Baaghi TV

Category: کراچی

  • پاکستان کو تفرقات کا خاتمہ کر کے متحد کرنے والے لیڈر کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کو تفرقات کا خاتمہ کر کے متحد کرنے والے لیڈر کی ضرورت ہے۔

    پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ پاکستان ہاؤس میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سو سے زائد پاک کالونی ٹاؤن اور دوسرے علاقوں سے کارکنان کی شمولیت
    شمولیت کرنے والے اراکین سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان ہاؤس میں سید مصطفیٰ کمال سے ملاقات ۔سید مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی میں نئے شمولیت اختیار کرنے والے اراکین کو خوش آمدید کہا۔

    شمولیت کرنے والوں نے اظہار خیال کرتے ھوئے کہا کہ پاکستان کو تفرقات کا خاتمہ کر کے متحد کرنے والے لیڈر کی ضرورت تھی۔سید مصطفیٰ کمال نے بلاتفریق رنگ، نسل، زبان کی نفرتوں کو ختم کر کے دلوں کو جوڑا ہے، بالخصوص کراچی کے عوام کو سیدمصطفیٰ کمال کی قیادت کی ضرورت ہے۔پاک سر زمین پارٹی کے نظریہ کو گھر گھر پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ھیں۔

  • اقوام متحدہ فلسطین سے اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ فوری ختم کرائے،ثروت اعجاز قادری

    اقوام متحدہ فلسطین سے اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ فوری ختم کرائے،ثروت اعجاز قادری

    سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ فلسطین و کشمیر کے مسئلے پر مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرنے والے ہی ظالم و جابر ہیں، فلسطین و کشمیر کی داستان ظلم و ستم کا طریقہ کار اور حربے ایک جیسے ہیں ظالم نہتے مظلوم خواتین بچوں اور بوڑھوں کو نشانہ بناتے ہیں اور نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال کر بدترین تشدد کرتے ہیں، اقوام متحدہ فلسطین سے اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ فوری ختم کرائے،قبلہ اول بیت المقدس کے تحفظ کیلئے مسلم اٴْمہ جہاد کیلئے تیار ہے، فلسطین کی ریاستی زمین پر اسرائیل کا غیر قانونی قبضہ کو اقوام متحدہ عالمی برادری کے منہ پر طمانچہ سمجھتے ہیں، اسرائیل کی فلسطین پر جارحیت اقوام متحدہ کا کردار مشکوک بن گیا، یونائیٹڈ نیشن فورسز کا کام دو ملکوں کے درمیان سرحدوں پر پہنچ کر امن قائم کرنا ہے، اقوام متحدہ بتائے یونائیٹڈ نیشن فورسز کہاں ہے، سلامتی کونسل اور دنیانے فلسطین کو ریاست تسلیم کر لیا ہے، تو پھر ریاست میں ریاست بنانے کی ناجائز سازشوں کو کون روکے گا، نہتے مظلوموں کو بربریت ظلم اور موت کی نیند سلا دیا گیا، اسرائیل نے بمباری کے ذریعے غزہ کو آگ و خون میں دھکیل دیا فلسطین و کشمیر کی آزادی کے بغیر دنیا میں دیر پا امن قائم نہیں ہوسکتا، او آئی سی فلسطین و کشمیر کے مسئلے پر مذمت کی بجائے مظلوموں کو ان کا حق خود داریت دلانے اور انصاف کی بالادستی یقینی بنانے کے لئے عملی طور پر کام کرے،
    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان سنی تحریک کے تحت نکالی گئی عظیم الشان لبیک بیت المقدس و کشمیر ریلی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،
    اس موقع پر مرکزی رابطہ کمیٹی کے فہیم الدین شیخ، محمد مبین قادری، محمد آفتاب قادری، محمد طیب قادری، علامہ محمود قادری و کراچی ڈویڑن کے تنظیمی عہدیداران بھی موجود تھے،
    ثروت اعجاز قادری نے اسلامی ممالک س اپیل کی کہ وہ اسرائیل اور بھارت کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں، انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر میڈیا زنجیر میں جکڑا ہوا ہے، فلسطین و کشمیر کے ظلم پر آواز نہیں اٴْٹھائی جاتی میڈیا جب تک حقائق دنیا کو بتانے کیلئے آزاد نہیں ہوگا، گمراہ کن خبروں سے انتشار ہی جنم لے گا،
    انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنیوانوں نے مظلوموں کے خون کا سودا کیا ہے، ان کا مستقبل تاریک ہے یاد رکھا جائے تاریخ میں وہ ہی زندہ رہتے ہیں، جو حق و سچ اور انصاف پر یقین رکھتے ہیں، انہوں کا مزید کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی رٹ ختم ہوتی نظر آرہی ہے کیونکہ یونائیٹڈ نیشن فورسز کا امن کیلئے کردار ادا نہ کرنا اور اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ عالمی عدالت نہ لے جانا ہے، اقوام متحدہ طاقتور قوتوں کی کٹھ پتلی بن گیا ہے،
    ثروت اعجاز قادری کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور نیویارک میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فلسطین کے حق میں بھرپور آواز اٴْٹھانے پر ہم شاہ محمود قریشی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں فلسطین و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بنے اور مظلوموں پر مظالم ختم کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک مظلوموں کی آواز ہے دنیا کے کسی مذہب میں ظلم و بربریت کی گنجائش نہیں ہے، جو انسانیت کا قتل اور مظالم کرتے ہیں وہ شیطان کے چیلے ہیں، پاکستان ترکی کی فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کیلئے بھرپور کوششوں کو سراہتے ہیں، دنیا میں امن چاہتے ہیں عالمی قوتوں اور اداروں کے حق و انصاف کا پرچم بلند کر کے مظلوموں کو حق خوداریت دینا ہوگا، انہوں نے کہا کہ علمائے کرام مظالم کے خلاف کلمہ حق بلند کریں فلسطین و کشمیر کے مسلمانوں کو ظالموں، غاصبوں سے نجات دلانے کیلئے مسلم حکمران حقیقی کردار ادا کریں۔

  • لبیک یا اقصیٰ ،ْلبیک یاغزہ کے نعروں سے شاہراہ فیصل گونج اٹھی

    لبیک یا اقصیٰ ،ْلبیک یاغزہ کے نعروں سے شاہراہ فیصل گونج اٹھی

    جماعت اسلامی کے تحت شاہراہ فیصل ہونے والا عظیم الشان اور تاریخی ’’فلسطین مارچ ‘‘کراچی کا تاریخی مارچ اور اتحاد امت کا بھرپور مظہر ثابت ہوا مارچ کے لاکھوں شرکاء جن میں مرد وخواتین ،بچے ،بزرگ ،نوجوان سمیت مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شامل تھے نے امریکی و یہودی سازشوں و کوششوں، قبلہ اوّل کی بے حرمتی ،بیت المقدس کے خلاف اور فلسطینی مسلمانوں کی جدو جہد سے بھرپور اظہار ِ یکجہتی کیا۔
    *فضا نعرہ تکبیر اللہ اکبر ،رہبر و رہنماء مصطفیؐ مصطفیٰ ،خاتم النبیاؑ مصطفیٰ ؐ مصطفیٰ ؐ ، لبیک لبیک الھم لبیک ،لبیک یا غزہ ،لبیک یا اقصیٰ کے نعروں سے گونجتی رہی اور شرکاء میں زبردست جوش وخروش دیکھنے میں آیا ۔

    *شاہراہ فیصل پر دونوں اطراف مارچ کے شرکاء موجود تھے ایک ٹریک مردوں کے لیے اور دوسرا ٹریک خواتین کے لیے مختص تھا ۔*سخت گرمی کے باوجود خواتین کے ساتھ چھوٹے اور ننھے منے بچے بھی بڑی تعداد میں شریک تھے ۔

    *لاکھوں شرکاء نے مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ *…فلسطین مارچ میں شاہراہ فیصل پر اہل کراچی جوق در جوق امڈ آئے اور پوری شاہراہ لبیک یا اقصیٰ لبیک یا غزہ کے کتبوں و ماتھے پر بندھی پٹیوں ،فلسطین کے جھنڈو ں مخصوص رومالوں کی بہار کا منظر پیش کررہی تھی۔*مارچ کے شرکاء شہر بھر سے جلوسوں اور ریلیوں کی شکل میں بسوں ،ویگنوں ، سوزوکیوں ،ٹرکوں ،کاروں اور موٹر سائیکلوں پرشاہراہ فیصل پہنچے ۔
    شاہراہ فیصل پر سڑک کے دونوں طرف خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ استقبالیہ کیمپ لگے ہوئے تھے جبکہ الخدمت کراچی کی جانب سے ایک طبی کیمپ اورشاہراہ فیصل پر 3موبائیل ڈسپنسریاں بھی موجود تھیں۔*شرکاء نے ہاتھوں میں جماعت اسلامی اور فلسطین کے جھنڈے اورحماس اور غزہ کے مجاہدین سے اظہار یکجہتی کے لیے مختلف کتبے اٹھارکھے تھے۔*شاہراہ فیصل نرسری بست اسٹاپ پر بالائی گزر گاہ کے اوپر اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں سے قائدین نے خطاب کیا ۔
    *…نرسری مین بس اسٹاپ پر بالائی گزرگاہ پر اسٹیج بنایا گیا تھا جس پر ایک بڑا بینرز لگا ہوا تھا اس پر ’’لبیک یا اقصیٰ ۔القدس کا تحفظ ہمارا ایمان ہے ‘‘’’FREE PALESTINE‘‘تحریر تھا اور دونوں جانب فلسطین کے جھنڈے لگائے گئے تھے جبکہ اسٹیج پر قومی پرچم ،فلسطین کے جھنڈے اور جماعت اسلامی کے جھنڈے بھی لگائے گئے تھے ۔*…مارچ میں شریک نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سرخ رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی جن پر لبیک یا اقصیٰ تحریر تھا اور مسجد اقصیٰ کی تصویر بنی ہوئی تھی اس طرح سیکورٹی پر معمور نوجوانوں نے کالے رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔
    *…مارچ میں ایک گھڑ سوار دستے نے بھی شرکت کی جنہوں نے فلسطینی رومال پہنے ہوئے تھے یہ گھڑ سوار دستہ کلفٹن سے روانہ ہوا تھا اور شاہراہ فیصل پہنچا۔دستے کی آمد پر اسٹی جپر سے ان کا خیر مقدم کیا گیا۔*…مارچ کے شرکاء نے مختلف بینرز ،پلے کارڈز اور کتبے اٹھا رکھے تھے ان پر لبیک یا اقصیٰ لبیک یا غزہ تحریر تھا ۔*…مارچ کا آغاز بلوچ کالونی پل سے ہوا اور شرکاء پیدل مارچ کرتے ہوئے نرسری اسٹاپ پر پہنچے ۔
    *…خواتین ،بچوں اور نوجوانوں سمیت مارچ کے شرکاء نے فلسطینی رومال پہنے ہوئے تھے اور ماتھے پر پٹی باندھی ہوئی تھی جس پر لبیک یا اقصیٰ تحریر تھا ۔*…ساؤنڈ سسٹم کا انتظام کیا تھا ۔مارچ کی کوریج کے لیے قومی وبین الاقوامی پرنٹ والیکٹرانک میڈیا اور نیوز ایجنسیوں کے نمائندے فوٹو گرافر وں اور کمرہ مینوں کی بڑی تعداد اورDSNGگاڑیاں موجود تھیں ،صحافیوں کے لیے پریس گیلری بنائی گئی تھی ۔
    جبکہ سوشل میڈیا کا کیمپ بھی قائم کیا گیا تھا۔*…مارچ کا باقاعدہ آغازقاری منصور کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، انھوں نے سورة بنی اسرائیل کی ابتدائی آیات اور ان کا ترجمہ پیش کیا۔جس کے بعدسلمان طارق نے ہدیہ نعت رسول مقبول ؐ پیش کی اور حذیفہ مجاہد نے ترانہ پڑھاجبکہ نعمان شاہ نے بھی ترانہ پیش کیا۔*…مارچ کے دوران وقفے وقفے سے اسٹیج پر سے پرجوش نعرے لگوائے جاتے رہے اور آزادی فلسطین اور لبیک یا اقصیٰ کے حوالے سے نظمیں اور ترانے پڑھتے جاتے رہے جس پر شرکاء نے فلسطینی پرچم لہرائے تو ایک قابل دیدھ سما بندھ گیا۔
    *سراج الحق کی اسٹیج پر آمد کے موقع پر اسامہ رضی نے پرجوش نعروں سے ان کا استقبال کیا اور شرکاء نے نعروں کا بھرپور جواب دیا ۔*مارچ میں جماعت اسلامی منارٹی ونگ کراچی کے صدر یونس سوہن کی قیادت میں مسیحی برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔*…مارچ کے شرکاء نے بلوچ کالونی پل کے قریب شاہراہ فیصل پر نماز عصر باجماعت ادا کی۔*…مار چ کے دوران فلسطین فنڈ بھی جمع کیا گیا اور فلسطین کی طرف سے ہر ضلع سے مختص افراد کی ذمہ داری لگائی گئی تھی اور ان کو خصوصی باکس فراہم کیے گئے تھے ،شرکاء نے فنڈ میں دل کھول کر نقد عطیات جمع کرائے۔
    *…خواتین کے حصے میں موجود بچیوں نے اسموک فائر کا مظاہرہ بھی کیا۔*…امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور حافظ نعیم الرحمن کی اسٹیج آمد پر ان کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا اور پرجوش نعرے لگائے گئے ۔قائدین نے ہاتھ اٹھاکر شرکاء کے نعروں کا جواب دیا ۔*…سراج الحق ،اسد اللہ بھٹو،ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ،محمد حسین محنتی ،محمد اصغر،ڈاکٹر اسامہ رضی سمیت اسٹیج پر موجود تمام قائدین نے بھی فلسطینی رومال پہنے ہوئے تھے۔
    *…مارچ میں شریک بعض شرکاء فلسطین کا طویل پرچم لے کر شریک ہوئے جب کہ خواتین کے حصے میں بھی ایک طویل فلسطینی پرچم لاگیا تھا۔*…فلسطین فاؤنڈیشن کے صدر صابر ابو مریم نے سراج الحق کو مخصوص فلسطینی رومال پیش کیا۔*…مارچ کے اختتام پر سراج الحق نے بھی لبیک یا اقصیٰ اور لبیک یا غزہ کے پرجوش نعرے لگائے اور فلسطین فنڈ میں دل کھول کر عطیات دینے کی اپیل کی ۔
    *…اسد اللہ بھٹو کی دعا پر مار چ کا اختتام پذیر ہوا ۔*مارچ میں شرکاء کی جانب سے امریکہ واسرائیل کے خلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کیا گیا اور مظلوم اور نہتے فلسطینی مسلمانوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پرجوش نعرے لگائے گئے جن میں یہ نعرے شامل تھے ۔انقلاب انقلاب اسلامی انقلاب ،نعرہ تکبیر اللہ اکبر ،رہبر و رہنما مصطفی مصطفی ، خاتم الانبیاء مصطفی مصطفی ، لبیک لبیک اللھمٰ لبیک ، رب کعبہ رب کعبہ نصرت بھیج رحمت بھیج ،کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ، فلسطین سے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ،تیرا میرا رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ،پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ،اس زندگی کی قیمت کیا لاالہ الا اللہ ،مظلوموں سے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ۔

  • برائلر گوشت کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    برائلر گوشت کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    برائلر مرغی کے گوشت نے مہنگائی کے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں برائلر گوشت 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا- تفصیلات کے مطابق لاہور، کراچی اور فیصل آباد میں برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ تھمنے کو نہیں آ رہا ، گوشت کی فی کلو قیمت میں ایک بار پھر سے مزید اضافہ ہوگیا۔
    تفصیلات کے مطابق برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت مستحکم نہ ہو سکی۔ گوشت کی فی کلو قیمت میں ایک بار پھر سے آٹھ روپے فی کلو اضافہ کے ساتھ برائلر مرغی کا گوشت 600 روپے فی کلو میں فروخت ہونے لگا۔ عید کے بعد سے اب تک گوشت کی قیمتوں میں چونتیس روپے اضافہ ہوچکا ہے جس سے شہری ہی نہیں بلکہ دکاندار بھی پریشان ہو گئے ہیں۔
    دکانداروں کا کہنا ہے کہ گوشت کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کی دکانداری میں بھی فرق آیا ہے کیونکہ صارفین کی طرف سے خریداری کا رجحان کم ہوا ہے۔ جب تک حکومت مداخلت نہیں کرے گی مرغی گوشت کی قیمت میں استحکام نہیں آئے گا۔
    چکن کی قیمتوں میں 90 روز میں 200 روپے فی کلو کا اضافہ ہوا ہے۔ مرغی فروشوں کا کہنا ہے کہ مرغیوں کی پیداوار کم ہونے اور فیڈ مہنگا ہونے کی وجہ سے زیادہ تر پولڑی فارم مالکان نے مرغیوں کی پیداوار کم کر دی ہے جس سے مرغی اور انڈوں کے قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
    مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے حوالے سے مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 19 پولٹری فیڈ کمپنیاں قیمتوں کے تعین کے حوالے سے مبینہ گٹھ جوڑ میں ملوث رہی ہیں اور ان کی مبینہ کمپٹیشن مخالف سرگرمیاں پولٹری فیڈ کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
    مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے مطابق پولٹری فیڈ برائلر گوشت اور انڈوں کی لاگت کا تقریبا 75 سے 80 فیصد ہے۔ لہذا پولٹری فیڈ کی قیمتوں میں اضافے سے مرغی اور انڈوں کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے۔دسمبر 2018 سے دسمبر 2020 کے درمیان فیڈ ملوں نے آپس میں ملی بھگت کر کے پو لٹری فیڈ کی قیمتوں میں اوسطا 836 روپے فی 50 کلوگرام بیگ یعنی 32 فی صد اضافہ کیا۔

  • حکومت کا تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے تاحکم ثانی بند کرنے کا فیصلہ، نوٹیفیکیشن جاری

    حکومت کا تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے تاحکم ثانی بند کرنے کا فیصلہ، نوٹیفیکیشن جاری

    کورونا کیسز میں تشویشناک اضافہ، حکومت کا تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے تاحکم ثانی بند کرنے کا فیصلہ، نوٹیفیکیشن جاری- تفصیلات کے مطابق عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کے باعث سندھ میں تعلیمی ادارے تاحکم ثانی بند رہیں گے۔ سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ صوبے میں تعلیمی ادارے تا حکم ثانی بند رہیں گے۔
    صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق تعلیمی اداروں میں اساتذہ 50 فیصد کی حاضری کے احکامات کے تحت آسکیں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ آن لائن کلاسز کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے ہدایات دی ہیں کہ آن لائن کلاسز کے ساتھ ہوم ورک کے لیے ای میل اور واٹس ایپ سے تعلیمی عمل جاری رکھا جائے۔
    سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے واضح طور پر کہا ہے کہ تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے جاری کردہ سلیبس کے تحت اپنا کورس مکمل کرائیں۔

    ہم نیوز کے مطابق سندھ کے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل معطل کرنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں تدریسی عمل کورونا کی صورتحال کے باعث آئندہ احکامات تک معطل رہے گا لیکن آن لائن کلاسز کا عمل جاری رہے گا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق تدریسی عملہ 50 فیصد کی حاضری کے احکامات کے تحت آسکے گا۔
    حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ آن لائن کلاسز کے ساتھ ہوم ورک کے لیے ای میل اور واٹس ایپ سے تعلیمی عمل جاری رکھا جائے۔ اسی طرح ترجمان وفاقی وزارت تعلیم کے مطابق وفاقی حکومت نے ٹیچرز کی فوری ویکسی نیشن کا فیصلہ کرلیا ہے، ٹیچرز کی فوری ویکسی نیشن کا فیصلہ این سی اوسی کی مشاورت سے کیا گیا، ٹیچرز کی فوری ویکسی نیشن کا فیصلہ تعلیمی تعطل ختم کرنے اور تعلیمی نقصان کم کرنے کیلئے کیا گیا، تعلیمی شعبے میں تدریسی اور دوسرے عملے کی ویکسی نیشن میں وفاقی حکومت مدد کرے گی،اسی طرح بورڈ امتحانات سے قبل نگران عملے کی ویکسی نیشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
    ویکسی نیشن مکمل کرنے کیلئے صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو بھی خطوط ارسال کردیے گئے ہیں کہ 5جون سے قبل ویکسی نیشن مکمل کی جائے تاکہ 7جون سے سکولوں کو کھولاجاسکے۔

  • کےالیکٹرک کا کراچی میں مکمل بجلی بحالی کا اعلان

    کےالیکٹرک کا کراچی میں مکمل بجلی بحالی کا اعلان

    کےالیکٹرک نے اعلان کیا ہے کہ کراچی کے تمام رہائشی و کمرشل فیڈرز سے بجلی کی فراہمی بحال ہوچکی ہے۔

    ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق شاہ فیصل، لیاری، ملیر اور نارتھ کراچی سمیت شہر بھر میں بجلی کی بحالی کا کام مکمل ہوچکا ہے۔

    ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق طارق روڈ، جوہر چورنگی، لانڈھی اور کورنگی میں بھی بجلی بحال کردی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ روز بجلی کا بہت بڑا بریک ڈاؤن ہوا تھا، ہفتے کو دوپہر 12 بجے پورے شہر کی بجلی غائب ہوگئی۔

    3 بجے کے بعد بجلی کی بحالی کا کام شروع ہوا، رات گئے بھی کئی علاقوں کو بجلی کی فراہمی شروع نہ ہوسکی تھی۔

    کے الیکٹرک نے اس حوالے سے کہا تھاکہ شہر کو بجلی فراہم کرنے والی این کے آئی بلدیہ 1 اور 2 ٹرانسمیشن لائن میں ٹرپنگ سے فراہمی متاثر ہوئی، ترسیلی نظام فعال رہا۔

    تفصیلات کے مطابق ہفتے کو دوپہر ڈیڑھ بجے شہر کے بیشتر حصے میں اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی جس سے ضلع وسطی، غربی اور ملیر کے علاقے زیادہ متاثر ہوئے۔

    شدید گرم موسم میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے شہری بلبلا اٹھےاور انہیں روز مرہ امور کی انجام دہی میں سخت مشکلات کا سامنا رہا۔

  • سندھ حکومت امن امان کی بجاء ڈاکوؤں کی سرپرستی میں مصروف ہے

    سندھ حکومت امن امان کی بجاء ڈاکوؤں کی سرپرستی میں مصروف ہے

    اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا شکارپور میں 3 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار.

    ایس ایچ او سمیت 4 اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس نہایت افسوس ہے۔ پولیس اہلکاروں نے امن کے خاطر جانوں کا نذرانہ دیا، پی پی آء جی سندھ کے لیے یہ واقعہ شرمناک ہے، آء جی سندھ کے ہوم ٹاؤن میں واقعہ پولیس چیف کے لیے شرم کا مقام ہے۔

    سکھر ریجن سندھ حکومت نے ڈاکوؤں کو ٹھیکے میں دے دیا ہے، ڈاکو سرعام حکومتی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں، سندھ حکومت امن امان کی بجاء ڈاکوؤں کی سرپرستی میں مصروف ہے۔

    سکھر ریجن کے کچے میں فوری رینجرز اور فوج طلب کی جائے، شہید اہلکاروں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں.

  • سمیر میر شیخ کا کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کا مطالبہ

    سمیر میر شیخ کا کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کا مطالبہ

    وزیر اعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس پر پی ٹی آئی رہنماء و معروف کاروباری شخصیت سمیر میر شیخ کا ردعمل۔

    وزیر اعلیٰ کی 6بجے کاروبار بند کرنے کی منطق ناقابلِ سمجھ ہے۔شہر میں وباء کی وجہ سے پہلے ہی کاروباری طبقہ شدید متاثر ہوگیا ہے۔

    سمیر میر شیخ نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں سندھ حکومت کے ڈراموں سے بخوبی واقف ہیں۔

    شہر کے کاروبار میں بندشیں ڈال کر معیشت کو نقصان پہنچانے کی سازش کی جارہی ہے۔پی پی ویسے ہی معیشت کی اچھی خبروں سے غم زدہ ہے۔عید اور رمضان میں حکومت کے ایس او پیز کیلئے انتظامات کے چرچے سارے جہاں میں مشہور ہیں۔

    سندھ حکومت کاروباری طبقے کو بغض عمران خان کی وجہ سے پریشان کررہی ہے سندھ حکومت سے کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

  • اگلے دو ہفتے صوبے میں ایس او پیز سخت کریں گے،وزیر اعلیٰ سندھ

    اگلے دو ہفتے صوبے میں ایس او پیز سخت کریں گے،وزیر اعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگلے دو ہفتے صوبے میں ایس او پیز سخت کریں گے عید کے بعد کورونا کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھا ہے جس کی وجہ سے کئی اسپتالوں میں جگہ ختم ہوگئی ہے۔کراچی میں وزیرصحت ڈاکٹر عزراپیچوہو اور سندھ کورونا ٹاسک فورس کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ کورونا کے باعث صورت حال تشویش ناک ہے، اس وقت کئی اسپتالوں میں جگہ ختم ہوگئی ہے،سندھ حکومت نے کورونا پر ٹاسک فورس بنائی تھی۔
    اس پر میٹنگز کرتے رہے ہیں پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران کورونا بڑھا تو ہفتے میں دو سے تین میٹنگز کیں۔رمضان میں کیسز بڑھ رہے تھے پچھلے سال کا تجربہ تھا پچھلے سال عید پر کیسز میں بہت اضافہ ہوا تھا،ہمارے مثبت کیسز ایک ہفتے میں 8 فیصد تک ہے سندھ میں کراچی ڈویڑن میں 13.60 فیصد تناسب ہے کورونا کیسز کی 31 مارچ کو سندھ میں کیسز کم تھے سندھ ٹاسک فورس نے ہی کہا تھا کے لاک ڈائون بڑھایا جائے ٹرانسپورٹ پر پابندی لگے لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی۔
    انہوں نے کہا کہ اس وقت کچھ کھولنے کی بات نہیں کرتے ، بازار 8 کے بجائے اب 6 بجے بند ہوجائیں گی، ہوٹلوں پر ڈائن ان اور ڈائن آوٹ بند رہے گی تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلوری کھلی رہے گی۔ ٹیک اوے پر عمل نہیں ہوگا تو دکان کے خلاف ایکشن ہوگا، تمام لوگ ایس او پیز عمل کریں۔ سندھ میں اگلے دو ہفتے میں مزید سخت ایس او پیز لاگو کر رہے ہیں، اسکولز ،کالجز یونیورسٹیز سمیت تمام تعلیمی ادارے دو ہفتوں تک بند رہیں گے۔
    ٹرانسپورٹ میں بھی سختی کے ساتھ ایس اوپیز فالو کرایاجائے گا لوگوں سے درخواست ہے کہ ایس او پیز کوفالو کریں کوروناسے احتیاط برتیں۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ مکس سگنل پر وفاقی وزیر سے بات ہوئی اور ان سے شکایت بھی کی ایس او پیز پر عمل درآمد ہو، اور کیسز کم ہوں تو کاروبار کھولنے کی بات کی جائے ،انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی ہے ہر علاقے میں وزیر اور دیگر کی ڈیوٹی لگا رہے ہیں وہ علاقے میں ایس او پیز کو چیک کریں گے پوری کوشش کر رہے ہیں لوگوں کو تکلیف نا پہنچے ایس او پیز پر عمل درآمد کریں گے تو بہتری کی طرف جا سکتے ہیں، ایس او پیز بناتے وقت ماہر افراد سے مشورہ لیا جاتا ہے چاہتے ہیں کسی ڈنڈے کی ضرورت نا پڑے، عوام خود احتیاط کریں کوئی سخت فیصلے لینے نہیں پڑیں ،وزیر صحت عزرا پیچوہو نے کہا کہ موبائل سینٹرز بھی کھولنے جا رہے ہیں مجبوری کے تحت ویکسین لگوانے نہیں جا سکتے عملہ پھر گھر آکر ویکسین لگائے گا گائوں میں بھی ویکسین لگانے کا منصوبہ تیار ہے موبائل یونٹس کے زریعے اگلے ہفتے مزید ویکسین آئین گی تو یہ کام شروع کیا جائے گااس موقع پر کورونا ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ جتنی بھی ایس او پیز ہیں لوگ اسکو بائی پاس کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں عوام احتیاط کریں لوگ شٹر ڈائون کرکے کام کرتے ہیں کیسز بڑھتے جا رہے ہیں یہ ہلکی بیماری نہیں عوام ویکسین لگوائیں ایکسٹرا زینیکا لگوانے پر لوگ پوچھتے ہیں میگنٹ والی ویڈیو وائرل ہوئی ہے ایسی کوئی بات نہیں چپ والی بات سچ نہیں فون میں کتنی چپس ہیں اس پر میگنٹ نہیں چپکتا،جبکہ ڈاکٹر باری کا کہنا تھا کہ یو کے وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے پورا پورا گھر انفیکٹ ہوجاتا ہے گھروں پر بہت دعوتیں ہوئی ہیں 50,50 لوگ انفیکٹ ہوئے اب وہ لوگ پچھتا رہے ہیں، اس موقع پر ڈاکٹر قیصر نے کہا کہ درخواست ہے عوام سے بیماری کا علاج دو طرح سے کریں ایس او پیز پر عمل کریں اور ویکسین لگوائیں سندھ حکومت سے درخواست ہے ویکسینیشن سینٹر مزید بڑھائیں سندھ حکومت کی اس حوالے کارکردگی بہت اچھی ہے ۔

  • کراچی شہر کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ایک منظم سازش محسوس ہورہی ہے،سلیم قادری

    کراچی شہر کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ایک منظم سازش محسوس ہورہی ہے،سلیم قادری

    اہلسنّت حنفی بریلوی مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے اکابرین اورمیلادشریف کا اہتمام کرنے والی نمائندہ تنظیمات وشخصیات پر مشتمل مرکزی میلادالائنس پاکستان کے بانی وچیف آرگنائزر،مرکزی انجمن سیرت النبی ﷺ گلبہارکے تاحیات چیئرمین اور ممتازقومی وسماجی رہنمامحمدسلیم خاں قادری ترابی نے کہاہے کہ کراچی شہر کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ایک منظم سازش محسوس ہورہی ہے،کم ازکم K الیکٹرک اس سازش کا بڑاحصہ اداکررہی ہے۔
    وہ مرکزی میلادالائنس کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کررہے تھے،جس کی صدارت جمعیت علمائے پاکستان کے رہنمافقیر ملک محمدشکیل قاسمی نے کی۔جبکہ غوثیہ مسجد گلبہار کے ٹرسٹی رکن ناصرحسین خاں، بزم غلامان مصطفیٰ ﷺ کے صدر صاحبزادہ محمدصادق قریشی، انجمن نوجوانان اسلام سندھ کے جنرل سیکریٹری عبدالوحید یونس ودیگر نے خصوصی شرکت کی۔
    محمدسلیم خاں قادری ترابی نے کہاکہ مسائل کے حل کے لئے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے ،Kالیکٹرک کے بل دیکھ کر غریبوں کی چینخیں نکل رہی ہیں مگر ارباب حل وعقد کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی،Kالیکٹرک کے ذمہ داران جان بوجھ کر لوڈشیڈنگ میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں،پانی کی کمی کے ڈرامے رچائے جارہے ہیں، ندی نالوں کی صفائی سے گریزاں واٹربورڈ کے ذمہ داران گلی کوچوں میں ابلتے گٹر، بہتے ہوئے گندے پانی پر کسی کی توجہ نہیں ،کچرے کے ڈھیر اور شدید گرمیوں میں مچھروں مکھیوں کی بھرمار نے لوگوں کاجینامحال کردیاہے، روزمرہ کی کھانے پینے اور استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربامہنگائی پر شرمندگی کا اظہار کرنے کے بجائے حکمران ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرکے عوام کو ذہنی مریض بنانے کا عمل کررہے ہیں۔

    محمدسلیم خاں قادری ترابی نے کہاکہ عوام کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ کون کیاکررہاہے وہ صرف اپنے حقوق چاہتے ہیں۔مرکزی میلادالائنس پاکستان عوام اہلسنّت حنفی بریلوی کے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد پر یقین رکھتاہے مگر افسوس ہے کہ ہمیں شہر کراچی کے تمام عوام کو ایک ساتھ لے کر عوامی تحریک میں بدلنے پر مجبورکیاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر سراپااحتجاج ہوئے تو پھر انہیں سنبھالنامشکل مشکل ہوگااس لئے حکمرانوں کو ہوش میں آجاناچاہئے اور عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہئے ،کراچی پورے پاکستان کا دل ہے۔
    مرکزی میلادالائنس پاکستان کے ذمہ داران کراچی کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر پاکستان اور کراچی کی سالمیت ،استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا عزم رکھتے ہیں۔