Baaghi TV

Category: کراچی

  • یوم علی کے سلسلے میں سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔

    یوم علی کے سلسلے میں سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔

    کراچی میں یوم علی کے سلسلے میں سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔

    ایم اے جناح روڈ کو کنٹینرز لگا کر سیل کرنا شروع کردیا گیا۔ جلوس کے راستے میں آنے والی تمام دکانوں اور مارکیٹس بھی سیل کی جارہی ہیں۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات رہے گی.فضائی نگرانی کے علاوہ اونچی عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کیے جائیں گے.جلوس کے راستوں کی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی سوئپنگ کے علاوہ سراغ رساں کتے بھی سوئپنگ کرتے رہیں گے، پولیس حکام یوم علی کے مرکزی جلوس کی مجلس صبح ساڑھے 6 بجے نشتر پارک میں ہوگی،
    علامہ شہنشاہ نقوی مجلس سے خطاب کریں گے،
    جلوس صبح ساڑھے 7 بجے برآمد ہوگا۔جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا صبح ساڑھے 11 بجے اختتام پذیر ہوجائے گا۔جلوس تمام تر ایس او پیز کے ساتھ تعداد کم کر کے نکالا جائے گا۔

  • ایس ایس یو ہیڈ کوارٹرز میں کرونا ویکسینیشن سینٹر کا قیام، پولیس اہلکاروں کی ویکسینیشن جاری

    ایس ایس یو ہیڈ کوارٹرز میں کرونا ویکسینیشن سینٹر کا قیام، پولیس اہلکاروں کی ویکسینیشن جاری

    ایس ایس یو ہیڈ کوارٹرز میں کرونا ویکسینیشن سینٹر کا قیام، پولیس اہلکاروں کی ویکسینیشن جاری

    کراچی:ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کی ہدایت پر ایس ایس یو ہیڈ کوارٹرز کو بھی پولیس اہلکاروں کے لئے COVID-19 ویکسینیشن سینٹر بنایا گیاہے۔
    تین دیگر مقامات جن میں ڈی آئی جی پی ایسٹ آفس، ڈی آئی جی پی ویسٹ آفس اور پولیس اسپتال گارڈن شامل ہیں کو بھی پولیس اہلکاروں کے لئے ویکسینیشن سینٹر تفویض کیا گیاہے۔
    ایس ایس یو ہیڈ کوارٹررز میں پولیس اہلکاروں کی ویکسینیشن شروع کردی گئی ہے۔ ایس ایس یو ہیڈ کوارٹرز کے ڈی ایس پی راؤ اسلم نے ویکسینیشن کی پہلی ڈوز لگوائی۔ مراکز کے قیام کا مقصد پولیس اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ کرنا ہے ۔کیونکہ وہ کرونا وائرس کے خلاف اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فرنٹ لائن پر کام کر رہے ہیں۔پولیس اہلکاروں کو صبح 09 بجے سے شام 04 بجے تک ویکسینیشن لگائی جا رہی ہے۔ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن مقصود احمد نے ایس ایس یو ویکسینیشن سینٹر کا دورہ کیا، انتظامات کاجائزہ لیا اوراقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
    ڈی آئی جی سیکیورٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے لئے ویکسینیشن کے مراکز کا قیام وقت کی ضرورت ہے کیونکہ وہ فرنٹ لائن پر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کرکرونا وائرس کے خلاف جنگ میں موثر کردار ادا کررہے ہیں۔

  • جب تک اسٹیبلشمنٹ کا فعال کردارہے انتخابی قانون سازی کا فائدہ نہیں،بلاول

    جب تک اسٹیبلشمنٹ کا فعال کردارہے انتخابی قانون سازی کا فائدہ نہیں،بلاول

    جب تک اسٹیبلشمنٹ کا فعال کردارہے انتخابی قانون سازی کا فائدہ نہیں،بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ مزدوروں کے مسائل اور لیبر پالیسی پر بات کی گئی،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ صنعتیں اپنے ورکرز کی تعداد کم بتاتی ہیں،بینظیرمزدور کارڈ کے تحت ہر مزدور اب خود رجسٹرڈ ہوگا، کوشش ہے سندھ میں تمام مزدوروں کوبینظیرکارڈ ملے،بینظیر مزدور کارڈ کے ذریعے پہلے مرحلے میں 6لاکھ مزدوروں کو فائدہ پہنچے گا،ہم چاہتےہیں یہ سہولت پورے سندھ میں مزدوروں کو دی جائے،نہ صرف صنعتی مزدوربلکہ نجی شعبے میں کام کرنے والوں کوبھی رجسٹر کیا جائے گا،مزدورخوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہو گا ، مزدورخود کورجسٹرڈ کرائیں،شہید بھٹونے سب سے پہلے مزدوروں کیلئے پالیسی دی تھی،بینظیرمزدورکارڈکے ذریعےعلاج کی سہولت ملے گی،

    بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا پر لگائی گئیں پابندیا ں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا میڈیا پر پابندی آمرانہ سوچ ہے،بلاول کا مزید کہنا تھا کہ الیکٹرانک کارڈ سے مزدوروں کوفائدہ ہوگا،الیکشن اصلاحات کی ضرورت تو ہے، الیکشن میں دھاندلی ختم کرنے کیلئے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے، جب تک اسٹیبلشمنٹ کا فعال کردارہے انتخابی قانون سازی کا فائدہ نہیں،این اے 249 میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی فعال کردارنہیں تھا،ہمیں یقینی بنانا چاہیےکہ انتخابی عمل اور سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا رول نہ ہو،حکومت کاموقف کوئی سنجیدہ نہیں لیتا،2015تک اختیارات صوبوں کومنتقل ہونے تھے جونہیں ہوئے،انتخابی اصلاحات کے حوالے سے الیکشن کمیشن بڑا کردار ادا کر سکتا ہے،

    آزادی اظہار کی دعویدار ٹویٹر انتظامیہ کو مودی کے ظلم کی حمایت کرنے پر شرم آنی چاہیے ، سید فیاض الحسن رہنما پی ٹی آئی

    بھارتی اقدام قابل مذمت، باغی ٹی وی کو دباؤ میں نہیں آنا چاہیئے،خرم نواز گنڈا پور

    پروپیگنڈے کرنیوالی مودی سرکار باغی ٹی وی کا "سچ” برداشت نہ کر سکی،باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی درخواست کر دی

    بلاول کا آزادی صحافت کا نعرہ، سندھ میں 50 سے زائد صحافیوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج

    قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلاول ہاؤس میں مزدور رہنماؤں کی ملاقات ہوئی جس میں مزدور رہنماؤں نے ملک میں موجودہ مہنگائی کے تناظر میں مزدوروں کے حالات پر بریفنگ دی،

  • پاکستان میں میڈیا پر عائد اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیاں ختم کی جائیں،بلاول بھٹو

    پاکستان میں میڈیا پر عائد اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیاں ختم کی جائیں،بلاول بھٹو

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا آزادیِ صحافت کے عالمی دن پر پیغام ۔پیغام میں کہا پاکستان میں میڈیا پر عائد اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیاں ختم کی جائیں پی ٹی آئی حکومت نے دہونس دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے آزادیِ صحافت کو پابندِ سلاسل کیا ہوا ہے عمران خان حکومت نے ہر شعبے میں اپنی ناجائزیوں، نااہلی اور سراسر ناکامیوں کو چھپانے کی خاطر میڈیا کا گلا دبایا ہوا ہے۔متعدد غیرجانبدار صحافیوں اور اینکرپرسن کو زبردستی ٹی وی اسکرینز سے ہٹایا گیا ہے۔اب وہ صحافی اپنے غیرجانبدارانہ تجزیوں اور تبصروں کا اظہار سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔پاکستان میں پریس کی آزادی کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ صفِ اول میں رہی ہے۔
    شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں ان کالے قوانین کا خاتمہ کیا، جو ضیاء نے صحافت پر لاگو کیئے تھے۔پاکستان میں آزاد میڈیا کو دبانا، قوم کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔یہ عمل عوام کے جائز غصے اور مایوسی کے شعلوں پر مزید تیل چھڑکے گا آزادی صحافت ایک متحرک معاشرے و جمہوریت کا کلیدی حصہ ہوتا ہی، جو عوام کی آواز بنتی ہے تمام تر سنسرشپ بشمول خود ساختہ سنسرشپ کے، جو خفیہ خطرات کے ذریعے عائد ہے، کا خاتمہ کیا جائے۔میڈیا کو ایک آزاد نگران کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے پی ٹی آئی حکومت کے دوران، پریس فریڈم انڈیکس پر پاکستان کی تنزلی ہوئی ہے بلاول بھٹو زرداری کا اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا رپورٹرز ودآوَٹ بارڈرز کی جانب سے مرتب کردہ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان 145 نمبر پر آگیا ہے عالمی یوم آزادی کے رواں برس کی تھیم، "انفارمیشن اے پبلک گُڈ”، کی مکمل تائید کرتا ہوں پاکستان میں اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف اسپانسرڈ میڈیا ٹرائلز کے دور کا خاتمہ کیا جائے
    پاکستان پیپلز پارٹی آزاد میڈیا پر پابندیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی پی پی پی صحافی برادری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی اپنی تاریخ کو زندہ رکھے گی پاکستان پیپلز پارٹی تب تک سکھ کا سانس نہیں لے گی، جب تک پاکستان میں صحافت حقیقی معنوں میں خودمختار و آزاد نہیں ہوجاتی اس طرح خودمختار و آزاد جس طرح کسی بھی ایک حقیقی جمہوری ملک میں صحافت ہوتی ہے.

  • بلاول بھٹو زرداری سے بلاول ہاؤس میں مزدور رہنماؤں کی ملاقات

    بلاول بھٹو زرداری سے بلاول ہاؤس میں مزدور رہنماؤں کی ملاقات

    کراچی پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلاول ہاؤس میں مزدور رہنماؤں کی ملاقات۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مزدور رہنماؤں سے ملاقات کے موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرمحنت سعید غنی اور وزیراطلاعات ناصرشاہ بھی موجود۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مزدور رہنماؤں سے ملاقات کے موقع پر سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر رضاربانی، پی پی پی پی کی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری بھی موجود۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مزدور رہنماؤں نے ملک میں موجودہ مہنگائی کے تناظر میں مزدوروں کے حالات پر بریفنگ دی۔ چیئرمین بلاول بھٹو کی موجودگی میں مزدور رہنماؤں نے سندھ حکومت کے بے نظیر مزدور کارڈ کے اجرا کے عمل کو سراہا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پیپلزلیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی، حسین بادشاہ، لعل بخش کلہوڑو اور جاوید منگی سے ملاقات کی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ریلوے ورکرز یونین کے چیئرمین منظور رضی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ پیپلزلیبریونین کے لیاقت مگسی نے بھی ملاقات کی۔ اسٹیل ملز پیپلزورکرز یونین کے چیئرمین شمشاد قریشی، سلیم سومرو اور پی آئی اے پیپلزلیبربیورو کے محمد اشرف، مولادادلغاری نے بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔ کے الیکٹرک پیپلزلیبربیورو سے اسلم سموں، سوئی سدرن گیس کمپنی پیپلزلیبربیورو سے فیاض شاہ نے بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرامت علی اور ذوالفقار شاہ نے بھی ملاقات کی۔ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے رہنما ناصرمنصور اور نیشنل آرگنائزئشن فار ورکنگ کمیونٹیز کی رہنما فرحت پروین کی بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات.چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن کی زہرا خان اور سندھ لیبر فیڈریشن کے صدر شفیق غوری کی بھی ملاقات کی۔

  • زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    سندھ حکومت کی جانب سے ملیر کی زمینیں بیچنے کا معاملہ،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن اور سندھ حکومت کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی،

    قرارداد سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے جمع کرائی،پارلیمانی لیڈر بلال غفار، جمال صدیقی، ارسلان تاج، ملک شہزاد اعوان اور دیگر بھی ہمراہ موجود تھے ،قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ حکومت بحریہ کی آڑ میں سندھ کی زمینیں بیچ رہا ہے، سندھ کی ماؤں بیٹیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے،سندھ کے جزائر پر پی پی نے سندھ ہمارے لیے وطن ہے کے نعرے لگائے، آج اسی وطن کو بیچنے میں پی پی آگے ہے،

    قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ملیر میں قدیمی گوٹھوں کو بحریہ کے ذریعے مسمار کرنے کی سازش بند کی جائے، گوٹھ والوں پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں اور افسران کے خلاف کاروائی کی جائے،

    تحریک انصاف نے سندھ اسمبلی میں زمینوں پہ قبضے کیخلاف سندھ حکومت اور بحریہ ٹاؤن کیخلاف قرار جمع کرائی جسکی پیپلز پارٹی ارکان نے نہ صرف مخالفت کی بلکہ اسپیکر نے قرار پیش کرنے سے بھی روک دیا

    قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ میں گوٹھ نور محمد گبول پر بحريی ٹاون کی جانب سے قبضے کی کوشش کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے بحریہ ٹاون انتظامیہ کو گوٹھ نور محمد گبول پر قبضہ کرنے سے روک دیا،عدالت نے حکم دیا کہ پولیس اور بحریہ ٹاون انتظامیہ گوٹھ نور محمد گبول کے خلاف کاروائی نہ کرے،

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

    ہم نے کوئی جرم نہیں کیا، سب کا پیسہ پاکستان آنا چاہئے، ملک ریاض بول پڑے

    بحریہ ٹاؤن میں جنسی زیادتی کا شکار 8 سالہ بچی دم توڑ گئی، پولیس کا ملزم کو گرفتار کرنیکا دعویٰ

    قبل ازیں سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ سے بحریہ ٹاؤن کے متاثرین کے وفد نے ملاقات کی،وفد میں چاچا فیض محمد گبول کے فرزند مراد گبول، سردار قادر بخش گبول، حفیظ جوکھیو اور دیگر شامل تھے ،اس موقع پر حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ ملیر کے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے ملیر کے نمائندے بروکر اور سہولتکار بن چکے ہیں.

  • سندھ نے وفاق سے کھجور کی ایکسپورٹ کھولنے کا مطالبہ کردیا

    سندھ نے وفاق سے کھجور کی ایکسپورٹ کھولنے کا مطالبہ کردیا

    سندھ نے وفاق سے کھجور کی ایکسپورٹ کھولنے کا مطالبہ کردیا۔وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کھجور کی ایکسپورٹ کیلئے ضروری اقدامات کرے، کھجور کی ایکسپورٹ بند ہونے سےکسانوں کا بھاری نقصان ہورہا ہے۔اسماعیل راہو نے کہا کہ کیا وفاقی حکومت اس برس کسانوں کو نقصان سے بچانے کیلئے کھجور برآمد کرنے کیلئے کچھ کرے گی، ضلع خیرپور میں اعلی معیارکی کھجور پیداہوتی ہے، یہ کھجور ملکی ضروریات کے ساتھ متحدہ عرب امارات، نیپال، اومان، بھارت اور دیگر ممالک سے درآمد کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھجور کی ایکسپورٹ سے ملک کروڑوں ڈالر زرمبادلہ کماتا ہے، سال 2016میں103ملین ڈالر، 2017 میں108 اور 2018 میں113ملین ڈالر کی کھجور درآمد ہوئی، جو 2019 میں سلیکٹڈ کے آتے ہی 71 ملین ڈالر کی رہ گئی،پچھلے برس یعنی 2020 میں اور کم ہو کر بہت کم درآمد ہو سکی۔اسماعیل راہو نے کہا کہ پچھلے دو سال سے سندھ کی کھجور کے کاشتکاروں کا برا حال ہے، عمران خان حکومت جان بوجھ کر سندھ کی زراعت کو نقصان پہنچا رہی ہے، کھجور کے بیوپاریوں کو اسٹاک ایکسپورٹ کرنے میں کافی مشکلات کاسامنا ہے۔

  • عید سے پہلے سخت لاک ڈاؤن ، عوام کیلئے اہم خبر آگئی

    عید سے پہلے سخت لاک ڈاؤن ، عوام کیلئے اہم خبر آگئی

    سندھ میں قائم ٹاسک فورس نے عید سے پہلے لاک ڈاؤن سخت کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی ویو روڈ اور ساحل سمندرجانے والی سڑکوں کو بند کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق کوروناکی روک تھام سے متعلق سندھ میں قائم ٹاسک فورس کی سفارشات سامنے آگئیں ، جس میں کہا گیا ہے کہ عیدسےپہلےلاک ڈاؤن سخت کیاجائے اور عیدکےدنوں میں تفریحی مقامات مکمل بند کیےجائیں۔ٹاسک فورس نے سی ویوروڈ،ساحل سمندرجانےوالی سڑکوں کوبندکرنےکی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع شرقی میں قانون نافذکرنےوالوں کی مدد سے مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے۔سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ یوم علیؓ ودیگرجلوسوں پراین سی اوسی پابندی پر عملدرآمد ہوگا اور این سی اوسی نے جو فیصلے کیےہیں ان پر بھی عملدرآمد کیا جائےگا، سندھ حکومت کی جانب سےٹاسک فورس کوآگاہ کردیا گیا ہے۔
    دوسری جانب کورونااورپابندیوں سے متعلق بیرسٹرمرتضیٰ وہاب نے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ عوام مزیدپابندیوں سےبچنےکےلئےایس اوپیزپرعمل کریں، کورونا وائرس خطرناک صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے۔بیرسٹرمرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ شہری وتاجر برادری ایس اوپیزپر عملدرآمدسےگریزاں ہے، ریستوران کواجتماعی دعوتوں کےلئےاستعمال کرنےکی شکایات ہیں اور دکانیں 6بجےکےبعدبھی کھلی رکھنا حکومتی ہدایات کےخلاف ہے،انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کا ساتھ دیں ، وباپر قابو پانے کے لئے حکومت کو عوام کا تعاون درکار ہے، خدانخواستہ صورتحال بگڑی تومزیدسخت پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔

  • صورتحال بگڑی تو مزید سخت پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں

    صورتحال بگڑی تو مزید سخت پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں

    سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کورونا وائرس کی تازہ صورتحال سے متعلق کہنا ہے کہخدانخواستہ صورتحال بگڑی تو مزید سخت پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کورونا وائرس کی تیسری لہر اور پابندیوں کے حوالے سے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کورونا وائرس خطرناک صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے، مزید پابندیوں سے بچنے کے لیے شہری حکومتی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کریں۔انہوں نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ شہری اور تاجر برادری ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد سے گریزاں ہے، ریستوران کو اجتماعی دعوتوں کے لیے استعمال کرنے کی شکایات ہیں، دکانیں چھ بجے کے بعد بھی کھلی رکھنا حکومتی ہدایات کے خلاف ہے۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا ویڈیو بیان میں کہنا ہے کہ اپنے، اپنے اہل خانہ اور پورے ملک کے شہریوں کے تحفظ کے لیے خدارا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ حکومت اور قانون نافز کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں، وباء پر قابو پانے کے لیے حکومت کو عوام کا تعاون درکار ہے۔

  • کراچی پولیس میں ٹک ٹاک کا جنون عروج پر

    کراچی پولیس میں ٹک ٹاک کا جنون عروج پر

    ویسٹ زون کے تھانے میں تعینات پولیس کانسٹیبل ٹک ٹاکر بن گیا اور بھارتی اداکاروں کے ڈائیلاگ پردرجنوں ویڈیوز بنا ڈالیں، پولیس کانسٹیبل کامران یومیہ 2 سے3 ٹک ٹاک ویڈیوز بناتا ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں پولیس اہلکاروں کی دلچسپی ڈیوٹی سے زیادہ ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں ہونے لگی، ویسٹ زون کےتھانےمیں تعینات پولیس کانسٹیبل ٹک ٹاکربن گیا۔اہلکار نے بھارتی اداکاروں کے ڈائیلاگ پر درجنوں ویڈیوز بنا ڈالیں ، کبھی لاک اپ میں ڈائیلاگ تو کبھی پولیس موبائل میں بیٹھ کر فنکاری کی ، کامران یومیہ 2 سے 3 ٹک ٹاک ویڈیوز بناتا ہے۔
    خیال رہے پولیس حکام ماضی میں ٹک ٹاک بنانے والے اہلکاروں کے خلاف ایکشن لے چکے ہیں، رواں سال مارچ میں کراچی میں پولیس یونیفارم میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر تین خواتین پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا تھا ، تینوں اہلکاروں نے سندھ اسمبلی میں ڈیوٹی کے دوران ٹک ٹاک ویڈیو بنائی تھی۔
    گذشتہ سال لاہور میں خاتون کانسٹیبل کی ٹک ٹاک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی ، جس کے بعد اعلیٰ پولیس افسران نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کانسٹیبل کو معطل کردیا تھا۔