سپریم کورٹ نے کراچی میں گجر نالہ اور اورنگی نالہ تجاوزات آپریشن روکنے کی وفاقی حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ کراچی کے خلاف بہت بڑی سازش ہوئی، شہر تباہ کردیا گیا، گجر نالہ کے متاثرین کیلئے ایک ہفتہ میں حکمت عملی بنانے کی ہدایت کردی جبکہ آپریشن جاری رکھنے کا حکم دے دیا ۔
بدھ کوسپریم کورٹ رجسٹری میں کراچی میں غیر قانونی تجاوزات آپریشن کے معاملے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے گجر نالہ اور اورنگی نالہ پر متبادل پلان طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ متاثرین کو آباد کرنے کے لیے سندھ حکومت کے پاس کیا پلان ہی ۔اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ گجر نالہ آپریشن سے متعلق بڑا انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے، میں وزیراعلی سندھ اور چیئرمین این ڈی ایم اے سے مشاورت کرنے کو تیار ہوں، میری گزارش ہے کہ اگلی سماعت تک آپریشن روک دیا جائے، متبادل پلان کے بعد پھر چاہے گھروں کو مسمار کردیا جائے، ایک ہفتے کے لیے آپریشن روک دیا جائے، متبادل دینے تک لیز گھروں کو نہ گرایا جائے، ورنہ 40 ہزار لوگ شدید متاثر ہوں گے۔
عدالت نے گجر، اورنگی نالہ آپریشن روکنے سے انکار کرتے ہوئے نالوں سے متعلق کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ گجر نالہ کے متاثرین کیلئے ایک ہفتہ میں حکمت عملی بنائی جائے۔ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے بتایا کہ الہ دین، پویلین اینڈ کلب پر تجاوزات کے خلاف کام شروع ہوچکا، تجاوزات بہت زیادہ ہیں، مزید مہلت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ مزاحمت ہوئی نقص امن کا مسئلہ ہوا تھا پولیس اور رینجرز کی مدد سے کام شروع کیا ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں نے ہی قبضہ کرایا ہے۔ جن لوگوں نے دو نمبر کام کیے ہیں، سب گرفتار ہوں گے۔ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے کہا کہ مشینری کم ہے کچھ عرصہ لگ سکتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کے آپ لوگوں نے کے ایم سی جیسے ادارے کو کھوکھلا کردیاہے۔
کے ایم سی تو خود اپنا فنڈز جنریٹ کرتی تھی۔ ساری مشینری گل سڑ رہی ہے۔ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے کہا کہ آکٹرائے ٹیکس ختم ہوا ہے، جب سے ہم ڈیپنڈنٹ ہوگئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ایک ذمہ دار بندے کو پکڑیں گے، یہ ابتدا ہے، سب کچھ ٹوٹے گا، یہ سب آپ لوگوں ہی نے تجاوزات کرائی ہیں، کے ایم سی کا کوئی ملازم کام کرتا نظر نہیں آتا، کے ایم سی کو کھوکلا کردیا گیا، آپ 80 فیصد کے ایم سی اسٹاف کو نکالیں، کے ایم سی کو اتنے اسٹاف کی ہرگز ضرورت نہیں، کے ڈی اے، کے ایم سی میں ہزار فیصد اوور اسٹاف بھر دیا گیا، ان اداروں کو تباہ کر دیا، کراچی برباد کردیا گیا، یہ ادارے کراچی کا قیمتی اثاثے ہوتے تھے، لائنز ایریا کو آپ کے افسران نے فروخت کردیا، آج نارتھ ناظم آباد کچی آبادی سے بھی بدتر ہے، ہر طرف مٹی نظر آتی ہے، گٹر بھرے ہوئے، سٹرکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، کراچی کے خلاف بہت بڑی سازش ہوئی، شہر کو تباہ کردیا گیا، امتیاز اسٹور اور دیگر عمارتیں بنا کر تباہی مچا دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے پہلے تو عملہ دس فیصد کردیں۔ کس کام کا یہ اسٹاف ہے جو سڑکوں پر ایک آدمی نظر نہیں آتا۔ کوئی آفت آجائے تو لوگ رل جاتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ پورے شہر کو تباہ کردیا جو ادارے کام کررہے تھے انہیں ختم کردیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ کرپشن کا راج ہے، آپ کے پاس صرف تنخواہیں لینے والا اسٹاف ہے۔ آپ کرکیا رہے ہیں کشمیر روڈ پر میدان خالی کرایا کلب آپ کی زمین پر غیرقانونی بنایا ہوا تھا۔
وکیل کے ایم سی نے کہا کہ چھت مسمار کردی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چھت گرا دی مگر ملبہ اب بھی موجود ہے۔ پارک کو بحال کریں بچوں کیلئے اور عوام کیلئے۔ کشمیر روڈ پاکستان کے خوبصورت ترین سڑکوں میں تھا۔ یہ تو اخباروں میں آتا تھا۔ آگے جاکر امتیاز اسٹور بنادیا ، تباہی مچادی ساری۔ آپ کے میئر کی کوئی کنسٹرکشن کمپنی تھی اس کا دفتر بنادیا تھا۔
وہ دفتر گرایا یا نہیں آپ نی ۔ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ کے ایم سی آفیسرز کلب مسمار کرچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے بڑے دفاتر بنے ہوے تھے ہم نے کہا تھا گرائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اپنا حکم نہیں روکیں گے، کام جاری رکھیں۔ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ لوگوں نے چیک وصول نہیں کیے، کیس کردیا سمجھ رہے تھے، مکان بچ جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خیال رکھیے گا، کچھ لوگ چیک بھی لیں گے اور دعویٰ بھی کردیں گے۔عدالت نے ایک ہفتہ میں وفاقی اور صوبائی حکومت کو متاثرین کیلئے حکمت عملی بنانے کی ہدایت کردی۔
Category: کراچی
-

کراچی کے خلاف بہت بڑی سازش ہوئی : سپریم کورٹ
-

سپریم کورٹ میں بلڈر کی نظرثانی درخواست مسترد نسلہ ٹاور گرانے کا حکم
سپریم کورٹ نے کراچی میں نسلہ ٹاور گرانے کے عدالتی حکم پر بلڈر کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عمارت گرانے کا حکم دے دیا۔ بدھ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور کیس پر نظر ثانی درخواست کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ان سب کے پیچھے فرنٹ مین کون ہے۔ جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دئیے کہ ہمارے پاس کمشنر کراچی کی رپورٹ موجود ہے۔
عدالت کو بلڈر کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے بتایا کہ شاہراہ فیصل والے سروس روڈ پر قبضہ نہیں ہوا۔ شاہراہ قائدین فلائی اوور کی تعمیر کیلئے پلاٹ کا حصہ لیا گیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کمشنرکراچی کی رپورٹ کے مطابق 341 مربع گز پر قبضہ کیا گیا ہے۔بیرسٹر صلاح الدین نے بتایا کہ سندھی مسلم سوسائٹی نے اضافی زمین کی لیز دی تھی۔
اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھی مسلم کے پاس تو ٹائٹل ہی نہیں تھا،انہوں نے کیسے دے دی،آپ کے پاس تو کوئی اضافی لیز بھی نہیں ہے۔بیرسٹر صلاح الدین نے بتایا کہ جو نیا تکون پلاٹ کریئیٹ کیا گیا ہے،اس نے سروس روڈ کو نقصان پہنچایا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالت کو اس عمارت کی صرف لیز دکھا دیں کہ لیز کہاں ہے۔بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ کے ایم سی نے لیز سندھی مسلم سوسائٹی کو دی تھی اور سندھی مسلم سوسائٹی نے ہمیں دی۔جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ جس نے آپ کو لیز دی تھی،اس کے پاس تو اختیار ہی نہیں تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں ایسا ہی ہوا ہے اور چائنا کٹنگ ایسے ہی ہوتی ہے۔سپریم کورٹ نے بلڈر کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نسلہ ٹاور گرانے کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ 8 اپریل کو چیف جسٹس گلزار احمد نے شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر قائم کثیر المنزلہ رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے پلاٹ کی لیز بھی منسوخ کردی تھی۔بلڈر کی جانب سے عدالتی فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کی گئی تھی۔ -

اپوزیشن کے رویے سے کوئی خاتون رکن پارلیمنٹ محفوظ نہیں
رکن قومی اسمبلی زرتاج گل اورملیکہ بخاری کی پریس کانفرنس
ملیکہ بخاری نے پریس کانفرنس سے گفتگوکرتے ہوئے کہاپارلیمان میں خواتین ارکان کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، پارلیمان کو چلانے کے قواعد وضوابط ہیں، صرف آپ نہیں، ہم بھی جمہوریت کا حصہ ہیں، پارلیمان میں دلائل سے بات کر کے آپ کو بےنقاب کریں گے،
اس موقع پر زرتاج گل نے کہان لیگ قبضہ گروپس اور غنڈوں کی سرپرستی کرتی ہے، ن لیگ نے سیاسی جماعت ہونےکا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، بجٹ میں ہر طبقے کے لوگوں کی فلاح اپوزیشن سے برداشت نہیں ہوئی، رات 3 بجے تنظیم سازی کرنیوالے کو ترجمان بنا دیا گیا۔ایسے لوگوں پر پارلیمنٹ ہاؤس میں آنے پر پابندی لگائی جائے،
پارلیمنٹ میں قانون سازی کے حوالے سے خواتین کا اہم کردار ہے، اپوزیشن کے رویے سے کوئی خاتون رکن پارلیمنٹ محفوظ نہیں۔ -

دکانیں بنانے کی کس نے اجازت دی تھی؟جائیں اور سب خالی کرائیں، چیف جسٹس گلزار احمد
کراچی: الہٰ دین واٹر پارک اور پویلین اینڈ کلب گرانے کے کیس کی سماعت
عدالت نےایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو شاپنگ سینٹر اور پویلین کلب خالی کرانے کا حکم دے دیا ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔کمشنر کراچی اور دیگر نے عملدر آمد رپورٹ پیش کردی۔
ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے عدالت سےکہاشاپنگ سینٹر کی دکانوں سے سامان نکالا جا رہا ہے، 450 دکانیں ہیں، 10 سے 12 دن مزید درکار ہیں۔
یہ سب کے ایم سی کا کیا دھرا ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ دکانیں بنانے کی کس نے اجازت دی تھی؟ جائیں اور سب خالی کرائیں، الہٰ دین یا پویلین اینڈ کلب پر کمرشل سرگرمی کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ کو پتہ نہیں عدالت آپ کے ساتھ کیا کریگی۔سب مل بانٹ کر یہ دکانیں فروخت کی گئیں ہیں۔چیف جسٹس نے پوچھا،کیا پارک کو بھی لیز کر دیا گیا؟ بچوں کے کھیلنے کی جگہ پر شاپنگ سینٹر اور کلب بنا دیا۔جتنی مشیزی چاہیئے لے جائیں اور سب گرائیں ۔سب خالی نہیں کرائیں گے تو آپ کیخلاف کارروائی کریں گے، عدالت کا الہٰ دین پارک کے ایم سی کو خود چلانے کا حکم ۔آلہ دین پارک یا پویلین کلب کوئی پرائیویٹ پارٹی نہیں چلائے گی۔
-

جعلی ویب چینل کے جعلی میڈیا نمائندے پان سگریٹ کے کیبن سے بھتہ لیتے ہوئے گرفتار
کورنگی میں جعلی ویب چینل کے جعلی میڈیا نمائندے پان سگریٹ کے کیبن سے بھتہ لیتے ہوئے گرفتار
تفصیلات کے مطابق کازوے کی جانب واقع پان سگریٹ کے کیبن والے جعلی میڈیا نمائندوں سے پریشان تھے۔تمام پان سگریٹ کیبن والوں نے صلح مشورہ کے بعد بھتہ لینے آنے والے جعلی میڈیا نمائندوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔
جعلی ویب چینل اور اخبارات کے پریس کارڈ بنواکر سادہ لوح عوام اور دوکانداروں سے بھتہ وصولی کا انکشاف ہوا۔
لانڈھی اور کورنگی سمیت کراچی کے مختلف علاقوں میں جعلی ویب چینلز اور ڈمی اخبارات کے نمائندے بھتہ وصولی میں ملوث ہیں.
کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے میں گرفتار ملزمان میں رحمان, سرفراز جمالی, ساجد اور وقاص نامی جعلی میڈیا کے نمائندے شامل ہیں
پولیس کے اعلیٰ حکام نے لانڈھی کورنگی سمیت کراچی کے مختلف علاقوں میں جعلی میڈیا نمائندگان کی تحقیقات شروع کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کردی ہے.
-

بلاول بھٹو زرداری کی پارلیمان میں غیر مہذب حکومتی روئیے کی مذمت
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پارلیمان میں غیرمہذب حکومتی روئیے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اراکین نے پارلیمان میں افسوس ناک اور ناقابل برداشت رویہ اختیار کرکے ایوان کے تقدس کی دھجیاں اڑادی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اراکین سے گالم گلوچ اور بدتمیزی کرواکر عمران خان اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں،
اگر ایوان میں عوامی نمائندے نامناسب رویہ اختیار کریں گے تو یہ پارلیمان کے شایانِ شان نہیں ہے،
انہون نے مزید کہا کہ پارلیمان میں عوامی مسائل پر کو اجاگر اور ان کے حل پر قانون سازی کے بجائے غیرسنجیدہ طرز عمل اختیار کرنا ایک اچھی روایت نہیں ۔ پارلیمان کو اکھاڑہ بنانے کے بجائے ایوان میں اپنے فرائض کی ادائیگی کرکے اراکین اسمبلی کو ایک بہترین مثال پیش کرنا ہوگی ۔ -

اختیاری مضامین میں فیل طلبہ کو پاسنگ مارکس دینے کا فیصلہ
محکمہ تعلیم سندھ نے اختیاری مضامین میں فیل ہونے والے طلبہ کو پاسنگ مارکس دینے کا فیصلہ کرلیا جبکہ پہلی سے آٹھویں تک کے امتحانات اس سال اسکولز میں ہوں گے۔
وزیر تعلیم سعید غنی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری کالجز، سیکرٹری یونیورسٹیز، سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
اجلاس میں کلاس نہم اور گیارہویں کے امتحانات کی تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ جولائی میں دسویں کے امتحانات کے فوری بعد نویں کے امتحانات لیئے جائیں گے.
جبکہ فرسٹ ایئر کے امتحانات بارہویں جماعت کے امتحانات کے فوری بعد اگست میں لئے جائیں گے۔اجلاس میں صرف اختیاری مضامین کے امتحانات لینے کا فیصلہ کیا گیا، امتحانات کے45 روز کے بعد نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
اسٹیئرنگ کمیٹی نے طلبہ کے پریکٹیکل امتحانات لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ میٹرک اور انٹر میں پریکٹیکل کے امتحانات تھیوری امتحانات کے بعد ہونگے.
پریکٹیکل امتحانات اپنے اپنے اسکولز اور کالجز میں ہی ہوں گے۔فیصلہ کیا گیا کہ اختیاری مضامین میں فیل ہونے کی صورت میں پاسنگ مارکس دئیے جائیں گےجبکہ لازمی مضامین کے مارکس اختیاری مضامین کے مارکس کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔پہلی سے آٹھویں تک کے امتحانات اسکولز میں اس سال ہوں گےجس کا فیصلہ اسکول خود کرے گا۔
-

کراچی کو پیپلز پارٹی نے تعصب کی وجہ سے برباد کر دیا
پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کراچی کو پیپلز پارٹی نے اپنے تعصب کی وجہ سے برباد کر کے رکھ دیا ہے.
سندھ حکومت کی ناقص ترین کارکردگی پر چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس نے پی ایس پی کے بیانیے پر مہر ثبت کر دی ہے۔
تعصب زدہ، کرپٹ اور نااہل سندھ حکومت آئین پاکستان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اختیارات اور وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھ کر اڑا رہی ہے.
جبکہ سندھ کی عوام کو بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں، بالخصوص سندھ کے دارالخلافہ کراچی کو پیپلز پارٹی نے اپنے تعصب کی وجہ سے برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
دس سال دنیا میں تیزی سے ترقی کرتے شہروں میں شامل کراچی رہنے کے لائق بدترین 10 شہروں کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔
پیپلز پارٹی کی تعصب زدہ سندھ حکومت نے نالوں کی صفائی میں جان بوجھ کر رخنہ ڈالا، مون سون کی بارشیں سر پر آن پہنچی.
لیکن پاکستان کو 70 فیصد اور سندھ کو 92 فیصد ریونیو دینے والے شہر کے نالے چوڑے نہیں ہوسکے کیونکہ کراچی کے چپے چپے پر قبضہ کرکہ بیچنے والے نااہل، کرپٹ، تعصب زدہ حکمران اینٹی انکروچمنٹ کے نام پر بے بس اور بے گھر عوام کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔
-

جتنی مشینری چاہیے، لے جائیں اور سب گرائیں، چیف جسٹس کا حکم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں الہ دین واٹر پارک اور پویلین اینڈ کلب کیس کی سماعت ہوئی
کمشنر کراچی و دیگر نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں رپورٹ پیش کردی ، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے کہا کہ شاپنگ سینٹر کی دکانوں سے سامان نکالا جا رہا ہے،450دکانیں ہیں، 10 سے 12 دن مزید درکار ہیں . چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دکانیں بنانے کی کس نے اجازت دی تھی؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساری دکانیں خالی کرائیں، بچوں کے کھیلنے کی جگہ پر شاپنگ سینٹر اور کلب بنا دیا،جتنی مشینری چاہیے، لے جائیں اور سب گرائیں،اگر سب خالی نہیں کرائیں گے تو آپ کے خلاف کارروائی کریں گے، سب مل بانٹ کر یہ دکانیں فروخت کی گئیں، یہ سب کے ایم سی کا کیا دھرا ہے، عدالت الہ دین یا پویلین اینڈ کلب پر کسی کمرشل سرگرمی کی اجازت نہیں دے گی،
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ہماری دکانیں لیز شدہ ہیں، سامان نکالنے کی اجازت دے دی جائے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا پارک کو بھی لیز کر دیا گیا،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے دکانداروں کی درخواست مسترد کردی عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو شاپنگ سینٹر اور پویلین کلب خالی کرانے کا حکم دے دیا عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی عدالت نے الہ دین پارک کے ایم سی کو خود چلانے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے کہا کہ الہ دین پارک یا پویلین کلب کوئی پرائیوٹ پارٹی نہیں چلائے گی،
وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس
تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس
سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں
ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا
آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار
آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم
کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے
شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم
کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج
سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم
ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس
-

90 فیصد ریونیو دینےوالےشہر کو کچرہ کنڈی بنادیا،مرادعلی شاہ کو حساب دیناہوگا
بجٹ_21 2020 پر پارلیمانی لیڈر حلیم عادل کی پریس کانفرنس
انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں سندھ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ گیارہ جون تک 53فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ ہی نہیں کرسکے ہیں208 ارب بجٹ تھا78ارب کی بچت رکارڈ کی گئی پیسے تھے اعداد وشمار کا گورکھ دھندہ ہے سندھ بجٹ85بلین روپے خزانے میں موجود ہےخزانے میں کوئی کمی نہیں خرچ نہیں کرسکے 400 ترقیاتی پروگراموں میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرسکی ان کامقصد ترقیاتی کام نہیں ہیں۔
پچھلے سال انفیکشن ڈزیزاسپتال نہیں بناسکے
گرین لائن اس سال روڈوں پرنظرآئیں گی ایک بس نہیں دی کراچی میں ہمارے معاشی اقدارتباہ کرتے ہیں ایک بس تک نہیں دیا ہماری مائوں بہنوں کو چنگچی میں بیٹھناپڑتاہےشکل سے تووزیراعلی صاحب معصوم نظرآتےہیں2246منصوبوں پررقم خرچ نہیں کرسکے۔8912ارب روپے سندھ کو 13سال میں ملےہیں
1646ارب روپے سندھ حکومت نے ترقیاتی مد میں خرچ دکھائے.سات ہزار ارب روپے غیر ترقیاتی مد میں خرچ کیےاسکولوں میں بھینیسں بندھی ہوئی ہیں اسپتال این جی اوز کو دیئے گئے ہیں سندھ میں ڈاکو پولیس کو قتل کرکے ڈانس کرتے ہیں.90 فیصد ریونیو دینےوالےشہر کو کچرہ کنڈی بنادیا.مرادعلی شاہ کو حساب دیناہوگا۔