شہرقائد میں واٹر مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کردیا گیا، لیاری ایکسپریس کے اطراف چوری کی لائنوں پر کارروائی جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی خصوصی احکامات پر آپریشن کیا جارہا ہے، مافیا عوام کا لاکھوں گیلن پانی چوری کرکے صنعتوں کو بیچتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لیاری کے عوام کو فراہم کیا جانے والا پانی بھی مافیا بیچ رہی تھی۔وزیر کا کہنا تھا کہ آپریشن کے مقام پر پولیس، ایس ایس یو اور رینجرز کی بھاری نفری موجود ہے، آپریشن کا مقصد عوام کے حق کا پانی عوام تک پہنچانا ہے، ریکسر کے علاقے میں غیر قانونی واٹر کنکشن کاٹ دیے گئے ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ عوام کو ان کے حق کا پانی جلد پورا کرکے دیں گے۔خیال رہے کہ کراچی میں پانی چوری کے باعث شہریوں تک پانی کی رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
کراچی کی عوام کو تو عید میں بھی پانی نہ ملا بلدیہ میں بھی پانی کی فراہمی نہیں ہو رہی۔عوام کرونا وبا کا سامنا تو کر ہی رہی ہیں ساتھ ہی ساتھ پانی،بجلی،مہنگائی اور کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جہاں پانی کی کلت ہے وہاں ٹینکر مافیا بھی غریب لوگوں کو لوٹنے میں کامیاب عید الفطر کے دنوں میں 2000،2200 تک کا ٹینکر غریب لوگوں نے اپنے گھروں میں ڈلوا لیے پانی کا مسئلہ تو بھڑتا ہی جا جا رہا ہے اور حکومت مہنگائی بھی قابو کرنے میں ناکام۔
Category: کراچی
-

کراچی میں واٹر مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز
-

کرپٹ والدین کے بچے ابو بچانے کی مہم میں مگن ہیں،حلیم عادل شیخ
کرپٹ والدین کے بچے ابو بچانے کی مہم میں مگن ہیں،حلیم عادل شیخ
حلیم عادل شیخ نے اپنے ٹویٹ بیان میں سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کہ یہ میری سندھ کے حالات ہیں جہاں حکمران اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ایک اسپتال کا نظام تک ٹھیک نہیں کرسکے، اسپتالیں این جی اوز کو دینے کی بجاء سندھ حکومت ہی این جی اوز کے حوالے کردینی چاہیے. سندھ کے ضلع سانگھڑ کی تحصیل شہداد پور میں حاملہ خاتون کو سرکاری اسپتال میں زچگی سے انکار کر نے اور پرائیویٹ اسپتال ریفر کرنے کے بعد اسپتال کی پارکنگ میں ہی رکشہ چنگچی میں ہی اپنے بچے کو پیدائش دے رہی ہے.
کرپٹ والدین کے بچے ابو بچانے کی مہم میں مگن ہیں، پنجاب کی راجکماری لوگوں میں کورونا پہیلا رہی ہے،سندھ کا شہزادہ بے تکے بیانات دینے میں مصروف ہے،اپوزیشن اپنی سیاست میں عوام کو کورونا میں دھکیل رہی ہے ، مریم صفدر کا پنجاب میں اجتماعات ذاتی انا اور بغض عمران خان کے علاوہ کچھ نہیں.پی پی چئیرمن کے منہ سے ملکی معیشت پر بڑے بڑے بیان زیب نہیں دیتے۔لاڑکانہ کی جماعت کے پرچی چیئرمین کی باتیں ان کے وزراء اور پارٹی رہنماء تک سنجیدہ نہیں لیتے، پی پی چیئرمین کو علم نہیں آٹے کی سب سے زیادہ قیمت صوبہ سندھ میں ہے بلاول کا بیان آ تے کے متعلق ایسے ہے جیسے عمران خان کی حکومت قیام پاکستان سے ہو،پی پی چیئرمین کی مہربانی سے آج سندھ عالمی جریدوں کی زینت بناہوا ہے، بلاول ہاؤس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر معیشت پر لیکچر جھاڑنے والے اپنی حکومت کے سیاہ کارنامے نہیں چھپا سکتے،بلاول کی چیخوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملکی معیشت درست سمت کی طرف رواں دواں ہے۔ -

موثر بلدیاتی حکومتوں کی عدم موجودگی قومی المیہ ہے، مصطفیٰ کمال
پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ موثر بلدیاتی حکومتوں کی عدم موجودگی ایک قومی المیہ ہے جس پر حکمران اپنے سیاسی مفادات کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ عام آدمی کے مسائل جوں کے توں ہیں، یہاں تک کہ عام آدمی کا نظام پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ عوام کی اکثریت کو نہ ہی انتخابی عمل پر بھروسہ ہے اور نہ ہی انتخابات کے بعد کسی قسم کی تبدیلی کے آنے کی امید ہے۔ حکمرانوں نے عوام کو مایوس کر دیا ہے۔ ان کے خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں پاک سرزمین پارٹی اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں پی ایس ایس ایف کے صدر انجینئر عثمان سمیت مرکزی اراکینِ کمیٹی موجود تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے طلبہ تنظیم کو پارٹی کا پیغام تیزی سے پھیلانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے پر سراہتے ہوئے کہا کہ نئے تعلیم یافتہ، محب وطن نوجوان ہی پاکستان کی امید ہیں۔ پوری کوشش ہے کہ پاک سرزمین پارٹی کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی خدمت کرنے کے لیے بہترین، نئی، قابل، سنجیدہ اور ایماندار لیڈرشپ ملک کے لیے تیار کریں تاکہ ہمارے بعد بھی ہمارا لگایا گیا پودا تناور درخت بن کر آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنائے۔ تمام مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی حکومتوں کا موثر اور یکساں نظام پہلی سیڑھی ہے۔ جس کے لیے پہلے روز سے آواز بلند کر رہے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ہر محب وطن پاکستانی ملک کی خاطر ہماری جدوجہد میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے شانہ بشانہ کھڑا ہو۔
-

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر متوقع بارشوں کا ہمہ وقت امکان موجود ہے : لئیق احمد
ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر متوقع بارشوں کا ہمہ وقت امکان موجود ہے لہٰذا رین ایمرجنسی کے لئے مکمل طور پر تیار رہنا ہوگا، متعلقہ افسران ایک ہفتے کے اندر تفصیلی کنٹی جینسی پلان تیار کریں تاکہ مون سون کی بارشوں سے پہلے سے ہی اس پر عملدرآمد شروع کردیا جائے، یہ بات انہوں نے رین ایمرجنسی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن خالد خان، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مسعود عالم، ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز شبیہہ الحسنین زیدی ، ڈائریکٹر سٹی وارڈن راجہ رستم، ڈائریکٹر مشین پول ڈپو نعمان ارشد، چیف انجینئر (ای اینڈ ایم ) عباس علی شاہ، سید محمد طحہٰ اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ رین ایمرجنسی کے حوالے سے محکمہ ورکس بنیادی کردار ادا کرے گا جبکہ میونسپل سروسز ، سٹی وارڈنز، ایم پی ڈی اور دیگر محکمے اس کے تحت کام کریں گے، تمام افسران و اہلکاروں کے درمیان بہترین کمیونیکیشن ہونی چاہئے، انہوں نے ہدایت کی کہ پلان میں ڈی واٹرنگ پمپس ، ایکس کیویٹرز، کرینز اور دیگر مشینری کے مقام، آپریٹرز کی تعیناتی ،افرادی قوت اور مشینری کی نقل و حمل کے حوالے سے مکمل تفصیلات موجود ہوں گی، بارشوں کے دوران ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال کے دوران کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو فوری مدد فراہم کرنے کے لئے تربیت یافتہ غوطہ خورتعینات کئے جائیں گے تاکہ فوری کارروائی کرکے انسانی جانیں بچائی جاسکیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ نکاسی آب کے لئے دستیاب پمپس کو فعال اور کارآمد حالت میں رکھنے کا انتظام کیا ہے کیونکہ بارشوں کے دوران کسی بھی جگہ پانی جمع ہونے کی صورت میں ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے جبکہ مزید پمپس کا انتظام بھی کیا جائے، انہوں نے کہا کہ وہ خود دورہ کرکے ان پمپس کا جائزہ لیں گے اور ان کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی، انہوں نے کہا کہ ہمیں مشترکہ کوششوں کے ذریعے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا بہتر امیج لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہے کیونکہ کراچی کے شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بارشوں کے دوران کے ایم سی کی طرف دیکھتے ہیں اور انہیں امید ہوتی ہے کہ بروقت اور موثر کارروائی کے ذریعے انہیں سہولت فراہم کی جائے گی، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ ایمرجنسی صورتحال کے اپنے تقاضے ہیں جنہیں پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، اس دوران کسی کو بھی رخصت پر جانے یا رابطہ موقوف کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اس لئے افسران اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں کہ رین ایمرجنسی کے عرصے میں انہیں چوبیس گھنٹے افسران بالا کے ساتھ رابطے میں رہنا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے بصورت دیگر انہیں معطلی کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ موجودہ حالات میں ادارہ اور شہر کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کے متحمل نہیں ہوسکتے، انہوں نے کہا کہ رین ایمرجنسی کے سلسلے میں تمام شہری اداروں کو باہم مل کر کام کرنا ہے ضلعی بلدیات اپنے کنٹی جینسی پلان تیار کرچکی ہیں اور کے ایم سی بھی اپنے طور پر تمام اقدامات کر رہی ہے ، سمندری طوفان کی اطلاعات کے بعد رین ایمرجنسی کے حوالے سے تیاریوں میں تیزی آئی اور اس عمل کو جاری رہنا چاہئے، انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکموں میں افسران اور دیگر عملے کی تین شفٹوں میں تعیناتی کا انتظام کیا جائے اور تمام اقدامات کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے تاکہ کسی بھی وقت اس سے رجوع کیا جاسکے، رین ایمرجنسی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنے حصے کا کردار احسن طریقے سے ادا کرے گی۔
-

سیکریٹری صحت سندھ ڈاکٹر کاظم جتوئی نے سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کراچی میں تعینات گریڈ 18 کی گائنا کولوجسٹ کو اسی جگہ پرڈپٹی میڈیکل سپریٹنڈنٹ کا اضافی عہدہ بھی دیدیا
سیکریٹری صحت سندھ ڈاکٹر کاظم جتوئی نے سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کراچی میں تعینات گریڈ18کی گائنا کولوجسٹ کو اسی جگہ پرڈپٹی میڈیکل سپریٹنڈنٹ کا اضافی عہدہ بھی دیدیا،وزیر صحت ڈاکٹر عذار پیچوہو کے نوٹس لینے کے بعد سیکریٹری صحت کو اپنی نوکری خطرے میں نظر آنے پر گریڈ18کی گائنا کولوجسٹ سے ڈپٹی میڈیکل سپریٹنڈنٹ کا عہدہ واپس لے لیا۔
اس ضمن میں بتایا جاتا ہے کہ محکمہ صحت سندھ میں اعلی افسران کی من مانیاں اور بد عنوانی عروج پر ہے۔محکمہ صحت میں منظور نظر اور طاقتورافراد پر نوازشات کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ سینئر ڈاکٹر زاپنا حق ملنے کی آس میں عہدہ ملنے سے قبل ہی ریٹائر ہو رہے ہیں۔سیکریٹری صحت ڈاکٹر کاظم جتوئی نے حالیہ دنوں سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کراچی میں پہلے سے تعینات گریڈ18کی گائنا کولوجسٹ ڈاکٹر انیلا صدف کوسندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کراچی میں ہی ڈپٹی میڈیکل سپریٹنڈنٹ کے اضافی عہدے پر بیٹھا دیا تاہم بد قسمتی سے معاملہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے علم میں آگیا اور وزیر صحت نے سیکریٹری صحت ڈاکٹر کاظم جتوئی سے معاملے کی جواب طلبی کی اور سخت برہمی کا اظہار کیا، ڈاکٹر انیلا صدف کوڈپٹی میڈیکل سپریٹنڈنٹ مقرر کرنے پر سیکریٹری صحت کو جب اپنی نوکری خطرے میں پڑتی نظر آئی تو انہوں نے فورا ڈاکٹر انیلہ صدف سے ڈپٹی ایم ایس سروسز اسپتال کا عہدہ واپس لینے کا حکم جاری کر دیا اور نئے احکامات تک انہیں سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتا ل کراچی کے نئے گائنی وارڈ میں انچارچ کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔
محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ میں منظور نظر افراد کو اسی طرح ترجیح دیکر میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور اس معاملے میں وزارت صحت کیساتھ سیکریٹری صحت اور محکمے کے اعلی افسران بھی شامل ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ معاملے سے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذار پیچوہو کا کوئی لینا دینا نہیں تھا اس لئے انہوں نے یہاں میرٹ کی لاج رکھ لی اگر یہی کام ان کے اشارے پرکیا جاتا تو عہدہ واپس لینے یا عہدے سے ہٹائے جانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتاتھا۔محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمے میں میرٹ کو نظر انداز کر کے سسٹم کو کمزور کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے اہل افسران و ملازمین میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ -

بلاول کو علم نہیں آٹے کی سب سے زیادہ قیمت صوبہ سندھ میں ہے،حلیم عادل شیخ
بلاول زرداری کے بیان پر پی ٹی آئی رہنماء حلیم عادل شیخ کا رد عمل۔پی پی چئیرمن کے منہ سے ملکی معیشت پر بڑے بڑے بیان زیب نہیں دیتے۔لاڑکانہ کی جماعت کے پرچی چیئرمین کی باتیں ان کے وزراء اور پارٹی رہنماء تک سنجیدہ نہیں لیتے، پی پی چیئرمین کو علم نہیں آٹے کی سب سے زیادہ قیمت صوبہ سندھ میں ہے بلاول کا بیان ایسے ہے جیسے عمران خان کی حکومت قیام پاکستان سے ہو، سندھ میں گندم کے ریٹ پر من پسند خاندانوں کو نوازا جارہا ہے، سندھ میں غربت کی وجہ سے روز خودکشیوں کے واقعات رونما ہورہے ہیں، پی پی چیئرمین کی مہربانی سے آج سندھ عالمی جریدوں کی زینت بناہوا ہے، بلاول ہاؤس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر معیشت پر لیکچر جھاڑنے والے اپنی حکومت کے سیاہ کارنامے نہیں چھپا سکتے،بلاول کی چیخوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملکی معیشت درست سمت کی طرف رواں دواں ہے، بلاول پہلے سندھ کے دیہی و پسماندہ علاقوں کی محرومیاں دور کریں، پنجاب میں گزشتہ 6 ماہ میں ذخیرہ اندوزوں کیخلاف 183 کارروائیاں کی گئیں، بلاول اور ان کی کرپٹ وزیروں نے ذخیرہ اندوزی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے، تحریک انصاف کی حکومت نے ہمیشہ اپنی کارکردگی سے مخالفین کو جواب دیا،عمران خان کی قیادت میں ملک میں خوشحالی سے تعمیر و ترقی کا سفر جاری رہے گا.
-

شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی تازہ لہر کے باعث ۱لخدمت کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں’’ ریلیف کیمپس‘‘ قائم
کراچی میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی تازہ لہر کے باعث ۱لخدمت کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں’’ ریلیف کیمپس‘‘ قائم کر دیئے گئے ہیں ۔گزشتہ روز الخدمت کے ذیزاسٹر مینجمنٹ سیل کا اجلا س منیجر سرفراز شیخ کی صدارت میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں ہیٹ ویو کی تازہ لہرکے سبب ’’ ریلیف کیمپس ‘‘کے قیام اور موجود صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کے ارکان نے شرکت کی ۔اجلاس میں نئی کراچی ،نارتھ کراچی ،کورنگی ،نارتھ ناظم آباد بلاک ایل ،لیاری چاکیواڑہ ،کلاکوٹ اور لسبیلہ سمیت شہر کے 10علاقوں میںشہر یوں کی سہولت کیلئے ریلیف کیمپ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جہاں شہریوں کو پینے کا پانی و ٹھنڈے مشروب کے ساتھ ساتھ انہیں ہیٹ ویو سے بچاؤ کیلئے آگاہی بھی فراہم کی جا ئے گی اور ہیٹ ویو سے متاثرہ افراد کو ان کیمپوں پربتدائی طبی امدادفراہم جائے گی ۔
الخدمت کے ذیزاسٹر مینجمنٹ سیل نے سمندری طوفان کے خطرات کے پیش نظر ساحلی علاقوں کے قریب آباد نشیبی آبادیوں کا دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔اجلاس کے بعد پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( PDMA) کے اشتراک سے تین تلوار پر ریلیف کیمپ قائم کر دیا گیا ،جبکہ الخدمت نیشہر کے دیگر علاقوں میں بھی ’ ریلیف کیمپ ‘‘ قائم کر دیئے ہیں، جہاں سے شہر یوں کو ٹھنڈا مشروب اور پینے کا پانی فراہم کیا گیا اور ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کیلئے آگاہی فراہم کی گئی ۔
دریں اثنا ایگزیکٹو ڈٖائریکٹر راشد قریشی نے کہا کہ الخدمت کے تحت مختلف مقامات پر ہیٹ ویو کے خطرات کے پیش نظر ریلیف کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں ،جہاں الخدمت کے رضاکار شہریوں کو ہیٹ ویو سے نمٹنے کیلئے آگاہی فراہم کر رہے ہیں،جبکہ رضاکار کسی بھی ممکنہ صورتحال میں شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں ۔راشد قریشی نے کہا کہ شہر ی شدید کر می میں گھر وں سے باہر نکلتے وقت اختیاطی تدابیر لازمی اختیار کر یں ۔الخدمت شہریوں کو کسی بھی مشکل صورتحال میں تنہا نہیں چھوڑے گی. -

امیر جماعت اسلامی کراچی کی صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے کراچی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، ملاقات میں فلسطین کی حالیہ سنگین صورتحال، قبلہ اول بیت المقدس ،مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ، معصوم و نہتے بچوں و عورتوں کی شہادت ،شہر قائد میں متنازعہ مردم شماری ، بجلی وپانی ،سیوریج اور ٹرانسپورٹ سمیت بلدیاتی مسائل ،مختلف ترقیاتی منصوبوں، امن و امان کی صورتحال،اردو زبان کے نفاذ سمیت دیگر امورپر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
صدر مملکت عارف علوی نے مسائل کے حل کے لئے کردار ادا کر نے کی یقین دہانی کرائی۔ جماعت اسلامی کے وفد میں نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، سیکریٹری کراچی منعم ظفر خان ،صدر پبلک ایڈ کمیٹی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ اور سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری شامل تھے ۔
اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے گفتگو میں کہا کہ مظلوم فلسطینی عوام امت مسلمہ بالخصوص پاکستان سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں مظلوم فلسطینیوں اور بیت المقدس کے حوالے سے حکومت پاکستان کو واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے فوری طور پر نہتے فلسطینی عوام کی مدد کیلئے عملی اقدامات کرنا چاہیے ، فلسطین میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور غزہ پر بمباری کے نتیجے میں عورتوں و بچیوں سمیت اب تک 180سے زائد شہری شہید ہوچکے ہیں ،اسرائیل نے فلسطین میں میڈیا سینٹر پر بمباری کرکے آزادی صحافت کے تصور کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ، عالمی میڈیا اسرائیلی مظالم کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے ، سرکاری ٹی وی اور پاکستان کے دیگر ذرائع ابلاغ کے ادارے اسرائیلی مظالم کو بے نقاب کرنے کیلئے کردار ادا کریں ۔
حافظ نعیم الرحمن نے 2017کی متنازع مردم شماری کو منظور کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کی ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے، اس جعلی مردم شماری کو قبول نہیں کرے گی ۔
اس موقع پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کو گرمیوں میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا پابند کیا جائے ، کے الیکٹرک اپنی نااہلی و ناقص کارکردگی کے باعث بجلی کی پیداوار میں اضافے میں ناکام رہی ہے اور بدترین لوڈشیڈنگ کرکے اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کرتی ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کے فور کی تکمیل میں مسلسل تاخیر کراچی کے عوام کے ساتھ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے اور اس کی ذمہ داری موجودہ اور سابق حکومتوں پر براہ راست عائد ہوتی ہے،وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کے فور منصوبے کی جلد تکمیل کو یقینی بنائے ۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم کے نفاذ اور اردو کو قومی زبان قرار دے کر دفتری زبان کے طور پر استعمال کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ -

کراچی میں آج کے روز بھی قیامت خیز گرمی
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں آج کے روز بھی قیامت خیز گرمی ہوگی، دن میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرار 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، کل سے سمندری ہوائیں بحال ہوجائیں گی۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان تاؤتے کراچی سے 580 کلو میٹر دور ہے، شہرمیں سمندری ہوائیں بند ہیں جبکہ لو چل رہی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ صبح درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، کراچی میں آج بھی شدید گرمی پڑے گی، دن میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرار 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا 14 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے، ہوا میں نمی کا تناسب 34 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حبس کی وجہ سے گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہوگی۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کل سے سمندری ہوائیں بحال ہونے کا امکان ہے، طوفان کے باعث ٹھٹھہ اور بدین کی ساحلی پٹی میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ ماہی گیر 19 مئی تک سمندر میں جانے سے گریز کریں۔ -

شہر قائد میں سمندری ہوائیں کل دوپہر سے بحال ہوجائیں گی محکمہ موسمیات
ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ سمندری ہوائیں کل دوپہر سے بحال ہو جائیں گی-
باغی ٹی وی :میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردار سرفراز نے بتایا کہ پاکستان کے کسی حصے میں طوفان تاؤتے سے کوئی خطرہ نہیں ہے-
انہوں نے بتایا کہ بھارتی گجرات میں طوفان تاؤتے اب ڈپریشن کی صورت میں موجود ہے۔
سردار سرفراز کے مطابق اب طوفان سے کوئی خطرہ نہیں صرف ضلع تھرپار کر کے کچھ حصوں میں تیز آندھی، بارش کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں سمندری ہوائیں آج بھی معطل رہیں گی اور درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ شہر قائد میں سمندری ہوائیں کل دوپہر سے بحال ہوجائیں گی۔
ہیٹ ویو کے صحت پر اثرات، علامات اور احتیاطی تدابیر
7 ماہ سے بند شیسپر گلیشیئر سے پانی کا اخراج شروع ہوگیا
کراچی میں آج شدید گرمی پڑے گی درجہ حرارت 45 ڈگری تک جانے کا امکان محکمہ…
بھارت: سمندری طوفان تاؤتے سے کرناٹکا، کیرالہ، گوا اور مہاراشٹرا میں تباہی مچ گئی…