Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں ابراہیم حیدری سے اغوا ہونے والا ڈیڑھ سالہ بچہ 6گھنٹے بعد بازیاب

    کراچی میں ابراہیم حیدری سے اغوا ہونے والا ڈیڑھ سالہ بچہ 6گھنٹے بعد بازیاب

    ملیرپولیس نے ابراہیم حیدری سے اغوا ہونے والے ڈیڑھ سالہ بچے کو 6گھنٹے بعد بازیاب کروا کر 2مشتبہ افراد کو حراست میں لےلیا، پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں صبح سویرے گھر میں ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا ، جہاں مبینہ طور پر 3ملزمان گھرمیں گھسے اور 3لاکھ کےلگ بھگ نقدی اور سونا لوٹ کر فرار ہوگئے جبکہ جاتے جاتے ڈیڑھ سال کے توقیر کو بھی اغواکر لے گئے۔بعد ازاں ملیرپولیس نے 6 گھنٹے بعد معصوم بچے کو بازیاب کرالیا، پولیس کا کہنا ہے کہ بچہ اغواہواتھایاکروایاگیاتحقیقات کررہےہیں، 2مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیاہے اور مشتبہ افراد کے بیانات حاصل کرلیے ہیں۔حکام کے مطابق والدین اورزیرحراست ملزمان کےبیانات میں تضادہے، گھرمیں4ملزمان داخل ہوئےاورلوٹ مارکی، اس دوران ملزمان نے2لاکھ 50 ہزار، سونا اور موبائل فون چھینا۔پولیس کا کہنا تھا کہ معاملےکی مکمل جانچ کےبعدمقدمہ درج کیاجائےگا، واقعےمیں ملوث عناصرکوباقاعدہ گرفتارکریں گے۔

  • کورونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت ، سندھ حکومت نے ایک اور بڑا فیصلہ کرلیا

    کورونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت ، سندھ حکومت نے ایک اور بڑا فیصلہ کرلیا

    سندھ حکومت نے کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر کراچی ایکسپو سینٹر میں قائم فیلڈ آئسولیشن سینٹر کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کرلیا ، ایکسپو سینٹر میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کے لئے آئی سی یو اور ایچ ڈی یو قائم ہے۔
    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے کورونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت کے سبب کراچی ایکسپو سینٹر میں قائم فیلڈ آئسولیشن سینٹر کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے یہ فیصلہ کورونا مثبت کیسز کی شرح مین اضافے کے باعث کیا ہے ، ٹاسک فورس کے اجلاس میں کراچی میں عارضی طور پر بند کیے گئے فیلڈ آئسولیشن سینٹر کو دوبارہ کھولنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔کراچی ایکسپو سینٹر میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کے لئے آئی سی یو اور ایچ ڈی یو قائم ہے جبکہ فیلڈ آئسولیشن سینٹر میں 12 وینٹی لیٹرز، 140 آکسیجن والے ایچ ڈی یو اور 500 سے زائد آئسولیشن بستروں کی سہولت موجود ہیں۔خیال رہے مارچ کے ابتدائی دنوں میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے سبب کراچی ایکسپو سینٹر میں قائم فیلڈ آئسولیشن سینٹر کو عارضی طور پر بند کردیا گیا تھا۔

  • جی پیمپر لے کر آرہا ہوں ‘عاطف کی اہلیہ سے گفتگو کی ویڈیو وائرل

    جی پیمپر لے کر آرہا ہوں ‘عاطف کی اہلیہ سے گفتگو کی ویڈیو وائرل

    ویسے تو شوبز شخصیات کی عموماً ناچتے گاتے ہی ویڈیوز دیکھنے میں آتی ہیں لیکن گلوکار عاطف اسلم کی اپنی اہلیہ سے دلچسپ گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔انسٹاگرام پر گلوکار عاطف اسلم کی ایک نئی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں عاطف یوٹیوبر شاہ ویر جعفری کے ہمراہ گاڑی میں بیٹھے ہیں۔
    ویڈیو میں شاہ ویرجعفری کو عاطف اسلم سے نئے گلوکاروں سے متعلق سوال کرتے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ دوران گفتگو عاطف اسلم کے موبائل پر ایک کال آتی ہے جسے ریسیو کرتے ہی عاطف اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں جی پیمپر لے کر آرہا ہوں۔عاطف نے دوران گفتگو اہلیہ سے مزید کہا کہ جی بس تھوڑی دیر میں پہنچ جاؤں گا۔عاطف کی گفتگو پر شاہ ویر جعفری کو سوال بھول کرقہقہے لگاتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔دوسری جانب صارفین کی جانب سے نہ صرف ویڈیو کو اب تک لاکھوں بار دیکھا جاچکا ہے بلکہ صارفین پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے دلچسپ تبصرے بھی کررہے ہیں۔

  • کے ایم سی ڈی ایم سیز کے 25 ہزار پنشنرز حکومت کی ہدایات کے باوجود یکم مئی سے قبل پنشن کی ادائیگی سے محروم رہ گئے

    کے ایم سی ڈی ایم سیز کے 25 ہزار پنشنرز حکومت کی ہدایات کے باوجود یکم مئی سے قبل پنشن کی ادائیگی سے محروم رہ گئے

    حبیب بینک کی 100 سے زائد برانچوں سے پنشنرز مایوس لوٹ گئے۔ کے ایم سی انتظامیہ کو بددعائیں دیتے رہے۔ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نوٹس لیں ۔
    سجن یونین (سی بی ای) کے ایم سی کے مرکزی صدر سید ذوالفقار شاہ نے کہا ہے کہ حکومت کی واضح ہدایات اور رقم پوسٹنگ ہونے کے باوجود آج کے ایم سی، ڈی ایم سیز کے 25 ہزار پنشنرز اپنے ماہوار پنشن کی ادائیگی سے محروم رہ گئے۔
    حبیب بینک کی 100 سے زائد برانچوں سے پنشنرز مایوس لوٹ گئے۔ کراچی سے باہر اندرون ملک پنشنرز کو برانچوں سے مایوس لوٹ کر جانے پر شدید اشتعال پایا جاتا ہے جس پر انہوں نے رمضان المبارک میں پریشان کرنے پر بلند آواز میں بددعائیں دیں۔ سید ذوالفقار شاہ نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

  • قبرستانوں کا نظم و نسق چلانے کے لئے آٹھ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی

    قبرستانوں کا نظم و نسق چلانے کے لئے آٹھ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی

    ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے قبرستانوں کا نظم و نسق چلانے اور متعلقہ معاملات کی نگرانی کیلئے فلاحی اداروں اور کے ایم سی کے افسران پر مشتمل آٹھ رکنی سینٹرل کمیٹی قائم کردی ہے، یہ کمیٹی قبرستانوں میں قبر کی فراہمی سے لے کر مردوں کی تدفین تک تمام معاملات کی نگرانی کرے گی اور اس دوران غمزدہ خاندانوں کو مکمل تعاون فراہم کرے گی، کمیٹی کی ذمہ داریوں میں تمام قبروں اور تدفین کا ریکارڈ رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ قبرستانوں کی حدود میں کوئی غیر اخلاقی اور غیر سماجی سرگرمیاں وقوع پذیر نہ ہوں، کمیٹی قبرستانوں میں قبروں اور مردوں کی آوارہ جا نوروں سے حفاظت کے لئے بھی ضروری انتظامات کرے گی، مزید براں یہ کمیٹی کراچی کے تمام قبرستانوں کے انتظامات کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو سب کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کرے گی تاکہ قبرستانوں کی مستقل دیکھ بھال کا انتظام ہو سکے، کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ باقاعدگی سے منعقد ہوگا اور اس کی رپورٹ بمعہ تجاویز ماہانہ بنیاد پر ایڈمنسٹریٹر کراچی کو بھیجی جائے گی، کمیٹی کے کنوینئر/ سیکریٹری سینئر ڈائریکٹر میڈیا کے ایم سی علی حسن ساجد ہوں گے، اراکین کیمٹی میں ڈائریکٹر قبرستان اقبال پرویز، ڈپٹی ڈائریکٹر قبرستان سرور عالم کے علاوہ جے ڈی سی ویلفیئر آرگنائزیشن کے ظفر عباس، الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کے منظر عالم، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ کے ریحان یاسین، دعوت اسلامی کے یحی عطاری اور النور ویلفیئر کے محمد خالد نور شامل ہیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ قبرستانوں کی دیکھ بھال، تدفین کے عمل کو بہتر بنانے، شہریوں کی شکایات کے ازالے اوردیگر معاملات کا جائزہ لینے پر یہ محسوس کیا گیا کہ فلاحی و سماجی تنظیموں کے اشتراک سے قبرستانوں کی بہتری کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے تاکہ اس اقدام کے دوررس نتائج برآمد ہوں، انہوں نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ سول سوسائٹی اور سماجی تنظیمیں ان کاموں میں مکمل تعاون کررہی ہیں، شہریوں کو جو بھی شکایات ہوں اس کمیٹی کو بتائیں کمیٹی ان کے ازالے کے لئے بروقت اقدامات کرنے کی ذمہ دار ہوگی، انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی بلاامتیاز و تفریق کام کرے گی، قبرستانوں میں تدفین، انفراسٹرکچر کی بہتری، اسٹریٹ لائٹس کی فراہمی، راہداریوں کی درستگی اور شجر کاری، کفن اور مردوں کے اعضاء چرانے کی روک تھام، تدفین کے سرٹیفکیٹ کا اجراء سمیت مختلف معاملات اس کمیٹی کے زیر نگرانی ہونگے جس سے یہ تمام چیزیں شفاف اور بہتر طریقے سے ہوسکیں گی، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ چھ منتخب قبرستانوں میں منیجنگ کمیٹیاں بھی تشکیل دی جا رہی ہیں، پہلے مرحلے میں جن 6 قبرستانوں سے کام کا آغاز ہوگا ان میں سخی حسن قبرستان، عیسیٰ نگری قبرستان، محمد شاہ قبرستان نارتھ کراچی، ماڈل کالونی قبرستان، طارق روڈ قبرستان اور النور قبرستان شامل ہیں، منیجنگ کمیٹیاں ان قبرستانوں کا انتظام و انصرام سنبھالیں گی تو صورتحال میں بہتری آئے گی، انہوں نے کہا کہ کراچی کے زیادہ تر قبرستان بھر چکے ہیں اور مزید تدفین کی گنجائش نہیں ہے تاہم لوگوں کا اصرار ہوتا ہے کہ مخصوص قبرستان میں اپنے عزیز و اقارب کی تدفین کریں، موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہماری کوشش ہوگی کہ شہریوں کو اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ بھر جانے والے قبرستانوں میں اپنے عزیز و اقارب کی تدفین پر اصرار نہ کریں اور انہی قبرستانوں میں تدفین کریں جہاں گنجائش موجود ہے،انہوں نے کہا کہ اسی ہفتے جے ڈی سی اور سیلانی ویلفیئر کے ساتھ نئے ماڈل قبرستانوں کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کئے جائیں گے،

  • وباء کے باوجود تعمیراتی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے:میاں زاہد حسین

    وباء کے باوجود تعمیراتی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے:میاں زاہد حسین

    ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وباء کے باوجودتعمیرات اور گھروں کے لئے قرضوں کے حصول میں اضافہ ہوا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی پالیسی کی کامیابی کا پتہ چلتا ہے۔
    تاہم وزیراعظم عمران خان کے پچاس لاکھ گھروں کی فراہمی کے انتخابی وعدے کی تکمیل کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ مرکزی بینک اور بینکوں کی تنظیم کے مطابق جولائی سے مارچ تک کنسٹرکشن اور ہاؤسنگ کے شعبہ میں 202ارب روپے کے قرضے لئے گئے ہیں جو گزشتہ سال میں لئے گئے قرضوں سے 54 ارب روپے زیادہ اور ملکی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔
    میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل تعمیرات کے شعبہ کے لئے ترغیبات کا اعلان کیا گیا تھاجس کے بعد بھی مزید ترغیبات کا سلسلہ جاری ہے تاہم ان اقدامات سے اس اہم شعبہ میں وہ تیزی وسرگرمی نہیں آسکی جس کی توقع تھی۔
    بینکوں کو قرضوں کا پانچ فیصد اس شعبہ کے لئے مختص کرنے کا ہدایات بھی کی جا چکی ہیں اور تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے مگر بینک اس سلسلہ میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں کیونکہ ابھی تک انکی منشاء کے مطابق متعلقہ قوانین میں ضروری ترمیم نہیں کی گئی ہے اور موجودہ قوانین کو بینک اپنے مفادات کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔
    بینکوں کو مطمئن کرنے کی صورت میں تعمیرات سے وابستہ درجنوں صنعتیں رواں ہو جائیں گی اور لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا جو جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھانے کے لئے ضروری ہے۔

  • سول ایوی ایشن نے بیرون ملک سے آنے والی پروازوں میں کمی سے متعلق نوٹم جاری نہیں کیا

    سول ایوی ایشن نے بیرون ملک سے آنے والی پروازوں میں کمی سے متعلق نوٹم جاری نہیں کیا

    سول ایوی ایشن حکام نے بیرون ملک سے آنے والی پروازوں کی تعداد میں کمی کے فیصلے سے متعلق این سی او سی کی گائیڈ لائن پر تاحال کوئی نوٹم جاری نہیں کیا جبکہ ائیرلائنز بھی اس فیصلے سے لا علم نکلیں۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل اینڈ کمانڈ آپریشن سینٹر نے بیرون ملک سے پاکستان آنے والی پروازوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا تھا، این سی او سی اجلاس میں 80 فی صد انٹرنیشنل پروازوں کی بندش کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
    تاہم اس سلسلے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے تاحال نوٹیفکیشن جاری نہ کیا جا سکا، جبکہ 5 مئی سے پروزاوں کی تعداد 20 فی صد تک محدود کرنے سے متعلق ایئر لائنز بھی لا علم نکلی ہیں۔ پاکستان آمد کے لیے ایئر لائنز، مسافر پروازوں کی بکنگ سے متعلق ابہام کا شکار ہیں، دوسری جانب مختلف ممالک کے مسافروں کو کرونا ٹیسٹ رپورٹ کے حصول میں مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
    یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے کورونا پھیلاوٴ روکنے کیلئے 5 مئی سے بین الاقوامی مسافر پروازیں محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کہا گیا تھا کہ پاکستان آنے والی پروازیں 5 سے 20مئی تک کم کردی جائیں گی اور فیصلے پر نظرثانی 18 مئی کو ہوگی۔عالمی پروازیں کام کرنے سے متعلق تفصیلی احکامات سول ایوی ایشن اتھارٹی جاری کریں گی ۔ خیال رہے کہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد ایئر پورٹس پر صرف 20 فی صد پروازوں کی لینڈنگ کی اجازت ہوگی، این سی او سی کے مطابق ایئر ٹریول پلان 4 اور 5 مئی کی شب سے 19 سے 20 کی شب تک مؤثر ہوگا، اس ٹریول پلان پر 18 مئی کو دوباہ غور کیا جائے گا۔ سول ایوی ایشن شعبہ ٹرانسپورٹ کی یکم مئی (آج) کی چھٹی بھی منسوخ کی جا چکی ہے اور ملازمین کو بھی آج طلب کیا گیا ہے۔

  • خان صاحب! کراچی سے سیالکوٹ اور نوشہرہ تک عوام آپ سے ناراض ہیں

    خان صاحب! کراچی سے سیالکوٹ اور نوشہرہ تک عوام آپ سے ناراض ہیں

    کراچی الیکشن تو پیپلز پارٹی جیت گئی مگر اس پر بھی ن لیگ نے شور مچا رکھا ہے کہ ان کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے۔اس الیکشن میں پی ایس پی اور کالعدم تحریک لبیک نے بھی اچھے خاصے ووٹ بٹورے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کہاں چلی گئی وہ تو اس الیکشن میں چوتھے نمبر پر جا کر رکی۔2018کے الیکشن میں کراچی سے دھوم دھام سے الیکشن جیتنے والی پی ٹی آئی محض تین سالوں میں ہی اتنی ٹھس ہو گئی کہ انہیں منہ چھپانے کے لیے جگہ ہی نہیں مل رہی ہے کہ وقت سے پہلے ہی تحریک انصاف کے امیدوار بوریا بستر لپیٹ کر شکست تسلیم کر کے چل دیے تھے۔
    جبکہ یہ وقت وزیراعظم عمران خان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ملک بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والی پی ٹی آئی جسے اس اسٹیج پر آنے کے لیے کم سے کم 25سال لگے تھے اور اس نے محض تین سال کے عرصے میں ناکامی کا منہ دیکھنا شروع کر دیا اور ملک بھر میں ہونے والے ضمنی الیکشنز میں وہ بری طرح ہارنا شروع ہو گئی۔
    اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن کامران خان نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”عمران خانصاحب پی ٹی آئی عوامی مقبولیت آج کہاں کھڑی ہے جاننے کا سادہ نسخہ آج کراچی این اے 245 نوشہرہ پی کے 63 گجرانوالہ PP 51 ڈسکہ NA 75 نتائج دیکھ لیں نوشتہ دیوار ہے کراچی سے سیالکوٹ سے نوشہرہ تک عوام آپ سے ناراض ہیں آج کراچی سے پشاور تک عوام ن لیگ کو PTI پر ترجیح دے رہے ہیں۔
    “انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا”مفتاح اسماعیل جتنی شاباش دی جائے کم ہے نا آفریدی جیسی وفاقی حکومت مدد نہ مندوخیل جیسی پشت پر سندھ حکومتی قوت مفتاح دن رات campaign کرتے رہے NA 249 نے کراچی کے نواز شریف پرچم اٹھائے تعلیم یافتہ بزنس مین کو تقریباً جتوادیا 500 ووٹ کی ہار کوئی ہار نہیں ن لیگ کو PTI سے دو گنا ووٹ ملے۔“ بات تو ٹھیک ہے کہ عمران خان صاحب کو اپنی پرفارمنس پر توجہ دینی چاہیے اور ان حالات اور وجوہات پر بھی غور کرناچاہیے کہ جس سے آج پی ٹی آئی کو یہ وقت دیکھنا پڑ رہا ہے کہ عوام اسے ووٹ دینے کے لیے میدان میں نہیں آ رہے۔

  • یوم شہادت حضرت علیؓ کے مرکزی جلوس کے انتظامات سے متعلق جائزہ اجلاس کا کمشنر کراچی کی زیر صدارت اجلاس

    یوم شہادت حضرت علیؓ کے مرکزی جلوس کے انتظامات سے متعلق جائزہ اجلاس کا کمشنر کراچی کی زیر صدارت اجلاس

    کمشنر کراچی نوید احمد شیخ کی زیر صدارت میں اجلاس ہوا نو ید شیخ ان کے دفتر میں جمعہ کو یوم شہادت حضرت علی کے مرکزی جلوس کے انتظامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میںفیصلہ کیا گیا کہ یوم حضرت علی کے موقع پر امام بارگاہوں ،مساجد اور دیگر مقامات پر پر مجالس اور جلوسوں کے انعقاد کے موقع پر سیکورٹی کے خصو صی انتظامات کئے جائیں گے۔
    صفائی کے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے ضروریشہری سہولتوں اوور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا ؛جائے گا لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی جلو س کے راستوں پر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور انھیں یقینی طور پر روشن رکھنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ اس بات کو یقینی بنایا جا یے گا کہ جلوس کے راستوں میں سٹرکوں پر، سیوریج کا پانی جمع نہ ہو ، ۔
    اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کراچی ون اسد علی خان ڈی آئی جی ٹریفک اقبال دارا، ڈی آئی جی جنوبی جاوید اکبر ریاض ڈپٹی کمشنر شرقی محمد علی شاہ، جنرل سیکریٹری جعفریہ الائنس پاکستان شبر رضا مرکزی جلوس کی مینجنگ کمیٹی کے ارکان، پاکستان رینجرز ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز، بلدیہ عظمی کراچی، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کے الیکٹرک اور دیگر شہری سہولتوں سے متعلق اداروں کے افسران اور نمائندوں اور دیگر نے شرکت کی ۔

    اجلاس مین ڈپٹی کمشنرز ، ڈی آئی جی ٹریفک ڈی آئی جی جنوبی شہری اداروں کے افسران اور کے الیکٹری کے نمائندے نے اجلاس کو بتا یا کہ انھوں نے تمام ضروری سہولتوں کی فراہمی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ہنگامی منصوبے بنالئے ہیں انھوں نے ہنگامی منصوبوں کی تفصیلات سے کمشنر کو آگاہ کیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر ز جلوس کے راستوں پر شہری سہولتوں کی فراہمی سے متعلق اقدامات کی نگرانی کریں گے ڈپٹی کمشنرز شہری ادارے منتظمین کے ساتھ رابطہ میں رہیں گے ان کے ساتھ رابطہ و تعاون سے مسائل کے حل اور سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے ۔
    ۔کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ منتظمین کے ساتھ رابط رکھیں فیصلہ کیا گیا کہ فوری نوعیت کے مسائل کے حل اور رابطہ کے لئے منتظمین اور متعلقہ افسران کا مشترکہ واٹس اپ گروپ بنایا جائے گا تاکہ رابطہ کو مضبوط بنانے اور مسائل کے حل کی کوششوں مین مدد ملے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمشنر کراچی کے ایمر جنسی ریسپونس سینٹر ریسکیو 1299 پر شکائتی مرکز بنایا جاے گا جہاں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے متعلق شکایت درج کی جاسکے گی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کورونا کے پھیلاو کی روک تھام کے پیش نظر کورونا ایس او پیز پر پوری طرح عمل کیا جائے گا اس سلسلہ میں مرکزی جلو س کی مینجنگ کمیٹی ضروری اقدامات کرے گی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی ۔

  • دوران ملازمت کورونا سے انتقال پر دس لاکھ روپے امداد ملے گی

    دوران ملازمت کورونا سے انتقال پر دس لاکھ روپے امداد ملے گی

    کورونا کی وجہ سے دوران ملازمت انتقال کرنے والے ملازم کے ورثاء کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا نوٹیفکیشن جاری۔
    دورانِ ملازمت کسی سرکاری ملازم کے کرونا کی وجہ سے انتقال کرجانے پر سندھ حکومت کی جانب سے ورثا کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے،نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ معاوضہ سندھ حکومت کے کنٹریکٹ ملازمین کیلئے بھی ہوگا۔
    سندھ کابینہ کے فیصلے کے بعد محکمہ خزانہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
    باہر وبا کا خوف ہے ،گھر میں بلا کی بھوک ۔۔۔۔۔
    کس موت سے مروں میں ، ذرا رائے دیجئے ۔۔۔۔