Baaghi TV

Category: کراچی

  • سینئرصحافی فصاحت محی الدین کو پاپوش نگرقبرستان میں سپردخاک کردیا گیا

    سینئرصحافی فصاحت محی الدین کو پاپوش نگرقبرستان میں سپردخاک کردیا گیا

    سینئرصحافی فصاحت محی الدین کو گزشتہ روز پاپوش نگرقبرستان میں سپردخاک کردیا گیا ۔مرحوم کی نمازجنازہ ہفتے کوبعد نمازظہرجامع مسجد بلال ناظم آباد نمبر3 میں اد اکی گئی ۔نمازجنازہ میں مرحوم کے اہل خانہ ،عزیزواقارب ،ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ، وفاقی وزیرآئی ٹی امین الحق ،جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان زاہد عسکری،کراچی پریس کلب کے سیکریٹری رضوان بھٹی ،سابق صدر امتیاز خان فاران،کے یوجے کے صدراعجازاحمد،گورنرسندھ کے پریس سیکریٹری ڈاکٹرمعید پیرزادہ ،ڈائریکٹر انفارمیشن ثقلین حیدر، محمد سلیم،سینئرصحافی مقصود یوسفی ،منیرالدین ،عابد حسین،حسین عباس، عمران احمد،فیصل حسین ،منہاج الرب،واجد انصاری،طاہرعزیز،سابق پریس سیکریٹری گورنر سندھ سید وجاہت حسین ،سابق ڈائریکٹر انفارمیشن مکرم سلطان بخاری، ستار جاوید سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
    مرحوم کی فاتحہ سوئم آج بروز اتوار 18 اپریل 2021 کو دن دو بجے سے شام پانچ بجے تک ان کی رہائش گاہ 3F-12/6 ناظم آباد 3 نزد مطب ہمدرد پر منعقد ہوگی۔ یاد رہے کہ مقامی انگریزی روزنامے سے وابستہ سینئر صحافی فصاحت محی الدین مختصر علالت کے بعد جمعہ کو انتقال کرگئے تھے۔

  • ناانصافی کے خلاف چپ رہنے کا کلچر ہمارا طرزِ زندگی بن گیا ہے   حاجرہ یامین

    ناانصافی کے خلاف چپ رہنے کا کلچر ہمارا طرزِ زندگی بن گیا ہے حاجرہ یامین

    پاکستان شوبز کی معروف اداکارہ حاجرہ یامین کا خیال ہے کہ ناانصافی کے خلاف چپ رہنے کا کلچر ہمارا طرزِ زندگی بن گیا ہے-

    باغی ٹی وی :اداکارہ حاجرہ یامین کی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہو رہی ہی جس میں انہوں نے کراچی کے مسائل کی وجوہات اور ان کا حل بتایا ہے اور انہوں نے عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کیا مشورہ دیا ہے-

    ویڈیو میں حاجرہ یامین نے کہا کہ کراچی کی بربادی کی جو وجہ ہے نا وہ بہت ہی خاندانی ہے، معصومانہ، یہ کیوٹ ہے’

    اداکارہ نے ویڈیو میں سوالیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جب بن بلائے مہمان آپ کے گھر میں آجاتے ہیں اور واپس جانے کا نام نہیں لیتے تو آپ کیا کرتے ہیں؟جب خالہ آپ کے وزن پر تبصرہ کرتی ہیں تو آپ کیا کرتی ہیں؟ جب گھر والے آپ کی مرضی کے بغیر آپ کا کیریئر اور ساتھی چنتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں؟

    اداکارہ نے اپنے سوالات کا خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ چپ رہتے ہیں۔

    حاجرہ یامین نے کہا کہ تو یہ ناانصافی کے خلاف چپ رہنے کا جو کلچر ہے نا یہ ہمارا طرزِ زندگی بن گیا ہے۔

    اداکارہ نے کہا کہ سڑک ایک طرف سے ٹوٹ گئی؟ چپ کرکے راستہ بدل لو، فون چھن گیا؟ چپ کرکے نیا فون لے لو، پولیس والے نے رشوت مانگی؟ چپ کرکے پیسے دے دو، چینی مہنگی ہوگئی؟ چپ کرکے پھیکی چائے پی لو۔

    حاجرہ یامین نے مزید کہا کہ اب کراچی والوں کا چپ رہنے کا جو یہ رویہ ہے نا یہ دیکھ کر کسی عقلمند کو بہت شاندار خیال آیا، اس نے سوچا کہ ایک ایسا علاقہ بناتے ہیں جس میں یہ جتنے بھی امیر لوگ ہیں نا ان کو اکٹھا کرتے ہیں اور ان سے ان کا سب کچھ چھین لیتے ہیں، یہ زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے؟ چپ رہیں گے۔

    حاجرہ یامین نے کہا کہ تو اب یہ جو ہاؤسنگ سوسائٹی کا آئیڈیا تھا یہ بہت کامیاب رہا، لوگوں سے بجلی چھین لی تو انہوں نے جنریٹر لگوالیے، پانی بند کردیا تو انہوں نے ٹینکر ڈلوالیے، پانی بند کردیا لیکن پانی کا بل بھیج دیا تو لوگوں نے بل ادا کردیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ چوری اور ڈکیتی بڑھ گئی تو لوگوں نے پرائیویٹ گارڈز رکھ لیے، تو ظلم کے خلاف کوئی کچھ نہ بولا اور سب ہنسی خوشی چپ چاپ زندگی بسر کرتے گئے-

    حاجرہ نے کہا کہ ڈئیر کراچی، مجھے نہیں پتا تم نے چپ رہنا کب سیکھا، تب جب بچپن میں تمہیں سوال کرنے سے روکا گیا؟ یا شاید تب جب تمہیں احساس ہوا کہ دیواروں پر پان کی پیکوں کے بیچ معصوم خون بھی ہے یا پھر شاید تب جب تمہارے سر پر کسی نے پستول رکھ دی اور تمہیں جان اور مال کے بیچ میں سے کسی ایک کو چننا پڑا۔

    انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتی کہ آپ نے کب چپ رہنے کا فیصلہ کیا لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اب وہ لمحہ ہے، وہ موقع ہے، جب آپ کو بولنے کا فیصلہ کرنا ہے۔

    حاجرہ یامین نے ویڈیو کے آخر میں کہا کہ میں نہیں جانتی کہ آپ کے بولنے سے کتنا فرق پڑتا ہے لیکن اتنا تو اب آپ بھی جانتے ہیں کہ ایک قطرے میں کتنی طاقت ہوتی ہے، قطرہ قطرہ ملا کر دریا بن ہی جاتا ہے-

    لڑکیوں کے پاس تعلیم ہو یا نہ ہولیکن ہنر کاہونا بہت ضروری ہے کومل رضوی

  • عدالت نے نجی ٹی وی کے صحافی اسد کھرل کو اشتہاری قرار دے دیا

    عدالت نے نجی ٹی وی کے صحافی اسد کھرل کو اشتہاری قرار دے دیا

    کراچی کی عدالت نے جے ایس انوسٹمنٹس کی پرائیوٹ کمپلین پر نجی ٹی وی کے صحافی اسد کھرل کو اشتہاری قرار دے دیا۔ عدالت نے نادرا کو اسد کھرل کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دے کر اسد کھرل کے تاحیات ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔
    تفصیلات کے مطابق کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جنوبی نے نجی ٹی وی کے صحافی اسد کھرل کے خلاف جے ایس انوسٹمنٹس کی پرائیوٹ کمپلین پر اشتہاری قرار دے دیا۔

    عدالت نے اسد کھرل کے تاحیات ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور اسد کھرل کی گرفتاری تک کیس داخل دفتر کردیا۔جے ایس انوسٹمنٹس کا موقف ہے کہ 2016 میں اسد کھرل نے نجی ٹی وی چینل پر پروگرام کیا جس میں من گھڑت اور جھوٹے الزامات عائد کیے۔عدالت نے اسد کھرل کو مسلسل غیر حاضر رہنے پر اشتہاری قرار دیا ہے۔اسد کھرل کے خلاف مقدمہ 2016 سے زیر سماعت ہے۔

  • معاشرے میں خیرو برکت قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہیں : اسماء سفیر

    معاشرے میں خیرو برکت قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہیں : اسماء سفیر

    ماعت اسلامی (حلقہ خواتین)کراچی کی ناظمہ اسماء سفیر نے کہا ہے کہ رمضان المبارک قرآن مجیداور اللہ تعالی سے جڑنے کا مہینہ ہے۔معاشرے میں خیرو برکت قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہیں ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام دورہ قرآن کے مراکز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچیوں میں قرآن سے محبت اور شغف پیداکرنے کیلئے حلقہ خواتین پچھلی چار دہائیوں سے کوششیں کرتی آئی ہیں۔یہ اسی کا ثمر ہے کہ شہر کراچی میں سینکڑوں مراکز پر ہزاروں خواتین قرآن کو ترجمہ کے ساتھ سمجھ کر پڑھ رہی ہیں۔اسماء سفیر نے قرآن انسٹیٹیوٹ کے مختلف کیمپسز میں جاری دورہ قرآن و تفسیر کو سراہا اور معلمات کی حوصلہ افزائی کی۔واضح رہے حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے زیر اہتمام آن لائن دورہ قرآن بھی جاری ہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعے کثیر تعداد میں خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔

  • مہنگائی مافیا کےخلاف سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے،عوام ان مافیا کے ہاتھوں لٹ رہی ہے۔

    مہنگائی مافیا کےخلاف سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے،عوام ان مافیا کے ہاتھوں لٹ رہی ہے۔

    کمشنر کراچی ڈویژن نوید احمد شیخ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی سخت سرزنش و برہمی کے بعد بھی تاحال خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ادھر شہر بھر میں مارکیٹ و مہنگائی مافیا کے غیرقانونی اشتراک نے شہریوں سے فی سکینڈ و فی منٹ کے حساب سے لاکھوں کروڑوں کی غیرقانونی وصولیوں کا کاروبار و دھندا دھڑلے سے جاری رکھا ہوا ہے شہری ” مارکیٹ و مہنگائی مافیا کے بے رحم نشانے پر روزمرہ کے استعمال اشیائے خوردونوشں سمیت شہری الیکٹرونکس مافیا کے ہاتھوں زچ پس کر رہ گئے رمضان المبارک کیساتھ گرمیوں کے آغاز سے ہی مافیا نے ” سبزی ” فروٹ ” گوشت ” مصالحہ جات ” آٹا چینی سمیت الیکٹرونکس آئٹم ” فین ” پھنکھے ” فرج ” ڈیپ فریزر ” روم کولر ” اے سی ” کی من مانی قیمتوں پر فروخت کا غیرقانونی بزنس اپنے عروج پر الیکٹرونکس آئٹم کی مد میں شہریوں کی جیبوں پر جرائم پیشہ عناصر کی طرح ڈاکہ زنی کا عمل کھلے عام جاری ہے فی آئٹم شہریوں سے ہزاروں روپے غیرقانونی طور پر وصولیوں کا دھندا جاری ہئے دودھ کی 130 روپے فی لیٹر بلند ترین سطح پر فروخت جاری، اشیائے خوردونوشں و الیکٹرونکس آئٹم میں فی آئٹم ہزاروں روپے وصولی کا جھٹکا شہریوں کو چونا لگانے کا دھندا جاری ادھر برائلر مرغی اسٹاک کی طرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر 500 روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہئے جبکہ گردن / پوٹہ / کلیجی کی قیمت 2 سو سے 250 روپے فی کلو من مانی قیمتوں پر فروخت جاری حکومت سندھ کا ادارہ بیورو سپلائی اور ضلعی حکومت کے کرپٹ و راشی افسران راتوں رات سٹے کے اس بازار میں کروڑ پتی بن رہیں ہیں اور شہری کنگال ہورہیں ہیں مافیا بے رحمی سے شہریوں کو شکار کر رہی ہے دوسری طرف حکومت و حکومتی زمہ داران ہیں کہ مکمل بےحسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں بلکہ کمشنر کراچی ڈویژن نوید احمد شیخ کے شہر بھر میں موجود فرنٹ مین کھلاڑیوں جن میں قابل زکر ڈپٹی کمشنرز ” اسسٹنٹ کمشنرز مختار کاروں کا شہر بھر میں جال بچھا ہوا ہئے مگر مزکورہ افسران جن پر شہریوں کے کروڑوں روپے بصورت ٹیکس خرچ ہوتے ہیں انھوں نے اپنے ریاستی عہدے فرائض منصبی اور اختیارات کو بس مال بناؤ اور وصولیوں کے دھندے میں بدل ڈالا جو اپنے فرائض منصبی عہدے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کیساتھ شہر اور شہریوں سے دھوکہ اور انکے ٹیکسیز سے بھی بغاوت ہئے اس غیرقانونی دھندے پر سپریم کورٹ کو فوری طور پر ” سوموٹو ایکشن ” از خود نوٹس لینا چاہیے ادھر انتہائی افسوناک بات یہ ہئے کہ مزکورہ حکومتی افسران شہر بھر میں مہنگائی مافیا کے خلاف ڈرامے بازی کرتے ہوئے نمائشی میچیز کا بھی جال بچھاتے ہیں اور شہر بھر کے تمام ڈسٹرکٹس کی حدود میں دودھ مافیا ” گوشت مافیا ” بیکری مٹھائی والوں کے خلاف تابڑ توڑ کاروائیاں بھی کرتے ہیں جبکہ الیکٹرونکس مافیا کے خلاف ڈرامائی انداز میں بھی کوئی کاروائی اور جرمانہ یا چالان نہیں کرتے۔ ادھر مزکورہ کاروائیوں کے بارے میں شہری اسے اپنی جیبیں بھرنے اور کمائی کا دھندا بتاتے ہیں کیونکہ بھاری جرمانے کی دھمکی دیتے ہوئے بھاری وصولیوں کا بازار شہر بھر میں گرم رہتا ہے۔ متعلقہ انتظامیہ و پولیس رمضان سمیت ابھی سے عیدی مہم پر کمر بستہ نظر آتی ہے کمشنر اور انکی کرپٹ و راشی ٹیم اپنے دھندوں میں مصروف ہے۔ کمشنر کراچی ڈویژن اپنی تعیناتی سے ابتک زبانی جمع خرچ اور کاغذی کاروائی سے آگے نہ بڑھ سکے جبکہ سپریم کورٹ نے بھی انکی خوب کھینچائی کی کراچی ڈویژن کے / ڈپٹی کمشنرز / اسسٹنٹ کمشنرز / مختار کاروں نے اپنے ریاستی و ادارتی عہدے ( فرائض منصبی / اختیارات کو وصولیوں کا دھندا بنالیا مزکورہ سسٹم کی مد میں لاکھوں / کروڑوں / اربوں کا خرچ عوام پر مزید بوجھ بن گیا شہریوں کی جانب سے دئے جانے والے ٹیکس پر پلنے والے بھی شہریوں کے خلاف ڈٹ گئے راشی و کرپٹ ضلعی انتظامیہ نے اپنے عہدوں اور مناصب کے حساب سے وصولیوں کا بازار سجا رکھا ہئے لاکھوں کروڑوں ٹھکانے لگائے جارئیے ہیں جبکہ شہری مہنگائی مافیا کے رحم و کرم پر ادھر انتہائی حیران کن بات یہ ہے کہ کمشنر کراچی ڈویژن نوید احمد شیخ بس اپنی سیٹ اور مراعات کے مزے لوٹ رہیں ہیں اور شہری مافیا کے ہاتھوں لٹ رہیں ہیں شہریوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد سے مزکورہ بالا مافیا اور انکو بھاری وصولیوں کے تحت تحفظ فراہم کرنے کیساتھ اپنے فرائض منصبی کے برخلاف پس پردہ سرپرستی کرنے کے حوالے سے سوموٹو ایکشن کا مطالبہ کردیا جبکہ مختلف سیاسی سماجی مزہبی جماعتوں اور شخصیات نے سپریم کورٹ وزیر اعلیٰ سندھ،گورنر سندھ، وزیر بلدیات سمیت تمام تحقیقاتی اداروں سے اٹھائے گئے حلف اور اپنے فرائض منصبی کے مطابق سخت ترین قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • رمضان المبارک میں پوری صلاحیت کے ساتھ کاروبار چلانے کی اجازت دی جائے : کراچی چیمبر

    رمضان المبارک میں پوری صلاحیت کے ساتھ کاروبار چلانے کی اجازت دی جائے : کراچی چیمبر

    بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی والا اور صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) شارق وہرہ نے سندھ حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات شام 6 بجے تک محدود کرنے اور ہفتہ، اتوار تمام کاروبار بند کرنے کے فیصلے پر شدید مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ مزید وقت ضائع کیے بغیر مذکورہ نوٹیفیکیشن کو منسوخ کیا جائے اور رمضان المبارک میں ہر قسم کے کاروبار کو پوری صلاحیت کے ساتھ چلانے کی اجازت دی جائے بصورت دیگر لوگ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے مرنے کے بجائے غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے خود ہی دم توڑ دیں گے۔
    زبیر موتی والا نے کہاکہ ہم نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر لوکل گورنمنٹ، چیف سیکریٹری اور کمشنر کراچی کو خطوط ارسال کیے اور وقتاً فوقتاً پیغامات بھی دیے لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا جو انتہائی مایوس کن امر ہے کیونکہ ہمیں حکومت سندھ کی جانب سے ایسے ردعمل کی توقع نہیں تھی جس نے ہمیشہ کے سی سی آئی کی درخواستوں کا جواب دیا۔کاروباری اداروں کو لگاتار دو دن تک بند رکھنا اور انہیں ہفتے کے باقی دنوں میں محدود اوقات کار کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کرنے کے نتیجے میں بہت سارے کاروبار دیوالیہ ہوجائیں گے جس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور انتشار پھیلے گا۔
    زبیر موتی والا نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ مذکورہ نوٹیفکیشن فوری منسوخ کیا جائے جبکہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے لیے انتظامیہ کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ اگر انتظامیہ پچھلے سال لاک ڈاؤن کو سختی سے نافذ کرنے میں کامیاب رہی ہے تو پھر اسے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے لیے اسے کیوں استعمال نہیں کیا جارہا۔
    حکومت سندھ کو تاجروں کو ختم کرنے کے بجائے کاروبار کی روز بروز خراب صورتحال کو دور کرنا ہوگا۔صدر کے سی سی آئی شارق وہرہ نے بھی خبردار کیا کہ کاروبار کی دو دن مسلسل بندش اور محدود کاروباری اوقات کار کی وجہ سے افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گی چونکہ بڑھتی بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے عوام کے پاس احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔
    تاجر وصنعتکار برادری کو درپیش مشکلات اور مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صدر کے سی سی آئی نے امید ظاہر کی کہ سندھ حکومت اس سنگین مسئلے پر غور کرے گی اور کاروبار و معیشت کو مزید تباہی سے بچانے کے اقدامات کرے گی۔کراچی کی تمام کاروباری طبقہ باالخصوص چھوٹے تاجروں، دکانداروں کی طرف سے چیئرمین بی ایم جی اور صدر کے سی سی آئی نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہفتے میں لگاتار دو دن ہر طرح کی تجارتی کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے اور کاروباری اوقات کار شام 6 بجے تک محدود رکھنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے کیونکہ پہلے ہی پریشان حال اور شدید بحرانوں سے دوچار چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے بڑے پیمانے پر معاشی قتل کے مترادف ہے جو اپنے کاروبار کی بقا قائم رکھنے کے لیے سخت جدوجہد کررہے ہیں۔

  • این اے 249 کو شہر کا ماڈل حلقہ بنایا جائے گا پیپلزپارٹی بلا تفریق خدمت پر یقین رکھتی ہے : عبدالقادر مندو خیل

    این اے 249 کو شہر کا ماڈل حلقہ بنایا جائے گا پیپلزپارٹی بلا تفریق خدمت پر یقین رکھتی ہے : عبدالقادر مندو خیل

    پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر وقار مہدی،حلقہ 249 کے امیدوار عبدلقادر خان مندوخیل، اور مجلس وحدت مسلمین 249کے امیدوار علامہ مبشر حسن اور علی حسین نقوی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلقہ249 کے عوام کی خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا۔قادر خان مندوخیل نے کہا کہ مذکورہ حلقے کے ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی۔سندھ حکومت نے دو ارب روپے کی خطیر رقم حلقے میں ترقیاتی کاموں پر خرچ کر کے عوامی جماعت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حلقہ249 کو شہر کا ماڈل حلقہ بنایا جائے گا۔
    ضمنی انتخابات میں مجلس وحدت مسلمین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پہلے بھی آ چکے ہیں۔

    حمایت کی یقین دہانی پر ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے شکر گزار ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علی حسین نقوی نے کہا کہ وعدہ کرکے علاقوں سے غائب ہونے والوں کے ساتھ نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔این اے 249 کراچی کا مضافاتی علاقہ ہے جو بہت زیادہ نظرانداز ہوا ہے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ حلقہ این اے 249 کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔
    پیپلز پارٹی کے قائدین نے اہل علاقہ کے تمام مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔مشاورت کے بعد مجلس وحدت مسلمین نے پیپلزپارٹی کے امید وار کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ حلقہ این اے 249 میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کا بھرپور ساتھ دیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما وقار مہدی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو کراچی و سندھ کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔
    انہوں نے مزید کہا کہ ان شا اللہ مستقبل میں عوام کو علاقے میں کام نظر آئیں گے۔پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہے اور عوام میں نظر آئے گی۔ ایم این اے ایم پی نہیں ہے لیکن 42 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کئیے ماضی میں ایم کیوایم منتخب ہوتی رہی ہے مقامی حکومت بھی ان کی رہی بلدیہ ٹاؤن کا بنیادی مسلہ پانی سیوریج اور سڑکیں ہیں کورنگی کراسنگ میں ہمارا کوئی ووٹ نہیں لیکن ترقیاتی کام کر وائے پیپلزپارٹی کراچی کی خدمت کررہی ہے پیپلزپارٹی بلا تفریق خدمت پر یقین رکھتی ہے۔

  • سندھ کی متعصب حکومت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مختلف اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے،خواجہ اظہار الحسن

    سندھ کی متعصب حکومت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مختلف اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے،خواجہ اظہار الحسن

    ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن و ممبر صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ سندھ کی متعصب حکومت نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے وسائل پر تو قبضہ کر ہی لیا ہے اب اس کے مختلف اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کی بد عنوان و متعصب حکومت نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو مالی طور پر اپاہج تو کرہی دیا ہے اب وہ اس کے مختلف اداروں پر بھی قبضہ کرنا چاہتی ہے گزشتہ 13برسوں سے شہری سندھ کے وسائل اور مختلف حیلے بہانوں سے قبضہ کئے ہوئے ہے جس کے باعث سندھ کے شہری علاقے تباہی اور بربادی سے بوچار ہیں کبھی تعصب پر مبنی قانون سازی کے زریعے اور کبھی بدعنوان افسر شاہی کے زریعے تو کبھی18ترمیم کو ڈھال بنا کر بد عنوانی کا راج لگا رکھا ہے آج کی اس پریس کانفرنس کا مقصد آپ لوگوں کو ایک اور سازش سے آگاہ کرنا ہے جس میں ایک سمری وزیر اعلیٰ کو ارسال کی گئی ہے جس کے زریعے کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈی زیز اور کراچی میڈیکل انڈ ڈینٹل کالج پر قبضہ کرنے کی سازش رچائی گئی ہے ہم واضع کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ دونوں ادارے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے بہترین کار کردگی دکھا رہے ہیں کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج داخلے سے لیکر انتظامی امور تک ہر شعبہ میں شفافیت اختیار کئے ہوئے ہے اور اسکا اعتراف ملک کے تمام آزاد ادارے کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار خواجہ اظہار الحسن نے رابطہ کمیٹی کے اراکین عبدالقادر خانزادہ اور خالد سلطان،زاہد منصوری کے ہمراہ بہادر آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    انکا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی بدعنوان حکومت کراچی اور حیدر آباد کے وسائل کو خرد برد کرنے کیلئے 18ویں ترمیم کو ہتھیار بناتی ہے اور اپنی کرپشن کو مکمل کرنے کیلئے اداروں کو استعمال کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور اسکے اراکین بد عنوانیوں میں شریک ہو کر ملک دشمنی کا ارتکاب کر رہے ہیں دوسری جانب پیپلز پارٹی کی حکومت 18ترمیم کی آڑ میں چھپ کر بد عنوانی کے تمام ریکارڈ توڈ چکی ہے اور کوئی بھی ترقیاتی پیکج 18ترمیم کی موجودگی میں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکتا ایم کیو ایم پاکستان یہ سمجھتی ہے کہ سندھ کی متعصب حکومت وسائل ہڑپنے اور بدعنوانی کرنے کیلئے 18ویں ترمیم کو ہتھیار بنا رہی ہے اور 18ویں ترامیم کا مسودہ تیار کراتے وقت پیپلز پارٹی نے قومی قیادت کو دھوکا دیا۔

  • سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس عرفان سعادت خان انتقال کرگئے

    سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس عرفان سعادت خان انتقال کرگئے

    سندھ ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس عرفان سعادت خان رضائے الٰہی سے انتقال کرگئے۔ ان کی نماز جنازہ مسجد طیبہ نارتھ ناظم آباد میں ادا کی گئی اور تدفین سخی حسن قبرستان نارتھ ناظم آباد کراچی میں کردی گئی۔ مرحوم جسٹس عرفان سعادت خان جسٹس ہیلپ لائن کے سماجی، مذہبی اور تعلیمی تربیتی پروگراموں کی سرپرستی کرتے تھے اور ہر سال سالانہ محفل نعت میں بحیثیت مہمان خصوصی شریک ہوتے تھے۔
    انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے معذور افراد کو ملازمتیں دینے اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے معذور افراد کو مستقل کرنے کے تاریخی احکامات جاری کیے۔ جسٹس ہیلپ لائن کے صدر ندیم شیخ ایڈووکیٹ، سابق جسٹس شہاب سرکی، ایس مائیکل ایڈووکیٹ، مزدور رہنماء سید ذوالفقار شاہ، سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے لیگل سید اسرار علی نے جسٹس عرفان سعادت خان کے انتقال کو عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی مغرت اور درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

  • حکومتی فیصلے کےخلاف، شادی ہال مالکان نے پندرہ رمضان سے شادی ہالز کھولنے کا اعلان کر دیا

    حکومتی فیصلے کےخلاف، شادی ہال مالکان نے پندرہ رمضان سے شادی ہالز کھولنے کا اعلان کر دیا

    شادی ہال مالکان نے پندرہ رمضان سے شادی ہالز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
    کراچی میں شادی ہالز مالکان نے حکومتی فیصلوں کیخلاف جاتے ہوئے 15 رمضان سے شادی ہالز کھولنے کا اعلان کر دیا ،شادی ہالز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ جب تمام ریسٹورنٹ کھل سکتے ہیں تو شادی ہالز پا پابندی کیوں لگائی جا رہی ہے ۔
    شادی ہالز مالکان کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشی قتل بند کیا جائے ،حکومتی ایس او پیز میں تمام ریسٹورنٹ کھولے گئے ہیں ،شادی ہالز مالکان کا کہنا تھا کہ اگر ریسٹورنٹس کھل سکتے ہیں تو شادی ہالز پر پابندی ناجائز ہے ،شادی ہالز مالکان ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ کراچی میں کورونا کیسز کی شرح انتہائی کم ہے ، ایسے میں شادی ہالز کی بندش کے باعٹ 10 لاکھ افراد کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے –