Baaghi TV

Category: کراچی

  • دو مبینہ ڈکیتوں کی پولیس پر فائرنگ, ملزم زخمی حالت میں گرفتار

    دو مبینہ ڈکیتوں کی پولیس پر فائرنگ, ملزم زخمی حالت میں گرفتار

    کراچی کے علاقے گلستان جوہر بلاک چودہ 14 میں دو مبینہ ڈکیتوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی تھی نہ رکنے پر موٹر سائیکل سوار اہلکاروں نے تعاقب کیا جس پر ملزمان نے فائرنگ کردی۔ ملزمان کی فائرنگ کی وجہ سے راہ گیر بھی زد میں آیا، ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جس سے اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ملزم کا ساتھی فرار ہو گیا واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

  • کراچی میں ایک بار پھر چکن کی قیمتوں کو پر لگ گئے

    کراچی میں ایک بار پھر چکن کی قیمتوں کو پر لگ گئے

    کراچی: ماہ صیام میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ شہر کراچی میں ایک بار پھر چکن کی قیمتوں کو پر لگ گئے۔ چکن کا گوشت 500 روپے فی کلو فروخت ہونے لگا۔ ماہ مبارک میں بھی کراچی کے عوام مہنگائی سے تنگ، چکن کی قیمتیں پھر حد سے تجاوز کرگئیں۔ بڑھتی قیمتوں پر کمشنر کراچی کی خاموشی نے بڑا سوالیہ نشان اٹھادیا۔ چکن کی بڑھتی قیمتوں کا کون ذمہ دار کون ہے دکاندار نے صاف ہاتھ اٹھالیے کہتے ہیں کمزور گردن پر چھری پھیرنا کہاں کا انصاف ہے۔ پیچھے سے گوشت مہنگا ملتا ہے آگے سستا کیسے بیچیں۔ دکانداروں نے حکومت سندھ اور کمشنر کراچی سے پرائس لسٹ پر نظر ثانی کی اپیل کردی کہتے ہیں گوشت کے ریٹ صحیح کیے جائیں۔

  • کراچی امراض قلب اسپتال کو این آئی سی وی ڈی کا حصہ بنانے کیلئے محکمہ قانون بلدیات سے مدد طلب

    کراچی امراض قلب اسپتال کو این آئی سی وی ڈی کا حصہ بنانے کیلئے محکمہ قانون بلدیات سے مدد طلب

    محکمہ صحت سندھ نے کراچی امراض قلب اسپتال(کے آئی ایچ ڈی)کو کارڈیو کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات تیز کرتے ہوئے محکمہ قانون اور بلدیات سے بھی مدد طلب کرلی ہے ۔ حکام محکمہ صحت کے مطابق کراچی امراض قلب اسپتال کو این آئی سی وی ڈی کا سیٹلائٹ سینٹر بنایا جائے گا . اس سلسلے میں محکمہ صحت نے تمام قانونی پہلووں پر عمل کرکے سمری وزیراعلی سندھ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
    این آئی سی وی ڈی کاحصہ بننے کے بعد اسپتال کو دیگر سیٹلائٹ سینٹرزکی طرح چلایا جائیگا ۔ حکام محکمہ صحت کے مطابق 170 بستروں کے اسپتال کو چلانے کیلئے الگ بجٹ کی منظوری بھی لی جائے گی۔

  • نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر نے کراچی کے دو طبی مراکز کو کورونا ویکسین لگانے کی اجازت دے دی۔

    نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر نے کراچی کے دو طبی مراکز کو کورونا ویکسین لگانے کی اجازت دے دی۔

    نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کراچی کے دو طبی مراکز کو کورونا ویکسین لگانے کی اجازت دے دی۔
    ذرائع کے مطابق این سی او سی کی جانب سے انڈس اسپتال اور ٹبا ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کو کورونا ویکسین لگانے کی اجازت دی گئی ہے جس کے بعد اب دونوں سینٹر لوگوں کو ویکسین لگانے کے اہل ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ این سی او سی کے تحت کراچی میں نجی سطح پر ویکسین لگوانے والے سینٹرز کی تعداد 6 ہوگئی۔کراچی میں کورونا ویکسی نیشن کرنے والوں میں ضیاالدین اسپتال، ساؤتھ سٹی، او ایم آئی، ہاشمانی ،انڈس اور ٹبا ہارٹ انسٹیٹوٹ شامل ہے۔

  • عوام کو محفوظ اور پرامن ماحول کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، گورنر سندھ کا وزیراعلی سندھ کو خط

    عوام کو محفوظ اور پرامن ماحول کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، گورنر سندھ کا وزیراعلی سندھ کو خط

    گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ عوام کو محفوظ اور پرامن ماحول کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، وفاقی حکومت کا واضح موقف ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور شرپسند عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے نام لکھے گئے خط میں کیا۔
    گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اپنے خط میں کہا کہ گزشتہ چند روز سے کراچی سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں چند شرپسند عناصر ناجائز احتجاج اور دھرنے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قیام امن میں چیلنجز کا سامنا ہے۔
    ور پرامن ماحول فراہم کرے اور ان شرپسند عناصر کی وجہ سے پیدا ہونے والے ٹریفک کے تعطل کو ختم کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ایسے تمام اور دیگر چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم ہے اور اس ضمن میں ہر ممکن کوششوں کو یقینی بنا رہی ہے۔
    گورنر سندھ نے اپنے خط میں کورونا وائرس کی وباکا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر نے پاکستانی عوام کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن الحمد اللہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس وباکو محدود کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل کے ساتھ پوری طرح پرعزم اور بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں صوبہ سندھ میں مثبت کیسز کا تناسب کافی کم ہے تاہم ہمیں اس قدر مستحکم صورتحال کو برقرار رکھنے اور بہتر بنانے کے لئے مزید متحرک اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
    این سی او سی اس ضمن میں تمام صوبوں کے ساتھ ایک جامع اور متفقہ حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔ گورنر سندھ نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور خصوصا متذکرہ پیچیدہ امور کو حل کرنے میں حکومت سندھ کی معاونت و مددگار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے باہمی ہم آہنگی کے فروغ اور ہر قسم کی مدد اور تعاون فراہم کرنے کے سلسلے میں وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو متحرک طریقے سے ادا کرتے رہیں گے۔ گورنر سندھ نے اپنے خط میں وزیراعلی سندھ کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے آغاز پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ رب العزت ہم سب کو اس مہینے کی برکتوں اور فضیلتوں کے طفیل سلامتی اور مغفرت عطافرمائے۔

  • کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب طبقہ پس گیا،وزیراعظم

    کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب طبقہ پس گیا،وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب طبقہ پس گیا اور ملک میں ایک دم غربت آ گئی۔سکھر میں سندھ کے 14 اضلاع کے لیے 446 ارب روپے کا پیکج دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق سے سارا پیسہ صوبوں کے پاس چلا جاتا ہے اور وفاق قرضے لےکر ملک چلاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈھائی سال میں ہم نے 35 ہزار ارب روپے واپس کیے، 15 ہزار ارب روپے سابق حکومت سے زیادہ قرض واپس کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے بنڈل جزیرے پر این او سی دے کر منسوخ کر دیا، اس سے نقصان سندھ کا ہو رہا ہے، منصوبہ بننے سے ملک میں سرمایہ کاری آتی اور لوگوں کو فائدہ ہوتا۔وزیراعظم عمران خان نے کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوانوں میں چیک بھی تقسیم کیے۔

  • کپتان کا نیا نام اعلان خان ،کس نے کر دیا تجویز؟

    کپتان کا نیا نام اعلان خان ،کس نے کر دیا تجویز؟

    کپتان کا نیا نام اعلان خان ،کس نے کر دیا تجویز؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے وزیراعظم عمران خان کا نیا نام تجویز کر دیا

    مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ وزیراعظم اعلانات کرتے ہیں لیکن وعدے وفا نہیں ہوتے، کپتان کا نیا نام اعلان خان تجویز کرنا چاہوں گا، ان سے تو ماضی کے منصوبے مکمل نہیں ہو رہے۔ ہر سال رمضان المبارک میں وزیراعظم کی سندھ میں دلچسپی ہو جاتی ہے، یہ رمضان میں کراچی آتے ہیں اور اپنے ہسپتال کیلئے چندہ مانگ کر چلے جاتے ہیں، آج بھی گورنر ہاؤس میں تقریب ہوگی، شوکت خانم ہسپتال کیلئے فنڈ ریزنگ کر کے چلے جائیں گے،

    شیخ رشید نے عدالت سے مانگی مہلت،چیف جسٹس نے کہا لوگ آپکی باتیں سنتے ہیں لیکن ادارہ نااہل

    اسد عمر حاضر ہو، شیخ رشید کے بعد سپریم کورٹ نے اسد عمر کو بھی طلب کر لیا

    جب تک 50 لوگوں کو فارغ نہ کیا بہتری نہیں آئیگی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    بحریہ ٹاؤن نے سرکاری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، حکومت کی آنکھیں کیوں بند ہیں؟ چیف جسٹس

    70 آدمیوں کے جلنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے، چیف جسٹس کا شیخ رشید سے مکالمہ کہا آپ کو تو استعفیٰ دینا چاہئے تھا

    مرتضیٰ وہاب کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان دنیا کے پہلے لیڈر ہیں جو حکومت میں ہوتے ہوئے دینے کی بجائے لے رہے ہیں۔ وزیراعظم کو جب کورونا ہوا تو ہم نے ان کی صحتیابی کیلئے دعائیں کیں، گورنر ہاؤس میں ایک تقریب ہوئی جس میں سب ماسک کے بغیر ساتھ ساتھ بیٹھے تھے، اگر آپ کو اسی طرح کے اجتماعات اور جلسے کرنے ہیں تو اتنی ویکسین منگوا لیں جو پوری عوام کو لگا سکیں۔ حکومت ویکسی نیشن کے عمل میں تیزی لائے، ہم نے احتیاط نہ کی تو پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، سندھ میں کورونا وائرس کی صورتحال قابو میں ہے، کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کریں، ماسک لازمی پہنیں

  • تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے حکومت دانشمندی سے کام لے، مفتی منیب الرحمن

    تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے حکومت دانشمندی سے کام لے، مفتی منیب الرحمن

    مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے کہاہے کہ تحریک لبیک یارسول اللہ کا نعرہ لگانے والوں کو براہ راست گولیاں چلائی گئی، ہم شہدا کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ،تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے، حکومت دانشمندی سے کام لے ، سارے گرفتار شدگان کو غیر مشروط طور پر رہا کرے۔
    موجودہ صورتِ حال کے ذمہ دار تحریک لبیک سے معاہدہ کرنے والے وفاقی وزرا ہیں، کیا انھیں معاہدہ کرتے وقت اس کے اثرات ونتائج کا اندازہ نہیں تھا، کیا انھوں نے معاہدہ کرنے کے بعد تحریک لبیک کی قیادت کو کسی مناسب حل تک آنے کے لیے آمادہ کیا ۔ معاہدے میں حکومت نے یہ ذمہ داری قبول کی کہ وہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں پیش کریں گے، اگر حکومت میں باقاعدہ سرکاری قرارداد پیش کرنے کی ہمت نہیں تھی ، تو کیاایک درمیانی راستہ یہ نہیں نکل سکتا تھا کہ وہ اپنے کسی رکنِ پارلیمنٹ کے ذریعے اس موضوع پر ایک پرائیویٹ قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کرادیتے، اس کے بعد یہ پارلیمنٹ پر منحصر ہوتا۔
    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی پریس کلب میں علامہ پیرسید حسین الدین شاہ، مولانا بشیر فاروق قادری ، علامہ سید مظفرحسین شاہ، مفتی عابد مبارک المدنی، علامہ رضوان احمد نقشبندی، مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
    مفتی منیب الرحمان نے کہاکہ لبیک یارسول اللہ کا نعرہ لگانے والوں پر براہ ِراست نشانہ لگاکر گولیاں چلائی گئی ہیں، مختلف ذرائع سے لوگوں نے بتایا ہے کہ کافی لوگ شہید ہوچکے ہیں اوربڑی تعداد میں لوگ شدیدزخمی ہیں۔دنیا کی مسلمہ روایت ہے کہ اگر مظاہرین اور احتجاج کرنے والوں کو روکنے کے لیے ناگزیر طور پر گولی بھی چلانی پڑے ، تو جسم کے بالائی حصے پر نہیں چلائی جاتی ، نچلے حصے پر چلائی جاتی ہے تاکہ موت کا باعث نہ بنے، لیکن سوشل میڈیا پر جو تصویریں وائرل ہوئی ہیں ،ان سے معلوم ہوتا ہے کہ گولیاں مظاہرین کے جسم کے بالائی حصے پر چلائی گئی ہیں اور یہ قتلِ عمد کے مترادف ہے ، جس کے حکم پر گولیاں چلی ہیں اور جنھوں نے چلائی ہیں،یہ سب اللہ تعالی کی عدالت میں جوابدہ ہوں گے۔
    ہم شہدا کے خاندانوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں اورجو پولیس کے افراد جاں بحق ہوئے ،ان کے لواحقین سے بھی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، یہ بھی غیر دانشمندانہ ہے ، اس کے دیرپا منفی اثرات مرتب ہوں گے، ماضی میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیمیں متبادل ناموں کے ساتھ میدانِ عمل میں موجود ہیں۔
    آپ حکومت کی طاقت اور قانون کے جبر سے لوگوں کی فکر اور مذہبی نظریات کو بدل نہیں سکتے، معاملات کو کسی قابلِ قبول صورت پر لانے کے لیے حکمت ودانش کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ہماری حکومت اور حکمران اس صلاحیت سے عاری ہیں، ان کے نزدیک حکومت صرف جبر وجور ، طاقت کو استعمال کرنے اور دوسروں کو اپنے مقابل حقیر جاننے کا نام ہے،ان سے خیر کی توقع عبث ہے۔
    ہم ان مظالم اور حکومت کے اس طرزِ عمل کی شدید ترین مذمت کرتے ہیں ۔اب بھی وقت ہے کہ حکومت دانشمندی سے کام لے ، سارے گرفتار شدگان کو غیر مشروط طور پر رہا کرے، ورنہ ان سارے خاندانوں میں حکومت کے خلاف نفرت کا لاوا پکے گا۔ تحریک کے سربراہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی اور ان کی شوری کے ذمے داران کو رہا کر کے ان سے بامعنی مذاکرات کیے جائیں تاکہ بتدریج صورتِ حال کو معمول پر لایا جاسکے ۔
    حکومت پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اس وقت پاکستان بھر میں اہلسنت وجماعت کے دینی جذبے سے معمور اورناموسِ رسالت پر فریفتہ متحرک اور پرجوش نوجوان ذہنی ،فکری اور عملی طور پر تحریک لبیک سے وابستہ ہوچکے ہیں،اگر اس صورتِ حال کا حکمت وتدبیر سے مداوا نہ کیا گیاتواس کے نتائج آئندہ قومی انتخابات میں حکومت کے لیے بھیانک ہوسکتے ہیں۔ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ تحریک لبیک پاکستان جو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے ، جمہوری دینی سیاسی جماعت ہے ، وہ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ملک کے آئین وقانون کے وفادار ہیں، اس لیے ان پر پابندی کا فیصلہ بلاتاخیر واپس لیا جائے۔
    مفتی منیب الرحمان اور دیگر علما نے کہاکہ ہم خطبائے کرام سے اپیل کرتے ہیں کہ جمع المبارک کے خطابات میں شہدائے ناموسِ رسالت کی بلندیِ درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کریں،تحریک لبیک کے ستم رسیدہ گرفتارکارکنان کی رہائی کے لیے دعا کریں اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں ، ان کے جذبات کو حوصلہ دیں اور ٹھنڈا رکھیں۔یہ ملک ہمارا ہے ، اس کا امن اور سلامتی ہم سب کو عزیز ہے، کسی بھی احتجاج میں سرکاری اور نجی املاک کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے ، یہ فعل شرعا جائز نہیں ہے۔
    حکمران دوسروں پر فتوے صادر کرنے سے پہلے اپنے ماضی کے کردار اور ایسے ہی باغیانہ اقوال وافعال کا جائزہ لیں، کیا کبھی انہوں نے خود اعترافِ جرم کر کے اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کیا ہے،کیا قانون صرف کمزور کے لیے ہوتا ہے ،طاقتور اور صاحبِ اقتدارقانون سے بالاتر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے میڈیا پر را،موساد،سی آئی اے، ایم آئی سکس ،خاد، کے جی بی،ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم ہرطرح کے اداروں کانام آسکتا ہے، لیکن تحریک لبیک پاکستان کا نام لینا یا اسکرین پر لکھنا ممنوع قرار دیا گیا ہے، اس لیے ایک مذہبی تنظیم لکھا جاتا ہے، یہ ہمارا آزادمیڈیا ہے، ظاہر ہے اس میں غیبی ہدایات اور دینی طبقات کے ساتھ ان لبرل اداروں کی اپنی عصبیتیں اورنفرتیں بھی شامل ہیں۔
    ماضی قریب میں چشمِ فلک نے یہ بھی دیکھا کہ بیس تیس افراد نے دھرنا دے کر کسی شاہراہ کو بلاک کردیا اور سیکورٹی کے اداروں نے اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے اس ناکہ بندی کو تقویت دی، تب نہ قومی اور ملکی مفاد مجروح ہوا، نہ ایمبولینسوں کی دہائی دی گئی ، نہ یہ کہا گیا کہ لوگوں کے لیے مشکلات پیش آرہی ہیں ، اس سے ریاست وحکومت اور میڈیا کی عصبیت کا ہر کوئی اندازہ لگاسکتا ہے۔
    اگر حکومت حالات کو بہتر بنانے میں سنجیدہ ہے تو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی اوران کی شوری کے ارکان کو رہاکرے تاکہ وہ اپنی شوری کی مشاورت سے حالات کو کنٹرول کریں، نیز ہم ان کی رہائی کے بعد ان سے اپیل کریں گے کہ زیرِ تصفیہ معاملات کو عیدالفطر کے بعد تک موخر کریںاور تمام اسیر کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔ہم پاکستان کو ریاستِ مدینہ قرار دینے والے وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ تاجدارِ ریاستِ مدینہ سیدنا محمد رسول اللہ ؐ کی سنتِ جلیلہ پر عمل کرتے ہوئے عفوِ عام کا اعلان کریں اور تمام گرفتار شدگان کی فوری رہائی کے احکام صادر کریں تاکہ آپ کے قول وفعل میں مطابقت نظر آئے۔

  • پاکستان میں اجناس کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ جوڑیا بازار احتجاج کے طور پر بند کردیا گیا

    پاکستان میں اجناس کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ جوڑیا بازار احتجاج کے طور پر بند کردیا گیا

    پاکستان میں اجناس کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ جوڑیا بازار کمشنر کراچی اور شہری انتظامیہ کے خلاف احتجاج کے طور پر بند کردیا گیا، بازار کی بندش سے شہر میں اجناس کی سپلائی معطل ہوگئی جبکہ بازار میں سے یومیہ روزگار کمانے والے سیکڑوں مریض بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔جوڑیا بازار پاکستان میں اجناس کی لائف لائن ہے، یہاں پاکستان بھر میں پیدا ہونے والے چاول، دالیں اور دیگر اجناس فروخت کی جاتی ہیں، دوسری جانب درآمدشدہ دالیں، مصالحہ جات اور دیگر خوردنی آئٹمز بھی اسی بازار سے ملک بھر میں سپلائی ہوتے ہیں۔
    رمضان کے مہینے میں گراں فروشی کی روک تھام کے لیے کی جانے والی نمائشی کارروائیوں میں جوڑیا بازار میں بھی چھاپے مارے جاتے ہیں اور جرمانے عائد کیے جاتے ہیں تاہم معاشی سست روی کی وجہ سے کاروباری مشکلات کا شکار تاجروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا جوڑیا بازا رکے تاجروں نے شہری انتظامیہ کی اندھادھند کارروائیوں اور بھاری جرمانوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کاروبار ہی بند کردیا۔
    ملک کی سب سے بڑی ہول سیل اجناس مارکیٹ جوڑیا بازار کے تاجروں نے بدھ کو اسسٹنٹ کمشنر گارڈن کی جانب سے دکانداروں پر جرمانے عائد کیے جانے پر احتجاج کیا، تاجروں کا کہنا تھا کہ بلاجواز جرمانوں کے ساتھ تاجروں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا جس پر تاجر سراپا احتجاج ہیں۔ کراچی ہول سیل گراسرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرؤف ابراہیم کے مطابق اجناس کی تھوک سرکاری قیمت میں تین سال سے ردوبدل نہیں کیا گیا لیکن شہری انتظامیہ ان قیمتوں کو نافذ کرنے پر بضد ہے۔
    اس سلسلے میں کمشنر کراچی کو بھی باضابطہ آگاہ کیا گیا اور کریانہ آئٹم کی سرکاری پرائس لسٹ جاری کرنے کی اپیل کی گئی، تاہم رمضان کی آمد کے باجود مارکیٹ کے نرخ کے مطابق پرائس لسٹ جاری نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ تین سال کے دوران ڈالر کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا، بین الاقوامی تجارتی حالات بدل گئے، ترسیل کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا ایسی صورتحال میں تین سال پرانے نرخ پر کیسے عمل کیا جاسکتا ہے۔
    عبدالرؤف ابراہیم نے کہا کہ انتظامیہ یا سندھ حکومت کے کسی نمائندے نے رابطہ نہیں کیا اور اگر تاجروں کی اپیل پر سنوائی نہ ہوئی تو ہفتہ کے روز بھی جوڑیا بازار بند رکھیں گے اور اجناس کی ترسیل میں تعطل سے پیدا ہونے والے حالات کی ذمہ داری سندھ حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ادھر جوڑیا بازار کی بندش سے بازار میں مزدوری کرنیو الے سیکروں مزدور بھی بے روزگار ہوگئے ،یومیہ اجرت کمانے والے سیکڑوں مزدور بوریاں اتارنے چڑھانے سے روزگار کماتے ہیں اسی طرح سیکڑوں کی تعداد میں چھوٹی بڑی لوڈنگ گاڑیاں، ہاتھ گاڑیاں اور گدھا گاڑیاں بھی جوڑیا بازار کے اندر اور بازار سے شہر کے مختلف علاقوں تک اجناس کی ترسیل پر مامور ہیں جو بازار کی بندش کی وجہ سے کھڑی ہوگئی ہیں۔
    بازار میں گدھا گاڑی چلانے والے افراد کا کہنا تھا کہ وہ یومیہ اجرت کماتے ہیں بدھ کوبھی بازار اچانک سر شام بند کردیا گیا اور جمعرات کو بھی بازار بند رہا،اب گھر خالی ہاتھ جانا پڑے گا لیکن جانور کو کیا کھلائیں گے،گدھے کی یومیہ خوراک تین چار سو روپے ہوتی ہے، خود تو بھوکے رہ سکتے ہیں لیکن جانور کو کیسے بھوکا رکھیں ،ہاتھ گاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کا کہنا تھا کہ کاروبار پہلے ہی کم ہوگیا ہے اور مزدور اکثر خالی ہاتھ گھر جاتے ہیں ،بازار بند ہونے سے سامان اٹھانے والے مزدورں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں۔
    شہر کے مختلف علاقوں سے جوڑیا بازار خریداری کے لیے آنے والے پرچون فروشوں کو بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، راشن تقسیم کرنے والے مخیر اداروں اور افراد کی بڑی تعداد بھی جوڑیا بازار کھلنے کی منتظر ہے، ایسے اداروں اور افراد کا کہنا ہے کہ رمضان میں مستحق گھرانوں کو راشن کی فراہمی کا عمل بھی جوڑیا بازار کی بندش کی وجہ سے معطل ہوگیا ہے۔

  • کریم آباد ضلع وسطی کا اہم علاقہ ہے جہاں سڑکوں کی خستہ حالی کے پیش نظر انہیں موٹر ایبل بنانے کا کام شروع کیا گیا:  لئیق احمد

    کریم آباد ضلع وسطی کا اہم علاقہ ہے جہاں سڑکوں کی خستہ حالی کے پیش نظر انہیں موٹر ایبل بنانے کا کام شروع کیا گیا: لئیق احمد

    ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ کریم آباد ضلع وسطی کا اہم علاقہ ہے جہاں سڑکوں کی خستہ حالی کے پیش نظر انہیں موٹر ایبل بنانے کا کام شروع کیا گیا اور 97 ہزار مربع فٹ استرکاری کردی گئی ہے، سڑکوں کی حالت بہتر ہونے سے کریم آباد اور اس کے کمرشل ایریا میں ٹریفک جام کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی اور ٹریفک کی روانی برقرار رہے گی، یہ بات انہوں نے کریم آباد میں محکمہ انجینئرنگ کے تحت ہونے والی سڑکوں کی استرکاری کا جائزہ لیتے ہوئے کہی، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ سڑکوں کی بحالی اور استرکاری کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اپنی مشینری اور افرادی قوت استعمال ہو رہی ہے اور شہر کے مختلف علاقوں کے سروے اور معائنہ کے بعد یہ کام ترجیحی بنیادوں پر کئے جا رہے ہیں تاکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے وسائل شہر کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر خرچ کئے جائیں اور شہریوں کو ان سے سہولت ملے، انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں ٹریفک کا رش بہت زیادہ ہے اور لوگوں کی آمدورفت 24 گھنٹے جاری رہتی ہے وہاں کی سڑکوں کو بہتر بنانا اور انہیں روشن رکھنا ضروری ہے، ضلع وسطی کی گنجان آبادی میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے سے سفری دورانیے میں کمی اور ایندھن کے خرچ میں بھی بچت ہوگی،انہوں نے کہا کہ محکمہ ورکس کی فیلڈ ٹیم مختلف سڑکوں اور شاہراہوں پر جہاں بھی ضرورت ہے پیوندکاری اور استرکاری کے کام انجام دے رہی ہے اور انہیں ہدایت کردی گئی ہے کہ بلاتاخیر ان کاموں کو مکمل کیا جائے تاکہ لوگوں کو جلد از جلد سہولت ملے .
    انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بحالی و استرکاری کے کام مستقبل میں بھی بلاتعطل جاری رہیں گے، ترقیاتی کاموں کا مقصد شہریوں کو ہرممکن سہولیات کی فراہمی ہونا چاہئے کیونکہ یہ بلدیاتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا کہ شہر میں جہاں بھی سڑکوں کی مرمت اور پیوندکاری کی ضرورت ہے وہاں ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے جس کے لئے ورکس ڈپارٹمنٹ حکمت عملی بنائے، ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کی پلاننگ ہونی چاہئے، ورکس ڈپارٹمنٹ کے افسران اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں، شہر کو بہتر بنانے کے لئے مسلسل کام کرنے ہیں اور ان کاموں کو ترجیح دینی ہے جن سے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت میسر آسکے۔