کراچی پاکستان میں آکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے خبردار کردیا.کورونا کی موجودہ لہر کے دوران اگر آکسیجن کی صنعتی شعبے کو فراہمی نہ روکی گئی تو اسپتالوں میں شدید کمی ہو سکتی ہے یہ خطرہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر اسپتالوں کو مسلسل آکسیجن کی فراہمی نہ ہوئی تو بھارت جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ عام حالات میں ایک مہینے کا اسٹاک رکھتے ہیں لیکن موجود صورتحال میں انہیں روزانہ کی بنیاد پر اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرنا پڑ رہی ہے پاکستان آکسیجن لمیٹڈ کے مطابق ملک میں پانچ کمپنیاں ہیں جو اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرتی ہیں.موجودہ حالات میں وہ اپنی 100 فیصد پیداوار دے رہی ہیں حکام کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کیسز بڑھے تو آکسیجن بنانے والی کمپنیوں پر دباو بڑھ جائے گا.
Category: کراچی
-

کراچی کی خاتون نے سب کو حیران کر ڈالا،رمضان ڈیل میں 208 برگر وصول کئے
دنیا بھر میں مختلف کمپنیز اور فوڈ چینز کی جانب سے مختلف مواقع پر ڈیلز متعارف کروائی جاتی ہیں جس سے صارفین بھرپور فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔
پاکستان میں بھی کھانے پینے اور دیگر اشیا کے شوقین حضرات ہر وقت ڈیل کے انتظار میں رہتے ہیں لیکن کراچی میں ایک خاتون صارف کی جانب سے حاصل کی گئی رمضان ڈیل،جس نے سب کو حیران کر دیا۔
کراچی میں واقع ایک مشہور بین الاقوامی فوڈ چین کی جانب سے ایک بینک کے اے ٹی ایم کارڈ پر ڈیل متعارف کروائی گئی جس کے تحت ایک صارف ایک دن میں 550 روپے کے ذریعے 4 زنگر برگر حاصل کر سکتا ہے اور ایک کارڈ پر 24 گھنٹے میں دو مرتبہ ڈیل سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔تو جناب جب کراچی کی خاتون کو اس ڈیل کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ فوراً ایک دو نہیں پورے 26 اے ٹی ایم کارڈ لیکر کراچی کے علاقے خیابان شہباز میں واقع فوڈ چین پہنچ گئیں اور ہر کارڈ کے عوض دو ڈیلز آرڈر کر ڈالیں۔
فوڈ چین کے مینیجر نے بتایا کہ خاتون کو برگر دینا تو ہماری مجبوری تھی کیونکہ کمپنی نے یہ ڈیل متعارف کروا رکھی تھی لیکن اس سے بھی دلچسپ بات یہ تھی کہ خاتون کو تمام کارڈز کے پن کوڈز بھی یاد تھے یا پھر انہوں نے پن کوڈذ اپنے موبائل میں سیو کر رکھے تھے۔
بین الاقوامی فوڈ چین کے مینیجر نے بتایا کہ خاتون نے 26800 روپے کا بل ادا کیا اور 208 برگر لیکر چلی گئیں۔ -

کراچی میں ایک مخصوص ساخت کی گاڑی چوروں کے نشانے پر آگئی
کراچی میں ایک مخصوص ساخت کی گاڑی چوروں کے نشانے پر آگئی۔چور گلی، سڑک یا پارکوں کے باہر کھڑی ان گاڑیوں کے اگلے دروازے کا شیشہ توڑ تے ہیں اور گاڑی کے تمام پینلز اور ڈیجیٹل ڈسپلے آئٹمز نکال کر رفو چکر ہوجاتے ہیں۔حیرت انگیز طور پر چوروں کو گاڑی کا شیشہ توڑ نے سے لے کر ان میں سے چیزیں نکالنے کے تک عمل میں ایک منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔چور گاڑی کا سامان ساتھ لے جانے کے لیے بوری بھی ساتھ لاتے ہیں۔گاڑیوں سے سامان چوری کی واداتوں میں موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان ہی نظر آئے ہیں۔متعدد وارداتوں کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آچکی ہے، لیکن چور اب تک پولیس کی پکڑائی سے دور ہیں۔
-

اجتماعات سمیت سب چیزیں بند کر دی جائیں،شیری رحمٰن
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ اب وقت ہے کہ تمام اجتماعات سمیت سب چیزیں بند کر دی جائیں۔ایک بیان کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں آج بھی کورونا وائرس کی مثبت شرح بلند ہے، اس ضمن میں صوبے اپنے طور پر مزید کام نہیں کر سکتے۔شیری رحمٰن نے یہ بھی کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے سبب پابندی کے لیے 2 ہفتوں کا انتظار نہ کیا جائے، اب وقت ہے کہ تمام اجتماعات سمیت سب چیزیں بند کر دی جائیں۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کی جاری تیسری لہر کے دوران پاکستان بھر میں مریضوں اور اموات میں تیزی سے اضافہ جاری ہے، کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں پاکستان 31 ویں نمبر پر ہےنیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 5 ہزار 908 کیسز سامنے آئے ہیں، مزید 157 افراد اس موذی وباء کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئے، 4 ہزار 198 مریض شفایاب ہو گئے، جبکہ مثبت کیسز آنے کی شرح 11 اعشاریہ 27 فیصد ہو گئی۔ملک بھر میں کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 16 ہزار 999 ہو گئی ہے، جبکہ کُل مریضوں کی تعداد 7 لاکھ 90 ہزار 16 ہو چکی ہے۔24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید 52 ہزار 402 ٹیسٹ کیئے گئے، جبکہ اب تک کُل 1 کروڑ 14 لاکھ 83 ہزار 643 کورونا ٹیسٹ کیئے جا چکے ہیں۔ملک بھر میں اسپتالوں، قرنطینہ سینٹرز اور گھروں میں کورونا وائرس کے کُل 86 ہزار 529 مریض زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 4 ہزار 682 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے، جبکہ 6 لاکھ 86 ہزار 488 مریض اب تک اس بیماری سے شفایاب ہو چکے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 98 اموات پنجاب میں ہوئیں،جبکہ خیبر پختون خوا میں 37، سندھ میں 11، اسلام آبادمیں 5، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں3، 3 کورونا مریض جاں بحق ہوئے۔
-

بلاول بھٹو زرداری کا ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ملک بھر میں کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا سے افسوس کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کرونا وائرس کی تیسری لہر کے پھیلاؤ کے کڑے وقت میں ملک بھر کے ہیلتھ ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے،پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں کرونا وائرس حکومتی نااہلی کی وجہ سے آج قابو سے باہر ہوچکا ہے،اگر بروقت لاک ڈاؤن کرلیا جاتا تو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو بآسانی روکا جاسکتا تھا،ویکسی نیشن وہ واحد طریقہ ہے کہ جس کو اختیار کرکے کرونا وائرس اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن سے ہونے والی معاشی مشکلات سے بچا جاسکتا ہے،عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ کرونا وائرس کو قابو کئے بغیر ملک میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنا ممکن نہیں،عمران خان کو کرونا وائرس ریلیف فنڈ کے ایک ایک روپے کا حساب دینا ہوگا،عمران خان بتائیں کہ کرونا وائرس کی ایس او پیز پر عمل درآمد کیلئے جو ٹائیگر فورس بنائی تھی، کیا وہ ناکام ہوگئی؟کورونا کی تیسری لہر وائرس کی وہ برطانوی قسم ہے جو حکومتی نااہلی کی وجہ سے ائیرپورٹس پر کڑی نگرانی نہ ہونے کے سبب ملک میں آئی،عمران خان نے کرونا وائرس کا شکار ہونے کے باوجود قرنطنیہ میں پانچ رکنی اجلاس کی سربراہی کی،جس ملک کا وزیراعظم کرونا وائرس کا شکار ہوکر احتیاط نہ کرے، اس ملک میں عام آدمی کیسے ایس او پیز کا خیال کرے گا،نااہل، نالائق اور سلیکٹڈ حکمران کی غلط حکمت عملی کے سبب کرونا وائرس کی تیسری لہر ملک میں قابو سے باہر ہورہی ہے،پی ٹی آئی حکومت کی کرونا سے بچاؤ کی مؤثر آگاہی مہم نہ چلانے کی وجہ سے ملک میں ایس او پیز پر رضاکارانہ عمل کا رجحان تقریبا ختم ہوچکا ہے،دنیا کرونا ویکسین لگا کر وبا سے باہر نکل رہی ہے اور بدقسمتی سے ملک میں ویکسین نہ ہونے کے برابر ہے،اگر موجودہ رفتار سے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جاتی رہی تو پاکستان میں تین سے زائد سالوں میں صرف 20 فیصد آبادی کو ویکسین لگ سکے گی،حکومت اگر چاہتی تو بروقت بڑے پیمانے پر کرونا ویکسین خرید سکتی تھی مگر عمران خان کی کوشش مفت امدادی ویکسین کا حصول رہی،چین اگر ویکسین عطیہ نہیں کرتا تو پاکستان میں فوری طور پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ڈوز فراہم کرنے کا سلسلہ نہ شروع ہوپاتا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں پی ٹی آئی حکومت کی کرونا ویکسین کی بروقت بڑے پیمانے پر خریداری میں مکمل ناکامی کا خمیازہ پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں،دنیا میں چند سو روپوں کی کورونا ویکیسن کی ایک خوراک کی قیمت پاکستان میں ہزاروں روپے میں ہے،کرونا وائرس کی ویکسین مفت یا کم از کم عالمی منڈی کی اصل قیمت کے مطابق ملنا عوام کا بنیادی حق ہے،پنجاب کی وزیرصحت کے بیان کہ لوگ ویکسین اپنی ذمہ داری پر لگوائیں، ہم ذمہ دار نہیں، سے عوام میں ویکسین سے متعلق خوف اور شک پیدا ہوگیا،وفاقی حکومت کرونا وائرس کے حوالے سے اب تک ملک میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے قابل ذکر اقدامات نہیں کرسکی ہے،پاکستان کے دیگر صوبوں کو سندھ حکومت کی طرز پر کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کرنا ہوں گے،سندھ میں ہر 10 لاکھ میں سے 73 ہزار 337 افراد کے کرونا ٹیسٹ ہوئے جبکہ پنجاب میں ہر 10 لاکھ میں سے 40 ہزار 35 افراد کے کرونا ٹیسٹ ہوئے، سندھ حکومت محدود وسائل اور اختیارات کے باوجود صوبے کے عوام کو کرونا سے بچانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی،پاکستان پیپلزپارٹی کرونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی پر حکومت کی نااہلی کو ہر فورم پر بے نقاب کرتی رہے گی.
-

کرونا وائرس کی تیسری لہر خطرناک ہے عوام احتیاط کریں،فضا ذیشان
صدر پی ٹی آئی کراچی وومن ونگ فضا ذیشان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی تیسری لہر خطرناک ہے عوام احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
کرونا وباء میں عوام کی بے احتیاطی کسی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے، کرونا وائرس کے سبب ملک بھر میں اموات کی شرح میں اضافہ تشویشناک ہے، عوام این سی او سی کے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، بھارت میں کرونا وباء کا پھیلاؤ زور پکڑ چکا ہے،صوتحال کی بہتری کیلئے دعا گو ہیں۔
کرونا وباء پر قابو کیلئے عوام ماسک سنیٹائزر کا استعمال یقینی بنائیں۔ -

لیاقت آباد میں سڑک کے درمیان کچرے کا ڈھیر انتظامیہ کی لاپرواہی ہے،ریاض حیدر
ضلع وسطی لیاقت آباد میں سڑک کے درمیان کچرے کا ڈھیر انتظامیہ کی لاپرواہی بیان کررہا ہے، رکن سندھ اسمبلی ریاض حیدر کہتے ہیں لیاقت آباد شہر قائد کا ایک رہائشی اور تجارتی علاقہ ہے، کچرے کے لگے انبار اس علاقے میں رہائشی و تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کررہے ہیں، سندھ حکومت کرونا وباء کے معاملے پر انتہائی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے،کرونا، ڈینگی اور دیگر بیماریوں پر قابو پانے کا ایک جز صفائی بھی ہے، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقوں کی ناقص صورتحال کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے، حکومت کی ناک کے نیچے انتظامیہ غفلت برتنے پر گامزن ہے عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں.
-

حیدرآباد میں لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز،کیسز میں 15 فیصد تک اضافہ
حیدرآباد سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز مزید 176 کیسز سامنے آگئے جس کے بعد شہر میں فعال کورونا کیسز کی تعداد 1100 سے تجاوز کر گئی جبکہ کیسز میں اضافے کی شرح 15 فیصد رہی۔
ڈپٹی کمشنر حیدرآباد فواد سومرو نے بتایا کہ حیدرآباد میں کورونا وائرس کی نئی قسم برطانیہ سے آئی ہے، یہ کورونا وائرس کی نئی قسم ہے اس کے لیے لمس کے پروفیسر ڈاکٹر اکرام اجن سے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے آگاہ کریں۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر لالہ جعفر پھٹان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں کورونا کیسز میں اضافہ تشویشناک ہے، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کو بھی لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جس طرح شہری ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہے، کیسز میں مزید اضافے کا امکان ہے، لیاقت یونیورسٹی کے وارڈ کورونا وائرس کے مریضوں سے بھر گئے ہیں۔
-

ڈاکٹر صغیر احمد کی بھابھی انتقال کر گئیں
کراچی :پاک سرزمین پارٹی کے اہم رکن ڈاکٹرصغیر احمد کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر شیراز احمد کی اہلیہ ڈاکٹر مونا صدف کا رضائے الہی سے انتقال کر گئیں ہیں –
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈاکٹرصغیر احمد کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر شیراز احمد کی اہلیہ ڈاکٹر مونا صدف کا رضائے الہی سے انتقال کر گئیں ہیں ان کی نماز جنازہ آج 11 رمضان المبارک بروزہفتہ 24 اپریل بعد نماز ظہر بیت المکرم مسجد گلشن اقبال میں ادا کی جائے گی۔
جنازہ ڈاکٹر صغیر احمد کی رہائش گاہ سے اٹھایا جائےگا جبکہ تدفین بل مقابل آرامش بینگلوز کنٹومنٹ بورڈگلستان جوہربلاک 19 کے قبرستان میں ہوگی-
نوٹ : بیت المکرم مسجد میں ظہر کی نماز 1.15 پہ ادا ہوتی ہے-
واضح رہے کہ ڈاکٹر صغیر احمد ایک سیاسی شخصیت ہیں اور وہ سیاسی جماعت ایم کیو ایم (متحدہ قومی موومنٹ) کے رکن رہے۔ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر ، وہ تین بار صوبائی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔ مصطفی کمال کی پاکستان واپسی کے بعد صغیر نے ان میں شمولیت اختیار کی اور ایم کیو ایم کے ساتھ اپنی طویل المدتی رفاقت ختم کردی۔
-

کراچی کے ہوٹلوں نے کورونا ضوابط کی دھجیاں اڑادیں
کہاں ہے ماسک؟ کیسا فاصلہ اور کیس احتیاط؟ کراچی کے ہوٹلوں نے کورونا ضوابط کی دھجیاں اڑا دیں۔کراچی کے ریسٹورنٹس کے باہر ہجوم نے کورونا ضوابط (ایس او پیز) کو قرنطینہ میں بھیج دیا ہے۔حکومت اور انتظامیہ کس ادارے سے ایس او پیز پر عمل کرائے گی؟ کیسے انسانی زندگیوں کو بچایا جائے گا؟کراچی کی 3 فوڈ اسٹریٹ پر کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا، ان فوڈ اسٹریٹ پر بھی ہر روز کھانا کھانے کے لیے آنے والوں کا رش لگا ہوا ہے۔حسین آباد فوڈ اسٹریٹ پر رش ہے، کہیں بھی ماسک کا استعمال نظر نہیں آیا اور نہ ہی سماجی فاصلے کا کوئی خیال رکھا جارہا ہے۔کراچی کی مشہور فوڈ اسٹریٹ برنس روڈ پر کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے، یہاں نہ تو لوگوں نے ماسک لگایا اور نہ ہی فاصلے کا خیال رکھا ہوا ہے۔بوٹ بیس پر بھی کھانا کھانے کے لیے آنے والے لوگ ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں، یہاں موجود کچھ لوگوں نے تو کورونا کی حقیقت سے ہی انکار کر دیا۔
