تجاوزات کے خاتمے کے لیے کراچی پولیس کی طرف سے رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں کارروائیاں جاری
کراچی میں ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ کی ہدایات پر گلشن اقبال پولیس نے عوام الناس کو تکلیف سے بچانے کے لیے بھر پور آپریشن کیا ۔
دوران آپریشن ایس ڈی پی او گلشن اقبال اور ایس ایچ او عبیداللہ خان و ہیڈ محرر کی سبراہی میں قبضہ و پتھارے مافیا کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ۔پی ایس گلشن اقبال پولیس کی بھاری نفری نے آپریشن میں حصہ لیا اورقبضہ مافیا کے خلاف دس سے زائد مقدمات کا اندراج کیا گیا ۔
ادھرایس ایس پی ایسٹ ساجد امیر سدوزئی کے احکامات کے مطابق روڈوں پر قائم تجاوزات اور ٹھیلے و پتھارا مافیا کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
Category: کراچی
-

تجاوزات کے خاتمے کے لیے کراچی پولیس کی طرف سے رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں کارروائیاں جاری
-

10رمضان المبارک کو یومِ باب الاسلام حکومتی سطح پر بھرپور طریقے سے منایا جائے : جماعت اسلامی
جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے دس رمضان المبارک یوم باب الاسلام سرکاری سطح پربھرپور طریقے سے منانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ باب الاسلام ہے،10رمضان المبارک کا دن یومِ باب الاسلام اور سندھ میں اسلامی حکومت کے قیام کا دن ہے، برصغیر کی تاریخ میں 10رمضان کی بڑی اہمیت ہے، پاکستان کی بنیادیں 10رمضان کو پڑیں جب محمد بن قاسم کی آمد پر سندھ کوباب الاسلام کا درجہ ملا اورسندھ کے لوگ مسلمان ہوئے اور اجتماعی معاشرے کی طرف پیش قدمی ہوئی، جماعت اسلامی کے تحت 10رمضان کو کراچی تا کشمور سندھ بھر میں یومِ باب الاسلام بھرپورجوش جذبے کے ساتھ منایاجائے گا، جس میں سیمینار، جلسہ، مذاکرے اور اجتماعات منعقد ہونگے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے قباآڈیٹوریم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صوبائی رہنمامولانا حزب اللہ جکھرو، محمد مسلم ،پروفیسراسحاق منصوری اور مجاہد چنا بھی موجود تھے۔
ایک سوال کے جواب میں محمد حسین محنتی نے کہاکہ ریاست مدینہ طرزحکومت قائم کرنے کی دعویدار حکومت کو تحفط ناموس رسالت پرعملی ثبوت دیتے ہوئے فرانس کے سفیرکو ملک بدراورمعافی مانگنے تک فرانس سے سفارتی تعلقات معطل کئے جائیں۔صوبائی امیر نے کہاکہ 10رمضان اسلامی حکومت کے قیام کا دن ہے،محمد بن قاسم ایک مظلوم بہن کی پکار پر سندھ آکر نہ صرف اس کو ظالم حکمران سے آزادی دلائی بلکہ سندھ میں ظلم وجبر اور بادشاہت کا نظام ختم کرکے اسلامی اصولوں پر مبنی پہلی اسلامی حکومت قائم کی۔
جس کی وجہ سے لوگوں کو ہندو مسلم بلاتفریق انصاف، حقوق،خوشحالی وترقی ہوئی اسی کے ساتھ ساتھ کسی کو بھی جبرا مسلمان نہیں کیا گیا۔محمد بن قاسم کی مدبرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے مسلمانوں کو کامیابی نصیب ہوئی،محمد بن قاسم محسن سندھ ہیں جس کی جرات وبہادری اور صلاحیتوں کی وجہ سے سندھ کو باب الاسلام کا درجہ اور پھر پورے برصغیر میں اسلام کی روشنی پھیلی۔
آج فلسطین سے لیکر کشمیر وافغانستان تک مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے، ہر طرح سامراجی قوتوں اور ان کے آلہ کار ٹولے نے ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے، اسلئے آج ایک بار پھر دنیا کو محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد ،صلاح الدین ایوبی جیسے سپہ سالاروں کی ضرورت ہے جو ظالموں اور ظلم کے اس نظام کو ختم کرکے عدل وانصاف کا اسلام کا عادلانہ نظام نافذ کریں۔
مرکزی رہنمالیاقت بلوچ حیدرآباد،راشد نسیم کراچی،اسداللہ بھٹو نواب شاہ، ڈاکٹر معراج الہدی ٹنڈوالہار،محمد حسین محنتی میرپورخاص،کاشف سعید شیخ جیکب آباد، ممتاز حسین سہتو شہدادکوٹ،نظام الدین میمن جندودیرو شکارپور،حافظ نصراللہ عزیز کراچی، مولانا عبدالقدوس احمدانی عمرکوٹ اور نواب مجاہد بلوچ شہدادپور میں یومِ باب الاسلام کے سلسلے میں منعقدہ اجتماعات سے خطاب کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقامت دین کی ایک عالمگیر تحریک ہے جو کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ کیلئے کوشاں ہے، ہم اسلامی اقدار ونظریہ پاکستان اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔صوبائی امیرنے زوردیاکہ حکومت سندھ اللہ اور اس کے رسول کے شان میں گستاخی کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائے اگر لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا تو پھر حکومت کچھ نہیں کرسکے گی۔ -

کراچی میں پارکنگ مافیا ایک بار پھر سرگرم، چہرے وہی پوشاک نئی
کراچی میں پارکنگ مافیا ایک بار پھر سرگرم، چہرے وہی پوشاک نئی
20 روپے کی پارکنگ فیس 70 سے 100 روپے میں تبدیل ،انوکھی پارکنگ میں ریڈ زون کے نو پارکنگ زون، فٹ پاتھ، رہائشی گلیاں اور حساس مقامات بھی پارکنگ زون میں تبدیل ۔پارکنگ کی رسید کے بدلے پیپلز اسکوائر کی انٹری فیس والی رسید کی فراہمی کراچی کے ریڈ زون جیسے انتہائی حساس علاقے میں سندھ حکومت کی سرپرستی میں پارکنگ مافیا نے نئے انداز میں انٹری دے دی یے، نو پارکنگ زونز اور فٹ پاتھوں کو پارکنگ زونز میں تبدیل کرکے شہریوں سے 70 سے 100 روپے کی وصولی کی جارہی یے۔ پارکنگ مافیا نے کورٹ روڈ،پر شہریوں سے پارکنگ فیس کی مد میں فی گاڑی 70 روپے سے 100 روپے وصولی شروع کردی ہے۔ جو رسید دی جارہی ہے وہ پیپلز اسکوائر میں داخلے کی ہے۔ مافیا نے کورٹ روڈ اور دوسرے علاقوں میں ٹریفک پولیس کی جانب سے لگے نو پارکنگ کے بورڈ اکھاڑ کر پھینک دئے ہیں۔ کورٹ روڈ پر فٹ پاتھ کو بھی نہیں بخشا اس کو بھی پارکنگ زون میں تبدیل کردیا ہے۔پیدل چلنے والے شہریوں کا راستہ بند کردیا یے۔ مافیا کے کارندوں سے جب پارکنگ کے متعلق پوچھا گیا تو ایک نجی کمپنی کا ڈائریکٹر وہاں پر اپنی گاڑی میں آپہنچا۔ کمپنی نے سندھ حکومت سے پیپلز اسکوائر کے داخلے کی فیس وصولی کا ٹھیکہ حاصل کیا ہے اور کنٹریکٹ کے مطابق ان کو پیپلز اسکوائر سے ملحقہ راستوں اور گلیوں میں پارکنگ زون بنانے اور فیس وصولی کی اجازت دی گئی یے.
نجی کمپنی کے ڈائریکٹر سے جب اس حوالے سوال پوچھا گیا تو اس نے مانا کہ کمپنی کے پاس اپنا اسٹاف نہیں ہےفٹ پاتھ پر پارکنگ، نو پارکنگ زون میں پارکنگ، اسٹاف کا کمپنی کی جیکٹس نہ پہننا اور ٹریفک کو مینیج نہ کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا کمپنی ڈائریکٹر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا البتہ اتنا ضرور مانا کہ یہ سب غلط یے. سندھ حکومت سے ہونے والے معاہدے کی کاپی مانگی گئی تو اس نے دینے سے صاف انکار کر دیا۔کچھ عرصہ پہلے سے ہی اس کمپنی کے کارندوں نے علاقے کی گلیوں میں پارکنگ فیس کی وصولی شروع کردی تھی.
شہریوں سے زبردستی اتنی مہنگی پارکنگ فیس تو وصول کی جارہی ہے مگر ان کو کسی بھی قسم کی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں ،واضح رہے کہ سندھ حکومت نے شہریوں کی تفریح کے لئے پیپلز اسکوائر تعمیر کیا ہےجب اس کا افتتاح ہوا تو اس وقت یہ اعلان کیا گیا کہ وہاں پر عام شہریوں کا داخلہ، گاڑیوں کی انٹری اور پارکنگ مفت ہوگی۔ لیکن پیپلز اسکوائر میں اس وقت گاڑیوں کی داخلے کی 100 روپے کی انٹری اور پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہےنو پارکنگ زونز ختم ہونے سے رش کے اوقات کار میں راستوں پر ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا۔
ٹریفک پولیس کو ٹریفک کو سنبھالنا بہت دشوار ہوگیا ہے کیوں کہ مافیا کے کارندے پارکنگ فیس تو وصول کرتے ہیں مگر ٹریفک کو مینیج نہیں کرتے۔ ٹریفک پولیس اہلکاروں نے بھی اس طرح کی پارکنگ پر اعتراض کیا ہے مگر ان کو سندھ حکومت کی تڑی دے کر چپ کروادیا جاتا ہے۔
شہریوں نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے معاملے کا ازخود نوٹس لے کر اس مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ -

حکومت اور ریاستی ادارے محض طفل تسلیوں سے کام چلا رہے ہیں : علامہ باقر عباس زیدی
مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ باقرعباس زیدی نے کہا کہ جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کا دھرنا اٹھارویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔قوم کے بزرگ بچے اور خواتین کھلے آسمان تلے بیٹھے داد رسی کے منتظر ہیں۔حکومت اور ریاستی ادارے محض طفل تسلیوں سے کام چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شیعہ قوم کو نظر انداز کرنے کی یہ پالیسی کسی طور قابل قبول نہیں۔ہمارے حوصلے کبھی پسپا نہیں ہوں گے۔اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ہمیں اعصابی جنگ میں الجھا کر پسپا کر لے گی تو یہ اس کی بھول ہے۔ ملت تشیع اپے نظریات پر اٹل ہے۔ہم حق کے لیے آواز بلند کرنا نہیں چھوڑ سکتے۔
جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے ہم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے۔انہوں نے کہا کہ مزار قائد کے باہر دھرنے میں نامور سیاسی و مذہبی شخصیات کی آمد اور اظہار یکجہتی کا سلسلہ جاری ہے۔ پوری شیعہ قوم ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہے۔دھرنے کے مرکزی قائدین کی طرف سے جو بھی اعلان کیا جائے گا مجلس وحدت مسلمین اس کی مکمل حمایت کرے گی۔انہوں نے کہا اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک کے دیگر شہروں میں بھی دھرنے دیے جائیں گے۔ کراچی میں صدر پاکستان کی رہائش گاہ کے باہر بھی احتجاج پر غور کیا جا رہا ہے۔ -

کھیل کے میدانوں کو قبضہ مافیا اور چائنہ کٹنگ سے بچایا جائے : اجمل نصیب
ینگ فائٹر کرکٹ اکیڈمی کے سی ای او اجمل نصیب نے کراچی کے مختلف کھیل کے میدانوں کو فروخت (آکشن) کیے جانے کی خبروں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔گزشتہ روزاپنے ایک جاری کردہ بیان میں ینگ فائٹر کرکٹ اکیڈمی نارتھ ناظم آباد کے سی ای او اجمل نصیب نے مزید کہا کہ کھیل کے میدانوںکو قبضہ مافیا اور چائنہ کٹنگ سے بچایا جائے، حقائق سامنے لائے جا ئیں۔
اجمل نصیب نے کہا کہ آ بادی کے تناسب سے ایک تو کراچی شہر میں پہلے ہی کھیل کے میدانوں کی تعداد بہت کم ہے اور اب ایک بار پھر سے لینڈ مافیا نے اپنی نظر یں کھیل کے میدانوں پر مرکوز کر لی ہیں،معلوم ہوا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کچھ افسران اور لینڈ مافیا کے کارندوں نے ضلع وسطی کے مختلف کھیل کے میدانوں کو اپنا حدف بنا لیا ہے اورچائنا کٹنگ کی آ ڑ میں کھیل کے میدانوں کو ختم کر نے کے منصوبے بنائیں جا ر ہے ہیں ، جس پر ہمیں گہری تشویش ہے ۔ اجمل نصیب نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مختلف اخبارات میں اس قسم کی خبر یں بھی شائع ہوئیں ہیں لہٰذا ہمارا اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ اس قسم کی خبروں کا نو ٹس لیتے ہوئے حقائق سامنے لائے جا ئیں۔ -

ابصار عالم پر حملے کے اصل ذمہ داروں کو سامنے لایا جائے، کے یو جے۔
ابصار عالم پر حملے کے اصل ذمہ داروں کو سامنے لایا جائے، کے یو جے۔
ابصار عالم پر حملہ ملک میں آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے۔ابصار عالم کے خیالات اور نظریات سے اختلاف رکھنے والے اس حملے کے اصل ذمے دار ہیں،
کراچی یونین آف جرنلسٹس نے سینئر صحافی اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم پر قاتلانہ حملے کی سخت الفاظ میں شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حملہ آوروں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں عوام کے سامنے لایا جائے ۔ کے یو جے کے صدر نظام صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام ارکان کی جانب سے جاری ایک مشترکا بیان میں کہا گیا ہے کہ ابصار عالم پر حملہ اس ملک میں آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے ابصار عالم اپنے نظریات اور خیالات کے حوالے سے ایک واضح سوچ رکھتے تھے اور ان کی سوچ سے اختلاف رکھنے والے ہی اصل میں اس حملے کے پیچھے ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ماضی میں سلیم شہزاد اغوا قتل کمیشن یا حامد میر پر حملے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے لے آئی جاتی تو آج یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ کے یو جے نے حکومتِ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اگر آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو اسے ابصار عالم پر حملے کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیتے ہوئے ناصرف حملے آوروں بلکہ واقعے کے اصل ذمہ داروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے سامنے لانا چاہئے ۔کراچی یونین آف جرنلسٹس نے پی ایف یو جے سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر فوری طور پر ملک بھر میں بھرپور احتجاج کی کال دیں۔ -

صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے جامع اقدامات کئے جا رہے ہیں : سیکریٹری اطلاعا ت سندھ
سیکریٹری اطلاعا ت سندھ رفیق احمد بر ڑو نے کہا ہے کہ میڈیا خصوصا صحافیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق قوانین کو بہتر بنانے کے لئے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں میڈیا قوا نین کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی ، سینئر صحافی مظہر عباس ،پی ایف یو جے کے جی ایم جمالی ، سی پی این ای کے ڈاکٹر جبار خٹک،پی پی ایف کے اویس اسلم علی ، سینئر صحافی قاضی آصف،ڈائریکٹر اطلا عا ت محمد سلیم خان اور سیکشن آفیسر ماجد حمید شیخ نے شرکت کی ۔
سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ صحافی عوامی مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی اقدا ما ت پر نظر رکھنے کا فریضہ احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں اور انہیں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران بعض اوقات نہایت مشکل اور نامساعد حالات سے گزرنا پڑتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کر رہی ہے جن میں ان کے لئے انڈوومنٹ فنڈ کے قیام اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی شامل ہے۔
اجلاس میں جرنلسٹ پرو ٹیکشن بل کے مسودے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس میں ترمیم کے لیے سفارشات پیش کیں۔ سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ ان سفارشات کی روشنی میں بل کا حتمی مسودہ تیار کر کے اس پر اگلے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ سیکریٹری اطلاعات نے بل کے مسودے پر تمام شرکاء کی دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی آراء کی روشنی میں بل کے حتمی مسودے کو تیار کیا جائے گا۔ -

کراچی کے لوگ غریب بہن بھائیوں کی مدد سے نہیں گھبراتے: حنید لاکھانی
تحریک انصاف کے رہنما وسربراہ بیت المال سند ھ حنید لاکھانی نے کہاہے کہ کراچی کے لوگ مصیبت کے وقت اپنے غریب بہن بھائیوں کی مدد سے نہیں گھبراتے اور وہ ہر مشکل گھڑی میں مستحق افراد کی دل کھول کرمدد کرتے ہیں،رمضان المبارک میں جس انداز میں صاحب ثروت لوگ گلی محلوں میں اپنے طورپر نقد رقم اور راشن پیکج بناکرغریب اوردیہاڑی دار لوگوں کی مدد کررہے ہیں اس کی جسقدر بھی تعریف کی جائے کم ہوگی کیونکہ ایسے لوگ یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ صدقہ اور خیرات دینے سے مال پاک ہی نہیں ہوتا بلکہ بڑھ بھی جاتاہے میں خود اس بات کو محسوس کرتاہوں کہ مستحق افراد کی مدد کرکے دلی سکون ملتا ہے ،ان خیالات کااظہار انہوں نے حنید لاکھانی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسانی ہمدردی کی اصل بنیاد فلاحی ادارے ہیں ،جو اپنے اچھے کاموں کی وجہ سے پاکستان کی نیک نامی کا سبب بنے ہوئے ہیں، رمضان المبارک اور کرونا کے اس ماحول میں نوجوان آگے بڑھ کر غریب اور مساکین کی مدد کریں ،بیمار لاچار اور مساکین کی مددکرناہم سب کی اولین زمہ داری ہے ،انہوں نے کہاکہ اس وقت بے شمارفلاحی ادارے اور مخیر حضرات دل کھول کر عوام الناس کی مددکررہے ہیں ، اندرون سندھ میں جہاں آبادی کا بیشتر حصہ بھوک اور افلاس میں ڈوبا ہواہے وہاںصاحب حیثیت اور فلاحی تنظیموں کی وجہ سے بھوک اور افلاس کا شکار لوگوں کی مدد بھی کی جارہی ہے ،ان تمام فلاحی اداروں میں دن بہ دن اضافہ ہورہاہے ،پاکستان میں کچھ فلاحی ادارے ایسے بھی ہیں جن کی نیک نامی اور خدمت خلق پر عوام کو مکمل بھروسہ ہے ، رمضان المبارک اور کرونا کی وبا کے دوران یہ ادارے کافی متحرک ہوکر عوام کی خدمت میں مشغول ہیں ،انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑاحصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہاہے،ایسے میں میں فلاحی ادارے اور مخیر حضرات کا تعاون غریب انسانوں کے لیے کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں ہے ۔
-

وزیراعلی سندھ نے 17.7 ارب روپے کی لاگت سے اسنارکلز ، فائر ٹینڈرز ، رفیوز ٹرک خریدنے کی منظوری دے دی
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے بلدیاتی اداروں کیلئے آٹھ اسنارکلز ، فائر ٹینڈرز ، رفیوز ٹرک ، ٹریکرز اور ٹرالیوں کی خریداری کیلئے 17.7 ارب روپے کی منظوری دی۔ انہوں نے یہ فیصلہ منگل کے روز وزیراعلی ہاس میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے لیا۔ اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ ، مشیر قانون مرتضی وہاب ، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو ، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی ، سیکرٹری بلدیات نجم شاہ اور دیگر نے شرکت کی۔
وزیر بلدیات ناصر شاہ نے وزیر اعلی سندھ کو بتایا کہ اسنارکلز کی خریداری کیلئے ٹینڈرز کا عمل شروع کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کیلئے اسنارکلز کی ضرورت تھی، اس پر وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ 1.5 ارب روپے کی رقم آئندہ مالی سال میں دستیاب ہوجائے گی۔ وزیر بلدیات ناصر شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ میونسپل کمیٹیوں کو اپنے اپنے علاقوں سے کچرا اپنے لینڈ فل سائٹوں تک پہنچانا ہے لہذا 102 ٹریکٹرز اور ٹرالیوں کی ضرورت ہے، اس خریداری پر 4.1 ارب روپے لاگت آئے گی۔
وزیراعلی سندھ نے اصولی طور پر اس تجویز کی منظوری دی اور محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ رقم آئندہ مالی سال کے آغاز میں دستیاب کردی جائے۔ محکمہ بلدیات نے مختلف میونسپل کمیٹیوں کیلئے 89 فائر ٹینڈرز کی خریداری کیلئے ایک اور اسکیم پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر میونسپل کمیٹیوں کو فائر فائٹنگ کیلئے فائر ٹینڈرز کی ضرورت ہے۔ مراد علی شاہ نے پورے سندھ میں میونسپل کمیٹیوں کو فراہم کردہ 89 فائر ٹینڈرز کی خریداری کیلئے 2.8 ارب روپے کی منظوری دی۔
وزیراعلی سندھ نے محکمہ بلدیات کی ایک اور تجویز کی منظوری دی جس کے تحت آئندہ مالی سال میں 115 رفیوز ٹرک 9.3 ارب روپے کی لاگت سے خریدے جائیں گے۔ مراد علی شاہ نے وزیر بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ اپنے بڑے نالوں کی صفائی کیلئے کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کو فعال کریں۔ انہوں نے کہا کہ مون سون کا موسم قریب آرہا ہے لہذا بڑے نالوں کی صفائی کا کام جلد ہی شروع کیا جانا چاہئے۔ -

خرم شیر زمان کی وفد کے ہمراہ ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان سے ملاقات
پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے وفد کے ہمراہ ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پی ٹی آئی رہنما سمیر میر شیخ سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔ پی ٹی آئی کے وفد نے شہر میں پانی کے سنگین بحران کے حوالے سے ایم ڈی واٹر بورڈ کو آگاہ کیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ واٹر بورڈ سب سے زیادہ کرپٹ ادارہ ہے۔ صوبہ سندھ میں وزراء سب سے زیادہ مال بنا کر دینے والا ادارہ واٹر بورڈ ہے۔ کراچی کے ہر علاقے میں پانی کا سنگین بحران ہے، شہر کراچی کو ٹینکر مافیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ مجھے دن رات پانی کی قلت جی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں، ہمیں صدر، برنس روڈ، کورنگی، کلفٹن سب جگہ سے شکایات مل رہی ہیں۔
فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کیا کر رہے ہیں گرمی کے موسم کے آغاز سے ہی شہر میں پانی کی قلت ہو جاتی ہے۔ سندھ حکومت واٹر ٹینکر مافیا کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ انکی ملی بھگت کے ساتھ ہی شہریوں کو پانی لائنوں کے بجائے ٹینکر کے ذریعے بیچا جارہا ہے۔
سندھ حکومت نے پہلے شہریوں سے روٹی، کپڑا اور مکان چھینا اور اب پانی جیسی بنیادی سہولت کو بھی چھین لیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں سندھ کے عوام کو صرف محرومیاں اور پریشانیاں دی ہیں، انہوں نے کبھی صوبے کے حالات کو بہتر کرنے کے لئے اقدامات نہیں کیے ۔