ٹریفک پولیس ایسٹ کے تحت بہادر آباد ٹریفک سیکشن کے زیر انتظام دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا، اس موقع پر ڈی آئی جی ٹریفک اقبال دارا مہمان خصوصی تھے ،ایس ایس پی پی ٹریفک ایسٹ فرح امبرین نے ان کا خیر مقدم کیا، دعوت افطار میں ڈی ایس پیز، سیکشن افسران اور اور اہلکاروں بھی شریک ہوئے، بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک اقبال دارا نے کہا کہ عید الفطر کی آمد کے ساتھ ساتھ کورونا کی موجودہ صورتحال میں ٹریفک پولیس کے افسران اور اہلکار پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے دوران اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شہریوں کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں،رمضان المبارک ہمیں صبر کا درس دیتا ہے، عوام کو بھی چاہیے کہ وہ دوران سفر نظم و ضبط کا خاص خیال رکھیں، ٹریفک کے قوانین اور ضوابط پر عمل کرتے ہوئے ٹریفک پولیس سے تعاون اور احترام کریں، ٹریفک اہلکار بھی شائستگی کے ساتھ مہزب انداز میں رہنمائی کریں، ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی ٹریفک اقبال دارا نے کہا کہ تجربہ کامیاب ہونے پر شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک پولیس کے سائیکل سوار اسکواڈز کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔
Category: کراچی
-

کراچی جس کے ساتھ کھڑا ہو جائے وہ کبھی نہیں ہارتا
کراچی کا کوئی بھی حلقہ اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کراچی میں اپنے امیدوار میدان میں لانا ضروری سمجھتی ہے۔اس بار حلقہ 249کا ٹرن اوور بہت کم تھا مگر اس کے باوجود بھی عوام نے اپنی رائے سے یہ واضح کر دیا کہ اگر کوئی ان کی امیدوں پر پورا نہیں اترے گااور ان کے ساتھ کیے وعدے بھی وفا نہیں کرے گا تو کراچی کے عوام بھی انہیں لفٹ نہیں کروائیں گے اور انہیں چھوڑنے میں ذرا برابر بھی تاخیر نہیں کریں گے۔
لہٰذا حالیہ ضمنی الیکشن میں حلقہ 249کے عوام نے یہی سب کیااور پی ٹی آئی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیے جبکہ یہ سیٹ بھی پی ٹی آئی کے دبنگ ایم این اے فیصل واوڈا کی چھوڑی ہوئی تھی مگر اپنی ہی چھوڑی ہوئی سیٹ سنبھالنے میں پی ٹی آئی بری طرح ناکام رہی ہے۔
اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی ڈاکٹر دانش نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”عمران خان کی اور PTI کی بدقسمتی کہ کراچی کی 14 سیٹیں ملی یا دلوائی گئی عمران خان وزیراعظم بھی کراچی کی بنیاد پہ بنیں لیکن افسوس انھوں نے کراچی سے وفا نہیں کیا؟ کراچی والے بھی سود کے ساتھ واپس کرتے ہیں جو انھوں نے 249 حلقے میں PTI کے ساتھ کیا“ مفتاح اسماعیل کو کراچی والوں سے محبت کرنے اور ان کا ساتھ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے لکھا”کراچی کے عوام نے ایک بار پھر PMLN کو ووٹ دیا شہباز شریف کو بھی دیا تھا اور مفتاح اسماعیل کو بھی دیا بدقسمتی ووٹوں کی بنیاد پہ نہیں لیکن سسٹم سے ہار گئے؟PMLN کو اب کراچی کو OWN کرنا چاہیے،کراچی جس کے ساتھ کھڑا ہوجائے اس کو کوئی جھکا نہیں سکتا“جبکہ مریم نواز کے بیانیہ کی تائید کرتے ہوئے ڈاکٹر دانش نے موقف اپنایا کہ ”شہباز شریف ایک اچھے سیاست دان سے زیادہ اچھے Administrator ہیں انکی Defensive سیاست کا اپنا انداز ہے مگر موجودہ حالات میں مریم نواز کی Aggressive سیاست نے PMLN کو ایک بار پھر ملک کی سب سے مقبول پارٹی بنادیا انکا پس پردہ جانا ن لیگ کو نقصان دہ ہوگا“کئی لوگوں کا یہ بھی موقف ہے کہ مریم نواز کے بیانیہ کی وجہ سے ہی ن لیگ کو نقصان پہنچا ہے جبکہ اب شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں تو اس پر بھی مریم نواز اور شہباز شریف کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ ن میں سے ش نکلتی ہے یا پھر سیاسی میدان سے پی ٹی آئی نکل جاتی ہے۔ -

بشیر میمن کو ریٹائرمنٹ سے چند دن قبل جبری طورپر حکومت نے عہدے سے فارغ کر دیا تھا
نیوٹن لا کے مطابق ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے،تو بشیر میمن کے حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ کے پیچھے چھپی کہانی بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔سینئر صحافی و اینکر پرسن کامران خان نے نجی ٹی وی چینل کے اپنے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر لوگوں پر جو الزامات لگائے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ سے چند دن قبل انہیں حکومت نے عہدے سے جبری طور پر فارغ کر دیا تھا جبکہ ان کی پینشن اور دیگر مراعات بھی انہیں نہیں دی گئی تھیں۔
اکاؤنٹس آفس سے ان کی کٹوتی کی رقم جو انہیں ملی وہ بھی اکاؤنٹ سے واپس واگزار کروا لی گئی تھی۔کامران خان نے کہا کہ کسی بھی سینئر عہدیدار کا سبکدوشی کے وقت جو حق ہوتا ہے حکومت نے وہ بھی بشیر میمن صاحب کو نہیں دیا تھااس ظلم کے خلاف انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو عدالت سے وہ کیس جیت گئے مگر اس کے بعد حکومت نے اپیل دائر کر دی اور اس طرح ایک سینئر افسر کے ساتھ زیادتی کی گئی۔
کامران خان کا کہنا تھا کہ آج کی ڈیٹ تک بھی سابق ڈی جی ایف آئی اے کے اکاؤنٹ میں ان کی پینشن نہیں آ سکی اور انہیں دیگر بھی کوئی مراعات یا وہ رقم نہیں ملی جو دوران سروس ان کی تنخواہ سے کٹا کرتی تھی۔سینئر صحافی کامران خان نے کہا کہ بشیر میمن کی تعیناتی اس وقت ہوئی تھی جب عمران خان نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا تھا۔اس وقت بشیر میمن اومنی گروپ اور جعلی اکاؤنٹس سے متعلق تحقیقات کر رہے تھے تاہم جب بعد میں جج ارشد ملک کی ویڈیو کا کیس منظر عام پر آیا تو ا س وقت وزیراعظم اور بشیر میمن کے درمیان معاملات خراب ہوئے کہ شاید جس طرح سے حکومت تحقیقات چاہتی تھی اس طرح سے بشیر میمن تحقیقات نہیں کر پائے تھے اور اسی ایشو کی بنا پر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
مگر یہ بھی ہے کہ جب بشیر میمن صاحب عدالت میں اپنا کیس لڑ رہے تھے تب انہوں نے ایسے کوئی الزامات نہیں لگائے تھے اور نہ ہی عوام کو یہ بتایا تھا کہ حکومت نے انہیں زیادتی کرتے ہوئے وقت سے پہلے جبری ریٹائر کردیا ہے۔ -

ایکسائز پولیس کراچی کی کارروائی،7 کلو گرام چرس برآمد، ایک ملزم گرفتار
ایکسائز پولیس ساتھ کراچی نے خفیہ اطلاع ملنے پر اسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر ایس ایم صادقین نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے رکشہ نمبر ڈی- 1716475 سے سٹی ریلوے اسٹیشن آئی آئی چندریگر روڈ کے نزدیک سات کلو گرام چرس برآمد کرلی جبکہ ایک ملزم عبید خان کو گرفتارکر کے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔
واردات میں استعمال ہونے والا رکشہ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات اور پارلیمانی امور مکیش کمار چالہ نے اپنے ایک بیان میں کامیاب کارروائی پر ایکسائز پولیس ساتھ کراچی کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف ہر سطح پر کارروائی کی جائے اور منشیات فروشی میں ملوث افراد کے خلاف کوئی رعائیت نہ رکھی جائے۔ -

فارم 45 اور 47 میں رد و بدل کرکے این اے 249 کے نتائج تبدیل کیے گئے، مفتی قاسم فخری
سندھ اسمبلی میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے پارلیمانی لیڈرمفتی قاسم فخری نے کہاہے کہ فارم 45 اور 47 میں رد و بدل کرکے این اے 249 کے نتائج تبدیل کیے گئے،ہمیں 336 پولنگ اسٹیشن کے فارم 45 دیئے گئے جبکہ40 پولنگ اسٹیشنوں کے فارم 45 غائب کردیے گئے،انہوں نے الیکشن نتائج کا فرانزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔
وہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ان کے ہمراہ این اے 249 سے نامزد امیدوار مفتی نذیرکمالوی، مولانا یحیی قادری دیگربھی موجود تھے۔ مفتی قاسم فخری نے کہاکہ ہمارے خلاف متعدد بار کریک ڈاون کیا گیا،لیکن جمہوری عمل کا حصہ رہے،ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا،گھروں پر چھاپے مارے گئے، کریک ڈاون کے باوجود دنیا سمجھ رہی تھی کہ تحریک لبیک سرپرائز دے سکتی ہے،ہمارے کارکنوں نے عبادت سمجھ کر الیکشن کے دن کام کیا،ہم نے این اے 249 میں اپنی سیاسی بصیرت اور قوت کا مظاہرہ کیا گیا،گنتی میں تاخیر سے بھی دھاندلی کے اندیشے کو تقویت ملتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ٹی ایل پی پر ظلم وستم کے بعد ہماری بھر پور فتح کو شکت میں بدل دیا گیا،فارم 45 کے نتائج کو تبدیل کیا گیااورنتائج تبدیل کرنے کے لیے ٹھپے لگائے گئے،این اے 249 کے نتائج میں تبدیلی کی وجہ سے تاخیرسے نتیجہ جاری کیا گیا۔ان رہنماں نے کہاکہ دھاندلی کرانے والوں نے اورآراو نے حکومت سندھ سے مل کر نتائج تبدیل کییالیکشن آدٹ کرانے سے پورے انتخاب کی قلعی کھل جائے گی جائے۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں 236 پولنگ اسٹیشن کے جو فارم 45 ملے،ان میں ہمارے ووٹ اس سے زیادہ ہیں جتنے آر او نے حتمی نتائج میں ہمارے ووٹ ظاہر کیے ہیں،ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار میں تضادات ہیں۔ مفتی قاسم فخری نے کہاکہ پیپلزپارٹی پارٹی نے 2018میں 7 ہزار ووٹ جنرل الیکشن میں حاصل کیے،ضمنی الیکشن میں کم ووٹ کاسٹ ہوئے لیکن صرف پیپلزپارٹی کو کئی گنا زائد ووٹ کاسٹ ہوگئے۔ نامزد امیدور این اے 249 مفتی نذیراحمد نے کہاکہ انتخابی نتائج میں تبدیلی کی گی پیپلزپارٹی الیکشن سے پہلے کہ رہی تھی کہ الیکشن جیت چکی ہے کاغذائی کارروائی ہونا باقی ہے۔ -

ہار تب تسلیم کریں گے جب ہرایا تو جائے، شیر کا شکار آسان نہیں رہا، مریم کا بلاول کو جواب
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم کے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں مریم نواز کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ (ن) ہار تب تسلیم کرے گی جب اس کو ہرایا تو جائے، شیر کا شکار کرنا آسان نہیں رہا ۔
مسلم لیگ ن ھار تب تسلیم کرے گی جب اس کو ہرایا تو جائے۔۔۔
شیر کا شکار کرنا آسان نہیں رہا۔ شیر کو ہرانے کے لیے جو ہتھکنڈے آپ نے آزمائے، ان کی داستان بھی سامنے آنے والی ہے۔ انتظار فرمائیے اور یاد رکھیے! مسلم لیگ ن اپنا اور NA 249 کے عوام کا حق واپس لے کے رہے گی انشاءاللّہ!
انہوں نے کہا کہ شیر کو ہرانے کیلئے جو ہتھکنڈے آپ نے آزمائے، ان کی داستان بھی سامنے آنے والی ہے، انتظار فرمائیں اور یاد رکھیے مسلم لیگ ن اپنا اور این اے 249 کے عوام کا حق واپس لے کر رہے گی۔
علاوہ ازیں مریم نواز نے این اے 249 کا نتیجہ چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ کیا یہاں بھی دھند چھا گئی تھی جو عملہ اتنی تاخیر سے پہنچا؟ ہمیں بیوقوف سمجھ رکھا ہے کیا؟ یہ سیٹ جلد واپس مسلم لیگ ن کے پاس آئے گی۔
خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری این اے 249 ضمنی الیکشن میں دھاندلی کا شور مچانے والوں پر برس پڑے اور کہا کہ دھاندلی کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں ورنہ خاموش ہوجائیں۔ -

ان کا شوق ہے پیپلز پارٹی سے مقابلہ کرنا ، تو کرو اور ہارو، بلاول کے مریم پر وار
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری این اے 249 ضمنی الیکشن میں دھاندلی کا شور مچانے والوں پر برس پڑے اور کہا کہ دھاندلی کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں ورنہ خاموش ہوجائیں۔
ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ان کا شوق ہے اپوزیشن سے اپوزیشن کرنا، ان کا شوق ہے پیپلز پارٹی سے مقابلہ کرنا ، تو کرو اور ہارو۔
بلاول بھٹو نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کراچی میں ڈسکہ کی طرح نہ دھند تھی نہ پولنگ افسر غائب ہوئے ، ڈسکہ ٹو کا شور مچانے والے بتائیں ڈسکہ کی طرح فائرنگ کہاں ہوئی؟ شاہد خاقان عباسی آر او آفس میں موجود تھے اور اپنی ہار دیکھ رہے تھے۔
بلاول نے مزید کہا کہ کون سی جماعت مکمل سلیکٹڈ ہے؟ اور وہ اب ہمیں لیکچر دے گی، ن لیگ کے دوستوں کو شکست کو تسلیم کرنا سیکھنا چاہیے۔
پریس کانفرنس میں بلاول نے کہا کہ اپوزیشن کی کنفیوز جماعتوں کو اپنا راستہ چننا ہوگا، اسٹیبلشمنٹ، پہلے سلیکٹڈ اور دوسرے سلیکٹڈ سب سے لڑنے کو تیار ہیں، پی ڈی ایم میں ایسے دوست ہیں جو عمران خان کو نہیں ہٹانا چاہتے۔ -

اندرون سندھ سے کراچی کو ترسیل روکدی، گندم اور آٹا مزید مہنگا
کراچی کو گندم کی ترسیل میں سرکاری سطح پر روکاٹوں کے باعث کراچی میں گندم و آٹے کی قیمت میں صرف دو روز کے دوران گندم کی سو کلو بوری کی قیمت میں 5 سو روپے اور فی کلو چکی ملز آٹے کی قیمت میں دو روپے فی کلوکا اضافہ ہوگیا ہے۔دو روز قبل گندم کی سو کلو گندم کی بوری کی قیمت 5ہزار روپے تھی جو بڑھ کر5ہزار 5سو روپے ہوگئی ہے۔جس کے باعث چکی ملز آٹے کی دو روز کے دوران فی کلو قیمت 60 روپے سے بڑھ کر 62 روپے ہوگئی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ سکھر اور دیگر شہروں سے کراچی کو گندم کی ترسیل میں محکمہ فوڈ کا عملہ روکاٹیں ڈال رہا ہے۔اپنے ذاتی مفاد کے لئے عملہ مختلف طریقوں سے ترسیل روک رہا یے۔کراچی ملک کاسب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے ۔گندم کی قلت سے پورا کراچی متاثر ہوتا ہے۔اب رمضان کےآخری دونوں میں جب آٹے کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔اور ترسیل نہ ہونے سے آٹے کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔اس سلسلے میں میں صوبائی وزیر خوراک کشوری لال کو فون کیا لیکن حسب معمول اٹینڈ نہیں ہوا۔پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے سابق چئیر مین حاجی محمد یوسف نے بتایا کہ سیکرٹری فوڈ کو بتایا کہ اندورن شہروں سے کراچی کوگندم کی ترسیل میں محکمہ کے اہلکار روکاٹیں ڈال رہے جس کے باعث کراچی کو گندم کی قلت کا سامنا ہے ۔
-

غریب کے لئے روٹی کمانے کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،الطاف شکور
موجودہ حکومت عوام کو کوئی واضح صنعتی پالیسی دینے میں ناکام رہی ہے،الطاف شکور
نئی نوکریاں پیدا نہیں ہورہیں اورپرانی بھی ختم ہو رہی ہیں . غریب کے لئے روٹی کمانے کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے
کراچی پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ڈھائی سال سے زائد عرصہ گذرنے کے بباوجود پی ٹی آئی کجانب سسے کوئی واضح صنعتی پالیسی دینے میں ناکام رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں نئی نوکریاں پیدا نہیں ہورہیں اور پرانی نوکریاں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنے ملک میں صنعتوں کے قیام میں پیسہ لگانے کے لئے مناسب سہولتیں، ترغیب اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لئے گاڑیوں میں سرمایہ کاری کی آفر مضحکہ خیز ہے۔ آٹو موبائیل مافیا اور بلڈر مافیا حکومت پر حاوی ہو کر عوامی مفادات کے خلاف حکومت کی پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ ملک میں پیسے والے بزنس نہیں کر رہے ہیں،منی لانڈرنگ کر رہے ہیں۔ خوشی خوشی نہیں کھیل رہے ہیں بلکہ رئیل اسٹیٹ اور اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ غریب کے لئے روٹی کمانے کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ حکومت اس معاملے میں سنگین غفلت کا مظاہرہ کر کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ تیزی سے کم ہوتے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات میں کمی، افراط زر کی شرح میں اضافہ، بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پاکستان کی اقتصادی پریشانیوں کی بڑی وجوہات ہیں۔ قبل اس کے کہ ملک دیوالیہ قرار دیئے جانے کے دہانے پر پہنچ جائے، حکومت کو اپنی توجہ مالیاتی مسائل کو سلجھانے پر مرکوزکرنا ہوگی۔ نئی صنعتوں میں سرمایہ کاری کے بغیر پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں نہیں آسکتا۔ امیر لوگوں کے پاس ایک سے زائد رہائشی گھر رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حکومت اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرے۔ کم وقت میں محنت کے بغیر زیادہ پیسے کمانے کا رجحان زور پکڑ چکا ہے۔ عام نوجوان کو بزنس کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے سے دولت کا ارتکاز بڑھتا ہے۔ حکومت کے پاس پالیسی سازی کے لئے دماغ نہیں ہیں۔ پاسبان کے پاس بہترین محب وطن ماہرین معاشیات اور پڑھی لکھی قیادت موجود ہے جو حکومت کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر نمایاں اثرات کیلئے پاکستان کو اس قدر بڑے پیمانے پر غیر ملکی امداد پر بھروسہ کرنے کے بجائے سرمایہ کاری کیلئے موافق ماحول یقینی بنانا ہوگا۔ سیاحت اور اس جیسی دیگر صنعتوں کیلئے اپنے بین الاقوامی تشخص کو ازسرنوفروغ دینا ہوگا۔ پالیسیوں میں مزید لچک کے ذریعے سے مقامی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے۔ حکومت کو اپنی مقامی صنعت پر بھی توجہ مرکوزکرنے، معاشی پیداوار کو بڑھاوا دینے اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے.
-

یوم شہادت حضرت علی ؓ کے مرکزی جلوس کے انتظامات کمشنر کراچی کی زیر صدارت جائزہ اجلاس
یوم شہادت حضرت علی ؓ کے مرکزی جلوس کے انتظامات کمشنر کراچی نوید شیخ کی زیر صدارت جائزہ اجلاس منعقد
ڈپٹی کمشنرز،پولیس اور پاکستان رینجرز، اور شہری اداروں کے سینئر افسران کوبریفنگ بھی دی۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے سیکریٹری شبر رضا اور مرکزی جلوس کی مینجنگ کمیٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں سیکورٹی اور شہری سہولتوں کی فراہمی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے گی.متعلقہ افسر ان منتظمین سے مضبوط رابطہ رکھیں رابطہ و تعاون سے کام کریں . افسران اور منتظمین کا واٹس اپ گروپ قائم ۔کمشنر کراچی کے دفتر میں قائم ریسکیو 1299پر شکائتی درج کی جاسکے گی .
کورونااکے پھیلاو کی روک تھام کے پیش نظر کورونا ایس او پیز پر پوری طرح عمل کیا جائے۔
