Baaghi TV

Category: کراچی

  • بحریہ ٹاؤن میں جو کچھ ہوا اس پر کیا کرنیوالے ہیں؟ وزیراعلیٰ سندھ کا دعویٰ

    بحریہ ٹاؤن میں جو کچھ ہوا اس پر کیا کرنیوالے ہیں؟ وزیراعلیٰ سندھ کا دعویٰ

    بحریہ ٹاؤن میں جو کچھ ہوا اس پر کیا کرنیوالے ہیں؟ وزیراعلیٰ سندھ کا دعویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو ریگولرائز کرنے کاحکم دیا،

    وزیراعلیٰ سندھ نے پریس کانفرنس کے بعد میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں احتجاج کے نام پر ہنگامہ آرائی ہوئی ہم نے قانونی طور پر پر امن احتجاج کی اجازت دی ،ہم نے کہا تھا دوران احتجا ج ہائی وے بند کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،مظاہرین نے ریاست کے خلاف نعرے لگائے ،قانون کی خلاف ورزی کی،جو بھی گرفتار ہوگا، ایف آئی آر درج کریں گے اور کارروائی ہوگی

    واضح رہے کہ دو روز قبل کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے غریب شہریوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے پر شہریوں نے احتجاج کیا تھا اور بحریہ ٹاؤن میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا تھا

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

    ہم نے کوئی جرم نہیں کیا، سب کا پیسہ پاکستان آنا چاہئے، ملک ریاض بول پڑے

    بحریہ ٹاؤن میں جنسی زیادتی کا شکار 8 سالہ بچی دم توڑ گئی، پولیس کا ملزم کو گرفتار کرنیکا دعویٰ

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

     بحریہ ٹاؤن میں دہشت گردی اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والے علیحدگی پسندوں سے آئینی ہاتھوں سے نمٹا جائے

    واقعہ کے بعد بحریہ ٹاؤن سے منسلک نجی بلڈرز اور ڈیولپرز کے نمائندے میاں اطہر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے کاروبار غیرمحفوظ ہوگئے، قانون نافذ کرنے والے ادارے آ کر صورتحال دیکھیں، شرپسند عناصر کی جانب سے دکانیں، دفاتر اور املاک جلائی گئیں، ہم لٹ رہے تھے لیکن کوئی مدد کو نہیں آیا، جب لوگوں نے اپنی جمع پونجی لگا دی تو اعتراضات آنا شروع ہوگئے۔

    قبل ازیں سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ سے بحریہ ٹاؤن کے متاثرین کے وفد نے ملاقات کی،وفد میں چاچا فیض محمد گبول کے فرزند مراد گبول، سردار قادر بخش گبول، حفیظ جوکھیو اور دیگر شامل تھے ،اس موقع پر حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ ملیر کے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے ملیر کے نمائندے بروکر اور سہولتکار بن چکے ہیں.

    بحریہ ٹاؤن سے بجلی فراہمی کا معاہدہ،عدالت نے کیا جواب طلب

  • کراچی سے روانہ ہونے والی 10 ٹرینیں منسوخ

    کراچی سے روانہ ہونے والی 10 ٹرینیں منسوخ

    ریلوے نے آج کراچی سے روانہ ہونے والی 10 ٹرینوں کو منسوخ کردیا۔

    ترجمان ریلوے کے مطابق علامہ اقبال ایکسپریس، پاکستان ایکسپریس، جناح ایکسپریس، قراقرم ایکسپریس، پاک بزنس ایکسپریس، ملت ایکسپریس، کراچی ایکسپریس، تیزگام، ذکریا ایکسپریس اور سرسید ایکسپریس کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ تمام ٹرینوں کی منسوخی تکنیکی بنیادوں پر صرف آج کے لیے کی گئی ہے اس لیے کنفرم ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کو 100 فیصد ری فنڈ کیا جائے گا.

    لہٰذا ریزرویشن آفس سے ٹکٹ لینے والے مسافر ریزرویشن آفس سے ری فنڈ لیں۔

    ترجمان کے مطابق کراچی کینٹ سے میرپور خاص کے لیے مہران ایکسپریس، گرین لائن اور خیبر میل ایکسپریس اپنے مقرر وقت پر روانہ ہوں گی.

    جب کہ کراچی سے روہڑی جیکب آباد کے لیے سکھر ایکسپریس بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی جائے گی۔

    واضح رہےکہ گزشتہ رات گھوٹکی کے قریب ٹرین حادثے میں اب تک 62 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ حادثے کے باعث ٹرینوں کی آمدو رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

  • ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست اب ختم ہونی چاہئے

    ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست اب ختم ہونی چاہئے

    سیکرٹری جنرل پاک سر زمین پارٹی ایڈوکیٹ حسان صابر نے آج پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کی ۔

    حسان صابر نے پریس کانفرنس میں کہا پی ایس پی ڈہرکی ٹرین حادثے کے متاثرین سے ہمدردی اور لواحقین سے تعزیت کرتی ہے۔

    ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست اب ختم ہونی چاہئے۔حکومت وقت کو چاہیے کہ لوگوں کی داد رسی کرے نہ کہ دوسرے پر الزامات لگائے ۔

    آج کی پریس کانفرنس مصطفیٰ کمال کی 5 جون کی پریس کانفرنس کا تسلسل ہے۔

    آئین کے آرٹیکل 6 کے مطابق اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو سزا ہوگی۔سوال یہ ہے کہ کیا صرف اس ملک میں آمروں نے آئین کو توڑا ہے؟

    آئین کے آرٹیکل 7 میں ریاست کی تینوں حکومتوں کا واضح بتایا گیا ہے۔اس آئین کے مطابق وفاقی،صوبائی اور لوکل گورنمنٹ کی حکومت واضح ہے۔

    افسوس پچھلی تمام حکومتوں نے لوکل گورنمنٹ سسٹم پر قدضن لگائی۔اس حکومت نے تمام اختیارات مئیر سے لے کر صوبائی وزیر کے ماتحت کردیے جو آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔

    پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت لوکل گورنمنٹ نظام کی دشمن ہے، اس لیے کبھی یہ نظام نہیں لائے گی۔چئیر مین مصطفیٰ کمال نے آئین میں ترمیم کا جو فارمولہ بتایا ہے اس پر عمل ہونا چاہیے۔

    ایم کیو ایم نے کیوں لوکل گورنمنٹ کو صوبائی حکومت کے حوالے کیا۔مسلم لیگ ن، پی پی پی ، پی ٹی آئی لوکل گورنمنٹ کے نظام کے خلاف ہیں۔

    ایم این ایز اور ایم پی ایز کا کام اسمبلی میں جاکر عوام کیلئے قانون سازی کرنا ہے نا کہ گلیاں اور سڑکیں بنانا۔

    پورے پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم رائج کیا جائے۔2013 کا بلدیاتی سسٹم انتہائی ناکام رہا ہے مردم شماری کے معاملے پر پی ایس پی نے بھرپور احتجاج کیا دیگر جماعتوں نے صرف خانہ پوری کی۔

    ایم کیو ایم نے نتائج کو مان کر اس شہر کے لوگوں کو دھوکا دیا اور اپنی وزارتوں اور مقدمات کے معاملات بہتر کرے۔

    سندھ حکومت سندھ کے پانی کو رو رہی ہے، کراچی والے پانی کیلئے کس کے سامنے روئیں۔سندھ حکومت ایک منظم سازش کے تحت کراچی والوں کو تکلیف دے رہی ہے۔

    پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی اور صوبہ سندھ لاوارث نہیں پی ایس پی سب سے آگے کھڑی ہے۔ہم اس شہر کے لوگوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیار ہیں۔

    سیاست کیلئے خدمت کا جذبہ ضروری ہے جو صرف مصطفیٰ کمال کے پاس ہے۔ایم کیو ایم اور پی پی پی ایک دوسرے کے کرائم پاٹنر ہیں۔

    جو جو آئین میں لکھا ہے پی ایس پی وہ تمام حقوق چھین کر لیں گی۔ہم سندھ حکومت کو وارننگ دیتے ہیں کہ اس معاملے میں فوری ایکشن لیں اور بلدیاتی معاملات فوری بہتر کریں ورنہ عوامی ردعمل کیلے تیار رہے۔

    پی ایس پی سڑکوں پر نکل کر احتجاجی تحریک چلائی گی۔این ایف سی ایوارڈ کے حولے سے بھی آئین میں ترمیم کی جائے تاکہ پی ایف سی فنڈ میں وفاق ڈائیریکٹ ڈسٹرکٹ میں منتقل کرئے تاکہ ڈسٹرکٹ صوبے کے محتاج نہ ہوں۔

    ہم عوامی اصلاحات کیلئے عدالتوں میں جائینگے اور اپنا حق لیں گے۔آئین میں سب کچھ واضح ہے مگر بلدیاتی اختیار ات کے ساتھ مزاق کیا گیا۔

    حفیظ الدین نے بھی پریس کانفرنس کے دوران کہا
    پاک سر زمین پارٹی کی بنیادی کوشش ہے کہ بلدیاتی حقوق عوام کے گھر کی دہلیز پر دیے جائے۔

    ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے پی پی حکومت سنجیدہ ہوجائے اور بلدیاتی حکومت فعال کرے ورنہ پی ایس پی سراپا احتجاج ہوگی۔

  • ایم کیو ایم رہنماؤں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کا فیصلہ سنادیا گیا

    ایم کیو ایم رہنماؤں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کا فیصلہ سنادیا گیا

    شہر قائد کی مقامی عدالت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے اکیس مقدمات کا فیصلہ سنادیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اشتعال انگیز تقاریر کے اکیس مقدمات کا فیصلہ سنادیا اور ایم کیو ایم کے کئی رہنماؤں کو بری کردیا ہے۔

    بری ہونے والوں میں فاروق ستار، سابق میئر کراچی وسیم اختر، رکن سندھ اسمبلی خواجہ اظہار، رؤف صدیقی، سلمان مجاہد و دیگر شامل ہیں، تمام افرادپر بانی ایم کیوایم کی اشتعال انگیزتقاریرمیں سہولت کاری کےمقدمات درج تھے۔

    یاد رہے کہ بانی ایم کیو ایم نے 22 اگست 2016 کو کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے کارکنان سے خطاب کیا تھا جس کے بعد وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے پاکستان مخالف نعرے لگا کر پاکستانی نیوز چینل کے دفتر پر دھاوا بول دیا تھا۔

    مظاہرین نے دفتر میں شدید توڑ پھوڑ کے ساتھ سیکیورٹی عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جبکہ خواتین سمیت دفتر میں موجود ملازمین کو ہراساں بھی کیا تھا۔

    ایک روز بعد ایم کیو ایم رہنماؤں نے فاروق ستار کی قیادت میں اپنے قائد کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ دو دھڑوں، ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن میں تقسیم ہوگئی۔

  • شہر قائد کوفراہمی آب کی میگا اسکیموں کے حوالے سےوزیر بلدیات کی زیر صدارت اجلاس

    شہر قائد کوفراہمی آب کی میگا اسکیموں کے حوالے سےوزیر بلدیات کی زیر صدارت اجلاس

    وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت شہرکوفراہمی آب کی میگا اسکیموں کے حوالے سے اجلاس

    کراچی شہر کی پانی کی ضروریات کے پیش نظر عالمی اداروں کے تعاون سے متعدد منصوبہ جات پر کام کررہے ہیں، سیکرٹری بلدیات نجم احمد شاہ کی وزیر بلدیات کو بریفنگ

    کراچی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت محکمہ بلدیات سندھ میں اعلی سطح اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری بلدیات انجینئر سید نجم احمد شاہ نے وزیر بلدیات سندھ کو شہر کو فراہمی آب کے حوالے سے میگا اسکیموں اورعالمی اداروں کے تعاون سےجاری منصوبہ جات پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں ایڈ منسٹریٹر کراچی،ایم ڈی واٹر بورڈ، سیکرٹری پلاننگ،وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی، پراجیکٹ ڈائریکٹر KWSSIP سمیت دیگر افسران شریک تھے۔

    سیکرٹری بلدیات سید نجم احمد شاہ نے وزیر بلدیات سندھ کو بریفنگ میں بتایا کہ شہرکی پانی کی ضروریات اور بڑھتی آبادی کے پیش نظرسائنسی بنیادوں پرایسا مکینزم تشکیل دیا جارہا ہے جس کے ذریعے تمام صنعتی و رہائشی علاقوں میں مستقل طور پر فراہمی آب اور سیوریج کی نکاسی کا بندوبست کیا جاسکے اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے ورلڈ بینک سمیت تمام عالمی اداروں کے ساتھ کوآرڈینشن کا عمل جاری ہے۔وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر کے اندر پینے کےصاف پانی کی فراہمی اورسیورج کے مسائل کا حل حکومت سندھ کی اولین ترجیحات میں شامل ہےاور میٹرو پولیٹن سٹی کا درجہ رکھنے والےشہر کراچی کے عوام کےلئےسہولیات کی فراہمی پاکستان پیپلز پارٹی کا منشورہے۔ وزیر بلدیات سندھ نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو پانی چوروں کے خلاف کریک ڈاون میں مزید تیزی لانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے پانی پر سب سے پہلا حق یہاں کے رہائشی افراد کا بنتا ہے۔کسی بھی فرد یا گروہ کو شہر کے لئے فراہم کردہ پانی چوری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ناصر حسین شاہ نے تمام پمپنگ اسٹیشنوں سے بلا تعطل پانی کی فراہمی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں سے پانی کی کمی کی شکایات موصول ہورہی ہیں ان تمام علاقوں میں سپلائی معمول کےمطابق لانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں اور پیپلز پارٹی سندھ کے حصے کا پانی حاصل کرنے کے لئے جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

    سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سید نجم احمد شاہ نے وزیر بلدیات سندھ کو عالمی بینک کے تعاون سےجاری منصوبے کی رفتار اور کار کردگی کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ بیرونی فنڈنگ کے ذریعے چلنے والے تمام پراجیکٹس کامیابی کےساتھ ترقی کی منازل طے کررہے ہیں اور غیر ملکی ماہرین اور پیشہ ورانہ کنسلٹنٹس کی قیمتی آرا سے بھی استفادہ حاصل کیا جارہا ہے۔ ناصر حسین شاہ نےمجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ادارہ جاتی رابطوں اور مشورہ سازی کے عمل پر زور دیا اور عزم ظاہر کیا کہ کراچی اور سندھ کی عوام کے لئے انتھک کاوشوں کا سلسہ مزید دراز اور تیز کیا جائے گا۔

  • کراچی اور کوئٹہ سے لاہور آنے والی متعدد ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کراچی اور کوئٹہ سے لاہور آنے والی متعدد ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کراچی اور کوئٹہ سے لاہور آنے والی متعدد ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق رحمان بابا ایکسپریس 19 اور شالیمار ایکسپریس 21 گھنٹے لیٹ ہو گی ،جعفر ایکسپریس 14 ،پاکستان ایکسپریس 16 گھنٹے تاخیر کا شکار

    عوام ایکسپریس 20 ،خیبر میل 8 اور فرید ایکسپریس 10 گھنٹے لیٹ جبکہ تیزگام 13 ، پاک بزنس ایکسپریس 14 اورقراقرم ایکسپریس 14 گھنٹے لیٹ ہو گی-

    کراچی سے آنے والی شاہ حسین 11 اور علامہ اقبال ایکسپریس 15 گھنٹے کی تاخیر تک پہنچے گی-

    واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان ریلوے نے بتایا تھا کہ ڈہرکی ٹرین حادثے کے مقام پر ٹریک کا کام مکمل ہونے پرٹرینوں کی روانگی شروع ہوجائے گی ریلوےحکام کے مطابق 3 گھنٹےتک ٹریک بحال کردیاجائےگا-

    ریلوے حکام کا کہنا تھا ڈہرکی ٹرین حادثہ، بوگیوں کاملبہ ٹریک سےہٹادیاگیا،ٹریک کی مرمتی کا کام جاری ہے-

    ڈہرکی ٹرین حادثہ: 3 گھنٹے تک ٹریک بحال کر دیا جائے گا ریلوے حکام

  • جماعت اسلامی کے تحت کراچی میں بد ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج و دھرنے شروع

    جماعت اسلامی کے تحت کراچی میں بد ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج و دھرنے شروع

    جماعت اسلامی کے تحت شہر میں سخت گرمی میں بد ترین لوڈشیڈنگ ، بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ بندش، کے الیکٹرک کی نا اہلی و ناقص کارکردگی اور وفاقی حکومت اور نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کی مسلسل سر پرستی کے خلاف پر امن احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ پیر کے روز ضلع شرقی کے تحت جوہر موڑ گلستان جوہر میں احتجاجی دھرنا دیا گیا ۔
    دھرنے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، ضلع شرقی کے قائم مقام امیر انجیئنر عزیز الدین ظفر اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔دھرنے میں ڈہرکی میں ٹرین کے ہونے والے خوفناک حادثے پر بھر گہرے دکھ اور افسوس اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اس کی تحقیقات کرائے ، ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے ، جاں بحق ہونے والوں کو معاوضہ اور زخمیوں کا سرکاری خرچ پر علاج کرایا جائے ، اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹری کراچی و سابق رکن سندھ اسمبلی یونس بارائی ،سیکریٹری ضلع ڈاکٹر فواد ، نائب امیر نعیم اختر ، مرتضیٰ غوری ، پبلک ایڈ کمیٹی ضلع شرقی کے صدر سید محمد قطب ، نصر عثمانی اور دیگر بھی موجود تھے۔
    دھرنے کے شرکاء نے کے الیکٹرک ، وفاقی حکومت اور نیپرا کی ملی بھگت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور پر جوش نعرے لگائے ۔ مظاہرین نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز بھی اُٹھائے ہوئے تھے ۔ احتجاجی مہم کے سلسلے میں اگلا دھرنا بدھ 9جون کو ضلع غربی کے تحت اورنگی ٹائون میں ہو گا ۔حافظ نعیم الرحمن نے جو ہر موڑ پر احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کی نا اہلی اور شہریوں کی بلا تعطل بجلی کی فراہمی میں ناکامی وفاقی حکومت کی نا اہلی و ناکامی ہے ۔
    وفاقی حکومت اور نیپرا کے الیکٹرک کی سرپرستی ختم کریں ۔ عوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہم نہ کرنے اور معاہدے کے مطابق پیدواری صلاحیت میں اضافہ نہ کرنے پر کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کرے اور اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے عوام کو دہرے عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے ، ایک طرف لوڈشیڈنگ ختم نہیں کی جا رہی دوسری طرف اوور بلنگ کی شکایات بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں ، کے الیکٹرک کے تیز میٹرز چیک کرنے والا کوئی غیر جانبدار ادارہ موجود نہیں ، عوام کی کوئی شنوائی نہیں ۔
    حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وفاقی حکومت اور گورنر نے کے الیکٹرک کی مزید سرپرستی کرتے ہوئے 200 میگاواٹ بجلی فراہم کردی، گورنر سندھ بتائیں کہ کے الیکٹرک کے کتنے پلانٹ چل رہے ہیں ، تمام تر دعووں کے باوجود15مارچ سے شروع ہونے والا 900 میگاواٹ کا بن قاسم پلانٹ تھری اب تک کیوںشروع نہ ہوسکا، 1400 میگاواٹ بجلی NTDC کی طرف سے کس معاہدے کے تحت فراہم کی جارہی ہی کے الیکٹرک نے شہریوں کی رات کی نیند اور دن کا چین غارت کردیا ہے،شدید گرمی اور کرونا وباء کے دوران رات کے دوران بھی کراچی شہر کی بجلی بند کردی جاتی ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں دن بھر کئی کئی گھنٹے بجلی بندکردی جاتی ہے۔
    ۔کے الیکٹرک کے اصل ذمہ داران کا ہی نہیں پتا کہ کون اس کا مالک ہی ،ہم نہیں عدالتیں کہتی ہیں کہ کیا ملک دشمن عناصر اس کے کرتا دھرتا ہیں ،کے الیکٹرک ایک مافیا کا کردار ادا کررہی ہے ، تمام حکومتیں اس مافیا کے ساتھ ملی ہوئی ہیں،اس کا موجودہ مالک عارف نقوی وزیر اعظم کا دوست ہے ،پی ٹی آئی ،پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کراچی سے صرف لوٹنے میں مصروف ہیں

  • سندھ حکومت کے تحت درخت لگائیں ماحول کو محفوظ بنائیں کے سلوگن پر گامزن ہیں ،ڈی جی نعیم مغل

    سندھ حکومت کے تحت درخت لگائیں ماحول کو محفوظ بنائیں کے سلوگن پر گامزن ہیں ،ڈی جی نعیم مغل

    سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی گورنمنٹ آف سندھ SEPAکے ڈی جی نعیم مغل،ڈپٹی ڈائریکٹر منیر عباسی نے ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر دو روزہ تقریبات میں شرکت کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس سال عالمی یوم ماحولیات کا تھیم (قدرتی ماحول کی بحالی)ہے پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جس نے قدرتی ماحول کی بحالی کیلئے بلین ٹری منصوبے سمیت متحد پروگرام ترتیب دیئے جس میں سندھ حکومت نے عملی اقدامات کرتے ہوئے بھر پور اور قابل فخر کردار ادا کر رہی ہے اقوام متحدہ نے حکومت پاکستان کے گرین اینی شیٹو اور ماحول دوست اقدامات کو سرہاتے ہوئے پہلی بار پاکستان کو عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی دی ہے جو تمام پاکستان اور بالخصوص سندھ کی عوام کیلئے باعث اعزاز ہے ڈی جی نعیم مغل نے مزید کہا کہ کالائمنٹ تبدیلی یا موسمیاتی تبدیلیاں اب اتنی واضح ہوچکی ہے کہ ان سے انکار کرنے والوں کے پاس اب سوائے خاموشی کے کوئی چارہ نہیں رہا اگر چہ پاکستان گرین ہائوس گیسس پیدا کرنے والے ممالک میں بہت نیچے کے نمبروں پر موجود ہے لیکن گلوبل کلائمنٹ رسک انڈیکس کے مطابق خطرات سے دو چار ممالک میں اس کا8واں نمبر ہے پاکستان جیسی کمزور معیشت کا حامل ملک اپنے متنوع جغرافیہ کے باعث کلائمنٹ چینچ کے مختلف نوعیت کے خطرات سے دو چار ،پہاڑوں میں گلیشئر کا پگھلائو،مسلسل سیلاب بے موسم اور کم وقت میں تیز بارش،سمندر کی سطح میں اضافہ اور سہرائوں میں خشک سالی اب معمول بنتی جارہی ہے ماہرین کے نزدیک ان تمام مسائل کی جڑ کہیں نہ کہیں جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے وابستہ ہے اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ نظریہ حقیقی نظر آتا ہے ہر درخت قیمتی ہے اور نقدآور ہے ڈی جی ،SEPA نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کے تحت درخت لگائیں ماحول کو محفوظ بنائیں کے سلوگن پر گامزن ہے اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر منیر عباسی نے کہا درخت یا جنگلات بظاہر ہمارے لئے ایک عام سے مسائل ہیں لیکن زمین کا تمام تر فطری ماحولیاتی نظام ان ہی کے گرد گھومتا ہے لہذا ضرورت اس امر یکی ہے کہ ہم اپنے ارد گرد درخت اور پودے لگائیں اور فضاء کو آلودہ کرنے کی چیزوں اور کاموں سے اجتناب کریں۔

  • رواں سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا لیکن یہ پاکستان میں نظر نہیں آئے گا،ماہر فلکیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا لیکن یہ پاکستان میں نظر نہیں آئے گا،ماہر فلکیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال

    ماہر فلکیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا ہے کہ رواں سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا لیکن یہ پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی اور ماہر فلکیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نیرواں سال کے پہلے سورج گرہن کے حوالے سے اپنا بیان جاری کیا ہے۔
    انہوں نے کہاکہ 10 جون کا سورج گرہن روس، گرین لینڈ، شمالی کینیڈا، شمالی ایشیا، یورپ اور امریکا میں دیکھا جاسکے گا۔ماہر فلکیات نے مزید کہا کہ سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 1 بج کر 12 منٹ پرشروع ہوگا۔پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ 3 بج کر 42 منٹ پر سورج گرہن اپنے عروج پر ہوگا جبکہ 3 بج کر 34 منٹ پر یہ اختتام کو پہنچے گا۔انہوں نے کہاکہ سورج گرہن کے دوران اس کا رِنگ آف فائر دیکھا جائے گا۔

  • وزیراعظم نے کہا کہ آپ بہت بولتے ہیں، خاموشی سے میری بات سنیں، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ

    وزیراعظم نے کہا کہ آپ بہت بولتے ہیں، خاموشی سے میری بات سنیں، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ

    وزیراعظم نے کہا کہ آپ بہت بولتے ہیں، خاموشی سے میری بات سنیں، میں نے بھی اپنے دو ٹوک موقف سے آگاہ کر دیا کہ سندھ میں کسی صورت گورنر راج نہیں لگنے دیں گے، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے لے آئے- تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے اور پہلے سے بھی کم بجٹ سندھ کو دیا جا رہا ہے۔
    انہوں ںے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے بات کرنے سے بھی روکا اور کہا کہ آپ بہت بولتے ہیں، میری بات سنیں تاہم انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے سامنے احتجاج کیا اور کہا کہ گورنر رول اور الگ صوبے کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے- انہوں نے یہ بات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
    سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک سال میں ایک ہی این ای سی کی میٹنگ ہوئی ہے۔ انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم نے چار میٹنگز بلانے کا وعدہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فنانس ڈویژن صوبوں کو ترقیاتی بجٹ کے لیے فنڈز دیتی ہے اور چار سال پرانی اسکیموں کے لیے وہی بجٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے 7 ارب سے بڑھا کر 15 ارب کردیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 9.7 ارب کی اسکیموں پرصرف 500 ملین خرچ ہوئے۔
    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایت ہے کہ ایم این اے و ایم پی اے کے کہنے پراسکیموں کو شامل نہ کیا جائے لیکن حکومت کے بجائے ایم این اے اور ایم پی اے کی اسکیموں کو شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے باتیں کی ہیں لیکن ہمارے ساتھ وعدہ نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کل کراچی میں احتجاج کی ویڈیوز موجود ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ احتجاج کا حق ہرکسی کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ہم نے دیگرجماعتوں کو احتجاج کی اجازت دی لیکن کنٹرول بھی کیا ہے۔