Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی ،25 سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزم پکڑا گیا

    سندھ رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی ،25 سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزم پکڑا گیا

    پاکستان رینجرز(سندھ)اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ڈکیتی کی 25 سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزم محمد نعمان عرف ڈاڈاکو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق مورخہ 4 مارچ کو ملزم اپنے ساتھی کے ہمراہ سیکٹر ساڑھے گیارہ کے علاقے میں گھر کے باہر تین لڑکوں سے موبائل فون اور نقدی چھیننے کی واردات کی۔
    جس کی سی سی ٹی وی فویٹج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ ملزم کے ساتھی نعیم عرف چریا کے پاس 30بور پسٹل بھی تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کو باآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔ ملزم کی گر فتاری سی سی ٹی وی فو ٹیج کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔ دوران تفتیش ملزم محمد نعمان عرف ڈاڈا نے اعتراف کیا کہ وہ اپریل 2021 کے دوران اپنے ساتھی نعیم عرف چریا کے ساتھ مل کر گن پوائنٹ پر مختلف علاقوں (رئیس امرہوی، ڈسکو موڑ، اسلام چوک، نشان حیدر چوک اور گردونواح)میں چھینا جھپٹی،خواتین سے پرس اور راہ گیروں سے موبائل فو ن چھیننے کی مختلف واردتوں میں ملوث رہا ہے۔
    گرفتار ملزم کوقانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتار ی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی چیک پوسٹ،رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر9001111-0347 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

  • شہر قائد میں پانی کی قلت تاجر الائنس نے مختلف علاقوں میں احتجاج کی دھمکی دیدی

    شہر قائد میں پانی کی قلت تاجر الائنس نے مختلف علاقوں میں احتجاج کی دھمکی دیدی

    کراچی تاجر الائنس کے چیئرمین ایاز میمن موتی والانے کراچی کے مختلف علاقوں میں قلت آب پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ کراچی کی حکمرانی کے دعوے داروں نے شہر کو کربلا بنادیاہے، ہماری خوتین بچے اور بوڑھے ایک گیلن پانی کے حصول کے لیے لائنوں میں لگے ہوئے ہیں،کراچی میں پانی کا مسئلہ کوئی ایک یا دومہینے پہلے کانہیں ہے بلکہ شہر قائد کی عوام یہ عذاب کئی برسوں سے سہہ رہی ہے،لیاری، ملیر ،کورنگی ،فیڈرل بی ایریا،ناظم آباد ،اورنگی ٹائون،لانڈھی سرجانی سمیت کراچی کا شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں کے لوگ لمبی لمبی لائنیں لگاکر قطاورں میں نہ کھڑے ہوجبکہ بے حیائی تو ان حکمرانوں کی ہے جنھوں نے عوام کو دوبوند پانی کے لیے گھروں سے بے گھر کیاہواہے ایسا لگتاہے شہر کا تمام پانی ٹینکر مافیا کو دیدیا گیا ہے جو منہ مانگے داموں شہریوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا رہاہے ، ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈیفنس آفس میں لیاری کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے علاقہ معززین سے ملاقاتوں میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر پورے ملک کو پالتاہے مگر یہاں کے لوگ دنیا کی تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اس شہر کی بدقسمتی ہے کہ سیاستدان یہاں کے مسائل کو حل کرنے کا لالچ دیکر ہمیشہ سے ہی اقتدار بناتے رہے ہیں مگر جیتنے کے بعد کبھی بھی کسی امیدوار نے یہاں کی عوام سے دوبارہ آکر ان کا حال نہیں پوچھا ہے۔
    انہوں نے کہاکہ یہ سندھ اور وفاقی حکومت دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر قائد کی عوام کو کم ازکم پانی کی سہولت تو فراہم کریں اگر یہ بھی ان سے نہیں ہوتا عوام کی بدوعائوں سے انہیں پھر کوئی نہیں بچاسکتا ،ایاز میمن موتی والا نے مزید کہاکہ تاجر الائنس شہر قائد کی عوا م کو تنہا نہیں چھو ڑ سکتی اگر متعلقہ محکمہ کی جانب سے شہر میں پانی کے بحران کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو ہم شہر کے مختلف علاقوں میں حکومت ،ٹینکر مافیا اور واٹر بورڈکے خلاف احتجاج پر مجبور ہونگے ۔

  • ہمیں بھی دیگر کاروبار کی طرح اپنا کاروبار اوپن کرنے کی اجازت دی جائے ،آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن

    ہمیں بھی دیگر کاروبار کی طرح اپنا کاروبار اوپن کرنے کی اجازت دی جائے ،آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن

    آل کراچی ریسٹورنٹ ایسوسی ایشنکی جانب سے حویلی ریسٹورینٹ بلاک ایچ نارتھ ناظم آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔پریس کانفرنس میں محمد حنیف خان ، فرحان عباس ، حسن طارق ، خلیل صدیقی ، اطہر آفتاب ، ظہیر عباس ‘ سید جعفر سمیت اور دیگر نے شرکت کی۔
    اس موقع پر (AKRA)آل کراچی ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر اسد حنیف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ریسٹورنٹ کے کاروبار سے وابستہ لوگ بے حد پریشان ہیں ہم نے حکومتی سطح پر جو اقدامات کیے تھے اس کو فالو کرتے ہوئے اپنا کاروبار بند رکھا تھا مگر اب تقریباً سب کچھ کھول دیا گیا ہے بازار ‘ شاپنگ مال ، سپر اسٹور ، بینک ، ہوائی جہاز ، مویشی منڈی ، ٹرین ، جیسی عوامی اجتماع والی جگہیں کھل چکی ہیں ، لہٰذا ہم کو بھی اپنا کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے اسد حنیف نے کہا کہ ہمارے پاس جو ملازمین کام کرتے ہیں ان کا بھی ہم پر بہت پریشر ہے ہمارے پاس ان کو اجرت دینے کے وسائل نہیں ہیں ہم ان کو نکال کر بے روزگار نہیں کرسکتے ہم صوبائی و وفاقی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ مثبت حکمت عملی ترتیب دے کر ہمیں ہمارے کاروبار اوپن کرنے کی مکمل طور پر اجازت دی جائے ہماری آواز ہمارے مطالبے کو سنجیدہ لیا جائے ہم سے ہمارا حلال ذریعہ معاش نہ چھینا جائے لاک ڈائون کی وجہ سے اس کاروبار سے وابستہ لوگ فاقہ کشی کا شکار ہو رہے ہیں اس موقع پر AKRAکے سرپرست اعلیٰ فرحان عباس ، محمد حنیف خان ، اظفر آفتاب ، ظہیر عباس ، سجاد ، مظہر خان ، احمد ، بلال ، شاہد ، خلیل صدیقی ، سید جعفر ، حسن طارق ، نہال انجم ، انس رئیس ، وکٹور ، ایم فاروق ، سلمان ، تیمور اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں اس موقع پر تمام شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ ہوم ڈلیوری کے ساتھ ساتھ ڈائیننگ کرنے کی سہولت بھی مکمل ایس او پیز کے ساتھ اجازت دی جائے۔

  • اج ٹوئٹر اور پی ڈی ایم خاموش ہیں،کیونکہ ان کے پیسے باہر ملکوں میں پڑے ہوئے ہیں،حلیم عادل

    اج ٹوئٹر اور پی ڈی ایم خاموش ہیں،کیونکہ ان کے پیسے باہر ملکوں میں پڑے ہوئے ہیں،حلیم عادل

    پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء و اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی قیادت میں ریلی پریس کلب حیدرآباد پہنچ گئی۔ریلی میں مشیر گورنر سندھ علی جونیجو پی ٹی آئی کے قائدین سید ذوالفقار شاہ، خاوند بخش جہیجو، ایڈووکیٹ علی پلھ، پیر زمان شاہ جیلانی، حاجی عبدالرزاق میمن، الطاف نظامانی، امین اللہ موسیٰ خیل، عمران قریشی، علی ہنگورو، جمشید شیخ، ڈاکٹر مستنصر بلا، اویس پٹھان، محسن گھمن، ارسلان گھمن، پیر مرتضیٰ شاہ جیلانی، کیو محمد حاکم، نواب ابوبکر تالپور اور دیگر شامل۔
    حیدرآباد میں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کا ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا اج ٹوئٹر اور پی ڈی ایم خاموش ہیں،کیونکہ ان کے پیسے باہر ملکوں میں پڑے ہوئے ہیں،ہم کیسے پیچھے رہ سکتے تھے، ہمارے فلسطینی بھائیوں پر ظلم و بربریت کا شکار ہیں، فلسطینی بچوں اور خواتین پر بمباری کی جا رہی ہے، اس مشکل وقت میں عالم اسلام کے لیڈر عمران خان نے قدم بڑہایا، جب ہم عمران خان کے وزیراعظم ہونے کا نعرہ لگاتے ہیں تو سر فخر سے بلند ہوا، حلیم عادل شیخ کہتے ہیں عمران خان نے سب سے پہلے فلسطین کے وزیر اعظم کو کال کی، عمران خان نے بلاک بناکر اسرائیلی وزیراعظم پر پریشر ڈالا، پریشر کے باعث اسرائیل جنگ بندی پر مجبور ہوا، آج جگہ جگہ ریلی یہ ثابت کررہی ہے سندھ سمیت پورا پاکستان فلسطین کیساتھ ہے؛یم عادل شیخ نے کہا آج ہمارے ساتھ پوری قیادت اور رہنما شامل ہیں، آج اسرائیل اور فلسطین کی بات ہورہی ہے نوازشریف کی بات نہیں، نوازشریف تو پہلے ہی گو ہوچکے نواز شریف کے ٹین ٹپڑ گول ہوچکے ہیں،آج سب کی بولتی بند کیوں ہے، سب خاموش ہیں، آج چھوٹے شریف اور محترمہ کی بولتی بند ہے، آج بلاول بھٹو، وزیراعلی سندھ، اچکزئی سمیت سب کی زبان بند ہے، لعنت ہے ان کی قیادت پر یہ سب خاموش ہیں، ان سے سب کے پیسے باہر پڑے ہیں، اس لئے خاموش ہیں، یہ سمجھتے ہیں اگر یہ بولے تو ان کی دولت ڈوب جائے گی.

  • اقوام متحدہ اور اسلامی سربراہ کانفرنس کی فلسطینی مظالم پر خاموشی کی مذمت کرتے ہیں ،علامہ کمال حیدر

    اقوام متحدہ اور اسلامی سربراہ کانفرنس کی فلسطینی مظالم پر خاموشی کی مذمت کرتے ہیں ،علامہ کمال حیدر

    قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی کے حکم پر کراچی کے مختلف علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے حالیہ بربریت اور فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف مظاہرے کئے گئے ۔کھارادر میں منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل کراچی ڈویژن کے صدرعلامہ کامران حیدر عابدی نے اسرائیلی مظالم پر اقوام متحدہ ،اسلامی سربراہ کانفرنس اور عرب ممالک کی مجرمانہ خاموشی کی مذمت کی اور کہا کہ قبلہ اول کی آزادی کیلئے شیعہ و سنی مسلمانوں کی مشترکہ جدوجہد جاری رہیگی۔
    اس سلسلے میں شیعہ علماء کونسل ضلع جنوبی کے صدر مولانا رجب ھاتمی اور ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ۔جبکہ پہلوان گوٹھ میں منعقدہ احتجاجی ریلی سے علامہ ناظر عباس تقوی اور اہل سنت کے عالم دین قاری نثار احمد نے خطاب کیا اور اسرائیلی جارحیت کی مزمت کی ۔جبکہ طوری بنگش کالونی اورنگی ٹاؤن میں بھی احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے جن سے مقامی علماء نے خطاب کیا اور کہا کہ مسلمان باہمی اتحاد اور اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کو روکیں۔جبکہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان رہبر معظم آغا سید علی خامنہ ایٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے متحد ہوجائیں۔

  • آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے کراچی پریس کلب کے صحافی ممبران اور ان کے اہل خانہ کے لیے کرونا سے بچاو کا ٹیکہ لگوانے کی سہولت مہیا کر دی

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے کراچی پریس کلب کے صحافی ممبران اور ان کے اہل خانہ کے لیے کرونا سے بچاو کا ٹیکہ لگوانے کی سہولت مہیا کر دی

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے کراچی پریس کلب کے صحافی ممبران اور ان کے اہل خانہ کے لیے کرونا سے بچاو کا ٹیکہ لگوانے کی سہولت مہیا کر دی۔
    با خبر ذرائع کے مطابق صدر آرٹس کونسل احمد شاہ نے کہا کہ صحافی برادری اپنے اہل خانہ سمیت آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں قائم کووڈ19ویکسینیشن سینٹر سے ویکسین لگوا سکتی ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے کراچی پریس کلب کے ممبران سمیت الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے متعلق خواتین و حضرات اور 30 سال عمر سے زائد ان کےخاندان کے افراد کو آرٹس کونسل میں کرونا وائرس ویکسین لگوانے کی سہولت مہیا کی ہے۔

  • ‏کراچی پریس کلب کے باہر تحریک انصاف کی جانب سے فلسطین کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ

    ‏کراچی پریس کلب کے باہر تحریک انصاف کی جانب سے فلسطین کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ

    ‏پی ٹی آئی کراچی ریجن کے زیرِ اہتمام کراچی پریس کلب پر فلسطین سے اظہارِ یکجحتی اور اسرائیلی بربریت اور مظالم خلاف مظاہرہ۔
    پی ٹی آئی کراچی ریجن کے صدر خرم شیر زمان و دیگر زمہ داران سمیت کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد مظاہرے میں شامل۔‏‏کراچی کے باشعور شہریوں نے فلسطین کے لیے آواز اٹھائی۔ شہری جہاد میں شامل ہوگئے ہیں, ہماری جہاد جاری رہے گی۔ خرم شیر زمان کہتے ہیں اسرائیل کیخلاف پاکستانی قوم ایک ہے آج ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والا اس احتجاج میں موجود ہے فلسطین بھائیوں کے ساتھ ہیں, ہم اسرائیل کے سامنے ایک دیوار چٹان کی طرح کھڑے ہیں وزیراعظم کی ایک کال پر قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے.‏وزیراعظم فلسطین اور کشمیر کی جنگ لڑرہے ہیں.یہ سمندر گواہی دے رہا ہے, اسرائیلی مظالم کی جنتی مزمت کی جائے کم ہے فلسطین نے ماہ رمضان میں مسجدوں پر بم باری کی.‏یہ ممکن نہیں ہے کہ فلسطین میں خون کی نہری بہیں اور ہم خاموش رہیں ۔ہمارے پاس ایک ایسا لیڈر ہے, ترکی کے وزیراعظم نے کہا کہ میں جو سوچتا ہوں عمران خان وہ کرتا ہے۔‏جب تک کشمیریوں اور فلسطینیوں کو انصاف نہیں ملتا ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔اس دنیا میں ظالم کی کوئی جگہ نہیں ہے ظالم کو ایک کونے سے لگانا ہے۔

  • ڈاکٹر کے گھر ڈکیتی، ملزمان 60لاکھ سےزائدمالیت کا قیمتی سامان تھیلوں میں ڈال کر فرار

    ڈاکٹر کے گھر ڈکیتی، ملزمان 60لاکھ سےزائدمالیت کا قیمتی سامان تھیلوں میں ڈال کر فرار

    ڈاکٹر کے گھر پر ڈکیتی کی واردات میں ملزمان 60لاکھ سےزائدمالیت کا قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوگئے ، سی سی ٹی وی ویڈیو میں ملزمان کو بورے اور تھیلوں میں سامان لے جاتے دیکھا گیا ہے۔
    تفصیلات کے مطابق کراچی میں ریلوے رہائشی کالونی میں ایم ایس حسن اسپتال کے گھر چوری کی واردات ہوئی ، جس میں گھریلو ملازم 60لاکھ سےزائدمالیت کا قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوگیا واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پرآگئی، جس میں ملزمان کوبورے،تھیلوں میں سامان لےجاتے دیکھاجاسکتاہے، سامان لے جانے والے ملزمان میں مرد اور خواتین شامل ہیں۔
    واردات عیدکی چھٹیوں8سے16 مئی کےدوران کی گئی ، مبینہ طورپرگھریلوملازم نے ساتھیوں سمیت واردات کی ، ایم ایس کوتعطیلات کے بعد گھر پہنچنے پر چوری کاپتہ چلا۔ملزم نے45لاکھ مالیت کی فیکومشین ، 60انچ ایل ای ڈی،ایک لیپ ٹاپ،ایک موبائل چرایا جبکہ دواستریاں ،3گھڑیاں اور2لاکھ روپے کیش بھی لوٹے گئے ، ملزم نےجوتے،پرفیوم،پرس اور دیگر اشیا کو بھی نہیں چھوڑا۔ ملازم 8 سال سےایم ایس حسن اسپتال کےگھر کام کرتاہے تاہم ملازم کےخلاف ریلوے پولیس کینٹ اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

  • سندھ اسمبلی میں فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور مسجد اقصیٰ پر حملے کیخلاف قرارداد پیش

    سندھ اسمبلی میں فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور مسجد اقصیٰ پر حملے کیخلاف قرارداد پیش

    فلسطین میں اسرائیلی مظالم ،مسجد اقصیٰ پر حملے کیخلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کردی گئی۔ ایم کیوایم پاکستان کی طرف سے منگلا شرما نے قرارداد پڑھی۔ سندھ اسمبلی میں قرارداد وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کی مشاورت سےمذکورہ قرارداد پیش کررہاہوں، سندھ اسمبلی میں ‏قرارداد کے ذریعے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا،۔
    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی کی طرف رابعہ اظفر نظامی نے ایوان میں قرارداد پڑھی ‏کراچی:سندھ اسمبلی میں نصرت سحر عباسی نے بھی قرارداد پیش کی۔قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان اسرائیل کی بزدلانہ کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے، ایوان بہادر فلسطینیوں کی جرات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے، وفاقی حکومت ‏پاکستانیوں کےجذبات کی ترجمانی کرتےہوئےیواین سےرجوع کرے۔
    کراچی ایم کیوایم پاکستان کی طرف سے منگلا شرما نے قرارداد پڑھی، پی ٹی آئی کی طرف رابعہ اظفر نظامی نے ایوان میں قرارداد پڑھی اسرائیلی جارحیت ،اور فلسطینیوں کی شہادت پر ‏ایوان دکھ کا اظہارکیا گیا ۔قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان اسرائیل کی بزدلانہ کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے، ایوان بہادر فلسطینیوں کی جرات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے، وفاقی حکومت ‏پاکستانیوں کےجذبات کی ترجمانی کرتےہوئےیواین سےرجوع کرے۔
    نصرت سحر عباسی کا کہنا تھا کہ ایسا وقت کسی مسلمان قوم پر آئے تو حکم ہے جہاد کیلئے نکلو، جہاد کیلئے جا نہ سکیں لیکن یکجہتی کا اظہار تو کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی قرار داد کی جتنی اہمیت ہے اس کو ہمیں سمجھناہوگا، اسمبلی سے ایسی قرار داد پاس ہوں تو ایمان کی تازگی کا احساس ہوتاہے۔
    نصرت سحر نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کا دور ہے وہاں دکھایا جارہا ہے کہ فلسطین میں کس قدر ظلم و ستم ہورہا ہے۔ مسجد اقصٰی کی اہمیت مسلمان کےعلاوہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کوبھی پتہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ہمارا قبلہ اول تھا ہم کیسے یہ بھول سکتے ہیں، صرف قراردادتک محدود رہےتو فلسطینیوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔

  • سپریم کورٹ میں گرمیوں کی 3 ماہ کی چھٹیوں کا نوٹیفیکشن جاری۔

    سپریم کورٹ میں گرمیوں کی 3 ماہ کی چھٹیوں کا نوٹیفیکشن جاری۔

    سپریم کورٹ میں گرمیوں کی 3 ماہ کی چھٹیوں کا نوٹیفیکشن جاری۔

    ایک مقروض ملک جس میں سپریم کورٹ کا ایک جج ماہانہ تنخواہ اور مراعات کی مد میں کم و بیش 25 لاکھ روپے وصول کرتا ہے کونسی ایسی مشقت کرتا ہےکہ اسے تنخواہ اور مراعات سمیت 3 مہینے گھر بیٹھ کے آرام کرنا ہے۔

    تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی 2 سے ڈھائی ماہ چھٹیاں دینے کا مقصد تو سمجھ میں آتا ھے کہ بچوں کو گرمی کی شدت سے بچایا جائے۔

    لیکن سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان ایئر کنڈیشنڈ گھروں سے ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر ایئرکنڈیشنڈ عدالتوں میں بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں زیر التوا مقدمات کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ سائلین برسوں اپنے کیس کی سماعت کا انتظار کرتے ہیں۔فراہمی انصاف میں پاکستان کو دنیا میں 118 ویں نمبر پہ لانے والے ان معزز جج صاحبان سے نہ حکومت سوال کر سکتی ہے نہ عوام۔
    پہلی بات تو اعلیٰ عدلیہ سمیت ضلعی عدالتوں کے جج کوئی جسمانی مشقت نہیں کرتے کہ انہیں 3-3 ماہ کی چھٹیاں اور چھٹیوں کے دوران لاکھوں روپے ماہانہ قومی خزانہ سے ادا کئے جائیں۔دوسرا اگر سہل پسندی کی عادت نہیں جا سکتی تو 3 ماہ کی یہ چھٹیاں بغیر تنخواہ کے ہونی چاہییں۔ ایک غریب مقروض ملک میں جہاں لوگ بھوک سے خودکشیاں کررہے ہوں وہاں یہ عیاشی ناقابل فہم ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ججز یا عدلیہ کے بارے جائز بات کریں تو بھی توہین عدالت کا ڈر رہتا ہے جسکی وجہ سے حکومتیں خاموش تماشائی بنی تماشا دیکھتی ہیں پھر پیسہ کونسا انکی جیب سے جانا ہے۔ کھال تو غریب آدمی کی اترنی ہے۔