Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ میں عید کی شاپنگ کیلئے دی گئی مہلت ختم

    سندھ میں عید کی شاپنگ کیلئے دی گئی مہلت ختم

    صوبہ سندھ میں شام کے 6 بجتے ہی شاپنگ کیلئے دی گئی مہلت ختم ہوگئی۔

    آخری دن بازاروں میں خریداروں کا رش رہا اور لوگ خریداری کرتے رہے تاہم کچھ خواتین نے آج بھی شاپنگ مکمل نہ ہونے کا شکوہ کیا۔
    کچھ بازاروں میں ایس او پیز پر عمل نہ ہوسکا اور عوام نے ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دیں۔
    صوبے میں کل سے 16 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا، مارکیٹیں اور بازار مکمل بند ہوں گے اور ٹرانسپورٹ پر بھی مکمل پابندی رہے گی۔
    وزیر اطلاعات سندھ ناصر شاہ کہتے ہیں کہ حالات تشویش ناک حد تک پہنچ چکے ہیں، کورونا کی بدترین صورت حال کے باعث سخت اور مشکل فیصلے کرنے پڑے۔

  • کراچی میں غیر مقامی لوگوں کی نوکریاں خطرے میں۔

    کراچی میں غیر مقامی لوگوں کی نوکریاں خطرے میں۔

    کراچی میں غیر مقامی لوگوں کی نوکریاں خطرے میں۔

    آئین پاکستان اور سول سرونٹس رول میں لکھا ھے کہ گریڈ ایک تا گریڈ پندرہ کی بھرتیوں پر صرف اور صرف اُسی ضلع کے مقامی ڈومسائل ھولڈر لوگ بھرتی ھو سکتے ہیں۔مگر کراچی میں آج تک یہ قانون اُلٹا لاگو کیا گیا یہاں پرچیف منسٹر ہاؤس، سندہ سیکریٹریٹ، سندھ سیکرٹیریٹ سے جڑے تمام ڈپارٹمنٹ میں 1 سے 15 گریڈ کے ۹۹ فیصد لوگ غیر مقامی بھرتی کئے یہی حال17 سے 21 گریڈ کےافسران کا ھے جن میں99 فیصد غیر مقامی ہیں۔ہائیکورٹ، سٹی کورٹ دیگر ڈسٹرک کورٹ میں 80 فیصدی ملازم غیر مقامی بھرتی کئے ہیں جبکہ جج 95 فیصد غیر مقامی ہیں۔کے ایم سی کراچی،بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، واٹر بورڈ کے ڈی اے، ڈی ایم سیز میں30-40 فیصد ملازم و افسران غیر مقامی بھرتی کئے ہیں۔

    محکمہ ہلتھ سمیت تمام کراچی کے ہسپتالوں میں1 سے 17 گریڈ پر 85 فیصد غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کیا گیا۔کراچی الیکٹرک 80 فیصد غیر مقامی ہیں۔ایسے محکمے جس کے نام میں کراچی آتا ھے کے ایم سی، کےالیکٹرک ، کراچی پولیس لائن اُس سمیت سارے کراچی میں واقع سارے صوبائی اور وفاقی دفاتر سوئی گیس،کسٹم، نادرا، ایف آئی اے، پاسپورٹ سمیت دیگر تمام ڈپارٹمنٹ کا یہی حال ھے کراچی کے واٹرسپلائی،کراچی کاپراپرٹی ٹیکس،کراچی کی گاڑیوں کا ٹیکس غرض کراچی کی ھر چیز کا انچارج لاڑکانہ نواب شاہ خیر پور سہون کا ھے۔ مزے کی بات کراچی کے لیے رینجرز کی بھرتی ھو رہی ھےاور بھرتی سینٹر کے پی کے پشاور میں بنایا گیا۔جہاں دیکھو جس محکمے کو اُٹھا لو مقامی حقدار کے حق پر غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کیا ھوا ھے۔کراچی کا کچرا تک اٹھانے والے ڈپارٹمنٹ سالڈ ویسٹ بورڈ کراچی آفس میں 90 فیصد ملازم اندرون سندھ کے مختلف اضلاع کے ہیں۔ ان تمام محکمہ جات میں غیر مقامی ملازموں کی تعلیم میٹرک،انٹر اور گریجویشن انجینرنگ میڈیکل وغیرہ سب میں پی آرسی ڈومسائل انکے اپنے مقامی ضلعوں اور تحصیلوں کے ہیں یعنی تعلیم اپنے علاقائی ڈومسائل سے کی ھے۔پھر یہ کراچی میں ملازمت کیسے کر رہے ہیں؟کیا اپنے ضلع اور تحصیل کے ڈومیسائل پر کراچی میں ملازمت کر رہے ہیں؟کیا کراچی کا جعلی ڈومسائل بنوا لیا؟
    دونوں غیرقانونی ہیں۔اب غیرمقامی ملازمین کے خلاف کرمنل کاروائی کی مہم شروع کی جائےاور غیر مقامی لوگوں کو آئین اور سروس رول کی خلاف ورزی پر سزا دی جائے اور ان کی جگہ قانونی حقدار مقامی لوگوں کو ملازمت میں رکھا جائے۔

  • سندھ حکومت مسلح ڈکیتیوں اور جرائم کی بڑھتی وارداتوں کی روک تھام کرے، حافظ نعیم الرحمن

    سندھ حکومت مسلح ڈکیتیوں اور جرائم کی بڑھتی وارداتوں کی روک تھام کرے، حافظ نعیم الرحمن

    سندھ حکومت مسلح ڈکیتیوں اور جرائم کی بڑھتی وارداتوں کی روک تھام کرے، حافظ نعیم الرحمن
    ڈکیتی کی وارداتوں میں مزاحمت پر خواتین سمیت 30افراد کا جاں بحق ہونا صورتحال کی سنگینی کا ثبوت ہے، عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے.گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، موبائل اور خواتین سے پرس اور زیورات چھیننے کی وارداتیں عام ہو گئی ہے اور حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی.

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے شہر قائد میں مسلح ڈکیتی، لوٹ مار اور اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت، محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی اور ناکامی کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے شہر میں بڑھتی ہوئی مسلح ڈکیتیوں اور جرائم کی وارداتوں کی روک تھام کرے، انہوں نے کہا کہ رواں سال مسلح ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں خوفناک اضافہ اور مزاحمت پر خواتین سمیت 30شہریوں کی اموات سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    گزشتہ ماہ میں جاری کردہ جنوری تا مارچ کی سرکاری رپورٹ اور سی پی ایل سی کی حالیہ جاری کردہ 4ماہ کی رپورٹ متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی قلعی کھولنے کے لیے کا فی ہے۔ مزاحمت پر تین ماہ میں خواتین سمیت 30افراد کا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا صورتحال کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اورعوام کو تحفظ فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باوجود شہریوں سے لوٹ مار اور چھینا جھپٹی کے واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ عوام کے اندر شدید بے چینی و اضطراب اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر اور گروہوں کا حوصلہ اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ انسانی جان لینے سے بھی نہیں چوکتے۔ رمضان المبارک کے دوران بھی ان کی کارروائیاں جاری ہیں۔ شہریوں سے ان کی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، موبائل اور خواتین سے پرس اور زیورات چھیننے کی وارداتیں عام ہو گئی ہے اور حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔ وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر داخلہ اور محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران و ذمہ داران امن و امان کے قیام اور جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے کے دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر عملاً صورتحال اس کے برعکس ہے۔ سی پی ایل سی کی رپورٹ کے مطابق 4ماہ میں 6760موبائل فون چھینے گئے، 14202شہری ڈکیتوں کے ہاتھوں موٹر سائیکلوں سے محروم ہو گئے اور 431گاڑیاں گن پوائنٹ پر چھینی گئیں، جبکہ گزشتہ ماہ جاری شدہ سرکاری رپورٹ بھی سندھ حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ ،رواں سال جرائم کی شرح اور گزشتہ سال کی نسبت اعداد و شمار بھی بلند رہے۔ ابتدائی 3ماہ میں کراچی پولیس نے اغواء برائے تاوان کے 5مقدمات درج کیے اور ایک بینک ڈکیتی بھی دیکھنے میں آئی۔ مارچ میں نیو کراچی کے علاقے میں مسلح افراد سیکوریٹی گارڈز کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر 10لاکھ روپے لے اڑے جبکہ تین ماہ کے دوران مزاحمت پر خواتین سمیت 30افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے۔

  • تاجر برادری نے بھی مطالبہ کر ڈالا،حکومت عید الفطر کی چھٹیوں میں تمام مارکیٹوں میں مکمل سیکورٹی فراہم کرے

    تاجر برادری نے بھی مطالبہ کر ڈالا،حکومت عید الفطر کی چھٹیوں میں تمام مارکیٹوں میں مکمل سیکورٹی فراہم کرے

    تاجر برادری نے بھی مطالبہ کر ڈالا،حکومت عید الفطر کی چھٹیوں میں تمام مارکیٹوں میں مکمل سیکورٹی فراہم کرے.

    آل سٹی تاجر اتحاد رجسٹرڈ کے صدر حماد پونا والا، پیٹرن ان چیف شعیب خان جی، سینئر نائب صدر عبدالقادر نورانی، نائب صدر منصور احمد کادوانی، جنرل سیکریٹری عارف جیوا، جوائنٹ سیکریٹری محمد علی قریشی، صدر ڈسٹرکٹ ساؤتھ محمد احسان اسلام، صدر ڈسٹرکٹ سینٹرل جاوید قریشی، صدر ڈسٹرکٹ، ویسٹ زاہد ملک، صدر ڈسٹرکٹ ایسٹ فیصل حسن زئی، صدر ڈسٹرکٹ ملیر جاوید ارسلا خان، صدر ڈسٹرکٹ سٹی علی اصغر فدا، صدر دسٹرکٹ گلشن ٹاؤن* نے مشترکہ طور پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کمشنر کراچی، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی اور تمام اضلع کے ڈی آئی جی صاحبان سے مطالبہ کیا ہے کہ پروز پیر 10مئی سے 15 مئی تک تمام مارکیٹیں بند رہیں گی۔ لہذا ایسے میں تمام اضلع میں متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ او کو پابند کیا جائے کہ وہ فل پروف سیکورٹی فراہم کریں۔ چونکہ گزشتہ سال بھی انہی چھٹیوں میں بہت بڑی بڑی وارداتیں رونماء ہوئیں ہیں۔لہذا تاجر برادری کا مطالبہ ہے کہ عید الفطر کی ان چھٹیوں میں تمام مارکیٹوں میں مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے۔

  • اعتکاف میں بیٹھا شخص مسجد کی بالکونی سے گر کر جاں بحق

    اعتکاف میں بیٹھا شخص مسجد کی بالکونی سے گر کر جاں بحق

    کراچی کے علاقے نیو کراچی میں اعتکاف میں بیٹھا ہوا شخص پراسرار طور پر مسجد کی بالکونی سے گر کر جاں بحق ہوگیا۔پولیس کے مطابق 32 سالہ ایاز نیوکراچی سیکٹر ساڑے پانچ کا رہائشی اور خضری مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہفتے کو وہ فجر کی نماز پڑھ کر بالکونی میں سوگیا تھا کہ پراسرار طور پر نیچے گر کر جاں بحق ہوگیا۔ پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ بالکونی کی باؤنڈری وال نہیں تھی، مذکورہ شخص سوتے ہوئے کروٹ لیتے ہوئے نیچے گر کر جاں بحق ہوا ہے تاہم مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

  • کورونا وائرس کی تیسری لہر انتہائی خطرناک ہے،ناصر حسین شاہ

    کورونا وائرس کی تیسری لہر انتہائی خطرناک ہے،ناصر حسین شاہ

    کورونا وائرس کی تیسری لہر کے حوالے سے سید ناصر حسین شاہ کا احتیاطی بیان کورونا وائرس کی تیسری لہر انتہائی خطرناک ہے حالات تشویشناک حد تک پہنچ چکے ہیں کورونا کی بدترین صورتحال کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومت کو سخت اور مشکل فیصلے کرنے پڑے ہیں۔ عوام این سی او سی اور صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کریں آج سے 6بجے کے بعد مکمل طورپر احتیاط کریں، گھر پر رہیں اورغیر ضروری طور پر باہر نہ جائیں ماکس کا استعمال لازمی کریں.حکومت سندھ کی جانب سے قائم کردہ مختلف ڈسٹرکٹ میں ویکسینیشن سینٹرزسے ویکسین ضرور لگوائیں.خود بھی محفوظ رہیں اور اپنوں کو بھی بچائیں.

  • کمشنر کراچی کی ہدایت پر ناجایز منافع خوروں کے خلاف مہم جاری

    کمشنر کراچی کی ہدایت پر ناجایز منافع خوروں کے خلاف مہم جاری

    96 گراں فروشوں کے خلاف کارروائی 3 لاکھ 26 ہزار روپے جرمانہ ہوا۔کمشنر کراچی نوید شیخ کی ہدایت پر ناجایز منافع خوروں کے خلاف مہم جاری ہے.ضلع جنوبی میں 15 شرقی میں13 ، وسطی میں27، ملیر میں22 کورنگی میں 8اور کیما ڑی میں 11 منافع .خوروں کے خلاف کارروائی کی گئی 14 دودھ فروشوں 61 ہزار روپے 16 پھل فروشوں پر 17 ہزار ، 13 سبزی والوں پر دس ہزار ،10 گوشت فروشوں پر 44 ہزار.13 کریانہ والوں پر 86 ہزار، 19مرغی فروشوں پر63 ہزار5 بیکری والوں پر 32 ہزار اور6 آٹے کے دکانداروں پر 11ہزار روپے جرمانہ کیا گیا.کراچی کمشنر کراچی نوید احمدشیخ کی ہدایت پر تمام اضلاع میں ناجایز منا فع خوروں کے خلاف مہم جاری ہے۔ ہفتہ کو پھل فروش، دودھ فروش، ،سبزی، مرغی کریانہ ، گوشت ، آٹا، بیکری سمیت دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں سرکاری نرخ کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے خلاف شہر کے تمام اضلاع کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی گئی مجموعی طور 96 گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کر کے ان پر3لاکھ26ہزار روپے جرمانہ عاید کیا گیا. ضلع جنوبی میں 15 شرقی میں13 ، وسطی میں27، ملیر میں22 کورنگی میں 8اور کیما ڑی میں11منافع خوروں کے خلاف کارروائی کی گئی. 14دودھ فروشوں61 ہزار روپے 16 پھل فروشوں پر 17 ہزار ، 13 سبزی والوں پر دس ہزار ،10 گوشت فروشوں پر44ہزہزار3 کریانہ والوں پر 86 ہزار، 19مرغی فروشوں پر63 ہزار5 بیکری والوں پر 32 ہزار اور6 آٹے کے دکانداروں پر 11ہزار روپے جرمانہ کیا گیا

  • کراچی سے 1 کروڑ 90 لاکھ کی ہیروئن برطانیہ بھیجنے کی کوشش ناکام

    کراچی سے 1 کروڑ 90 لاکھ کی ہیروئن برطانیہ بھیجنے کی کوشش ناکام

    پاکستان کسٹمز جناح ٹرمینل کراچی نے آٸئی آئی چندریگر پر واقع انٹرنیشنل میل آفس میں ایک کامیاب کارروائی کے دوران گارمنٹس اور جیکٹ کی آڑ میں برطانیہ ہیروئن بھیجنے کی کوشش ناکام بنادی ہے۔کسٹمز حکام نے بتایا کہ 1کروڑ90لاکھ مالیت کی اعلی قسم کی ہیروئن بذریعہ پارسل برمنگھم بھیجی جارہی تھی جسے پشاور سے بک کرایا گیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ انٹرنیشنل میل آفس میں تعینات ڈرگ انفورسمنٹ سیل کے عملے کو بیرون ملک بھیجے جانے والے پارسلز کی معمول کی چیکنگ کے دوران اس واردات کا انکشاف ہوا کہ جس میں ایک کلو 980گرام اعلی قسم کی ہیروئن جیکٹ میں چھپاکر برطانیہ بھیجی جارہی تھی۔حکام نے برآمد شدہ ہیروئن اپنے قبضے میں لیکرکسٹمز نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ پارسل بک کرانے والے ملزم کی گرفتاری کے لیےخصوصی ٹیم بھی تشکیل دیدی ہے۔

  • ملک ریاض کو سندھیوں کی آبائی زمین پر قبضہ کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ الطاف شکور

    ملک ریاض کو سندھیوں کی آبائی زمین پر قبضہ کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ الطاف شکور

    کراچی، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ملک ریاض سندھیوں کی آبائی زمین پر زور زبردستی، دھونس،دھاند لی اور ظلم و جبر کے ذریعے دن دہاڑے قبضہ کر رہا ہے۔ مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں کے نعرے لگانے والے سندھ کے چیمپئین کہاں ہیں؟ رمضان المبارک میں جوکھیو گوٹھ ملیر میں غریبوں پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ پرانے سندھیوں کو ان کی موروثی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وہ سیاسی جماعتیں کہاں ہیں جو ملک ریاض کو لگام دینے کی باتیں کر رہی تھیں؟ عمران خان کی اس معاملے پر خاموشی معنی خیز ہے کیونکہ ملک ریاض ساری بڑی سیاسی پارٹیوں کا مشترکہ اے ٹی ایم ہے۔ سندھ کے حقوق کے چیمپیئنوں کے آشیر باد سے بحریہ ٹاؤن نے پرائیویٹ سیکیوریٹی گارڈز کے ذریعے عوام کو ان کی زمینوں سے بے دخلی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

    کیا بحریہ ٹاؤن اسی ظلم اور بربریت کے لئے ریٹائرڈ جنرلزاور ججز کو نوکری کی آفرکرتی ہے؟اس تمام معاملہ کی تحقیقات کے لئے اعلی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔ پاسبان اس ظلم کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس کے خلاف بھرپور تحریک چلائے گی۔ گذشتہ روز جوکھیو گوٹھ ملیر کے رہائشیوں پر بحریہ ٹاؤن کے غنڈوں کی فائرنگ اور ظلم کے خلاف رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے نام پر سندھ کے عوام پر ایک اور ایسٹ انڈیا کمپنی مسلط کی گئی ہے۔

    سندھ میں بسنے والوں سے روٹی کپڑااور مکان کے بعد اب ان کی آبائی زمینیں بھی چھینی جا رہی ہیں۔ سندھ پیپلز پارٹی کی جاگیر نہیں ہے، سندھ کی زمین پر سندھیوں کا حق ہے۔ پرائیویٹ گارڈز نہتے لوگوں پر گولیاں برسا رہی ہے۔ مراد علی شاہ ان کو قانون شکنی کی اجازت کس بنا پر دے رہے ہیں؟ 70سالوں سے سندھ پر مسلط پیپلز پارٹی نے اپنی تقدیر تو سنوار لی پر عوام کی تقدیر نہیں سنوار سکی، انہیں مافیاؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سندھ میں مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں کے نعرے لگانے والوں کی حکومتی عمل داری کہیں نظر نہیں آ رہی ہے۔ بحریہ ٹاؤن کی سینئیر مینجمنٹ میں اگر معمولی سی بھی غیرت ایمانی ہے تو وہ اس ظلم و ستم کے خلاف استعفے دیں۔ لوگوں کی زمینیں کس قانون کے تحت ان سے چھینی جا رہی ہیں؟سندھ کے باشندوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے ملک ریاض کی یہ گھناؤنی سازش ہے۔ بحریہ ٹاؤن کے نام پر عوام پر ظلم و ستم کرنا اور ان کی زمینین چھیننے کا عمل بند کیا جائے۔

    اعلی عدالتی کمیشن قائم کر کے تحقیقات کی جائیں کہ وزیر اعلی سندھ نے ملک ریاض کو یہ زمینیں کیوں الاٹ کیں؟ کیا یہ زمینین ان کی یا سندھ حکومت کی ذاتی جاگیریں تھیں؟

  • بلاول بھٹو زرداری کی پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید

    بلاول بھٹو زرداری کی پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید۔تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا عمران خان نے 25 سال اس لئے جدوجہد کی کہ ہر پاکستانی کو پونے دولاکھ روپے کے حکومتی قرضے کے بوجھ تلے دباسکیں، قرضوں کے خلاف جھوٹی مہم چلا کر پی ٹی آئی حکومت اب تک 33 ارب ڈالر سے زائد کا غیرملکی قرضہ لے چکی ہے، قرضوں کے سود کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد ترقیاتی بجٹ تو درکنار دفاعی بجٹ کے لئے بھی حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں عوام کو کفایت شعاری کا درس دینے والے عمران خان کی حکومت کے شاہانہ اخراجات 28 سالہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوچکے ہیں، عوام کو معاشی ٹیم کا لالی پاپ دینے والے عمران خان کی حکومت سخت شرائط پر قرضے لے کر اپنی آمدنی سے 10 کھرب روپے زیادہ خرچ کرچکی ہے، نرخوں میں سینکڑوں فیصد اضافے کے بعد بھی صرف بجلی کے شعبے میں ڈھائی کھرب اور گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ 350 ارب روپوں سے زیادہ ہوچکا ہے، کبھی قرضہ نہ لینے کا اعلان کرنے والے عمران خان کی حکومت کے نو ماہ میں ڈھائی کھرب روپوں پر مشتمل ملکی خزانے کا 82 فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہوچکا ہے، پی ٹی آئی حکومت کی حالت یہ ہے کہ عوام اور تاجروں کے ٹیکسوں کے 710 ارب روپے واپس نہ کرکے ایک نیا گردشی قرضہ پیدا کرچکی ہے، جب 650 ارب روپے کےترقیاتی پروگرام میں سے حکومت مالی سال کے 11ویں ماہ میں بھی صرف 40 فیصد خرچ کرے گی تو معاشی ترقی کے اہداف کیسے پورے ہوں گے؟ روشن ڈیجٹل اکاؤنٹ پر واہ واہ سمیٹنے والے عمران خان کیوں نہیں بتاتے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں سے سات فیصد سود پر ایک ارب ڈالر سے زائدلے چکے ہیں.