پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان انصاف ہاؤس میں میڈیا سےگفتگو کی.جنرل سیکرٹری کراچی سعید آفریدی،نائب صدرکیپٹن رضوان ،اراکین اسمبلی شہزاد قریشی، ڈاکٹر عمران شاہ،ڈاکٹر سیما ضیاء موجود تھے۔ سندھ حکومت صوبے میں کام کرے یا نہیں ہماری زمہ داری ہے اسے اجاگر کریں اس پر آواز اٹھائیں سندھ حکومت کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہوچکی ہے اطلاعات ہیں کہ بلیک فنگس جیسے وائرس بھی بڑھ رہے ہیں۔ کل کلفٹن کے پارک میں عوام کا میلا لگا ہوا تھا۔پارک میں بچے اور عوام کو ہجوم تھا۔
پی ٹی آئی خرم شیر زمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ایک طرف کاروباری سرگرمیاں بند تھیں جس سے کاروبار متاثر ہوا بلاول ہاؤس کے سامنے پارک میں رش سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔دن دہاڑے ڈکیت گھروں میں گھس رہے ہیں۔فور ویلرز سگنل پر موجود ہوتے ہیں ۔پچھلے 6 ماہ میں وارداتوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، اس ماہ 88 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اندرون سندھ میں ڈکیت پولیس کو دھمکا رہے ہیں ۔اغواءکار مغویوں کی ویڈیوز بناکر جاری کررہے ہیں۔ماہ رمضان میں کاروباری حضرات کو بھتے کی پرچیاں بھی دی گئیں۔خرم شیر زمان نے کہا وزیر اعلیٰ سندھ میں امن و امان قائم رکھنے میں ناکام ہوگئے ہیں کرائم پوری دنیا میں ہوتا ہے لیکن کراچی کا کرائم ریٹ اپنی حد پار کرچکے ہیں آئی جی وزیر اعلیٰ کی خواہش پر لگایا گیا۔آئی جی منظر عام پر کیوں نہیں ہیں۔آئی جی نے سندھ میں کرائم کی وارداتوں پر کتنے اجلاس کیے ؟ میرا سوال ہے وفاقی حکومت نے 14 سال انہیں فنڈز دیے وفاقی فنڈز کا کہاں استعمال کیا ہمیں بتایا جائے بحیثیت وزیر اعلیٰ آپ نے کیا اقدامات کئے۔وزیر اعلیٰ چاہیں تو اپنے دفتر میں ہمیں تفصیلات سے آگاہ کرسکتے ہیں سیف سیٹی پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے اگر ہمیں نہیں بتاتا گیا تو مجبوراً ہمیں شہریوں کی خاطر سڑکوں پر احتجاج کرنا ہوگا۔
Category: کراچی
-

کراچی کا کرائم ریٹ اپنی حد پار کرچکا ہے،خرم شیر زمان
-

طوفان سے 2 دن قبل وزیر اعلی کی پھرتیاں نالائقی کی اعلی مثال ہے،جمال صدیقی
طوفانی بارشوں سے متعلق وزیر اعلیٰ سندھ کے اقدامات کے حوالے سے ترجمان پی ٹی آئی کراچی جمال صدیقی کا ردعمل. جمال صدیقی کا کہنا ہے طوفان سے 2 دن قبل وزیر اعلی کی پھرتیاں نالائقی کی اعلی مثال ہے، عید کی چھٹیوں میں مصروف افسروں کو شاہی حکم دے کر وزیر اعلی نے اپنا ضمیر مطمئین کیا ہے،طوفان اور باش کی پیشگی اطلاع کے باوجود اقدامات نہ کرنا سندھ حکومت کا ہی وطیرہ ہو سکتا ہے، سی ایم صاحب سندھ کے ڈی سی اتنے لائق نہیں کہ آپکے ایک حکم پر عوام کو بچا سکیں، آفات کے مواقعے وزراء کی روائتی سستی اور ذرائع آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں،سندھ کے نالائق حکمران اگر صوبے کی عوام سے مخلص ہوتے تو آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا، سندھ خصوصا” کراچی میں لاک ڈاون ایس او پی کی بدترین خلاف ورزیاں سندھ حکومت کی کاکردگی کو عیاں کرتی ہے۔ آج NCOC کے اقدامات کے سبب کرونا کیسز میں 50 فیصد کمی پر وفاق کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
-

پاکستان کے دو بڑے شہر دنیا کے 20 آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل
لندن : پاکستان کے دو بڑے شہر دنیا کے 20 آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں آگئے ہیں-
باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق دنیا میں فضائی آلودگی، آب و ہوا کی تبدیلی، شدید گرمی کی لہر، پانی کی قلت سمیت دیگر ماحولیاتی خطروں کا بڑے پیمانے پر سامنا کرنے والے 100 بڑے شہروں میں سے 99 جنوبی ایشیائی خطے میں واقع ہیں آلودہ ترین شہروں کی زیادہ تعداد بھارت اور چین میں ہے –
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 400 سے زیادہ ایسے شہر موجود ہیں، جو فضائی اور زمینی آلودگی اور اس سے منسلک مسائل کے اس دائرے میں آتے ہیں جنہیں ماہرین ”انتہائی خطرناک“ قرار دیتے ہیں ان شہروں کی مجموعی آبادی ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ ہے یعنی دنیا کی ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی ایک ایسے خطرے کا سامنا کر رہی ہے جو ان کی زندگیاں نگلنے اور اوسط عمر میں کمی کا سبب بن سکتا ہے-
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطرے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ہوا کی آلودگی دنیا بھر میں ہر سال 70 لاکھ سے زیادہ افراد کی قبل از وقت اموات کا سبب بنتی ہے-
مذکورہ فہرست میں سب سے اوپر انڈونیشیا کے شہر جکارتہ کا نام ہے یہ گنجان آباد شہر بڑے پیمانے پر فضائی آلودگی، شدید گرمی کی لہروں اور سیلابوں کا مسلسل نشانہ بنا ہوا ہے اس فہرست میں شامل پہلے دس شہروں میں انڈونیشیا کے دو اور شہر بھی ہیں جن میں ”سروبایا “چوتھے جب کہ ”بانڈانگ“ آٹھویں نمبر پر ہے –
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھی اس خطرے کا اتنا ہی سامنا ہے جتنا کہ انڈونیشیا کو اس کے دو سب سے بڑے شہر 100 ملکوں کی آلودگی کی عالمی فہرست میں اونچے درجوں پر ہیں ان میں کراچی 12 ویں جب کہ لاہور 15 ویں نمبر پر ہے آلودگی اور دیگر ماحولیاتی خطرات کی شدید زد میں آنے والے پہلے 20 شہروں میں سے 13 کا تعلق بھارت سے ہے-
اس رپورٹ کے مرکزی مصنف ول نکولس نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ دنیا کے 576 بڑے شہروں کی فہرست میں بھارت کے جو 13 شہر شامل ہیں ان میں دہلی دوسرے نمبر پر ہے اس کے بعد چنائی ہے جو عالمی فہرست میں تیسرے درجے پر ہے اس کے بعد آگرہ چھٹے، کانپور بارہویں، جے پور بائیسویں اور لکھنو چوبیسویں نمبر پر ہے –
جبکہ سوا کروڑ آبادی کا شہر کلکتہ اس عالمی فہرست میں 27ویں درجے پر ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان آلودہ شہروں کی 33 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ آبادی کو آلودگی سے شدید خطرہ ہے، جن میں سے 28 کروڑ 60 لاکھ کے لگ بھگ افراد چین اور بھارت میں رہتے ہیں ایشیا سے باہر جن ملکوں کو فضائی اور زمینی آلودگی سے خطرہ ہے وہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں واقع ہیں ان ملکوں میں صرف ایک شہر ایسا ہے جو آلودگی سے شدید متاثرہ 100 شہروں کی عالمی فہرست میں آتا ہے اور وہ ہے لیما-
اپنی رپورٹ کی وضاحت کرتے ہوئے نکولس کا کہنا ہے کہ دنیا کی تقریباً نصف آبادی کا مسکن ایشیا ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ دو ملکوں چین اور بھارت میں رہتا ہے یہ خطہ دنیا بھر کے لیے دولت پیدا کر رہا ہے اور اس کی معاشی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہو رہا ہے مگر ترقی کے نتیجے میں ان کے شہروں پر آبادی کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے آلودگی اور شہری وسائل پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور انسانی صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں-
ان دونوں ملکوں میں توانائی کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر کوئلہ جلایا جاتا ہے جس سے پیدا ہونے والا دھواں، زہریلی گیسیں اور دیگر مضر صحت ذرات ہوا کو آلودہ کر رہے ہیں-
نکولس کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین اور بھارت دونوں کے لیے آلودگی ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن بھارت کے لیے اس مسئلے کی سنگینی چین کی نسبت کہیں زیادہ ہے –
چین میں درمیانہ طبقے اور اس کی آمدنیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ان میں اپنے مسائل کے حل کے لیے حکومت پر دباﺅڈالنے کی طاقت اور شعور زیادہ ہے اور حکومت بھی زیادہ با اختیار ہے یہی وجہ ہے کہ چین میں کوئلے سے چلنے والے کارخانوں کو بند کیا جا رہا ہے اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں جب کہ بھارت میں یہ صورت حال نہیں ہے-
نکولسکا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں چین میں آلودگی کی سطح میں کمی آ سکتی ہے جب کہ بھارت کو عرصے تک اس مسئلے کا سامنا رہے گا .
-

بحیرہ عرب میں طوفان،وزیر اعلیٰ سندھ کی ایمرجنسی پلان بنانے کی ہدایت
بحیرہ عرب میں بننے والے طوفان کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایمرجنسی پلان ٹیم بنانے اور کنٹرول رومز قائم کرنے کے احکامات جاری کردیے۔تفصیلات کے مطابق ممکنہ سمندری طوفان کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ایک ویدر سسٹم بحیرہ عرب کے جنوب میں بن رہا ہے، سائیکلون کو توکتے کا نام دیا گیا ہے۔ڈائریکٹر نے بتایا کہ سائیکلون کے 3 طرح کے اثرات ہوتے ہیں، طوفانی بارشیں یا تھنڈر اسٹورم ہو سکتا ہے، دیکھنا ہے کہ سائیکلون کی رفتار کیا بنتی ہے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ کے علاقوں ٹھٹھہ، بدین ،میرپور خاص، عمر کوٹ، تھر پارکر اور سانگھڑ میں بارش متوقع ہے۔ ٹھٹھہ اور دیگر اضلاع میں طوفانی بارشیں ہو سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں 17 سے 20 مئی تک کراچی، حب، لسبیلہ، حیدر آباد اور جامشورو میں بارش متوقع ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کو شہر سے بل بورڈ ہٹانے کی ہدایت کی جبکہ ایمرجنسی پلان ٹیم بنانے کے احکامات بھی دے دیے۔ انہوں نے کہا کہ میٹ آفس، پی ڈی ایم اے کی مشاورت سے ایمرجنسی پلان بنا کر اقدمات کرے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر طوفان گجرات کو ہٹ کرتا ہے تو تھر میں شدید بارشیں ہوں گی، اس حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں کمشنر کراچی، کے ایم سی اور ڈی ایم سی کو نالوں کے چوکنگ پوائنٹس کلیئر کرنے کی بھی ہدایت کردی گئی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماہی گیر کل سے سمندر میں نہ جائیں۔ انہوں نے چیف سیکریٹری کو کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کنٹرول روم میں ہی ایس 19 کے افسر کو سربراہ بنایا جائے۔تمام متعلقہ ڈی سیز کو اپنے دفاتر میں کنٹرول روم قائم کرنے، محکمہ آب پاشی کو بیراجوں پر کنٹرول روم قائم کرنے اور صوبائی وزرا ناصر شاہ اور فراز ڈیرو کو کراچی میں رہنے کی ہدایت کردی گئی۔ -

وزیر اعلیٰ سندھ نے سمندری طوفان کے پیشِ نظر ایمرجنسی پلان ٹیم بنانے کے احکامات جاری کر دیئے
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سمندری طوفان تاؤتے کے خدشے کے پیشِ نظر ایڈ منسٹریٹر کراچی کوحفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایات دے دیں-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سمندری طوفان تاؤتے کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کراچی میں انتظامی اجلاس ہوا جس میں ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے بریفنگ دی۔
اجلاس میں سندھ حکومت کے ترجمان، مشیرِ قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، کمشنر کراچی نوید احمد شیخ، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ و دیگر نے بھی شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس کے دوران سمندری طوفان کے پیشِ نظر ایمرجنسی پلان ٹیم بنانے کے احکامات دے دیئے اور کہا کہ میٹ آفس اور پی ڈی ایم اےکی مشاورت سےایمرجنسی پلان بناکراقدامات کرنےہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سائیکلون گجرات کو ہٹ کرتا ہے تو تھر میں شدید بارشیں ہوں گی، ڈی سی تھر ضروری اقدامات کریں۔
انہوں نے ہدایات دیں کہ نالوں کے چوکنگ پوائنٹس کلیئر کرنا شروع کریں، ماہی گیر کل سے سمندر میں نہ جائیں۔
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری کو کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کنٹرول روم میں بی ایس 19 کے افسر کو ہیڈ بنایا جائے۔
انہوں نے تمام متعلقہ ڈی سیز کو بھی اپنے دفاتر میں جبکہ محکمہ آب پاشی کو بیراجوں پر کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کر دی۔
وزیراعلیٰ نے ایڈ منسٹریٹر کراچی کو شہر سے بل بورڈ ہٹانے کی ہدایت کی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کراچی میں تمام کنٹونمنٹ بورڈز کو اپنے ایریاز میں انتظامات کرنے جبکہ صوبائی وزراء ناصر شاہ اور فراز ڈیرو کو کراچی میں رہنے کی ہدایت بھی کی۔
بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباﺅ طوفان ”تاوتے“ کی شکل اختیار کر گیا
-

بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباﺅ طوفان ”تاوتے“ کی شکل اختیار کر گیا
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی کے جنوب مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ڈپریشن سمندری طوفان تاؤتے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مشرقی بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباﺅ طوفان میں تبدیل ہوگیا جس کے باعث کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بارش کا امکان ہے.
محکمہ موسمیات کی جانب سے سمندری طوفان سے متعلق جاری چوتھے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوب مشرقی بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباﺅ طوفان ”تاوتے“ کی شکل اختیار کر گیا ہے، جو اس وقت کراچی سے ایک ہزار 460 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے.
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 70 سے 80 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، جبکہ ہواؤں کی رفتار بڑھ کر 100 کلو میٹر تک بھی جا رہی ہے بیان کے مطابق آئندہ 12 سے 18 گھنٹے میں طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے-
محکمہ موسمیات کی جانب سے سمندر میں موجودہ صورتحال اور سسٹم کے اثرات کے باعث کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے الرٹ میں کہا گیا کہ سسٹم کے باعث 17 سے 20 مئی کے دوران ٹھٹہ، بدین، تھرپارکر، میرپورخاص، عمرکورٹ اور سانگھڑ میں بادل برس سکتے اور یہاں 70 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں-
اسی طرح 18 سے 20 مئی کے درمیان کراچی، حیدرآباد، جامشورو، شہید بےنظیرآباد، سکھر، لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد اور دادو میں بادل برسنے کا امکان ہے جہاں 40 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں گی محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ 16 سے 20 مئی تک ماہی گیر گہرے سمندر میں جانے سے گریز کریں.
محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ سمندری طوفان کا رخ شمال اور شمال مغرب میں بھارتی گجرات کی جانب رہے گا،یہ طوفان 18 مئی تک بھارتی گجرات تک پہنچ جائے گا۔
اس سمندری طوفان کے نتیجے میں بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں اور پاکستانی سمندر کے قریب مشرق کی جانب ساحلی علاقوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر یہ سمندری طوفان شدت پکڑ گیا تو یہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران پاک بھارت ساحلی پٹی سے ٹکرانے والا طاقت ور ترین طوفان ہو گا تاہم ابھی تک کے اندازوں کے مطابق سمندری طوفان آبادی والے ساحلی علاقوں سے دور رہے گا لیکن مہاراشٹرا کا ساحلی شہر ممبئی اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔
-

سندھ بھر کے تمام تعلیمی ادارے 23 مئی تک تدریسی عمل کے لئے بند رہیں گے،سعید غنی
سندھ بھر کے تمام تعلیمی ادارے 23 مئی تک تدریسی عمل کے لئے بند رہیں گے،سعید غنی
وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ بھر کے تمام تعلیمی ادارے 23 مئی تک تدریسی عمل کے لئے بند رہیں گے۔
موجودہ کرونا صورتحال کے پیش نظر تدریسی نظام کو 17 مئی سے 23 مئی تک معطل کیا جارہا ہے۔ اس دوران تعلیمی ادارے کھلیں رہیں گے اور بچوں کو آن لائن کلاسز، واٹس اپ، ای میل سمیت دیگر ذرائع سے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
تعلیمی ادارے کے سربراہ پرنسپل یا ہیڈ ماسٹر کچھ اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کو بلا سکیں گے۔ تعلیمی سلیبس کے حوالے سے جو گائیڈ لائنز نومبر 2020 کو جاری کی گئی ہیں اس پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ -

دیسی راکٹوں نے دنیاء کا جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم ناکارہ بنا دیا
“دیسی راکٹوں نے دنیاء کا جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم ناکارہ بنا دیا”

آئرن ڈوم اسرائیل کا ائیر ڈیفنس سسٹم دنیاء کا جدید ترین فضائی دفاعی نظام ہے
دنیاء میں محض چھ ممالک کے پاس ائیر ڈیفنس سسٹم موجود ہے.ان ممالک میں روس، امریکا، چائینہ، فرانس ، اسرائیل اور انڈیا شامل ہیں.اسرائیل کا آئرن ڈوم سب سے سمارٹ فضائی ڈیفنس شمار کیا جاتا ہے
آئرن ڈوم تین حصوں پر مشتمل ہے، اور ان تین حصوں کو ملا کر ایک بیٹری کہا جاتا ہے۔بیٹری کا پہلا حصہ RDU یعنی ریڈار ڈیٹیکٹشن یونٹ ہے جو کوئی بھی موونگ آبجیکٹ، مزائل یا راکٹ اسرائیل کی حدود میں داخل ہونے سے کئی کلومیٹر پہلے ہی ڈیٹکٹ کر کے سسٹم کو اسکی نشاندہی کر دیتا ہے.دوسرا حصہ BMC یعنی بیٹل مینجمنٹ اینڈ کنٹرول یونٹ ہے یہ یونٹ آنے والے ممکنا خطرے سے نمٹنے کی سٹریٹجی بناتا ہے اور فوری طور پر سگنلز جرنیٹ کرکے تمام یونٹس کو مطلعہ کردیتا ہے.تیسرا حصہ MFU یعنی مزائل فائرنگ یونٹ ہے جو سگنلز ملتے ہی مزائل فائر کرتا ہے اور یہ میزائل آرٹیفشل انٹیلی جنس کے ذریع اسرائیل کی جانب آنے والے مزائل یا راکٹس کا تعقب کرکے اسے اسرائیل کی فضائی حدود سے باہر ہی تباہ کردیتا ہے
اس جدید ترین اور خودکار ڈیفنس سسٹم کی ایک بیٹری یونٹ پر لگ بھگ پچاس ملین ڈالر لاگت آتی ہے۔
آئرن ڈوم میں استعمال ہونے والے مزائل ہِیٹ اور موشن ڈیٹیکٹر سنسرز کے ساتھ ساتھ میٹل ڈیٹیکٹرز اور فضاء میں اپنا رُخ تبدیل کرنے کی صلاحیت کے حامل جدید ترین خودکار مزائل ہیں.اس ایک مزائل کی قیمت 40 سے60 ہزار امریکی ڈالر ہے. اسرائیل نے ایسی دس بیٹریز ڈپلائے کر رکھی ہیں۔ جس کے بعد اسرائیل کا ائیر ڈیفنس ناقابل تسخیر ہوجاتا ہے.اسرائیل نے یکم فروری 2021 کو اپنے موسٹ اپڈیٹڈ آئرن ڈوم کے کامیاب تجربات کئے جس کا واضح طور پر مطلب یہی ہے کہ اسرائیل موجودہ صورتحال کو پہلے سے پلان کرچکا تھا۔
مگر اس سب کے برعکس حماس کے پاس دیسی ساختہ راکٹس ہیں جو کہ انتہائی محدود رینج تک مارک کرسکتے ہیں یہ راکٹ مقامی سطح پر خفیہ ورکشاپس میں لوہے کی پائپ کاٹ کر تیار کئے جاتے ہیں جن کا ماڈل کم از کم بھی پنتالیس سال پرانا ہے.مگر گزشتہ رات حماس کے ان دیسی راکٹوں نے دنیاء کا جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم کو ناکارہ بنادیا۔
حماس نے آئرن ڈوم کو توڑنے کے لئے بہت سادہ سی تیکنک استعمال کی، حماس نے ایک ساتھ سینکڑوں مزائیل مختلف ڈائریکشنز میں فائر کر دیئے.جس سے آئرن ڈوم کی آرٹیفشل انٹیلی جنس بریج ہوگئی اور تیرہ کے قریب مزائل آئرن ڈوم کو ڈاج کر کے اسرئیلی شہروں میں جاگرے.ان راکٹوں نے اسرئیل میں تباہی مچادی جس کے بعد پوری دنیاء میں آئرن ڈوم موضوع بحث بن گیاحماس کے اس کامیاب حملے نے تمام عالمی طاقتوں کے دفاعی نظام پر سوالیا نشان کھڑے کردیۓ -

حلیم عادل شیخ کا صوبے میں کورونا کی صورتحال پر بیان
قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا صوبے میں کورونا کی صورتحال پر بیان سندھ کے دیہاتوں اور چھوٹے شہروں میں کورونا کا تیزی سے بڑھنا تشویشناک صورتحال ہے، سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کے نام پر پولیس سے مل کر بھتہ وصول کیا، مگر عوام کو نہیں روک سکے، جو بات سندھ حکومت کے مفاد میں ہوتی ہے اسے NCOC کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے،باقی سندھ میں تفریحی مقامات سے لیکر عید کی شاپنگ کا سلسلہ عروج پر رہا، سندھ کے دیگر شہروں میں کورونا کے حوالے سے کوئی سہولیات سینٹر تک موجود نہیں ہیں،کورونا ویکسین من پسند افراد کو لگاکر وباء میں بھی آئندہ الیکشن کا سوچا جارہا ہے.
-

این سی او سی کی پالیسیاں قابل تعریف ہیں، پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفار
پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفارکا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کورونا کیسز میں نمایاں کمی آئ ہے۔ این سی او سی کی پالیسیاں قابل تعریف ہیں، وفاقی حکومت کا عید پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا، لاک ڈاؤن کے نتیجے میں کرونا وائرس سے اموات میں کمی کا نیا ریکارڈ سامنے آیا، عوام کے تعاون کے بغیر کیسز میں کمی لانا ممکن نہیں تھا، پاکستانی عوام نے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو محفوظ کیا، پاکستانی قوم باشعور ہے۔قوم کو سلام پیش کرتے ہیں، بھارت میں بے احتیاطی سے وباء کا پھیلاؤ بڑھا،
پاکستانی عوام گھروں میں عید کی تقریبات منعقد کریں اور ایس او پیز کا خیال رکھیں.