Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی کی با ہمت نوجوان لڑکی فارماسسٹ ڈاکٹر ثناء چلتی پھرتی فارمیسی بن گئی

    کراچی کی با ہمت نوجوان لڑکی فارماسسٹ ڈاکٹر ثناء چلتی پھرتی فارمیسی بن گئی

    : شہر قائد کی سڑکوں پر ڈاکٹر ثنا نے چلتی پھرتی فارمیسی بنا لی جو دیگر نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک مثال ہے۔ کراچی کی رہائشی فارمسسٹ ڈاکٹر ثنا کراچی کی دیگر نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک مشعل راہ ہیں جو پانچ سال سے فارمیسی کے شعبے سے وابستہ رہیں ، ڈاکٹر ثنا احسان کے پاس فارمیسی کھولنے کے لیے سرمایہ نہیں تھا جس پر انہوں نے بائیک پر ہی چلتی پھرتی فارمیسی کھول لی۔
    میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقہ گلستان جوہر کی رہائشی فارماسسٹ ڈاکٹر ثناء احسان کو اپنی فیلڈ میں نوکری کے حوالے سے کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ روز نت نئے مسائل سے تھک کر ڈاکٹر ثنا نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا خود کا کام شروع کریں گی۔ اور ایک فارمیسی کھولیں گی لیکن ڈاکٹر ثنا کے معاشی حالات ان کو فارمیسی کھولنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
    فارمیسی کھولنے کا سرمایہ نہ ہونے پر ڈاکٹر ثنا نے اپنے والد کی طرف سے دیے ہوئے کچھ پیسے اور اپنی تھوڑی جمع پونجی سے گھر پر موجود بائیک چلانا سیکھی، ایک بورڈ پرنٹ کروایا اور کراچی کی سڑکوں پر اپنی چلتی پھرتی فارمیسی کے ساتھ نکل پڑیں۔ ڈاکٹر ثنا کا کہنا ہے کہ جہاں مجھے شہریوں کی جانب سے کافی حوصلہ ملا، وہیں دوسری جانب کراچی میں خاتون بائیکر ہونے کی وجہ سے مجھے کافی ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
    لیکن اس سب کے باوجود بھی میں نے ہمت نہیں ہاری، ڈاکٹر ثنا کا کہنا ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ میں لوگوں کو میڈیکل آلات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کروں اور ان کو استعمال کرنے کے صحیح طریقے سے آگاہ کروں۔ اس لیے جب بھی کوئی بورڈ سے پڑھ کر میرے نمبر پر رابطہ کرتا ہے تو میں نہ صرف ان کے لیے دوائیاں اور آلات خریدتی ہوں بلکہ اس کی مفت ڈلیوری بھی کرتی ہوں اور ساتھ میں مفت طبی مشورہ بھی دیتی ہوں۔

  • الہ دین پارک کے باہر مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج  اور شیلنگ ،متعدد افراد گرفتار

    الہ دین پارک کے باہر مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگ ،متعدد افراد گرفتار

    دین پارک میں مظاہرین نے احتجاج کیا اور کراچی،الہ دین پارک کے باہر مظاہرین پر پولیس کالاٹھی چارج اور شیلنگ ، پولیس سےمزاحمت پر3افراد زخمی ہوگئے ہیں اور متعدد افراد کو گرفتار بھی کے لیا گیا۔

    سپریم کورٹ کی ہدایت پر الہ دین پارک پر تجاوزات کیخلاف آج آپریشن شروع ہوا، اس موقع پر مظاہرین کی جانب سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا اور انہوں نے سخت احتجاج کیا، موقع پر موجود پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کی اس دوران پولیس اور مظاہرین میں تلخ کلامی ہوگئی۔

    پولیس نے تلخ کلامی کے بعد مظاہرین پر لاٹھی چارج کردیا اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا، اس موقع پر کثیر تعداد میں موجود مظاہرین نےالہ دین پارک کا گیٹ بندکردیا، مظاہرین کا موقف ہے کہ ہماری دکانیں لیز ہیں بلدیہ عظمی کراچی نے یہ دکانیں دی تھیں.

    سپریم کورٹ نےہماری دکانیں توڑنےکانہیں کہا۔
    مشتعل مظاہرین نے سینئر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ کے سامنے نعرے بازی کی، اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ بشیر صدیقی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آپریشن ہر حال میں مکمل کیا جائے گا، پولیس اور رینجرز کی مزید نفری طلب کرلی، کارروائی کرکے کل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے۔

    سینئر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ بشیر صدیقی نے کہا کہ پارک کی باون ایکڑ زمین پر10 سے12ایکڑ پر کلب اور شاپنگ مال قائم ہیں، پارک میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے، صورت حال پر ضلعی انتظامیہ رابطےمیں ہے۔

    ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ راشد منہاس روڈپر تجاوزات کیخلاف آپریشن کے باعث سڑک کوٹریفک کےلیےبند کردیا گیا ہے، گلشن اقبال سے شہر کی دوسرے علاقوں کی جانب جانے والے ٹریفک کو متبادل سڑکوں پرموڑا جارہا ہے۔

  • کراچی میں ویکسین کی قلت، سینکڑوں لوگ واپس لوٹ گئے

    کراچی میں ویکسین کی قلت، سینکڑوں لوگ واپس لوٹ گئے

    ایکسپو سینٹر میں قلت کے باعث سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بغیر ویکسین واپس لوٹ گئے۔ایکسپو سینٹر میں قائم ملک کے سب سے بڑے ویکسینیشن سینٹر میں ویکسین کی قلت پیدا ہوگئی۔ پہلی ڈوز لگوانے کے لیے آنے والوں کو گھر واپس بھیجا جانے لگا۔
    سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بغیر ویکسین واپس لوٹنے لگے۔سینیٹر کو سائینوفارم، سائینوویک کی پہلی ڈوز جبکہ آسٹرازینیکا، کینسینو ویکسین کی کمی کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ویکسینیشن کی تعداد کم ہونے کے باعث واپس بھیجا جارہا ہے۔ صرف دوسری ڈوز لگانے والوں کوسروس فراہم کی جارہی ہے۔

  • حکومت نےعوام کی جیبوں پر اربوں کا ڈاکا مارنے کی منصوبہ بندی کرلی

    حکومت نےعوام کی جیبوں پر اربوں کا ڈاکا مارنے کی منصوبہ بندی کرلی

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے تنخواہ دار طبقے پر 150ارب کے انکم ٹیکس لگانے کا آئی ایم ایف کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا حکومت نے پنشن اور پروویڈنٹ فنڈزتک پر10فیصدٹیکس لگانے کی تیاری کرلی۔

    تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ناقابل برداشت ٹیکسوں سےعوام کاخون نچوڑرہےہیں، تنخواہ دارطبقےپر150ارب کے انکم ٹیکس کا آئی ایم ایف مطالبہ مسترد کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت نےعوام کی جیبوں پر اربوں کا ڈاکا مارنے کی منصوبہ بندی کرلی، عوام کی جیبوں سےپیسہ نکال کر مخصوص سرمایہ داروں کو ایمنسٹی دی۔

    چیئرمین پی پی نے کہا حکومت نے پنشن ،پروویڈنٹ فنڈزتک پر10فیصدٹیکس لگانےکی تیاری کرلی، اخباری صنعت سے وابستہ افراد کے سفری الاؤنسزتک پرٹیکس لگ رہاہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ تنخواہ دارطبقےکامیڈیکل الاؤنس ختم کرنیکی کوشش عوام دشمنی کی انتہا ہے ، ہوٹل ملازمین کودوران ملازمت ٹیکس فری کھانانہیں ملے گا اور تعلیمی اداروں کےملازمین بچوں کومفت تعلیم دلانے سے قاصررہیں گے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ٹیکس استثنٰی خاتمے پر اسپتال ملازمین کورعایتی علاج نہیں ملےگا، ریاست مدینہ کانعرہ لگاکرعمران خان نےظالم بادشاہ کی سلطنت قائم کرلی، عوام کاخون نچوڑکراشرافیہ کی عیش پرستی کاسامان پیداکیاجارہاہے۔

  • پی آئی اے کے ملازمین پریشان، آدھا مہینہ گزرنے کے باوجود تنخواہ نہ مل سکی

    پی آئی اے کے ملازمین پریشان، آدھا مہینہ گزرنے کے باوجود تنخواہ نہ مل سکی

    پی آئی اے کے ملازمین کو15 تاریخ گزرنے کے باوجود بھی تنخواہ نہ مل سکی۔پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن(پی آئی ای)کے مالی حالات یا انتظامی نااہلی کے باعث ملازمین تنخواہوں کے لئے رل گئے، موجود ماہ کی15 تاریخ گزرنے کے باوجود بھی تنخواہ نہ مل سکی۔ایئر لائن کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی گزشتہ چھ سال سے اضافہ نہ ہوا۔
    ملازمین، افسران تنخواہ اور پنشنرز اپنی پنشن کے لئے رل گئے۔
    انتظامیہ بہتری کے دعوئوں کے باوجود ہر ماہ کی یکم تاریخ کو تنخواہوں کی ادائیگی میں مسلسل ناکام ہے۔ میڈیکل سمیت مختلف سہولتوں میں کمی کے باعث ملازمین کو روز مرہ کے اخراجات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ملازمین کی بیوائیں بھی کم از کم ایک ہزار پینشن کیلئے بھی انتظار کے لئے مجبور ہیں۔ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے سے ملازمین گھر کے کرایوں سمیت بچوں کے تعلیمی اخراجات کے لئے بھی مشکلات کا شکار ہیں،ترجمان پی آئی اے ایک سے زائد بار کال کرنے کے باوجود موقف کے لئے دستیاب نہ ہو سکے۔

  • الہ دین پارک میں تجاوزات کے خلاف آپریشن

    الہ دین پارک میں تجاوزات کے خلاف آپریشن

    الہٰ دین پارک میں تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا جس پر دکانداروں نے احتجاج کیا اور مظاہرین نے الہٰ دین پارک کا گیٹ بند کردیا،
    دکانداروں کا کہنا ہے کہ ہماری دکانیں لیز ہیں بلدیہ عظمیٰ کراچی نے لیز دیں تھیں ۔
    اور ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے ہماری دکانیں توڑنے کا نہیں کہا ۔
    رپورت کے مطابق آپریشن کے آغاز پر الہٰ دین پارک سے متصل 450 دکانوں کو توڑا جائے گا۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے لئے مشینری پہنچا دی گئی ہے ۔

  • سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری ،گریڈ 16 سے اوپر پبلک سروس کمیشن کے بغیر افسران کی مستقلی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سندھ حکومت سے جمعرات تک جواب طلب کرلیا .عدالت نے کہا کہ گریڈ 16 سے اوپر پبلک سروس کمیشن کے بغیرافسران کی مستقلی خلاف قانون ہے،اگر کنٹریکٹ افسران کو مستقل کرنا ہے تو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کیا جا سکتا ہے،کنٹریکٹ پر تعینات گریڈ 16 تک کے افسران کا معاملہ بالکل الگ ہے،سندھ حکومت جیسے مرضی تعیناتیاں کرے، عدالت قانون کے مطابق فیصلہ دے گی ،

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ریلوے اراضی پر مبینہ قبضے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے ریلوے اراضی پر تجاوزات گرانے کے خلاف درخواست مسترد کردی ،درخواست گزار نے کہا کہ فیرئیر ہال سے متصل ریلوے اراضی پر آپریشن کیا گیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر 100 سال تک بھی قبضہ رہے تو قانونی نہیں ہوتا،اگر آپ کا نقصان ہوا تو ریلوے کے خلاف الگ کیس داخل کریں،عدالت نے ریلوے اراضی پر قبضے سے متعلق فیصلہ دے رکھا ہے،

    سپریم کورٹ نے الہ دین پارک سے شاپنگ ایریا اور پویلین اینڈ کلب گرانے کا حکم نامہ جاری کر دیا، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ الہ دین پار ک میں پویلین اینڈ کلب اور شاپنگ ایریا غیر قانونی ہے الہ دین پارک کو اصل شکل میں بحال کیا جائے

    مزار قائد کے اطراف میں کیا کام کریں؟ چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کو بڑا حکم دے دیا

    ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا کرپٹ اور نااہل افسران کو فارغ کرنے کا حکم

    انگریزی بول کر ہمارا کچھ نہیں کر سکتے،غیرقانونی تعمیرات گرائیں، چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مزار قائد کے سامنے فلائی اوور کیسے بن گیا؟ شاہراہ قائدین کا نام کچھ اور رکھیں، چیف جسٹس کا حکم

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

  • غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن، پولیس کی بھاری نفری راشد منہاس روڈ پر موجود

    غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن، پولیس کی بھاری نفری راشد منہاس روڈ پر موجود

    بریکینگ نیوز:_

    سپریم کورٹ کے آرڈر پر پولیس کی بھاری نفری راشد منہاس روڈ پر موجود

    کمشنر کراچی سمیت انکی پوری ٹیم انکے ہمراہ ہے۔الادین پارک سے متصل مارکیٹ کو مسمار کرنے کا کام شروع کردیا گیا۔

    تاجروں کے سندھ پولیس، پاکستان آرمی کے حق میں نعرے بازی۔الادین پارک کی انتظامیہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے آرڈر کی مانگ۔عوام و ملازمین کی جانب سے شدید احتجاج۔

    احتجاج کرنے والوں میں الادین پارک کی انتظامیہ سمیت کلب ممبرز اپنے اہل خانہ کے ہمراہ موجود۔
    ایک کثیر تعداد میں الادین سے متصل شاپنگ پلازہ میں ملازمین و تاجر شامل ہیں۔

    واضع رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے پویلین اینڈ کلب اور الٰہ دین پارک شاپنگ سینٹر کو غیر قانونی قرار دے کر 2 روز کے اندر اندر مسمار کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔

  • پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری کردیا

    پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری کردیا

    پسند کی شادی کرنے والے سجاول کے رہائشی جوڑے کو سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے حکومت سندھ۔ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس سمیت ایس ایچ او تھانہ جتی سجاول کوحفیظاں اور اس کے شوہر مجاہد کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

    سندھ ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ۔ حکومت سندھ۔ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس ۔ایس ایچ او تھانہ جتی کو مورخہ 18 اگست 2021 تک نوٹس جاری کرتے ہوے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ لیاقت گبول ایڈووکیٹ

    حفیظاں اور اس کے شوہر مجاہد نے 29 اکتوبر 2020 کو ضلع بدین میں کورٹ میرج کی تھی۔

    لیاقت گبول ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حفیظاں کے سابقہ شوہر وزیر علی نے حفیظاں اور اس کے شوہر مجاہد کے خلاف تھانہ جتی سجاول میں نکاح پر نکاح اور ڈکیٹی کی ایف آئی آر درج کروادی تھی۔

    مقدمہ اندراج کے بعد حفیظاں اور اس کے شوہر نےسندھ ہا ئ کورٹ میں آ ئینی پٹیشن نمبر 01/2021 داخل کی جس پر سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ جسٹس محمد کریم آ غا اور جسٹس عبدالمبین لاکھو نے پولیس کو مغویہ کاپولیس کو بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دہا.

    مغویہ حفیظاں نے پولیس کو بیان دیا کے چھ ماہ قبل مجھے سابقہ شوہر وزیر علی نے طلاق دے دی تھی عدت کے بعد میں نے مجاہد کے ساتھ کورٹ میرج کی ہے مقدمہ جھوٹا ہے۔

    تھانہ جتی سندھ کی پولیس نے سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ میں مقدمہ کو کینسل کرنے کی رپورٹ مورخہ 15اپریل 2021کو جمع کرائی عدالت نے پٹیشن نمٹا دی۔

    میرے سابقہ شوہر نے مقدمہ ختم ہونے کے بعد نورالدین،علی اکبر ،سکندراور محمد سومار کے ساتھ ملکر ہمیں کاروکاری قرار دے کر قتل کرنا چاہتے پیں۔

    عدالت پولیس کو حکم دے مجھے اور میر ے شوہر مجاہد کو قانونی تحفظ فراہم کرے۔ درخواست گزار حفیظاں

    حفیظاں کا سابقہ شوہر اور اس کے گھر والوں نے دونوں میاں بیوی کو قتل کرنے کے لیے کرایے کے قاتلوں کو جوڑے کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ ،وکیل لیاقت گبول۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے۔ آئینی پٹیشن نمبر385سال 2021 میں نوٹس جاری کرتے ہوے پٹیشنر کوتحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • سندھ کا آئندہ مالی سال کیلیے خسارے والا بجٹ تیار، آج سندھ اسمبلی میں پیش کریں گے

    سندھ کا آئندہ مالی سال کیلیے خسارے والا بجٹ تیار، آج سندھ اسمبلی میں پیش کریں گے

    حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال کے لیے خسارےوالابجٹ تیار کرلیا ،وزیر اعلیٰ سندھ آج شام 4 بجے نئے مالی سال کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال کے لیے خسارےوالابجٹ تیار کرلیا ، بجٹ کا مجموعی حجم 14کھرب روپے سے زائد ہے جبکہ بجٹ میں مجموعی ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 330ارب روپے اور مجموعی غیرترقیاتی اخراجات کاتخمینہ تقریباً 11کھرب20 ارب روپے ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ آج سندھ کابینہ سے نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری لیں گے اور شام 4بجےنئےمالی سال کابجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کریں گے ، بجٹ کامجموعی حجم ساڑھے 14کھرب روپے ہے جبکہ بجٹ خسارہ 20 ارب روپےسےبھی زیادہ ہوسکتا ہے۔

    این ایف سی ایوارڈز کے تحت ملنے والےفنڈزکاتخمینہ 870 سے880ارب روپے اور صوبائی محصولات و وسائل سے ہونے والی آمدنی کا تخمینہ 350 ارب روپےہے جبکہ وفاقی حکومت سے حکومت سندھ کے زیر انتظام چلنے والے منصوبوں کے لیے وفاق سے تقریباً سوا پانچ ارب روپے ملنے کا تخمینہ ہے۔

    بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرضوں اور امداد کا تخمینہ 70 ارب روپے سے زائد ہے ، اس سرمایہ جاتی آمدنی کا تخمینہ 25سے35 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

    رواں مالی سال کے دوران اخراجات سے بچ جانے والےفنڈز ،پبلک اکاوٴنٹس وغیرہ سےتقریباً 75ارب کےفنڈزحاصل کرکے خسارے کی رقم کوکم کیا جائے گا جبکہ صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اے ڈی پی کے فنڈز کا تخمینہ تقریباً 222 ارب روپے اور ضلعی اے ڈی پی کا تخمینہ تقریباً 30 ارب روپے ہے۔

    بیرونی امداد اور وفاقی فنڈنگ سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 77 ارب روپے ہے جبکہ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 11کھرب 20 ارب روپے لگایا گیا ہے، جن میں تقریباً 40 ارب روپے غیر ترقیاتی ہیں

    سرمایہ جاتی اخراجات اور تقریباً 10 کھرب 80 ارب روپے غیر ترقیاتی محصولاتی اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، جن میں ملازمین کی تنخواہوں، الاوٴنس، ایم اینڈ آر گاڑیوں ، تیل سمیت دیگر تمام اخراجات شامل ہیں۔