Baaghi TV

Category: کراچی

  • انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کو این آئی سی وی ڈی کے حوالے کرنے کا فیصلہ

    انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کو این آئی سی وی ڈی کے حوالے کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کو قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ صحت سندھ نے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کردی ہے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر قومی ادارہ برائے امراض قلب پروفیسر ندیم قمر نے دی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر اہتمام چلنے والے 170 بستروں پر مشتمل کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کو قومی ادارہ برائے امراض قلب کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کے آئی ایچ ڈی کو قومی ادارہ برائے امراض قلب کا سیٹلائٹ سنیٹر بنانے کی سمری وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی گئی ہے اور جیسے ہی سمری منظور کرکے نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا، وہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کا انتظام سنبھال لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز فی الوقت بلدیہ عظمٰی کراچی کے زیر انتظام ہے لیکن سمری کی منظوری اور نوٹیفکیشن کے جاری ہونے کے بعد یہ ادارہ سندھ حکومت کے انتظامی کنٹرول میں آجائے گا۔واضح رہے کہ170 بیڈز پر مشتمل کے آئی ایچ ڈی سابق ناظم کراچی نعمت اللّٰہ خان نے قائم کیا تھا جو کہ جون 2005 میں آپریشنل ہوا لیکن گذشتہ کچھ عرصے میں بد انتظامی اور مالی مشکلات کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔پروفیسر ندیم قمر کا مزید کہنا تھا کہ کے آئی ایچ ڈی کو تکنیکی طور پر سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) کے حوالے کیا جائے گا، لیکن عملی طور پر کے آئی ایچ ڈی، قومی ادارہ برائے امراض قلب کے زیر انتظام ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے کراچی کے شہریوں کو امراض قلب کے علاج کی بہترین سہولتیں حاصل ہو جائیں گی۔

  • کے ایم سی ملازمین کی اپنے شعبوں میں ترقی ان کا حق ہے : لیئق احمد

    کے ایم سی ملازمین کی اپنے شعبوں میں ترقی ان کا حق ہے : لیئق احمد

    ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ کے ایم سی ملازمین کی اپنے شعبوں میں ترقی ان کا حق ہے لیکن اس کے لئے شفاف اور قانونی طریقہ کار اپنانا ہے، محکمہ ایچ آر ایم جلد از جلد تمام ملازمین کی سینیارٹی لسٹ اور ریکروٹمنٹ رولز تیار کرے تاکہ ملازمین کی تقرری اور ترقی کے معاملات کو قواعد و ضوابط کے مطابق لایا جاسکے، یہ بات انہوں نے اپنے دفتر میں ڈپارٹمینٹل پروموشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر کمیٹی کے ممبران میٹروپولیٹن کمشنر افضل زیدی، سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن خالد خان، سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم اصغر درانی، سینئر ڈائریکٹر اسپورٹس کلچر اینڈ ریکریشن منصور قاضی، ڈی پی سی کمیٹی کے سیکریٹری ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد علی اور ڈائریکٹر ظفر راجپوت بھی موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی میں سروس اسٹرکچر موجود نہیں اور نہ ہی افسران و ملازمین کی مکمل سینیارٹی لسٹ تیار کی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں ایک طویل عرصے سے صلاحیت و قابلیت کی بنیاد پر افسران و ملازمین کی ترقیوں کا عمل رکا ہوا ہے ،بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران و ملازمین کی کانفیڈنشل رپورٹ (اے سی آر )ہر سال تیار ہونی چاہئے ،ملازمت میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا حق ہر ملازم کو حاصل ہے، ترقی کے لئے تمام قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عمل جاری رہنا چاہئے، ملازمین کو ان کا حق بروقت ملے گا تو ان کی کارکردگی بہتر ہوگی جس کا فائدہ ادارے کو پہنچتا ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے ڈپارٹمینٹل پروموشن کمیٹی کے ممبران سے کہا کہ محکمہ ایچ آر ایم کے ساتھ مکمل رابطہ رکھیں اور جو ہدایات دی گئیں ہیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، ہمارا اولین مقصد ادارے اور شہر کی بہتری ہونا چاہئے جس عہدے یا آسامی کے لئے جو افسر موزوں ہے اسے کام کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے، کے ایم سی کے انتظامی معاملات کو درست خطوط پر استوار کرنے کا وقت آگیا ہے، تمام قواعد و ضوابط موجود ہیں جن کے مطابق ملازمین کی ترقی کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے، اگر اس حوالے سے کسی پیچیدگی کا سامنا ہے تو اسے قواعد کی روشنی میں جلد از جلد دور کیا جائے ، اس موقع پر ڈپارٹمینٹل پروموشن کمیٹی کے ممبران نے اپنی تجاویز پیش کیں اور مختلف محکموں کی طرف سے افسران وملازمین کی تقرری و ترقی کے حوالے سے پیش کئے گئے کیسز کی تفصیلات سے آگاہ کیا، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہاکہ کمیٹی کے ممبران پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے لہٰذا جلد از جلد بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام ملازمین کی ان کے گریڈ اور تنخواہی اسکیل کے مطابق اپ ڈیٹ سینیارٹی لسٹ تیار کرائیں اور اس کے لئے تمام محکموں کے ساتھ رابطہ کرکے درست اور تصدیق شدہ ریکارڈ حاصل کیا جائے ، ریکروٹمنٹ رولز تیار ہوں گے تو معلوم ہوسکے گا کہ کسی بھی آ سامی پر تقرری کے لئے مطلوبہ صلاحیت اور اہلیت کیا ہے اور اس کے مطابق یہ عمل مکمل کیا جائے گا جس سے مختلف عہدوں پر تقرری اور ترقی کا عمل غیر متنازعہ اور شفاف بنے گا اور کسی کو شکایت نہیں ہوگی ، انہوں نے ہدایت کی کہ ڈی پی سی کے اجلاس باقاعدگی سے ہونے چاہئیں جن میں طریقہ کار کے مطابق تمام امور انجام دیئے جائیں۔

  • حوثی  باغیوں کی  عوام پر کاروائیوں پر اقوام متحدہ بھی بول اٹھی

    حوثی باغیوں کی عوام پر کاروائیوں پر اقوام متحدہ بھی بول اٹھی

    حوثی باغیوں کی عوام پر کاروائیوں پر اقوام متحدہ بھی بول اٹھی

    باغی ٹی و ی یمن میں حوثی باغیوں کی کاروائیوں سے عالمی تشویش بڑھنے لگی ہے . امریکا نے حوثی ملیشیا کی ان کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے جو یمن میں جنگ اور بد امنی کو طول دینے کی وجہ بن رہی ہیں۔ جمعے کے روز امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں زور دیا گیا ہے کہ یمن کے بحران کو جاری رکھنے کا سبب بننے والے حوثی ملیشیا کے مذکورہ تصرفات کا خاتمہ کیا جائے۔ بیان کے مطابق یمن کے لیے امریکی ایلچی ٹم لینڈرکنگ اور یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفتھس اقوام متحدہ کے زیر قیادت امن کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔

    امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی کارستانیاں یمنی عوام کے مصائب کو طول دے رہی ہیں اور اس تنازع کو ختم کرنے کے واسطے کی جانے والی عالمی برادری کی کوششوں کو برباد کر رہی ہیں۔ بیان میں تمام یمنی فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فائر بندی کے جامع سمجھوتے کو یقینی بنائیں اور مذاکرات کا حصہ بنیں جن کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی ایک جامع سیاسی معاہدہ طے پا سکے۔

    امریکی وزارت خارجہ نے سعودی عرب میں شہری تنصیبات اور دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کی مسترد کیا ہے اور حوثی باغیوں کی کوششوں کو مذموم قرار دیا ہے ۔

  • کاروباری و تجارتی مراکز کے نئے اوقات کار جاری، چھٹی کے دن بھی تبدیل

    کاروباری و تجارتی مراکز کے نئے اوقات کار جاری، چھٹی کے دن بھی تبدیل

    سندھ حکومت نے کرونا ایس او پیز سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کردیا۔ محکمہ داخلہ سندھ نے کرونا ایس او پیز میں توسیع اور نئی پابندیوں سے متعلق حکم نامہ جاری کردیا ہے۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ سندھ بھر میں کرونا کی نئی پابندوں کا نفاذ 16 مئی تک رہے گا۔نئے حکم نامے کے مطابق تجارتی سرگرمیاں اب جمعے کی جگہ ہفتہ اوراتوار مکمل بند ہوں گی۔ تجارتی مراکز اور مارکیٹوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق سندھ بھر کی مارکیٹیں اور تجارتی مراکز سحری سے شام 6 بجے تک کھلنے کی اجازت ہوگی جبکہ ہفتہ اور اتوار کو تمام تجارتی وکاروباری مراکز مکمل بند رہیں گے۔
    محکمۂ داخلہ سندھ کے مطابق ہفتے اور اتوار کو اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔ 16 مئی تک سیاسی، ثقافتی، سماجی اور کھیلوں کی ہرطرح کی سرگرمیوں پرپابندی ہوگی، ریسٹورنٹس میں ان ڈورڈائننگ کی فراہمی پر مکمل پابندی جبکہ آؤٹ ڈور کھانوں کی ٹائمنگ افطاری کےبعد سے رات12بجےتک ہوگی اور ہفتے اور اتوار کو بین الصوبائی ٹرانسپورٹ‌ بھی بند رہے گی۔ نوٹی فکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ رات 12 بجے کے بعد صرف ہوم ڈلیوری اورٹیک اوےکی اجازت ہوگی۔

  •  سندھ میں کورونا سے اموات کی تعداد 4544  ہو گئی 

     سندھ میں کورونا سے اموات کی تعداد 4544 ہو گئی 

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11623 نمونوں کی جانچ کی گئی جس کے مطابق مزید 561 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 اموات رپورٹ ہوئیں۔ اس طرح اموات کی مجموعی تعداد 4544 ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج مزید 404 مریض صحتیاب ہوئے ہیں اور ابتک صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد 259792 ہوچکی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اب تک 3450136 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے اور اب تک 271523 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت 7187 مریض زیر علاج ہیں۔ جن میں سے 6794 گھروں میں، 10 آئسولیشن سینٹرز میں اور 383 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ جبکہ 356 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے اور 39 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔ صوبے کے 561 نئے کیسز میں سے 278 کا تعلق کراچی سے ہے۔ جن میں ضلع شرقی 139، ضلع جنوبی 65، ضلع وسطی 31، ملیر 19، ضلع غربی 17 اور کورنگی میں7 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جبکہ دیگر اضلاع میں حیدرآباد 79، شکارپور 17، شہید بے نظیر آباد 14، کشمور اور سکھر 13۔ 13، گھوٹکی 12، بدین، جامشورو، مٹیاری اور دادو میں11۔11 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ٹھٹھہ 10، سانگھڑ 9، خیرپور، ٹنڈو محمد خان اور نوشہرو فیروز 8۔8، ٹنڈو الہیار 7، عمرکوٹ 6، جیکب آباد اور سجاول 5۔5، لاڑکانہ اور میرپور سے 4۔4 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

  • مرتضیٰ وہاب نے وزیراعظم کے دورہ سندھ پر کڑی تنقید کی

    مرتضیٰ وہاب نے وزیراعظم کے دورہ سندھ پر کڑی تنقید کی

    ترجمان سندھ حکومت نے وفاقی کابینہ میں کی جانے والی تبدیلیوں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو سوچنا چاہیے کہ وزیر خزانہ بدلنے سے فرق نہیں پڑیگا، شایداب وزیراعظم تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے وزیراعظم کے دورہ سندھ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ہر سال رمضان المبارک میں وزیراعظم کی سندھ میں دلچسپی ہو جاتی ہے، یہ رمضان میں کراچی آتے ہیں اور اپنے ہسپتال کیلئے چندہ مانگ کر چلے جاتے ہیں، آج بھی گورنر ہاؤس میں تقریب ہوگی، شوکت خانم ہسپتال کیلئے فنڈ ریزنگ کر کے چلے جائیں گے۔مرتضیٰ وہاب نے ماضی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ستمبر2020میں کراچی تشریف لاتے ہیں، جہاں وہ کراچی والوں کےلئے 1100 ارب کا اعلان کرتے ہیں، آج کراچی والے ایک بار پھر منتظرہیں کہ وہ پیسے کہاں ہیں؟ کراچی والے دیکھ رہے ہیں کہ کیا کام ہوئے کیا ڈیویلپمنٹ ہوئیں؟،50لاکھ گھر1کروڑ نوکریاں دینی تھیں مگر کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہ ہوسکا، وزیراعظم اعلانات کرتے ہیں لیکن وعدے وفا نہیں ہوتے، ا ن سے تو ماضی کے منصوبے مکمل نہیں ہو رہے، اسی لئے آج سے کپتان کا نیا نام اعلان خان تجویز کرنا چاہوں گا۔ترجمان سندھ حکومت نے اپنی پریس کانفرنس میں وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کھلاڑی تھے کھلاڑی ہیں اور رہیں گے، یہ معیشت اور عوام کے ساتھ کھیل رہے ہیں، وفاقی کابینہ میں کی جانے والی تبدیلیوں پر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو سوچناچاہیے کہ وزیرخزانہ بدلنے سے فرق نہیں پڑیگا، شایداب وزیراعظم تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔مرتضیٰ وہاب نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کی عوام ابھی تک یونیورسٹی کے منتظرہیں جبکہ صورت حال یہ ہے کہ ابھی تک پی ٹی آئی والوں نے یونیورسٹی کیلئے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا اور کپتان نے اب تک یونیورسٹی کا چارٹرڈ تک منظور نہیں کیا۔

  • محکمہ داخلہ سندھ نے دھرنے اور مظاہرے روکنے کے لئے دفعہ 144 نافذ کردی

    محکمہ داخلہ سندھ نے دھرنے اور مظاہرے روکنے کے لئے دفعہ 144 نافذ کردی

    محکمہ داخلہ سندھ نے 11 مقامات پر دھرنے اور مظاہرے روکنے کے لئے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، پابندی کا اطلاق ہفتہ 17 اپریل سے اگلے دو ماہ کے لئے ہوگا۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے جن علاقوں میں دھرنے اور مظاہرے روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں نیشنل ہائی وے، انڈس ہائی وے، ریلوے ٹریک اور متصل علاقے شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق اندورن شہروں کو جانے والی شاہراہوں پر احتجاج اور دھرنے دینے پر بھی پابندی ہوگی۔ کراچی میں نادرن بائی پاس، ماڑی پور روڈ، حب ریور روڈ او رشاہراہ عثمان پر احتجاج کرنے پر پابندی ہوگی۔اس کے علاوہ کراچی کی شاہراہ فیصل اور لیاری ایکسپریس وے پر احتجاج اور دھرنے سمیت ریلیاں نہیں نکالی جا سکیں گی۔ پابندی کے باعث ان مقامات پر دھرنے، ریلیاں اور احتجاج نہیں کیا جا سکے گا۔

  • ملیرسٹی سے شہر میں منشیات کی سپلائی میں ملوث دو خواتین گرفتار

    ملیرسٹی سے شہر میں منشیات کی سپلائی میں ملوث دو خواتین گرفتار

    ملیرسٹی سے شہر میں منشیات کی سپلائی میں ملوث دو خواتین گرفتار۔
    باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق گرفتار خواتین خاندانی منشیات فروش ہیں۔دونوں خواتین کے خاندان کے متعدد افراد منشیات فروشی کے مقدمات میں جیل میں ہیں۔گرفتار خواتین سے ساڑھے سات کلو سے زائد حشیش برآمد۔گرفتار خواتین عزیزہ عرف چلی اور جنت بی بی عرف مامی کے نام پولیس کو انتہائی مطلوب منشیات فروشوں کی فہرست میں شامل تھے۔ دونوں خواتین کیخلاف 20 سے زائد منشیات کے مقدمات تھانہ ملیر سٹی میں درج ہیں۔گرفتار خواتین کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات حاصل کر لی گئیں۔دونوں خواتین شہر کے مختلف علاقوں میں منشیات کی سپلائی پہنچاتے تھیں۔گرفتار خواتین کیخلاف مقدمہ درج ہو گیا ہے اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • جمیل احمد نے ملازمین کیخلاف مقدمہ درج کرادیا

    جمیل احمد نے ملازمین کیخلاف مقدمہ درج کرادیا

    کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قومی اسمبلی کے رکن جمیل احمد کے 2 ملازم بھائیوں پر ایم این اے کو دھمکیاں دینے اور رقم واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔کام کرنے سے انکار پرپی ٹی آئی کے ایم این اے کیپٹن جمیل احمد کے 2 ملازم بھائیوں پر ملیر کینٹ تھانے میں جمیل احمد کے پولیٹیکل سیکرٹری آصف کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملازم اشرف اور اس کے بھائی افضل کے خلاف مقدمہ ایم این اے کو دھمکیاں دینے اور دھوکہ دہی کرنے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ مدعی نے بتایا کہ ماہ جنوی میں اشرف نے شادی کا بہانہ بناکر ایم این اے سے 15 ہزار روپے تنخواہ اور 10ہزار روپے ادھار لیکر گیا اور جب اس سے رابطہ کیا گیا تو اس نے ادھار کی رقم واپس کرنے اور واپس آنے سے منع کر دیا۔ ملزم کے بھائی محمد افضل نے فون پر ایم این اے کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں اور گالم گلوچ بھی کی۔ دوسری جانب ملزمان کے والد کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے افضل کو کیپٹن (ر) جمیل نے جھوٹی ایف آئی آر درج کروا کر بند کروایا ہے جبکہ گرفتار ملزم کی والدہ کا کہنا ہے کہ جمیل احمد ظالم آدمی ہے اور میرے بیٹے کو گالم گلوچ کرتا تھا جس کے باعث وہ نوکری چھوڑ کر آیا۔اُدھر رکن قومی اسمبلی جمیل احمد اور ملازم اشرف کے درمیان مبینہ گفتگو میں جمیل اشرف ان سے پوچھ رہے ہیں کہ تم 15 دن کا کہہ کر کیوں واپس نہیں آئے حالانکہ تمہیں ایڈوانس بھی دیا گیا۔ اس پر اشرف بتاتا ہے کہ فی الحال اس کا واپس آنے کا ارادہ نہیں، جمیل احمد کہتے ہیں کہ اگر تم بتاتے تو میں پہلے والا کُک نہ نکالتا، میں تم پر اور تمہارے باپ پر کراچی میں ایف آئی آر کٹواتا ہوں۔ اس دوران اشرف، رکن قومی اسمبلی کو ایزی پیسہ کے ذریعے رقم واپس لوٹانے کا بھی کہتا ہے لیکن جمیل احمد نہیں مانے اور اشرف کو گالیاں اور دھمکی دیتے رہے۔

  • ضلع ملیر میں جمعہ کے اجتماعات کے لئے مساجد اور امام بارگاہوں پرسکیورٹی کےانتہائ سخت انتظامات نظر آئے

    ضلع ملیر میں جمعہ کے اجتماعات کے لئے مساجد اور امام بارگاہوں پرسکیورٹی کےانتہائ سخت انتظامات نظر آئے

    ضلع ملیر میں آج جمعہ کے اجتماعات کے لئے مساجد اور امام بارگاہوں پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائ سخت انتظامات۔
    مساجد اور امام بارگاہوں کی طرف آنے جانے والی شاہراوں اور گذرگاہوں پر انتہائی مربوط سکیورٹی اورپولیس پیٹرولنگ کو یقینی بنانے کی ہدایات دیں گئیں ہیں۔تمام ایس ایچ اوز کو نماز جمعہ کے دوران اور نماز کے بعد اجتماعات کےاختتام تک مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کی سکیورٹی انتظامات کی کڑی نگرانی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ایس ایس پی ملیر کے مطابق ضلع میں تعینات تمام سب ڈویژنل آفیسرز جملہ سکیورٹی معاملات کی ازخود نگرانی کرینگے۔ ایس ایس پی عرفان بہادرنےمساجد اور امام بارگاہوں میں آنے والے تمام گاڑیوں کی مکمل چیکنگ کرنے کی ہدایت کی۔ سکیورٹی ڈیوٹی سر انجام دینے والے تمام پولیس اہلکاروں کو نماز کی ادائیگی کیلئے آنے والے افراد کی مکمل جامہ تلاشی لینے کی ہدایت دی گئیں مساجد اور امام بارگاہوں کے اطراف سے ٹھیلوں اور گاڑیوں کو مخصوص دوری پر پارک کرنے کی ہدایت۔ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کومساجد اور امام بارگاہوں کے اطراف کسی بھی مشکوک سرگرمیوں کو دیکھتے ہی فوری ریسپونس کرنےاور کمانڈنگ آفیسر کو اطلاع کرنے کی ہدایت جاری جبکہ سکیورٹی ڈیوٹی پر مامورتمام اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹ پہننے اور چاک و چوبند اور مستعد ہو کر ڈیوٹی سرانجام دینے کی کیساتھ اپنی حفاظت کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئیں تھیں۔