Baaghi TV

Category: کراچی

  • حکومت سندھ کا کراچی میں 8واں ضلع بنانے کا فیصلہ۔

    حکومت سندھ کا کراچی میں 8واں ضلع بنانے کا فیصلہ۔

    حکومت سندھ کا کراچی میں 8واں ضلع بنانے کا فیصلہ۔
    حکومت سندھ نے کراچی میں 8واں ضلع قائم کرنے کا منصوبہ مکمل کرلیا ہے۔اس وقت کراچی میں سات ضلع ہیں جن میں کورنگی، ملیر،کمیاڑی، سینٹرل،ساوتھ،ایسٹ اور ویسٹ ضلع شامل ہیں ۔حکومت نے آج سے تین سال قبل کراچی میں اپنا سیاسی اور انتظامی اثر قائم کرنے کے لئے دو ضلعے بنانے کافیصلہ کیا تھا۔تاہم عوامی سیاسی منفی ردعمل کے خوف میں پہلے مرحلے میں کیماڑی ضلع قائم کرنے کا اعلان کیا۔کیماڑی ضلع کا پہلے نام۔لیاری ضلع فائنل ہوا تھا ۔اچانک ضلع کا نام لیاری سے کیماڑی کر دیا گیا۔وزیر ہاوس کے ذرائع نے بتایا کہ اب 8واں ضلع قائم کرنے کے لئے حکومت نے کراچی میں اپنا میئرلانے بلدیاتی الیکشن اورضلع کی تیاری خاموشی سے مکمل کرلی ہے۔
    پیپلز پارٹی کے تھنک ٹینک نے پیپلز پارٹی کو آگاہ کیا ہے کہ کراچی کے مئیر کے الیکشن میں کامیابی کے لئے 8واں ضلع نا گزیز ہے۔اگر کراچی میں 8واں ضلع بنا تو مئیر کراچی کے الیکشن میں سو فیصد کامیابی ہوگی۔۔جنگ نے کیماڑی ضلع بنانے کی خبر بھی سب پہلے بریک کی تھی،لیکن پیپلزپارٹی نے شدید عوامی و سیاسی منفی ردعمل کے خوف کے پیش نظر کچھ عرصے کے لئے ضلع کیماڑی کا اعلان موخر کردیا تھا تاہم بعد ازاصورتحال نارمل ہونے پر حکومت نے کیماڑی ضلع کا اعلان کردیا۔۔کیماڑی ضلع پر شدید منفی ردعمل نہ آنے پر حکومت نے اب 8 واہ ضلع کےقیام کا فیصلہ کرلیا گیاہے ۔بجٹ سے پہلے یا بجٹ کے بعدنئے ضلع کا اعلان جائے گا۔جبکہ حکومت نے صوبائی بجٹ 2021۔2022میں نئے ضلع کے لئے بجٹ فنڈز بھی مختص کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں ۔جبکہ نئے ضلع میں چار نئے پولیس اسٹیشن بھی قائم کئے جائیں گے ۔بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 8واں ضلع کے لئے تین نام دئیے گئے ہیں۔(1)ضلع گڈاپ (2)ضلع معمار (3)ضلع بحریہ ٹاون نام شامل ہیں۔
    نئے ضلع کی یہ خوب صورتی ہے یہ ضلع کراچی سے حیدرآباد جاتے ہوئے سید ھے ہا تھ کی جانب ہوگا۔۔کیونکہ گڈاپ ۔معماراور بحریہ ٹاون اور دیگر آبادیاں اسی جانب آتی ہیں ۔ڈی ایچ اے سٹی بھی نئے ضلع اور نئے پولیس اسٹیشن کی حدود میں آئے گا۔ ضلع کے قیام کے لئے گزشتہ ایک سال سے کام جاری تھا ۔اور اب کاغذی کارروائی حتمی مراحل میں ہے۔ضلعی انتظامیہ کے لئے دفاتر قائم کرنے کے لئے جگہ تلاش کی جارہی ہے۔ممکن ہے سپر ہائے وے پر سابق ٹول پلازہ کی خالی ہونے والی اراضی پر ضلع کمپلیکس قائم کیا جائے۔جس طرح ملیر کے لئے ڈی سی ہاوس اور ضلع کمپلیکس ماڈل کالونی میں بنایا گیا ہے ۔جس کے بعد تمام ضلعی دفاتر یہاں منتقل کردئیے جائیں گے ۔اگر ڈی سی ہاوس کی تعمیر میں تاخیر ہوئی تو عارضی طور پر بحریہ ٹاون اور معمار میں افسران کی رہائش و دفاتر کا انتظام کیا جائے گا۔

  • مبارک ہو کہ اب کلمہ پڑھنے والے کلمہ پڑھنے والوں کا خون نہیں بہائیں گے، مصطفیٰ کمال

    مبارک ہو کہ اب کلمہ پڑھنے والے کلمہ پڑھنے والوں کا خون نہیں بہائیں گے، مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین اور امید وار برائے این اے 249 سید مصطفی کمال نےکہا کہ لسانی سیاست کرکے ہمیں شکست کے طعنے دینے والے آج خود بند گلی میں داخل ہوگئےہیں جبکہ پاک سرزمین پارٹی ہر گلی، محلے اور لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ پی ایس پی کے این اے 249 سے انتخاب لڑنے کی وجہ سے آج بدعنوان حکمرانوں نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے یہاں ترقیاتی کام کا آغاز کردیا، سوال یہ ہے کہ یہ کام پہلے بھی کیے جا سکتے تھے، انتخابات کا انتظار کیوں کیا گیا۔ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والوں کو اس حلقے سے پچھلے کئی سال سے ووٹ مل رہا ہے، لیکن وہ کبھی پلٹ کر یہاں نہیں آئے کہ دیکھیں کہ بلدیہ کی عوام کس حال میں ہے۔ بلدیہ والوں، ہمیں ووٹ دے کر تم آرام سے سوجانا کیونکہ مصطفیٰ کمال اپنی راتوں کی نیند، اپنے گھر، دوست اور رشتےداروں کو چھوڑ کر تمہارے علاقے کی کسی گلی میں تمہارے آنے والے دن کی صبح بہتر بنانے کیلئے کام کرتا ہوا نظر آئیگا۔ آج پی ایس پی کی مقبولیت دیکھ کر مخالفین نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیئےکہ الیکشن ملتوی کریں۔آج کاجم غفیر دیکھکرہائیڈرنٹس مافیا کی نیندیں اڑ چکی ہیں اور انہوں نے سیاسی شعبدہ بازوں سے گٹھ جوڑ کرلیا ہے لیکن میں بتادوں کہ پی ایس پی نے تم سب کی دکانیں بند کردیں ہیں، اب تم میں سے کوئی نہیں بچے گا.
    انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایک سال بعد بھی الیکشن ہو تو پاک سر زمین پارٹی یہیں عوام کے درمیان رہے گی۔ بلدیہ کے بعض علاقوں میں سال بھر میں 6 گھنٹے کے لیے پانی آتا ہے، یہ تھر کا ریگستان نہیں بلکہ شہر کراچی ہے جو 70 فیصد ریوینیو کما کر دیتا ہے۔لوگوں کے پاس پہلے متبادل آپشن نہیں تھا لیکن اب پاک سرزمین پارٹی کھڑی ہو چکی ہے۔ کوئی مہاجروں کا نام لے کر پنجابیوں کو ڈراتا تھا،کوئی پختونوں کو ڈراتا تھا، لیڈر آتے تھے نوجوانوں میں نفرت بھرتے تھے اور چلے جاتے تھے، پیچھے نوجوان مرتے تھے، شہر تباہ ہو رہا تھا۔ آج پی ایس پی کے اسٹیج پر سندھی، پنجابی، پختون، کشمیری، مہاجر، دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سنی سب موجود ہیں۔ یہی مستقبل کا پاکستان اور میرا خواب تھا جس کے لیے واپس آیا۔ آج لوگوں کو مارنے والے خود ختم ہو گئے، میرے ساتھ 40 سال بعد اردو بولنے والے، پختونوں کے علاقے میں گئے اور پختون اردو بولنے والوں کے علاقے میں آئے ہیں۔ ہم نے ساری سیٹوں کو لات مار کر یہ کارواں شروع کیا ہے، عوام کو ہماری بات سمجھ آگئی ہے اور نام نہاد لیڈروں کی سیاست کو ختم کر دیا ہے۔ بلدیہ کی عوام نے کراچی سے عصبیت کی سیاست کو دفن کر دیا ہے، عوام کو مبارک ہو کہ اب کلمہ پڑھنے والے کلمہ پڑھنے والوں کا خون نہیں بہائیں گے، اس شہر میں اوسطاً 22 افراد کلمہ پڑھنے والے کلمہ پڑھنے والوں کے ہاتھوں زبح ہوتے تھے۔ نہ مارنے والے کو وجہ پتا تھی نہ مرنے والوں کو۔ ہمیں ایسی سیٹیں نہیں چاہئیں جو بھائی کو بھائی سے لڑا کر حاصل ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے 249 کی انتخابی مہم کے تحت چاندنی چوک، یوسی 30، سعیدآباد بلدیہ ٹاؤن میں عظیم الشان انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صدر پی ایس پی انیس قائم خانی دیگر مرکزی زمہ داران بھی موجود تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ میں نے بلدیہ ٹاؤن کو ایسا نہیں چھوڑا تھا، 60 لاکھ گیلن پانی کی لائن ڈال کر ہر گھر تک پانی پہنچایا میرے جانے کے بعد بلدیہ کی لائن پر 178 غیر قانونی کنکشن اور 25 ہائیڈرنٹس بنے۔ یہاں کے منتخب نمائندے ارب پتی بن گئے۔ جبکہ میرے پاس پورا شہر تھا لیکن میرا کوئی ہائیڈرنٹ، شادی ہال نہیں ہے۔ اس موقع پر دارالعوام جامعہ صوفیاء کے مفتی طاہر نے خطاب کرتے ہوئے بھرپور حمایت کا اعلان کیا، پی ایس پی کے وائس چیئرمین حفیظ الدین نے کہا کہ این اے معرکہ پاکستان کی تاریخ میں نیا باب رقم کرے گا، سید مصطفیٰ کمال اس شہر کا بیٹا اور پاکستان کا مجاہد ہے، پاکستان کی تمام اکائیاں ایک ساتھ کھڑے ہوکر کہیں گی کہ مصطفی کمال ہمارا لیڈر ہے۔ پاک سرزمین پارٹی کے رہنما ملک نثار نے کہا کہ سید مصطفیٰ کمال کے نظریے کو سمجھا اور مسلم لیگ ن کو خیر باد کہہ کر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہو گیا، 40 سال مسلم لیگ ن کو دیئے لیکن اب سمجھ چکے وہ پنجاب کی جماعت ہے اور کراچی کو سید مصطفیٰ کمال کی ضرورت ہے۔ پاک سرزمین پارٹی نیشنل کونسل کے رکن اور ڈسٹرکٹ ویسٹ کے صدر ہمایوں عثمان راجپوت نے کہا کہ جب حلقے میں اترے تو پتہ چلا کہ کہیں 10 سال سے پانی نہیں آیا تو کہیں 8 سال سے نہیں آیا۔ موت زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے ہم نے غریبوں کے پانی کا سودا نہیں ہونے دینا ہے۔

  • کراچی میں کورونا وائرس کی سب سے خطرناک قسم سامنے آگئی

    کراچی میں کورونا وائرس کی سب سے خطرناک قسم سامنے آگئی

    شہر قائد کے ضلع وسطی میں کورونا وائرس کی سب سے خطرناک قسم کے 2 کیسز سامنے آئے ہیں۔کراچی کے ضلع وسطی میں کورونا وائرس کی سب سے خطرناک قسم سامنے آئی ہے اور اس کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، وائرس کی تصدیق ضلع وسطی کے علاقے نارتھ کراچی کے رہائشی ذیشان شیخ میں ہوئی ہے۔ذرائع محکمہ صحت کے مطابق ذیشان شیخ نامی شہری میں کورونا وائرس کی سب سے خطرناک قسم پائی گئی ہے، مذکورہ وائرس سب سے تیزی سے پھیلنے والا ورژن ہے اور یہ وائرس برطانیہ اور انڈیا سے مماثلت رکھتا ہے۔ڈی سی سینٹرل راجا دھاریجو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد مذکورہ شخص کو گھر میں 2 ہفتوں کے لیے قرنطینہ کردیا گیا ہے جب کہ اطراف کے علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔

  • کراچی سینٹرل پولیس آفس کے سامنے سب انسپکٹر نے خود کو آگ لگالی

    کراچی سینٹرل پولیس آفس کے سامنے سب انسپکٹر نے خود کو آگ لگالی

    کراچی میں سینٹرل پولیس آفس کے سامنے سب انسپکٹر مظفر چانڈیو نے خود کو آگ لگالی۔ پولیس اہلکار کو جھلسی ہوئی حالت میں سول اسپتال منتقل کردیاگیا۔کراچی کے علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر قائم سینڑل پولیس آفس کے سامنے پولیس اہلکار نے خود کو آگ لگادی۔۔ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی اہلکار 50 سالہ مظفر چانڈیو کی حالت تشویشناک ہے۔پولیس کے مطابق سب انسپکٹر مظفر چانڈیو میرپور خاص پولیس کی ٹیلی کمیونیکیشن برانچ میں تعینات ہے۔ واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق مظفر 41 فیصد جلا ہے۔۔خود کشی کرنے کی وجوہات کا تعین کیا جارہا ہے۔

  • اللہ کا کرم ہے صوبہ سندھ میں کرونا کے کیسز کی تعداد کم ہے،جمال صدیقی

    اللہ کا کرم ہے صوبہ سندھ میں کرونا کے کیسز کی تعداد کم ہے،جمال صدیقی

    پی ٹی آئی رہنما جمال صدیقی نے سندھ میں کرونا وبا سے متعلق بیان دیا۔جمال صدیقی کہتے ہیں ‏وفاق کا کرونا وباء کی صورتحال میں ملک بھر فوج کی طلبی کا فیصلہ عوامی مفاد میں ہے سندھ حکومت عادتاً اس بار بھی عوامی مفاد میں وفاق کے ساتھ شانہ بشانہ نہیں کھڑی سندھ حکومت کرونا وباء پر قابو پانے کیلئے اپنی پالیسی واضح کریں ‏سندھ حکومت کی جانب سے کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں اللہ کا کرم ہے صوبہ سندھ میں کرونا کے کیسز کی تعداد کم ہے کرونا کے جاری وار پڑوسی ملک بھارت کو شدید متاثر کرچکے ہیں ‏عوام احتیاط کریں خدانخواستہ کاروبار بند کرنے کی نوبت نہ آئے.وباء کا عالم ہے تمام سیاسی جماعتیں متحرک ہوکر ایک پیج پر آئیں پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے بے احتیاطی سے ملکی معیشت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے

  • سندھ اسمبلی پری بجٹ اجلاس, پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج کا خطاب

    سندھ اسمبلی پری بجٹ اجلاس, پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج کا خطاب

    ‏سندھ اسمبلی پری بجٹ اجلاس, پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج کا خطاب.خطاب میں کہا سندھ اپنے مالی اہداف حاصل کرنے میں ایک بار پھر ناکام رہی وفاق نے ۴۲ فیصد جبکہ سندھ نے صرف ۳۰ فیصد محصولات اہداف حاصل کئے مراد علی شاہ دس سال سے صوبائی وزیر خزانہ ہیں مگر کارکردگی صفر ہے۔‏مراد علی شاہ کی کارکردگی صرف اومنی گروپ کیلئے ہے۔مراد علی شاہ کو پی ڈی ایم کے جلسوں میں کرونا نظر نہیں آیا۔مراد علی شاہ نے کرونا پر دوہرہ معیار اختیا کیا ۔ان کے لاک ڈاؤن کا فائدہ پولیس اور بیورو کریسی اٹھا رہے ہیں۔‏آج تک لوگ بیس لاکھ راشن کے تھیلے ڈھونڈ رہے ہیں۔ایک وزیر الیکشن کا خرچہ تو کیا شادی کا خرچہ بھی اٹھاتا ہے ۔انہوں نے سینیٹ کی خریدو فروخت کیلئے بھی بجٹ مختص کیا تھا اس کا بوج بھی اسی وزیر پر کریس
    ‏ان کا سیکریٹری خزانہ نیب میں اپنا جرم قبول کر چکا ہے۔قوم کا پیسہ چوری کر کے ان کے سیکریٹری نے واپس بھی کیا۔انہوں نے اس کو نوکری پر واپس رکھ دیا تا کہ پیسہ آتا رہے۔۲۰۱۱ میں بجٹ کا ۷۰ فیصد بابوں پر لگتا تھا اب وہ بڑھ کہ ۸۸ فیصد ہو گیا ہے۔‏یہ بابو سندھ کو چونا لگا رہے ہیں۔سکول ہسپتال ایمپولنس جب سب نجی اداروں نے چلانا ہے تو یہ بابو کیا کرتے ہیں ؟ان سے حکومت نہیں چلتی تو حکومت کو بھی نجی ادارے کو دے دیں۔تقریباً ۵۰۰ ملازمین و افسران پلی بارگین لے چکے ہیں۔‏زراعت سے آمدن دس سال پہلے ۱۱ کڑوڑ تھی ابھی صرف ۶۲ کڑوڑ ہے۔دس سال میں کچھ نہیں بدلا ۔ اگر بدلا ہے تو ان کے نجی مال و دولت ۔گزشتہ سال صحت پر ۱۷۰ ارب لگنے کے بعد بھی حالات سب کے سامنے۔تعلیم پر گزشتہ سال ۲۵۰ ارب خرچ کیے مگر بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں۔
    ‏وفاق نے احساس پروگرام کے ذریعے سندھ میں پچاس لاکھ لوگوں میں ۶۰ ارب رقم دی۔بدترین صحت صورتحال ہونے کے بعد بھی یہ کہتے ہیں ہم صحت کارڈ نہیں دینگے۔کراچی پیکچ کے وقت کہتے تھے ۷۰۰ ارب ہم لگا رہے ہیں ۔سندھ حکومت نے کراچی پیکچ کے ۷۰۰ ارب کہاں لگائے ؟‏اورینج لائن گزشتہ سال چلنی تھی وہ بھی نہ چلی۔دوسرے جانب تمام وفاقی منصوبے تیزی سے بڑی رہے ہیں۔وزیراعظم نے سندھ پیکج کا اعلان کی انکو اس پر بھی مرچیں لگ گئی۔وفاق سندھ کے ۱۴ اضلاع میں نادرہ سینٹرز پاسپورٹ دفاتر کھیلوں کے منصوبے شروع کر رہا ہے۔‏سندھ کے دیہی علاقوں میں گیس اور بجلی کی نظام، ریلوے اسٹیشن بھی بنائے گے۔سندھ میں ۴جی اور فائبر آپٹک سمیت نوجوانوں کے کئے خصوصی پیکج بھی وفاق کر رہا ہے۔‏ہمارا مطالبہ ہے عالمی اداروں کے ذریعے ہونے والے منصوبوں کی رپورٹ اسمبلی میں لائے جائے۔آن لائن سروس ٹیکس کو کم کیا جائے تاکہ آن لائن کاروبار کرنے والوں کا رجحان بڑھے۔

  • ٹیم سرعام کا اپنے ہی ارکان کے خلاف اسٹنگ آپریشن

    ٹیم سرعام کا اپنے ہی ارکان کے خلاف اسٹنگ آپریشن

    اے آروائی نیوز کی ٹیم سرعام نے اپنے ہی ٹیم ممبران کے خلاف اسٹنگ آپریشن کیا ہے اور پروگرام سرعام کی آڑ میں کئے جانے والے دھندے کو بے نقاب کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اے آروائی نیوز کی ٹیم سرعام نے بلیک میلنگ، فراڈ اور بھتہ خوری کی شکایات پر اپنے ہی ٹیم ارکان کے خلاف اسٹنگ آپریشن کیا،اسٹنگ آپریشن خاتون سمیت چار ملزمان کے خلاف کیا گیا، جس میں ملزمان کے خلاف اہم شواہد مل گئے ہیں۔جن افراد کے خلاف اسٹنگ آپریشن کیا گیا ان میں وسیم قیصر، ساجد نواز ،کامران اور صدف شامل ہیں،
    شواہد کی فراہمی پر پولیس نے کارروائی کی، کارروائی کے دوران وسیم قیصر اور ساجد نواز کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ کامران اور خاتون صدف کی گرفتاری کے لئے پولیس کے چھاپے جاری ہیں۔
    رپورٹ کے مطابق چاروں ملزمان سرعام کی آڑ میں محنت کش افراد کو فراڈ کا نشانہ بناتے تھے، ملزمان پان شاپ،گٹکا فروخت کرنیوالوں کو بلیک میل کرکے رقم بٹورتےتھے، یہی نہیں خاتون سمیت چاروں ملزمان فراڈ،بلیک میلنگ کیلئے جعلی این جی او بھی چلاتے تھے۔پولیس چاروں ملزمان کے خلاف فراڈ، بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کےدو مقدمات درج کرلئے ہیں، مقدموں میں بھتہ خوری پر انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

  • سندھ حکومت عادتاً اس بار بھی عوامی مفاد میں وفاق کے ساتھ شانہ بشانہ نہیں کھڑی ہوئ،جمال صدیقی

    سندھ حکومت عادتاً اس بار بھی عوامی مفاد میں وفاق کے ساتھ شانہ بشانہ نہیں کھڑی ہوئ،جمال صدیقی

    ترجمان پی ٹی آئی کراچی و رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی بیان نے اپنے بیان میں کہا کہ وفاق کا کرونا وباء کی صورتحال میں ملک بھر فوج کی طلبی کا فیصلہ عوامی مفاد میں ہے،

    سندھ حکومت عادتاً اس بار بھی عوامی مفاد میں وفاق کے ساتھ شانہ بشانہ نہیں کھڑی ہے۔سندھ حکومت کرونا وباء پر قابو پانے کیلئے اپنی پالیسی واضح کریں، سندھ حکومت کی جانب سے کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں، اللہ کا کرم ہے صوبہ سندھ میں کرونا کے کیسز کی تعداد کم ہے،کرونا کے جاری وار پڑوسی ملک بھارت کو شدید متاثر کرچکی ہے، عوام احتیاط کریں خدانخواستہ کاروبار بند کرنے کی نوبت نہ آئے، وباء کا عالم ہے تمام سیاسی جماعتیں متحرک ہوکر ایک پیج پر آئیں،پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے ۔ہم بے احتیاطی سے ملکی معیشت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے.

  • کراچی میں کروڑوں رپوں کی گاڑیاں تباہ ہونے کاراز فاش ہوگیا

    کراچی میں کروڑوں رپوں کی گاڑیاں تباہ ہونے کاراز فاش ہوگیا

    کراچی میں کروڑوں رپوں کی گاڑیاں تباہ ہونے کاراز فاش ہوگیا۔ٹوٹل (پارکو)کے تیل سے لدے ٹینکرز کی ڈمپنگ پوائنٹ کا انکشاف

    باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق سائٹ ایریامیں کس طرح ٹوٹل پیٹرول سے بھرےٹینکرزکو ڈمپنگ پوائنٹ پرلےجایاجارہاہے۔ خفیہ گودام کا گیٹ کھلتے ہی ٹینکرز اندر داخل ہوجاتےہیں۔ جہاں پر ایرانی پیٹرول مکس کرکے شہربھرکے پیٹرول پمپس پر خالی کیئےجاتے ہیں۔ جس سے شہر کراچی کی عوام کی قیمتی گاڑیوں میں بھرا جاتاہے ۔جس کے نتیجے میں گاڑیاں تباہ ہونےلگتی ہیں۔

    سارے معاملے میں متعلقہ تھانہ کی سر پرستی شامل ہےاس سلسلے میں کراچی پولیس چیف سے درخواست ہے کہ وہ فوراًنوٹس لیں۔

  • سندھ حکومت نے کیا بڑا فیصلہ،کون کون سے ادارے اب رہیں گے بند

    سندھ حکومت نے کیا بڑا فیصلہ،کون کون سے ادارے اب رہیں گے بند

    کراچی: سندھ حکومت نے بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے پیشِ نظراسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا، صوبے بھر میں اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز بند رہیں گی۔
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت کے تمام آفسز صرف 20 فیصد اسٹاف کی حاضری کے ساتھ کام کریں گے۔
    پیغام میں ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر تمام اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز بند رہیں گی۔
    ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 29 اپریل سے سندھ بھر میں انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہے گی۔ لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر سفر نہیں کرسکیں گے. بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ اگر سندھ میں عوام کورونا ایس او پیز پر عمل کرتے اور ماسک پہنتے تو حکومت کو سخت فیصلے نہ کرنے پڑتے۔صورت حال بہت تشویشناک ہے اور حکومت کو سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔

    یادد رہے کہ اِس سے قبل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ملک بھر میں امتحانات ملتوی کردئیے جس سے امتحان کی تیاری کرکے جانے والے طلباء کی پریشانیاں بڑھ گئیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے امتحانات ملتوی کیے جانے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں امتحانات ملتوی کردئیے گئے۔