Baaghi TV

Category: کراچی

  • منصوبوں، اداروں اور عمارتوں کے نام بدلنے سے بینظیر بھٹو کا نام نہیں مٹاسکتے

    منصوبوں، اداروں اور عمارتوں کے نام بدلنے سے بینظیر بھٹو کا نام نہیں مٹاسکتے

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا نام تبدیل کرنے پر وفاقی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ پی پی حکومت نے غربت کی کمی کیلئے بی آئی ایس پی شروع کیا۔

    عمران خان نے بی آئی ایس پی کا نام بدل ڈالا، پیپلزپارٹی نےایسے وقت میں پروگرام شروع کیاجب معاشی بحران تھا، عمران خان بتائیں غربت میں کمی کیلئے اب تک کیا کیا؟۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عوام کوپتہ ہے احساس کفالت پروگرام دراصل بی آئی ایس پی ہی ہے، عمران خان کی غربت میں کمی کے پروگرام کی چوری پکڑی جاچکی ہے۔

    عمران خان بی آئی ایس پی کا نام کچھ بھی رکھ دیں، عوام سب جانتے ہیں۔

    اپنے بیان میں بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ بی آئی ایس پی دراصل بینظیربھٹو کا آئیڈیا تھا جسے عملی جامہ پہنایا، پیپلزپارٹی نے بڑے سماجی بہبود کے پروگرام لاکر دنیا میں مثال قائم کی ۔

    عالمی ادارے پیپلزپارٹی دور کے بی آئی ایس پی کی اہمیت کا اعتراف کررہےہیں، عدالت میں اعتراف کے باوجود احساس پروگرام کو نیا منصوبہ قرار دینا دھوکا ہے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ منصوبوں، اداروں اور عمارتوں کے نام بدلنے سے بینظیر بھٹو کا نام نہیں مٹاسکتے۔

    جھوٹ، دھوکے کو یوٹرن کا نام دے کر فخر کرنا انکے مزاج کاحصہ بن چکا، پی پی نے معاشی سونامی میں سندھ کی لاکھوں دیہی خواتین کوفنی تربیت دی۔

    سندھ میں 27 لاکھ دیہی خواتین کو کاروبار کیلئے بلاسود قرضے دئیے، پی پی کی سندھ حکومت نے عوام دوست اقدامات سےفی کس آمدنی کوبڑھایا، سندھ میں غربت کی شرح میں غیر معمولی 7.6فیصد کمی ثبوت ہے پی پی نےڈلیور کیا۔

  • قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان، پی آئی اے کا سابق اعلیٰ افسر گرفتار

    قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان، پی آئی اے کا سابق اعلیٰ افسر گرفتار

    ہیومن رائٹس کیس میں قومی خزانےکو تقریباً سوا ارب کا ‏نقصان، سپریم کورٹ کا پی آئی اے کے اسپیشل آڈٹ کاحکم، ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے پی آئی اے کا سابق اعلیٰ افسر کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق فاقی تحقیقاتی ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے سابقہ ڈائریکٹر انجنیئرنگ پی آئی ‏اے مقصود احمد کو گرفتار کر لیا۔
    ترجمان ایف آئی اے سندھ کے مطابق ہیومن رائٹس کیس میں قومی خزانےکو تقریباً سوا ارب کا ‏نقصان پہنچایا گیا سپریم کورٹ نےپی آئی اےاسپیشل آڈٹ کاحکم جاری کیاتھا۔ترجمان نے بتایا کہ آڈٹ پیرا کےتحت غیر ملکی کمپنیوں سےغیرقانونی معاہدےکئےگئےتھے، کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے معاملے پر تحقیقات کا آغاز کیا اور ٹھوس شواہد کے بعد سابقہ ڈائریکٹر انجینئرنگ مقصوداحمد کو گرفتار کر لیا۔
    ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مقدمے میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں ‏ جاری ہیں ۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس قومی ائیرلائن پی آئی اے کے آڈٹ کے دوران اربوں روپے کے غبن اور کرپشن کا انکشاف ہوا تھا۔ یہ انکشاف وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کارپوریٹ کرائم سرکل کی دو انکوائریز کے دوران ہوا تھا جس کے بعد دو مقدمات جلد درج کیے گئے، جبکہ اہم گرفتاریاں بھی کی گئیں۔
    گزشتہ برس پی آئی اے میں مالی کرپشن اور غبن کی داستانوں پر ایف آئی اے نے پی آئی اے کے خلاف دو انکوائریز مکمل کی تھیں۔ انکوائریز کے دوران اربوں روپے کے غبن کا انکشاف ہوا تھا، انکوائریز پی آئی اے کے مالی آڈٹ رپورٹ کے بعد مکمل کی گئیں، پی آئی اے کے خلاف انکوائریز کارپوریٹ کرائم سرکل نے کی تھیں۔دونوں انکوائریز کے بعد جلد مقدمات قومی خزانے کو نقصان پہنچائے جانے پر درج کیے گئے، ۔اس سے قبل ایک مقدمے میں سابق چیئرمین اور افسران پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں، ایف آئی اے حکام نے دونوں انکوائریز کی تصدیق کی تھی۔

  • کراچی میں گزشتہ ایک ماہ میں کورونا مریض کی شرح ڈبل، اگلے 14روز بہت اہم

    کراچی میں گزشتہ ایک ماہ میں کورونا مریض کی شرح ڈبل، اگلے 14روز بہت اہم

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ میں نمبرزآف کورونامریض ڈبل ہوگئے، ڈاکٹرزبتاتے ہیں کہ اگلے 14روز بہت اہم ہیں، اگر اگلے 14روز احتیاط کرلی تو دن بہتر ہوسکتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کل محکمہ داخلہ سندھ نےنوٹی فکیشن جاری کیا، کورونا کے حوالے سے نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نےحکومت کی جانب سےفیصلوں سےآگاہ کیا۔

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت فیصلےکرتی ہے اور انتظامیہ عمل کرائےتولوگ ناراض ہوتےہیں ، انتظامیہ کی جانب سےعمل نہ کرایاجائےتوبھی لوگ ناراض ہوتےہیں، سندھ حکومت کہہ رہی ہےکہ غیرضروری طورپر اپنے گھروں سےنہ نکلیں۔

    کورونا صورتحال کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ7روزمیں کراچی میں کوروناکیسز کی شرح12.7فیصدرہی، حیدرآبادضلع میں 10.8 فیصد کورونا پوزیٹو ریشو رہا ہے، 24 اپریل کے مقابلےمیں اس وقت تعداد دگنی ہوچکی ہے، 24 اپریل کو 855 اور 24 مئی کو ڈبل فیگر ہوچکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ میں نمبرزآف کورونامریض ڈبل ہوگئے، 204مریضوں میں اضافہ ہواہے، نیپا کےقریب سندھ ڈیزیز اسٹیٹیوٹ ، لیاقت نیشنل اسپتال ،ایس آئی یوٹی میں ایک بھی بیڈخالی نہیں۔

    مرتضیٰ وہاب نے سوال کیا کیا اس وبا کو ہم آپے سے باہر ہونے دیں، کیا اس وبا کے نمبرز کو اسی طرح بڑھنے کی اجازت دیں یا روکیں، دنیا میں کورونا مریض بڑھ رہے تھے تو ہم نے سخت فیصلے کیے، نتیجے میں پہلی اور دوسری لہرمیں بڑے پیمانے سے بچ گئے۔

    ترجمان نے کہا ایک بار پھر حکومت کو وہ مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں، نہیں چاہتے کرفیو لگایا جائے، چیزوں کو مکمل بند کر دیاجائے، آپ چاہتے ہیں کہ معمولات زندگی معمول پرہوں تو ہمارا ساتھ دینا ہوگا، اگر آپ چاہتے ہیں مزید سختی نہ ہو تو حکومتی گائیڈلائن کو اپنانا ہوگا، آپ سب کوایس اوپی پرعمل،ماسک پہننا ہوگا ویکسین لگوانا ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دکھ اورافسوس ہوتاہےجب لوگ شٹربندکرکےاپنابزنس چلارہےہوں، حکومت کو کوئی شوق نہیں آپ کے شٹرگرانے کا مگرمیتیں اٹھانے کا بھی نہیں۔

    مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا اگرپارک کے دروازے بند ہوتے ہیں تو دیواریں پھلانگ کرجاتے ہیں، ریسٹورانٹ بند کیے مگر مالکان نےکہاکہ ٹیک اوےکی اجازت دےدیں، سندھ حکومت نے کہا چولہا چلنا چاہئےڈلیوری ٹیک اوےکی اجازت دی، آپ چلےجائیں ریسٹورانٹ شٹر بند کر کے بندکمروں میں کھانے کھلارہے ہیں، شٹربند کر کے کھانا کھلائیں گے تو سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

    سندھ حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نےشادی ہالزبندکردیےلوگوں نے اپنے گھر دےدیے، اب شادی ہالزکےبجائےگھروں میں تقریبات ہورہی ہیں، ہمارااختلاف مصروفیات سےنہیں ہجوم سے ہے، آپ حکومت کاساتھ دیں ورنہ سخت فیصلےکرنا ہوں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹرزبتاتے ہیں کہ اگلے 14روز بہت اہم ہیں، اگر اگلے 14روزاحتیاط کرلی تودن بہترہوسکتےہیں، کل اتوارکےروزسیکڑوں کی تعدادمیں پارکس میں رش تھا، آج مجبوراًسندھ حکومت کوفیصلہ کرناپڑاکہ پارکس بند ہونگے.

  • کچے میں آپریشن ، سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ

    کچے میں آپریشن ، سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ

    سندھ حکومت نے شکار پور آپریشن میں پولیس جوانوں کی شہادت کے بعد ڈاکوؤں کیخلاف فوجی آپریشن کی منظوری دے دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر شبیر بجارانی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سندھ حکومت نے شکارپور کےکچے میں ڈاکوؤں کیخلاف فوجی آپریشن کی منظوری دے دی ہے، آپریشن کے لئے رینجرز اور فوج کو پولیس کیساتھ شامل کیا جائےگا اور کچے میں چھپے ڈاکوؤں کے خلاف بڑا اور فیصلہ کن آپریشن کیا جائے گا۔

    شکارپور کے علاقے گڑھی تیغو میں واقع کچے کے علاقے میں پولیس کا ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن دوسرے روز بھی جاری ہے، ایس ایس پی امیر سعود مگسی کی سربراہی آپریشن کیا جارہا ہے۔

    پولیس اہلکاروں نے ڈاکوؤں کی جانب سے یرغمال بنائی گئی ای پی سی چین کو ڈاکوؤں کے قبضے چھڑاتے ہوئے ان کے ٹھکانوں کو گھیرے میں لے لیا ہے، پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانوں کو مسمار کرکےآگ لگادی ہے۔

    ایس ایس پی امیر سعود مگسی کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران کچے کے راستوں کا محاصرہ کرلیا گیا ہے اور ڈاکوؤں کا گھیراؤ تنگ کردیا گیا ہے، پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، علاقے میں ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے اور تمام مغویوں کی بازیابی تک آپریشن جاری رہے گا۔

    گذشتہ روز سندھ پولیس نے شکار پور میں کچے کے علاقے میں آپریشن کرتے ہوئے 6 ڈاکوؤں کو ہلاک جبکہ ایک کو گرفتار کیا تھا، مقابلے میں دو پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے تھے۔

    پولیس کا موقف ہے کہ ڈاکوؤں نے بارہ کے قریب افراد کو اغوا کرتے ہوئے ان علاقوں میں رکھا ہوا ہے، ان میں سے چھ افراد کو بازیاب کرایا جاچکا ہے، ڈاکو ان افراد کو اغوا کے بعد بھاری تاوان وصول کرنے کے بعد چھوڑ دیتے ہیں۔

  • سندھ پولیس عوام سے بھتہ لینے میں مصروف ہے

    سندھ پولیس عوام سے بھتہ لینے میں مصروف ہے

    متحدہ قومی مووومنٹ کے مرکزی رہنما عامر خان نے کہا ہے کہ سندھ کے شہری علاقے خصوصا کراچی جہاں پانی کی شدید قلت ہے اور سندھ حکومت فخر سے حکومت کر رہی ہے اور پولیس عوام سے بھتہ لینے میں مصروف ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں بیروزگاری اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہےشہر کراچی میں ٹرانسپورٹ کے نام پر ایک بس تک نہیں چلائی گئی، جس طرح صوبوں کو ڈسٹرکٹس بنانے کا اختیار ہے، اسی طرح وفاق کو مزید صوبے بنانے کا اختیار ہونا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ کے دیہی علاقوں سے لوگوں کو لاکر شہروں میں تعینات کر دیاجاتا ہے،کیا کراچی کے لوگ پاکستان کے شہری نہیں ہیں اندرون سندھ میں پولیس کے جوان شہید ہو رہےہیں اور سندھ کے حکمراں محو خواب ہیں۔

    عامر خان کا کہنا تھا کہ صوبے میں مقامی پولیسنگ کا نظام لایا جانا چاہیے،محکمہ پولیس میں شہر کے باہر سے بھرتی شدہ لوگ بھتہ خوری میں ملوث ہیں،جعلی ڈومیسائل کے ذریعے شہر کے لوگوں کا حق مارا جارہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں ہماری پٹیشنز سسک رہی ہیں، ہماری کہیں کوٸی سنواٸی نہیں ہو رہی این ایف سی پر بات کرتے ہیں مگر پی ایف سی پر کوٸی بات نہیں کرتے آئین میں تبدیلی لائیں اور صوبوں کو مزید صوبے بنانے کا دیا گیا اختیار واپس لیا جاۓ۔

    متحدہ رہنما نے کہا کہ ہم نے27 مئی کو احتجاجی ریلی کا اعلان کیا ہوا ہے ہم اس ریلی کو لاک ڈاون کے خاتمے تک ملتوی کرتے ہیں۔لاک ڈاٶن کے اختتام کے بعد سندھ کے ہر شہر میں احتجاج ہوگا، اگر پھر بھی مسائل حل نہ ہوۓ تو وزیراعلی ہاٶس کاگھیراٶ کیا جائےگا۔

    عامر خان نے مزید کہا کہ گزشتہ 13 برسوں سے سندھ میں ایک ایسی حکومت مسلط ہے کہ اس نے سندھ کے شہری علاقوں کو کھنڈر میں تبدیل کردیا.

    کراچی شہر جو پورے پاکستان کو چلا رہا ہے اسے چند ارب روپے دیکر سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ شہر ترقی کرے گا۔

    سندھ حکومت سندھو دیش کی حامی ہے، مردم شماری میں کراچی کے لوگوں کوصحیح گنا نہیں جاتا جس پر ایم کیو ایم نے ہی شدید احتجاج کیا، ٹینکر مافیا کا یہاں راج ہے، لوگ پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

  • کوئٹہ قمبرانی روڈ پر دھماکے کی مزمت کرتے ہیں،سمیر  میر شیخ

    کوئٹہ قمبرانی روڈ پر دھماکے کی مزمت کرتے ہیں،سمیر میر شیخ

    کوئٹہ قمبرانی روڈ پر دھماکے کی مزمت کرتے ہیں۔پی ٹی آئی رہنماء سمیر میر شیخ۔

    پی ٹی آئی رہنماء سمیر میر شیخ نے اب سے کچھ دیر قبل کوئٹہ بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ھوئے کہا کہ واقعے کے نتیجے میں زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ملک دشمن عناصر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی سازش کررہے ہیں۔

    ہم حادثے کے نتیجے میں زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا
    کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کی فضاء برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کریں۔

  • پاکستان عوامی تحریک کا 32واں یوم تاسیس 25مئی دنیا بھر میں منایا جائے گا۔

    پاکستان عوامی تحریک کا 32واں یوم تاسیس 25مئی دنیا بھر میں منایا جائے گا۔

    فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کے 32سال

    پاکستان عوامی تحریک کا 32واں یوم تاسیس 25مئی کو دنیا بھر میں منایا جائے گا۔

    پاکستان عوامی تحریک کا سفر 1989میں شروع ہوا جسکا محور و مرکز پاکستان میں نظام کی تبدیلی،احتساب،اصلاحات اور عوام میں بیداری شعور رہا جس کیلئے عوامی تحریک نے نہ صرف جدوجہد کی بلکہ اس کیلئے بے شمار جان،مال کی قربانیاں دیں۔پاکستان عوامی تحریک کے 32ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں 25مئی پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر،گلگت،بلتستان اور دنیابھر میں تقریبات ہونگی۔یوم تاسیس کے سلسلے میں کراچی میں مرکزی پروگرام 25مئی رات 8بجے صوبائی سیکرٹریٹ پاکستان عوامی تحریک گلشن اقبال میں ہو گا جسکی صدارت قاضی زاہد حسین مرکزی صدر پاکستان عوامی تحریک کریں گے۔ مرکزی تقریب سے پاکستان عوامی تحریک کے قائدین سید ظفر اقبال،مشتاق صدیقی،ثاقب نوشاہی،راؤ کامران محمود،اطہر جاوید صدیقی سمیت دیگر قائدین خطاب کریں گے۔پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان الیاس مغل کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے یوم تاسیس کے سلسلے میں ہفتہ تقریبات دس روز تلک جاری رہیں گی۔تقریبات میں افراد کو محدود رکھنے اور ایس او پیز کا خصوصی خیال رکھنے کی مرکزی ہدایات تمام مقامی تنظیمیات کو جار کی جا چکی ہیں۔

  • کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر دھماکا ،5 افراد زخمی

    کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر دھماکا ،5 افراد زخمی

    کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر دھماکے کے نتیجے میں بچے سمیت5 افراد زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق دیسی ساختہ بم سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا، دھماکے کی جگہ پر ریڑھی اور چھابڑی والے موجود تھے۔

    ریسیکو ذرائع کے مطابق دھماکے میں ایک بچے سمیت 5 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں سوال اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

    دھماکےکے بعد پولیس ، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لےلیا ہے اور شواہد جمع کیے جارہے ہیں۔

  • حلیم عادل شیخ کا آء جی سندھ کو فوری ہٹانے کا مطالبہ

    حلیم عادل شیخ کا آء جی سندھ کو فوری ہٹانے کا مطالبہ

    اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی شکارپور میں شہید پولیس اہلکاروں کے گھر آمد.
    حلیم عادل شیخ نے شہید پولیس اہلکاروں کے ورثاء سے تعزیت کا اظہار کیا.

    حلیم عادل شیخ کا آء جی سندھ کو فوری ہٹانے کا مطالبہ سندھ حکومت اور پی پی آء جی مکمل ناکام ہوچکے ہیں، امن امان کے لیے شہید ہونے والے اہلکار ہمارے ہیرو ہیں۔

    سندھ حکومت جس دن کہے گی رینجرز اور فوج آجائے گی، رینجرز کو اختیارات صرف کراچی کی حد تک دیے ہوئے ہیں، اگر یہاں رینجرز آگئی تو سب سے پہلے پکے کے ڈاکو پکڑے جائیں گے۔

    آء جی سندھ اپنے علاقے میں امن امان کرانے میں ناکام ہوچکے ہیں، ایس ایس پیز اور اہلکار میدان میں ہیں آء جی سندھ دوربین سے نظر نہیں آرہے ہیں۔

    ورثاء سے تعزیت کے لیے پی پی کا کوئی نمائندہ نہیں پہنچا، بلوچستان میں یہی اے پی سیز موجود ہیں لیکن ان میں گولیاں پار نہیں ہوتی، 18 ویں ترمیم کے بعد امن امان صوبائی معاملہ ہے.

  • کراچی اورنگی ٹاؤن میں گتا فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا

    کراچی اورنگی ٹاؤن میں گتا فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا

    کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں گتا فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا۔ آتشزدگی کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اورنگی ٹاؤن 10 نمبر میں واقعے گتا فیکٹری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اطلاع ملنے کے بعد ابتدائی طور پر ایک فائر ٹینڈر بھیجا جائے۔

    وقوعہ پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کیا تاہم آگ کے شدت اختیار کرنے کے سبب مزید فائر بریگیڈ کی مزید 3 گاڑیاں پہنچا ڈی گئیں۔

    فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آتشزدگی کے دوران فیکٹری میں موجود گتا،پلاسٹک اور دیگر کباڑ جل کر خاکستر ہو گیا۔

    تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق 4 فائر ٹینڈرز کی مدد سے ایک 40 منٹ میں گا پر قابو پایا ۔ کولنگ کا عمل جاری تاہم آگ لگنے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔