Baaghi TV

Category: کراچی

  • سمیر میر شیخ کا کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کا مطالبہ

    سمیر میر شیخ کا کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کا مطالبہ

    وزیر اعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس پر پی ٹی آئی رہنماء و معروف کاروباری شخصیت سمیر میر شیخ کا ردعمل۔

    وزیر اعلیٰ کی 6بجے کاروبار بند کرنے کی منطق ناقابلِ سمجھ ہے۔شہر میں وباء کی وجہ سے پہلے ہی کاروباری طبقہ شدید متاثر ہوگیا ہے۔

    سمیر میر شیخ نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں سندھ حکومت کے ڈراموں سے بخوبی واقف ہیں۔

    شہر کے کاروبار میں بندشیں ڈال کر معیشت کو نقصان پہنچانے کی سازش کی جارہی ہے۔پی پی ویسے ہی معیشت کی اچھی خبروں سے غم زدہ ہے۔عید اور رمضان میں حکومت کے ایس او پیز کیلئے انتظامات کے چرچے سارے جہاں میں مشہور ہیں۔

    سندھ حکومت کاروباری طبقے کو بغض عمران خان کی وجہ سے پریشان کررہی ہے سندھ حکومت سے کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

  • اگلے دو ہفتے صوبے میں ایس او پیز سخت کریں گے،وزیر اعلیٰ سندھ

    اگلے دو ہفتے صوبے میں ایس او پیز سخت کریں گے،وزیر اعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگلے دو ہفتے صوبے میں ایس او پیز سخت کریں گے عید کے بعد کورونا کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھا ہے جس کی وجہ سے کئی اسپتالوں میں جگہ ختم ہوگئی ہے۔کراچی میں وزیرصحت ڈاکٹر عزراپیچوہو اور سندھ کورونا ٹاسک فورس کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ کورونا کے باعث صورت حال تشویش ناک ہے، اس وقت کئی اسپتالوں میں جگہ ختم ہوگئی ہے،سندھ حکومت نے کورونا پر ٹاسک فورس بنائی تھی۔
    اس پر میٹنگز کرتے رہے ہیں پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران کورونا بڑھا تو ہفتے میں دو سے تین میٹنگز کیں۔رمضان میں کیسز بڑھ رہے تھے پچھلے سال کا تجربہ تھا پچھلے سال عید پر کیسز میں بہت اضافہ ہوا تھا،ہمارے مثبت کیسز ایک ہفتے میں 8 فیصد تک ہے سندھ میں کراچی ڈویڑن میں 13.60 فیصد تناسب ہے کورونا کیسز کی 31 مارچ کو سندھ میں کیسز کم تھے سندھ ٹاسک فورس نے ہی کہا تھا کے لاک ڈائون بڑھایا جائے ٹرانسپورٹ پر پابندی لگے لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی۔
    انہوں نے کہا کہ اس وقت کچھ کھولنے کی بات نہیں کرتے ، بازار 8 کے بجائے اب 6 بجے بند ہوجائیں گی، ہوٹلوں پر ڈائن ان اور ڈائن آوٹ بند رہے گی تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلوری کھلی رہے گی۔ ٹیک اوے پر عمل نہیں ہوگا تو دکان کے خلاف ایکشن ہوگا، تمام لوگ ایس او پیز عمل کریں۔ سندھ میں اگلے دو ہفتے میں مزید سخت ایس او پیز لاگو کر رہے ہیں، اسکولز ،کالجز یونیورسٹیز سمیت تمام تعلیمی ادارے دو ہفتوں تک بند رہیں گے۔
    ٹرانسپورٹ میں بھی سختی کے ساتھ ایس اوپیز فالو کرایاجائے گا لوگوں سے درخواست ہے کہ ایس او پیز کوفالو کریں کوروناسے احتیاط برتیں۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ مکس سگنل پر وفاقی وزیر سے بات ہوئی اور ان سے شکایت بھی کی ایس او پیز پر عمل درآمد ہو، اور کیسز کم ہوں تو کاروبار کھولنے کی بات کی جائے ،انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی ہے ہر علاقے میں وزیر اور دیگر کی ڈیوٹی لگا رہے ہیں وہ علاقے میں ایس او پیز کو چیک کریں گے پوری کوشش کر رہے ہیں لوگوں کو تکلیف نا پہنچے ایس او پیز پر عمل درآمد کریں گے تو بہتری کی طرف جا سکتے ہیں، ایس او پیز بناتے وقت ماہر افراد سے مشورہ لیا جاتا ہے چاہتے ہیں کسی ڈنڈے کی ضرورت نا پڑے، عوام خود احتیاط کریں کوئی سخت فیصلے لینے نہیں پڑیں ،وزیر صحت عزرا پیچوہو نے کہا کہ موبائل سینٹرز بھی کھولنے جا رہے ہیں مجبوری کے تحت ویکسین لگوانے نہیں جا سکتے عملہ پھر گھر آکر ویکسین لگائے گا گائوں میں بھی ویکسین لگانے کا منصوبہ تیار ہے موبائل یونٹس کے زریعے اگلے ہفتے مزید ویکسین آئین گی تو یہ کام شروع کیا جائے گااس موقع پر کورونا ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ جتنی بھی ایس او پیز ہیں لوگ اسکو بائی پاس کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں عوام احتیاط کریں لوگ شٹر ڈائون کرکے کام کرتے ہیں کیسز بڑھتے جا رہے ہیں یہ ہلکی بیماری نہیں عوام ویکسین لگوائیں ایکسٹرا زینیکا لگوانے پر لوگ پوچھتے ہیں میگنٹ والی ویڈیو وائرل ہوئی ہے ایسی کوئی بات نہیں چپ والی بات سچ نہیں فون میں کتنی چپس ہیں اس پر میگنٹ نہیں چپکتا،جبکہ ڈاکٹر باری کا کہنا تھا کہ یو کے وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے پورا پورا گھر انفیکٹ ہوجاتا ہے گھروں پر بہت دعوتیں ہوئی ہیں 50,50 لوگ انفیکٹ ہوئے اب وہ لوگ پچھتا رہے ہیں، اس موقع پر ڈاکٹر قیصر نے کہا کہ درخواست ہے عوام سے بیماری کا علاج دو طرح سے کریں ایس او پیز پر عمل کریں اور ویکسین لگوائیں سندھ حکومت سے درخواست ہے ویکسینیشن سینٹر مزید بڑھائیں سندھ حکومت کی اس حوالے کارکردگی بہت اچھی ہے ۔

  • کراچی شہر کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ایک منظم سازش محسوس ہورہی ہے،سلیم قادری

    کراچی شہر کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ایک منظم سازش محسوس ہورہی ہے،سلیم قادری

    اہلسنّت حنفی بریلوی مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے اکابرین اورمیلادشریف کا اہتمام کرنے والی نمائندہ تنظیمات وشخصیات پر مشتمل مرکزی میلادالائنس پاکستان کے بانی وچیف آرگنائزر،مرکزی انجمن سیرت النبی ﷺ گلبہارکے تاحیات چیئرمین اور ممتازقومی وسماجی رہنمامحمدسلیم خاں قادری ترابی نے کہاہے کہ کراچی شہر کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ایک منظم سازش محسوس ہورہی ہے،کم ازکم K الیکٹرک اس سازش کا بڑاحصہ اداکررہی ہے۔
    وہ مرکزی میلادالائنس کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کررہے تھے،جس کی صدارت جمعیت علمائے پاکستان کے رہنمافقیر ملک محمدشکیل قاسمی نے کی۔جبکہ غوثیہ مسجد گلبہار کے ٹرسٹی رکن ناصرحسین خاں، بزم غلامان مصطفیٰ ﷺ کے صدر صاحبزادہ محمدصادق قریشی، انجمن نوجوانان اسلام سندھ کے جنرل سیکریٹری عبدالوحید یونس ودیگر نے خصوصی شرکت کی۔
    محمدسلیم خاں قادری ترابی نے کہاکہ مسائل کے حل کے لئے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے ،Kالیکٹرک کے بل دیکھ کر غریبوں کی چینخیں نکل رہی ہیں مگر ارباب حل وعقد کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی،Kالیکٹرک کے ذمہ داران جان بوجھ کر لوڈشیڈنگ میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں،پانی کی کمی کے ڈرامے رچائے جارہے ہیں، ندی نالوں کی صفائی سے گریزاں واٹربورڈ کے ذمہ داران گلی کوچوں میں ابلتے گٹر، بہتے ہوئے گندے پانی پر کسی کی توجہ نہیں ،کچرے کے ڈھیر اور شدید گرمیوں میں مچھروں مکھیوں کی بھرمار نے لوگوں کاجینامحال کردیاہے، روزمرہ کی کھانے پینے اور استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربامہنگائی پر شرمندگی کا اظہار کرنے کے بجائے حکمران ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرکے عوام کو ذہنی مریض بنانے کا عمل کررہے ہیں۔

    محمدسلیم خاں قادری ترابی نے کہاکہ عوام کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ کون کیاکررہاہے وہ صرف اپنے حقوق چاہتے ہیں۔مرکزی میلادالائنس پاکستان عوام اہلسنّت حنفی بریلوی کے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد پر یقین رکھتاہے مگر افسوس ہے کہ ہمیں شہر کراچی کے تمام عوام کو ایک ساتھ لے کر عوامی تحریک میں بدلنے پر مجبورکیاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر سراپااحتجاج ہوئے تو پھر انہیں سنبھالنامشکل مشکل ہوگااس لئے حکمرانوں کو ہوش میں آجاناچاہئے اور عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہئے ،کراچی پورے پاکستان کا دل ہے۔
    مرکزی میلادالائنس پاکستان کے ذمہ داران کراچی کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر پاکستان اور کراچی کی سالمیت ،استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا عزم رکھتے ہیں۔

  • سندھ پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے :الطاف شکور

    سندھ پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے :الطاف شکور

    وپاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ سندھ پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ سندھ کے قدیم باشندوں کی زمینوں پر قبضوں پر پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے رہنمائوں اور حکومت سندھ کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ کو پراپرٹی ٹائیکونز کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا ہے۔
    پیپلز پارٹی بھٹو کی پارٹی نہیں رہی۔ اگرآج بھٹواور بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو سندھ کے عوام کی حالت زار اور زمینوں پر جبری قبضوں پرآنسو بہا رہے ہوتے۔ بلاول بھٹو پراپرٹی مافیائوں کی یرغمالی سے باہر نکل آئیں، ورنہ پی پی پی کی بچی کھچی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی۔ پاسبان سندھ کے مظلوم ہاریوں، کسانوں ، طالبعلموں اور پراپرٹی مافیائوں کے ہاتھوں ستائے ہوئے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
    ہائوسنگ سوسائیٹیز کو زرعی زمینوں کے بجائے بنجر زمینوں پر آباد کیا جائے۔ کراچی ، حیدرآباد، نوابشاہ اور سکھر جیسے شہروں کی آبادیوںمیں بجلی، پانی، گیس، سیوریج کے مسائل، سڑکوں و اسپتالوں کی تعمیراور تعلیمی اداروں کی دیکھ بھال جیسے مسائل پر توجہ دی جائے۔ سندھ کے نوجوانوں کو منشیات فروشوں سے نجات دلائی جائے۔ سندھ کی ٹیل پر واقع اضلاع اور دیگر اضلاع میں زرعی پانی کی شدید قلت پر قابو پایا جائے۔
    ان خیالات کا اظہار پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے گذشتہ روز نوری آباد میں پاسبان کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا ۔ اجلاس سے پاسبان کے وائس چیئرمین رفیق احمد خاصخیلی، جوائنٹ سیکریٹری طارق چاندی والا اور بزنس فورم کے صدر وسیم الدین شیخ نے بھی خطاب کیا جبکہ اجلاس میں پاسبان حیدرآباد کے صدر ارشد آرائیں،پاسبان رہنما خلیل پالاری، نذیر عالیانی، جانی خاصخیلی و دیگر پاسبان رہنما بھی موجود تھے۔
    الطاف شکور نے مزید کہا کہ اجلاس میں پیپلز پارٹی، سندھ حکومت اور پراپرٹی ٹائیکون مافیائوں کی ملی بھگت سے سندھ پر قبضے ، صدیوں سے آباد مقامی لوگوں اور قیمتی سرکاری زمینیں ہتھیانے کے لیے معصوم عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور سندھ حکومت کی مجرمانہ خاموشی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ بحریہ اور اس جیسی ہائوسنگ سوسائیٹیز کو تمام سہولیات فراہم کرنا اور سندھ کے دیگر شہروں کے مسائل کو نظر انداز کرنا سندھ حکومت کا سب سے بڑا اور سنگین ظلم ہے۔
    سندھ کا پڑھا لکھا ،خواندہ اور ناخواندہ نوجوان آج اسلئے بیروزگار ہے کہ سندھ حکومت پی پی پی کے پرچم تلے پانچ دہائیوں سے میرٹ کی پامالی کر رہی ہے۔ ساری سرکاری نوکریاں وڈیروں کے بچوں میں بانٹی جا رہی ہیں۔ عام نوجوان کی شدید حق تلفی کی جا رہی ہے۔ الطاف شکور نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے تھانوں ، پٹوارخانوں اور تعلیمی اداروںکو وڈیرہ شاہی کے اثرات سے پاک کیا جائے تا کہ عوام سیاسی اور وڈیرہ شاہی کے دبائو سے نکل کر اپنی مرضی سے ووٹ ڈال سکیںاور اپنی مرضی کے مطابق بلدیاتی، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندے منتخب کر سکیں۔

  • نجی مال کا معذور نوجوان کے علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرنے کا اعلان

    نجی مال کا معذور نوجوان کے علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرنے کا اعلان

    چند روز قبل کراچی میں گرد کا طوفان آیا۔ طوفانی ہوائوں کے باعث نجی مال کے سائن بورڈ گرنے سے نوجوان عمر بھر کے لئے معذور ہوگیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل کراچی میں اچانک گرد کے طوفان اور طوفانی ہوا کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں پورے شہر نے مٹی کی چادر اوڑھ لی تھی، ایسی صورت حال میں حادثات بھی رونما ہوئے، ایسا ہی ایک حادثہ سید اشعر شاہ نامی شہری کے ساتھ پیش آیا، جس کے باعث وہ زندگی بھر کے لئے معذور ہوا۔
    متاثرہ نوجوان نے نجی مال کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ ایف آئی آر کے متن میں مدعی نے موقف اپنایا کہ وہ مال میں بحیثیت سیلزمین ملازمت کرتا ہے، تیز ہوا کے باعث دروازے کے ساتھ دیوار پر لگایا گیا بڑا سائن بورڈ مجھ پر گرگیا۔ میں اس کے نیچے دب کر چیخنے چلانے لگا، موقع پر موجود مجھے لوگوں نے نکالا تو میں چلنے پھرنے سے قاصر تھا، مجھے اٹھا کر ایمبولینس کے ذریعے گلشن کے نجی اسپتال پہنچایا۔

    رپورٹ کے مطابق اشعر کی ریڑھ کی ہڈی ایل ون میں فریکچر ہے، جس کے باعث وہ معذور ہوگیا ہے۔ والدین کا موقف تھا کہ ہم سفید پوش لوگ ہیں اپنے بچے کو ایک روز سے زیادہ مہنگے ہسپتال میں نہیں رکھ سکتے۔افسوسناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نجی مال کے خلاف شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہوا، تاہم اب نجی مال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سائن بورڈ گرنے سے معذور نوجوان کے علاج کی ذمہ داری نجی شاپنگ مال برداشت کرے گا۔

  • کراچی ویسٹ پولیس نے گزشتہ ہفتے ہونے والے قتل کا معمّہ حل کرلیا ، مرکزی ملزم گرفتار

    کراچی ویسٹ پولیس نے گزشتہ ہفتے ہونے والے قتل کا معمّہ حل کرلیا ، مرکزی ملزم گرفتار

    ویسٹ پولیس نے گزشتہ ہفتے ہونے والے قتل کا معمّہ حل کر کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ایس ایس پی ویسٹ سوہائی عزیز کے مطابق مورخہ 17 مئی 2021 کو ذاتی دشمنی کی بناہ پر گھر میں موجود خاتون عطیہ عرف سونیا زوجہ دلدار کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا،مقتولہ کے بھائی علی محمد کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ الزام نمبر 542/2021 بجرم دفعہ 302/34 تھانہ اورنگی میں درج کیا گیا،ملزم نے نہایت ہوشیاری سے خود اپنی زوجہ کو قتل کیا اور اپنے دشمن قبیلہ کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی مقتولہ خاتون کے بھائی کی مدعیت میں درج کروا دیا،ایس ایچ او اورنگی کی مسلسل محنت اور ایڈوانس ٹیکنالوجی کی مدد سے مرکزی ملزم دلدار علی ولد دہدارعلی کو گرفتار کرلیا،گرفتار ملزم نے دوران تفتیش اپنی زوجہ عطیہ عرف سونیا کے قتل کا اعتراف کیا۔
    ملزم کو ضابطہ کے تحت گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لئے تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

  • پی پی چیئرمین سے لیکر چپڑاسی تک تعصب کی بو آرہی ہے

    پی پی چیئرمین سے لیکر چپڑاسی تک تعصب کی بو آرہی ہے

    وزیراعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا رد عمل سامنے آیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سرکاری بابو بننے کی بجاء حقائق پر مبنی بات کریں، حلیم عادل شیخ نے کہتے ہیں پی پی چیئرمین سے لیکر چپڑاسی تک تعصب کی بو آرہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ بیانات میں ٹیپو سلطان بننے کی بجاء صوبے کے اعتراضات متعلقہ فورمز پر رکھیں۔

    شور شرابے اور ہنگامے کی بجاء مراد علی شاہ بھنگڑے بھی ڈال لیں تو بھی اعداد و شمار من پسند نہیں آسکتے، وزیراعلیٰ سندھ اپنے وزیر ایریگیشن سے پوچھیں کہ کیوسک کسے کہتے ہیں،
    وزیراعلیٰ نے الزامات سے تسلیم کرلیا کہ ارسا میں ان کا نمائندہ نااہل ہے۔

    صوبے میں پانی کو محفوظ بنانے اور ٹیل تک پہچانے میں سندھ حکومت ناکام رہی ہے،صوبے میں پانی چوری میں مراد علی شاہ اور ہمنوا ہی ہیں۔

    حلیم عادل شیخ کہتے ہیں وزیراعلیٰ سندھ آنکھوں سے تعصب کا چشمہ اتار کر ملکی ترقی اور معیشت کو دیکھیں۔گندم، چینی، چاول، مکئی کی پیداوا ر میں وفاقی حکومت کے اقدامات سے اضافے فصل اترے ہیں۔

    کرونا کی صورتحال میں وزیراعلیٰ سندھ پولیس کے ذریعے بھتہ خوری میں ملوث ہیں، وفاق کی جانب سے دی گئی ویکسین اور سامان سندھ حکومت نے نجی لوگوں کو بیچا ہے۔

    کرونا رلیف فنڈ بلاول ہاؤس کی تقریبوں کھانوں میں استعمال کیا گیا، سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے صوبے میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    آج سندھ میں وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی کام جاری ہیں، سندھ کے پسماندہ علاقوں میں وفاقی حکومت لوگوں کو سہولیات مہیا رکررہی ہے، وفاقی حکومت کے خلاف بوکھلاٹ کا شکار لاڑکانہ کی تعصبی جماعت کو ہمیشہ ناکامی ہوگی.

  • بچے کو کھیلنے سے منع کرنے پر بااثر شخص کا سیکیورٹی گارڈ پر تشدد

    بچے کو کھیلنے سے منع کرنے پر بااثر شخص کا سیکیورٹی گارڈ پر تشدد

    بچے کو کھیلنے سے منع کرنے پر بااثر شخص کا سیکیورٹی گارڈ پر تشدد۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن معمار میں بااثر شخص نے معمولی بات پر سیکیورٹی گارڈ کو پستول کے بٹ مار کر زخمی کردیا، سیکیورٹی گارڈ کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔
    بااثر شخص کی سیکیورٹی گارڈ پر تشدد کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آگئی، ویڈیو میں بااثر شخص کو گارڈ پر تشدد کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
    متاثرہ سیکیورٹی گارڈ کا کہنا ہے کہ بچوں کو سڑک پر کھیلنے سے منع کیا تھا تو مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔متاثرہ سیکیورٹی کے مطابق بااثر شخص کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس تعاون نہیں کررہی، بااثر شخص کے خلاف کارروائی کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

  • موبائل فون چھیننے کیلئے 2 بہنوں کے اکلوتے بھائی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا

    موبائل فون چھیننے کیلئے 2 بہنوں کے اکلوتے بھائی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں موبائل فون چھیننے کیلئے 2 بہنوں کے اکلوتے بھائی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا، فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا کاشان نجی کمپنی میں بطور گرافک ڈیزائنر ملازمت کرتا تھا۔ تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ کراچی کے علاقے لانڈھی کی بابر مارکیٹ کے قریب پیش آیا، جہاں علاقے میں بجلی نہیں تھی اور کاشان گھر کے باہر بیٹھا تھا کہ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار 2 ڈاکوؤں نے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی، کاشان نے مزاحمت کی تو ڈاکوؤں نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں کاشان کی موت واقع ہوگئی کیوں کہ مقتول کاشان کو سینے میں ایک گولی لگی جو کہ جان لیوا ثابت ہوئی، پولیس کی جانب سے واقعے کے بعد جائے حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
    پولیس کے مطابق فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا کاشان نجی کمپنی میں بطور گرافک ڈیزائنر ملازمت کرتا تھا، مقتول گھر کے باہر بیٹھا تھا کہ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار 2 ڈاکوؤں نے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی، کاشان نے مزاحمت کی تو ڈاکوؤں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کاشان کی موت واقع ہوگئی۔

  • کراچی میں کرونا کیسز کی شرح 13.8 فیصد ہے،مراد علی شاہ

    کراچی میں کرونا کیسز کی شرح 13.8 فیصد ہے،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صورت حال بہتر ہونے تک نرسری سے یونی ورسٹی تک تمام تعلیمی ادارے 2 ہفتے کیلئے بند رہیں گے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ ہم کسی علاقے میں کوئی فرق نہیں کرینگے کہ اتنے فیصد علاقوں میں شرح کم ہونے پر تعلیمی ادارے کھول دیئے جائیں، ،ہم نہیں چاہتے کہ پنجاب جیسی صورت حال سندھ میں بھی بننے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں سخت ایس او پیز نافذ کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کل بروز پیر 24 مئی سے کراچی سمیت سندھ بھر میں سخت ایس او پیز نافذ کر رہے ہیں۔ عوام جب تک ساتھ نہیں دے گی، لاک ڈاأن کا فائدہ نہیں ہوگا۔

    سینما ، پارک، درگاہیں، مزارات، بیوٹی پارلرز سمیت دیگر اہم پبلک مقامات 2 ہفتے تک بند رہیں گے۔ انڈرو اور آؤٹ دور ڈائنگ پر پابندی ہوگی۔ دکانیں صرف شام 6 بجے تک ہی کھلی رہیں گی۔

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ آج کی پریس کانفرنس کا یہ ہی مقصد تھا کہ چیزوں کا واضح کردیا جائے۔ پابندی لگانے کا فیصلہ عید الفطر کے بعد بڑھتے کیسز کے تناظر میں کیا ۔ اس سال کے اعداد و شمار سامنے رکھ کر حکمت عملی بنائی ہے۔ کراچی میں کرونا کیسز کی شرح 13.8 فیصد ہے۔

    ویکسین سے متعلق وزیر صحت سندھ نے کہا کہ ویکسین سے متعلق افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ صوبے بھر میں 234 ہم موبائل سینٹر اور ہیلپ لائن بھی لا رہے ہیں، ان لوگوں کیلئے جو ویکسینیشن سینٹر نہیں جا سکتے ہیں۔

    لوگوں کی گھروں پر بھی ویکسین کا بندوبست کر رہے ہیں۔ دور دیہات اور گاؤں میں موجود افراد کیلئے بھی ویکسین کا انتظام کیا جائے گا، تاہم مناسب تعداد میں ادویات کی دستیابی کا انتظار ہے۔ ویکسین سینٹر قائم کیے گئے ہیں، جب کہ مزید سینٹرز کیلئے بھی کام کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرونا کی پہلی لہر پر ہم نے کامیابی سے قابو پایا۔ اب کرونا کی تیسری لہر سے نمٹ رہے ہیں۔ ہم نے مزید سختی کرنی ہے۔

    ایس او پیز میں نرمی نہیں کرسکتے۔ اسپتالوں میں دستیاب بیڈز تیزی کے ساتھ بھر رہے ہیں۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانے کیے جائیں گے۔ ٹرانسپورٹ 50 فیصد مسافروں کیساتھ چلے گی۔

    اس موقع پر انہوں نے پانی کے تقسیم کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے اس حوالے سے قرار داد منظور کی ہے۔

    حکومت اس معاملے پر اچھے طریقے سے کردار ادا کرسکتی ہے۔ پانی کی تقسیم 1991 کے معاہدے کے تحت ہونی چاہیئے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک صوبے کو سرسبز اور دوسرے کو بنجر بنا دیا جائے، اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔