Baaghi TV

Category: کراچی

  • ایم کیو ایم کا بڑا فیصلہ، سندھ حکومت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان

    ایم کیو ایم کا بڑا فیصلہ، سندھ حکومت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان

    ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ حکومت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کردیا۔

    یہ ریلی منگل 15 جون کو دوپہر ایک بجے سوک سینٹر سے نکالی جائے گی اور کراچی پریس کلب پر ختم ہوگی۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے حکومت سندھ کی شہری علاقوں سے دشمنی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،پانی،ملازمت میں ناانصافی، جعلی ڈومیسائل اور دیگر ایشوز پر اس ریلی سے وفاقی حکومت اور پورے ملک کی توجہ دلائی جائے گی۔کراجی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔اس زمن میں سندھ حکومت کی توجہ دلانی نہایت ضروری ہے۔

  • بلاول بھٹو کا ٹرین حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس

    بلاول بھٹو کا ٹرین حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گھوٹکی میں ٹرین حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا۔

    بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں دو ٹرینوں کے تصادم میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں مسافروں کے جاں بحق ہونے کی خبر سن کر انتہائی صدمہ ہوا ہے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹرین حادثے میں جاں بحق مسافروں اور ریلوے ملازمین کے لواحقین سے اظہار افسوس بھی ظاہر کیا۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کردی کہ ڈہرکی اور ریتی ریلوے اسٹیشن کے درمیان ہوئے سانحے کے زخمیوں کی فی الفور طبی امداد کو یقینی بنایا جائے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ بھی کیا
    وفاقی حکومت ٹرین حادثے کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے فی الفور تحقیقات کرکے اسے عوام کے سامنے لائے۔

    ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثا اور زخمیوں کی مالی معاونت جلد از جلد کی جائے۔

  • پرانی ٹرینیں حادثے میں اضافے کی وجہ ہیں

    پرانی ٹرینیں حادثے میں اضافے کی وجہ ہیں

    سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے ڈہرکی کے قریب ٹرین حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ایک بیان میں اویس شاہ نے کہا کہ ملک میں پرانی ٹرینیں چلانے سے حادثات میں اضافہ ہورہا ہے، وفاق سے کئی بارمطالبہ کیا کہ ریلوےلائنیں اورپرانی ٹرینیں تبدیل کریں لیکن وفاق سننے کو تیار نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کہ کبھی ٹرینیں پٹری سے اتر جاتی ہیں تو کبھی ٹکرا جاتی ہیں، ہم حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ حادثے کے بعد سکھر اورگھوٹکی کےاسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ ڈہرکی کے قریب ملت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس حادثے کا شکار ہوگئیں جس کے نتیجے میں جاں بحق مسافروں کی تعداد 35 ہوگئی ہے۔

  • سندھ میں آج سے کاروبار رات 8 بجے تک کھلے رہیں گئے

    سندھ میں آج سے کاروبار رات 8 بجے تک کھلے رہیں گئے

    محکمہ داخلہ سندھ نے کورونا ایس او پیز کا نیا حکم نامہ جاری کردیا۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شہر میں کاروبار رات 8 بجے تک کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ بیکریاں اور دودھ کی دکانیں رات 12 بجے تک کھلی رہیں گی.

    ریسٹورینٹس کو رات 12 بجے تک آؤٹ ڈور سروس کی اجازت ہوگی، جمعہ اور اتوار کو کاروبار بند رہے گا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق شادی ہالز، پارکس، امیوزمنٹ پارکس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جم، انڈور گیمز اور اوپن ایریا میں کھیلوں کی اجازت ہوگی۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ کھلی فضا میں شادی کی تقاریب میں 150 مہمانوں تک کی اجازت ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتہ اور اتوار کے دن بند رہے گی، صوبے میں مزارات، سنیما اور تھیٹرز بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیاہے جب کہ کورونا ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں پابندی برقرار رہے گی۔

  • دومسافر ٹرینیں ٹکراگئیں، 30افراد جاں بحق متعدد زخمی

    دومسافر ٹرینیں ٹکراگئیں، 30افراد جاں بحق متعدد زخمی

    گھوٹکی اسٹیشن پر کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ٹریک پرموجود ملت ایکسپریس سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔

    ڈی ایس ریلوے سکھر کے مطابق ٹرین حادثے میں 14بوگیاں متاثر ہوئیں جبکہ 3مکمل طور پر تباہ ہوئیں،9بوگیاں ملت ایکسپریس کی حادثے میں متاثرہوکر پٹڑی سےاتریں۔

    ڈپٹی کمشنرگھوٹکی عثمان عبداللہ نے ٹرین حادثے میں 30 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے، خاتون سمیت7افراد کی لاشیں اوباڑو اسپتال منتقل کردی گئیں۔

    ڈی سی گھوٹکی عثمان عبداللہ نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے میں30مسافرجاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلئے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ متاثرہ بوگیوں میں بہت سے مسافر پھنسے ہوئے ہیں، پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کیلئے ہیوی مشینری،کٹر درکار ہیں، راستہ خراب ہونے کے باعث مشینری منتقل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ملت ایکسپریس میں مجموعی طور پر706مسافر سوارتھے، حادثے کا شکار سر سید ایکسپریس میں 504 مسافر سوار تھے، بدنصیب مسافروں پر صبح ساڑھے پانچ بجے قیامت ٹوٹی جب وہ نیند میں تھے۔

    حادثے کو4گھنٹے سے زائد کاوقت گزرنے کے بعد بھی ریلیف ٹرین موقع پر نہ پہنچ سکی، پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کیلئے چھوٹی مشینری کے ذریعے بوگیوں کو کاٹا جارہا ہے۔

    وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے اطلاع ملتے ہی ٹرین حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ دی جائے۔

    اس حوالے سے ریلوےحکام نے بتایا ہے کہ مذکورہ حادثہ ریتی اور ڈہرکی ریلوے اسٹیشن کے درمیان علی الصبح پیش آیا، ملت ایکسپریس بوگیاں ڈی ریل ہونے پر پٹڑی پر کھڑی تھی اس دوران کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ٹریک پرموجود ملت ایکسپریس سے ٹکرائی۔

    ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ریلوے کے مطابق حادثے کا شکار ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا جارہی تھی، حادثے کے بعد متعدد بوگیاں پٹڑی سے اتر کر الٹ گئیں۔

    ذرائع کے مطابق جائے حادثہ پر چیخ و پکار مچ گئی، ریسکیو ٹیموں کے علاوہ مقامی افراد بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے، ٹرین حادثے کے متاثرین کو منتقل کرنے کا فوری طور پر کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا.

    بعد ازاں اہل علاقہ ٹریکٹرٹرالیوں میں متاثرہ مسافروں کو شہر کی طرف منتقل کرنے لگے۔ جائےحادثہ پر ریسکیوآپریشن سست روی کا شکار جائے حادثہ پر تاحال ہیوی مشینری نہیں پہنچائی جاسکی ہے۔

    اس حوالے سے ترجمان سندھ رینجرز نے بتایا کہ حادثے کے کچھ دیر بعد رینجرز کے جوانوں پر مشتمل ٹیمیں بھی جائے حادثہ پہنچیں, رینجرز کے جوان ریسکیو ٹیموں کے ساتھ امدادی کاموں میں مصروف رہے، زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کیلئے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

    ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ روہڑی سے ریلیف ٹرین جائے حادثہ روانہ کردی گئی ہے، ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی معلومات کیلئے کراچی، سکھر، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ لائن سینٹر قائم کردیا گیا ہے۔

    ریلوے حکام کے مطابق زخمیوں کو تعلقہ اسپتال روہڑی، پنوعاقل اور سول اسپتال سکھر منتقل کیا گیا ہے، زیادہ تر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا، متاثرہ مسافروں کو صادق آباد ریلوے اسٹیشن روانہ کیا گیا ہے۔

    ڈی آئی جی سکھر فدا مستوئی نے میڈیا کو بتایا کہ ٹرین حادثے میں 50سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، بوگیوں میں پھنسے ہوئے مسافروں کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

  • زمینوں پر ناجائز قبضہ ناقابل برداشت ہے

    زمینوں پر ناجائز قبضہ ناقابل برداشت ہے

    امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا ادارہ نورحق میں بحریہ ٹاؤن میں پیش آنے والے واقعے اور حقائق کے حوالے سے ہنگامی پریس کانفرنس کی گئی۔جس میں حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کیا ۔

    امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے خطاب میں کہا بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کروانا حکومت کا کام ہے۔زمینوں پر ناجائز قبضہ ناقابل برداشت ہے۔

    بحریہ ٹاؤن کی زمین کے قبضے میں وڈیرے اور حکومت شامل تھی. اس واقعے سے بحریہ ٹاؤن کا کچھ نہیں بگڑا بلکہ سندھ اور کراچی کے لوگوں کا نقصان ہوا.

    اس طرح کے فسادات سے لسانی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔27دسمبر 2007میں بھی جلاؤ گھیراؤ میں اس طرح کے کیمیکل استعمال کیے گئے تھے۔

    آج جلاؤ گھیراؤ کرنے والے اس وقت کہاں تھے جب قبضہ ہورہا تھا۔ملک ریاض کی ذمہ داری ہے کہ بحریہ ٹاؤن کا پروجیکٹ ہر صورت پورا کریں۔

    آج بحریہ ٹاؤن کے واقعے میں انتظامیہ ملوث تھی۔ پولیس اور رینجرز کہاں تھیں،رینجرز اور لاء انفورسمنٹ اداروں کے نوٹس لینا چاہیئے تھا۔

  • سعید غنی کا پڑوسی ٹیچر 9 سالوں سے تنخواہ ملنے کی آس لئے چل بسا

    سعید غنی کا پڑوسی ٹیچر 9 سالوں سے تنخواہ ملنے کی آس لئے چل بسا

    وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا پڑوسی اور محکمہ اسکول ایجوکیشن میں بھرتی کے بعد سے 9سالوں سے تنخواہ سے محروم سرکاری استادتنخواہ ملنے کی آس لئے دنیاسے چلا گیااس طرح سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں سال2012ء میں بھرتیوں کے بعد سے تنخواہوں سے محروم درجنوں اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف اس دنیا فانی کو چھوڑ چکے ہیں ۔
    بتایا جاتا ہے کہ عبدالوہاب ولد نور محمد 2012ء میں نائب قاصد کی آسامی پر گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول منظور کالونی محمود آباد میں بھرتی ہوا تھا تاہم محکمہ اسکول ایجوکیشن کی ہٹ دھرمی کے باعث گذشتہ 9سالوں سے تنخواہوں سے محروم تھاجبکہ محروم کینسر جیسے موذی مرض میں بھی مبتلا ہوگیا تھا۔
    گذشتہ روز عبدالوہاب کومقامی قبرستا ن میں سپرد خاک کردیا گیا۔

    نمازِ جنازہ میں مقامی افراد کے علاوہ 2012ء میں بھرتی ہونے والے ادر کیڈر اساتذہ و غیر تدریسی عملہ نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ٹیچرعبدالوہاب تنخواہوں کے حصول کیلئے کئے جانیوالے سیکڑوں دھرنوں اور احتجاج میں شریک رہا تھا۔ محروم نے سوگواران میں بیوہ،تین لڑکیاں اور دو لڑکے چھوڑے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ٹیچر عبدالوہاب کا گھر وزیر تعلیم سعید غنی کے بالکل سامنے ہے اس کے باوجود صوبائی وزیر تعلیم اس کے مسئلے کو حل نہیں کرسکے اور نہ ہی انہوں نے داد رسی کی کوشش کی ۔

  • مصطفیٰ کمال کی خالد مقبول صدیقی کو پیشکش

    مصطفیٰ کمال کی خالد مقبول صدیقی کو پیشکش

    پاک سر زمین پارٹی نےپاکستان اور سندھ کےمسائل کے لیے تین نکاتی حل پیش کر دیا ، انہوں نے کہا کہ اگر خالد مقبول مہاجروں کے ساتھ ہیں تو تین نکاتی ایجنڈے پر ہمارا ساتھ دیں اسمبلی سے استعفیٰ دیں ہم خوش آمدید کہیں گے۔وفاقی حکومت آئینی طور پر این ایف سی کوپی ایف سی کیساتھ لازم اور ملزوم کرے،آئینی ترمیم کے ذریعے اٹھارویں ترمیم میں اختیارات اور وسائل کو نچلی ترین سطح تک منتقل کرایا جائےاورآئینی ترمیم کےذریعے بلدیاتی نظام کا پورا چیپٹر آئین میں شامل کیا جائے اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سمیت تمام ادارے میئر کے دفتر کے ماتحت کیے جائیں۔
    مذکورہ تین نکاتی حل پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے ہفتہ کو پاکستان ہائوس میں پی ایس پی رہنمائوں کےہمراہ ایک پریس کانفرنس میں پیش کیا،
    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نہ پیپلز پارٹی سندھیوں کی نمائندہ جماعت ہے اور نہ ایم کیو ایم مہاجروں کی ٹھیکیدار جماعت ہے۔

  • محمو د الحق سو سائٹی کے الاٹیز کو حق نہ دیا گیا تو سپر ہا ئی وے کو بند کر دینگے،سید قطب احمد

    محمو د الحق سو سائٹی کے الاٹیز کو حق نہ دیا گیا تو سپر ہا ئی وے کو بند کر دینگے،سید قطب احمد

    جما عت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی شرقی کے صدر سید قطب احمد نے کہا ہے کہ محمو د الحق سو سائٹی کے الاٹیز کو جلد حق نہ دیا گیا تو سپر ہا ئی وے کو بند کر دینگے اور ڈی سی ایسٹ اور کمشنر کراچی کے آفس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار سید قطب احمد نے محمو دالحق سو سائٹی کے الاٹیز کے ہمراہ پر حجوم پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا ان کا مزید کہنا تھا قبضہ مافیا کے دو بلڈرز نے مختیار کار کی سر پرستی میں محمو د الحق سو سائٹی سیکٹر48-A کی دیواریں اور گیٹ تو ڑ کر سو سائٹی پر قبضے کی کو شش کی جسے الاٹیز نے بر وقت پہنچ کر ناکام بنایا حالانکہ ہا ئی کورٹ نی2011 سے سو سائٹی کے حق میں اسٹے دے رکھا ہے کراچی کے غریب لو گوں کی جائیدادوں پر کب تک حکومتی سر پر ستی میں قبضہ مافیا قبضے کرتی رہے گی اور ارباب اختیار عوام کی بت بسی کا تماشا دیکھتے رہیں گے۔
    محمو دالحق سو سائٹی کے چار سیکٹر 48-A، 26-B، 26-A اور21-B کے چار ہزار سے زائد الاٹیز کئی برسوں سے اپنے پلاٹ پر قبضہ ملنے کے منتظر ہیں اور گزشتہ سالوں سے خود ساختہ اعزازی سیکریٹری جو الاٹیز کو صرف ایک ہی لو لی پوپ دے رہے ہیں کہ آج قبضہ دے رہے ہیں اور کل قبضہ دے رہے ہیں اور الاٹیز کو حقیقت سے آگاہ نہیں کیا جارہا ہماری اطلاعات کے مطابق سیکٹر48-A کی صرف زمین کی سیل ڈیڈ سو سائٹی کے پاس ہے سیکریٹری صاحب آپ جواب دہ ہیں کہ اب تک سیکٹر48-A کی زمین کی مٹیشن کیوں نہیں ہو ئی اور لے آؤٹ پلان آپ کا ابھی تک اپروو کیوں نہیں ہوا کیا وجوہات ہیں ان سب چیزوں کے با وجود آپ سو سائٹی میں سیل پرچیز کے کام کو کیوں نہیں روک رہے اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں آپ کو جواب دینا ہو گا آپ کی اس نا اہلی کی وجہ سے لاکھوں لو گوں کی خون پسینے کی کمائی داؤ پر لگ چکی ہے۔
    اور سیکٹر ، 26-B، 26-A اور21-B کے زمین کے کیا معاملات ہیں زمین کے کتنے دعویدار ہیں اور کورٹ میں کیس کا کیا اسٹیٹس ہے یہ آپ نے الاٹیز کو بتا نا ہو گا۔ سیکٹر 48-A میں اتنے معاملات تھے تو آپ نے لو گوں سے ڈو یلپمینٹ چارجز کی مد میں کڑوڑوں روپے کیوں وصول کئے گئے ہیں۔جماعت اسلامی اور سو سائٹی کے الاٹیز چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، چیئر مین نیب اورFIA سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سو سائٹی کے معاملات کی شفاف تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی مرتب کی جائے جو پتہ لگائے کہ سو سائٹی کے الاٹیز کو قبضہ کیوں نہیں دیا گیا۔
    اور کون لوگ سو سا ئٹی کی زمین کی قیمت بڑھا کر اور کبھی کم کر کے غریب عوام سے لوٹ مار کر تے رہے ہیں اور انہیں کن سرکاری اداروں کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ ہم ڈی سی ایسٹ سے مطالبہ کر تے ہیں کہ سیکٹر 48-A کے الاٹیز کو فوری مٹیشن دی جائے ورنہ سب سے پہلے دھرنا ڈی سی ایسٹ کے آفس پر دیا جائے گا اور حق نہ ملنے پر کمشنر کراچی کے آفس کا گھیراؤ اور ساتھ سپر ہائی وے کو بھی بند کر دیا جائے گا . اس مو قع پر نائب امیر ضلع شرقی عزیزاللہ ظفر اور انچارج کو آپریٹو سیل / سیکریٹری اطلاعات پبلک ایڈ شرقی عدنان شریف بھی مو جو د تھے۔

  • کراچی پر علیحدگی پسندوں کی چڑھائی برداشت نہیں کرینگے : ڈاکٹر سلیم حیدر

    کراچی پر علیحدگی پسندوں کی چڑھائی برداشت نہیں کرینگے : ڈاکٹر سلیم حیدر

    مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کراچی میں بحریہ ٹاؤن پر سندھودیش کے حامی علیحدگی پسندوں کی چڑھائی ، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی ایماء پر ایک منصوبے کے تحت علیحدگی پسندوں کو کراچی لاکر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کرائی جاتی ہے جس کا مقصد کراچی کے عوام کو خوفزدہ کرنا ہے ۔
    علیحدگی پسند سندھودیش کے حامی کراچی کی رہائشی آبادی پر سارا دن توڑ پھوڑ کرتے رہے ، آزادانہ طورپر پاکستان کیخلاف نعرے بازی کی جاتی رہی لیکن نہ تو انتظامیہ ، نہ ہی پولیس اور نہ ہی کسی ریاستی ادارے نے اس کا نوٹس لیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک ریاض ایک شخص کا نام ہے لیکن اسے پنجابی کہہ کر پوری قوم کیخلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے جس کی کوئی بھی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دے سکتا، انہوں نے کہاکہ کراچی کے مقامی مہاجروں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی انتہا ہے ، برسوں سے پیپلزپارٹی کے حکمران مہاجروں کو بے گھر کررہے ہیں ، چائنا کٹنگ اور انکروچمنٹ کے نام پر کراچی اور حیدرآباد کے مہاجروں کے گھروں اور دکانوں کومسمار کیا جارہا ہے لیکن اس پر سب خاموش ہیں ، پیپلزپارٹی جو خود بحریہ ٹاؤن کی خالق ہے اب اپنے ہی علیحدگی پسندوں کے ذریعے اس پر چڑھائی کروائی گئی ، اس میں ہزاروں مہاجر الاٹیز کی سرمایہ کاری ہے جس کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔
    انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی یہ علیحدگی پسند کراچی کے مختلف علاقوں میں چڑھائی کرکے پاکستان اور بانی پاکستان کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے لیکن ننہ تو ان کو گرفتار کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کیخلاف مقدمہ درج کیا جاتا ہے بلکہ انہیں درپردہ ٹرانسپورٹ سے لے کر دیگر سہولیات تک خود حکومت فراہم کرتی ہے اور یہ علیحدگی پسند دراصل پیپلزپارٹی کا قوم پرست ونگ ہے جو ان ہی کی فنڈنگ اور ان ہی کے پیسے پر سیاست کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے جزائر کو ڈویلپمنٹ کرنے کا مسئلہ ہو یا کراچی کی تعمیروترقی کا پیپلزپارٹی اور اس کا قوم پرست گروپ فوری متحرک ہوجاتا ہے اور دھمکی آمیز سیاست شروع کردیتا ہے۔