کراچی:اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ ٹوئٹر بیان . حلیم عادل شیخنے اپنی ٹوئٹر بیان میں کہا ملکی معیشت میں بہتری اور فلسطین کے معاملے پر کامیابی پر پاکستانی کاوشوں کی دنیا معترف ہے، مگر شریف خاندان، شہزادیاں، پرچی چیئرمین، اچکزئی، مولانا، سب کے ٹوئٹر فلسطین پر خاموش رہے.
ان کی منی لانڈرنگ کے پیسے سوئس بینکز میں پڑے ہیں اس لیے یہ لوگ ڈرتے ہیں، بلاول یا مریم کے نہ ماننے سے ملکی معیشت پر فرق نہیں پڑنا، پاکستان کی ترقی سے خائف قوتیں اپنا سیاہ مستقبل دیکھ کر پریشان ہیں، عمران خان کا پاکستان یہ ہے بدلتا نیا پاکستان.
Category: کراچی
-

بلاول یا مریم کے نہ ماننے سے ملکی معیشت پر فرق نہیں پڑنا
-

سندھ میں کاروباری سرگرمیاں شام 6 بجے بند کرنے کا حکم
سندھ میں کورونا کی تشخیص کی شرح 8.8 فیصد ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے موجودہ پابندیاں اگلے 2 ہفتوں تک صوبے بھر میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں کورونا وائرس صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ میں کل سب سے زیادہ 24299 نمونوں کی جانچ کی گئی، جس کے نتیجے میں 2136 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، اس وقت صوبے میں تشخیص کی شرح 8.8 فیصد ہے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اجلاس کو بتایا کہ 13 مئی یعنی عید پر 1232 کیسز تھے، 19 مئی کو 2076 کیسز اور 21 مئی کو 2136 کیسز تھے۔ جس پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسز کی شرح عید کے بعد مسلسل بڑھ رہی ہے، 7 دنوں ( 15 مئی سے 21 مئی تک) میں کراچی میں 13.97 فیصد کیسز ہوئے۔
سیکریٹری صحت کاظم جتوئی نے بریفنگ میں بتایا کہ حیدرآباد میں 10.83 فیصد کیسز اور باقی سب اضلاع میں 5.40 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے، ہفتہ وار رپورٹ کے حساب سے کراچی شرقی میں 15 فیصد کیسز ہیں، ضلع وسطی میں 13 فیصد، ملیر اور غربی میں 10 فیصد کیسز ہیں، حیدرآباد میں 11 فیصد اور سکھر میں 8 فیصد کیسز ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 30 دنوں میں کورونا کے 213 مریض انتقال کرگئے، انتقال کرنے والوں میں 164 اسپتالوں میں وینٹیلیٹرز پر تھے، اور 42 مریض اسپتال میں وینٹیلیٹرز پر نہیں تھے جب کہ 26 مریضوں کا گھروں میں انتقال ہوا۔ سندھ کو اس وقت تک 10 لاکھ 7 ہزار سینوفارم، اور 47000 کیسینو ویکسین موصول ہوئی ہیں، 4 لاکھ 85 ہزار سینو ویک اور 1 لاکھ 7 ہزار 500 اسٹرازینیکا ویکسین موصول ہوئی ہیں۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ٹاسک فورس کے اجلاس میں کورونا صورتحال کے پیش نظر موجودہ پابندیاں اگلے 2 ہفتوں تک صوبے بھر میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تمام سیاحتی مراکز، سی ویو، ہاکس بے، تفریحی پارکس مزید 2 ہفتوں کے لیے بند رکھے جائیں گے، شادی ہالز بھی بند رہیں گے، جب کہ واکنگ ٹریکس کھلے رکھے جائیں گے۔
ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق پیر سے تمام مارکیٹس اور دکانیں شام 6 بجے تک ایس او پیز کے تحت کھلی رہیں گی، ڈیپارٹمنٹل اسٹور بھی شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے، انٹرسٹی ٹرانسپورٹ 50 فیصد مسافروں کے ساتھ چلیں گی، خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا، جب کہ اسکولز کے کھلنے کا فیصلہ تب کریں گے جب کورونا کی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔ ٹاسک فورس نے وزیر تعلیم کو تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی ویکسینیشن کرنے کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے کورونا کے بڑھتے کیسز کے باعث لاک ڈاؤن میں مزید سختی کرنے کا امکان ہے، گزشتہ اجلاس میں بھی ٹاسک فورس ممبران اور ماہرین نے مزید سخت فیصلے کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ -

میں دنیا میں امن اور ہر انسان کی آزادی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی ہوں۔
اداکارہ و ماڈل عائشہ عمر نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی فلسطینیوں کو مدد کی ضرورت ہے۔
عائشہ عمر نے گزشتہ روز انسٹاگرام پر فلسطینیوں کے حق میں نکالی جانے والی ریلی کی تصویر شیئر کی اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ عائشہ عمر نے لکھا خدا کا شکر ہے کہ گزشتہ رات اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔ لیکن جنگ بندی کے باوجود بھی فلسطینیوں کو مدد کی ضرورت ہے۔
جنگ بندی کے بعد اب وقت ہے ان مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرنے کا جو اس جنگ کا شکار ہوکر بے گھر ہوگئے اور جنہوں نے اس خونی کھیل میں اپنے پیاروں کو کھودیا۔ یہ وقت ہے ان بچوں کی نفسیاتی مدد کرنے کا جنہیں اسرائیلی حملوں کے بعد شدید ذہنی اذیت، صدمے کا سامنا کرنا پڑا اور جو تشدد کا شکار ہوئے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کسی جنگ ذدہ خطے کے بچوں کی مدد کی جاتی ہے
اداکارہ عائشہ عمر نے پیغام دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایک دن اس مسئلے کا پُر امن حل نکلے گا اور اس کا اختتام ہوگا۔ کیونکہ اس سیارے پر موجود ہر انسان کو حق حاصل ہے اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرنے اور بے خوف زندگی گزارنے کا۔ ہم سب یہاں اس سیارے پر بقائے باہمی سے ایک ساتھ رہنے کے لیے موجود ہیں۔عائشہ عمر نے کہا میں یہ یقین دلاناچاہتی ہوں ہر اٹھنے والی آواز اہم ہے۔ اور ہمیشہ فرق پڑتاہے۔ کبھی کسی کو یہ نہ کہنے دیں کہ آپ کی آواز سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یا آپ کے الفاظ اہم نہیں ہیں۔ غلط ہوتا دیکھ کر کبھی اپنی آواز کو اٹھنے سے نہ روکیں، اور کبھی اس کے لیے کھڑا ہونا نہ چھوڑیں جس پر آپ یقین کرتے ہیں۔ میں دنیا میں امن اور ہر انسان کی آزادی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی ہوں۔
آخر میں عائشہ عمر نے فیض احمد فیض کی مشہور نظم کا مصرعہ شیئر کیا ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔‘‘واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان دو روز قبل 11 روز سے جاری جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جنگ بندی سے متعلق ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں سیکیورٹی کیبینٹ کی جانب سے متفقہ طور پر جنگ بندی کی منظوری دی گئی تھی۔
-

کراچی کے سکول کب تک بند رہیں گے؟ فیصلہ ہوگیا
وفاقی وزارتِ تعلیم نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث کراچی میں بھی اسکول 6 جون تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔وفاقی وزارتِ تعلیم کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ اور مظفرآباد سمیت کئی شہروں میں اسکول چھ جون تک بند رہیں گے۔
فیصل آباد، گجرات، ملتان سمیت پنجاب کے 20، حیدر آباد، سکھر سمیت سندھ کے 12، سوات، صوابی سمیت خیبر پختون خوا کے 14 اضلاع کے اسکول اب 6 جون کو کھلیں گے۔اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 5 فیصد سے زیادہ ہونے پر کیا گیا ہے، 5 فیصد سے کم شرح والے شہروں میں اسکول 24 مئی سے کھلیں گے۔واضح رہے کہ کراچی بھر میں سرکاری و نجی اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند ہیں تاہم اساتذہ آن لائن کلاسز یا طلبہ کو مختلف اوقات میں بلانے کے لیے مسلسل اسکولوں میں حاضر ہو رہے ہیں۔ -

سندھ میں سرکاری ملازمتوں کی بندر بانٹ کا آغاز ،کراچی کے سات اضلاع نظرانداز ، دادو پر خصوصی نوازشات
سندھ میں سرکاری ملازمتوں کی بندر بانٹ کا آغاز ،کراچی کے سات اضلاع نظرانداز ، دادو پر خصوصی نوازشات
پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر سندھ حکومت کے تمام محکموں میں گریڈ 1 سے گریڈ 4 تک کی ملازمتوں پر بھرتیوں کا آغاز ہوگیا ۔ اس سلسلے میں بعض محکموں نے گریڈ 1 تا گریڈ 4 کی خالی اسامیوں پر بھرتیوں کے لئے اشتہارات اخبارات میں شائع کروادئیے گئے ہیں ۔
سرکاریی محکموں میں بھرتیوں کے اشتہارات میں سندھ کے مختلف اضلاع کے لئے مختص کردہ اسامیوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان بھرتیوں کے لئے مروّجہ قانون اور قواعد وضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئےبعض اضلاع کے لئے سیاسی بنیادوں پر زیادہ اسامیاں رکھی گئی ہیں اور بعض اضلاع کو نظرانداز کردیا گیا ہے ۔ مشتہر کردہ ملازمتوں کی تقسیم میں قواعد وضوابط کی پامالی کی ایک مثال بعض اخبارات میں شائع شدہ ‘محکمہءلائیواسٹاک اینڈ فشریز’ ، حکومت ِسندھ کی جانب سے بھرتی کا اشتہار ہے جس میں سندھ کے مختلف اضلاع کے لئے مختص ملازمتوں کی تعداد میں بے قاعدگی اور ناانصافی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ مذکورہ اشتہار میں محکمے کی گریڈ 1 تا گریڈ 4 ، کی کل 244 اسامیوں کو مشتہر کیا گیا ہے جن میں سے وزیر اعلٰی سندھ کے آبائی ضلع دادو کے لئے کل 31 اسامیاں رکھی گئیں ہیں جب کہ کراچی کے 7 اضلاع ، کراچی ایسٹ ، کراچی ویسٹ ، کراچی ساؤتھ، کراچی سینٹرل ، ملیر، کورنگی اور کیماڑی کے لئے صرف 10 اسامیاں رکھی گئیں ہیں ، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان بھرتیوں کے سلسلے میں کراچی کے 7 اضلاع کو 1 ہی ضلع تصوّر کیا گیا ہے اس طرح دادو کے 1 ضلع کے لئے مختص 31 اسامیوں کے مقابلے میں کراچی کے 7 اضلاع کے لئے محض 10 اسامیاں مختص کرنا سندھ کے شہری اضلاع کے نوجونوں پر روزگار کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے جو شہری اضلاع کے عوام میں مایوسی اور بےچینی کا سبب بن سکتا ہے ۔ -

کراچی طیارہ حادثے کو ایک سال بیت گیا، تحقیقاتی رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
کراچی طیارہ حادثے کو ایک سال بیت گیا، تحقیقاتی رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
کراچی میں المناک طیارہ حادثے کو ایک سال بیت گیا جس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثے کی وجہ طیارے میں خرابی نہیں تھی بلکہ یہ حادثہ کلی طور پر پائلٹس اورائیر ٹریفک کنٹرولرز کی کوتاہی کی وجہ سے ہوا۔
ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کی ابتدائی رپورٹ سے اخذ کردہ نتائج کے مطابق حادثے کا شکار پائلٹ پہلے حد سے زیادہ پر اعتماد تھے مگر پھر کنفیوژن کا شکار ہوگئے،وائس ریکارڈ سے پتا چلا ہے کہ لینڈنگ کے وقت پائلٹس سیاست اور کورونا جیسے موضوعات پر گفتگو کر رہےتھے۔

ائیرٹریفک کنٹرولر نے دو مرتبہ خبردار کیا کہ طیارے کی رفتار اور بلندی دونوں بہت زیادہ ہیں ، وائس ریکارڈر کو ڈی کوڈ کرنے کے دوران کاک پٹ میں مختلف الارم بجنے کی آوازیں مسلسل سنائی دیں جنہیں پائلٹ اور معاون پائلٹ نے نظر انداز کردیا۔لینڈنگ کی پہلی کوشش کے دوران دونوں پائلٹ مسلسل کنفیوژ رہے کہ لینڈنگ کریں یا دوبارہ چکر لگا کر مناسب بلندی اور رفتار کے ساتھ لینڈنگ کریں، لینڈنگ سے قبل ہی نہیں بلکہ پوری پرواز کے دوران ہی پائلٹس نے ائیر ٹریفک کنٹرولرز کی ہدایات پر عمل نہیں کیا
-

طیارہ حادثے کو ایک سال، غمزدہ خاندانوں کو انشورنس کی رقم نہ مل سکی
قومی ایئر لائن کے کراچی ایئر پورٹ کے قریب رہائشی آبادی پر گرکرتباہ ہونے والے طیارہ حادثے کو ایک سال گزرگیا تاہم متاثرہ خاندانوں کوانشورنس کی رقم نہیں مل سکی ہے۔
22مئی 2020کو جمعہ کے روز پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 نے لاہورکے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے دن ایک بجکر 10منٹ پر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے لیے اڑان بھری اوردوپہر 2بجکر 37منٹ پر طیارہ ایئر پورٹ کے قرب میں واقع جناح گارڈن کی رہائشی آبادی پرگرکرتباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں پی آئی اے کے عملے کے8ارکان سمیت 97 افرادجاں بحق ہوگئے تھے اور2 مسافر خوش قسمت رہے تھے۔حادثے میں کئی مکانات مکمل اورجزوی طورپر تباہ ہوگئے اورگھروں کے باہر پارک کئی گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا تھا، طیارے کے حادثے میں جانیں گنوانے والے متاثرہ خاندانوں کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی پی آئی اے نے انشورنس کے ایک کروڑ روپے کی ادائیگی نہیں کی ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ دستاویزات پر دستخط کے لیے تیار ہیں لیکن قانونی حق سے دست بردار نہیں ہوں گے،انشورنس کے لیے وہ ایسی دستاویزات پردستخط نہیں کریں گے جس سے ان کا قانونی حق ختم ہو جائے۔انشورنس ہماراحق ہے،ٹکٹ خریدتے وقت اس کی ادائیگی کی ہے،ڈاکٹرمحمدمحسن طیارہ حادثے کے متاثرہ شخص ڈاکٹر محمد محسن کاکہناہے کہ انشورنس ہمارا حق ہے، ٹکٹ خریدتے وقت اس کی ادائیگی کی ہے،حکومت سے3 گزارشات ہیں ،اول متاثرین کو طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں شامل کیا جائے،دوم انشورنس کی رقم کی ادائیگی کو آر ڈی اے پر دستخط سے مشروط نہ کیا جائے اورتیسری ایک ایسے ایمرجنسی رسپانس سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے جس تک ہر شہری کی رسائی ہوتاکہ اس قسم کے حادثات کی صورت میں فوری طورپردادرسی ہوسکے۔
والدکے بجائے کسی اور شخص کی لاش حوالے کی گئی،زرقا حادثے میں والد کو کھونے والی زرقا چوہدری کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ والد دومہینے کے بعد لاہور سے عید منانے کراچی آرہے تھے اس وقت گھرمیںان کے استقبال کی تیاریاں ہورہی تھیں کہ اس دوران لاہور سے بہن کی کال آئی کہ کراچی میں کوئی طیارہ گرکر تباہ ہوگیا ہے۔زرقا کے مطابق جائے حادثہ پر انھوں نے جوافراتفری کا عالم دیکھا اس سے ان کو لگاکہ پروفیشنل ازم کا بہت بڑا فقدان ہے،اس بدانتظامی سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے یہ حالات پی آئی اے اورسول ایوی ایشن کے لیے بھی بالکل نئے ہو۔زرقا کے مطابق انھوں نے 3روز بعد والد کی میت جناح اسپتال میں شناخت کرلی تھی مگر وہاں پر انھیں کہا گیا کہ جب تک سائنسی ثبوت نہیں مل جاتے لاش آپ کے حوالے نہیں کی جاسکتی ہے،7دن گزرجانے کے بعد بھی ان کی ڈی این اے رپورٹ کا کوئی پتہ نہیں تھا۔بلاآخر لاہور میں مقیم ان کی ایک بہن نے وہیں پرڈی این اے ٹیسٹ دیا، زرقا چوہدری نے الزام عائدکیا ہے کہ اس بے ہنگم صورتحال کے دوران بہت سی لاشیں تبدیل ہوچکی تھیں کیونکہ انھیں جولاش دی گئی تھی وہ اسپتال میں شناخت کی جانے والی لاش نہیں بلکہ کوئی دوسری لاش تھی مگر والدہ کی بگڑتی حالت کے پیش نظرانھوں نے کمپرومائز کیا اگرمجھے یہ معلوم ہوتاکہ والدکے انتقال کے14روز بعد صدمے کی وجہ سے والدہ بھی دنیا سے چلی جائیںگی تو وہ اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتیں ۔
-

کراچی کے 2 علاقوں میں آج سے لاک ڈاؤن نافذ
کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث کراچی کے علاقوں منگھو پیر اور مومن آباد میں آج سے 4 جون تک لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔دوسری جانب کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے پر پورے کراچی میں سخت لاک ڈاؤن کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے اس ضمن میں سینئر افسران سے سفارشات طلب کر لی ہیں۔
پولیس افسران نے حکام سے بجٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کے بغیر لاک ڈاؤن کمائی کا دھندہ بن سکتا ہے، گزشتہ لاک ڈاؤن میں پولیس کو بجٹ دیا گیا تھا۔جیو نیوز کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن کیلئے پولیس افسران سے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق لاک ڈاؤن کے فیصلے کا اطلاق ابتدائی طور پر کراچی میں ہوسکتا ہے۔کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر کراچی میں انتہائی سخت لاک ڈاؤن متوقع ہے اور اس حوالے سے ذرائع بتاتے ہیں کہ سخت لاک ڈاؤن گزشتہ سال کی طرز کا ہوسکتا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ اب تک 24 پولیس اہلکار کورونا وائرس کا شکار ہو کر شہید ہو چکے ہیں، حکومتِ سندھ نے کورونا ڈیوٹیز کے دوران شہید ہونے والوں کیلئے 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا تھا تاہم تاحال کسی بھی پولیس اہلکار کو یہ امدادی رقم نہیں مل سکی ہے۔ذرائع مزید دعویٰ کرتے ہیں کہ شہر میں سخت لاک ڈاؤن کا فیصلہ آج یا کل ہوسکتا ہے اور اطلاق بھی جلد ممکن ہے۔ -

ناصر حسین شاہ نے صحافیوں کے تحفظ کا بل اسمبلی میں پیش کر دیا
صوبائی وزیر اطلاعات نے صحافیوں کے تحفظ کا بل سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا۔
صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے صحافیوں اور دیگر میڈیا پریکٹشنرز کے تحفظ کے لیے Sindh Protection of Journalists and other media practitioners Bill 2021 آج صوبائی اسمبلی میں پیش کیا۔
محکمہ اطلاعات نے یہ بل فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یو جے)،کراچی یونین آف جرنلسٹس(کے یو جے)، سینئر صحا فیو ں کی مشاورت اور آراکو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیا ہے جن میں پروفیسر توصیف احمد خان، مظہر عباس، فاضل جمیلی ،ڈاکٹر جبار خٹک، اویس اسلم علی اور قاضی آصف شامل تھے۔صوبائی وزیر اطلاعات کی تجویز پر یہ بل صوبائی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے قانون کو بھیج دیا گیا جو کہ تین دن کے اندر اس کا جائزہ لے کر رپورٹ اسمبلی میں پیش کرے گی۔ -

کراچی کے علاقے ڈیفنس سے ڈاکٹر کا مبینہ اغوا
کراچی کے علاقے ڈیفنس سے ڈاکٹر کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا ہے-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق واقعے کا مقدمہ ڈاکٹر کے بھائی کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے پولیس کے مطابق مبینہ اغواء کا مقدمہ مغوی ڈاکٹر فرخ حسن کے بھائی کی مدعیت میں درخشاں تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔
مدعی نے پولیس کو بتایا کہ اس کا بھائی پرائیویٹ کلینک میں بطور ڈاکٹر کام کرتا ہے، جو 2 روز قبل گھر سے دوست سے ملنے کا کہہ کر گیا لیکن اس کے بعد سے وہ غائب ہے۔
مدعی مقدمہ کایہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر فرخ حسن کا موبائل فون بھی بند جا رہا ہے، انہیں شبہ ہے کہ نامعلوم ملزمان نے ان کے بھائی کو اغواء کر لیا ہے۔