سندھ ہائیکورٹ نے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن میں تاخیر کرنے پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سمیت پوری کابینہ کی تنخواہ بند کرنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ نے مارکیٹ کمیٹی کے ریٹائرڈملازمین کو پنشن کی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کی،سماعت پرایڈووکیٹ سہیل کھوسو پیش ہوئے۔پنشنرز کے وکیل ایڈووکیٹ سہیل کھوسو نے کہا عدالت کے بار بار احکامات پر ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن نہیں دی جا رہی، جس پر عدالت نے عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جب تک ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن نہیں ملےگی کابینہ کوبھی تنخواہ نہیں ملےگی۔سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ نے وزیر اعلیٰ سندھ سمیت پوری کابینہ اور چیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری ایگری کلچر اور سیکریٹری فنانس کی تنخواہ بند کرنے کا حکم دے دیا اور سماعت 11مئی تک ملتوی کردی۔سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ کے جسٹس آفتاب احمد گورڑ اور جسٹس فہیم احمد صدیقی نے حکم جاری کیا۔
Category: کراچی
-

کراچی میں کورونا وائرس کی خطرناک قسم کی نشاندہی ہوگئی
کراچی میں کورونا وائرس کی خطرناک قسم کی نشاندہی ہوگئی
باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق نارتھ کراچی میں ایک شخص میں سارس کووڈ 2 کی تصدیق ہوگئی ہے،جبکہ متاثرہ شخص کو گھر پر قرنطینہ کردیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق مریض میں کورونا وائرس کی سب سے خطرناک قسم پائی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق علاقے میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن بھی لگادیا گیا ہے۔ واضع رہے کہ کورونا کےبڑھتے خطرات کو دیکھتے ہوئے، 16 شہروں میں فوج تعینات کردی گئی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر ملک کے 16 متاثرہ شہروں میں فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ -

کراچی میں انتہائی افسوسناک واقعہ،ڈلیوری بوائے لفٹ میں جاں بحق
کراچی میں انتہائی افسوسناک واقعہ افطار پارسل پہنچانے والا ڈلیوری بوائے لفٹ میں پھنس کر جاں بحق ، لاش کئی گھنٹوں تک لفٹ میں پھنسی ،ڈلیوری بوائے کا روزے کی حالت میں انتقال , کراچی میں آن لائن ڈلیوری بوائے لفٹ میں پھنس کر جاں بحق ہو گیا۔افسوس ناک واقعہ شہر کے پوش علاقے کلفٹن تین تلوار میں پیش آیا جہاں افطار کے وقت پارسل پہنچانے کے لیے آنے والا ڈلیوری بوائے رہائشی عمارت کی لفٹ میں پھنس کر جاں بحق ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق لاش کافی دیر تک لفٹ میں پھنسی رہی . اور رابطہ نہ ہونے پر فون ٹریس کیا گیا تو لوکیشن عمارت آئی۔ جس کی اطلاع پولیس کو دی گئی اور صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔آن لائن فوڈڈیلوری کمپنی کے دیگر ملازمین نےاپنی مدد آپ کے تحت لاش کو نکلا، اسی اثناء میں پولیس بھی پہنچ گئی۔متوفی کی شناخت نوید سعید کےنام سےہوئی ہے اور لاش جناح اسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔ متوفی افطار کےوقت رہائشی عمارت میں ڈیلوری دینےآیاتھا۔
-

کن صورتوں میں گورنمنٹ فوج کو شہروں میں طلب کرسکتی ہے؟ فوج کے اختیارات کیا ہونگے ؟
کن صورتوں میں گورنمنٹ فوج کو شہروں میں طلب کرسکتی ہے؟ فوج کے اختیارات کیا ہونگے اس دوران؟
کسی بھی ملک کی فوج اس ملک کا سب سے پروفیشنل ادارہ ہوتا ہے۔فوج کا بنیادی کام تو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے لیکن بعض صورتوں میں فوج کو ملک کو درپیش اندرونی مسائل کو حل کرنے کے لیے یا ناگہانی آفت کے دوران بھی لوگوں اور انتظامیہ کی مدد کے لئے بھی بلایا جاسکتا ہے۔اس دوران فوج کا کام ہوتا ہے کہ وہ ملک کے سول اداروں کے ساتھ ملکر کام کرے۔جیسا کے آپکو معلوم ہے پوری دنیا اک وبائی مرض کرونا کی لپیٹ میں ہے۔

اس کرونا کی وجہ سے پاکستان کے حالات بھی سنگین ہوتے جا رہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی و صوبائی گورنمنٹ نے فوج کو بلا لیا ہے
آئین پاکستان کے آرٹیکل 245،244،243 افواج پاکستان سے متعلق ہے۔آرٹیکل 245 کے مطابق فوج وفاقی گورنمنٹ کی ڈائریکشن ملنے کے بعد ببیرونی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حفاظت کرے گی اور وفاقی گورنمنٹ کے حکم پر ہی ملک کے سول اداروں کی اندرونی طور پر مدد فراہم کرےیہی بنیادی قانون ہے جس کے تحت وفاقی گورنمنٹ نے فوج کو بلایا ہے تاکہ وہ کرونا ایس او پیز کے نافذ کرنے کے لیے سول اداروں مثلاً پولیس ضلعی گورنمنٹ کی مدد کر سکیں۔
اس سے پہلے اک مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران بھی فوج کو بلایا گیا تھا امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے.یہاں اک بات یاد رکھیں جب وفاقی گورنمنٹ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو بلاتی ہے سول اداروں کی مدد کے لیے تو گورنمنٹ کے اس اقدام کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ضابطہ فوجداری کے سیکشن 131A,131 کے مطابق فوج امن و امان قائم رکھنے یا لوگوں کی حفاظت کے پیش نظر طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں. ان لوگوں کو گرفتار کرسکتے ہیں جو نقص عام کا باعث بنیں۔سیکشن 131 اے کے مطابق صوبائی گورنمنٹ خود سے بھی فوج کو بلا سکتی ہے وفاقی گورنمنٹ کی اجازت کے ساتھ،کن صورتوں میں وفاقی و صوبائی گورنمنٹ فوج کو بلاتی ہیں؟جب امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہو۔جب لوگوں کے جان و مال کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوجب ناگہانی صورتحال آجائےجیسا کے زلزلہ سیلاب اور اب کرونا آیا ہوا فوج کوبلانےاورواپس بھیجنے کا ٹائم فریم وفاقی یا صوبائی گورنمنٹ طے کرتی ہے.جب گورنمنٹ کو لگے حالات نارمل ہیں تو وہ فوج کو واپس بھیج سکتے ہیں۔ -

الہ دین پارک کی نیلامی، دو ارب سے ذائد ٹیکس ہڑپ
الہ دین پارک دو ارب سے ذائد ٹیکس ہڑپ کرگٸی
بلدیہ عظمی کراچی (KMC)کی ناہلی غفلت اور لاپروہی کے با عث الہ دین پارک انتظامیہ نے ایک الگ ریاست قائم کرلیا ہے،کسی اداروں کے عملے کو داخلہ پر پابندی ی عائدکررکھا ہے، KMC،ایکسائز، پراپرٹی و تفریحی ٹیکس، انکم ٹیکس کے ساتھ KWSBکے دو ارب سے ذائد فنڈز ہڑپ کرچکا ہے 52ایکٹراراضی کے ساتھ 13ایکڑ اراضی پر قبضہ کررکھا ہے،جن میں صرف KMCکے ایک ارب سے ذائد فنڈز موجود ہیں پانی اور سیوریج کا آج تک ٹیکس ادائیگی نہیں کیا جبکہ پارک میں چار،چھ انچ قطر کے اٹھ سے ذائد پانی کے کنکشن موجود ہے KWSBکا عملہ پارک میں داخل نہیں ہوسکتا، اگر 25سالوں کا ٹیکس جمع کیا جائے تو 60کروڑ روپے وصول ہوسکتا ہے، ایس طرح ایکسائز اینڈ ٹیکس کے کئی مقدمات عدالتوں میں زیر التواء انکم ٹیکس بھی کئی سالوں سے طوری جاری ہے، دونجی کلب کے نام پر شہریوں سے لوٹ مار سلسلہ بھی عروج پر ہے،مصدق ذرائع کے مطابق الہ دین امیوزیم پارک میں ایک بار پھر رشوت، کمیشن،کیک بیک اور چمک کے ذریعہ شمسی اینڈ کمپنی کے مالک ابرہیم شمسی سرگرم عمل ہے، ایڈمنسٹریٹر الہ دین پارک کے انتظامیہ نے KMC اور سندھ حکومت سے براہ راست ملاقاتیں شروع کررکھی اور پارک کی اراضی کے نیلامی کو روکنے پر بضد ہے براہ راست دوبارہ کنٹرول اور الاٹمنٹ حاصل کے لئے کوشش تیز کردی ہے، KMC کے افسران اور دیگر عملے بھی نیلام عام روکنے میں سرجوڑ لیا اور اندورن خانہ الہ دین پارکس کی نیلام عام میں رکاوٹ پید اکیا جائیگا دلچسپ امریہ ہے کہ نئے SLGO2013کے تحت KMCکو ایک سال سے ذائد کسی اراضی کا الاٹ نہیں کرسکتی، پہلے معاہدہ میں KMCکو نگرانی کے بجائے الہ دین پارک انتظامیہ کے ہاتھ یرغمال بنادیا تھا تجارتی چلنے والے تمام کاروبار میں رکاوٹ پیدا کیا جارہا ہے،KMCنے 22اپریل 1996ء میں 25سالہ ایک معاہدہ کے تحت 52 ایکڑ شمسی اینڈ کمپنی کو زمین آلا ٹ کی تھی۔

تفریحی سہولیات کے ساتھ تجارتی بنیاد پر پورے پارکس کو آمدن کا ذریعہ بنادیا گیا ہے ایک الادین پارکس کی انتظامیہ نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو کلب بنائیں، شادی لان، 480دکانیں، اندروں خانے 10فیصد سے بڑھ کر 70فیصد رقبہ کو کمرشل کرلیا ہے آمدن میں KMCافسران اپنا حصہ وصول کرکے اپنی آنکھیں اور کان بند اور زبان خاموش ہوگیا ہے،KMCکے ایڈمنسٹریٹر ز اور منتخب میئر نے معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی پر نہ تو ایکشن لیا اور نہ ہی الہ دین اتظامیہ پر کسی قسم کا دباو بڑھایا، بلکہ داخلہ فیس، جھولوں اور دیگر کی فیس بھی کسی اجازت کے بغیر بڑھاتے رہے ہیں اس بارے میں سندھ ہائی کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل بینچ جسٹس عمر خان سعادت اور جسٹس ذوالفقار احمد خان نے تاریخی فیصلہ دیا اور الہ دین پارک کی انتظامہ کے تین مختلف مقدمات پر حکم امتناعی خارج کیااور الہ دین پارکس کا انتظامKMCکے حوالے کرتے ہوئے ایسے از نو نیلام عام کرنے کی ہدایت کردیا، عدالت میں جنرل سندھ عبدالجلیل زبیری ایڈووکیٹ،الادین پارک کاوکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ،KMCکے پینل ایڈووکیٹ حسن عابدی ایڈووکیٹ پیش ہوئے تھے،سو ل پیٹشن نمبر2651/2020کا حتمی فیصلہ سنادیا ہے اور الادین پارک کی 25سالہ معاہدہ بھی ختم جس سے KMCکی آمدن بڑھنے کی توقع تھی اورماہ اپریل کی 22تاریخ میں مکمل طور پر انتظامی کنٹرول KMCکے حوالے کیا جانا تھا۔11مارچ کو ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد کے دستخط سے جاری ہونے والے حکمنامہ میں میٹروپولیٹن کمشنر کی سربراہی میں الہ دین پارکس کے مسئلہ پر ایک کمیٹی تشکیل دیا تھا ۔کمیٹی میں اسٹیٹ، فنانس،قانون، لینڈ اور اسپورٹس کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرز پر مشتمل ہیں اس حکمنامہ کو عدالت میں الادین پارک نے چیلنج کرتے ہوئے حکم امتنائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی اورKMCافسران پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت 20اپریل سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دیلائل مکمل ہوگئے ۔

عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے آئندہ چند روز میں فیصلے ہونے کی توقع ہے،،عدالت میں فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے KMCکے خلاف یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نئے نیلام عام کے دوران امیوزیم پارکس تمام اراضی کو گذشتہ معاہدہ کے تحت شمسی اینڈ کمپنی کوترجہی دینے چاہیے تھاپارکس کو بنانے اور اس کے ترقی کے ساتھ ساتھ کروڑ روپے سرمایہ کاری کیا ہے اور نیلام عام کے دوران سب سے ذائد بولی دینے والے پہلے نمبر شمسی اینڈ کمپنی کا ہوگااگر بولی میں حصہ نہ لیئے تو دوسرے نمبر آنے والی فرم کوموقع دیا جائے گایااگر بولی میں سب سے کامیاب ہونے والے کے مساوی معاہدہ اور اراضی کی لیز دیا جائیگا لیکن KMCنے ایک حکمنامہ کے تحت پارکس کی نیلام عام کی شرائط اور معاہدہ کی دستاویزات تیار کرنے کے لئے 11مارچ کو ایک کمیٹی تشکیل دیدی تھی واضح رہے کہ الادین پارک کی اراضی تفریحی اور عوامی سہولیات کے برعکس تجارتی بنیادوں پر چلارہے تھے،10فیصد تجارتی بنیاد پر دینے کی شرائط پر عملدآمدکے بجائے 70فیصد جگہوں پر دوکانوں کی تعمیرات اور غیر قانونی پتھاریں، کین،سڑکیں، فٹ پاتھیں، راہداری اور گزاروں پر قائم کردیا گیا ہے پارکس کے اندر اکثریت دکانیں غیر قانونی طور پر سفاری پارکس اور KMCکے افسران کے نام ہے یا ان کے قریبی عزیزوں رشتہ داروں کے نام پر کرنے کی تصدیق پارکس انتظامیہ نے کیاہے تاہم انتظامیہ نے بھی کمرشل دکانین سفاری پارک کے ڈائریکٹرز کی مشاورات سے کیا گیا ہے باہمی تعاون ہونے کی وجہ سفاری پارک انتظامیہ نے کاروائی نہیں کیا تجارتی سہولیات کے باعث فیملی کو جگہ تنگ پڑ گئی ہے، نہ کسی ایس او پی پر عمل ہورہا ہے اور حفاظتی انتظامات بھی ناکافی ہے،اور انسانی جانیں کے نقصان، حادثات یا ناگہانی واقعہ رونما ہوسکتا ہے،گذشتہ دس سالوں کے دوران،الادین پارکس کی انتظامیہ نے ان دکانوں کو نظرانداز کیا۔یہ عمل آؤٹ لیٹ مالکان سے سائٹ کے عہد یداروں کے غیر قانونی مطالبات پر پابندی عائد کرنے کے بعد ممکن ہوا ہے۔ -

کراچی ساوتھ انوسٹگیشن پولیس کی بڑی کارروائی
کراچی ساوتھ انوسٹگیشن پولیس کی بڑی کارروائی. ڈکیتی مزاحمت پر شہری کے قتل میں ملوث ملزم سمیر احمد گرفتار، گرفتار ملزم کا تعلق لیاری گینگ وار سے ہے، ملزم سمیر کیخلاف کلاکوٹ، رسالہ تھانہ میں 4 مقدمات درج ہیں ملزم سمیر کا ساتھی چند روز پہلے گرفتار کیاتھا، گرفتار ملزم غلام فرید جیل میں موجود ہے، ملزم غلام فرید بھی 10 مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا، ملزمان نے 11 نومبر کو ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کردی تھی، ڈکیتی مزاحمت پر شہری عمران جان کی بازی ہار گیا تھا، ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج واضع طور پر دیکھا جس کیا ہے، ملزمان سے چھینا ہوا موبائل فون، پستول، موٹرسائیکل ملی ہے، ایس پی انوسٹگیشن ساوتھ کیس کی بہتر تفیش کیلئے شناخت پریڈ کرائی جائےگی.
-

موبائل مارکیٹ میں ہونے والے جھگڑے پر ایم این اے پی ٹی آئی اسلم خان کا موقف سامنے آگیا
موبائل مارکیٹ میں ہونے والے جھگڑے پر ایم این اے پی ٹی آئی اسلم خان کا موقف سامنے آگیا انگلینڈ سے آئے بیٹے کو دکاندار نے دھوکے سے موبائل فون فروخت کیا، دکاندار کا کہنا تھا موبائل فون پی ٹی اے سے تصدیق شدہ ہے، موبائل فون چیک کیا گیا تو پی ٹی اے سے تصدیق شدہ نہ تھا، دکاندار سے موبائل فون واپس کرنے کی گزارش کی تو گالم گلوچ پر اتر آیا، دکاندار کی جانب سے گالم گلوچ کرنے پر جھگڑا ہوا، ساٹھ سے ستر لوگوں نے مجھے بیٹے کو اور گارڈ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، میرا بیٹا اور گاڑ شدید زخمی حالت ہوئے، واقعے کی ایف آئی آر پریڈی تھانے میں درج کرادی گئی ہے، پولیس نے دکاندار کو گرفتار کر لیا ہے.
-

کراچی میں دکانیں دن 12 سے رات 12 بجے تک کھولی جائیں، تاجر رہنما الیاس میمن
کراچی میں دکانیں دن 12 سے رات 12 بجے تک کھولی جائیں۔
کراچی کے تاجر رہنما الیاس میمن نے کہا ہے کہ شہر بھر میں دکانیں دن 12 سے رات 12 بجے تک کھولی جائیں، اگر حکومت نے لاک ڈاؤن نافذ کیا تو دما دم مست قلندر ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق تاجر رہنما اور طارق روڈ ٹریڈرز کے صدر الیاس میمن نے کہا کہ آج کل عید کا سیزن ہے جو تاجر کسی صورت برباد نہیں کرنے دیں گے۔ حکومت گزشتہ سال کی طرح تاجروں کا عید کا سیزن برباد کرنے کے درپے ہے۔
گفتگو کے دوران تاجر رہنما الیاس میمن نے کہا کہ صبح 6 بجے نہ گاہک آتے ہیں نہ دکاندار دکانیں کھولیں گے۔ دن 12 بجے سے رات 12 تک دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ سندھ حکومت کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ پورے شہر کے بازار کھلے ہیں۔ صرف اولڈ سٹی ایریاز پر پابندی ہے۔
سندھ حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے تاجر رہنما الیاس میمن نے کہا کہ لیاقت آباد، طارق روڈ، بابر مارکیٹ اور صدر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ کیا باقی مارکیٹس میں یا صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک کورونا نہیں آئے گا؟کیا وجہ ہے کہ سندھ حکومت تاجروں کو کاروبار نہیں کرنے دیتی؟صدر طارق روڈ ٹریڈرز الیاس میمن نے کہا کہ تاجروں نے گزشتہ برس لاک ڈاؤن کے دوران کروڑوں روپے کا نقصان اٹھایا۔ رواں برس بینکوں سے قرض اور کریڈٹ پر سامان لے کر عید کا سیزن شروع کیا تھا کہ پھر لاک ڈاؤن شروع کردیا گیا۔ تاجروں کی ایک نہیں سنی جارہی۔تاجر رہنما الیاس میمن نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ تاجروں کو جان بوجھ کر دیوار سے لگایا اور سوتیلی ماں کا سا سلوک کیا جارہا ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ 12 بجے دن سے لے کر 12 بجے شب تک کاروبار کی اجازت دی جائے۔ بصورتِ دیگر ہم سڑکوں پر آجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومتوں میں عوام اور تاجروں کی بات سنی جاتی ہے اور ہم وہ تاجر ہیں جو سندھ اور پاکستان کو کروڑوں اربوں بلکہ کھربوں روپے کا ٹیکس دیتے ہیں۔ اگر ہمارے ساتھ بھی یہ سلوک کیا گیا تو بھرپور احتجاج کریں گے۔ تاجروں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ -

تحریک انصاف کےایم این اے نے مارکیٹ میں لڑائی شروع کردی ، وجہ کیا تھی
تحریک انصاف کےایم این اے نے مارکیٹ میں لڑائی شروع کردی ، وجہ کیا تھی
باغی ٹی وی : ایس پی صدرزاہدہ پروین کے مطابق کراچی،تحریک انصاف کےایم این اےاسلم خان کی موبائل مارکیٹ میں لڑائی، اسلم خان موبائل تبدیل کرانےمارکیٹ آئےتھے،.اسلم خان کابیٹابھی اُن کےہمراہ تھا،پہلےبھی ان کےایک دوموبائل ان کےخراب نکلےتھے،یانہیں چل رہے تھے.فوٹیج میں جونظرآرہاہے،ہاتھاپائی کاآغازایم این اےکی طرف سےہواہے،ہاتھاپائی کےبعدلڑائی کافی شدت اختیارکرگئی،
مارکیٹ والوں کی طرف سے ایف آئی آردرج کی جارہی ہے،موبائل مارکیٹ میں ہونےوالےجھگڑےپرایم این اےپی ٹی آئی اسلم خان کاموقف سامنے آگیا. انگلینڈسےآئےبیٹےکو3دن پہلےدکاندارنےدھوکےسےموبائل فون فروخت کیا،دکاندارکاکہناتھاموبائل فون پی ٹی اےسےتصدیق شدہ ہے.موبائل فون چیک کیاگیاتوپی ٹی اےسےتصدیق شدہ نہ تھا،فون بندہوگیا.3دفعہ جانےکےبعداُس نےکہاآپ میرےساتھ چلیں،میں گیامسئلہ حل کرنےکی کوشش کی،کہافون واپس کرلواورپیسےدےدو،باتوں باتوں میں انہوں نےمجھےگالی دی،گالی دینےکےبعدوہ معاملہ بڑھ گیا.مجھے اورمیرےبیٹےکوپیچھےسے3،چارلوگوں نےمارناشروع کردیا.
ایک باپ کیسےبرداشت کرسکتاہےکہ اُس کےبیٹےکوماراجائے،ایک گن مین تھاجومیرےبیٹےکےساتھ ہوتاہے،سندھ پولیس نےمجھےسیکیورٹی نہیں دےرکھی ہے.سندھ پولیس نےسیکیورٹی دےرکھی ہوتی توشایدواقعہ نہیں ہوتا .مجھے،میرے بیٹے اُس کےدوست اورگارڈکو100لوگوں نےمارا،میں نےپولیس کوکال کی پولیس وقت پرنہیں پہنچی،پولیس آئی کنٹرول کیااورمقدمہ درج ہوگیا
-

پاسبان کراچی کےوفد کی ڈی آئی جی ٹریفک سے ملاقات ،سڑکوں پر ٹریفک کی بندش دور کرنے کی درخواست
پاسبان کراچی کےوفد کی ڈی آئی جی ٹریفک سے ملاقات
وفد کا کہنا تھا کہ ٹریفک کے مسائل حل کرنے اور روانی بہتر بنانے کے لئے ٹریفک پولیس موثرکردار ادا کرے۔ سڑکوں اور اہم شاہراہوں پرٹریفک جام ہونے سے وارداتوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ٹریفک جام کے دوران لوٹ مار اورڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل کی وارداتوں پر قابو پایا جائے کراچی کی چار مصروف سڑکوں کی بندش فوری ختم کر کے عوام کو سفری صعوبتوں سے نجات دلائی جائے.پاسبان نے ڈی آئی جی ٹریفک کو پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا.
پاسبان وفد کی ٹریفک پولیس ڈیپارٹمنٹ سے ملاقات، ڈی آئی جی ٹریفک پولیس نےہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری سردار ذوالفقار نے کہا ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک جام روکنے، روانی بہتر بنانے اور اس دوران لوٹ مار کی واردارتوں پر قابو پانے کے لئے پولیس و ٹریفک پولیس موثرکردار ادا کرے۔ سڑکوں اور شاہراہوں پرٹریفک جام ہونے سے وارداتوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔کراچی کی چار اہم اورمصروف ترین سڑکوں کی بندش فوری ختم کر کے عوام کو سفری صعوبتوں سے نجات دلائی جائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ وہ پاسبان وفد کے ہمراہ ڈی آئی جی ٹریفک پولیس ہیڈ کوارٹرز گارڈن کی دعوت پر دی جانے والی میٹنگ اور ٹریفک پولیس کنٹرول روم کے دورہ کے موقعہ پر گفتگو کر رہے تھے۔ پاسبان وفد میں ڈسٹرکٹ ویسٹ اورپاسبان وکلاء فورم کراچی کے صدر خالد صدیقی ایڈووکیٹ، نائب صدر ویسٹ سجاول خان مروت، میڈیا کوآرڈینیٹر عزیز فاطمہ اور پریس سیکریٹری محمود خان تاجک بھی موجود تھے۔ پی ڈی پی کراچی کے جنرل سیکریٹری سردار ذوالفقار نے ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کو بتایا کہ میر کرم علی تالپور روڈ، آواری ٹاور ک ی طرف جانے والے فاطمہ جناح روڈ، کمال اتاترک روڈ، ایس ایم لاء کالج سے جنگ پریس تک جانے والا روڈ، صوبائی اسمبلی والے روڈ اور کورٹ روڈ کو غیر قانونی طور پر بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے دیگر سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام ہوتا ہے۔ عوام کو کافی دیر تک ٹریفک جام میں پھنسے رہنے کی وجہ سے وقت اور پیٹرول کے زیاں کا سامنا ہے۔ مذکورہ بالا سڑکوں کی بندش کے خلاف پاسبان نے عدالت سے بھی رجوع کیا ہواہے۔ سڑکوں کی بندش پر بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک پولیس اقبال دارا نے کہا کہ یہ تمام سڑکیں ٹریفک پولیس کی جانب سے نہیں بلکہ ٹریفک انجینئرنگ بیورو، سندھ حکومت اور انتظامی کی جانب سے بند کی گئی ہیں تاکہ شاہراہ فیصل پر ٹریفک کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔ پاسبان نے ڈی آئی جی ٹریفک پولیس سے احتجاج کیا کہ شاہراہ فیصل پر وی آئی پی موومنٹ کو ترجیح دے کر عام شہریوں کو ٹریفک جام میں پھنسا دینا بد ترین حق تلفی ہے۔ ڈی آئی جی ٹرفک پولیس کراچی اقبال دارا نے سڑکوں کی بندش ختم کرنے اور ٹریفک کے نظام کی بہتری کے لئے پاسبان کے وفد کو اپنی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ دریں اثناء ٹریفک پولیس کو پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کو درپیش مختلف مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا جس میں خواتین کمپارٹمنٹ میں مرد مسافروں کا سفر کرنا،سگریٹ نوشی، خواتین کے ساتھ ہراسگی کے معاملات،اوور اسپیڈنگ اور خواتین کے لئے اسٹاپ پر بسوں اور کوچوں کا نہ روکنا شامل تھا جس کے حل کے لئے ڈی آئی جی ٹریفک پولیس نے فوری اپنے عملہ کو احکامات جاری کئے۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کو سفرکے دوران ممکنہ مسائل سے نمٹنے اور24گھنٹہ شکایات کے ازالے کے لئے ٹول فری نمبر 1915 متعارف کروایا گیا ہے ۔جس کے ذریعہ خواتین فوری اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار حادثہ یا کوئی بھی شکایت درج کرا سکتی ہیں اور ان کی شکایت پر فوری کاروائی کی جائے گی۔ جبکہ ٹریفک پولیس کے فیس بک اور ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر بھی شکایات درج کرائی جاسکتی ہیں۔ بعد ازاں ٹریفک پولیس کے عملہ نے پاسبان کے وفد کو شہر میں سرکوں کی بندش اور ٹریفک کے مسائل سے نمٹنے کے لئے موجود خصوصی کنٹرول روم اور FM 886کا دورہ بھی کروایا جہاں جمعرات کے روز شام 4سے5 بجے کے دوران ڈی آئی جی ٹریفک پولیس ٹریفک کے مسائل سے متعلق عوام کی شکایات براہ راست سنتے ہیں۔
