Baaghi TV

Category: کراچی

  • شاہ لطیف سے ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث دو ڈاکو گرفتار

    شاہ لطیف سے ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث دو ڈاکو گرفتار

    کراچی کے علاقے شاہ لطیف سے ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں میں ملوث دو ڈاکیتوں کو گرفتار کرلیا،گرفتار ڈاکوؤں کا ایک ساتھی فرارہوگیا۔

    دوسری جانب کراچی کے علاقے لانڈھی نمبر 6 میں ڈکیتی واردات کی اطلاع پر پولیس کی بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو ڈکیتوں کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان نے ڈیڑھ ماہ کے دوران شاہ لطیف اور اسٹیل ٹاؤن میں 14 سے زائد وارداتوں کا انکشاف کیا۔

    گرفتار ملزمان سے غیر قانونی اسلحہ، شہری سے کچھ روز قبل چھینا گیا موبائل فون اور دیگر اشیاء برآمد ہوئی۔

    پولیس نے ملزمان کے قبضے سے تھانہ زمان ٹاؤن کی حدود سے چوری کی گئی موٹرسائیکل بھی تحویل میں لے لی۔

    گرفتار ملزمان کا مزید کرمنل ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے، ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، گرفتار ملزمان کو مزید پوچھ گچھ کیلئے تفتیشی حکام کے حوالے کردیا گیا، گرفتار ملزمان میں اختر اور اسد شامل ہیں۔

  • کراچی میں بزرگ شہری بھی اسٹریٹ کرائم میں ملوث نکلے

    کراچی میں بزرگ شہری بھی اسٹریٹ کرائم میں ملوث نکلے

    کراچی میں بزرگ شہری بھی اسٹریٹ کرائم میں ملوث نکلے

    کراچی: عائشہ منزل پر قائم کلینک بزرگ شہری نے اپنے ساتھی کے ہمراہ لوٹ لیا

    بڑی عمر کا شخص مریض بن کر کلینک پہنچا اور ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کروانے لگا اسی دوران موقع ملتے ہی ملزم کے دوسرے ساتھی نے اسلحہ نکال لیا،

    ملزم نے اسلحہ کے زور پر کلینک کے عملہ اور ڈاکٹر کو یرغمال بنایا، عمر رسیدہ ملزم خود شہریوں کی جیب سے موبائل نکالتا رہا، ملزم کا دوسرا ساتھی بھی کلینک میں موجود قیمتی سامان تلاش کرتا رہا اور اپنے تھیلے میں بھرتا رہا۔

  • کورونا ویکسینیشن ، حکومت سندھ کا تعلیمی اداروں سے متعلق بڑا فیصلہ

    کورونا ویکسینیشن ، حکومت سندھ کا تعلیمی اداروں سے متعلق بڑا فیصلہ

    حکومت سندھ نے تعلیمی اداروں میں کورونا ویکسی نیشن مراکزبنانے کا فیصلہ کرلیا، سندھ کے180سےزائد تعلیمی اداروں میں ویکسی نیشن مراکز بنانے کی تجویز ہے۔

    تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے تعلیمی اداروں میں کورونا ویکسی نیشن مراکزبنانے کا فیصلہ کرلیا ، ہر ضلع اورتحصیل میں 2درسگاہیں بطورویکسی نیشن مراکز استعمال ہوں گی۔

    اس سلسلے میں ریجنل ڈائریکٹرز اور ڈسڑکٹ ایجوکیشن افسران سے تعلیمی اداروں کےنام طلب کرلئے گئے ہیں ، مجوزہ مراکزمیں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو کورنا ویکسین لگائی جائے گی۔

    سندھ کے180سےزائد تعلیمی اداروں میں ویکسی نیشن مراکزبنانےکی تجویز ہے جبکہ اسکول ایجوکیشن اور محکمہ کالجز کے ایک لاکھ سے زائد عملےکی ویکسی نیشن کا ہدف رکھا ہے۔

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ بڑھتے کیسز کے بعد لاپرواہی نہیں کر سکتے، سندھ حکومت نے پابندیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہماری سفارشات پر عملدر آمد نہیں کیا گیا، خدشہ تھا کہ مثبت کیسز کی تعداد بڑھے گی۔

    صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ رات 8 بجے کے بعد شہری غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں، پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایکشن ہوگا۔ پابندیاں خوشی سے نہیں لگائیں، شہری تعاون کریں۔

  • اساتذہ کی مستقلی، عدم عملدرآمد پر عدالت سندھ حکومت پر برہم

    اساتذہ کی مستقلی، عدم عملدرآمد پر عدالت سندھ حکومت پر برہم

    سندھ ہائی کورٹ نے اساتذہ کی مستقلی اور سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے امتحانات لینے سے متعلق درخواست پر احکامات کے باوجود عمل درآمد نہ کرنے پر سندھ حکومت پر اظہارِ برہمی کیا ہے۔عدالتِ عالیہ کے جسٹس محمد علی مظہر نے دورانِ سماعت کہا کہ پہلے کہا گیا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے منظور دے دی ہے، اب کہا جا رہا ہے کہ کابینہ سے منظوری لی جائے گی، ہر چیز کابینہ میں کیوں لے جاتے ہیں؟ کابینہ کو اساتذہ کی تقرریوں اور مستقل کرنے میں مداخلت کا اختیار ہی نہیں، کابینہ منع کر دے تو کیا اساتذہ کو مستقل نہیں کیا جائے گا؟

    انہوں نے کہا کہ طے ہو چکا ہے کہ اساتذہ سندھ سروس پبلک کمیشن میں امتحان دیں گے، جب طے ہو چکا ہے تو پھر کابینہ بیچ میں کہاں سے آگئی؟ ہم وزیرِ اعلیٰ سندھ کو نوٹس کر کے پوچھ لیتے ہیں۔سیکریٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا کہ نئے خط کے مطابق کابینہ فیصلہ کرے گی کہ اساتذہ نے امتحان دینا ہے یا نہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کابینہ کو کس نے اختیار دیا ہے؟ خوامخواہ لوگوں کو تنگ کرنے والی بات ہے، ایسے رویّے سے سندھ سروس اسٹرکچر خراب ہو رہا ہے، لوگ پریشان ہیں، سیکریٹری تعلیم خود خط لکھتے ہیں اور مکر جاتے ہیں، طے ہوا تھا اساتذہ پہلے سندھ پبلک سروس کمیشن میں امتحان دیں گے، اب نئی بات لے کر آگئے۔عدالت نے کہا کہ ہر چیز میں سندھ کابینہ کہاں سے آ جاتی ہے؟ ایسے کیسز کو طول دے کر لوگوں اور عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے، وقت خود ضائع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیسز عدالتوں میں التواء کا شکار ہیں، عدالت نے فیصلہ کر دیا تھا، مگر سندھ حکومت معاملہ لٹکا رہی ہے۔

    اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی کہ ہمیں 3 دن کی مہلت دی جائے۔عدالت نے سندھ حکومت کو 3 دن کی مہلت دے دی اور کہا کہ آپ سے کچھ نہیں ہو رہا تو بتا دیں، چیف سیکریٹری کو بلا لیتے ہیں۔

  • سندھ کی ترقی دیکھ کر یقیناً بلاول ہاؤس میں سوگ کا سماں ہوگا

    سندھ کی ترقی دیکھ کر یقیناً بلاول ہاؤس میں سوگ کا سماں ہوگا

    پی ٹی آئی رہنما پوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ وزیراعظم کے اعلان کردہ سندھ پیکیج پر پہلے ماہ سے کام شروع ہوچکا ہے۔

    سندھ کی ترقی دیکھ کر یقیناً بلاول ہاؤس میں سوگ کا سماں ہوگا پی پی بھی سن لے سندھ پڑھے گا آگے بڑھے گا اور ترقی کرے گا.

    حلیم عادل شیخ نے بیان میں کہا نادرہ سینٹرز گیس کے منصوبوں سمیت جیکب آباد، کشمور، شکارپور میں براڈبینڈ سروس کا افتتاح ہوچکا۔

    سندھ پیکیج کے تحت مزید منصوبوں پر کام جلد شروع ہوجائے گا.

    ‏وزیراعظم کے ویزن کے مطابق سندھ بدل رہاہے سندھ کے لوگوں کے لیے اہم منصوبے بھی جلد شروع ہورہے ہیں۔

  • ڈان نیوز کے رپورٹر پر تشدد کا معاملہ،ایس ایچ او سعودآباد معطل

    ڈان نیوز کے رپورٹر پر تشدد کا معاملہ،ایس ایچ او سعودآباد معطل

    کراچی، گذشتہ رات تھانہ سعودآباد میں ڈان نیوز کے رپورٹر پر تشدد کا معاملہ۔

    ڈی آئی جی ایسٹ نے واقعے میں ملوث ایس ایچ او سعودآباد کو عہدے سے ہٹا کر ہیڈ کواٹر رپورٹ کرنے کا حکم دیدیا۔

    ایس پی گلشن کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی انکوائری کے مطابق ایس ایچ او سعود آباد نے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔تھانہ سعودآباد میں تعینات پانچ اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
    معطل ہونے والے اہلکاروں میں پولیس کانسٹیبل امان اللہ،کانسٹیبل جاوید، کانسٹیبل ظہیر، کانسٹیبل شہباز اور کانسٹیبل عابد شامل ہیں۔ انکوائری کے مطابق معطل ہونے والے اہلکاروں نے ڈان نیوز کے رپورٹر کیساتھ ناروا سلوک روا رکھا۔

  • ایس ایس پی ملیر کی زیر صدارت سندھ حکومت کے احکامات پر عملدار آمد کیلئے اہم میٹنگ

    ایس ایس پی ملیر کی زیر صدارت سندھ حکومت کے احکامات پر عملدار آمد کیلئے اہم میٹنگ

    کراچی: ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کی زیر صدارت سندھ حکومت کے احکامات پر عملدار آمد کیلئے اہم میٹنگ

    ہنگامی میٹنگ میں ایس پی ملیر ملک سنگھار،ایس پی گڈاپ سمیت ضلع بھر میں تعنیات ڈی ایس پیز،ایس ایچ اوز موجود تھے۔
    ایس پی ملیر ملک سنگھار نے بریفننگ دیتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس سے بچاو کیلئے سندھ حکومت کے جاری کردہ ایس اوپیز پر عملدار آمد کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
    شام 6بجے تمام مارکٹیں بند کروائی جائیں،
    نیشنل ہائی وے،مہران ہائی وے سمیت اہم مقامات پر ناکہ بندی کی جائے۔ غیر ضروری گھومنےوالے افراد کوناکوں پر روک لیا جائے
    علمدار آمد نہ کروانے پر ایس ایچ اوز،ہیڈ محررکیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔ایس پی ملیر ملک سنگھار نےتمام ایس ایچ اوز ،ہیڈ محرر سمیت اہلکار کرونا سے بچاو کیلئے ویکسین لگوانے کی ہدایت بھی کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملیر میں قائم 4کورونا ویکسین سینڑپر اہلکاروں و افسران کیلئے خصوصی انتظامات کئے جائے۔
    اس سلسلے میں عرفان بہادر کا کہنا تھا کہ کروناوائرس سے خود بھی محفوظ رہیں دوسروں کا بھی خیال رکھیں۔ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز تھانوں میں تعنیات نفری کو کرونا سے بچاو کیلئے بریفنگ دی جائے۔

  • منصوبوں، اداروں اور عمارتوں کے نام بدلنے سے بینظیر بھٹو کا نام نہیں مٹاسکتے

    منصوبوں، اداروں اور عمارتوں کے نام بدلنے سے بینظیر بھٹو کا نام نہیں مٹاسکتے

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا نام تبدیل کرنے پر وفاقی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ پی پی حکومت نے غربت کی کمی کیلئے بی آئی ایس پی شروع کیا۔

    عمران خان نے بی آئی ایس پی کا نام بدل ڈالا، پیپلزپارٹی نےایسے وقت میں پروگرام شروع کیاجب معاشی بحران تھا، عمران خان بتائیں غربت میں کمی کیلئے اب تک کیا کیا؟۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عوام کوپتہ ہے احساس کفالت پروگرام دراصل بی آئی ایس پی ہی ہے، عمران خان کی غربت میں کمی کے پروگرام کی چوری پکڑی جاچکی ہے۔

    عمران خان بی آئی ایس پی کا نام کچھ بھی رکھ دیں، عوام سب جانتے ہیں۔

    اپنے بیان میں بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ بی آئی ایس پی دراصل بینظیربھٹو کا آئیڈیا تھا جسے عملی جامہ پہنایا، پیپلزپارٹی نے بڑے سماجی بہبود کے پروگرام لاکر دنیا میں مثال قائم کی ۔

    عالمی ادارے پیپلزپارٹی دور کے بی آئی ایس پی کی اہمیت کا اعتراف کررہےہیں، عدالت میں اعتراف کے باوجود احساس پروگرام کو نیا منصوبہ قرار دینا دھوکا ہے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ منصوبوں، اداروں اور عمارتوں کے نام بدلنے سے بینظیر بھٹو کا نام نہیں مٹاسکتے۔

    جھوٹ، دھوکے کو یوٹرن کا نام دے کر فخر کرنا انکے مزاج کاحصہ بن چکا، پی پی نے معاشی سونامی میں سندھ کی لاکھوں دیہی خواتین کوفنی تربیت دی۔

    سندھ میں 27 لاکھ دیہی خواتین کو کاروبار کیلئے بلاسود قرضے دئیے، پی پی کی سندھ حکومت نے عوام دوست اقدامات سےفی کس آمدنی کوبڑھایا، سندھ میں غربت کی شرح میں غیر معمولی 7.6فیصد کمی ثبوت ہے پی پی نےڈلیور کیا۔

  • قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان، پی آئی اے کا سابق اعلیٰ افسر گرفتار

    قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان، پی آئی اے کا سابق اعلیٰ افسر گرفتار

    ہیومن رائٹس کیس میں قومی خزانےکو تقریباً سوا ارب کا ‏نقصان، سپریم کورٹ کا پی آئی اے کے اسپیشل آڈٹ کاحکم، ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے پی آئی اے کا سابق اعلیٰ افسر کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق فاقی تحقیقاتی ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے سابقہ ڈائریکٹر انجنیئرنگ پی آئی ‏اے مقصود احمد کو گرفتار کر لیا۔
    ترجمان ایف آئی اے سندھ کے مطابق ہیومن رائٹس کیس میں قومی خزانےکو تقریباً سوا ارب کا ‏نقصان پہنچایا گیا سپریم کورٹ نےپی آئی اےاسپیشل آڈٹ کاحکم جاری کیاتھا۔ترجمان نے بتایا کہ آڈٹ پیرا کےتحت غیر ملکی کمپنیوں سےغیرقانونی معاہدےکئےگئےتھے، کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے معاملے پر تحقیقات کا آغاز کیا اور ٹھوس شواہد کے بعد سابقہ ڈائریکٹر انجینئرنگ مقصوداحمد کو گرفتار کر لیا۔
    ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مقدمے میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں ‏ جاری ہیں ۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس قومی ائیرلائن پی آئی اے کے آڈٹ کے دوران اربوں روپے کے غبن اور کرپشن کا انکشاف ہوا تھا۔ یہ انکشاف وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کارپوریٹ کرائم سرکل کی دو انکوائریز کے دوران ہوا تھا جس کے بعد دو مقدمات جلد درج کیے گئے، جبکہ اہم گرفتاریاں بھی کی گئیں۔
    گزشتہ برس پی آئی اے میں مالی کرپشن اور غبن کی داستانوں پر ایف آئی اے نے پی آئی اے کے خلاف دو انکوائریز مکمل کی تھیں۔ انکوائریز کے دوران اربوں روپے کے غبن کا انکشاف ہوا تھا، انکوائریز پی آئی اے کے مالی آڈٹ رپورٹ کے بعد مکمل کی گئیں، پی آئی اے کے خلاف انکوائریز کارپوریٹ کرائم سرکل نے کی تھیں۔دونوں انکوائریز کے بعد جلد مقدمات قومی خزانے کو نقصان پہنچائے جانے پر درج کیے گئے، ۔اس سے قبل ایک مقدمے میں سابق چیئرمین اور افسران پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں، ایف آئی اے حکام نے دونوں انکوائریز کی تصدیق کی تھی۔

  • کراچی میں گزشتہ ایک ماہ میں کورونا مریض کی شرح ڈبل، اگلے 14روز بہت اہم

    کراچی میں گزشتہ ایک ماہ میں کورونا مریض کی شرح ڈبل، اگلے 14روز بہت اہم

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ میں نمبرزآف کورونامریض ڈبل ہوگئے، ڈاکٹرزبتاتے ہیں کہ اگلے 14روز بہت اہم ہیں، اگر اگلے 14روز احتیاط کرلی تو دن بہتر ہوسکتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کل محکمہ داخلہ سندھ نےنوٹی فکیشن جاری کیا، کورونا کے حوالے سے نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نےحکومت کی جانب سےفیصلوں سےآگاہ کیا۔

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت فیصلےکرتی ہے اور انتظامیہ عمل کرائےتولوگ ناراض ہوتےہیں ، انتظامیہ کی جانب سےعمل نہ کرایاجائےتوبھی لوگ ناراض ہوتےہیں، سندھ حکومت کہہ رہی ہےکہ غیرضروری طورپر اپنے گھروں سےنہ نکلیں۔

    کورونا صورتحال کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ7روزمیں کراچی میں کوروناکیسز کی شرح12.7فیصدرہی، حیدرآبادضلع میں 10.8 فیصد کورونا پوزیٹو ریشو رہا ہے، 24 اپریل کے مقابلےمیں اس وقت تعداد دگنی ہوچکی ہے، 24 اپریل کو 855 اور 24 مئی کو ڈبل فیگر ہوچکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ میں نمبرزآف کورونامریض ڈبل ہوگئے، 204مریضوں میں اضافہ ہواہے، نیپا کےقریب سندھ ڈیزیز اسٹیٹیوٹ ، لیاقت نیشنل اسپتال ،ایس آئی یوٹی میں ایک بھی بیڈخالی نہیں۔

    مرتضیٰ وہاب نے سوال کیا کیا اس وبا کو ہم آپے سے باہر ہونے دیں، کیا اس وبا کے نمبرز کو اسی طرح بڑھنے کی اجازت دیں یا روکیں، دنیا میں کورونا مریض بڑھ رہے تھے تو ہم نے سخت فیصلے کیے، نتیجے میں پہلی اور دوسری لہرمیں بڑے پیمانے سے بچ گئے۔

    ترجمان نے کہا ایک بار پھر حکومت کو وہ مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں، نہیں چاہتے کرفیو لگایا جائے، چیزوں کو مکمل بند کر دیاجائے، آپ چاہتے ہیں کہ معمولات زندگی معمول پرہوں تو ہمارا ساتھ دینا ہوگا، اگر آپ چاہتے ہیں مزید سختی نہ ہو تو حکومتی گائیڈلائن کو اپنانا ہوگا، آپ سب کوایس اوپی پرعمل،ماسک پہننا ہوگا ویکسین لگوانا ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دکھ اورافسوس ہوتاہےجب لوگ شٹربندکرکےاپنابزنس چلارہےہوں، حکومت کو کوئی شوق نہیں آپ کے شٹرگرانے کا مگرمیتیں اٹھانے کا بھی نہیں۔

    مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا اگرپارک کے دروازے بند ہوتے ہیں تو دیواریں پھلانگ کرجاتے ہیں، ریسٹورانٹ بند کیے مگر مالکان نےکہاکہ ٹیک اوےکی اجازت دےدیں، سندھ حکومت نے کہا چولہا چلنا چاہئےڈلیوری ٹیک اوےکی اجازت دی، آپ چلےجائیں ریسٹورانٹ شٹر بند کر کے بندکمروں میں کھانے کھلارہے ہیں، شٹربند کر کے کھانا کھلائیں گے تو سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

    سندھ حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نےشادی ہالزبندکردیےلوگوں نے اپنے گھر دےدیے، اب شادی ہالزکےبجائےگھروں میں تقریبات ہورہی ہیں، ہمارااختلاف مصروفیات سےنہیں ہجوم سے ہے، آپ حکومت کاساتھ دیں ورنہ سخت فیصلےکرنا ہوں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹرزبتاتے ہیں کہ اگلے 14روز بہت اہم ہیں، اگر اگلے 14روزاحتیاط کرلی تودن بہترہوسکتےہیں، کل اتوارکےروزسیکڑوں کی تعدادمیں پارکس میں رش تھا، آج مجبوراًسندھ حکومت کوفیصلہ کرناپڑاکہ پارکس بند ہونگے.