا یہ شعر کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں، تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو اور صحرا میں کوئی سایہ دیوار تو دیکھو، اے ہم سفرو دھوپ کے اس پار تو دیکھو لوگوں کو آج بھی ازبر ہیں۔

  • موجودہ جیلوں کی بحالی اور مرمت کے لئے 1 ارب روپے رکھے گئے ہیں

    موجودہ جیلوں کی بحالی اور مرمت کے لئے 1 ارب روپے رکھے گئے ہیں

    جیل اصلاحات کے حوالے سے چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ اور وفاقی محتسب سید طاہر شہباز کی مشترکہ سربراہی میں اہم اجلاس۔

    چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ پرزن انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم سے جیلوں کی مانیٹرنگ اور انتظامی امور میں بہتری آئے گی۔جیل اصلاحات کے تحت اوور سائیٹ کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔سندھ صوبے کے تمام جیلوں میں اصلاحات لائے جا رہے ہیں۔اصلاحات کیلئے محکمہ تعلیم، صحت، سوشل ویلفیئر اور سول سوسائٹی کام کر رہی ہیں۔

    اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے مزید کہا کہ اوور سائیٹ کمیٹیوں میں عدلیہ ،سول سوسائٹی، تعلیم و صحت کے ماہرین اور مخیر حضرات شامل ہیں۔ صوبے کے 23 جیلوں میں پرزن انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم جولائی میں شروع کیا جائے گا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کے قیدیوں کی ویکسینیشن شروع کی گئی ہے۔ اب تک 4350 قیدی اور 1222 جیل عملے کی ویکسینیشن مکمل کی گئی ہے۔نئیں آنے والے قیدیوں کی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ٹھٹہ میں ہائی سیکیورٹی پرزن بنائی جائے گی۔ چیف سیکریٹری سندھ کی وفاقی محتسب کو اس بارے میں بھی آگہی دی گئی کہ لینڈ یوٹیلائیزیشن محکمہ کو 4 نئیں جیلوں کے لئے زمین کے لئے لکھا گیا ہے۔

    موجودہ جیلوں کی بحالی اور مرمت کے لئے 1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی محتسب نے حکومت سندھ کے جیل رفارمز کو سراہا۔حکومت سندھ نے جیل اصلاحات میں بہت اچھا کام کیا، انھوں نے مزید کہا کہ ہم اصلاحات کو رپورٹ کا حصہ بنا کر سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔

  • کراچی میں اہم سڑکوں کی مستقل بندش کے خلاف  درخواست پرسماعت

    کراچی میں اہم سڑکوں کی مستقل بندش کے خلاف درخواست پرسماعت

    سندھ ہائیکورٹ میں کراچی میں اہم سڑکوں کی مستقل بندش کے خلاف درخواست پرسماعت

    عدالت نے ڈی آئی جی ٹریفک، سندھ حکومت اور دیگر سے جواب طلب کرلیا

    اس موقع پرعرفان عزیز وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ٹاورفاطمہ جناح روڈکوبند کرکے پرائیویٹ ٹھیکیدارکو پارکنگ کیلئے ٹھیکے پر دیدیا ہے۔ٹریفک پولیس نے چار لاکھ روپے پر روڈ پارکنگ کے لیے ٹھیکے پر دے دیا ہے۔
    اسکے علاوہ ٹریفک پولیس نے پنوراما روڈ بھی تین لاکھ روپے میں پارکنگ مافیا کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔

    ایس ایم لاء کالج روڈ، ایمپریس مارکیٹ کے سامنے والا روڈ بھی بند کردیا گیا ہے،
    سندھ اسمبلی روڈ اور کمال اتاترک روڈ بھی بند کردیا گیا ہے، سڑکوں کی بندش سے عوام کےحقوق متاثر ہورہے ہیں، اہم سڑکوں کی بندش کے سبب کراچی تجارتی مراکز کے اطراف پورا پورا دن ٹریفک جام رہتا ہے.اس سلسلے میں حکام بالا نوٹس لیں۔

  • کراچی میں 556 عمارتیں خطرناک قرار

    کراچی میں 556 عمارتیں خطرناک قرار

    ایس بی سی اے نے کراچی سمیت سندھ بھرمیں689 عمارتوں کومخدوش قرار دے دیا ، جس میں صرف کراچی میں سب سے زیادہ 556 عمارتیں خطرناک ہیں۔

    ایس بی سی اے ایک بار پھر مون سون بارشون سے قبل مخدوش عمارتوں کی فہرست جاری کرکے بری الذمہ ہوگئی اور پہلی بار کراچی کے علاوہ سکھر ، حیدر آباد، لاڑکانہ اور میرپور خاص کی بھی مخدوش عمارتوں کی فہرست جاری کردی ہے۔

    فہرست میں کراچی سمیت سندھ بھر میں چھ سو نواسی عمارتوں کو مخدوش قرار دیا گیا ہے ، ایس بی سی اے کا کہنا ہے کہ کراچی میں زیادہ 556عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہے۔

    ایس بی سی اے کے مطابق میرپور خاص میں 42عمارتیں اور مکان مخدوش ہیں جبکہ حیدر آباد میں 40عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہے۔

    فہرست میں ضلع جنوبی میں سب سے زیادہ ایک سو دو عمارتیں خطرناک ہیں جبکہ آرام باغ کے علاقے میں اکتالیس عمارتیں ، کلفٹن میں نو ، سول لائن میں تین رنچھوڑ لائن میں بیالیس ، کورنگی میں انیس ، شاہ فیصل میں نو ، آرٹلری میدان میں گیارہ جبکہ ضلع غربی میں ایک عمارت مخدوش قرار دی گئی ہے۔

    ایس بی سی اے کا کہنا ہے کہ خطرناک عمارتوں کی فہرست میں بائیس سے زائد ہیری ٹیج عمارتیں شامل ہیں تاہم مخدوش عمارتوں کے مکینوں کو فوری رہائش خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

  • گورنر سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی اظہار رائے پر یقین نہیں رکھتی

    گورنر سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی اظہار رائے پر یقین نہیں رکھتی

    بیرسٹر مرتضی وہاب کی پریس کانفرنس

    بیرسٹر مرتضی وہاب نے اپنی پریس کانفرنس میں صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لئیے اچھی خبر یہ ہے کے جرنلسٹ پروٹیکشن بل جس کو گورنر نے اعتراض لگا کر واپس کیا تھا ۔
    سندھ حکومت کی جانب سے تمام صحافیوں کے لئیے خبر ہے کے اس بل کو اگلے کابینہ اجلاس سے منظور کروانے کے بعد اسمبلی سے بل منظور کروائیں گے ۔ماضی میں آزادی صحافت کے لئیے بڑی باتیں کیں لیکن اس کے لئیے کام پیپلز پارٹی نے کیا۔

    انھوں نےصحافیوں کو یقین دہانی کرائ کہ ہم نے آپکے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئیے قانون سازی کی۔گورنر سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی اظہار رائے پر یقین نہیں رکھتی۔

  • پی پی پی مزدوروں کے ساتھ تھی، ہے اور رہے گی، ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے

    پی پی پی مزدوروں کے ساتھ تھی، ہے اور رہے گی، ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے

    ‏پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پارلیمنٹ ہاؤس میں کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے صدر داؤد شاہ اور بورڈ آف ٹرسٹی کے رکن حسین کچھی کی ملاقات

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے نمائندوں نے ادارے سے ہونے والی ناانصافیوں سے آگاہ کیا.
    ‎ انھوں نےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ‏ڈاک لیبر بورڈ کی آزادانہ حیثیت پر ضرب لگاکر 900 افراد کو نوکریوں سے نکالنے کی سازش ہو رہی ہے،

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی ڈاک لیبر بورڈ کا قیام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی کاوشوں سے ہوا، اس کا ہر ممکن دفاع کریں گے،
    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مزدور رہنماؤں کو یقین دہانی کرائ کہ ‏پی پی پی مزدوروں کے ساتھ تھی، ہے اور رہے گی، ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مزدور رہنماؤں کی ملاقات کے موقع پر رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل اور آغا رفیع اللہ بھی موجود تھے۔

  • سندھ میں CNG پمپس 8 دن کیلئے بند

    سندھ میں CNG پمپس 8 دن کیلئے بند

    سندھ میں سی این جی پمپس تقریبا 8 دن کیلئے بند کر دیئے گئے، سوئی سدرن کے مطابق گیس فیلڈز مرمت کے سبب ایس ایس جی سی نظام میں گیس قلت ہے۔

    گیس خود کفیل صوبہ سندھ میں ایک دو دن نہیں بلکہ تقریبا 8 دن کیلئے سی این جی بند ہوگئی، اور بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دو ایل این جی ٹرمینلز سے بھی امپورٹڈ گیس کا بھی کوئی آسرا نہ مل سکا۔

    سی این جی پمپس مالکان نے ڈسپنسرز پر چادریں لپیٹ دیں اور اب 70 فیصد گیس پیدا کرنے والے صوبے کے رہائشی اپنی گاڑیوں میں پیٹرول ڈلوا رہے ہیں۔

    سی این جی پمپس مالکان کے مطابق مقامی گیس کے بجائے ایل این جی خریداری کا معاہدہ اس یقین دہانی پر کیا تھا کہ اب سی این جی لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی۔

    دوسری جانب سندھ سے بڑا سوال اٹھ رہا ہے کہ اولین گیس استعمال کا حق نہ ملنے کے بعد یہاں تعمیر دو ایل این جی ٹرمینلز سے بھی گیس بندوبست نہ ہونے کے پیچھے کیا منصوبہ بندی کار فرما ہے

  • بلاول بھٹو زرداری کو گدھے بہت پسند ہیں

    بلاول بھٹو زرداری کو گدھے بہت پسند ہیں

    معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا سندھ سے پیسہ ایان علی کے ذریعے بیرون ملک جاتا تھا،کیاسندھ کےعوام لاوارث ہیں؟ہم ان کیلئے آواز اٹھائیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سندھ کی ترقی کیلئے اقدامات کررہی ہے ، بلاول نے وفاقی حکومت پرالزام لگایا.

    وفاق ٹیکس حاصل کرنے میں ناکام رہا ، وفاق کےٹیکس کی بلاول کوکیوں ضرورت پڑی؟ وفاقی ٹیکس کا57.5فیصدصوبوں کوملناہوتا ہے۔

    شہبازگل کا کہنا تھا کہ ہمیں اچھی طرح سے پتہ ہے آپ پرچی چیئرمین ہیں، انہوں نےپچھلےسال ٹیکس 182ارب حاصل کرناتھامگر105ارب حاصل کئے، پنجاب میں ہم نے27فیصدٹیکس کاہدف بڑھایا،ڈاکٹرشہبازگل

    معاون خصوصی نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ سے پیسہ ایان علی کے ذریعے بیرون ملک جاتا تھا، گزشتہ سال سندھ حکومت نے128 ارب کا ٹیکس ہدف رکھا لیکن سندھ حکومت ٹیکس ہدف ہی عبور نہ کرسکی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ڈاکو چور ملک کو نہیں چلاتے جس طرح آپ چلا رہے ہیں، کیاسندھ کےعوام لاوارث ہیں؟ہم ان کیلئےآوازاٹھائیں گے، اپوزیشن ہوتی کس لیے ہے،اپوزیشن بجٹ پریہ چیزیں سامنےلاتی ہے۔

    ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ عوامی نمائندے سندھ کےعوام کوجوابدہ ہیں، حلیم عادل شیخ، فردوس شمیم نقوی سندھ کےسینئرپارٹی ممبران ہیں، پنجاب میں کیا ہورہا ہے، سب کی وضاحت دے چکے ہیں، 27ہزاراسکولوں کواپ گریڈ کیا جارہا ہے۔

    معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کےبجٹ اوربلاول بھٹو پربات کرنا ضروری ہے، بلاول بھٹو زرداری کو گدھے بہت پسند ہیں، اسکول، اسپتال اور تھانے تک میں گدھے بندھے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ترقیاتی اسکیمیں ایک سو پچپن ارب کی دی تھیں، پراجیکٹس پر صرف 100 ارب روپے خرچ کیے، پچھلے سال سندھ حکومت کے پاس کیش 30 ارب تھا، انکے دھندے ہی کیش پر چلتےہیں۔

    ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ 35ارب انکے اکاؤنٹ میں مزید آگئے ہیں، کتے کے کاٹنے کی ویکسین انہی پیسوں سے خرید لیتے، جب پیسے موجودہیں تو عوام پر کیوں نہیں لگائے، ایان علی ایکسپریس بھی کراچی ایئرپورٹ سےچلا کرتی تھی، جب پکڑی جاتی تو کسی اور کے پیسے کا اقرار کیا جاتا تھا۔

    معاون خصوصی نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت حکومت نے غریبوں کی بھرپور مدد کی، وفاق نے 7سو ارب سبسڈی دی،صوبے نے 12 ارب دیے، ٹرانسپورٹ کے لئے 539 ملین رکھے گئے،خرچ 311ملین ہوئے، پنجاب میں 5ارب رکھے گئے.

    ،3ارب خرچ کئے گئے، پنجاب میں میٹرو کی سبسڈی 10ارب ہے ، سب سے زیادہ تکلیف سندھ اورکراچی والوں کو ہے، سندھ حکومت نے پیسے لیکر ویکسین لگادی۔

  • ریسٹورنٹس کی ڈائننگ کھولنے کے حوالے سے اہم خبر

    ریسٹورنٹس کی ڈائننگ کھولنے کے حوالے سے اہم خبر

    سندھ حکومت نے شادی ہالز پر پابندی ختم ہونے کے بعد ریسٹورنٹس کی ڈائننگ کھولنے کا عندیہ دے دیا، صدر ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈائننگ کی 28 جون سے اجازت مل جائے گی۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے کورونا کیسزکی شرح میں کمی پر مزید کاروباری شعبوں میں نرمی کا فیصلہ کرلیا اور شادی ہالزپرپابندی ختم ہونے کے بعد ریسٹورنٹس کی ڈائننگ کھولنے کا عندیہ دے دیا۔

    صدر ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈائننگ کی 28 جون سے اجازت مل جائے گی ، ڈائننگ کی اجازت کے بعد احتیاطی تدابیر اختیارکی جائیں گی۔

    گذشتہ روز کراچی کے مختلف علاقوں میں شادی ہال کھول دیے گئے تھے، شادی ہال کھولنے پر مالکان کی جانب سے مٹھائی بانٹی گئی اور کئی عرصے بعد شادی ہال کھولنے پر ملازمین بھی خوشی سے نہال تھے۔

    آل پاکستان کیٹرز ڈیکوریٹرز ایسوسی ایشن چیئرمین قیص منصور شیخ نے شادی ہال کھولنے کی اجازت دینے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کراچی سندھ حکومت کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیں کاروبار کھولنے کی اجازت دی ، سندھ حکومت کے فیصلے سے لاکھوں دیہاڑی دار مزدور طبقہ کو روزگار مل گیا۔

    قیص شیخ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت تاجر برادری اور میڈیا کی بھرپور سپورٹ نے ہماری صنعت کھلوائی ہے، شادی ہال مالکان ایس او پیز پر ہر صورت عملدر آمد کریں گے ، شہریوں سے بھی گزارش ہے کہ شادی ہال میں داخلے کے وقت ایس او پیز کا خیال رکھیں۔