Baaghi TV

Category: کراچی

  • مین ہول میں گر کر لاپتا ہونے والے شخص کی لاش نالے سے نکال لی گئی

    مین ہول میں گر کر لاپتا ہونے والے شخص کی لاش نالے سے نکال لی گئی

    کراچی کے علاقے نیو کراچی میں گزشتہ روز مین ہول میں گرکر لاپتا ہونے والے تیسرے شخص کی لاش نالے سے نکال لی گئی۔نیوکراچی صبا سنیما کے قریب گزشتہ روز بچے سمیت 3 افراد مین ہول میں گرکر نالے میں بہہ گئے تھے۔ایک بچے کی لاش اور ایک شخص کو زخمی حالت میں نکال لیا گیاتھا تاہم لاپتا ہونے والے تیسرے شخص کی تلاش کا کام جاری رہا۔صبح سویرے تیسرے شخص کی لاش بھی نالے سے نکال لی گئی۔ زخمی اور جاں بحق افراد کی شناخت نہیں ہوسکی۔

  • ٹک ٹاکر قتل کیس ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    ٹک ٹاکر قتل کیس ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    کراچی کی مقامی عدالت میں ٹک ٹاکر مسکان شیخ سمیت 4 افراد کے قتل سے متعلق کیس میں مرکزی ملزم کو 6 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔سماعت کے دوران قتل کے مرکزی ملزم عبدالرحمن کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جس کے بعد عدالت نے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم سنایا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ملزم کو گزشتہ روز سیشن عدالت سے ضمانت مسترد ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

  • کراچی میں کورونا کی برازیلی، جنوبی افریقی قسم کی موجودگی کا انکشاف

    کراچی میں کورونا کی برازیلی، جنوبی افریقی قسم کی موجودگی کا انکشاف

    کراچی میں کورونا کی زیادہ خطرناک برازیلی اور جنوبی افریقی قسم سامنے آگئی۔صوبہ سندھ کی وزیرِ صحت عذرا پیچوہو نے انکشاف کیا کہ برازیلی اور جنوبی افریقی اقسام پر ویکسین کا اثر بھی کچھ خاص نہیں ہوتا، اس کے باعث اموات کی شرح بھی زیادہ ہے۔انھوں نے کہا کہ ویکسینیشن کے باوجود اگر وائرس کی برازیلی اور جنوبی افریقی قسم متاثر کرتی ہے تو آپ بہت زیادہ بیمار ہوسکتے ہیں۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ وائرس کی برطانوی قسم بھی نمونوں میں ملی ہے، یہ بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ اس کے پھیلاؤ کی شرح 60 فیصد اور اموات کی شرحِ تقریباً 68 فیصد ہے۔وزیر صحت نے لوگوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس دفعہ عید کی شاپنگ نہیں کی تو کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ ماسک لگائے بغیر مارکیٹ جانا خطرناک ہے۔

  • بلاول نے این اے 249 پر ن لیگ کے الزامات مسترد کردیے

    بلاول نے این اے 249 پر ن لیگ کے الزامات مسترد کردیے

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے حلقہ این اے 249 میں ن لیگ کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں ورنہ خاموش ہوجائیں۔کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہپیپلز پارٹی کی تاریخی کامیابی نے ثابت کردیا عوام حکومت کے ساتھ نہیں۔انھوں نے کہا کہ کراچی کے عوام نے سلیکٹڈ حکومت کو ریجیکٹ کردیا، پاکستان کی سیاست جمہوری قوتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عوام نے پھر سے پی ٹی آئی کو عبرتناک شکست دی ہے، میں کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
    ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کئی دفعہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی ہے، ہم سے یہ کامیابی چھینی گئی تھی۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم جانتے تھے اس علاقے میں بھٹو اور بی بی کے چاہنے والے بستے ہیں۔انھوں نے مسلم لیگ (ن) کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ڈسکہ کی طرح نہ دھند تھی نہ پولنگ افسر غائب ہوئے۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ڈسکہ-2 کا شور مچانے والے بتائیں ڈسکہ کی طرح فائرنگ کہاں ہوئی؟انھوں نے یہ بھی کہا کہ شاہد خاقان عباسی آر او آفس میں موجود تھے اور اپنی ہار دیکھ رہے تھے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دھاندلی کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں ورنہ خاموش ہوجائیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ان کا شوق ہے اپوزیشن سے اپوزیشن کرنا، ان کا شوق ہے پیپلز پارٹی سے مقابلہ کرنا، تو کرو اور ہارو۔چئیرمین پی پی پی نے کہا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ، پہلے سلیکٹڈ اور دوسرے سلیکٹڈ سب سے لڑنے کو تیار ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ پی ڈی ایم میں ایسے دوست ہیں جو عمران خان کو نہیں ہٹانا چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اس الیکشن میں ن لیگ کامیاب ہوتی توخود شہباز شریف کو فون کرکے مبارکباد دیتا۔

  • ٹافیاں بانٹ کر کوئی ووٹ حاصل نہیں کرسکتا

    ٹافیاں بانٹ کر کوئی ووٹ حاصل نہیں کرسکتا

    پیپلزپارٹی کے رہنما چوہدری منظوری نے کراچی کے ضمنی انتخاب میں پی پی کی کامیابی پر کہا ‏ہے کہ مفتاح اسماعیل کاتعلق حلقے سے ہی نہیں تھا، ٹافیاں بانٹ کراوربریانی کھلاکرکوئی ووٹ ‏حاصل نہیں کرسکتا۔گُفتگو کرتے ہوئے چوہدری منظور نے کہا کہ فیصل ‏واوڈا سے حلقے میں ایک ہی شخص استعفیٰ مانگ رہا تھا، قادرمندوخیل فیصل واوڈا کیخلاف سپریم ‏کورٹ تک گئےہیں۔انہوں نے کہا کہ سعیدغنی نےایک نتیجہ بھی فارم45کےبغیر نہیں دیا، ن لیگ بتائےان کے20ہزار ‏ووٹ کم کیوں ہوئے، پی ٹی آئی بتائےان کے30ہزارووٹ کم کیوں ہوئے، حلقےمیں پانی کامسئلہ پی ‏ٹی آئی یاپیپلزپارٹی حل کرسکتی تھی، کےفورکےفنڈنوازشریف نےروکےتھے، فیصل واوڈاپانی کامسئلہ ‏حل نہیں کرسکتےاس لیےووٹ نہیں ملے۔ن لیگ کے خرم دستگیر نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پبلک سروےمیں پیپلزپارٹی کانام تک ‏نہیں تھا، معلوم نہیں الیکشن والےدن پیپلزپارٹی کیسےکامیاب ہوگئی، الیکشن والے دن 7،8 بجے کے ‏بعدنتائج آنا بند ہو گئے،کراچی میں دھندنہیں ہوگی لیکن حبس تھا۔خرم دستگیر نے کہا کہ بہت سےسوالات ہیں جن سےمتعلق قانونی چارہ جوئی کررہےہیں، ہمارے ‏سوالات الیکشن کمیشن سےہی ہیں، پریذائیڈنگ افسران نے بغیر دستخط کےفارم45جاری کیے، شواہد ‏جمع کر رہےہیں اس کے بعد میڈیا کے سامنےپیش کریں گے۔

  • 30 اپریل،کراچی میں 90 سال بعد ٹرام سروس بند کردی گئی

    30 اپریل،کراچی میں 90 سال بعد ٹرام سروس بند کردی گئی

    1975ء میں آج ہی کے روز 90 سالہ قدیم ٹراموے کمپنی نے کراچی میں اپنی سروسز بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کراچی جیسے بڑے اور تجارتی شہر کو کئی دہائیوں تک سفر کی سہولت فراہم کرنے کے بعد 30 اپریل کو ٹراموے کی بندش کا اعلان ایک تاریخی موقع تھا۔کراچی کے بزرگ شہریوں سے کبھی اہم اور مرکزی سڑکوں اور نصف صدی قبل اس شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ یا ذرایع نقل و حمل کے بارے میں‌ دریافت کریں تو وہ “ٹرام” کا ذکر ضرور کریں گے جو اب قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔دہائیوں قبل اندرونِ شہر آمدورفت کے لیے عام طور پر سائیکل رکشا اور گھوڑا گاڑی کے بعد ٹرام ایک بڑی اور آرام دہ سہولت تھی جو اس اعلان کے بعد ہمیشہ کے لیے ساکت و جامد ہوگئی۔کراچی میں ٹراموے کا سلسلہ اسی شہر کے میونسپل سیکریٹری جیمز اسٹریچن نے شروع کیا تھا، جو ایک انجینئر اور آرکیٹکٹ بھی تھے۔شہر میں ٹرام کے لیے لائنیں بچھانے کا کام 1883ء میں شروع ہوا جسے اکتوبر 1884ء میں مکمل کرلیا گیا اور اس سے اگلے سال اپریل ہی کے مہینے میں کراچی کے شہریوں کو آمدورفت اور نقل و حمل کے لیے ٹرام کی سہولت میسّر آگئی۔ 20 اپریل کو کراچی میں پہلی بار مخصوص ٹریک پر ٹرام رواں دواں‌ ہوئی۔اس زمانے میں بھاپ کے انجن کی وجہ سے شہر کی فضا آلودہ اور شور پیدا ہونے کی شکایات کے بعد چھوٹی اور ہلکی ٹرامیں متعارف کرائی گئیں جنھیں گھوڑے کھینچتے تھے، لیکن پھر یہ ٹرامیں ڈیزل سے چلنے لگیں۔یہ ٹرامیں ایسٹ انڈیا ٹراموے کمپنی کی ملکیت تھیں جنھیں قیامِ پاکستان کے بعد ایک کاروباری شخصیت نے خرید کر سروس جاری رکھی اور پھر انھیں بند کردیا۔
    20 اپریل 1885ء کو کراچی میں پہلی ٹرام کے مسافروں میں اُس وقت کے سندھ کے کمشنر مسٹر ہنری نیپئر بی ارسکن بھی شامل تھے۔ کچھ عرصے کے لیے کراچی میں دو منزلہ ٹرامیں بھی چلائی گئیں۔ شہر میں ٹراموے نظام کا مرکز صدر میں ایڈولجی ڈنشا ڈسپنسری تھی۔ اس مقام سے ٹرامیں مختلف روٹ کے لیے روانہ ہوتی تھیں جو گاندھی گارڈن، بولٹن مارکیٹ اور کینٹ ریلوے اسٹیشن تک جایا کرتے تھے۔

  • ڈسٹرکٹ ساؤتھ  میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر مسلسل سخت کاروائیاں جاری

    ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر مسلسل سخت کاروائیاں جاری

    ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر مسلسل سخت کاروائیاں جاری، 3 بینکس اور ایک اسکول سیل.ضلع جنوبی میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز نے پاک فوج کے ہمراہ مدارس اور مساجد میں جمع کی اجتماع میں آنے والی نمازیوں میں فیس ماسک تقسیم کئے.اسسٹنٹ کمشنر آرام باغ مشعل نعیم نے آئی آئی چندریگر روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور ایچ بی ایل بینک کو سیل کردیا.متعدد بینکوں اور دفاتر کو وارننگ جاری اسسٹنٹ کمشنر گارڈن ڈاکٹر محسن نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک آغا خان روڈ برانچ کو سیل کردیا.اسسٹنٹ کمشنر سول لائن نے ایس او پیز پر عمل نہ کرنے پر کلفٹن کے علاقے میں دی لنک اسکول کو سیل کردیا.اسکول اور بینکوں کو covid-19 ایس او پیز اور 50% سے زائد عملے کی موجودگی پر سیل کیا گیا.کرونا ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا ۔

  • تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے والوں کو NA-249 کی عوام نے کالعدم کیا ۔

    تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے والوں کو NA-249 کی عوام نے کالعدم کیا ۔

    تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے والوں کو NA-249 کی عوام نے کالعدم کیا ۔
    TLP جامع مسجد رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم سے جاری تحریک لبیک پاکستان کی مجلس شوریٰ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سخت کریک ڈاؤن گرفتاریوں اور ظلم و جبر کے باوجود این اے 249 کے ذمہ داران ، کارکنان اور ووٹروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔

    حقیقتا اس حلقے کے لوگوں نے پورے پاکستان کے عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دل جیت لیے ہیں ۔تحریک لبیک کو چند روز پہلے کالعدم قرار دینے والے پہلے ہی معرکے میں کالعدم ہوگئے اور کہیں انکا ذکر نہیں، اللہ کے فضل سے ہم یہ سیٹ جیتے ہوئے ہیں ہمارے دل مطمئن ہیں۔
    ووٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ آپکے مینڈیٹ کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے،ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے والے جلد بے نقاب ہونگے ۔
    الحمد للہ اسیران ناموس رسالت کی رہائی کا عمل جاری ہے ، محبوب علیہ السلام کی عزت و ناموس کی اس تحریک کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی ۔

  • پیاری ن لیگ آج جمعہ ہے! سینئر پی پی رہنما کا طنزیہ وار

    پیاری ن لیگ آج جمعہ ہے! سینئر پی پی رہنما کا طنزیہ وار

    پیاری ن لیگ آج جمعہ ہے! تفصیلات کے مطابق سینئر پی پی رہنما ناصر حسین شاہ کی جانب سے مسلم لیگ ن پر طنزیہ وار کیا گیا ہے۔ این اے 249 کی فتح کے بعد کی گئی ٹوئٹس میں ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پیاری ن لیگ
    آج جمعہ ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ ایک دفعہ پھر اور یاد دلادیتا ہوں کہ ، جنگل میں شیر صرف تیر سے ہی ڈرتا ہے۔
    الیکشن نتائج پر اعتراضات کے حوالے سے ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ نون لیگ نے ڈسکہ میں بھی یہ ہی کیا تھا اور یہاں بھی کہ جس جس پولنگ اسٹیشن سے ہاررہے ہو وہاں سے اُن کا پولنگ ایجنٹ بغیر نتیجہ لیے غائب ہوجاۓ اور سارا الزام الیکشن کمیشن پر ڈال دے۔
    شاید یہ بھول گۓ اس دفعہ ان کا مقابلہ حقیقی جمہوری پارٹی سے ہے ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، پہلے دوسرے سلیکٹڈ سمیت سب سے لڑنے کو تیار ہیں، پیپلزپارٹی کو پیچھے دھکیلنے کیلئے ایک جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر سازش کی، مسلم لیگ ن کو پیپلزپارٹی سے لڑنے کا شوق ہے تو لڑو اور ہارو، بشیر میمن کے بیانات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    انہوں نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ این اے249 میں پیپلزپارٹی کی تاریخی کامیابی نے ثابت کردیا کہ عوام حکومت کے ساتھ نہیں۔ پاکستان کی سیاست جمہوری قوتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کراچی کے عوام نے سلیکٹڈ حکومت کو ریجیکٹ کردیا ہے۔ عوام نے پھر سے پی ٹی آئی کو عبرتناک شکست دی ہے۔ مشکل وقت میں عوام کے ساتھ رہنے والوں کی جیت ہوتی ہے۔
    ملیر اور بلدیہ کے الیکشن میں ثابت ہوا عوام پیپلزپارٹی کیساتھ ہے۔ ہم محدود وسائل کے باوجود کراچی کے عوام کے مسائل حل کریں گے۔ کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ عوام نے ضمنی الیکشن میں تاریخی کامیابی دلائی۔ پیپلزپارٹی نے کئی دفعہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم سے یہ کامیابی چھینی گئی تھی۔ ہم جانتے تھے اس علاقے میں بھٹو اور بی بی کے چاہنے والے بستے ہیں۔
    ملیرکا پیسا ملیرکے لوگوں پر خرچ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی الیکشن پر الزامات لگا رہا ہے تو ثابت کرے۔ شاہد خاقان عباسی آراو آفس میں موجود تھے اور اپنی ہار دیکھ رہے تھے۔ پتا نہیں تھا کہ اپنی ہار کو دیکھ کر ن لیگ دھاندلی کا الزام لگائے گی؟پاکستان کی تاریخ دیکھ لیں کون سی جماعت مقامی جماعت ہے، کس نے زیادہ دھاندلی کی ہے، کل این اے 249 میں بہت سنا کہ ڈسکہ ٹو اور ڈسکہ ٹو، ان کا شوق ہے اپوزیشن سے اپوزیشن کرنا، مسلم لیگ ن اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کی بجائے ہم سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، ان کا شوق پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو کرو، مگر آپ ہار جاؤ گے۔
    انہوں نے کہا کہ کون سی جماعت مکمل سلیکٹڈ ہے؟ اور وہ اب ہمیں لیکچر دے گی؟ مسلم لیگ ن کے لوگوں کو ہار ماننا سیکھنا چاہیے۔ اگراس الیکشن میں ن لیگ کامیاب ہوتی توخود شہبازشریف کو فون کرکے مبارکباد دیتا۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے حکومت کا مقابلہ کرنا۔ شکست پر ن لیگ کا ردعمل انتہائی بچگانہ ہے اور اس کا نقصان انہی کو ہوگا۔
    ہم اپنے نظریے اور منشورکے تحت جدو جہد کرتے رہیں گے۔ پیپلزپارٹی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔ ایک جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف سازش کی۔ پہلے سلیکٹڈ، دوسرے سلیکٹڈ اور اسٹیبلشمنٹ سب سے لڑنے کو تیار ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بشیرمیمن بتائیں کہ کس کے کہنے پر اصغر خان کیس کا پیچھا چھوڑا اور میرے پیچھا کرنا شروع کیا۔ بشیر میمن کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

  • کراچی کے عوام نے پیپلزپارٹی کو کامیاب کرا کے شہر میں تبدیلی کی لہر کی ابتدا کردی : سیدہ تحسین عابدی

    کراچی کے عوام نے پیپلزپارٹی کو کامیاب کرا کے شہر میں تبدیلی کی لہر کی ابتدا کردی : سیدہ تحسین عابدی

    پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سیدہ تحسین عابدی نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام نے این اے 249میں عبدالقادر مندوخیل پیپلزپارٹی امیدوار کو کو کامیاب کراکے کراچی میں تبدیلی کی لہر کی ابتدا کردی۔ سیدہ تحسین عابدی نے مذید کہا کہ سرپرائزز کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ پی پی پی کراچی کے عوام کے دل کی دھڑکن بن چکی ہے۔
    پیپلزپارٹی رہنما تحسین عابدی نے چیئرمین بلاول بھٹو اور پی پی پی کے تمام عہدیداران کراچی کے صدر سعید غنی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی کی مسلسل ضمنی انتخابات میں کامیابی نے ہمارا یہ دعوی سچ ثابت کردیا ہے کہ کراچی کا مینڈیٹ اب پی پی پی کے پاس منتقل ہورہا ہے عوام کی سوچ تبدیل ہوچکی ہے۔
    بلدیاتی انتخابات بھی نتائج تبدیل کریں گے۔
    شہری دیہی کی تفریق ختم ہو رہی ہے اور سندھ میں نفرت اور تعصب کی سیاست دم توڑ رہی ہے۔ ۔ آزاد رائٹرز فورم کے صدر وپی پی پی کے رہنما رضوان احمد فکری ،شہنیلہ خانزادہ ، عادل خان ، عبدالحفیظ ، محمد علی ، ایان سمید نے بھی شاندار کامیابی پر عبدالقادر مندوخیل ، کو مبارکباد پیش کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی نوجوان قیادت نے پی پی پی میں نئی روح پھونک دی ہے۔ انہوں نے کراچی کے صدر پی پی پی سعید غنی کا بھی شاندار الفاظ میں مبارکباد اور کراچی کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔