Baaghi TV

Category: کراچی

  • یہ سندھ کارڈ کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں یہ اجرک دشمن، سندھی ٹوپی دشمن، سندھ دشمن بجٹ ہے

    یہ سندھ کارڈ کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں یہ اجرک دشمن، سندھی ٹوپی دشمن، سندھ دشمن بجٹ ہے

    اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی پریس کانفرنس

    پریس کانفرنس میں اراکین اسمبلی ارسلان تاج اور شاہ واز جدون بھی موجودتھے۔حلیم عادل شیخ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں صرف ایک چیز اومنی گروپ یعنی زرداری گروپ نے گرو کیا ہے لاڑکانہ کے بچوں کے لیے دوائیوں کا انتظام نہیں ہوا لیکن اومنی گروپ کے کاموں کے لیے ضرور دستخط ہوئے۔

    یہ سندھ کارڈ کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں بجٹ کتاب میں سندھ کے عوام کے لیے کچھ نہیں ہےیہ اجرک دشمن، سندھی ٹوپی دشمن، سندھ دشمن بجٹ ہے کل تو یونس میمن کے منشی نے بجٹ پیش کرکے اپنی نوکری پکی کی وائیٹ کالرکرمنل اجرک پہن کر لوگوں کوبیوقوف بنارہے ہیں

    موئن جودڑوہویادیگرایونٹ اجرک پہننے والوں کی تذلیل کرتے دیکھاہےبجٹ بک میں غریب عوام کے لئے کچھ نہیں رام کہانیاں ہیں،ایڈزہے، تباھی ہےآج انہوں نے بجٹ بک کوبھی اجرک پہنائی ہےیہ چور ہیں سبسڈی کے نام پرلوگوں کوراشن دیاسات آٹھ لاکھ کاٹریکٹرنکالا پنجاب میں بیچ دیایونس میمن کے منشی کابجٹ بیکارتھا8912 ارب روپے پچھلے تیرہ سال میں سندھ حکومت کوملے 80فیصد وفاق سے ملے۔
    حلیم عادل شیخ نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ جو شہر صوبے کو نوے فیصد دیتا ہےاس کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا۔شہر کوایک بس نہیں دی ہےہر سال صوبائی اخراجات بڑھتے رہے۔یہ سارے پیسے اومنی اکاؤنٹ میں جاتے رہےسندھ میں تمام آر او پلانٹ بند پڑے ہیں۔
    انکے پاس اے ڈی پی کے لیے پیسے تھے خرچ نہیں کیے۔77 فیصد غیر ترقیاتی بجٹ ہے۔یہ روتے ہیں کہ ہم اس لیے نہیں کر سکے وفاق نے پیسے نہیں دئیے۔53 فیصد بجٹ خرچ ہی نہیں کیا ہے۔2019-20 کے بجٹ کے 78 ارب خزانے میں پڑے تھے۔اگر پیسے تھے تو کیوں خرچ نہیں کیے گئے۔ایک طرف کہتے ہیں25 ارب کا خسارہ ہے۔85 ارب روپےخزانے میں موجود ہے۔کہیں کوئی کمی نہیں ہے۔انکی نا اہلی کی وجہ سے یہ خرچ نہیں ہورہے ۔

    1646ارب ترقیاتی بجٹ میں پی این ڈی رپورٹ کے مطابق 46فیصد کرپشن ہوئی تعلیم پر1450 ارب خرچ کئےسب ٹوپیاں پہناتے ہیں۔صحت کے 768ارب خرچ کئے گئے878ارب میں سے ای ٹی سی خریدی گئی جس سے گولیاں پارہوجاتی ہیں
    جس شہرسے سب سے زیادہ روینیوملتاہے اس کوکچرہ کنڈی بنادیاہےکل ہم ایک میٹروبس میں آئے تھےہرسال صوبائی اخراجات بڑھتے رہےپچھلے 23سال میں سینکڑوں آراوپلانٹ لگائے ناکارہ پڑے ہوئے ہیں۔اس سال تین سوارب زیادہ ملیں گے۔717 ارب سندھ کوپچھلے سال ملے ہیں مگر سندھ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

  • مکان میں ڈکیتی کا معاملہ پُراسرار، ڈاکوؤں نے قیمتی سامان کے باوجود کچھ نہیں لوٹا

    مکان میں ڈکیتی کا معاملہ پُراسرار، ڈاکوؤں نے قیمتی سامان کے باوجود کچھ نہیں لوٹا

    گلشن معمار میں مکان میں ملزمان گھسنے کا معاملہ مشکوک ہوگیا ، ایس ایس پی ویسٹ نے بتایا گھرمیں قیمتی سامان کے باوجود کچھ نہیں لوٹا گیا، مزیدتحقیقات کی جارہی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن معمار میں مکان میں ملزمان گھسنےکامعاملہ پُر اسرار ہوگیا، ایس ایس پی ویسٹ معاملے کاجائزہ لینے جائے وقوعہ پہنچ گئیں، ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہیں۔

    فوٹیج میں ملزمان کومہران کار ، موٹر سائیکل پر آتےدیکھاجاسکتاہے ، ملزمان مکان کے اندر کافی دیر تک موجود رہے، ملزمان اطمینان سے ہاتھ ہلاتے اور گھر کے باہر کا دروازہ بند کرکے نکلے۔

    ایس ایس پی ویسٹ سہائی عزیز کا کہنا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری بمعہ 20 کمانڈوز موقع پر روانہ کی جبکہ ریپڈ رسپانس فورس اور بکتر بند گاڑی بھی بھیجی گئی، 4 تھانوں کےایس ایچ اوز موقع پرفوری پہنچے، پورے گھر کو مکمل طور پر گھیرے میں لیا گیا تھا۔

    سہائی عزیز نے بتایا کہ مکین مسلسل گھر کے اندر سے فون کر کے پولیس کو بلاتے رہے، پولیس کو کہا گیا ملزمان نے سب کو کمرے میں بند کر دیاہے، دروازہ کھولاگیا تو اندر کوئی بھی موجود نہیں تھا ،گھرمیں قیمتی سامان کے باوجود کچھ نہیں لوٹا گیا۔

    ملزمان نے اہلخانہ کوکہا بے روزگار ہیں اس لیے آئے ہیں، فوٹیج میں 6ملزمان کودیکھاجاسکتاہے جبکہ متاثرہ خاندان 10سےزائدملزمان کابتاتےرہے، معاملہ مشکوک ہے، مزیدتحقیقات کی جارہی ہیں، گزشتہ روز دن دیہاڑے ملزمان ایک گھر میں گھسے تھے۔

  • کراچی میں گجر نالہ اور اورنگی نالہ آپریشن روکنے کی وفاقی حکومت کی درخواست مسترد

    کراچی میں گجر نالہ اور اورنگی نالہ آپریشن روکنے کی وفاقی حکومت کی درخواست مسترد

    سپریم کورٹ نے کراچی میں گجر نالہ اور اورنگی نالہ تجاوزات آپریشن روکنے کی وفاقی حکومت کی درخواست مسترد کردی۔

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گجر نالہ آپریشن کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے گجر نالہ اور اورنگی نالہ پر متبادل پلان طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ متاثرین کو آباد کرنے کے لیے سندھ حکومت کے پاس کیا پلان ہے؟۔

    اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ گجر نالہ آپریشن سے متعلق بڑا انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے، میں وزیراعلیٰ سندھ اور چیئرمین این ڈی ایم اے سے مشاورت کرنے کو تیار ہوں، میری گزارش ہے کہ اگلی سماعت تک آپریشن روک دیا جائے.

    متبادل پلان کے بعد پھر چاہے گھروں کو مسمار کردیا جائے، ایک ہفتے کے لیے آپریشن روک دیا جائے، متبادل دینے تک لیز گھروں کو نہ گرایا جائے، ورنہ 40 ہزار لوگ شدید متاثر ہوں گے۔

    عدالت نے گجر، اورنگی نالہ آپریشن روکنے سے انکار کرتے ہوئے نالوں سے متعلق کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

  • تمام درخواستیں مسترد، نسلہ ٹاور کو فوری گرانے کا سپریم کورٹ نے دیا حکم

    تمام درخواستیں مسترد، نسلہ ٹاور کو فوری گرانے کا سپریم کورٹ نے دیا حکم

    تمام درخواستیں مسترد، نسلہ ٹاور کو فوری گرانے کا سپریم کورٹ نے دیا حکم

    شارع فیصل پر غیرقانونی تعمیر نسلہ ٹاور کا معاملہ ،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دے دیا

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے بلڈر اور رہائشیوں کی درخواستیں مسترد کردیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور کو فوری گرانے کا حکم دے دیا ، دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ساری چائنہ کٹنگ اسی طرح ہو رہی ہے، زمین کچھ ہوتی ہے، قبضہ اس سے زیادہ کر لیا جاتا ہے،صلاح الدین ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ ایس بی سی سے کہیں گے عمارت گرا دے گی،

    گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ شارع فیصل کا سائز کبھی کم نہیں ہوا، شارع فیصل کو وسیع کرنے کیلئے تو فوج نے بھی زمین دے دی تھی، پتا نہیں کیا ہورہا ہے یہاں؟ مسلسل قبضے کیے جارہے ہیں، ہمارے سامنے کمشنر کی رپورٹ ہے نسلہ ٹاور میں غیرقانونی تعمیرات شامل ہیں،اب بھی دھندا چل رہا ہے، ایس بی سی اے کا کام چل رہا ہے، عدالت نے اس پر رپورٹ طلب کی تھی، آج عدالت نے تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دے دیا

    دوسری جانب شارع فیصل کے سنگم پر بنے نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایس بی سی اے نے نسلہ ٹاور کے مکینوں کو عمارت خالی کرنے کا نوٹس جاری کردیا سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع 11 منزلہ نسلہ ٹاور کو 7 روز میں خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا، نوٹس میں کہا گیا کہ مالک اور مکین 7 دن میں عمارت خالی کریں،عمارت بغیر کمپلیشن پلان حاصل کئے بغیر آباد کیا گیا،

    مزار قائد کے اطراف میں کیا کام کریں؟ چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کو بڑا حکم دے دیا

    ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا کرپٹ اور نااہل افسران کو فارغ کرنے کا حکم

    انگریزی بول کر ہمارا کچھ نہیں کر سکتے،غیرقانونی تعمیرات گرائیں، چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مزار قائد کے سامنے فلائی اوور کیسے بن گیا؟ شاہراہ قائدین کا نام کچھ اور رکھیں، چیف جسٹس کا حکم

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    کراچی کے خلاف بہت بڑی سازش ہوئی،ایک ایک ذمہ دار کو پکڑیں گے،چیف جسٹس کا بڑا حکم

  • اعدادوشمار کی دونمبری میں وزیر اعلیٰ کھلاڑیوں کے کھلاڑی ہیں

    اعدادوشمار کی دونمبری میں وزیر اعلیٰ کھلاڑیوں کے کھلاڑی ہیں

    پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان بیان وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا پیش کردہ بجٹ جھوٹ کا پلندہ ہے،

    پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ اعدادوشمار کی دونمبری میں وزیر اعلیٰ کھلاڑیوں کے کھلاڑی ہیں، بجٹ کی حیثیت اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنوں کے مانند ہے،

    سندھ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی غیر فعال ہے،
    سندھ میں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی رواج نہیں ہے، سندھ کا 14 سو ارب وزیر اعلیٰ نے زرداری کے چہیتوں کو نوازا ہے،

    صوبے کی تجوری پر وائٹ کالر ڈاکو مسلط ہیں سندھ کا منشی قابل اعتبار نہیں، سندھ حکومت اسکیموں کے نام پر عوام کی جیبوں پر حملہ آوار ہورہی ہے،

    سندھ حکومت کے پاس صوبہ چلانے کی صلاحیت کا فقدان ہے.سندھ حکومت کا پیش کیا ہوا بجٹ مسترد کرتے ہیں.

  • سندھ میں مختیار کار تو وزیر بنے ہوئے ہیں

    سندھ میں مختیار کار تو وزیر بنے ہوئے ہیں

    چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ سندھ میں مختیار کار تو وزیر بنے ہوئے ہیں۔

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ دو، دو ماہ مانگ رہے تھے مگر برسوں گزر گئے، 2007 سے ریکارڈ اب تک کمپیوٹرائزڈ کیوں نہیں ہوا؟۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے جواب دیا کہ سوائے ٹھٹھہ ضلع کے تمام ریکارڈ مرتب کرلیا گیا۔

    چیف جسٹس نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین سال سے ٹھٹھہ کا ریکارڈ مرتب نہ ہونا عجیب بات ہے، ہزاروں زمینوں کے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں.

    کسی کی زمین کسی کو الاٹ کر دیتے ہیں آپ لوگ، زمینوں پر قبضے بھی اسی وجہ سے ہو رہے ہیں، نا کلاس (NA-Class) کیا ہوتا ہے، اس صدی میں بھی ناکلاس چل رہا ہے.

    کراچی میں ناکلاس کے نام پر اربوں روپے بنائے جا رہے ہیں،کراچی کا سروے کب ہوگا؟ بورڈ آف ریونیو سب سے کرپٹ ترین ادارہ ہے، زمینوں پر قبضے ممبر بورڈ آف ریونیو کی وجہ سے ہو رہے ہیں، آدھا کراچی سروے نمبر پر چل رہا ہے۔

    سندھ میں مختیار کار تو وزیر بنے ہوئے ہیں، سرکاری زمینوں پر قبضے بادشاہوں کی طرح ہو رہے ہیں، یونیورسٹی روڈ پر جائیں اور دیکھ لیں کتنی عمارتیں بنی ہیں، نمائشی اقدام کے لیے دیوار گراتے ہیں پھر اگلے دن تعمیر ہو جاتی ہے۔

    عدالت نے بورڈ آف ریونیو کو 3 ماہ کے اندر تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے، سرکاری اراضی کو پارکوں میں تبدیل کرنے اور سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم دے دیا۔

    عدالت میں کے پی کے میں زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے معاملہ کی بھی سماعت ہوئی۔

    نمائندہ کے پی کے حکومت نے جواب جمع کرایا کہ جون 2022 میں تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرلیں گے۔ عدالت نے بلوچستان کی لینڈ سیٹلمنٹ جلد از جلد مکمل کرنے بھی ہدایت کی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آج تک پاکستان میں زمینوں کے ریکارڈ سے متعلق کچھ نہیں ہوا، جب سے پاکستان بنا، زمینوں کے ریکارڈ کے معاملے میں وہیں کھڑے ہیں۔

  • نئے مالی سال 22-2021ء کے بجٹ میں حکومت نے تعلیم کےشعبے کیلئے277.5 بلین مختص کر دیے

    نئے مالی سال 22-2021ء کے بجٹ میں حکومت نے تعلیم کےشعبے کیلئے277.5 بلین مختص کر دیے

    وزیراعلیٰ سندھ نےبجٹ 22-2021ء میں تعلیم کے شعبے کے لیئے بڑا اعلان کردیا

    نئے مالی سال 22-2021ء میں حکومت نے اس شعبے کیلئے 277.5 بلین روپے مختص کیے ہیں۔
    قوم کی زندگی میں تعلیم سب سے زیادہ اہم اور واحد عنصر ہے، سندھ حکومت سب کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے،

    نوجوان اور بچے حقیقت میں ہماری قوم کا مستقبل ہیں،تعلیم کے ذریعے ہی ہمارے بچے اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح اجاگر کر سکتے ہیں،

    امریکی صدر فرینگکلن روز ویلٹ کا مشہور قول ہے کہ ”جمہوریت اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی تا وقت کہ جنہیں انتخاب کا حق ہے پر وہ ذہانت کے ساتھ انتخاب کے لیے تیار نہ ہوں چنانچہ جمہوریت کی حقیقی محافظ تعلیم ہے۔“

    ہمیں لازمی طور پر اسکول میں پڑھائے جانے والے نصاب پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ فرسودہ خیالات سے آزاد رہا جاسکے۔ ہمیں اپنے اساتذہ کی تربیت کرنی ہوگی تاکہ وہ ہمارے بچوں میں انہماک اور توجہ بڑھانے میں حقیقی دلچسپی لے سکیں،

    اسوقت تک ہمارے مستقبل کی نسل ہر شعبے میں دانشوروں اور تخلیق کاروں پر مشتمل ہو،پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے نئے مالی سال کیلئے زیادہ تر وسائل تعلیم کیلئے مختص کیے ہیں۔

    اس ضمن میں موجودہ مالی وسائل میں 13.5 فیصد کا اضافہ دیکھا جاسکتا ہے، ہم نے تعلیم کیلئے 244.5 بلین روپے سے بڑھا کر 277.5بلین روپے تجویز کیا ہے،

    رواں مالی سال 21-2020ء میں تعلیم کے شعبے کیلئے 21.1بلین روپے مختص کئے گئے تھے ،.

  • کراچی میں دودھ مہنگا ہونے میں مافیا ملوث ہونے کا انکشاف

    کراچی میں دودھ مہنگا ہونے میں مافیا ملوث ہونے کا انکشاف

    (سی سی پی)نے ڈیری سیکٹر میں ڈیری فارمر ایسوسی ایشنز کی مبینہ کارٹیلائزیشن اور کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے تحقیقات مکمل کرلی ہیں۔سی سی پی انکوائری میں ڈیری سیکٹر میں گٹھ جوڑ اور پرائس فکسنگ کا انکشاف ہوا ہے ۔ انکوائری کمیٹی نے ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کراچی(ڈی سی ایف اے سی)،ڈیری فارمر ایسوسی ایشن،کراچی(ڈی ایف اے سی)اورکراچی ڈیری فارمر ایسوسی ایشن(کے ڈی ایف ای) کے خلاف ایکٹ کی دفعہ 30 کے تحت کارروائی شروع کرنے کی سفارش کردی ہے ۔
    مسابقتی کمیشن آف پاکستان(سی سی پی)کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق انکوائری رپورٹ میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی تین بڑی ڈیری ایسوسی ایشنز بادی النظر میں کارٹیلائزیشن اور پرائس فکسنگ میں ملوث ہیں ۔
    ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن (ڈی ایف ای)کے گٹھ جوڑ سے دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ایک مشہور کنزیومر ایسوسی ایشن کی طرف سے کمیشن کو لکھے گئے خط اور میڈیا کی رپورٹس کی روشنی میں یہ انکوائری شروع کی گئی تھی۔

    شکایت میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ڈی ایف اے کراچی کے صدر نے کراچی میں دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا اور دودھ اب کمشنر کراچی کی جانب سے مقرر کردہ 94 روپے کے مقابلے میں 120 روپے فی لیٹر میں فروخت ہورہا ہیچونکہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ دودھ کی قیمت 94 روپے فی لیٹر تھی جبکہ ایسوسی ایشن نے ملی بھگت سے 120 روپے فی لیٹر پر فروخت کیا اس کے نتیجے میں صارفین کو روزانہ تقریبا 130 ملین روپے اور سالانہ 47 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
    دوسری طرف ، قیمتوں پر کوئی کمپٹیشن نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ کو متاثر کیا اور صارفین کو دودھ کے معیار سے قطع نظر غیر منصفانہ قیمتوں کی ادائیگی کرنا پڑی۔کمیشن نے ان الزامات کی جانچ پڑتال کے لئے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس کے مطابق دودھ کی سپلائی چین تین مراحل پر مشتمل ہے جس میں ڈیری فارمرز، ہول سیلرز اور رٹیلرز شامل ہیں۔رٹیلرز کو دودھ سالانہ بندھی کے نام سے معاہدہ کے ذریعے فروخت کیا جاتا ہے جس میں دودھ کی خریداری کے لئے شرح اور مقدار کو مختلف ایسوسی ایشنز مقرر کرتے ہیں ۔
    انکوائری کمیٹی کے مطابق کمشنر کراچی ڈویژن دودھ سپلائی چین کے تمام مراحل پر قیمتوں کو نوٹیفائی کرتا ہے اور اس طرح کا آخری نوٹیفکیشن 14 مارچ 2018 کو جاری کی گیا تھا جس میں ڈیری فارمرز کے لئے 85 روپے فی لیٹر،ہول سیلرز کے لئے 88.75 روپے،اور رٹیلرز کیلئے 94 روپے فی لیٹر پرائس کو فکس کیا گیا تھا تاہم ، ادارہ برائے شماریات (پی بی ایس)کے ڈیٹا سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دودھ کی سپلائی چین میں شامل مختلف ڈیری فارمر ایسوسی ایشنز کے کردار کی وجہ سے نوٹیفائی پرائس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

  • وزیراعلیٰ سندھ  سید مراد علی شاہ نےبجٹ 22-2021ء سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےبجٹ 22-2021ء سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےبجٹ 22-2021ء سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری کامیابیوں کی تعمیر ہماری پالیسیوں کا تسلسل ہے، ہم نے صحت کے شعبہ کی توسیع و پھیلاؤ کیلئے ایک مفصل لائحہ عمل پر کام کیا۔

    اگلےمالی سال میں ہم درج ذیل کارگزاریاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وو* بالخصوص وبا سے نپٹنے کے لیے 24.72بلین روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، صحت کے شعبہ میں مختلف سطح کی 964 اسامیاں تخلیق کی جائے گی۔ادویات کی خریداری کے لیے 18.32 بلین تجویز کیے گئے ہیں، کووڈ 19کے تناظر میں پی سی آر اور پی پی ای کی کٹس کی خریداری کیلئے 2بلین روپے رکھے گئے ہیں، وبائی صورتحال میں میڈیکل گیس(آکسیجن) کی خریداری کیلئے 646.22ملین روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے، ایم اینڈ آر فنڈز صحت کی مختلف سہولیات کیلئے ہیں، اگلے مالی سال میں ایم اینڈ آر فنڈز کیلئے 1.594بلین روپے کی رقم رکھی گئی ہے ،

    رواں مالی سال میں ایم اینڈ آر فنڈز کیلئے مختص رقم 1.254بلین تھی جس میں 27فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے، ہم نے صحت عامہ کے اداروں کی استعداد اور کارکردگی کو مد نظر رکھا ہے۔ صحت عامہ کے اداروں کیلئے گرانٹ ان ایڈ کی تجویز دی گئی ہے،

    پی پی ایچ آئی سندھ کیلئے 8.2بلین روپے مختص کیے گئے ہیں، ایس آئی یو ٹی کیلئے 7.1بلین روپے مختص کیے گئے ہیں،

    انڈس اسپتال کراچی کیلئے 4.5بلین بطور اسپیشل گرانٹ مختص کیے گئے ہیں۔

    انڈس اسپتال کراچی کی گرانٹ میں 2.5بلین روپے انتظام کو چلانے اور 2 بلین روپے توسیع کیلئے ہیں، این آئی سی وی ڈی کراچی کیلئے 6.1بلین روپے مختص کیے گئے ہیں، 6.4بلین کی رقم ایس آئی سی وی ڈی (لیاری کراچی، لاڑکانہ، سیہون، حیدرآباد، سکھر، ٹنڈو محمد خان، شہید بے نظیر آباد، خیرپور، مٹھی اور کراچی)کیلئے مختص ہے۔پی پی پی نوڈ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کیلئے 3بلین روپے رکھے گئے ہیں۔انسٹیٹیوٹ آف پیر عبدالقادر شاہ جیلانی گمبٹ کیلئے 4بلین روپے کی رقم رکھی گئی ہے، انسٹیٹیوٹ آف آپتھلمالوجی ویژیول سائنسز حیدرآباد کیلئے 473.9ملین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے،جیکب آبادانسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کیلئے 600ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر کراچی کیلئے 2بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شہداد پور انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کیلئے 300ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، این آئی بی ڈی کیلئے 500ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کیلئے 1.2بلین روپے مختص کیے گئے ہیں، انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن کراچی کیلئے 300 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،ہیلتھ کیئر کمیشن کراچی کیلئے 365ملین روپے مختص کیے گئےہیں۔
    300ملین روپے کی رقم 10تھلیسیما سینٹرز کے لیے مختص کی گئی ہے، جن میں بدین، جیکب آباد، شکار پور، مٹھی، شہید بے نظیر آباد، ٹھٹھہ، سجاول، حیدرآباد، کراچی اور عمر کوٹ شامل ہیں 170ملین روپے کی رقم 10ڈائیلائسس سینٹر ز کے لیے رکھی گئی ہے۔

    جن میں جام شورو، کوٹری، کشمور کندھ کوٹ، میرپورخاص، تھرپارکر مٹھی، ہالا، سجاول، شہداد پور، ٹھٹھہ، نوشہروفیروز اور عمر کوٹ شامل ہیں
    سندھ حکومت آئندہ مالی سال میں ترقیاتی امور کیلئے بھی اقدامات اٹھا رہی ہے، کووڈ ریسپانس اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے پروگرام میں وفاقی اور سندھ حکومت نے 50فیصد رقم مختص کی ہے۔

    جس میں حکومتِ پاکستان 10.411بلین روپے اور حکومت سندھ 10.411بلین روپے دے گی،
    جس کا مجموعی تخمینہ 20.822بلین روپے ہے،
    سندھ اینفیکشن ڈیزیز اسپتال کراچی میں بائیو سیفٹی لیب III کا قیام کیا جائے گا

    ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی میں لائنر ایکسیلیریٹر بمع انٹیگریٹڈ ہائی فیلٹ MRIسسٹم کی فراہمی شامل ہے، سندھ کے بڑے اسپتالوں میں آکسیجن جنریشن /میڈیکل گیس پلانٹ کی تنصیب و فراہمی کی جائے گی، سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ بمع MNCHسروسز کورنگی نمبر 5کا قیام کیا جائے گا، ایکسیڈنٹ ایمرجنسی سینٹرز کو قائم کیا جائے گا، ایکسیڈنٹ ایمرجنسی سینٹرز کی دو اسکیمز ہیں ، ایک موٹروے تھانہ بولا خان انٹر چینج اور دوسرا ہاکس بے کراچی میں بنایا جائے۔

  • خورشید شاہ اور ان کے بیٹے کو پے رول پر رہا کر دیا گیا

    خورشید شاہ اور ان کے بیٹے کو پے رول پر رہا کر دیا گیا

    خورشید شاہ اور ان کے بیٹے کو پے رول پر رہا کر دیا گیا

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سید خورشید شاہ اور ان کے بیٹے کو بھتیجے کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے پیرول پر جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یپلزپارٹی کے اسیر رہنما خورشید شاہ کے بھتیجے غلام مرتضیٰ شاہ علالت کے بعد انتقال کر گئے، جس کے بعد نماز جنازہ میں شرکت کیلئے پی پی رہنما نے پیرول پر رہائی کے لئے درخواست جمع کروائی۔محکمہ داخلہ سندھ نے خورشید شاہ کی رہائی کے لیے حکم جاری دیا۔
    جس کے بعد رہنما خورشید شاہ اور ان کے بیٹے فرخ شاہ کو 48 گھنٹوں کے لیے پے رول پر رہا کردیا گیا۔
    دوسری جانب سکھر کی احتساب عدالت میں خورشید شاہ کیخلاف زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت ہوئی ، خورشید شاہ اور دیگر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کو بتایا کہ خورشید شاہ کے بھتیجے کے انتقال کی وجہ سےپے رول پررہاہیں جبکہ ریفرنس میں شامل خورشیدشاہ کےبیٹےایم پی اےفرخ شاہ بھی پےرول پر رہا پر ہیں۔
    خیال رہے خورشیدشاہ سمیت18 افراد پرایک ارب 23کروڑ کاریفرنس دائرہے اور وہ 21ماہ سے زیر حراست ہیں جبکہ ایم پی اے فرخ شاہ گزشتہ 4 روزسے زیرحراست میں ہیں۔