Baaghi TV

Category: کراچی

  • کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات، حکومت سندھ کا فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ

    کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات، حکومت سندھ کا فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ

    عالمی وبا کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کرتے ہوئے حکومت سندھ نے پاک فوج کی خدمات کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے۔سندھ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کے بعد صوبائی حکومت متحرک ہو گئی ہے اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کی خدمات کے لیے حکومت سندھ نے وزارت داخلہ کو خط کے ذریعے درخواست دے دی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے پاک فوج کی خدمات سول انتظامیہ کی مدد کے لیے درکار ہیں۔حکومت سندھ کا خط میں کہنا ہے فوجیوں کی تعیناتی اور سازو سامان سے متعلق مشاورت کے بعد آگاہ کیا جائے گا۔دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت تیار ہے، کورونا کی صورتحال بدتر ہوئی تو لاک ڈاؤن کر دیں گے۔

  • پاک سر زمین پارٹی کو بڑا دھچکا،پی ایس پی کا فیڈرل بی ایریا سے مکمل صفایا

    پاک سر زمین پارٹی کو بڑا دھچکا،پی ایس پی کا فیڈرل بی ایریا سے مکمل صفایا

    NA249 کے ظمنی انتخابات شروع ہونے سے چند دن قبل پاک سر زمین پارٹی کو بڑا دھچکا لگا۔
    پی ایس پی کا فیڈرل بی ایریا سے مکمل صفایاہوگیا.باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق
    پی ایس پی فیڈرل بی ایریا ٹاون کے زمیدار پچاس سے زائد کارکنان کے ہمراہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ۔
    پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والوں میں، علی بھائی ،عمیر اقبال ،ریحان مرزا ،شہزاد بھائی ،خضر اقبال ،عظمت بھائی ، بھی شامل ہیں۔
    پی ایس پی عہدارون نے پیپلز سیکرٹریٹ میں صدر کراچی ڈویژن و صوبائی وزیر سعید غنی سے ملاقات کے بعد شمولیت کا اعلان کیا۔
    ملاقات میں ڈسٹرکٹ سینٹرل کے صدر ظفر صدیقی،جنرل سیکرٹری کراچی جاوید ناگوری، جنرل سیکر ٹری دل محمد، ممبر سندھ کونسل عاطف مشتاق بلوچ ، انفارمیشن سیکرٹری شیراز مجید بلوچ، جوادجیلانی ،افضال نقوی ،صلاح سولنگی، زبیر قریشی اور دیگر ذمہ داران موجود تھے۔

  • کراچی چیمبر کا ایس او پیز نفاذ کے لیے فوج کی تعیناتی کا خیر مقدم، بازاروں کے اوقات بڑھانے کا مطالبہ

    کراچی چیمبر کا ایس او پیز نفاذ کے لیے فوج کی تعیناتی کا خیر مقدم، بازاروں کے اوقات بڑھانے کا مطالبہ

    کراچی چیمر کے عہدیداران نے ایس او پیز کے نفاذ کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کا خیر مقدم کرتے ہوئے بازاروں کے اوقات رات 12 بجے تک بڑھانے کا مطالبہ کردیا۔ کراچی چیمبر کے عہدیدار شارق وہرہ نے ایس او پیز نفاذ کے لیے سول انتظامیہ کے ساتھ فوجی جوانوں کی تعیناتی کا خیر مقدم کیا۔اُن کا کہنا تھا کہ ’ایس اوپیز نفاذ کے لیے فوج تعیناتی کے فیصلےکا خیرمقدم کرتےہیں‘۔ اس خیر مقدم کے ساتھ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’کراچی میں مارکیٹوں کے کاروباری اوقات دن 12سے رات 12 تک کیے جائیں‘۔شارق وہرہ نے کہا کہ ’کراچی کا مزاج مختلف ہے کیونکہ صبح 6 بجے نہ کوئی دکان کھولتا ہے اور نہ ہی خریدار بازار آتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ صبح وقت کو کم کر کے بازار دوپہر میں کھولنے اور رات کو دیر تک لین دین کی اجازت دی جائے‘۔اُن کا کہنا تھا کہ ’اب چونکہ فوج کی تعیناتی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، فوج کی نگرانی سے کرونا ایس اوپیز پر یقینی طورپرعمل درآمد ممکن بنایا جاسکےگا‘۔واضح رہے کہ ایک روز قبل وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ ’ایس او پیز کو عوام سنجیدگی سے نہیں لے رہے، اب حکومت فوج کے ذریعے عوام سے ایس او پیز پر عمل درآمد کروائے گی‘۔وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے بعد اسلام آباد میں فوج نے سول انتظامیہ کے ساتھ کام شروع کردیا، فوجی جوانوں نے مختلف شاپنگ مالز اور مارکیٹوں کا دورہ کر کے شہریوں کو ماسک لگانے کی تاکید کی۔

  • آئندہ آنے والے دنوں میں مون سون کا نیا اسپیل سندھ میں داخل ہونے جا رہا ہے،محکمہ موسمیات

    آئندہ آنے والے دنوں میں مون سون کا نیا اسپیل سندھ میں داخل ہونے جا رہا ہے،محکمہ موسمیات

    محکمہ موسمیات کی اطلاعات کے مطابق کل سے سندھ کے جنوب میں بحیرہ عرب میں ہوا کے کم دباؤ یعنی اپر ایئر سرکولیشن کی تشکیل ہوگی اور یہ ہوا کا کم دباؤ تھوڑی شدت اختیار کرتے ہوئے اپریل کے آخری اور مئی کے شروعاتی دنوں میں سندھ میں داخل ہوگا، اس دوران 24 اپریل سے 6 مئی کے دوران روزانہ کی بنیاد پر جنوب سے شمال تک سندھ کے میدانی علاقوں اور کیرتھر کے پہاڑوں پر گرج چمک کےبادل اور تھنڈرسٹورم بنیں گےجو مختلف علاقوں میں گرج چمک کے بارشوں، آندھی اور ژالہ باری کا باعث بنیں گے۔ اس سپیل کی سب سے زیادہ شدت 30 اپریل سے 06 مئی کے دوران ہوگی۔
    کئی سالوں بعد اچانک 2021 مئی کہ دوران سندھ پر ہوا کا کم دباؤ یا(یو اے سی )کنڈیشں بنے جا رہی ہے یہ ایک عجیب قسم کی بات ہے اور سندھ میں مون سون کی طرح ایک ہفتے تک چاروں طرف سے بادل بن کر ہر طرف سے گرج چمک اور آندھی شروع ہونگی اور عجیب قسم کی بارش ہوگی ،ہر طرف سے سندھ پر بادل پہرتے رہینگے۔آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ شاید مئی میں مون سون کی اسپیل آگیا ہے، لیکن یہ کنڈیشں کئی سالوں بعد رواں سال سندھ میں دیکھنے کو ملیں گي۔
    اطلاعات کے مطابق اپریل کے آخر اور مئی کے شروعاتی دونوں میں غیر معمولی حالات پیش آسکتے ہیں خاص طور پر سندھ میں گرج چمک آندھی اور طوفان ژالہ باری کے زیادہ تر امکانات ہیں،سندھ کے علاقے پنجاب اور بلوچستان میں بھی گرج چمک کے ساتھ آندھی اور ژالہ باری متوقع ہے۔

  • کراچی میں‌ چوری کی انوکھی واردات

    کراچی میں‌ چوری کی انوکھی واردات

    شہر قائد کے علاقے ڈیفنس میں واقع دکان میں تالہ توڑ گروپ چوری کی انوکھی واردات کرتے ہوئے لاکھوں روپے مالیت کے جوڑے لے کر فرار ہوگیا۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع بخاری کمرشل میں تالہ توڑ گروپ نے بوتیک کا تالا توڑا اور اندر رکھے 12 لاکھ روپے مالیت کے خواتین کے جوڑے لے کر فرار ہوگیا۔واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گروپ کے کارندوں نے تیز دھار آلے کی مدد سے دکان کا تالا کاٹا اور پھر اندر داخل ہونے کے بعد ایک ٹوکرے میں سوٹ بھر کر باہر لے آیا۔چوری کی اس واردات میں 25 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی استعمال ہوئی، چور اس کار میں تقریباً 12 لاکھ روپے مالیت کے جوڑے رکھ کر فرار ہوئے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں 2ملزمان کو بوتیک کے باہر جائزہ لیتے دیکھا جاسکتا ہے، جس میں سے ایک ملزم نے موقع دیکھ کر کٹر سے دونوں تالے کاٹے، جس کے بعد دونوں لڑکے اندر داخل ہوگئے۔ملزمان کے اشارہ کرنے پر کالے رنگ کی کارب وتیک کے سامنے آکر رکی اور پھر دونوں نے قیمتی جوڑوں کو بوریوں میں بھر کر کار کے پاس لائے، بعد ازاں ملزمان نے گاڑی کی ڈگی میں جوڑے ڈالے اور فرار ہوگئے۔

    شلوارقمیض، پینٹ شرٹ میں ملبوس ملزمان نے کیپ اور ماسک لگا رکھے تھے، جس کی وجہ سے اُن کی واضح شناخت نہیں ہوسکی۔ پولیس نے مالک کی شکایت اور سی سی ٹی وی فوٹیج ملنے کے بعد شواہد اکھٹے کیے اور واقعے کی تفتیش شروع کردی۔

  • این اے 249 ن لیگ کا انتخابی جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

    این اے 249 ن لیگ کا انتخابی جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

    مسلم لیگ (ن) سندھ نے این اے 249 کے ضمنی الیکشن کے لیے منعقدہ جلسہ عام ملتوی کردیا۔ن لیگ سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ اور عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید کی موجودگی میں مفتاح اسماعیل نے انتخابی جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے آج کراچی آنا تھا، اُن کی آمد پر بلدیہ میں بڑے انتخابی جلسے کا اہتمام کیا گیا تھا۔مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ آج کے جلسے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جمع ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے جلسے کو ملتوی کردیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم انتخابی مہم کے دوران کورونا وائرس کے پیش نظر بڑے جلسے نہیں کریں گے، گھر گھر جاکر انتخابی مہم چلائیں گے۔ن لیگی امیدوار نے یہ بھی کہا کہ این اے 249 کا ضمنی انتخاب منسوخ کرنے کی باتیں کرنے والے دراصل الیکشن سے بھاگنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حلقے میں احساس پروگرام کے کارڈز بانٹے جارہے ہیں، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے اس حلقے میں کوئی کام نہیں کیا، پہلی ترجیح حلقے کے عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی ہوگی۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ بھرپور مدد کرنے پر اے این پی کا شکر گزار ہوں، جے یو آئی ف اور جے یو پی نے بھی الیکشن مہم میں بھرپور مدد کی۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے شاہی سید نے کہاکہ اچھی بات ہے کورونا کی وجہ سے مریم نواز کا جلسہ منسوخ کیا گیا، 2018 میں بھی ہماران لیگ سے اس نشست پر اتحاد ہوا تھا۔

  • جن کے والد عالمی چور ہوں ان کے بیٹے حاجی ثناءاللہ بننے کی کوشش کررہے ہیں،خرم شیر زمان

    جن کے والد عالمی چور ہوں ان کے بیٹے حاجی ثناءاللہ بننے کی کوشش کررہے ہیں،خرم شیر زمان

    بلاول زرداری کے بیان پر پی ٹی آئی رہنماء خرم شير زمان کا بیان

    جن کے والد عالمی چور ہوں ان کے بیٹے حاجی ثناءاللہ بننے کی کوشش کررہے ہیں، عالمی وباء میں ایک صوبے پر تنقید بلاول کی لسانی سوچ کی عکاسی ہے، بلاول کورونا پر چیخ رہے ہیں ان کی جماعت جلسوں کا اعلان کررہی ہے، بلاول کی جماعت کے وزراء بھی بلاول کو بچہ سمجھ کر مشورہ نہیں کرتے، سندھ میں ویکسین سیاسی خاندانوں کو لگاکر بلیک پر بیچی جارہی ہے، سندھ میں کورونا رلیف فنڈ بلاول ہاؤس کی ایک تقریب پر خرچ کیا گیا، غریبوں کا راشن بلاول ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران استعمال ہوا، ادویات سمیت ہر چیز بلاول ہاؤس کے دربان ڈکارنے میں مصروف ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ جن کے خاندان عالمی چور ہوں وہ دوسری حکومتوں پر تنقید نہیں کیا کرتے۔بلاول سوشل میڈیا پر چند لڑکوں سے ہیرو بننے کی کوشش کررہےہیں۔
    واضع رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان بتائیں کہ کرونا وائرس کی ایس او پیز پر عمل درآمد کیلئے جو ٹائیگر فورس بنائی تھی، کیا وہ ناکام ہوگئی؟ نااہل، نالائق اور سلیکٹڈ حکمران کی غلط حکمت عملی کے سبب کرونا وائرس کی تیسری لہر ملک میں قابو سے باہر ہورہی ہے،پی ٹی آئی حکومت کی کرونا سے بچاؤ کی مؤثر آگاہی مہم نہ چلانے کی وجہ سے ملک میں ایس او پیز پر رضاکارانہ عمل کا رجحان تقریبا ختم ہوچکا ہے، دنیا کرونا ویکسین لگا کر وبا سے باہر نکل رہی ہے اور بدقسمتی سے ملک میں ویکسین نہ ہونے کے برابر ہے۔حکومت اگر چاہتی تو بروقت بڑے پیمانے پر کرونا ویکسین خرید سکتی تھی مگر عمران خان کی کوشش مفت امدادی ویکسین کا حصول رہی۔
    پی ٹی آئی حکومت کی کرونا ویکسین کی بروقت بڑے پیمانے پر خریداری میں مکمل ناکام کا خمیازہ پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں،وفاقی حکومت کرونا وائرس کے حوالے سے اب تک ملک میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے قابل ذکر اقدامات نہیں کرسکی ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کرونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی پر حکومت کی نااہلی کو ہر فورم پر بے نقاب کرتے رہینگے۔

  • انصاف کی فتح ہوگئی بابر خانزادہ کے قتل کی  ملزمان پر ایف آئی آر درج ۔

    انصاف کی فتح ہوگئی بابر خانزادہ کے قتل کی ملزمان پر ایف آئی آر درج ۔

    ٹنڈو الہیار شہری بابر خانزادہ پولیس لاکپ میں حلاکت
    انصاف کی فتح ہوگئی بابر خانزادہ کے قتل کی ملزمان پر ایف آئی آر درج ۔ایس ایچ او تھانہ اے سیکشن عمران چانڈیو ایس ایچ او سی آئی اے امتیاز ڈومکی سمیت سات اہلکار نامزد۔
    آج سے تین روز قبل ٹنڈو الہیار میں پولیس نے بھتہ وصولی کے لئے بابر خانزادہ کو گرفتار کیا تھا
    پئسے نہ ملنے پر پولیس کی جانب سے نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔جس کے بعد نوجوان کی لاش کو لاک اپ میں لٹکا کر خودکشی کا ڈرامہ بنایا گیا تھا ۔گزشتہ روز قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ ٹندو الہیار پہنچے تھے متاثرین سے ملاقات کی تھی ۔حلیم عادل شیخ متاثرہ خاندان کے ہمراہ تھانے پر ایف آئی آر کے اندراج کے لئے گئے تھے ۔

    حلیم عادل شیخ نےسندھ اسمبلی فلور پر بھی مقتول بابر خانزادہ کا کیس ایوان میں پیش کیا تھا ۔آئی جی سندھ کے نوٹس لینے پر پولیس افسران سمیت اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ آج یہ انصاف کی فتح ہوئی سندھ میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔سندھ میں اسی طرح پولیس عوام پر مظالم کر رہی اگر بالا افسران اسی طرح نوٹس لیتے رہے تو ہمیں کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آئی جی سندھ کا مشکور ہوں جنہوں نے نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی۔ بابر خانزادہ کے ورثا کے ساتھ ہیں ہر ممکن قانونی مدد کی جائے گی ۔ایڈووکیٹ علی پلھ کا مشکور ہوں جہنوں نے آواز اٹھائی۔ایڈووکیٹ علی پلھ و دیگر ان ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف ہر ظلم کے خلاف عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ سندھ میں جہاں بھی ایسے واقعات ہونگے ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • دکانداروں نے ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دیں، صدر میں خرید و فروخت جاری

    دکانداروں نے ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دیں، صدر میں خرید و فروخت جاری

    دکانداروں نے کرونا وائرس ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دی، صدر میں مالز تو بند ہوگئے لیکن بیشتر دکانیں کھلی ہیں اور خرید و فروخت بھی جاری ہیں۔پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر شدت اختیار کرتی جارہی ہے لیکن شہریوں کی جانب سے بے احتیاطی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، کراچی کے علاقے صدر میں شہریوں کا جم غفیر لگا ہوا ہے اور وقت گزرنے کے باوجود لوگ خریداری میں مصروف ہیں۔شہریوں کا مؤقف ہے کہ اتوار کو دکانیں بند پوں گی اس لیے آج خریداری کررہے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام کے رش کی وجہ سے کئی دکانیں 6 بجے کے بعد بھی بند نہیں کی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی، دکاندار اور عوام بغیر ماسک کے خرید و فروخت میں مصروف ہیں اور نہ سماجی فاصلہ اختیار کیا جارہا ہے۔کپڑے کی مارکیٹیں اور فورڈ اسٹریٹ تو کھلی ہی ہیں لیکن موبائل مالز و دکانیں بھی ایس او پیز پر عمل نہیں کررہے، صدر میں پولیس موبائلز سے دکانیں بند کرنے کے اعلانات جاری ہے.

  • جناح ہسپتال کے سامنے روڈ پر الیکٹرک کا پول خطرناک حد تک جھک گیا

    جناح ہسپتال کے سامنے روڈ پر الیکٹرک کا پول خطرناک حد تک جھک گیا

    کراچی میں جناح ہسپتال کے عین سامنے الیکٹرک کا پول خطرناک حد تک جھک گیا ہے۔مصروف ترین سڑک پر بجلی کی تاریں خطرناک حد تک نیچے آگئیں ہیں۔کے الیکٹرک کو بروقت اطلاع کرنے کے باوجود بجلی بند نہیں کی گئی نہ اب تک مرمت کا آغاز ہوا.کرنٹ دوڑتی تاریں گرنے سے جانی اور مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔ٹریفک پولیس خطرے کے پیش نظر بار بار ٹریفک روکنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔مگر یہاں کے الیکٹرک کا عملہ اب تک نہیں پہنچا۔سندھ حکومت اور کے الیکٹرک سے درخواست ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر جو پول اور تاریں ہیں اُن پر بھی خاص توجہ دی جائے۔