Baaghi TV

Category: کراچی

  • اعلیٰ سرکاری افسران کو کتنی تنخواہ اور مراعات ملتی ہے؟ پائیڈ کی رپورٹ جاری

    اعلیٰ سرکاری افسران کو کتنی تنخواہ اور مراعات ملتی ہے؟ پائیڈ کی رپورٹ جاری

    اعلیٰ سرکاری افسران کو کتنی تنخواہ اور مراعات ملتی ہے؟ پائیڈ کی رپورٹ جاری

    انسٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ آف اکنامکس (پائیڈ) کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہےکہ سیکرٹری تعینات ہونےکے بعد گریڈ 22 کے افسر کی تنخواہ اقوام متحدہ کے افسر سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کو گھر، ملازمین اور الاؤنس تنخواہ کا حصہ شمار نہیں ہوتے۔
    انسٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ آف اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق بی اے کی ڈگری رکھنے والی سول سرونٹ پرائیوٹ سیکٹر کے مقابلے میں ساڑھے 9 فیصد زیاہ تنخواہ وصول کررہے ہیں۔
    صرف ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والوں کو نجی شعبے میں پرکشش ملازمتیں مل پاتی ہیں۔سول سرونٹ کی آمدن نجی شعبے کی نسبت 20 فیصد زیادہ جبکہ گریڈ 22 کے افسر کی تنخواہ دوسرے افسروں کی تنخواہوں سے دس گنا زائد ہے۔پائیڈ رپورٹ کے مطابق بیوروکریسی خفیہ طورپربہت زیادہ مالی فوائد حاصل کررہی ہے، سرکاری ملازمین کو گھر، ملازمین اور الاؤنس تنخواہ کا حصہ شمار نہیں ہوتے۔
    گریڈ 20 کے ملازم کی تنخواہ ایک لاکھ 660 روپے ہے تاہم اس میں مختلف الاؤنسز، گاڑی، میڈ یکل اور گھر کی سہولت شامل کر لی جائے تو ماہانہ آمدن 7 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔
    اسی طرح گریڈ 21 کے افسر کی تنخواہ ایک لاکھ 12 ہزار کے قریب ہے جو سہولتیں شامل کرنے کے بعد 9 لاکھ 80 ہزار ماہانہ بنتی ہے جبکہ گریڈ 22 کے افسر کی تنخواہ ایک لاکھ 23 ہزار 500 کے قریب ہے جو دوسری سہولتیں ملانے کے بعد 11 لاکھ روپے بن جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق افسران تمام سہولتوں کے باوجود تنخواہوں میں اضافہ چاہتے ہیں.جبکہ سرکاری افسروں کو مختلف سہولتوں پرماہانہ 2 ارب 30 کروڑ روپے کے اخراجات آتے ہیں.

  • عباسی شہید اسپتال ٹراما سینٹر کے سامنے موجود لاوارث مریض کو ایدھی ہوم منتقل کر دیاگیا

    عباسی شہید اسپتال ٹراما سینٹر کے سامنے موجود لاوارث مریض کو ایدھی ہوم منتقل کر دیاگیا

    عباسی شہید اسپتال ٹراما سینٹر کے سامنے موجود لاوارث مریض کو ایدھی ہوم منتقل کیا گیا ۔
    رمضان کے مہینہ میں سرکاری اسپتال کا انسانیت سوز عمل نے سب کو ہلا دیا۔گزشتہ 4 روز سے عباسی شہید اسپتال ٹراما سینٹر کے سامنے ایک شخص ایڑیاں رگڑ رہا تھا۔ٹراما سینٹر کے سامنے پڑا شخص مکمل مفلوج حالت میں تھا.متاثرہ شخص نا چل سکتا ہے نا سہی سے بول سکتا تھا.علاقه میں موجود افراد اسکو اپنے ہاتھ سے کھلا پلا رہے تھے.جبکہ اسپتال انتظامیہ نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ اسپتال کے باہر موجود متعدد فلاحی اداروں کی ایمبولینسز بھی خاموش تماشائی بنی رہیں۔متاثرہ شخص کے جسم میں کیڑے پڑنا شروع ہو گئے۔واضع رہے کہ لاوارث مریض کو کراچی میں موجود سرکاری اسپتال داخل ہی نہیں کرتے .مریض کا کوئی وارث نہیں تو سرکاری اسپتال آنکھیں پھیر لیتے ہیں سرکاری اسپتال میں مفت علاج کی باتیں صرف باتیں ہیں

    ہمیشہ کی طرح فلاحی کاموں میں اپنا کردار ادا کرنے والے عبدالستار ایدھی کے ادارے نے لاوارث مریض کی جان بچائی .لاوارث مریض کو ایدھی ہوم میں طبی امداد دی گئی .مریض کی ٹانگ پر پلاسٹر کیا گیا مریض کی حالت بہتر ہے .سرکاری اسپتالوں کو مریضوں کے لئے جو کام کرنے چاہیئے وہ کام فلاحی ادارہ ایدھی فاؤنڈیشن کر رہا ہے.

  • سیاسی رہنماؤں نے عیدالفطر کے بعد کراچی میں دھرنا دینے کااعلان کردیا

    سیاسی رہنماؤں نے عیدالفطر کے بعد کراچی میں دھرنا دینے کااعلان کردیا

    سیاسی رہنماؤں نے عیدالفطر کے بعد کراچی میں دھرنا دینے کااعلان کردیا ۔
    باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق ملک کی مشہور تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاؤن کے متعلق سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر ایک لاکھ سے زائد برقی پیغامات ہوئے جس میں سیاسی رہنمائوں، ادیبوں،صحافیوں،دانشوروں نے بحریہ ٹاؤن اور اس کے مالک ملک ریاض پر خوب لعن تعن کی۔ سندھ حکومت پر تنقید کی گئی۔ سیاسی رہنمائوں نے عیدالفطر کے بعد کراچی میں دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر اتوار کو صبح دس بجے سے رات بارہ بجے تک جاری ہیش ٹیگ پاکستان کا ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ ہیش ٹیگ میں ملک ریاض کو دہشت گرد لکھا گیا۔اس ٹرینڈ کے دوران زندگی کےمختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کی ڈاکٹر قادر مگسی نے ایک وڈیو پیغام میں کہا کہ عیدالفطر کے بعد بحریہ ٹاؤن کے خلاف سڑکوں پر اور عدالتوں میں جنگ لڑیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے بحریہ ٹائون کے خلاف دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس ٹرینڈ میں ایک لاکھ سے زائد ٹوئیٹس ہوئے جس میں بحریہ ٹاؤن کے سیکیورٹی انچارج کرنل ریٹائرڈ عامر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • سندھ پولیس میں ذہنی دباؤ میں رہنے والے افسران کی شناخت کا فیصلہ

    سندھ پولیس میں ذہنی دباؤ میں رہنے والے افسران کی شناخت کا فیصلہ

    سندھ پولیس میں ذہنی دباؤ میں رہنے والے افسران کی شناخت کافیصلہ کرلیا، آئی جی سندھ نے کہا کہ مسلسل تناؤ سے افسران کی دماغی اورجسمانی صحت پرمنفی اثرپڑتاہے ایسے افسران کا پتہ چلنے پر فوری قدم اٹھایا جائے۔تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس میں ذہنی دباؤ میں رہنے والے افسران کی شناخت کافیصلہ کرلیا گیا ، اس حوالے سے آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے صوبے کے تمام ماتحت افسران کو خط لکھا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ پولیس کی نوکری ذہنی دباؤوالاپیشہ ہے، مسلسل تناؤسےافسران کی دماغی اورجسمانی صحت پرمنفی اثرپڑتاہے۔خط میں کہا ہے کہ افسر کی کارکردگی اور شہریوں سے رابطہ بھی متاثر ہوتا ہے ،شدیدذہنی دباؤمیں آکرخودکشی کاانتہائی قدم اٹھانےکی مثالیں موجودہیں، افسران کی پیشہ ورانہ کارکردگی بہتربنانےکیلئے سسٹم بنانے کی ضرورت ہے۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ ایسے افسران کا پتہ چلنے پر فوری قدم اٹھایا جائے اور ذہنی دباؤ میں رہنے والے افسرکومیڈیکل بنیادپرفوری چھٹی دی جائے جبکہ ایسے افسر کا ذہنی اور دماغی علاج بھی کروایا جائے۔

  • کراچی کے مرکز میں قائم سینٹرل جیل ملحقہ آبادی کیلیے وبال جان بن گیا

    کراچی کے مرکز میں قائم سینٹرل جیل ملحقہ آبادی کیلیے وبال جان بن گیا

    کراچی شہر کے بیچوں بیچ سینٹرل جیل کا قیام اطراف کی آباد ی کے لیےعذاب بن گیا ہے۔سکیورٹی خدشات کے باعث لگائے گئے جیمرز سے علاقے میں موبائل فون سروس کئی سال سے معطل ہے جس سے نیو ٹاؤن ، پی آئی بی، جمشید روڈ، یونیورسٹی روڈ، پرانی سبزی منڈی اور دیگر علاقوں کی آبادی متاثر ہو رہی ہے۔ایمرجنسی کال کی سہولت کے بغیر لوگوں کی عام زندگی کے معاملات ہی نہیں بلکہ کاروبار بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، شہریوں نے سینٹرل جیل کو شہر سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ جیل کی سکیورٹی کے نام پر عام لوگوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا کسی طرح بھی درست نہیں، جیل کے اندر موبائل فون سروس بحال ہے تو باہر کی سروس بند کرنے کی کیا تُک ہے؟خیال رہے کہ ماضی میں سینٹرل جیل میں کیے گئے آپریشن کے دوران قیدیوں سے بڑی تعداد میں موبائل فون برآمد ہونے سے جیل کے اندر موبائل نیٹ ورک فعال ہونے کا انکشاف ہو چکا ہے۔

  • ملیر کی عوام کیساتھ ہیں مسلم لیگ (ق) گوٹھوں کے مکینوں کی ہر طرح دادرسی کریگی، طارق حسن

    ملیر کی عوام کیساتھ ہیں مسلم لیگ (ق) گوٹھوں کے مکینوں کی ہر طرح دادرسی کریگی، طارق حسن

    پاکستان مسلم لیگ (ق) سندھ کے صدرمحمد طارق حسن نے کہا ہے کہ کراچی کے قدیم بلوچ و سندھی آبادیوں کو بحریہ ٹاؤن کی ایما پر سرکاری افسران کے ذریعے مسمار کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں صدیوں سے آباد مقامی مظلموں کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ ملیر کی عوام کیساتھ ہیں مسلم لیگ (ق) گوٹھوں کے مکینوں کی ہر طرح دادرسی کریگی انکی قدیم زمینوں پر کسی صورت قبضہ نہیں ہونے دے گی اور انکے حقوق کا تحفظ ہر صورت میں دلائیں گے طارق حسن نے کہا کہ ہے بحریہ ٹاون کو جو زمین الاٹ کی گئی ہے اسکی ڈیمارکیشن یا حد بندی فوری طور پر کی جائے اور اسٹنٹ کمشنر گڈاپ. مختیار کار گڈاپ. ایسں ایچ او سمیت دیگر جس نے بھی غفلت و غیر ذمہ داری کے مرتکب ہوئے ہیں برطرف کیا جائے اور اس میں پسں پردہ ملوث عناصر کو منظر عام پر لایا جائے.

  • شہر کو پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،نجم احمد شاہ

    شہر کو پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،نجم احمد شاہ

    سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ سید نجم احمد شاہ نے اتوار کے روز دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کا ہنگامی دورہ کیا اور تمام لیکج پوائنٹس کی فی الفور مرمت کا حکم دیتے ہوئے شہر کو بلاتعطل پانی کی فراہمی کی ہدایات بھی جاری کیں۔دورے کے موقع پر ایم واٹر بورڈ اسد اللہ خان بھی موجود تھے۔سیکرٹری بلدیات سندھ نے دھابیجی پمپنگ کمپلیکس کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اور تمام امور کا بغور جائزہ بھی لیا۔
    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نجم احمد شاہ نے کہا کہ شہر کراچی کو پانی کی بلا تفریق فراہی یقینی بنانے کے لئے محکمہ بلدیات سندھ جدید سائنسی خطوط پر کام کرنے کا خواہشمند ہے اور اس مقصد کی تکمیل کی خاطر عالمی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات و مشوروں سے بھی استفادہ حاصل کیا جارہا ہے۔
    سیکرٹری بلدیات سندھ کے مطابق کراچی کے تمام رہائشی و کمرشل علاقوں کی آبی ضروریات کی بروقت تکمیل کے لئے متعدد منصوبہ جات زیر تکمیل ہیں اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر جامع حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے تاکہ کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    انجینئر سید نجم احمد شاہ نے دورے کے دوران مختلف پمپنگ اسٹیشنز کی استعداد کار اور کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور بعض امور کی نشاندھی کرتے ہوئے انہیں کار آمد انداز سے سر انجام دینے کی ہدایت دی۔ بعد ازاں سیکرٹری بلدیات سندھ نے متعدد ساحلی علاقوں کا بھی دورہ کیا اور مستقبل قریب کی ضروریات اور واٹر ڈی سیلی ناٹیشن پلانٹس کے قیام اور ان کی ممکنہ افادیت کے حوالے سے اہم نکات کا جائزہ لیا۔

  • پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ کے مسائل حل نہ کرنے کی قسم کھائی ہے،خرم شیرزمان

    پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ کے مسائل حل نہ کرنے کی قسم کھائی ہے،خرم شیرزمان

    پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سند ھ اسمبلی خرم شیر زمان نے انصاف ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ کے مسائل حل نہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔ اٹھارویں ترمیم سے صوبہ سندھ کو شدید نقصان پہنچا، صرف آصف زرداری کو اٹھارویں ترمیم سے فائدہ ہو ا ہے۔
    صوبہ سندھ کے عوام کی زندگیاں بدترین ہوگئی ہیں۔اسمبلی فلور پر 45 منٹ وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت کی برائی کی اور صرف 15 منٹ سندھ میں اپنی کارکردگی بتائی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے عوام کی بہتری کیلئے کوئی بات نہیں کی۔ہماری خواہش تھی کہ وزیر اعلیٰ کوئی اپنی تجاویز پیش کرتے۔ پانی کے مسئلہ پر کوئی بات نہیں کی، اسکول،صحت، تعلیم کسی مسئلے پر بات نہیں کی۔
    اس موقع پر ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کراچی کے سینئر نائب صدر محمود مولوی، رکن سندھ اسمبلی شہزاد قریشی، پی ٹی آئی رہنما سمیر میر شیخ، فضہ ذیشان، گوہر خٹک اور دیگر موجود تھے۔خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ آصف زرداری اور بلاول نے وزیر اعلیٰ کو کچھ سیکھا کر نہیں بھیجا تھا۔ہم انتظار کرتے رہے کہ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کوئی تجویز پیش کریں۔
    بلاول کی پھپھو سے صحت کے مسائل پر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اورنج لائن کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کچھ نہیں بتایا، بس اتنا کہا کہ گرین لائن سے پہلے چلائیں گے۔ کراچی کے عوام کیلئے کوئی ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہیں ہے۔ ہمیں انتظار تھا کہ شاید کہ قبرستان بنانے کیلئے زمین کی الاٹمنٹس پر بات ہوگی۔ ہم نے انتظار کیا کہ مراد علی شاہ بتائیں گے کہ ترقیاتی کاموں کا پیسہ کہاں لگایا۔
    زرداری کا لاڈلہ یہ بتادیتا کہ وہ کرپشن کا خاتمہ کیسے کریگا، پلی بارگین افسران نیب زدہ لوگوں کا کیا انجام ہوگا ہم نے مراد علی شاہ کی تقریر کے دوران45 منٹ انتظار کیا کہ وہ بتائیں گے کہ سیف سٹی پلین کیسے تشکیل دیا جائے گا، مراد علی شاہ بتائیں گے کہ کرائم کیسے کنٹرول کریں گے۔ ڈیفنس کلفٹن بہادرآباد جوہر میں کئی لوٹ مار کی وارداتیں سامنے آئی۔
    انہوں نے مزید کہا کہ مراد علی شاہ کے پاس ہسپتالوں سے متعلق کوئی پلان نہیں ہے۔ ہسپتال این جی آوز چلارہے ہیں،مراد علی شاہ نے 45 منٹ عمران خان کی برائی کرنے میں نکالا۔ مراد علی شاہ کو عمران خان کی کوئی اچھائی دکھائی نہیں دیتی، پاکستان کا نظام بہتر ہوا ہے پوری دنیا تعریف کررہی ہے۔
    صوبہ سندھ کے لوگ مررہے ہیں، عوام کو بنیادی حقوق نہیں مل رہے۔ سرکاری اسکولوں کا برا حال ہے، بچے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا پیپلز پارٹی میں کوئی اور قابل لوگ نہیں ہیں سندھ حکومت کی کابینہ میں مردوں کے بجائے عورتوں کوذمہ داری دے دی جائے۔ہمیں امید ہے عورتیں بہترین کارکردگی دکھائیں گی۔ وزیراعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ سندھ کے عوام کے بارے سوچنا ہوگا۔
    پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کا استحصال کررہی ہے۔ سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کی پری بجٹ اسپیچ کے بعد مصطفی کمال اورجماعت اسلامی بھی اس پر خاموش ہے۔ سیاسی جماعتوں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ آج خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ہیلتھ کارڈز دیئے جارہے ہیں۔مگر اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے ہم بے بس ہیں۔
    صوبائی حکومت سندھ کے عوام کو ہیلتھ کارڈز کی سہولت دینے کی اجازت نہیں دے رہی۔ کراچی کے جناح ہسپتال کے وارڈ 7 کی حالت دیکھ کر افسوس ہورہا تھا۔ ہسپتال میں اے سی خراب ہیں گرمی کا عالم ہے۔خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ سندھ میں 6مہینے کے لئے گورنرراج لگادیا جائے۔ پی ٹی آئی اس چھ مہینے میں انہیں کام کرکے دکھائی گی۔ اٹھارویں ترمیم پر بات کریں تو پیپلز پارٹی والے سندھ کارڈ کھیلتے ہیں، یہ سندھ کے لوگوں کو ورغلا تے ہیں۔
    سندھ کے عوام کو انہوں نے کچھ نہیں دیا۔ جو نوکریاں انہوں نے دی وہ بیچی گئی۔مراد علی شاہ کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے اہل نہیں ہیں۔مراد علی شاہ صوبے کے ناکام ترین وزیر اعلیٰ ہیں۔ پی پی اگر سندھ میں تبدیلی نہیں لائی تو ہم سوچیں گے

  • پورا سندھ باالخصوص کراچی بھتے پر چل رہا ہے،سردارذوالفقار

    پورا سندھ باالخصوص کراچی بھتے پر چل رہا ہے،سردارذوالفقار

    پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری سردار ذوالفقار نے سہراب گوٹھ میں بڑے ریسٹورینٹس کے کھلے رہنے اور چھوٹے ریسٹورنٹ مالکان کو کھولنے کی اجازت نہ دینے کو بڑی بھتہ خوری کی علامت قراردیا ہے اور کہا ہے کہ پورا سندھ باالخصوص کراچی بھتے پر چل رہا ہے۔ بغیربھتہ دیئے کوئی بھی کاروبار نہیں کر سکتا۔
    بھتہ خور حکمرانوں نے کورونا وبا کو بھی بھتہ خوربنا دیا ہے۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی کی حکومت وینٹیلیٹر پر ہے۔ عوام آئندہ ووٹ دیتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوروناا وائرس پولیس اور انتظامیہ کے ماتحت ہے۔ جہاں سے بھتہ ملے وہاں کورونا وائرس غائب اور ایس او پیز پر عمل نہیں ہوتا۔
    مہنگائی کی سب سے بڑی اور اہم وجہ بھتہ اور بھتہ خور ہیں جن کا خاتمہ لا زمی اور ضروری ہو گیا ہے۔

    پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی عوام سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل کرتی ہے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں سردار ذوالفقار نے کہا کہ تمام انتظامی افسران و اہلکاروں کے اثاثہ جات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ بھتہ خور معاشرہ میں بگاڑپیدا کرنے اور عوام کی مشکلات و مہنگائی میں اضافے کاباعث ہیں۔ اداروں کو بھتہ خوروں سے پاک کرکے تاجروں اورعوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے اور ایس او پیز پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

  • سیکورٹی خدشات کے باعث کراچی جیل کے اطراف موبائل فون سروس برسوں سے معطل

    سیکورٹی خدشات کے باعث کراچی جیل کے اطراف موبائل فون سروس برسوں سے معطل

    سیکیورٹی خدشات کے باعث کراچی سینٹرل جیل کے اطراف موبائل فون سروس کئی سال سے معطل ہے، جس کے باعث لاکھوں شہری پریشان ہیں، شہریوں نے جیل کو شہر سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا۔سینٹرل جیل کراچی کا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ یہ شہر سے باہر نہیں، بلکہ عین بیچوں بیچ موجود ہے، دوسرا مسئلہ اسکے جیمرز ہیں جو لگائے تو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر گئے تھے لیکن ان کی وجہ سے نیو ٹاؤن، پی آئی بی، جمشید روڈ، یونیورسٹی روڈ، پرانی سبزی منڈی اور دیگر علاقوں میں موبائل فون سروس کئی سال سے معطل ہے۔ایمرجنسی کال کی سہولت کے بغیر لوگوں کی عام زندگی کے معاملات ہی نہیں بلکہ کاروبار بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔لوگوں کا مطالبہ ہے کہ سینٹرل جیل کو شہر سے باہر منتقل کیا جائِے۔متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ جیل کی سیکیورٹی کے نام پر عام لوگوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا کسی طرح بھی درست نہیں۔ جیل کے اندر موبائل فون سروس بحال ہے تو باہر کی سروس بند کرنے کی کیا تک ہے؟ماضی میں سینٹرل جیل میں کیے گئے آپریشن کے دوران قیدیوں سے بڑی تعداد میں موبائل فون برآمد ہونے سے جیل کے اندر موبائل نیٹ ورک فعال ہونے کا انکشاف ہوچکا ہے۔