Baaghi TV

Category: کراچی

  • غریبوں کے لیے صرف 250 روپے میں سوٹ سینے والا درزی

    غریبوں کے لیے صرف 250 روپے میں سوٹ سینے والا درزی

    کراچی: درزیوں نے سلائی کی اجرت میں مزید 200 روپے کا اضافہ کردیا اور اب مردانہ شلوار قیمص کی سلائی 800 سے بڑھا کر ایک ہزار روپے وصول کی جارہی ہے لیکن شہر میں ایک ایسا درزی بھی موجود ہے جو غریبوں کے لیے ملبوسات صرف 250 روپے میں سیتا ہے۔ کینٹ اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر ٹیلرنگ شاپ چلانے والے ٹیلر ماسٹر ضیاء الحق کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔ ماسٹر ضیاء الحق کم عمری میں پولیو کی وجہ سے دونوں پیروں سے معذور ہوگئے تھے، وہ 1990ء سے کراچی میں مقیم ہیں اور انہوں ںے معاشرے پر بوجھ بنے بغیر محنت مزدوری کرکے روزگار کمایا۔ ضیاء الحق ہاتھ سے چلنے والی سلائی مشین چلا کر کپڑے سیتے ہیں۔ ان کے گاہکوں میں کینٹ اسٹیشن پر مزدوری کرنے والے قلی، ہوٹلوں میں کام کرنے والے ویٹر، رکشا ٹیکسی ڈرائیور اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے دیگر مزدور شامل ہیں۔ ضیاء الحق عام دنوں میں غریب مزدوروں کے کپڑوں کی مرمت کرکے روزگار کماتے ہیں، زیادہ تر غریب طبقہ کہیں سے ملنے والے کپڑے اپنے ناپ کے مطابق کرنے کے لیے ضیاء الحق کی خدمات حاصل کرتا ہے اور ضیاء الحق کوئی اجرت طے کیے بغیر اور اکثر اوقات بغیر اجرت کے بھی سلائی کردیتے ہیں۔ زیادہ تر افراد ان سے اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں کی سلائی بھی کرواتے ہیں۔ کوئی پھٹی ہوئی جیب سلواتا ہے تو کوئی پھٹا ہواکالر تبدیل کروانے آتا ہے اور ضیاء الحق مسکراہٹ سجائے سب کا کام کردیتے ہیں۔

    ضیاء الحق کا کہنا ہے کہ وہ دکان کرائے پر حاصل کرنے کے وسائل نہیں رکھتے اس لیے دو سال سے کینٹ اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر ہی ٹیلرنگ شاپ بنارکھی ہے، یہ فٹ پاتھ ہی ان کی دکان اور ان کا گھر ہے جہاں وہ سوتے بھی ہیں آمد و رفت کے لیے ہاتھ سے چلانے والی تین پہیوں کی سائیکل استعمال کرتے ہیں۔ ضیاء الحق نے بتایا کہ وہ مزدوروں کے پھٹے لباس کی سلائی کرکے یا آلٹریشن کرکے یومیہ پانچ چھ سو روپے کمالیتے ہیں، عموماً نئے ملبوسات کی سلائی نہیں آتی لیکن بعض اوقات کوئی نیا سوٹ سلنے آتا ہے تو وہ بھی کم سے کم پیسوں میں تیار کرکے دے دیتے ہیں۔ ماسٹر ضیاء الحق سلائی میں مہارت رکھتے ہیں لیکن نئے ملبوسات میں کاج اوورلاک، استری وغیرہ کے لیے آنا جانا نہیں کرسکتے اس لیے نئے ملبوسات کم ہی تیار کرتے ہیں، اس کے بجائے ایک اور ٹیلر 600 روپے سلائی میں سوٹ بک کرکے ان سے سلواتا ہے جو انہیں فی سوٹ 200 سے 250 روپے ادا کرتا ہے۔ ماسٹر ضیاء الحق اب تک رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہوئے۔ ماسٹر ضیاء الحق نے بتایا کہ ریلوے کا ایک ملازم جو فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہوئے افراد کو تنگ کرتا ہے انہیں بھی اکثر فٹ پاتھ سے ٹیلرنگ کی دکان سمیٹنے کے لیے دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ ماسٹر ضیاء الحق نے ریلوے کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ فٹ پاتھوں پر روزگار کمانے والوں کو تنگ کرنے والے ایسے اہل کاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ ان جیسے افراد مین سڑک یا ریلوے اسٹیشن کے اردگر د نہیں بلکہ ایک پل کے سائے میں چھوٹی سی فٹ پاتھ پر گوشہ نشین ہیں جو کسی کی آمدورفت میں رکاوٹ بھی نہیں ڈالتے۔

  • کراچی سیف سٹی منصوبہ،30 ارب کے 10 ہزار کیمرے لگانے کی منظوری

    کراچی سیف سٹی منصوبہ،30 ارب کے 10 ہزار کیمرے لگانے کی منظوری

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 30 ارب روپے کی لاگت سے شہر قائد کیلئے سیف سٹی منصوبہ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔جس کے تحت شہر میں 3 مراحل میں 10 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے اور آئندہ مالی سال 22-2021 سے شروع ہونے والے ہر مرحلے کو 12 ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے یہ فیصلہ سیف سٹی پروجیکٹ کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وزیر آئی ٹی نواب تیمور تالپور، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ عثمان چاچڑ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ، انچارج سیف سٹی پروجیکٹ عمران یعقوب منہاس، صوبائی این آر ٹی سی کے سربراہ بریگیڈ (ر) نیئر، جی ایم این آر ٹی سی سہیل انجم اور دیگرنے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ این آر ٹی سی نے ٹیکنیکل اور مالی تجاویز پیش کی ہیں، جن کی جانچ کمیٹی کے ذریعے اندازہ لگانے ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے این آر ٹی سی تجویز کا جائزہ لینے کیلئے سیف سٹی پروجیکٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی ای او) کے تحت 9 رکنی ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔انہوں نے مقدس حیدر کو بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور محترمہ تبسم عباسی کو بطور چیف ٹیکنیکل افسر (سی ٹی او) چارج دینے کی تجویز کو بھی منظور کرلیا۔جانچ کمیٹی کیلئے سی ای او اور ٹیکنیکل افسران کو نوٹیفیکیشن جاری کیے جائیں گے، ٹیکنکل کمیٹی پی سی 1 دستاویزات کے مطابق تکنیکی اور مالی تجویز کا جائزہ لے گی اور محکمہ پی اینڈ ڈی کے مشاورت سے این آر ٹی سی کی تجویز کردہ منصوبے کے مراحل کا بھی جائزہ لے گی۔ٹیکنکل کمیٹی اس کام کو انجام دینے سمیت منصوبے پر عملدرآمد کی مجموعی سرگرمیوں کی بھی نگرانی کرے گی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے اس پر عملدرآمد کے منصوبے کی منظوری دی، جس کے تحت 3 مرحلوں میں 10 ہزار کیمرے لگائے جائیں گے اور ہر مرحلے کو 12 ماہ میں عرصے میں مکمل کیا جائے گا۔پہلے مرحلے میں شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں اور ضلع جنوبی میں 9اعشاریہ9 ارب روپے کی لاگت سے کیمرے لگائے جائیں گے۔دوسرے مرحلے میں 9اعشاریہ8 ارب روپے کی لاگت سے 3 اضلاع میں کیمرے لگائے جائیں گے، جن کا انتخاب بعد میں کیا جائے گا۔تیسرے اور اختتامی مرحلے میں 9اعشاریہ7 ارب روپے کی لاگت سے مزید3 اضلاع میں کیمرے لگائے جائیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ آئندہ مالی سال میں پہلے مرحلے کیلئے 10 ارب روپے کا بندوبست کریں۔انہوں نے کہا کہ میں آئندہ مالی سال 22-2021 کے آغاز میں اس منصوبے کو شروع کرنا چاہتا ہوں اور چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم کو بھی ہدایت کی کہ وہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک تمام متعلقہ فورمز سے پی سی ون کی منظوری شروع کریں۔مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ 8000 کیمرے 12 میگاپگسل جبکہ 2000 کیمرا 8 میگا پگسل کے ہوں گے، اسی طرح 2000 سے زائد مقامات پر شمسی توانائی سے بیک اپ کے ساتھ 10 ہزار کیمرے لگائے جائیں گے ان کی مانیٹرنگ کیلئے ایک سنٹرل، ایک علاقائی کمانڈ سنٹر اور ڈیٹا بیس مراکز ہوں گے۔مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ اس وقت شہر میں 538 مقامات پر 2196 کیمرے لگائے گئے ہیں ان میں سے 1201 کے ایم سی ، 198 محکمہ آئی ٹی اور 155 سندھ پولیس کے ہیں۔

  • حلقہ این اے 249 کا ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کے لیے ایم کیو ایم نے درخواست جمع کرادی

    حلقہ این اے 249 کا ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کے لیے ایم کیو ایم نے درخواست جمع کرادی

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کا ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کے لیے ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے ایک اوردرخواست جمع کرادی گئی ہے،ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواستوں میں موقف اپنایاگیا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں کرونا کی تیسری لہر میں مثبت کیسز کی شرح 12فیصد تک ہے جبکہ حلقے میں این سی او سی کی کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی بھی سامنے آرہی ہے۔
    این اے 249 کے ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کے لیے دو علیحدہ درخواستیں دی گئیں ہیں۔پہلی درخواست ایم کیوایم امیدوار حافظ مرسلین نے ریٹرننگ آفیسر کو دی جبکہ دوسری درخواست ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو ارسال کی ہے، دونوں درخواستوں میں یکساں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کرونا ایس اوپیز کے ساتھ گھر گھر انتخابی مہم چلانا مشکل ہے، ضمنی الیکشن کی انتخاب میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے، این اے 249 پر ضمنی الیکشن کرونا صورتحال کی بہتری تک ملتوی کئے جائیں اور الیکشن کمیشن جلد اس تناظر میں فیصلہ کرے۔
    واضح رہے کہ گذشتہ روز رکن سندھ اسمبلی و تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کی جانب سے بھی الیکشن کمیشن کو کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کا ضمنی الیکشن جمعرات کے بجائے اتوار کو کروانے کیلئے درخواست جمع کرائی گئی تھی جبکہ کشمیرکمیونٹی نامی ایک تنظیم کی جانب سے ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی ہے۔

  • جاوید آفریدی کا سستی ترین الیکٹرک گاڑی متعارف کرانے کااعلان

    جاوید آفریدی کا سستی ترین الیکٹرک گاڑی متعارف کرانے کااعلان

    پاکستان کے معروف بزنس مین جاوید آفریدی نے ایک ایسی الیکٹرک گاڑی متعارف کرانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس کی قیمت 10 لاکھ روپے سے بھی کم ہوگی۔
    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر جاوید آفریدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ پاکستانیوں کو سستی ترین الیکٹرک گاڑیاں دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ٹوئٹر پر جاوید آفریدی نے چین کی ایک منی الیکٹرک کار کی وڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وولنگ منی الیکٹرک وہیکل پاکستانی مارکیٹ میں 10 لاکھ روپے سے کم میں دستیاب ہوگا۔وولنگ منی الیکٹرک وہیکل گاڑیاں چین کی سرکاری کمپنی سیاک موٹرز بناتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ چینی گاڑیوں نے امریکی کمپنی ٹیسلا کی مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کو فروخت میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

  • ے یو آئی ضلع غربی کے تحت 300 سے زائد مقامات پر نماز تراویح کا اہتمام

    ے یو آئی ضلع غربی کے تحت 300 سے زائد مقامات پر نماز تراویح کا اہتمام

    ے یو آئی ضلع غربی کے تحت ضلع بھر میں 300 سے زائد مقامات پرنمازتراویح کا اہتمام کیا جارہاہے،جے یوآئی ضلع غربی کراچی کے جنرل سیکرٹری مولانافخرالدین رازی مدرسہ حمادیہ مظہرالعلوم اتحاد ٹاؤن میں27 روزہ نماز تراویح اور سیکرٹری اطلاعات حافظ حبیب الرحمن خاطرفقیرکالونی میں 10 روزہ نماز تراویح میں قرآن کریم سنا رہے ہیں، ضلعی مجلس عاملہ ،شوری،مجلس عمومی اور پی ایس و یوسیز کے حفاظ وعلماکرام ارکان بھی اپنے مساجد ومدارس اورنجی مقامات پرتراویح میں قرآن کریم سنانے کا اہتمام کررہے ہیں،مولانافخرالدین رازی کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کو قرآن کریم سے گہری مناسبت ہے،قرآن پر ایمان اسی وقت مفید اور معنی خیز ہوسکتا ہے، جب ہم قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہیں، قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے اور اس کی ہدایت کے ذریعے اپنے معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں،قرآن نے اس امت کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بھی صورت گری کی ہے،قرآن پر ایمان اسی وقت مفید اور معنی خیز ہوسکتا ہے، جب ہم قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہیں۔
    قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے اور اس کی ہدایت کے ذریعے اپنے معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں,قرآن نے اس امت کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بھی صورت گری کی ہے، اکابر کا قرآن کریم سے عشق ہم سے تقاضا کررہا ہے کہ ہم بھی قرآن کریم سے اپنے لگا میں اضافہ کریں اور قرآن کریم کی تلاوت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، اللہ تعالی عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔

  • شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات تشویشناک ہیں :  رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر

    شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات تشویشناک ہیں : رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء و رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے کہا کہ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات تشویشناک ہیں بڑی گاڑیوں میں سوار ڈرائیورز کی غفلت چھوٹی گاڑیوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہورہی ہے، کراچی میں سندھ حکومت نے 13 سالوں میں عوام کیلئے کوئی سفری سہولت فراہم نہیں کی جس کے باعث عوام پرائیویٹ گاڑیوں میں سفر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، حادثات کے نتیجے میں سندھ حکومت متاثرہ خاندانوں کی مالی مدد تو دور کی بات ہے انہیں ہسپتال کی سہولیات تک فراہم نہیں کرسکتی، ٹریفک حادثات کے متاثرین سڑک پر تڑپتے رہیں ان متاثرین کیلئے کوئی سرکاری ایمبولنس تک فراہم نہیں کی جاتی، کراچی شہر فلاحی اداروں کی نسبت و کاوشوں سے چل رہا ہے پی ٹی آئی رکن ِ اسمبلی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ٹریفک حادثات کو رکنے کیلئے سندھ حکومت سخت اقدامات کرے، بڑے ٹرالر میں سوار ڈرائیورز سے ان کے ڈرائیونگ لائسنس طلب کیے جائیں ڈرائیورز کی خصوصی ٹریننگ کا عمل سرکاری سطح پر شروع کیا جائے ، شہرمیں حادثات کا بڑھتے ہوئے رجحان کے پیچھے سندھ حکومت کا عوام کو ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کروانے کی وجہ سے ہے شہر میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کے لیے خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں عوام کی جانیں قیمتی ہیں، حکومتی غفلت کے باعث قیمتی جانوں کا ضائع قبول نہیں کیا جائیگا۔

  • بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں ہر قیمت پر پانی کی فراہمی کو ممکن بناؤں گا :  ڈاکٹر مفتاح اسماعیل

    بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں ہر قیمت پر پانی کی فراہمی کو ممکن بناؤں گا : ڈاکٹر مفتاح اسماعیل

    میاں محمد نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں کراچی کے پانی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اپنے حصے کی 12 ارب 50 کروڑ کی رقم سندھ حکومت کو ادا کی لیکن افسوس کہ بلدیہ ٹان سمیت پورے کراچی کے پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بنایا جانے والا K-4 کا منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور NA-249 کے امیدوار ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے بلدیہ ٹاؤن کے علاقہ، بجلی نگر، یونین کونسل نمبر 23 میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    انہوں نے کہا کہ پانی زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت ہے لیکن افسوس کہ بلدیہ ٹان کے عوام کو اس بنیادی ضرورت سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں رہنے والے اوسطا 5 ہزار روپے مہینہ صرف پانی کی خریداری پر خرچ کرتے ہیں جو سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔
    ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میں کامیابی کے حصول کے بعد انشااللہ تعالی آپ کے علاقے میں ہر قیمت پر پانی کی فراہمی کو ممکن بناں گا۔
    انہوں نے کہا کہ 29 اپریل کراچی کے وسائل لوٹنے والوں کا یومِ احتساب کا دن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ ٹاؤن کو صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر تمام سہولیات کے لیے آپ نے شیر کے نشان پر مہر لگا کر اسے کامیاب کروانا ہوگا۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ کرپٹ اور نااہل حکمرانوں سے نجات چاہتے ہیں تو اس روز بزرگوں اور خواتین کو بھی اپنے ہمراہ پولنگ اسٹیشن پر لے کر جانا ہوگا۔

  • کراچی والوں کےلئے بڑی خبر، عدالت نے گجر اور اورنگی نالے پر قائم لیز مکانات نہ توڑنے کا حکم دے دیا

    کراچی والوں کےلئے بڑی خبر، عدالت نے گجر اور اورنگی نالے پر قائم لیز مکانات نہ توڑنے کا حکم دے دیا

    کراچی : عدالت نے نالہ تجاوزات کے خلاف جاری مہم میں تجاوزات کی آڑ میں لیز مکانات توڑنے پر حکم امتناعی میں توسیع کردی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جب تک مقدمات زیر سماعت ہیں تب تک نالوں کے گرد لیز مکانات نہ توڑیں جائیں۔
    تفصیلات کے مطابق اینٹی انکروچمنٹ ٹریبونل میں تجاوزات کی آڑ میں لیز مکانات کو مسمار کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ۔ عدالت نے محکمہ انسداد تجاوزات کو تجاوزات کی آڑ میں مزید لیز مکانات مسمار کرنے سے روکنے کےحکم امتناع میں توسیع کردی۔اینٹی انکرو چمنٹ ٹریبونل نے کے ایم سی اینٹی انکروچمنٹ، ڈپٹی کمشنر اور دیگر اداروں کی جانب سے جوابات جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے آئندہ پر ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے احکامات جاری کردیے۔
    عدالت نے گجر نالے پر نارتھ ناظم آباد، ایف بی ایریا بلاک فائیو اور دیگر گھروں کو مسمار کرنے سے روک رکھا ہے، ٹریبونل نے کے ایم سی انیٹی انکروچمنٹ ،ڈپٹی کمشنر اور دیگر سے 29 اپریل کو جواب جمع کرانے کی بھی ہدایت کردی ہے۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ گجر نالے پر سندھ کچی آبادی، کے ڈی اے اور کے ایم سی نے گھروں کو لیز جاری کی تھی ، گلبرگ ایف بی ایریا، نارتھ ناظم کوثر نیازی کالونی میں مکانات لیز ہیں، تجاوزات کی آڑ میں متعلقہ ادارے لیز مکانات کو بھی توڑ رہے ہیں انہیں روکا جائے۔
    عدالتی فیصلےسے گجر اور اورنگی نالے کےمکینوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ہمارے سروں کی چھت برقرار رکھی آج ہم خوش ہیں۔

  • سندھ حکومت کراچی کے تمام شہریوں کو فراہمی ونکاسی آب کی یکساں سہولیا ت فراہم کرنا چاہتی ہے: سعید غنی

    سندھ حکومت کراچی کے تمام شہریوں کو فراہمی ونکاسی آب کی یکساں سہولیا ت فراہم کرنا چاہتی ہے: سعید غنی

    صوبائی وزیراور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سعیدغنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کے تمام شہریوں کو فراہمی ونکاسی آب کی یکساں سہولیا ت فراہم کرنا چاہتی ہے ، اس ضمن میں سندھ حکومت اور وزیربلدیات کے اقدامات قابل ستائش ہیں ،کراچی کے شہریوں میں دستیاب پانی کی نلوں ولائنوں کے ذریعے منصفانہ تقسیم کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے ،صوبائی حکومت کی جانب سے شہر میں نکاسی آب کے نظام کو درست کرنے کیلئے بھی واٹربورڈ کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں ،واٹربورڈ کے افسران سمیت دیگر عملہ فرائض جذبہ کے تحت ادا کرے ، شہر کی خدمت پر مامور ومصروف ادارے کے استحکام کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی ، حکومت سندھ نے واٹربورڈ اور اس کے ملازمین کوکبھی کسی مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا ، ادارے کے تمام ملازمین کو قواعد کے مطابق حاصل حقوق دیئے جارہے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے واٹربورڈ کے ایم ڈی سیکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ شہریوں کورمضان المبارک کے دوران دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے ہرممکن اقدامات کیئے جائیں،اجلاس کے دوران ایم ڈی واٹربورڈ اسداللہ خان نے صوبائی وزیرکورمضان المبارک میں فراہمی ونکاسی آب کے لئے واٹربورڈکے خصوصی اقدامات سے آگاہ کیا ،انہوںنے بتایا کہ اس ضمن میں وزیربلدیات وچیئرمین واٹربورڈ سیدناصر حسین شاہ کی ہدایات پر واٹربورڈ میںپہلے ہی ہائی الرٹ نافذ ہے ،شہر سے تقریباً 200کلومیٹر کے فاصلے سے پانی وصول کرنے سے لے کر دنیا کے سب سے بڑے شہروں کی فہرست میں شامل کراچی کے آخری سرے تک پہنچانے کا کام باقاعدہ ایک نظام کے تحت کیا جارہا ہے ، شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے ناغہ سسٹم پہلے ہی نافذ ہے جبکہ پانی کے ضیاع کوروکنے اور اس پانی کو بھی شہریوں تک پہنچانے کیلئے شہر اور شہر کے مضافات میں بچھی لائنوں ، کنڈیوٹ،سائفن وریزر وائرز ،فلٹرپلانٹس ،پمپنگ اسٹیشنوں کی صٖفائی و مرمت فوری طور پر کی جاتی ہے ، واٹربورڈ کا عملہ شہراور شہر کے مضافات میں قائم واٹروسیوریج پمپنگ اسٹیشنوں کو سال بھر بغیر کسی وقفہ رواںرکھنے کیلئے مختلف شفٹوں میں 24گھنٹے کام کرتا ہے ،نکاسی آب کے نظام کو چلانے اور اس ضمن میں شکایات کے ازالے کیلئے دن کے ساتھ ساتھ رات کے مختلف پہر بھی واٹربورڈ متحرک رہتا ہے ،کراچی کی بڑھتی آبادی اور شہر کی ضرورت سے کافی کم پانی کی دستیابی سے مسائل جنم لیتے ہیں تاہم بہترین حکمت عملی ومنصوبہ بندی کے ذریعہ واٹربورڈ کے ماہرین، انجینئرز وافسران ان مسائل سے نمبردآزما ہیں،اس موقع پر صوبائی وزیرنے اپنے حلقہ انتخاب میں پانی کی کمیابی کی شکایات کی وجوہات معلوم کیں اور ان کے فوری خاتمے کے احکامات بھی دیئے ،اجلاس میں پی پی کے رہنما فرحان غنی ،احمد علی واٹربورڈ کے چیف انجینئر واٹرٹرنک مین ظفر پلیجو ، سپرنٹنڈنگ انجینئر روشن دین ،محمد ریاض ،ایگزیکٹیوانجینئر اعجاز احمد، عمران عبداللہ ،عرفان اللہ ، صدیق تونیو، عزیز اللہ اور دیگر بھی موجود تھے ۔

  • سندھ کی تمام یونین کونسلوں کو نادرا کے آن لائن سسٹم سے منسلک کرنے کا منصوبہ کامیاب

    سندھ کی تمام یونین کونسلوں کو نادرا کے آن لائن سسٹم سے منسلک کرنے کا منصوبہ کامیاب

    سندھ کی تمام یونین کونسلوں کو نادرا کے آن لائن سسٹم سے منسلک کرنے کا منصوبہ کامیاب، رئیل ٹائم ڈیٹا اپگریڈیشن سسٹم سے جعلی دستاویزات کے اجرا پر قابو پایا جاسکے گا۔
    محکمہ بلدیات ہاوئسنگ و ٹاون پلاننگ سندھ نے ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کرلیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ سید نجم احمد شاہ جو کہ گزشتہ کئی ماہ سے صوبے کی تمام یونین کونسلوں کو نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک اور رئیل ٹائم ڈیٹا اپ گریڈیشن کے منصوبے پر کام کررہے تھے۔باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق انجینئر سید نجم احمد شاہ نے بتایا کہ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی خصوصی ہدایت پر گزشتہ کئی ماہ سے نادرا حکام اور محکمہ بلدیات سندھ کے افسران کے مشترکہ اجلاس منعقد کئے جاتے رہے جس کے تحت سندھ کی تمام یونین کونسلز کو نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس سے رئیل ٹائم اپ گریڈیشن کے تحت منسلک کرنا مقصود تھا، جس میں بفضل خدا مکمل طور پر کامیابی حاصل ہوچکی ہے۔اس حوالے سےتفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سیکرٹری بلدیات سندھ نے بتایا کہ نادرا اور لوکل گورنمنٹ حکام کے درمیان2006 میں جو معاہدہ قرار پایا تھا اس کے تحت پیدائش، اموات، نکاح و طلاق کے سرٹیفکٹس کے اجرا کے لئے مینیول طریقہ کار رائج تھا۔ جنوری 2020 میں اس سارے پراسس کو مکمل طور پر آن لائن ڈیٹا بیس سے منسلک اور رئیل ٹائم میں اپ ڈیٹ کرنے کے لئے کاوشوں کا آغاز کیا گیا اور گزشتہ چار ماہ کے دوران اس حوالے سے تیز اور اہم ترین پیش رفت کے نتیجے میں بالاخر صوبے کی تمام یونین کونسلز نادرا کے مرکزی آن لائن ڈیٹا بیس سے منسلک کرکے فعال کردی گئی ہیں جس کے تحت کسی بھی یونین کونسل سے ایک بار جاری ہونے والا سرٹیفکٹ دوبارہ کسی صورت ملک کی کسی اور یونین کونسل سے جاری نہیں ہوسکے گا۔ نجم احمد شاہ کے مطابق اس سارے پراسس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور گراوئنڈ لیول پر اس کے عمل در آمد کے لئے رات و دن کی پروا کئے بغیر کام کیا گیا جس کے لئے تمام نادرا و لوکل گورنمنٹ حکام مبارک باد کے مستحق ہیں۔
    وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس منفرد اور عوامی بہبود کے منصوبے کو نہ صرف ڈیزائن کیا بلکہ عوام کی سہولت کے لئے باقاعدہ فعال بھی کردیا گیا ہے۔ اس سارے عمل میں نادرا حکام کا کردار بھی لائق تحسین ہے اور حکومت سندھ مستقبل میں بھی عوامی بہبود کے منصوبہ جات لانچ کرتی رہے گی۔نجم احمد شاہ نے مزید بتایا کہ رئیل ٹائم اپ گریڈیشن پراسس کے تحت محض ایک گھنٹے میں درج شدہ کوائف نادار کے مرکزی ڈیٹا بیس سے تصدیق کے بعد یونین کونسلز میں نمودار ہوجائیں گی، جس کے بعد پورے ملک کی کسی بھی دوسری یونین کونسل یا ٹاون کمیٹی سے ان ہی کوائف پر مشتمل بوگس یا جعلی سرٹیفکٹ کا اجرا ممکن نہیں ہوگا۔