سپریم کورٹ نے ایس ٹی پلاٹس پر قائم سائوتھ سٹی اسپتال اور ضیا الدین اسپتال کو شو کاز نوٹس جاری کردیا۔ عدالت عظمی نے بوٹ بیسن سے متصل کوم تھری اور کومز کی تعمیر سے متعلق ڈی جی کے ڈی اے کو کوم کے نام سے منصوب پلاٹوں اور کراچی کے تمام ایس ٹی پلاٹس کی تفصیل ماسٹر پلان کی روشنی میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ کے روبرو بوٹ بیسن سے متصل کوم تھری اور کومز کی تعمیر سے متعلق سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے سمندر سے زمین کیسے نکالی گئی کوم بنانے کا کیا جواز ڈی جی کے ڈی اے نے بتایا کہ 1972 میں 4 کوم تھے اب تو ایک رہ گیا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ تو پارک کی زمینیں ہیں کیسے کمرشل کردی گئی جو ایس ٹی پلاٹس ہیں انہیں خالی کروائیں جاکر۔ رفاعی پلاٹوں پر قبضہ کرکے لوگ بیٹھے ہیں۔ آپ کی زمین ہے آپ کو اختیار ہے خالی کرانے کا۔ آپ اپنے دفتر میں بیٹھے ہیں جیسے سب لچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ سب کچھ غلط ہورہا ہے یہاں ، کچھ ٹھیک نہیں۔ ڈی جی نے بتایا کہ ہمارے سروے کے مطابق تجاوزات والی زمینوں کی مالیت سات ارب روپے ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے رفاعی پلاٹوں پر شاپنگ مالز بنے ہوئے ہیں کون ماسٹر پلان چینج کررہا ہی جہانگیر کوٹھاری پریڈ کو ختم ہی کردیا اتنی اچھی جگہ تھی۔ لوگ شام کو جا کر بیٹھ جاتے تھے خوبصورت جگہ ہوا کرتی تھی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ایکوریم کہاں گیا ہے یا غائب ہوگیا چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھا گئیں۔
امبر علی بھائی نے بتایا کہ میرے پاس سارا ریکارڈ موجود ہے کس طرح قبضے ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپ ایک ایک کرکے سب بتائیں ایک ساتھ سمجھ نہیں آئے گا۔ امبر علی بھائی نے بتایا کہ ایس ٹی پلاٹ اسپتال کیلئے استعمال ہوسکتا کے مگر کمرشل نہیں۔ ڈی جی کے ڈی اے نے بتایا کہ ایس ٹی پلاٹس اسپیشل مقاصد کیلئے استعمال ہوسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسپتال میں کیا خصوصی مقاصد ہیں یہ تو کمرشل استعمال ہورہا ہے۔
ڈی جی کے ڈی اے نے بتایا کہ کوم تھری وزیر اعلی نے الاٹ کیا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ سی ایم کے پاس کیا اختیار ہی انہیں کس نے اختیار دیا کہ جس کو چاہیں الاٹ کرتے رہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے سارے ایس ٹی پلاٹس خالی کرائیں۔ ایس ٹی پر تو اسکول وغیرہ ہونا چاہئے۔ جہاں سائوتھ سٹی ہے وہاں سرکاری اسپتال ہونا چاہیے تھا۔
سپریم کورٹ نے کراچی کے تمام ایس ٹی پلاٹس کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ عدالت نے ڈی جی کے ڈی اے سے کوم کے نام سے منسوب تمام پلاٹون کی تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت عظمی نے ڈی جی کے ڈی اے کو ہدایت کی یہ پلاٹس کب اور کس نے الاٹ کیے تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے الاٹ کیے گئے ایس ٹی پلاٹس کی تفصیل ماسٹر پلان کی روشنی میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ سپریم کورٹ نے ایس ٹی پلاٹس پر قائم سائوتھ سٹی اسپتال اور ضیا الدین اسپتال کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں نجی اسپتالوں سے اوریجنل دستاویزات اور جواب طلب کرلیا۔
Category: کراچی
-

سپریم کورٹ نے ایس ٹی پلاٹس پر قائم سائوتھ سٹی اسپتال اور ضیا الدین اسپتال کو شو کاز نوٹس جاری کردی
-

ہم آئندہ مالی 22-2021 میں 30 ہزار سے زائد نوکریاں دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم آئندہ مالی 22-2021میں 30ہزار سے زائد نوکریاں دیں گے۔ سندھ حکومت گورکھ ہل منصوبے کو جل سے جلد مکمل کرے گی اور اس کیلئے جس قدر فنڈز کی ضرورت ہوگی سندھ حکومت وہ تمام فنڈز فراہم کرے گی۔ وزیراعلی سندھ نے یہ بات سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے بعد میڈیا سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہی۔
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے مجھے کہا ہم سے پمز نہیں چلتا ہے۔ہم ان کے اسپتال کیسے چلائیں گے ۔ کراچی کے لئے ایک ہزار بہتر پروجیکٹ چل رہے ہیں۔ اس میں صوبائی اور ضلعی اے ڈی پی ہے۔اس میں جو پروجیکٹ چل رہے ہیں اس کیلئی991 ارب روپے ہیں۔یہ سندھ حکومت کررہی ہے۔
آئی سی آئی برج ماڑی پور بنا رہے ہیں۔ 110 ارب روپے کراچی کیلئے مختص کیے ہیں۔یہ بھی کم ہیں ،اگر ہمارے پاس ریسورس ہوتے تو ہم تین ہزار ارب روپے دیتے ۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اس سال تیس ہزار تک نئی ملازمتیں دیں گے۔چیف جسٹس کے ریمارکس کی عزت ہے۔چیف جسٹس نے احکامات دئیے ہیں۔نسلاپارک ، الہ دین پارک ہم نے نہیں دیا۔ جس دور میں دیا گیا ہے ،وہ بھی دیکھ لیں ۔کیا گورنر ہائوس اس لیے ہے کہ وہ اجلاس کرے اور ریلوے کی زمین دے ۔
ٹکرز کے بجائے فیصلہ بھی پڑھ لیا کریں۔عدالت کے احکامات میں یونس میمن کا ذکر نہیں ہے، اس اسمبلی نے مجھے منتخب کیا ہے، اب سچ کے منہ بند ہو جانے چاہیے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہمارے بجٹ انہوں نے مسترد کیا ہے ،جو خود مسترد ہوچکے ہیں۔میں نے ہنسے والوں کو بتا دیا تم استعمال ہورہے ہو۔ جن کی 21 نشستیں ہوتی تھی ان کے پاس اب صرف چند نشستیں رہ گئی ہیں۔
پانی کے حوالے سے میرا شکوہ پنجاب سے نہیں ہے، اگر ارسا پانی کی تقسیم درست نہیں کرتا ہے۔ میں کیوں پنجاب کو ذمہ دار ٹھرائوں۔آبی معاہدے میں ہمارے ساتھ نا انصافی کی گئی۔قبضہ گیر لوگ آکر بدین کرتے ہیں۔اس صوبے میں جو بھی بزنس کرنا چاہے ہم اس کے خلاف نہیں، جہاں وہ زیادتی کرے گا۔جو زمین بحریہ کو سپریم کورٹ نے دی ہے۔توڑ پھوڑ کی گئی ہے لوگوں کی دکانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
میں ہر قانون توڑنے والوں کو خلاف ہوں۔ایم نائن پر جو نقصان ہواہے۔ جن کا نقصان ہوا ہے انہوں نے خود ایف آئی آر درج کرائی ہیں۔آکر احتجاج کیا خود تو چلے گئے چند گھنٹے بعد۔پیپلز پارٹی کو سندھ کے 70 فیصد لوگ ہمیں ووٹ دیتے ہیں۔ مجھے رات کو بہت اچھی نیند آتی ہے، لیکن انکی نیندیں حرام ہیں۔ میں کام کے وقت درست کام کرتاہوں ۔ نوری آباد ریفرنس درج ہے،یہ وہ پروجیکٹ ہے جو ایک منٹ بھی بند نہیں ہوا۔
ان کے ڈائریکٹر کو زبردستی جیل میں ڈالا گیا،ایک کان میں سے انتقال بھی ہوگیا ہے۔ ایک دن بھی بجلی بند نہیں ہوئی ۔ کم سے کم ٹیرف کی بجلی ہے۔ اس کی یونٹ کاسٹ 10 روپے ہے۔ بی آر ٹی کو دھکا لگا رہا ہے ، اس پر کیس نہیں ہوتا ہے۔ وفاق نے ہر وقت روڑے اٹکائے ہیں اور گزشتہ سالوں میں کسی بھی سال میں صوبہ کیلئے مختص فنڈز پورے نہیں دیئے ہیں جس کے باعث ہمارے ترقیاتی کام متاثر ہورہے ہیں۔
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق نے سندھ کو کہا تھا کہ ویکسین کی فکر نہ کریں اور ویکسین لگانے کی تعداد بڑھائیں۔ سندھ نے اس پر عمل کیا لیکن پرسوں پنجاب کے بعد منگل سے سندھ میں بھی ویکسین کے عمل میں خلل واقع ہوا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ جن ممالک میں ویکسی نیشن ہوگئی ہے وہاں کاروبار کھل رہا ہے لیکن وفاق سندھ کو ویکسین خریدنے نہیں دیتا۔
ویکسین کی سپلائی میں کمی وفاقی کی ذمہ داری ہے۔ وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 869 ارپ روپے ملنے تھے، وفاق نے اس سال 760 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، جن میں سے 147 ارب روپے اب ملنے ہیں، مگر لگتا نہیں کہ یہ رقم ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا رواں سال کا 14 کھرب 77 ارب کا بجٹ ہے، سب سے بڑا ریونیو سورس سندھ ریونیو بورڈ ہے، جس سے 125 ارب روپے ملیں گے، ہم نے اگلے برس ڈیڑھ سو ارب کا ریونیو کا ٹارگٹ رکھا ہے، لوکل گورنمنٹ کے لیے 82 ملین کی رقم مختص کی گئی ہے۔
قبل ازیں وزیراعلی سندھ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل سندھ اسمبلی میں سیٹیاں بجائی گئی اور میں نے آئندہ مالی سال 22-2021 کا 1477ارب کا بجٹ پیش کیا ۔ ہماری آمدنی ایک ٹریلین سے زیادہ ہے جبکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ خسارے کا ہے اور کس طرح پورا کریں گیاس کیلئے کوشش کرنا پڑے گی۔ سندھ کے پیسے بحریہ ٹان میں بھی پڑے ہوئے ہیں امید کرتے ہیں وہ بھی ہمیں ملیں گے۔
انھوں نے کہا کہ کووڈ کی وجہ سے ٹیکس کلیکشن کم ہوئی اس سال زیادہ حاصل کریں گے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی گرانٹ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے 27ارب ملتی تھی جسے اب کم کردیا گیا ہے اور پانچ ارب روپے ملتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 1.4ٹریلین روپے کرنٹ روینیواخراجات ہیں ۔ تنخواہوں میں 57فیصد روینیوجاتاہے۔ تقریبا 60 فیصد سیلریزمیں جاتے ہیں۔
میں کہوں گاکہ پورے پاکستان میں اجرت 25ہزار روپے کردی جائے ۔ ملک ہم نہیں یہ مزدورچلارہے ہوتے ہیں، یہ کڑواگھونٹ پیناہے۔ وفاق اورباقی صوبے ہوش کے ناخن لیں اور کم سے کم اجرت میں اضافہ کریں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کودولاکھ تک لون دیں گے۔ کووڈ سے جولوگ متاثرہوئے ہیں ان کیلئے 10 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ فرٹیلائیزکیلئے ایک ارب سبسڈی دیں گے۔ -

سی آئی اے کی کارروائی ،منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی
سی آئی اے کی کارروائی ،حب سے کراچی منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا کر رکشہ سے 10 کلو اور 200 گرام اعلی کوالٹی کو چرس برآمد کرکے ایک اسمگلر کوگرفتار کرلیا ، تفصیلات کے مطابق ایس ایس لسبیلہ طارق الٰہی مستوئی کی ہدایت پر اور ایڈیشنل ایس پی لسبیلہ کپیٹن ( ر) صدام حسین خاصخیلی ، ڈی ایس پی CIA ملک عبدالستار رونجھو کی زیرنگرانی انچارج سی آئی قادر شیخ نے کاروائی کرکے حب سے کراچی منشیات کی اسمگل کی کوشش ناکام بنادی۔
اس حوالے سے ایڈیشنل ایس پی لسبیلہ کپیٹن (ر) صدام حسین خاصخیلی ، ڈی ایس پی CIA ملک عبدالستار رونجھو نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ اطلاع ملی تھی کہ حب سے کراچی منشیات اسمگل کی جارہی ہے جس پر انچارج سی آئی اے حب قادر شیخ نے حب کے خارجی راستوں پر کڑی نگرانی کے دوران تلاشی پر ایک رکشہ میں کمال ہوشیاری سے خصوصی طور پر بنائے گئے خفیہ خانوں سے 10 کلو اعلی 200 گرام اعلیٰ کوالٹی کی چرس برآمد کرکے منشیات اسمگلر شاہ رخ ولد نصراللہ کو گرفتار کرلیا، مقدمہ درج کرکے مزید تفتش شروع کردی۔ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم کا تعلق بین الصوبائی گروہ سے بتایا جاتا ہے. -

مون سون بارشوں کی آمد، کراچی ائیرپورٹ کیلئے الرٹ جاری
مون سون بارشوں کی آمد، کراچی ائیرپورٹ کیلئے الرٹ جاری، سول ایوی ایشن انتظامیہ نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہائی الرٹ جاری کردیا، محکمہ ایئر سائیڈ اور محکمہ فائر کو ہنگامی اقدامات کی ہدایات جاری ۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پری مون سون بارشوں کے آغاز میں چند گھنٹے باقی ہے، ایسے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کراچی ائیرپورٹ حکام کیلئے الرٹ جاری کیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ کراچی میں 3 روز کے دوران بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کراچی ائیرپورٹ کے محکمہ ایئر سائیڈ اور محکمہ فائر کو ہنگامی اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔ سی اے اے نے چھوٹے سائز کے طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کے ساتھ اضافی وزن لگانے اور کچھ طیاروں کو ہوا کی شدت سے بچانے کے لیے ہینگر میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
ے کئی علاقوں میں تین روز تک بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔اس ضمن میں محکمہ موسمیات کے افسر جواد میمن نے بتایا کہ کراچی میں جمعرات کی دوپہر اور شام سے بادلوں کا سسٹم مضبوط ہوجائے گا اور 18 اور 19 جون کو بارش کا امکان ہے۔
اس دوران کراچی کے تمام علاقوں میں تیز اور ہلکی بارش متوقع ہے۔ اس دوران بارش سے پہلے آندھی آنے کا امکان بھی ہے۔جواد میمن نے بتایا کہ کراچی کے شمالی علاقوں میں تیز بارش ہوسکتی ہے۔ ان علاقوں میں ہائی وے سمیت سرجانی ٹائون،گلشن حدید اور نارتھ کراچی شامل ہیں۔پری مون سے متعلق انھوں نے بتایا کہ اس سیزن میں ماضی میں طاقتور سسٹم دیکھے گئے ہیں جس کے باعث غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں۔
اس دفعہ پری مون سون تین مختلف سسٹم کا مجموعہ ہے۔ بحرِ عرب سے سندھ کے علاقوں کی طرف بادلوں کا نظام بڑھ رہا ہے جن میں کراچی بھی شامل ہے۔ بنگال کی طرف بھی بارش برسانے والا طاقتور نظام موجود ہے جو پاکستان کی طرف بڑھے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وسطی اور بالائی علاقوں میں بھی بارشیں برسانے والا نظام موجود ہوگا اور جون کے آخری ہفتے میں بارشوں کا نظام فعال ہوجائے گا۔اندرونِ سندھ سے متعلق انہوں نے بتایاکہ بارشوں کا موجودہ نظام کئی دیہی علاقوں میں بھی بارش برسائے گا اور ژالہ باری کا امکان ہے۔ -

کراچی: فائرنگ میں پی ٹی آئی رہنما اور اہلیہ شدید زخمی
کراچی: گلشن معمار میں فائرنگ سے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما عیسیٰ خان اور ان کی اہلیہ زخمی ہوگئے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن معمار میں فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما عیسیٰ خان کو کلاشنکوف کی 2 گولیاں بازو جبکہ اہلیہ کو ایک گولی سر پر لگی-
پی ٹی آئی رہنما کی اہلیہ کی حالت تشویشناک ہے -واقعے کے وقت گاڑی میں 6 ماہ کی بچی بھی موجود تھی جو محفوظ رہی۔
پی ٹی آئی رکن اسمبلی راجا اظہر نے بتایا کہ ملزمان دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور انہوں نے کلاشنکوف سے 6 فائر کیے۔
-

سعودی عرب نےجدید ٹیکنالوجی کی مدد سےروبوٹ سروس کا افتتاح کردیا
خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں آب زم زم تقسیم کرنے والے روبوٹ متعارف کروا دیے گئے ہیں۔
سعودی میڈیا کے مطابق خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی انتظامی امور کی کمیٹی کے سربراہ اور معروف امام عبدالرحمن السدیس نے نمازیوں میں آب زم زم کی بوتلیں تقسیم کے لیے روبوٹ سروس کا افتتاح کردی ہے۔
یہ روبوٹ آب زم زم کی بوتلوں کو لیکر خود نمازیوں کے درمیان ایک مخصوص راستے سے عبادت میں رکاوٹ ڈالے بغیر گزریں گے، جہاں نمازی بآسانی ان روبوٹ سے آب آب زم کی بوتلیں اُٹھا سکیں گے۔ اس طرح آب زم زم کے لیے بھیڑ اور ہجوم کا خاتمہ ہوجائے گا۔
اس موقع پر عبدالرحمن السدیس کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سماجی خدمات کے لیے بہت اہم ہیں اور وبا کے دوران عبادت گزاروں کو مہلک وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہوگیا ہے۔
-

کرپشن کے خاتمے کے لئے سخت اور موثر حکمت عملی اختیار کی جائے
کرپشن کے خاتمے کے لئے سخت اور موثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ جام اکرام اللہ دھاریجو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سندھ کو کرپشن سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اینٹی کرپشن ایسٹ زون دفتر کا دورہ اور اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور انسداد بدعنوانی و محکمہ امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے اینٹی کرپشن ایسٹ زون دفتر کا دورہ کیا ۔ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن شہزاد فضل عباسی، بھی صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایسٹ محمد ابراہیم میمن نے صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور انسداد بدعنوانی و محکمہ امدادباہمی جام اکرام اللہ دھاریجو کو تفصیلی بریفنگ بھی دی,دورے کے موقع پر صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہیں کرپشن کے خاتمے کے لئے سخت اور موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت اورکہا کہ کرپشن کے خلاف کاروائیاں تیز کی جائیں تاکہ کرپٹ عناصر کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کرپشن سے پاک سندھ چاہتے ہیں۔ کرپشن سے متعلق ملنے والی شکایات پر سنجیدگی اور شفافیت سے کارروائی کی جائے۔ جام اکرام اللہ دھاریجو نے افسران کو مزید ہدایت کی کہ کسی کو بھی بلاوجہ تنگ نہ کیا جائے۔ اگر محکمہ اینٹی کرپشن کا کوئی بھی اہلکار کرپشن میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ جام اکرام اللہ دھاریجو نے شہریوں سے بھی درخواست کی کہ وہ بلا خوف و خطر کرپشن کے اپنی شکایات درج کروائیں کیونکہ کہ ہم سب مل کر ہی صوبے کو کرپشن کے عفریت سے نجات دلا سکتے ہیں
-

بیت المال کو عوامی خدمت کامثالی ادارہ بنائیں گے،اپوزیشن لیڈر
ایم ڈی بیت المال پاکستان ظہیر عباس کھوکھر، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی ملاقات،
ملاقات میں رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر سنجے گنگوانی، ڈائریکٹر بیت المال ڈاکٹر عدنان، نعیم عادل اور دیگر بھی موجود تھے۔
ملاقات میں بیت المال کے پروگرامز اور مجموعی کارکردگی پر گفتگو کی گئی۔
اس موقع پرحلیم عادل شیخ نےبیت المال کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیت المال وزیراعظم کے ویژن پر بہتر کام کررہا ہے،بیت المال کو دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے رول ماڈل بنانا ہے،عام افراد کی رسائی اور رلیف کو مزید یقینی بنانے کی ضرورت ہے،بارشوں میں فوری رلیف کے لیے بیت المال ریسکیو اینڈ رلیف پروگرام بھی شروع کریں گے۔انھوں نےمزید کہاکہ احساس پروگرام کیطرح بیت المال میں بھی سندھ کا حصہ مزید بڑھایا جائے۔
اس موقع پر ایم ڈی بیت المال ظہیر عباس کھوکھر نے بیت المال کی کارکردگی کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم بیت المال کو عوامی خدمت کا ادارہ بنا رہے ہیں،کینسر کے مریضوں کو 1 ملین اور دیگر بیماریوں میں بیت المال تعاون کررہا ہے۔
سندھ میں غریب طلباء کو بیت المال کے ذریعے اسکالرشپ دی گئی ہیں، کراچی میں پناہ گاہوں کا نظام سب سے بہتر ہے،سندھ میں مزید 5 پناہ گاہیں کھول رہے ہیں، کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام تحت سندھ میں پروگرام کا آغاز کرنے جارہے ہیں، پہلے مرحلے میں سندھ کے مختلف شہروں میں 5 کچن گاڑیاں فراہم کی جارہی ہیں، بیت المال کو عوامی خدمت کامثالی ادارہ بنائیں گے۔ملاقات کے اختتام پر اپوزیشن لیڈر کی جانب سے مہمانوں کو سندھی اجرک اور ٹوپی کا تحفہ پیش کیا گیا. -

سندھ حکومت کے بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے
سندھ حکومت کے بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے
باغی ٹی وی :سندھ حکومت نے صوبے میںبیورو کریسی میں کافی تبدیلیاں کی ہیں . سندھ میں مختلف محکموں کے سیکریٹریز کے تقرر اور تبادلے کیے گئے ہیں . ان تبدیلیوں کے سلسلے میں زاہد علی عباسی سیکریٹری محکمہ انویسٹمنٹ مقرر کیے گئے ہیں

راجا خرم شہزاد عمر کو سیکریٹری محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن تعینات کیا گیا .ہے ،ریحان اقبال بلوچ کی بطور سیکریٹری محکمہ پاپولیشن اینڈ ویلفیئر تقرر ہوئے ہیں.

آصف اکرام سیکریٹری محکمہ بین الصوبائی رابطے مقرر کیے گئے . محکمہ سروسز آئنڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیے گئے . .


-

پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، اور تحریک انصاف کا ایک جیسا کردار مصطفی کمال نے بے نقاب کردیا
پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، اور تحریک انصاف کا ایک جیسا کردار مصطفی کمال نے بے نقاب کردیا
باغی ٹی وی : پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ عوام کو اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل نا کرنے میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، اور تحریک انصاف ایک جیسی ہیں۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف اپنی ہی جماعت کے کونسلر اور یوسی چئیر مینز کو اختیارات اور وسائل منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی ذہنیت جاگیردارنہ اور وڈیرانہ ہے۔
مجھے کیوں نکالا” کے نعرے لگانے والی مسلم لیگ(ن) نے ایک بار بھی پنجاب کے اپنے 57000 منتخب بلدیاتی نمائندوں کے لیے "انہیں کیوں نکالا” کی آواز بلند نہیں کی کیونکہ گلی محلوں اور گاؤں کے بلدیاتی نمائندے عوامی مسائل کو حل کرکہ مقامی ہیروز بن جاتے جو جاگیرداروں اور وڈیروں کی سیاست کے لیے زہر قاتل بن جائیں گے۔
نااہل، کرپٹ اور تعصب زدہ حکمران بھی اچھی طرح یہ بات جانتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 140A اور اٹھارویں ترمیم میں مزید ترمیم میں پاکستان کے 90 فیصد مسائل کا حل پنہاں ہے لیکن اختیارات اور وسائل پر قابض بوسیدہ نظام کی پیداوار حکمران موروثی مفادات کی خاطر ملک کو تباہی و برباد کررہے ہیں۔ جس طرح آئین میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا پورا چیپٹر موجود ہے اس طرح آئین میں بلدیاتی حکومتوں کے لیے بھی پورا ایک چیپٹر ہونا چاہیے تاکہ وزیراعظم، وزراء اعلیٰ اور گورنرز کی طرح بلدیاتی نمائندے حلف اٹھاتے ہی عوامی خدمت میں لگ جائیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں سینکڑوں نوجوانوں کی پی ایس پی میں شمولیت کے موقع پر پاکستان ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈھائی سالوں میں پیپلز پارٹی نے تین لاکھ کے قریب نوکریاں دی لیکن اس میں کراچی اور حیدرآباد میں سے ایک آدمی کو نوکری نہیں دی گئی کیونکہ شہری سندھ کے 40 فیصد کوٹے پر بھی جعلی ڈومیسائل کے زریعے دیہی سندھ سے پیپلزپارٹی کے ہمدردوں کو نوکری دی گئیں۔ دس سال میں وفاق سے اٹھ ہزار ارب روپے سے زائد رقم ملنے کے باوجود سندھ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا، کراچی سندھ کے خزانے میں 90 فیصد ریونیو جمع کرواتا ہے اسکی آبادی سندھ کی آبادی کا 50 فیصد ہے، آج کراچی دنیا کے بدترین شہروں میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک سرزمین پارٹی ہی مسائل کا واحد حل ہے، عوام کو بھی اس بات کا ادراک ہو چکا ہے۔ پاک سرزمین پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ نیشنل فنانس کمیشنNFC کو پرونشل فنانس کمیشنPFC سے مشروط کیا جائے۔ نیز اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیئے جائیں تاکہ عوامی مسائل انکی دہلیز پر حل ہونگے