جماعت اسلامی کے تحت شہر میں سخت گرمی میں بد ترین لوڈشیڈنگ ، بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ بندش، کے الیکٹرک کی نا اہلی و ناقص کارکردگی اور وفاقی حکومت اور نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کی مسلسل سر پرستی کے خلاف پر امن احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ پیر کے روز ضلع شرقی کے تحت جوہر موڑ گلستان جوہر میں احتجاجی دھرنا دیا گیا ۔
دھرنے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، ضلع شرقی کے قائم مقام امیر انجیئنر عزیز الدین ظفر اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔دھرنے میں ڈہرکی میں ٹرین کے ہونے والے خوفناک حادثے پر بھر گہرے دکھ اور افسوس اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اس کی تحقیقات کرائے ، ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے ، جاں بحق ہونے والوں کو معاوضہ اور زخمیوں کا سرکاری خرچ پر علاج کرایا جائے ، اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹری کراچی و سابق رکن سندھ اسمبلی یونس بارائی ،سیکریٹری ضلع ڈاکٹر فواد ، نائب امیر نعیم اختر ، مرتضیٰ غوری ، پبلک ایڈ کمیٹی ضلع شرقی کے صدر سید محمد قطب ، نصر عثمانی اور دیگر بھی موجود تھے۔
دھرنے کے شرکاء نے کے الیکٹرک ، وفاقی حکومت اور نیپرا کی ملی بھگت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور پر جوش نعرے لگائے ۔ مظاہرین نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز بھی اُٹھائے ہوئے تھے ۔ احتجاجی مہم کے سلسلے میں اگلا دھرنا بدھ 9جون کو ضلع غربی کے تحت اورنگی ٹائون میں ہو گا ۔حافظ نعیم الرحمن نے جو ہر موڑ پر احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کی نا اہلی اور شہریوں کی بلا تعطل بجلی کی فراہمی میں ناکامی وفاقی حکومت کی نا اہلی و ناکامی ہے ۔
وفاقی حکومت اور نیپرا کے الیکٹرک کی سرپرستی ختم کریں ۔ عوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہم نہ کرنے اور معاہدے کے مطابق پیدواری صلاحیت میں اضافہ نہ کرنے پر کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کرے اور اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے عوام کو دہرے عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے ، ایک طرف لوڈشیڈنگ ختم نہیں کی جا رہی دوسری طرف اوور بلنگ کی شکایات بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں ، کے الیکٹرک کے تیز میٹرز چیک کرنے والا کوئی غیر جانبدار ادارہ موجود نہیں ، عوام کی کوئی شنوائی نہیں ۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وفاقی حکومت اور گورنر نے کے الیکٹرک کی مزید سرپرستی کرتے ہوئے 200 میگاواٹ بجلی فراہم کردی، گورنر سندھ بتائیں کہ کے الیکٹرک کے کتنے پلانٹ چل رہے ہیں ، تمام تر دعووں کے باوجود15مارچ سے شروع ہونے والا 900 میگاواٹ کا بن قاسم پلانٹ تھری اب تک کیوںشروع نہ ہوسکا، 1400 میگاواٹ بجلی NTDC کی طرف سے کس معاہدے کے تحت فراہم کی جارہی ہی کے الیکٹرک نے شہریوں کی رات کی نیند اور دن کا چین غارت کردیا ہے،شدید گرمی اور کرونا وباء کے دوران رات کے دوران بھی کراچی شہر کی بجلی بند کردی جاتی ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں دن بھر کئی کئی گھنٹے بجلی بندکردی جاتی ہے۔
۔کے الیکٹرک کے اصل ذمہ داران کا ہی نہیں پتا کہ کون اس کا مالک ہی ،ہم نہیں عدالتیں کہتی ہیں کہ کیا ملک دشمن عناصر اس کے کرتا دھرتا ہیں ،کے الیکٹرک ایک مافیا کا کردار ادا کررہی ہے ، تمام حکومتیں اس مافیا کے ساتھ ملی ہوئی ہیں،اس کا موجودہ مالک عارف نقوی وزیر اعظم کا دوست ہے ،پی ٹی آئی ،پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کراچی سے صرف لوٹنے میں مصروف ہیں
Category: کراچی
-

جماعت اسلامی کے تحت کراچی میں بد ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج و دھرنے شروع
-

سندھ حکومت کے تحت درخت لگائیں ماحول کو محفوظ بنائیں کے سلوگن پر گامزن ہیں ،ڈی جی نعیم مغل
سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی گورنمنٹ آف سندھ SEPAکے ڈی جی نعیم مغل،ڈپٹی ڈائریکٹر منیر عباسی نے ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر دو روزہ تقریبات میں شرکت کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس سال عالمی یوم ماحولیات کا تھیم (قدرتی ماحول کی بحالی)ہے پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جس نے قدرتی ماحول کی بحالی کیلئے بلین ٹری منصوبے سمیت متحد پروگرام ترتیب دیئے جس میں سندھ حکومت نے عملی اقدامات کرتے ہوئے بھر پور اور قابل فخر کردار ادا کر رہی ہے اقوام متحدہ نے حکومت پاکستان کے گرین اینی شیٹو اور ماحول دوست اقدامات کو سرہاتے ہوئے پہلی بار پاکستان کو عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی دی ہے جو تمام پاکستان اور بالخصوص سندھ کی عوام کیلئے باعث اعزاز ہے ڈی جی نعیم مغل نے مزید کہا کہ کالائمنٹ تبدیلی یا موسمیاتی تبدیلیاں اب اتنی واضح ہوچکی ہے کہ ان سے انکار کرنے والوں کے پاس اب سوائے خاموشی کے کوئی چارہ نہیں رہا اگر چہ پاکستان گرین ہائوس گیسس پیدا کرنے والے ممالک میں بہت نیچے کے نمبروں پر موجود ہے لیکن گلوبل کلائمنٹ رسک انڈیکس کے مطابق خطرات سے دو چار ممالک میں اس کا8واں نمبر ہے پاکستان جیسی کمزور معیشت کا حامل ملک اپنے متنوع جغرافیہ کے باعث کلائمنٹ چینچ کے مختلف نوعیت کے خطرات سے دو چار ،پہاڑوں میں گلیشئر کا پگھلائو،مسلسل سیلاب بے موسم اور کم وقت میں تیز بارش،سمندر کی سطح میں اضافہ اور سہرائوں میں خشک سالی اب معمول بنتی جارہی ہے ماہرین کے نزدیک ان تمام مسائل کی جڑ کہیں نہ کہیں جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے وابستہ ہے اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ نظریہ حقیقی نظر آتا ہے ہر درخت قیمتی ہے اور نقدآور ہے ڈی جی ،SEPA نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کے تحت درخت لگائیں ماحول کو محفوظ بنائیں کے سلوگن پر گامزن ہے اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر منیر عباسی نے کہا درخت یا جنگلات بظاہر ہمارے لئے ایک عام سے مسائل ہیں لیکن زمین کا تمام تر فطری ماحولیاتی نظام ان ہی کے گرد گھومتا ہے لہذا ضرورت اس امر یکی ہے کہ ہم اپنے ارد گرد درخت اور پودے لگائیں اور فضاء کو آلودہ کرنے کی چیزوں اور کاموں سے اجتناب کریں۔
-

رواں سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا لیکن یہ پاکستان میں نظر نہیں آئے گا،ماہر فلکیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال
ماہر فلکیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا ہے کہ رواں سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا لیکن یہ پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی اور ماہر فلکیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نیرواں سال کے پہلے سورج گرہن کے حوالے سے اپنا بیان جاری کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ 10 جون کا سورج گرہن روس، گرین لینڈ، شمالی کینیڈا، شمالی ایشیا، یورپ اور امریکا میں دیکھا جاسکے گا۔ماہر فلکیات نے مزید کہا کہ سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 1 بج کر 12 منٹ پرشروع ہوگا۔پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ 3 بج کر 42 منٹ پر سورج گرہن اپنے عروج پر ہوگا جبکہ 3 بج کر 34 منٹ پر یہ اختتام کو پہنچے گا۔انہوں نے کہاکہ سورج گرہن کے دوران اس کا رِنگ آف فائر دیکھا جائے گا۔ -

وزیراعظم نے کہا کہ آپ بہت بولتے ہیں، خاموشی سے میری بات سنیں، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ
وزیراعظم نے کہا کہ آپ بہت بولتے ہیں، خاموشی سے میری بات سنیں، میں نے بھی اپنے دو ٹوک موقف سے آگاہ کر دیا کہ سندھ میں کسی صورت گورنر راج نہیں لگنے دیں گے، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے لے آئے- تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے اور پہلے سے بھی کم بجٹ سندھ کو دیا جا رہا ہے۔
انہوں ںے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے بات کرنے سے بھی روکا اور کہا کہ آپ بہت بولتے ہیں، میری بات سنیں تاہم انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے سامنے احتجاج کیا اور کہا کہ گورنر رول اور الگ صوبے کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے- انہوں نے یہ بات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک سال میں ایک ہی این ای سی کی میٹنگ ہوئی ہے۔ انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم نے چار میٹنگز بلانے کا وعدہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فنانس ڈویژن صوبوں کو ترقیاتی بجٹ کے لیے فنڈز دیتی ہے اور چار سال پرانی اسکیموں کے لیے وہی بجٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے 7 ارب سے بڑھا کر 15 ارب کردیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 9.7 ارب کی اسکیموں پرصرف 500 ملین خرچ ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایت ہے کہ ایم این اے و ایم پی اے کے کہنے پراسکیموں کو شامل نہ کیا جائے لیکن حکومت کے بجائے ایم این اے اور ایم پی اے کی اسکیموں کو شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے باتیں کی ہیں لیکن ہمارے ساتھ وعدہ نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کل کراچی میں احتجاج کی ویڈیوز موجود ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ احتجاج کا حق ہرکسی کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ہم نے دیگرجماعتوں کو احتجاج کی اجازت دی لیکن کنٹرول بھی کیا ہے۔ -

ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے ہوٹل مالک پر بہیمانہ تشدد، ویڈیو وائرل
شہرقائد میں مقررہ وقت پر ہوٹل بند نہ کرنا ہوٹل مالک کو مہنگا پڑ گیا، پولیس نے ہوٹل مالک کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی- تفصیلات کے مطابق ہوٹل مالک پر تشدد اور جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے پر ایس ایچ او تھانہ سعود آباد کو معطل کر دیا گیا۔ کراچی کے ڈسٹرکٹ کورنگی کے تھانہ سعودآباد میں شہریوں پر تشدد کے واقعات عام ہوگئے، کرونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنا ہوٹل مالک کو اس وقت نہایت مہنگا پڑ گیا، جب پولیس نے انھیں انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعے سے متعلق خبر میڈیا پر چلنے پر پولیس حکام نے ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ او زبیر الاسلام کو معطل کر دیا ہے۔ ریسٹورنٹ کے مالک اظہر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ سعود آباد پولیس نے ان پر انسانیت سوز تشدد کیا، انھیں ریسٹورنٹ مقررہ وقت پر بند نہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پولیس 19 گھنٹے تک انھیں ڈنڈوں اور چھتر سے مارتی رہی.
متاثرہ شہری اظہر نے مزید بتایا کہ رات 2 بجے مجھ سمیت 8 افراد کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، پولیس موبائل کے ذریعے ہمیں تھانے لے جایا گیا، جہاں ایس ایچ او زبیر الاسلام نے ڈنڈوں سے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ہوٹل مالک نے کہا تشدد کا نشانہ بنانے کے 19گھنٹے بعد انھیں اگلی رات 9 بجے چھوڑا گیا، انھیں آرڈر کے باعث دکان بند کرنے میں تھوڑی دیر ہوگئی تھی، ہم روزانہ وقت ہی پر دکان بند کرتے ہیں۔ ویڈیو میں ہوٹل مالک اظہر نے پولیس کے ہاتھوں جسم پر بننے والے تشدد کے نشانات بھی دکھائے۔ واضح رہے اس سے قبل ایسی ہی ایک خبر سامنے آئی تھی جس مین ساہیوال میں 3 دکانداروں کو پولیس کے اعلیٰ افسر کے رشتہ داروں سے تلخ کلامی مہنگی پڑ گئی تھی، پولیس نے تینوں دکانداروں کو جیل میں قید کر کے بہمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا تھا ۔
-

کراچی سے تمام ٹرینیں اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہورہی ہیں: ترجمان ریلوے
ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے تمام ٹرینیں اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہورہی ہیں۔
ترجمان ریلوے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ کراچی سے آج صبح تمام ٹرینیں اپنے وقت پر روانہ ہوئی ہیں، ہزارہ ایکسپریس، شالیمار ایکسپریس اور رحمان بابا ایکسپریس مقررہ وقت پر روانہ ہوئیں جب کہ پاکستان ایکسپریس اور علامہ اقبال ایکسپریس دوپہر میں مقررہ وقت پر روانہ ہوں گی۔
ترجمان نے کہا کہ جناح، قراقرم اور پاک بزنس ایکسپریس بھی مقرر وقت پر کراچی سے روانہ ہوں گی۔
ترجمان کے مطابق کراچی کینٹ سے روانہ ہونے والی قراقرم ایکسپریس اور جناح ایکسپریس کو ضم کردیا گیا اور ضم شدہ ٹرین کو قراقرم ایکسپریس کے وقت کے مطابق سہ پہر 3:30 بجے روانہ کیا جائے گا۔
-

ٹرین خراب ہونے کی نشاندہی روانگی سے قبل ہو گئی تھی، مسافر کے ہوشربا انکشافات
ٹرین میں سوار مسافروں کی جانب سے حادثے سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف ہو رہا ہے۔
واقعے سے متعلق ایک عینی شاہد نے ہوشربا انکشاف کیے ہیں۔عینی شاہد نے بتایا کہ 10نمبر ملت ایکسپریس گاڑی میں کلمپ مرمت ہونے والا تھا،سٹیشن سے گاڑی روانہ ہونے سے قبل ان چیزوں کی جانب توجہ دلائی گئی تھی لیکن کسی نے بھی اس جانب توجہ نہ دی،اور کلمپ کو عارضی طور پر مرمت کرکے گاڑی چلا دی۔روہڑی سے آگے آکر گاڑی کو جھٹکا لگا اور گاڑی کا ڈبہ الٹ کر دوسرے ٹریک پر آ گیا۔
اس اثناء میں دوسری گاڑی سرسید ایکسپریس کے ہارن کی آواز آئی تو ہم لوگوں نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا کہ اب ہم نہیں بچیں گے لیکن قدرت نے ہمیں بچا لیا۔دو بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔یاد رہے کہ رات گئے صوبہ سندھ کے شہر گھوٹکی میں ریلوے اسٹیشن پر ملت ایکسپریس کی بوگیاں الٹ کر دوسرے ٹریک پر جا گریں اور مخالف سمت سے آنے والی سرسید ایکسپریس بوگیوں سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 35 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 50 افراد زخمی ہوئے تاہم ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ٹرین حادثے کے ایک زخمی مسافر نے بڑا انکشاف کیا کہ ملت ایکسپریس کا کلمپ پہلے سے ہی ٹوٹا ہوا تھا، جس کا ریلوے حکام کو علم تھا، اسی وجہ سے ٹرین لیٹ ہوئی اور کراچی کینٹ سٹیشن پر کھڑی رہی ، مرمت کے بعد ٹرین روانہ کی گئی، تاہم ڈہرکی کے قریب اتنا بڑا حادثہ پیش آ گیا ، محکمہ ریلوے کے مطابق گھوٹکی ٹرین حادثہ کے بعد ادھر سکھر حادثے کے بعد ٹرینوں کو مختلف سٹیشنوں پر روک لیا گیا ہے -

بحریہ ٹاؤن واقعے میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار کیا جائے : ڈاکٹر سلیم حیدر
مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کراچی بحریہ ٹاؤن میں دہشت گردی اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والے علیحدگی پسندوں سے آئینی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ جس طرح کراچی سمیت ملک بھر کے دیگر افراد کی املاک کو جلایا گیا اور وہاں کھلے عام دہشت گردی کی گئی اس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ علیحدگی پسند سندھو دیش کے حامی دہشت گرد دراصل اپنے حقوق کی آڑ میں دہشت گردی کرنے کیلئے جمع ہوئے تھے اور وہ سارا دن بحریہ ٹاؤن میں کھڑی سینکڑوں گاڑیوں، شورومز، دکانوں، گھروں کو جلاتے رہے ، اے ٹی ایمز مشینیں لوٹتے رہے لیکن پولیس اور سندھ حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔
انہوں نے کہاکہ یہ علیحدگی پسند کسی طرح کوئی بھی جواز بناکر سندھ کے دیہی علاقوں میں مہاجروں اور غیر سندھیوں پر چڑھائی کرتے ہیں ، ان کی املاک کی آتشزدگی کے علاوہ ان کی زمینوں پر قبضہ کرلیتے ہیں لیکن نہ تو حکومت اور نہ ہی انتظامیہ اور پولیس انہیں روکنے کو تیار ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ دہشت گرد کسی بھی رنگ و روپ میں ہوں وہ قابل مذمت ہے لیکن سندھ میں پیپلزپارٹی کے دہشت گردی کے حوالے سے دوہرا معیار ہے۔جو پولیس کراچی اور حیدرآباد کے تاجروں اور صنعتکاروں پر چڑھ دوڑتی ہے وہی پولیس بحریہ ٹاؤن میں دہشت گردوں کے سامنے ہاتھ باندھے بے بس نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں کو اس قدر دیوار سے نہ لگایا جائے کہ پھر ان کے پاس کوئی اور راستہ ہی نہ بچے ، ہم جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ، کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ گاڑیوں میں لوگوں کو بھرکر مہاجر بستیوں یا آبادیوں پر چڑھائی کردے گا تو یہ اس کی بھول ہے ماضی میں بھی مہاجروں نے اپنی حفاظت خود کی تھی اور اب بھی اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔
انہوں نے آرمی چیف ، مقتدر حلقوں ، چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف جسٹس آف سندھ ، وزیراعظم سمیت وفاقی اداروں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ بحریہ ٹاؤن میں دہشت گردی کرنے والے سندھودیش کے حامیوں اور علیحدگی پسندوں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے اور ان کے ماسٹرمائنڈز کو بے نقاب کرکے جن افراد کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے اس کا سرکاری سطح پر معاوضہ دیا جائے۔ -

ڈاکٹر فاروق ستار کا بحریہ ٹاؤن واقعہ کیخلاف 11جون کو احتجاج کا اعلان
) سربراہ تنظیم ایم کیو ایم پاکستان بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستارنی11جون کو مزار قائد پر احتجاج کا اعلا ن کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج بحریہ ٹاؤن واقعہ اور سندھ حکومت کے خلاف ہوگا ۔خالد مقبول صدیقی سمیت تمام لوگوں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں ۔ بحریہ ٹائون پرحملہ کھلی دہشت گردی ہے ،منظم منصوبہ بندی کے تحت نسل پرستوں نے حملہ کیا،قوم پرستی سے ہمیں اختلاف نہیں ہے،لیکن اگر دیگر لسانی گروہوں پر حملہ کریں گے تو یہ ناقابل قبول ہے۔
پیرکو کراچی پریس کلب میں اراکینِ او آر سی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے ڈاکٹرفاروق ستار نے کہاکہ یہ حملہ بحریہ ٹائون پر نہیں کراچی پر حملہ تھا،یہ حملہ مہاجروں اور دیگر مظلوم قومیتوں پر حملہ ہے،یہ حملہ کراچی کے شہریوں کی شہریت پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ بحریہ ٹائون میں 50 ہزار سے زیادہ افراد تو صرف کام کاج کرنے والے ہیں۔وہاں آباد ،اس سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ نے اس حملے کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے ،گذشتہ 15 روز سے اس حملے کے لئے عام سندھیوں کو اکسایا جارہا تھا۔مجھے یقین ہے کہ یہ حملہ پیپلزپارٹی کی مکمل تائید اور سرپرستی میں ہوا ہے۔پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کی پشت پناہی کے بغیر یہ حملہ ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔
میں سخت ترین الفاظ میں اس دہشت گردی کی مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے سوال کیاکہ کیا یہ حملہ سندھ میں لسانی فسادات کی تیاری تو نہیں ،یہ سارے قافلے اندرون سندھ سے آئے تھے۔عام بہن بیٹیوں کو تو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ کراچی پہنچ کر کیا ہوگا۔اصل کردار اس حملے کو منظم کرنے والوں کا تھا۔وزیراعلی مراد علی شاہ نے رینجرز سے بھی درخواست نہیں کی کہ یہاں نقص امن کا خطرہ ہے۔
پولیس نے بھی بحریہ کے عام شہریوں کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔یہ بات واضح ہے کہ سندھ حکومت کی پشت پناہی میں یہ دہشت گردی ہوئی ہے۔پیپلزپارٹی جئے سندھ کا سیاسی ونگ ہے۔پیپلزپارٹی بھی سندھو دیش کی پلاننگ میں ملوث ہے۔ڈاکٹرفاروق ستار نے کہاکہ یہ حملہ بحریہ ٹان پر نہیں بلکہ شہری آبادی پرحملہ ہے ،اس حملے میں سندھ حکومت برابر کی شریک ہے،شہری سندھ میں رہنے والے مہاجروں کو مشتعل نہیں کرنا چاہتا۔
پیپلزپارٹی کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ اس حملے وہ شامل تھی۔ہمارے جلسوں میں کوئی ذرا سی غلط نعرے بازی کرے تو گرفتاری ہوجاتی ہیں ۔لیکن اتنی بڑی دہشت گردی کر کے ملزمان فرار ہوگئے ۔لگتا ہے سندھو دیش بنے گا نہیں بلکہ بن چکا ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ وفاق نے سندھو دیش کو قبول کرلیا ہے۔ہمیں پیپلزپارٹی کی نسل پرست متعصب حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
میرا یہ بیانیہ کسی کو بھڑکانے یا اشتعال دلانے کے لئے نہیں ہے۔سندھی مہاجر آپس میں بھائی ہیں ۔شہری سندھ میں سندھی مہاجر کا ڈوبنا اور تیرنا ایک ساتھ ہے۔ہمیں صوبہ بنانا ہوگا تو متعلقہ سندھی بھائیوں سے بات کریں گے ۔سندھی دانشوروں سے مکالمہ کریں گے ۔انہیں سندھی بزرگوں کی مہمان نوازی یاد دلائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ سندھی وڈیرے کراچی کے اسباب لوٹ کر اندرون سندھ خرچ کرتے تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا۔
حکمران کراچی کے وسائل لوٹ کر اپنے آپ پر خرچ کررہے ہیں ۔کراچی کے وسائل لوٹ کر ملک سے باہر منتقل کئے جارہے ہیں ۔سندھی دانشور بھی اگر قوم پرست بن گیا تو ہمارے پاس کیا راستہ رہ جائے گا ۔آج اگر بحریہ ٹائون پر حملہ ہوا ہے تو کل بلدیہ ٹائون پر ہوگااس کے بعد اورنگی ٹائون اور دیگر ٹائون میں بھی حملہ ہوسکتا ہے۔6 گھنٹے تک حملہ آوروں کو کوئی روکنے والا نہیں تھا. -

کراچی پولیس چیف نے منظم جرائم کے خلاف خود نکلنے کا فیصلہ کرلیا
ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس نے منظم جرائم کے خلاف خود نکلنے کا فیصلہ کرلیا اور کہا 31 ایس ایچ اوز کو 45 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس کا موقف سامنے آگیا ، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے۔
کراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس نے کہا کراچی کے 31 ایس ایچ اوز کو 45 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے ، 25 تھانوں میں موٹرسائیکل لفٹنگ کی جاتی ہے ، علاقے میں ہر جرم کا ذمہ دار ایس ایچ او ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے بھی میٹنگ کریں گے ، ناردرن بائے پاس پر باڑ لگانے سے کار موٹرسائیکل لفٹنگ میں کمی آئی ہے ، منشیات کے منظم کاروبارکے خلاف خود مانیٹرنگ کر رہا ہوں ، اپنی خفیہ ٹیم کو منظم منشیات فروشوں کی کھوج میں لگا دیا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس نے انکشاف کیا کہ ویجلینس ٹیم نے کراچی کے 4 مقامات سے منشیات خریدی، کیماڑی، ڈاکس، لیاقت آباد ار عزیز بھٹی سے ہیروئین خریدی گئی جبکہ خود سادہ لباس بھیس بدل کر مختلف جگہوں کا دورہ کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ منشیات کے خلاف رینجرز اور پولیس مشترکہ کارروائی کرے گی ، میری ڈی جی رینجرز سے 1 ، ایس ایس پی سٹی کی دوملاقاتیں ہوئی ، لوکل منشیات فروش گروہوں کی سر پرستی بھی کی جاتی ہے۔
عمران یعقوب منہاس نے کہا رضویہ میں منشیات اڈے کا مالک فرار ہے، چپس والے کی جان جانے پر تحقیقات کی جارہی ہیں .
منشیات فروشی میں اگر پولیس ملوث ہوئی تو سخت کارروائی ہوگی ، کیماڑی، سٹی، موچکو، ملیر، ایسٹ پی آئی بی میں منشیات کے اڈے ہیں۔منشیات کے گروہوں کے حوالے سے ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا تھا کہ ایک آپریٹر، ایک مڈل مین اور ایک منشیات کا اصل کردار ہوتا ہے.
،ڈی آئی جی ساوتھ مسلسل منشیات کے خلاف کام کر رہے ہیں ، اصل کرداروں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کراچی کے تھانوں میں ہزاروں موٹرسائیکل سالوں سے پڑی ہیں ، ہرزون کی 5 سے 6 ممبران پر مشتمل ٹیم تیار کرر ہے ہیں، تھانوں میں موجود موٹرسائیکلیں جن کے دعویدار نہیں لسٹ بنائیں گے۔
وہیکل لفٹنگ سے متعلق ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا تھا کہ اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل نے بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں ، گذشتہ تین ماہ کے دوران چوری اور چھیننے میں کمی آئی ہے ، ایس ایچ اوگلشن اقبال نے چوری میں ملوث ماسیاں کیسے چھوڑ دی؟
،ایس ایس پی ایسٹ تحقیقات کر رہے ہیں، رپورٹ کا انتظار ہے ، اگر ایس ایچ او کی غلطی ہوئی تو اس کو سخت سزا دی جائے گی۔
عمران یعقوب منہاس نے کہا کہ تفتیشی پولیس کی انسپکشن ٹیم تیار کی جارہی ہے، تھانے میں ایس او پی کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں ہوتی ہیں.
انسپکشن ٹیم ایف آئی آر کے مطابق تھانوں کو چیک کرے گی ، گرفتار ملزم اگر لاک اپ میں نہ ہوئے تو ایس آئی او کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ماڈل تھانے سے متعلق ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا تھا کہ کراچی کے ماڈل تھانے علیحدہ کرنے کا سوچ رہے ہیں ، متعلقہ تمام افسران کے ساتھ ایک مرتبہ ریویو کریں گے.
ممکن ہے مستقبل میں تمام تھانے اپنی سابقہ پوزیشن پر آجائیں ، عدالتیں آج بھی بہادرآباد اور فیروز آباد کو الگ تھانہ سنتی ہیں۔
عمران یعقوب منہاس نے کہا کہ ایف آئی آر رجسٹریشن فری جاری رکھنے کے احکامات دیے ہیں ، جو تھانہ سائل کا فوری مقدمہ درج نہیں کرے اس کے خلاف کارروائی ہوگی.
پانچ چیزوں پر فوکس کیا ہے، گرفتاری، تفتیش، انٹیلجنس کلیکشن، چالان اور سزا پر فوکس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی رینک تک کے افسر کو میڈیا ٹاک کی اجازت ہوںی چاہیے ، اس حوالے سے وزیراعلی سندھ سے ملاقات کرکے ان سے درخواست کی جائے گی ، پولیس افسر کی موقع پر وضاحت سے بہت معاملات کلئیر ہوجاتے ہیں
کراچی پولیس چیف نے کہا ڈی آئی جی ٹریفک کو ماڈل سڑکیں تیار کرنے کا کہا ہے، شاہراہ فیصل، شاہراہ پاکستان 3 تلوار سمیت 5 سڑکیں ماڈل بنائیں گے اور شاہراہ فیصل پر احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی ہے۔