Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی شہر کا امن سانحہ 12 مئی کے شہدا کی قربانیوں سے بحال ہوا ہے،شاہی سید

    کراچی شہر کا امن سانحہ 12 مئی کے شہدا کی قربانیوں سے بحال ہوا ہے،شاہی سید

    سانحہ 12 مئی کے شہدا کی تیرویں برسی کے موقع پر اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید کا کہنا ہے کہ کراچی شہر کا امن سانحہ 12 مئی کے شہدا کی قربانیوں سے بحال ہوا ہے، 12 مئی 2007 کو باچاخان بابا کے پیروکاروں نے وقت کے فرعونوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا تھا، ایک ایسے وقت میں جب اس شہر پر مکمل طور پر دہشت گردی کا راج تھا،باچاخان کے پیروکاروں نے ریاست کے اندر ریاست کو چیلنج کیا تھا۔
    انہوں نے کہاکہ 12 مئی2007 کو نام نہاد کمانڈو جنرل مشرف کی آشیرباد سے بانی متحدہ کے دہشت گرد ونگ نے نہتے سیاسی کارکنوں کو ریاستی سرپرستی میں شہید کیا، 12 مء 2007 کی تلخ یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ انہوں نے اس امرپرافسوس کا اظہارکیا کہ ریاستی طور پر آج تک سانحہ 12 مء کے زمہ داران کا تعین نہیں کیا گیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی سطح پر سانحہ 12 مء کے زمہ داران کا تعین کیا جائے اورمتاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کرونا وبا کے خاتمے کے بعد شہدا 12 مئی کی یاد میں کراچی میں بڑا عوامی جلسہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

  • مقبوضہ بیت المقدس کے حالات پر خاموشی افسوسناک ہے، علی ظفر

    مقبوضہ بیت المقدس کے حالات پر خاموشی افسوسناک ہے، علی ظفر

    عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار و اداکار علی ظفر نے بھی مقبوضہ بیت المقدس میں مسجدالاقصٰی پر اسرائیلی فورسز کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
    علی ظفر نے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم پر افسوس کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’مقبوضہ بیت المقدس میں جو ہوا وہ دل دہلا دینے والا، تکلیف دہ، ناقابل قبول اور سمجھ سے باہر ہے۔‘گلوکار نے یہ بھی لکھا کہ ’میرے پاس اس دٴْکھ کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘علی ظفر نے تکلیف دہ واقعے پر دنیا کی خاموشی کے بارے میں لکھا کہ ’ اس واقعے پر خاموشی افسوس ناک ہے، جاگو پیاری دنیا، انسانیت کی خاطر جاگو۔‘

  • قوت گویائی وسماعت سے محروم افراد میں الخدمت کے تحت راشن تقسیم

    قوت گویائی وسماعت سے محروم افراد میں الخدمت کے تحت راشن تقسیم

    الخدمت کراچی نے’’ رمضان فوڈ پیکیج ‘‘کے تحت قوت گویائی و سماعت سے محروم 200افراد میںان کے خاندانوں کیلئے راشن کی تقسیم کردیا۔راشن کی تقسیم کیلئے گلستان جوہر میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔تقریب کے مہمان خصوصی ایگز یکٹو ڈائریکٹر الخدمت راشد قریشی تھے ۔اس موقع پر انچارج راشن سینٹرنعیم اختر نے اظہار خیال کیا ۔
    تقریب میں قوت گویائی و سماعت سے محروم افراد تک اشاروں کی مدد سے الخدمت کا پیغام پہنچانے کیلئے خورشید اخترنے رہنمائی کی۔تقریب سے خطاب کر تے ہوئے ایگز یکٹو ڈائریکٹر الخدمت راشد قریشی نے کہا کہ قوت گویائی اور سماعت سے محروم لوگ اس معاشرے کا حصہ ہیں ،ان کا خیال رکھنا اور انہیں کی مدد کرنا ہمارا دینی واخلاقی فریضہ ہے ۔
    انہوں نے کہا کہ انہیں غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کرنا معاشرہ میں رہنے والوں کا کمزور اخلاقی پہلو ہے ۔

    یہ لوگ سن اور بول نہیں سکتے ،مگران کے اندر محبت اور احساس کا جذبہ ضرور موجود ہے ،جو انہیں معاشرتی رویے سے متعلق سوچنے اور سمجھنے پر مجبور کر تا ہے ۔منفی معاشرتی رویہ انہیں مایوسی کی جانب لے جا سکتا ہے ۔راشد قریشی نے کہا کہ الخدمت ان خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے اہل خیر سے اپیل کی کہ وہ الخدمت کا ساتھ دیں ۔نعیم اختر نے تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ قوت گو یائی اور سماعت سے محروم ان خصوصی افراد کو رمضان المبارک کی خوشیو ں میں شریک کرنا بڑی نیکی ہے ۔
    انہوں نے کہا کہ زبان اور سماعت کی حس نہ رکھنے والے لوگ سوچ اور جذبہ رکھتے ہیں ۔ان کا بھی دل اور دماغ ہوتا ہے ۔انہیں معاشرے کا محروم طبقہ نہیں سمجھنا چاہیے ۔الخدمت نے راشن تقسیم کر کے ان کی دل جوئی کی ہے ۔معاشرے کے ہر فردکو ان سے محبت کر نی چاہیے اور انہیں احترام دینا چاہیے ۔امیر جماعت اسلامی ضلع شرقی شاہد ہاشمی طبعیت کی ناسازی کے باعث تقریب میں شریک نہ ہوسکے۔

  • عید پر رشتے داروں کو گھر آنے سے روکیں، وزیرِ اعلی سندھ کی اپیل

    عید پر رشتے داروں کو گھر آنے سے روکیں، وزیرِ اعلی سندھ کی اپیل

    وزیرِاعلی سندھ مراد علی شاہ نے صوبے بھر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس سال عید الفطر پر رشتے داروں کو اپنے گھر آنے سے روکیں۔
    ترجمان کے مطابق وزیرِاعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کراچی میں کورونا وائرس کی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں وزیرِ اعلی سندھ نے صوبے کے عوام سے یہ اپیل کی ہے۔وزیرِ اعلی سندھ کا اس ضمن میں مزید کہنا ہے کہ اگر احتیاط نہیں کریں گے تو عید الفطر کے بعد صورتِ حال خراب ہو جائے گی۔مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا ہے کہ گزشتہ سال عید الفطر پر عوام کے میل جول کے باعث کورونا وائرس کے 30 فیصد کیسز بڑھ گئے تھے۔

  • پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش، رکشا ڈرائیوروں نے منہ مانگے کرایے وصول کیے

    پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش، رکشا ڈرائیوروں نے منہ مانگے کرایے وصول کیے

    عیدالفطر پرکورونا کی روک تھام کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں لاک ڈاؤن کے نفاذ اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے سبب شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔سندھ حکومت نے کورونا کی روک تھام کے لیے صوبے میں 10 مئی سے 16 مئی تک سرکاری تعطیلات اور لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے، اس لاک ڈاؤن میں حکومت کی جانب سے شہریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ گھروں پر رہ کر عید منائیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاہم ان احکام کو شہریوں نے ہوا میں اڑا دیا ، شہریوں کی بڑی تعدا دغیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکل کر اپنی ذاتی گاڑیوں میں سفر کر رہی ہے اور سفر کے دوران ماسک کا استعمال بھی محدود کردیا گیا ہے۔
    پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث شہر کی سڑکوں پر سناٹے کا راج ہے، بڑی پبلک ٹرانسپورٹ اس وقت بند ہے،شہرکے مختلف علاقوں میں محدود تعداد میں رکشے ، ٹیکسیاں اور چنگ چی رکشے چل رہے ہیں، دن کے وقت شہریوں کو اپنے ضروری کاموں پر جانے، مریضوں کو سپتال لے جانے اور دیگر مسائل کے حل کے لیے سفر کرنے میں دشواری کا سامنا ہے جو رکشے اور ٹیکسیاں چل رہی ہیں وہ شہریوں سے کم اور زیادہ فاصلے کے اضافی کرائے وصول کر رہے ہیں۔
    کم فاصلے کا کرایہ اگر 50 روپے بنتا ہے تو اس کے 100 سے 120 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، زائد فاصلے کا کرایہ 150 روپے بنتا ہے تو اس کے 200 سے 300 روپے اضافی کرایہ وصول کیا جا رہا ہے جبکہ چنگ چی رکشے والوں نے بھی کرایہ میں 10 سے 20 روپے اضافہ کر دیا ہے۔رات کے اوقات میں مختلف محکموں اور دیگر اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو جن کے پاس اپنی سواری نہیں ہے ان کو اپنے گھر واپسی شدید مشکلات کا سامنا ہے، رات کے اوقات میں چنگ چی رکشوں اور ٹیکسیوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔رکشا مالکان کا کہنا ہے کہ لاک ڈان کے سبب وہ اپنی گاڑیاں سڑکوں پر نہیں لا رہے ہیں کیونکہ پولیس ان کے خلاف قانونی کارروائی کر رہی ہے، شہریوں نے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورت حال کا نوٹس لیں۔

  • عید کی تعطیلات  کراچی کے شہریوں کیلئے سی ویو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    عید کی تعطیلات کراچی کے شہریوں کیلئے سی ویو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے عید کے موقع پر کراچی کے شہریوں کیلئے ساحلی مقام کومکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ، سی ویو پرکسی کو آنے یا گاڑی کھڑی کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
    تفصیلات کے مطابق عید کے موقع پر سندھ حکومت نے کراچی کیشہریوں کے لئے ساحلی مقام کومکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ، اس حوالے سے احکامات کے بعدپولیس نے سیکیورٹی پلان تیار کرلیا ہے۔
    ولیس کا کہنا ہے کہ سی ویوکوعوام کے لیے مکمل طورپربندکرناشروع کردیاگیا، سی ویو پرکسی کوآنے یا گاڑی کھڑی کرنیکی بھی اجازت نہیں ہوگی۔سیکیورٹی پلان کے مطابق سی ویوپر100سے زائداہلکاروں کوتعینات کردیاگیا جبکہ پولیس موبائل،موٹرسائیکل گشت کے ساتھ ساحل پر گھڑسوار اہلکار بھی تعینات ہوں گے ،سی ویو کے اطراف تمام ریسٹورنٹس اور ٹیک اویبھی بندکردیے گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ صرف مقامی افرادکواپنی رہائش پرجانیکی اجازت ہوگی، کنٹینرزکے بجائے رکاوٹیں رکھ کرساحل کوبندکیاگیاہے ۔خیال رہے این سی او سی کی ہدایت پر تمام تفریحی مقامات کو عید کی تعطیلات کے دوران بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • 24 گھنٹوں کے دوران تیز ہوائیں چلنے کا امکان

    24 گھنٹوں کے دوران تیز ہوائیں چلنے کا امکان

    کراچی میں محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہرِ قائد کا موسم گرم رہنے کا امکان ہے۔

    کراچی کا کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

    شہر میں جنوب مغرب سے آنے والی ہواؤں کی رفتار 18 سے 27 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، جن میں نمی کا تناسب 77 فیصد ہے۔

  • سندھ میں بلیک فنگس کورونا کے 3 تا 4 کیسز رپورٹ ہوچکے، قاسم سومرو کا انکشاف

    سندھ میں بلیک فنگس کورونا کے 3 تا 4 کیسز رپورٹ ہوچکے، قاسم سومرو کا انکشاف

    پارلیمانی سیکرٹری سندھ قاسم سومرو نے صوبے میں 3 تا 4 بلیک فنگس کورونا کے کیسز رپورٹ ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ قاسم سومرو نے کہا کہ بلیک فنگس کورونا زیادہ تر وینٹی لیٹر پر جانے والے مریضوں میں ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں بلیک فنگس کورونا کے زیادہ کیس ہیں اور وہاں ہوتے رہتے ہیں، اللّٰہ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس اس کے زیادہ مریض نہیں ہیں۔قاسم سومرو نے مزید کہا کہ رمضان میں کورونا کیس ایک دم 30 سے 40 فیصد بڑھےہیں، آناجانا اور دیگر ایس او پیز پر عمل نہ کرنے سے بھی کیس بڑھتے ہیں۔پارلیمانی سیکریٹری سندھ نے یہ بھی کہا کہ ہم نہیں چاہتےکہ لوگ اس طرح گھومتے رہیں اور کورونا کا پھیلاؤ ہو۔

  • کراچی طیارہ حادثے کو ایک سال مکمل، متاثرین نے بڑے مطالبات کردیے

    کراچی طیارہ حادثے کو ایک سال مکمل، متاثرین نے بڑے مطالبات کردیے

    کراچی میں ایک سال قبل رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے بدقسمت طیارے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین نے ایک بار پھر بڑے مطالبات دہرا دیے۔نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق لواحقین نے آر ڈی اے فارم کے مسئلے کو حل کرنے،، تحقیقاتی بورڈ میں متاثرہ فیملیز کی شمولیت اور ہنگامی رسپانس سینٹر کے قیام کا مطالبہ کردیا۔ایک سال قبل گرکر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے بدقسمت طیارے پی کے 8303 کے متاثرین نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’حادثے کے بعد انھیں جس کرب سے گزرنا پڑا وہ ایک الگ داستان ہے، مگر ایک سال گزرنے کے بعد بھی انھیں انشورنس کلیم کی پیچیدگیوں میں ڈال دیا گیا ہے، اور اس رقم کے حصول کے لیے آرڈی اے(ریلیز ڈسچارج آرڈر) پر دستخط کرکے کسی بھی ادارے کے خلاف کارروائی سے گریزاں کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود اب تک تحقیقات جاری ہیں، جس میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں،اگر مسقبل میں کوئی ادارہ مرتکب پایا گیا تو لواحقین ان کے خلاف لازمی کارروائی کریں گے۔لواحقین نے مطالبہ کیا کہ ’متاثرہ فیملی کے افراد کو ائیر انویسٹیگیشن بورڈ میں شامل کیا جائے جبکہ آئندہ اس قسم کے حادثات کے لیے ایسا ہنگامی سینٹر بنایا جائے جہاں عوام کی رسائی ہو‘۔پی آئی اے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ولید بیگ کی ہمشیرہ کنول ارسلان کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرول نے کپتان کو نہیں بتایا کہ طیارے کا لینڈنگ گئیر نہیں کھلا جبکہ کپتان کی جانب سے اترنےکی کوشش میں انجن کو ہونے والے نقصان پر کوئی یہ بتانے والا نہیں تھا کہ دوبارہ اڑان نہ بھریں۔
    اُن کا کہنا تھا کہ ائیر پورٹ کے اطراف بلند عمارت نہ ہوتی تو بدقسمت طیارے کی لینڈنگ ہوسکتی تھی،طیارہ گرا اور گھنٹوں جلتا رہا لیکن ہنگامی طور پر پر وہاں آگ کو بجھانے کے لیے کوئی فوری انتظام نہیں تھے،جائے حادثہ پر نہ پانی تھا اور نہ ہی فوم موجود تھا،کس کی کیا کیا غلطیاں تھیں ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوا۔زرقا خالد چوہدری کےمطابق طیارہ حادثے میں والد کو کھویا ہے، ایک سال گزرنے کے باوجود ہم کو اب تک سچ نہیں بتایا گیا، بائیس مئی 2020 کو حادثہ ہوا اور بارہ سے تیرہ روز تک میتوں کا انتظار کرتے رہے، ہمارا مقصد پیسہ نہیں ہمارا مقصد ہوائی سفر کرنے والوں کو محفوظ بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے وعدہ کیا ہے اگلے اجلاس میں اس مسئلہ کو اٹھایا جائے گا۔ متاثرہ فیملیز کا مزید کہنا تھا کہ وکیل کے ہمراہ عید تعطیلات کے بعد پی آئی اے انتظامیہ کو دستاویزات جمع کروائیں گے۔

  • پی ٹی آئی حکومت کے ترجمان اپنی زبانوں کو لگام دے،شازیہ مری

    پی ٹی آئی حکومت کے ترجمان اپنی زبانوں کو لگام دے،شازیہ مری

    ‏پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کا ردعمل .پی ٹی آئی حکومت کے ترجمان اپنی زبانوں کو لگام دے کر کارکردگی پر توجہ دیں، بلاول بھٹو نے حکومت کو آئینہ دکھایا ہے، ڈھیٹ بننے کے بجائے پی ٹی آئی اپنی اصلاح کرے.‏حکومتی ترجمان اپنی نااہلی کے دفاع میں 18ویں آئینی ترمیم کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششوں سے باز رہیں، کیا پاکستان پیپلزپارٹی یا سندھ حکومت ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح 14 فیصد تک پہنچانے کی ذمہ دار ہے؟ ‏ذخیرہ اندوزوں کی سرپرستی جب حکومت میں شامل افراد کریں گے تو مہنگائی اپنے ریکارڈ توڑے گی، مرغی 400 روپے کلو سے زائد فروخت ہورہی ہے، تبدیلی نے گلی گلی اور گھر گھر تباہی مچادی۔‏صرف ایک سال میں بجلی کے بلوں کی قیمتوں میں 29 فیصد تک کے اضافے نے عام آدمی کیلئے زندگی گزارنا مشکل بنادیا ہے، عمران خان نے یوٹرن لے کر تاریخ کو الٹا پڑھتے ہوئے شاید خیرات سمجھ لیا ہے اور دنیا بھر میں کشکول اٹھائے گھوم رہے ہیں۔شازیہ مری کا کہنا ہے کہ ‏تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایک زرعی ملک نے ایک ایسے ملک سے خیراتی چاول لئے جہاں چاول کاشت ہی نہیں ہوتے، پی ٹی آئی حکومت نے اربوں ڈالر کا قرضہ لے کر کرپشن میں اڑادیا اور آج ہر پاکستانی پونے دولاکھ روپوں کا مقروض ہوچکا ہے۔