سندھ ہائیکورٹ نے دودھ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے متعلق درخواست پر کمشنر کراچی کو سرکاری نرخ طے کرنے کے حوالے سے پلان طلب کرلیا۔جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو دودھ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے متعلق سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر فروخت کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ایڈیشنل کمشنر کراچی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ملک ایسوسی ایشن والے ہٹ دھرمی پر اتر آئے ہیں۔ ایڈیشنل کمشنر کراچی نے عدالت میں اظہار بے بسی کرتے ہوئے بتایا نئے سرکاری ریٹ پر ملک ایسوسی ایشن نہیں مان رہی۔ ہم بھرپور طریقے سے چھاپے مار رہے ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے ہول سیلرز کیخلاف کیا کارروائی کر رہے ہیں؟ ایڈیشنل کمشنر کراچی نے کہا کہ ملک ایسوسی ایشن والے رکنے والے نہیں۔ سبزی، پھل کا ریٹ روزانہ نکلتا ہے ہم اس طریقہ کار پر عمل کرلیتے ہیں۔ عدالت نے کمشنر کے نمائندے سے استفسار کیا یہ بتائیں، ریٹ کیا طے ہوا تھا؟ نمائندے نے بتایا کہ سرکاری قیمت 94 روپے فی کلو دودھ ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے مگر فروخت کتنے میں ہو رہا ہے؟ نمائندہ کمشنر کراچی نے بتایا کہ 130 میں فروخت ہو رہا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کمشنر کراچی نمائندے سے مکالمہ میں کہا کہ آپ کا فائدہ پھر ہے کیا؟ نمائندہ کمشنر کراچی نے کہا جنوری سے اب تک ایک ہزار دوکانداروں کو جرمانے کیے گئے۔جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیئے اب تک محکمہ فوڈ سندھ نے کیا کیا؟ پنجاب والے دیکھو، کتنے چھاپے مارتے ہیں۔ آپ لوگ سندھ میں کیا کر رہے ہیں۔محکمہ فوڈ افسران نے بتایا کہ 344 دوکانداروں کیخلاف آپریشن کیا۔ جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیئے کہ مٹھائی، کیک میں گندا دودھ اور گندے انڈے استعمال ہو رہے ہیں۔ آپ نے کیا کیا، کتنے گندے انڈے تلف کیے؟ سندھ فوڈ ڈپارٹمنٹ کرتا کیا ہے؟ آپ کیا خالی بیٹھے رہتے ہیں، کیا طریقہ کار ہے۔ پنجاب فوڈ کی کارکردگی سندھ فورڈ سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ گندا دودھ، گندے انڈے کھلا رہے ہیں آپ لوگ۔ بتائیں، کراچی کے کتنے کونوں پر کھڑے ہو کر دودھ اور انڈے پکڑے؟ پنجاب میں کسی کی ہمت نہیں گندا دودھ اور انڈے فروخت کرنے کی، مری ہوئی مرغیاں، مرے ہوئے جانور کھلائے جارہے ہیں کراچی میں۔ایڈیشنل کمشنر کراچی نے اعتراف کرتے ہوئے کہا دودھ فی کلو 140 میں فروخت ہو رہا ہے۔ عدالت نے کمشنر کراچی سے سرکاری نرخ طے کرنے سے متعلق پلان طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے، کیسے دودھ کی نئی سرکاری قیمت طے ہو سکتی ہے۔ سرکاری نرخ پر دودھ کی فروخت کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ سرکاری نرخ اور عمل درآمد سے متعلق طریقہ کار پیش کیا جائے۔ کیا کمشنر آفس اتنا بے بس ہے کہ عمل درآمد نہیں کرایا جا سکتا۔عدالت نے ملک ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر کو بھی طلب کرلیا اور کیس کی سماعت 10 جون تک ملتوی کردی۔
Category: کراچی
-

سچل تھانہ کی حدود فاریہ چوک پر پولیس نے عادی ڈکیت کو اسلحہ سمیت دہر لیا
کراچی ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس نے زبردست کارواٸی کی، پولیس نے دوران گشت ڈکیت ملزم کو گرفتار کرلیا، ایس ایس پی ایسٹ ساجد امیر سدوزئی نے سچل پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔سچل تھانہ کی حدود فاریہ چوک پر پولیس نے عادی ڈکیت کو اسلحہ سمیت دہر لیا ۔دو موٹر ساٸیکل سوار ملزمان کو پولیس نے شک کے بنیاد پر روکنے کی کوشش کی پولیس کو دیکھ کر ملزمان فرار ہونے کی کوشش کر کر رہے تھے پولیس نے پیچھا کرکے ایک ملزم عبدالغفور ولد عبدالخالق افغانی کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم غفور افغانی کا دوسرا ساتھی اختر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو ہوگیا ۔ملزم غفور افغانی اسٹریٹ کرائم کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ہے گرفتار ملزم کے قبضہ سے غیرقانونی اسلحہ پسٹل بمع راٶنڈ اور موباٸل فون برامد گرفتار ملزم کا سابقہ رکارڈ معلوم کیا جا رہا ہے گرفتار ملزم سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔فرار ملزم کے لیٸے چھاپہ مارے جارہے ہیں۔
-

بلاول بھٹو زرداری کی سندھ میں پانی کی قلت کے حوالے سے وفاقی حکومت پر کڑی تنقید
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں پانی کی قلت کے حوالے سے وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی سندھ میں نااہل حکومت نے پانی کا بحران پیدا کردیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متنازع چشمہ جہلم لنک کینال کو فی الفور بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے عوام کا مقدمہ لڑا تو پی ٹی آئی حکومت نے مجبور ہوکر غیرقانونی تونسہ پنجند لنک کینال کو بند کیا، میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری اپنے ایک بیان میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ارسا صرف واٹر اکارڈ کے تحت پانی کی تقسیم کی مانیٹرنگ کا ادارہ ہے، پانی کی ترسیل میں ارسا کی من مانیاں نہیں چلیں گی، منگلا ڈیم کو ارسا کے طے شدہ متنازع فارمولے سے زیادہ بھرنے کی وجہ سے سندھ میں پانی کی قلت پیدا ہوئی، انہوں نے کہا کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ سکھر بیراج میں 27 فیصد جبکہ کوٹری بیراج میں پانی کی 44 فیصد تک کمی ہوچکی ہے، وفاقی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے سندھ میں پانی کی قلت کا یہ عالم ہے کہ گڈو بیراج سے پانی کی ترسیل بند ہوچکی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق گزشتہ سال کی برسات میں ڈیموں میں پانی کی وافر مقدار تھی مگر پی ٹی آئی حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے ڈیموں میں پانی کی کمی ہوئی، پی ٹی آئی حکومت سندھ سمیت پورے پاکستان میں پانی کی ترسیل کی منصفانہ تقسیم میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، اس موقع پر عمران خان کی حکومت کر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے سندھ کے زیریں علاقوں کو پیاس کا صحرا بنادیا، کراچی، ٹھٹہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر کا پانی بند کرکے پی ٹی آئی حکومت نے سفاکیت کی انتہا کردی، یہ کیسی مدینے کی ریاست ہے کہ بدترین گرمی اور رمضان کے مقدس مہینے میں سندھ کا پانی بند کردیا گیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر سندھ کے زیریں علاقوں میں پانی کی قلت کے بحران کو دور نہیں کیا گیا تو قحط جیسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے، سندھ کے حصے کا پانی روک کر پی ٹی آئی حکومت اہلیان کراچی کو سزا دینا بند کرے، پی پی پی چیئرمین نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم صاحب، خریف کی فصل کا سیزن شروع ہورہا ہے، ہوش کے ناخن لیں اور سندھ کو اس کے حصے کا پانی دیں، پی ٹی آئی کی جانب سے پیدا کردہ پانی کے بحران کے بعد سندھ کے کسانوں کے لئے کپاس کی بوائی ممکن نہیں، ملک میں کپاس کی قلت سے پہلے ہی ٹیکسٹائل سیکٹر کو مسائل کا سامنا ہے، پانی بند کرکے عمران خان نئے بحران نہ پیدا کریں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں پینے تک کے پانی کا بحران پیدا ہورہا ہے، پہلے بارشوں کی وجہ سےفصلیں تباہ ہوئیں اور اب سندھ کا پانی بند کرکے دیوار سے لگایا جارہا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہنگامی بنیادوں پر پانی کا بحران حل نہ کیا گیا تو فصلوں کی بوائی نہیں ہوسکے گی اور غذائی بحران کے ساتھ ایک نیا المیہ پیدا ہوجائے گا-
-

حکومت کا غیردانشمندانہ فیصلہ، بازاروں میں رش بڑھ رہا ہے، مصطفیٰ کمال
پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام حکومت ایس او پیز کے نام پر شام 6بجے دکانیں بند کرنے کے غیر دانشمندانہ فیصلے کی وجہ ملک کے شہری علاقوں میں شام 6 بجے تک بازاروں میں رش کا یہ عالم ہورہا ہے کہ لوگ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں جسکی وجہ سے شہری علاقوں میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کیا کورونا شام 6 بجے کے بعد حملہ آور ہوتا ہے جو 6 بجے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے؟
-

عید کے ایام میں گجر اور اورنگی نالے پر انسداد تجاوزات آپریشن روکنے کا حکم
سندھ ہائیکورٹ نےعیدکےایام میں گجر اور اورنگی نالے پر انسدادتجاوزات آپریشن روکنےکاحکم دے دیا اور کہا شہریوں کوگھروں سے بے دخل نہ کیاجائے۔تفصیلات کے مطابق تجاوزات کی آڑ میں لیزمکانات مسمارکرنے کے معاملے پر گجراوراورنگی نالےکےمتاثرین سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئے ، متاثرین میں بزرگ اور خواتین بھی شامل تھیں۔سندھ ہائیکورٹ میں تجاوزات کی آڑ میں لیز مکانات گرانے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ، عدالت نےعیدکےایام میں نالوں پرانسدادتجاوزات آپریشن روکنے کا حکم دیتے ہوئے عید کے ایام میں شہریوں کوگھروں سے بے دخل نہ کیا جائے۔خیال رہے متاثرین نےآپریشن روکنے اورمتبادل جگہ کیلئےدرخواست دائرکررکھی ہے یاد رہے کراچی کے برساتی نالوں کی بحالی کے مشن سے متعلق گجر نالہ اور اورنگی نالہ پر تجاوزات کے خلاف تین مقامات پر آپریشن جاری ہے۔آپریشن کے دوران 1000 سے زائد گھر مسمارکیے جاچکے ہیں۔آپریشن کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے رینجرز پولیس انٹی اینکروچمنٹ پولیس سٹی وارڈن لیڈیز پولیس کے آفیسرز و جوان بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ہر ٹیم کیساتھ علاقہ اسسٹنٹ کمشنر، کے الیکٹرک۔ سوئی سدرن گیس، واٹر بورڈ اور دیگر اداروں کی ٹیمیں موجود ہوتی ہیں۔
-

کورونا کا تیزی سے پھیلاؤ، کراچی کے شہریوں کیلئے پابندیوں کا نیا حکم نامہ جاری
محکمہ داخلہ نے شہریوں کیلئے پابندیوں کے نئے حکم نامے میں کہا ہے کہ کورونا ایس اوپیز کےتحت 9سے 16مئی تک نئی پابندیاں عائد رہیں گی جبکہ عید بازار، چاند رات پر لگائے جانے والے تمام بازار بند ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ نے شہریوں کیلئے پابندیوں کا نیا حکم نامہ جاری کردیا ، جس میں کہا ہے کہ کورونا ایس اوپیز کےتحت 9سے 16مئی تک نئی پابندیاں عائد رہیں گی اور تمام سیاحتی تفریحی مقامات عید تعطیلات میں بند رہیں گے۔محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ 9تا 16مئی شہریوں کی نقل وحرکت محدود اور اندرون شہر ،انٹر سٹی سمیت بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ 19مئی تک بند رہے گی جبکہ شہریوں کے لئے ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ زیادہ رش والے علاقوں میں جانے سے گریز کیا جائے، سندھ میں کاروبار،مارکیٹس،شاپنگ پلازہ9تا16مئی بند رہیں گے تاہم بنیادی اشیائے ضروریہ کی دکانوں پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ جانوروں کی خرید وفروخت کی دکانیں ویٹرنری اسٹورز پرپابندی کااطلاق نہیں ہوگا جبکہ ریسٹورنٹس صبح 5سےشام 7بجے تک کھلےرکھےجاسکیں گے اور ریسٹورنٹس ہوٹلز صرف ہوم ڈیلیوری اورٹیک اوےسروس کرسکیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق عید بازار، چاند رات پر لگائے جانے والے تمام بازار بند ہوں گے اور بیکری،کریانہ،دوددھ،گوشت سبزی کی دکانیں شام 7بجے تک کھولی جاسکتی ہیں جبکہ نجی گاڑیوں،ٹیکسی ،کیب میں نصف نشستیں خالی رکھنا ہوں گی۔
-

افسوسناک خبر: معروف اداکارہ سنبل شاہد کورونا سے انتقال کر گئیں
بشریٰ انصاری کی بہن اور معروف اداکارہ سنبل شاہد کورونا سے انتقال کر گئیں۔ گزشتہ ایک ماہ سے عالمی وبا کورونا کا مقابلہ کرنے والی پاکستان کی نامور اداکارہ سنبل شاہد انتقال کر گئیں۔
بشریٰ انصاری نے اپنی بہن کے انتقال کی افسوسناک خبر سناتے ہوئے بتایا کہ سنبل شاہد کورونا کے باعث لاہور کے مقامی اسپتال میں زیر علاج تھیں۔سنبل شاہد کو ایک ماہ پہلے کورونا ہوا تھا اور بشریٰ انصاری نے عوام سے اپنی بہن کی صحتیابی کے لیے کئی بار دعاؤں کی درخواست بھی کی تھی۔
بشریٰ انصاری نے بتایا کہ ڈیڑھ سال پہلے سنبل شاہد کے بیٹے شیراز کا بھی انتقال ہوگیا تھا، شیراز چترال میں پیرا گلائیڈنگ کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ سنبل شاہد نے مقبول ڈراموں ملکہ عالیہ، عشقہ وے میں کام کیا تھا، اس کے علاوہ سنبل شاہد نے ڈرامہ سیریل تاکے کی آئیگی بارات میں تاکے کی ماں کا مقبول کردار نبھایا تھا۔ -

کراچی کے شہریوں کیلئے خوشخبری، سندھ حکومت نے جمعے کو بھی کاروبار کھلا رکھنے کا اعلان کردیا
سندھ حکومت نے جمعے کو بھی کاروبار کھلا رکھنے کا اعلان کردیا
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں جمعہ اورہفتہ صبح 6سے شام 6 تک تمام کاروبار کھلا رہے گا۔کورونا وبا کے باوجود خطرہ مول لے کر رش میں شاپنگ کرنے والے کراچی کے شہریوں کیلئے خوشخبری ہے کہ سندھ حکومت نے جمعے کو بھی کاروبار کھلا رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں جمعہ اورہفتہ صبح 6سے شام 6 تک تمام کاروبار کھلا رہے گا، دونوں دن تاجرایس اوپیز کے ساتھ کاروبار کرسکتے ہیں۔ناصر شاہ نے کہا کہ اتوار سے کاروبار بندہوگا،جسکا ہدایت نامہ جاری کیا جائے گا امید ہے عوام اورتاجر ایس او پیز کا خیال رکھیں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سندھ حکومت نے جمعہ اور اتوار کاروبار بند رکھنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا تاہم عید قریب ہونے کی وجہ سے آج جمعے کو کاروبار کھلا رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ -

کراچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں ایک دم اضافہ
کراچی میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح میں ایک دم اضافہ ہوگیا، کل پانچ فیصد سے بڑھ کر آج مثبت کیسز کی شرح 14.23 ہوگئی۔ بڑھتی شرح کے بعد سندھ ٹاسک فورس نے مزید سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کل سے اتوار تک ہوٹلوں سے پارسل صرف مغرب تک مل سکے گا، اس کے بعد صرف ہوم ڈيلیوری ہوگی۔ اتوار سے عید کی چھٹیوں تک مزید سختیاں ہوں گی، عید کے دنوں میں ہاکس بے، سی ویو بند رہیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی میں نئے کوویڈ کیسز میں اضافہ ہورہا ہے جہاں تشخیص کا تناسب 14.32 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ کافی خطرناک ہے۔ اب حیدرآباد میں نئے کیسز میں کمی واقع ہوئی ہے، حیدرآباد جس کا تناسب 29 اپریل کو 20 فیصد تھا، وہاں 5 مئی کو 11.92 فیصد سامنے آیا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اپریل میں 154 مریض فوت ہوگئے تھے اور مئی میں ابتک کوویڈ نے 33 افراد کی جان لی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایس او پیز پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ 5 مئی کو شہر بھر میں 627 افراد کا چالان کیا گیا اور 1276.500 ملین روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔
-

حلیم عادل شیخ کا سندھ میں منشیات فروشی کے مکمل خاتمے کے لئے آئی جی سندھ کو خط
قائدِ حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا آئی جی سندھ کو خط سندھ میں منشیات فروشی کے مکمل خاتمے کے لئے ٹاسک فورس تشکیل دی جائے سندھ میں منشیات کے کاروبار سے نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے پولیس افسران کے گھروں سے منشیات برآمد ہورہی ہے، سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں منشیات فروشی کا کام زور و شور سے جاری ہے، ہماری نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے اور کئی خاندان اجڑ رہے ہیں، سندھ پولیس منشیات کے کاروبار کو روکنے میں ناکام ہوچکی ہے، پولیس کی سرپرستی میں اس وقت منشیات فروشی کا کاروبار چل رہا ہے منشیات کے کاروبار س لاکھوں روپے ماہانہ رشوت وصول کی جاتی ہے، میرپورخاص میں پولیس افسر کے گھر سے منشیات کی برآمدگی پولیس کے ملوث ہونے کا ثبوت ہے، دیگر شہروں میں بھی ہوسکتا ہے
کہ پولیس افسران منشیات فروشی کے کاروبار میں ملوث ہوں، حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ اس وقت چھوٹے بڑے شہروں میں کچی شراب کی ایک وبا پھیل چکی ہے، کچی شراب کے روک تھام کے لئے بھی پولیس نے اقدامات نہیں اٹھائے، خصوصی ٹاسک فورس کا قیام کرکے سول سوسائٹی کے نمائندوں شامل کیا جائے ، عوام کی منشیات فروشی کی نشاندہی پر موثر کارروائی کرکے سندھ کو منشیات سے نجات دلائی جائے،اخبارات اور ٹی وی پر روزانہ منشیات فروشی کی خبریں شائع ہورہی ہیں، بطور انسپیکٹر جنرل آف پولیس سندھ کے شہروں سے منشیات فروشی کے کاروبار کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھائیں، نوجوان نسل کو بچانے میں آپ اپنا کردار ادا کریں۔
