Baaghi TV

Category: کراچی

  • بلاول بھٹو زرداری کی کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز پر دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت

    بلاول بھٹو زرداری کی کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز پر دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ اور تربت میں سکیورٹی فورسز پر دہشتگرد کے حملوں کی شدید مذمت کی.مذمت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا پی پی پی چیئرمین کا حملوں میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا بلاول بھٹو زرداری نے شہید اہلکاروں کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے.اس طرح کی بزدلانہ کاروائیوں سے پاکستانی قوم کے حوصلے توڑے نہیں جاسکتے . دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، اس پر کوئی دو رائے نہیں دہشتگردوں کے لیئے نرم گوشہ رکھنے والی جماعت کا اقتدار میں ہونا بدقسمتی ہے.ملکی حالات روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں، خاموش نہیں رہا جاسکتا.دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ باعثِ تشویش ہے.

  • کراچی پورٹ ٹرسٹ،ایک صدی پرانی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت

    کراچی پورٹ ٹرسٹ،ایک صدی پرانی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت

    کراچی شہر انگریز دور میں بھی علم و فنون کا مرکز، تہذیب و ثقافت کا گہوارہ اور کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کے لیے مشہور رہا ہے جہاں مختلف اقوام اور مذاہب کے ماننے والے بستے تھے جس کی ایک جھلک یہاں کے فنِ تعمیر میں بھی نظر آتی ہے۔کراچی میں کئی قدیم عمارتیں دیکھی جاسکتی ہیں جو آج بھی رہائشی اور کاروباری مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہیں۔ ان میں سے اکثر عمارتیں ہندو راجائوں، امرا اور برطانوی حکم رانوں کی بنوائی ہوئی ہیں، جو اس زمانے کے جمالیاتی ذوق کی آئینہ دار ہیں۔ ایک ایسی ہی مشہور اور اہم عمارت کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ہیڈ کوارٹر کی ہے جسے ایک صدی قبل تعمیر کیا گیا تھا۔اس عمارت کا سمندری راستوں سے سامان کی ترسیل میں کلیدی کردار رہا ہے اور اس عمارت سے متعلقہ عملہ شہر کی اہم ترین بندر گاہ کے لیے کئی دہائیوں سے خدمات فراہم کررہا ہے۔
    کراچی پورٹ ٹرسٹ کی عمارت کا یہ مرکزی دفتر برطانوی، ہندو اور گوتھک ثقافتوں کے امتزاج کا نمونہ ہے اور ماہرین کے مطابق اس میں‌ رومن فنِ تعمیر کی آمیزش بھی ہے، جب کہ عمارت کا مرکزی گنبد اسلامی طرزِ تعمیر کا عکاس ہے۔یہ کراچی کی اہم اور نمایاں عمارات میں سے ایک ہے جسے بمبئی حکومت کے کنسلٹنٹ آرکیٹکچر جارج وائٹ نے ڈیزائن کیا تھا۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے انتظامی دفاتر کی تعمیر 1916ء میں مکمل ہوئی تھی جہاں سے آج تک کراچی پورٹ کے لیے عملہ سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔
    اس قدیم عمارت کی تعمیر کا کام 1912ء میں شروع کیا گیا تھا جو چار سال کی مدت میں‌ مکمل کیا گیا اور اس وقت کے ممبئی کے گورنر لارڈ ویلنگٹن نے اس کا افتتاح کیا تھا، اس دور میں‌ اس کی تعمیر پر 9 لاکھ سے زائد رقم خرچ ہوئی تھی۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں‌ کہ اس عمارت کو پہلی جنگِ عظیم کے دوران انڈیا جنرل اسپتال کا نام دے دیا گیا تھا جب کہ مئی 1919ء تک یہ عمارت فوجی اسپتال کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔یہ عمارت دو منزلہ ہے جس کے دروازے کھڑکیاں بڑے اور محرابیں کشادہ و بلند ہیں۔ دروازوں اور کھڑکیوں میں مہنگی ساگون لکڑی استعمال کی گئی ہے۔ عمارت کا داخلی اور خارجی حصّہ سادہ اور پُرکشش ہے، جب کہ کمرے کشادہ ہیں جن کی چھت اونچی ہے۔یہ عمارت ماضی کی یادگار اور اہم قومی ورثہ ہے جہاں یومِ‌ آزادی اور دیگر اہم تہواروں پر برقی قمقمے روشن کیے جاتے ہیں اور سجاوٹ و آرائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

  • سندھ بھر میں سیکڑوں پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران کورونا کا شکار

    سندھ بھر میں سیکڑوں پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران کورونا کا شکار

    حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں سیکڑوں پولیس افسران و اہلکار ڈیوٹی کے دوران کورونا وائرس کا شکار ہوئے اور ان میں سے 30 اہلکار جان کی بازی ہار گئے، صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس اہلکاروں کو کورونا ویکسین لگائی جارہی ہے۔کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیتلھ ورکرز کے ساتھ فورسز کے جوان بھی صف آراء ہیں، شدید گرمی، میں کورونا وائرس سے آگہی مہم ہو یا ایس او پی پر عمل درآمد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے جوان آپ کو اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے نظر آئیں گے۔حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں اب تک چھ ہزار سے زائد پولیس افسران اور جوان کورونا وائرس کا شکار ہوگئے جن میں 30 افسران جان کی بازی ہارگئے۔ایس ایس پی حیدرآباد کہتے ہیں کہ حیدرآباد واحد ضلع ہے جہاں چار ہزار سے زائد پولیس فورس کو ویکیسن لگائی جارہی ہے۔ایس ایس پی حیدرآباد کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی فیملی کو بھی ویکسنش لگائی جارہی ہے۔کورونا وائرس کے شکار کئی افسران اب بھی آئسولیٹ ہیں اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد صحت یاب ہو کر پھر عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔

  • کراچی پولیس کی شہر قائد میں کرمنلز،منشیات فروشوں اور مفرور ملزمان کیخلاف کامیاب کارروائیاں۔

    کراچی پولیس کی شہر قائد میں کرمنلز،منشیات فروشوں اور مفرور ملزمان کیخلاف کامیاب کارروائیاں۔

    کراچی پولیس کی شہر قائد میں جرائم کی روک تھام کیلئے اسٹریٹ کرمنلز منشیات فروشوں اور مفرور ملزمان کیخلاف کامیاب کارروائیاں۔
    پولیس نے گزشتہ ہفتے کراچی کے ایسٹ، ویسٹ اور ساوتھ زون میں چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 1388 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا۔پولیس نے انسداد منشیات مہم کے دوران منشیات فروشوں کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی 94 کلو 965 گرام چرس اور 385 گرام ہیروئن برآمد کی۔
    گرفتار اسٹریٹ کرمنلز سے شہریوں سے لوٹ مار اور دیگر وارداتوں میں استعمال شدہ 135 سے زائد مختلف اقسام کا غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن اور 07 دستی بم تحویل میں لے لئے گئے۔
    شہر میں انسداد جرائم کے دوران ملزمان سے پولیس کے 05 مقابلے ہوئے، فائرنگ کے تبادلے میں تین اغواء کار ہلاک، 03زخمیوں سمیت 04 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزمان سے 03 چھینی و چوری شدہ موٹرسائیکلیں اور 04 پستول برآمد ہوئے جنہیں فارنزک کیلئے روانہ کر دیا گیا ہے۔
    اینٹی وائلینٹ کرائم سیل نے گزشتہ ہفتے ایک کارروائی میں اغواء برائے تاوان میں ملوث تین اغواءکار پولیس کی جوابی فائرنگ سے ہلاک ہوئے اور دو مغویوں کو بحفاظت بازیاب کیا گیا۔
    اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ کراچی نے سنگین جرائم میں ملوث 08 ملزمان کو گرفتار کر کے غیر قانونی اسلحہ اور منشیات تحویل میں لے لیا۔شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کے دوران اینٹی وھیکل لفٹنگ سیل نے 06 کار/موٹرئیکل لفٹرز کو گرفتار کر کے 04 چھینی/چوری شدہ موٹرسائیکلیں برآمد کی۔
    کراچی پولیس نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 44 چھینی و چوری شدہ موٹرسائیکلیں اور 02 گاڑیاں تحویل میں لے لیں۔کراچی پولیس کیجانب سے جرائم کے خاتمے، امن وامان کی بحالی اور عوام کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات جاری رہینگے۔

  • ملیر سٹی سے ایم کیو ایم لندن کا دہشتگرد دستی بم سمیت گرفتار۔

    ملیر سٹی سے ایم کیو ایم لندن کا دہشتگرد دستی بم سمیت گرفتار۔

    کراچی ملیر سٹی سے ایم کیو ایم لندن کا دہشتگرد دستی بم سمیت گرفتار۔

    گرفتار ملزم محمد شہزاد عرف کھجی عرف حضرت راسے تربیت یافتہ ہے۔گرفتار دہشتگرد مجموعی طور پر اٹھارہ قتل کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ملزم نے 1988 میں متحدہ لندن میں بطور کارکن شاہ فیصل سیکٹر 104 میں شمولیت اختیار کی۔ملزم شہزاد 1993 میں نعیم شری کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم میں شامل ہوا۔
    17 اکتوبر 1994کو ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سب انسپکٹر محمد اسلم اور پولیس کانسٹیبل محمد ایوب کو فائرنگ کر کےشہید کیا۔حملے میں ڈی ایس پی مختیار احمد چوہدری بھی زخمی ہو گئے تھے۔ملزم نےرضا اسکوائر گلشن اقبال میں پیدل گشت پر مامور پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کر کے شہیدکرنے کابھی انکشاف کیا۔گرفتار دہشتگرد نے 1995 میں موسی کالونی کے رہائشی چھ افراد کو مخبری کے شبے میں اغواء کے بعد تشدد کر کے قتل کرنے کا انکشاف کیا۔

    گرفتار دہشتگرد 1996 کراچی میں آپریشن کے دوران گرفتاری کے ڈر سے شہر کے مختلف علاقوں میں روپوش رہا اور پھر تنظیم کیجانب سے ساوتھ افریقہ بھیج دیا گیا۔گرفتار ملزم کو متحدہ لندن کی قیادت کے حکم پر ساتھیوں کے ہمراہ سال 2000 میں انڈین خفیہ ایجنسی را سے تربیت کیلئے انڈیا دہلی بھیجا گیا۔گرفتار ملزم انڈیا سے تربیت کے بعد واپسی پر کراچی میں سیاسی و مذہبی افراد کے قتل اور اقدام قتل کی وارداتوں میں ملوث رہا۔گرفتار ملزم سےمزید پوچھ گچھ جاری ہےمزید انکشافات اور گرفتاریاں متوقع۔ملزم کیخلاف انسدادی دہشتگردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

  • آج 27 رمضان کو بھرپور یوم آزادی پاکستان منائیں گے،محمد سلیم خاں قادری ترابی

    آج 27 رمضان کو بھرپور یوم آزادی پاکستان منائیں گے،محمد سلیم خاں قادری ترابی

    اہلسنّت حنفی بریلوی مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے اکابرین، میلادشریف کااہتمام کرنے والی نمائندہ تنظیمات وشخصیات پر مشتمل مرکزی میلادالائنس پاکستان کے بانی وچیف آرگنائزر، مرکزی انجمن سیرت النبی ؐ گلبہار کے چیئرمین اور ممتازقومی وسماجی رہنمامحمدسلیم خاں قادری ترابی نے کہاکہ اکابرین سے عہد وفانبھاتے ہوئے مرکزی میلادالائنس پاکستان آج 27رمضان کو یوم آزادیء پاکستان منائے گااور اس سلسلے میں گزشتہ رات بعد نمازتراویح شہر کے مختلف مقامات پر تحریک پاکستان کے شہیدوں کو ایصال ثواب کیاگیااور اکابرین نے خطاب فرمایا۔
    وہ ضلع سینٹرل کراچی کی مختلف مساجد اہلسنّت حنفی بریلوی کے دورے کے دوران اہلسنّت تنظیمات کے عہدیداران سے بات چیت کررہے تھے۔
    اس موقع پر محمدشکیل قاسمی، عبدالوحید یونس، ناصر حسین خاں ، حاجی مرزامحمدمبین بیگ، محمدرفیق قادری ودیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔محمدسلیم خان قادری ترابی نے ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے، ہر طرف افطارڈنر،ختم تراویح، طاق راتوں میں عبادات خصوصی اجتماعات ،ستائیسویں شب کو بڑے بڑے اجتماعات بازاروں میں خریداری کا رش یہ سب رونقیں رمضان المبارک کی برکتیں ہیں، اس آخری عشرے میں ہم سب کو اپنامحاسبہ کرناچاہئے،اپنی گزری ہوئی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور توبہ کرنے کا یہی وقت ہے ۔

    اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئے گی، ظالموں ،جابروں اور لٹیروں سے قوم کو نجات ملے گی، ہم ایک بارپھر حکومتی اداروں میں موجود اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی نہ برتیں ،سرکاری سطح پر جوسہولتیںروزہ داروں کو فراہم کرسکتے ہیں کریں، واٹراینڈ سیوریج بورڈ رمضان کے آخری عشرے میں سیاست کے بجائے عبادت کرتے ہوئے روزہ داروں کو پینے کا پانی مسلسل فراہم کرکے اپنے لئے جنت میں حوض کوثر سے پانی پینے کا انتظام کرلیں،Kالیکٹرک کے ملازمین اپنے سیٹھ سے امید لگانے کے بجائے خدائے بزرگ وبرتر کے آگے ہاتھ پھیلائیں اور نیک کام کریں،اللہ کی رضاحاصل کریں۔
    Kالیکٹرک مالکان کی بربادی کے دن آنے والے ہیں، یہ ادارہ کراچی کے عوام کی ملکیت ہے ،کراچی کے عوام اسے واپس لے کردم لیں گے، ماہ رمضان المبارک کی ہر ساعت میں Kلیکٹرک والوں کو بددعائیں مل رہی ہیں۔محمدسلیم خاں قادری ترابی نے کہاکہ ہم صبروتحمل ،برداشت اور تحمل ودرگزر پر مکمل یقین رکھتے ہیں لیکن ماہ رمضان المبارک کے مہینے میں پولیس انتظامیہ اہلسنّت حنفی بریلوی اکابرین کو اعتماد میں لینے کے لئے تیارنہیں، ابلتے گٹر، گندے پانی کے جوہڑوں کے باعث مچھروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، جس سے مختلف بیماریاںجنم لے رہی ہیں،کچرے کے ڈھیر ،جگہ جگہ سے کھدی ہوئی سڑکیں اور گلیاں بلدیہ نہ ہونے کا کھلااعلان کررہی ہیں، مین شاہراہوں پر جگہ جگہ پولیس کی جانب سے عوام کی جامہ تلاشی حیرت انگیز جبکہ گلی کوچوں میں شریف شہریوں سے لوٹ مار،پولیس کارکردگی پر سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

  • جمعیت علماء اسلام کی کرونا لاک ڈاؤن کے نام پر کراچی کے شہریوں پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت

    جمعیت علماء اسلام کی کرونا لاک ڈاؤن کے نام پر کراچی کے شہریوں پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت

    جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کرونا لاک ڈاؤن کے نام پر کراچی کے شہریوں پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کرونا لاک ڈاؤن کے نام پر ڈپٹی کمشنرز، ایسیز اور ایس ایچ اوز کی چاندنی کو روکا جائے۔ کراچی انتظامیہ نے مہنگائی اور کرونا کے ڈسے ہوئے شہریوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔
    اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ اور دوکانداروں کی پکڑ دھکڑ بدترین ظلم ہے۔ عدالت از خود نوٹس لیکر شہریوں کو اس عذاب سے نجات دلائے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں اور دوکانوں کو سیل کرکے ماہ مبارک میں رشوت کا بازار گرم کر دیا گیا ہے۔ آخر یہ بھاری جرمانہ کس قانون کے تحت لیا جارہا ہی قاری محمد عثمان نے کہا کہ کرونا سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے بدترین مہنگائی غربت اور بے روزگاری کے شکار شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کر نے کے بجائے عوام سے ہمدردی کے عظیم الشان جذبے کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جسکے کئی مروجہ طریقے اپنائے جاسکتے ہیں۔
    نہوں نے کہا کہ جب فوج کو بھی استعمال کیا جارہا ہے تو پھر لاؤڈسپیکر کے ذریعے اعلانات اور تنبیہ سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد کیلئے با آسانی تیار کیا جاسکتا ہے مگر اسمیں ڈپٹی کمشنرز، ایسیز اور ایس ایچ اوز چاندنی ممکن نہیں ہوگی۔ قاری محمد عثمان مزید کہاکہ بند ہوٹلوں سے پارسل لینے اور دینے والوں کی گرفتاری، ہوٹلوں، پارسل شاپوں اور دوکانوں کو سیل کرنے اور کروڑوں روپے کے بھاری جرمانے پر عدالت از خود نوٹس لیکر شہریوں کو اس بدترین عذاب سے نجات دلائے۔ انہوں نے کہا کہ عمرانی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے اختیاری اور من پسند ایام کے لاک ڈاؤن سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ من چاہا لاک ڈاؤن بہرحال تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔

  • پاکستان کی معروف اداکارہ و گلوکارہ عارفہ صدیقی کی والدہ طلعت صدیقی انتقال کرگئیں

    پاکستان کی معروف اداکارہ و گلوکارہ عارفہ صدیقی کی والدہ طلعت صدیقی انتقال کرگئیں

    9پاکستان کی معروف اداکارہ و گلوکارہ عارفہ صدیقی کی والدہ طلعت صدیقی انتقال کرگئیں،اداکارہ طلعت صدیقی پاکستان کی معروف گلوکارہ فریحہ پرویز کی خالہ اور اداکارہ عارفہ صدیقی کی والدہ تھیں۔ فریحہ پرویز نے سوشل میڈیا پر طلعت صدیقی کے انتقال کی افسوسناک خبر شیئر کی اور کہا کہ میری خالہ طلعت صدیقی صاحبہ اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔
    اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔اداکارہ طلعت صدیقی پاکستانی فلموں کے سنہرے دور کی ایک ناقابل فراموش اداکارہ تھیں جو اپنی پروقار شخصیت، دھیمے لہجے اور مخصوص آواز کے لیے الگ پہچان رکھتی تھیں۔ طلعت صدیقی نے اپنے کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا تھا۔
    ان کی پہلی فلم ’’ہمیں بھی جینے دو‘‘(1963) تھی جس میں بطور گلوکارہ متعارف ہوئیں۔

    جب کہ بطور اداکارہ پہلی فلم ’’میخانہ‘‘(1964) تھی۔ طلعت صدیقی نے 70 کے قریب فلموں میں کام کیا لیکن کسی فلم میں وہ روایتی ہیروئن کے طور پر نظر نہیں آئیں۔طلعت صدیقی کی دو بیٹیاں تھیں جن میں ناہید صدیقی، ایک نامور کتھک ڈانسر اور ضیائ محی الدین کی بیوی جب کہ دوسری بیٹی عارفہ صدیقی، بطور گلوکارہ اور اداکارہ ٹی وی سے فلم تک آئیں لیکن کامیاب نہیں ہوئیں۔ انہوں نے موسیقار نذر حسین سے شادی کی تھی۔ اداکارہ طلعت صدیقی کی ایک بہن ریحانہ صدیقی بھی کئی فلموں میں معاون اداکارہ کے طو پر نظر آچکی ہیں۔

  • گزشتہ24 گھنٹوں میں سندھ میں کورونا کے 976 نئے کیسز رپورٹ، 16 افراد انتقال کرگئے، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ

    گزشتہ24 گھنٹوں میں سندھ میں کورونا کے 976 نئے کیسز رپورٹ، 16 افراد انتقال کرگئے، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ

    وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 14486 نمونوں کی جانچ کی گئی جس کے نتیجے میں مزید 976 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔وزیراعلی نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 16 اموات رپورٹ ہوئیں، اس طرح اموات کی مجموعی تعداد 4742 ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اتوارکو مزید 586 مریض صحتیاب ہوئے ہیں، جس کے بعد صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد 269820 ہوچکی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ اب تک 3767062 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے اور اب تک 292643 کیسزرپورٹ ہوچکے ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ اس وقت 18081 مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے 17414 گھروں میں اور 667 مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ 629 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے، جبکہ 52 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔
    انھوں نے کہا کہ صوبے کے 976 نئے کیسز میں سے 441 کا تعلق کراچی سے ہے۔
    جن میں ضلع شرقی 256،ضلع جنوبی 87، ضلع وسطی 57، ملیر 20، ضلع غربی 15 اور کورنگی میں سے 6 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

  • سندھ حکومت نے کورونا وائرس سے بچائو کے لیے ایکسپو سینٹر میں سندھ کا سب سے بڑا ماس ویکسی نیشن سینٹر قائم کردیا

    سندھ حکومت نے کورونا وائرس سے بچائو کے لیے ایکسپو سینٹر میں سندھ کا سب سے بڑا ماس ویکسی نیشن سینٹر قائم کردیا

    سندھ حکومت نے کورونا وائرس سے بچائو کے لیے کراچی کے ایکسپو سینٹر میں سندھ کا سب سے بڑا ماس ویکسی نیشن سینٹر قائم کردیاگیا ہے،صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ایکسپو سینٹر میں حکومت سندھ کی زیرنگرانی ماس ویکسین سینٹر کا افتتاح کردیا ہے،جہاں ایک شفٹ میں 4 ہزار سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا سکے گی۔
    حکومت سندھ کے تحت ایکسپو سینٹر کے ہال نمبر 4 کو ماس ویکسی نیشن سینٹر بنایا گیا ہے جو 24 گھنٹے کام کرے گا، جہاں 12رجسٹریشن کائونٹر بنائے گئے ہیں اورماس ویکسی نیشن سینٹر میں کورونا ویکسین لگانے کے لیے 96 کیوبیکل بنائے گئے ہیں،اس ماس ویکسی نیشن سینٹر میں ایک شفٹ میں 360 ہیلتھ کیئر ورکرز خدمات فراہم کریں گے۔
    افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیر صحت سندھ کے ہمراہ این سی او سی حکام، سیکریٹری صحت و دیگر افسران بھی موجود تھے۔

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر غذراپیچوہو نے اس موقع پرخوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ویکسین کی آمد کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ مراکز کھولے ہیں،جلد سے جلد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگانا چاہتے ہیں 16 تاریخ سے 40 سال سے کم عمر افراد کو بھی ویکسین لگے گی ،این وی او سی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 70 ملیں لوگوں کے لیے ویکسین دسمبر تک دستیاب ہوگی۔
    انہوں نے کہاکہ کوویکس ویکسین بھی آنے کی امید ہے ،بہت سی ویکسیں مل چکی ہیں ،ویکسین لگانا بہت ضروری ہے ،شہری کورونا ایس او پیز کی احتیاط کریں ،ایس او پیز کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ،شاپنگ سینٹرز میں حفاظتی تدابیرکے بغیرجس طرح لوگ گھوم رہے ہیں اس سے بہت زیادہ کرونا پھیلنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت نے وفاق سے بات کی تھی کہ وفاق نے جس قیمت پر ویکسی کی خریداری کی ہے اس قیمت پر سندھ کے لیے بھی خریداری میں معاونت کریں ،میسج نہ آنے پربھی کسی بھی مرکز میں جاکر ویکسین لگوائی جاسکتی ہے ،نام ڈیٹا سسٹم میں شامل کردیا جائے گا،1166 پر رابطہ نہیں ہوتا اس کے باوجود مراکز پر جاسکتے ہیں ،واک ان کا سسٹم کھول دیا گیا ہے ۔
    انہوں نے بتایا کہ ضلع شرقی میں کورونا کے پھیلا کی شرح سب سے زیادہ ہیعوام اس ویکسینیشن سینٹر کا فائدہ اٹھائیں ،این سی او سی میں فیصلہ ہوا ہے رواں سال کے آخر تک پورے ملک کے لیے 70 ملین ویکسین ڈوزز مہیا کی جائیں گی۔