Baaghi TV

Category: کراچی

  • سعد رضوی نے اپنی ضد نہ چھوڑی اور بات چیت نہ کی تو ہم پارٹی چھوڑ دینگے

    سعد رضوی نے اپنی ضد نہ چھوڑی اور بات چیت نہ کی تو ہم پارٹی چھوڑ دینگے

    تحریک لبیک پاکستان سندھ کے امیر نے فوری طور پر حکومت سے مذاکرات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سعد رضوی نے اپنی ضد نہ چھوڑی اور بات چیت نہ کی تو ہم پارٹی چھوڑ دینگے۔تفصیلات کے مطابق اپنے ویڈیو پیغام میں ٹی ایل پی سندھ کےامیر رضی حسینی نے مرکزی قیادت ‏کو مشورہ دیا کہ مسائل سڑکوں پرنہیں بات چیت سے حل ہوں گے، ملک میں جہاں بھی احتجاج ‏ہورہا ہےاسےختم کرکے قیادت سے رجوع کیا جائے۔ٹی ایل پی سندھ کے امیر نے کہا کہ ملک میں جواس وقت افراتفری ہے،اس کے باعث کئی بےگناہ ‏جانوں کا نقصان ہوا ہے، حکومت سے بات چیت کے زریعے مسائل حل نہ ہوئے تو قوم سعدرضوی ‏سے مایوس ہوجائےگی۔
    رضی حسینی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ احتجاج سے متعلق سعد رضوی نے اپنی ضد نہ چھوڑی ‏اوربات چیت نہ کی تو ہم پارٹی چھوڑدینگے۔امیر ٹی ایل پی سندھ رضی حسینی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم کسی اورکیلئےنہیں ‏حضورﷺکی حرمت کے لئےنکلے ہیں، مسائل سڑکوں پر نہیں بات چیت سے حل ہوں گے، ‏مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹرشفیق مسئلے کو فوری مذاکرات سےحل کریں۔ٹی ایل کے مستقبل کے حوالے سے آج بڑی پیش رفت بھی سامنے آئی، جہاں وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی ہے، پنجاب حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سفارش کی تھی۔ذرائع کابینہ ڈویژن کے مطابق وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دیدی ہے، وفاقی کابینہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی کی منظوری دی، وفاقی کابینہ سے منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے لی گئی۔واضح رہے کہ گذشتہ روز شہر قائد میں مذہبی جماعت کے پر تشدد مظاہروں میں 35 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، زخمیوں میں ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر بھی شامل تھے، حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے مجموعی طور پر 16 مقدمات درج کرلیے اور کارروائیوں کے دوران 183 افراد کو گرفتار کیا گیا۔پولیس کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، شہریوں کی حفاظت کے لیے پولیس ہر وقت موجود ہے۔اس سے قبل محکمہ داخلہ سندھ نے قانون کی خلاف ورزی پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کراچی کے تین رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، رہنماوں میں مولانا عباس قادری ، مولانا غوث بغدادی اور زین العابدین شامل تھے۔

  • سندھ ہائی کورٹ میں اے لیول اور اولیول امتحانات لینے کے خلاف درخواست پر سماعت

    سندھ ہائی کورٹ میں اے لیول اور اولیول امتحانات لینے کے خلاف درخواست پر سماعت

    سندھ ہائی کورٹ اے لیول اور اولیول امتحانات سے متعلق وفاقی حکومت سے پالیسی طلب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم سے جواب طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں اے لیول اور اولیول امتحانات لینے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ، عدالت نے استفسار کیا کہ بتایاجائے اے لیول، او لیول امتحانات سے متعلق کیاپالیسی ہے اور آن لائن امتحانات لینے یا نہ لینے سے کیا اثر پڑے گا۔وکیل طلباو طالبات نے کہا دنیامیں امتحانات آن لائن لیے جارہےہیں، پاکستان واحد ملک ہے، جہاں امتحانات کے لیے بلایا جارہا ہے۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ وفاقی وزیرتعلیم کےبیانات توآرہے ہیں، وفاقی وزیر تعلیم اس امتحانات سے متعلق بھی پالیسی بتائیں۔عدالت نے اے لیول اور اولیول امتحان سے متعلق وفاقی حکومت سےپالیسی طلب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم سے جواب طلب کرلیا اور 21 اپریل تک سماعت ملتوی کردی۔

  • کےڈی اے ڈائریکٹر اپنے کرپٹ مشیران کے ہاتھوں کٹپتلی بن گئے،اختیارات کا غلط استعمال

    کےڈی اے ڈائریکٹر اپنے کرپٹ مشیران کے ہاتھوں کٹپتلی بن گئے،اختیارات کا غلط استعمال

    نادارہ ترقیات کراچی میں ایک مرتبہ پھر مفت ترقی کی کوشش کوناکام بنادیا گیا، ڈائریکٹر جنرل KDA نے 6 افسران کی گریڈ 18 سے 19 میں ترقی کیلئے منظور شدہ DPC کا فیصلہ منسوخ کر کے گورننگ باڈی کے اختیارات کو چیلنج کر ڈالا، DG ناصر عباس سومرو کےاقدام کو ادارے کے افسران نے اختیارات سے تجاوز اور خلاف ضابطہ قرار دیدیاافسران کا چیئرمین گورننگ باڈی اور وزیربلدیات ناصرحسین شاہ سمیت اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل منظور شدہ DPC🤝 مبینہ مک مکا کیلئے منسوخ کی گئی،بعض افسران کاالزام مقاصد جاننے کیلئے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی کے ڈائریکٹر جنرل ناصر عباس سومرو اپنے کرپٹ مشیران کے ہاتھوں کھلونا بن کر رہ گئےہیں،ذرائع کاکہنا ہےکہ ڈیجی سیکریٹریٹ میں تعینات افسران ناصر عباس سومرو کے خود ساختہ مشیر بنے ہوئے ہیں جس میں ندیم زاہد کا نام سرفہرست بتایا جاتا ہے ،ذرائع کے مطابق ڈی جی سیکریٹریٹ کے مال پکڑ خودساختہ مشیران نےادارہ ترقیات کراچی میں ایک مرتبہ پھر افسران کو مفت ترقی ملنے کی کوشش ناکام بنادی ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے کے 6 افسران جن کی گریڈ 18 سے گریڈ 19 میں ترقی کیلئے ڈی پی سی بھی ہوچکی ہے اور گورننگ باڈی کے ممبران اس کی منظوری بھی دے چکےہیں لیکن مذکورہ ڈی پی سی کے فیصلے کو ڈی جی کے ڈی اے ناصر عباس سومرو نے اپنے مشیران کی مبینہ فرمائش پر منسوخ کر کےانوکھاکارنامہ انجام دیدیا ہے،ادارے کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ DPC فیصلہ منسوخ کرنے کا اختیار ڈائریکٹر جنرل کے پاس نہیں ہے کیونکہ ڈائریکٹر جنرل خودگورننگ باڈی کے ایک ممبرانِ ہیں۔جبکہ گورننگ باڈی کئی ممبران پر مشتمل ہے۔ گورننگ باڈی کے چیئرمین صوبائی وزیر بلدیات سندھ ہیں اور ڈی پی سی میں دیگر ممبران دستخط کر کترقی کی منظوری دےچکے ہیں جنہیں مبینہ ذاتی مفادات کے لئے بوگس قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے،کےڈی اے کے بعض افسران کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ڈی پی سی فیصلے کو منسوخ کرنے کی وجہ مفت ترقی ملنے کی کوشش کو ناکام بنانا ہے تاکہ ترقی کے خواہشمندافسران سے مک مکاکیاجاسکے،کےڈی اے افسران نے ڈائریکٹر جنرل کےاختیارات سے تجاوز کرنے پر چیئر مین گورننگ باڈی سمیت دیگر اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے، اور ڈی پی سی منسوخی کا لیٹر جاری کرنے کے پس پردہ عزائم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے.

  • پی ٹی آئی وفد کی خرم شیر زمان کی قیادت میں الیکشن کمیشن سے ملاقات، این اے 249میں سیکیورٹی خدشات

    پی ٹی آئی وفد کی خرم شیر زمان کی قیادت میں الیکشن کمیشن سے ملاقات، این اے 249میں سیکیورٹی خدشات

    پی ٹی آئی وفد کی الیکشن کمیشن کے دفتر آمد.
    وفد کی سربراہی پی ٹی آئی لیڈر خرم شیر زمان کررہے ہیں،اراکین وفد میں پارلیمانی لیڈر بلال غفار، اراکین اسمبلی رمضان گھانچی، شہزاد قریشی شاملِ ہیں۔وفد نے این اے 249 پر اپنے تحفظات پیش کیے۔اسی سلسلے میں وفد کی صوبائی الیکشن کمشنر سے ملاقات ہوئی،ملاقات میں درخواست کی گئی کہ این اے 249 پرپولنگ کا دن تبدیل کیا جائے، اور سیکیورٹی کے بہتر انتظامات بھی کیے جائیں،خرم شیر زمان نے بتایا کہ پی ایس 88 میں بھی ہمیں شکایات ملتی رہی،جسکی بنا پر ہم مطالبہ کررہے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر مقرر کیے جائیں،تاکہ الیکشن کے اندر دھاندلی کے خدشات کو روکا جاسکے اورعوام کے ووٹ کی حفاظت ہوسکے۔
    خرم شیر زمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کچھ تحفظات تھے،الیکشن کمیشن کو زیادہ تکلیف ہے تحریک انصاف سے،عوام کے مفاد کے متعلق بات سنی نہیں جاتی،اس سے قبل بھی ہم نے رمضان کے مبارک مہینے میں الیکشن نہ کرانے کی درخواست کی تھی،وہ بھی ہماری ڈیمانڈ نہیں سنی گئی،لہذا 29 تاریخ کو ہونے والےالیکشن تبدیل کرکے اتوار کے دن کرائے جائیں،بلدیہ میں جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے،الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کرانے میں ناکام ہوچکاہے،ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ڈسکہ والے معاملات واپس ہوں،حالات خراب نہ ہو،ووٹرز کو تکلیف نہ ہو، الیکشن کمیشن ان معاملات پر توجہ دے،این اے 249 کے سیکورٹی معاملات کو بہتر کیا جائے، انھوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کوکنٹرول کرنے میں وفاق اپنا کردار کر رہا ہے،اراکین خود مارکیٹ جاکر ریٹ چیک کریں،اس صوبے کا نالائق وزیر اعلیٰ کیا کررہاہےوہ اپنے کمشنر کو بلا کر پوچھے، مہنگائی کی اصل زمیدار بلاول زرداری کی نالائق حکومت ہے،کمشنر کی لسٹ پر چیزیں دستیاب نہیں ہیں،دکانداروں کے غیر قانونی اشیاء کے اضافے کی زمیدار سندھ حکومت ہے،اب بلاول زرداری کہاں ہیں پی ڈی ایم سے ٹھنڈک پے گئی ہے تو سندھ کی عوام کی فکر کریں،تحریک ایک انصاف پسند سیاسی جمہوری جماعت ہے،اسوقت ہماری جماعت اچھی پوزیشن میں ہے،اس سیٹ کو ہم واپس لیں گے،سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر الیکشن کے دن فول پروف سیکورٹی دی جائے۔

  • لاپتہ شہریوں کو بازیاب کرانا حکومت کے لیے چیلینج بن گیا

    لاپتہ شہریوں کو بازیاب کرانا حکومت کے لیے چیلینج بن گیا

    لاپتہ شہریوں کو بازیاب کرانا حکومت کے لیے چیلینج بن گیا۔ سالوں سے گمشدہ لوگوں کا معاملا سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا۔ تین سال سے لاپتہ اعزازالحسن کی عدم بازیابی پر عدالت برہم بتائیں، تین سالوں میں کیا کیا،عدالت کا تفتیشی افسر سے استفسار،عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کردیے۔سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی، تین سال سے لاپتہ اعزازالحسن کی عدم بازیابی پر عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کرتے ہوئے کہا بتائیں، تین سالوں میں کیا کیا، شہری کی ٹریول ہسٹری کہاں ہیں جس پر تفتیشی افسر عدالت کو مطئمن کرنے میں مکمل طور ناکام ہوگیا۔عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہاں یا نہ میں جواب دیں، بلاوجہ دوسری باتیں مت کریں، آئندہ سماعت پر ہر صورت میں شہری کو بازیاب کرایا جائے، عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں سے پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 27 اپریل تک ملتوی کردی۔

  • بھینس کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی

    بھینس کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی

    کراچی میں جرائم کی مختلف وارداتیں پیش آئی ہیں۔ بھینس کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ شرافی گوٹھ پولیس نے کارروائی کرکے منشیات فروش گرفتار کرلیا۔ دوسری جانب بن قاسم سے پولیس نے منشیات فروش گرفتار کرلیا۔دوسری جانب شہر میں گاڑیاں چوری ہونے کی وارداتیں نہ رک سکیں، کورنگی 5 نمبر سے گھر کے باہر کھڑی کرولا گاڑی ملزمان لے اڑے۔ واردات کی فوٹیج منظر عام پر آگئی، فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیکنڈوں میں ملزمان نے گاڑی اسٹارٹ کی اور باآسانی فرار ہوگئے

  • حلیم عادل شیخ پر کارسرکار میں مداخلت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کردی

    حلیم عادل شیخ پر کارسرکار میں مداخلت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کردی

    میرپور ماتھیلو کی عدالت نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ پر کارسرکار میں مداخلت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کردی، ملزم نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، سماعت 26 مئی تک ملتوی کردی گئی۔میرپور ماتھیلو کی عدالت میں2019 ء میں گھوٹکی کے ضمنی انتخاب کے دوران اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ پر کار سرکار میں مداخلت کے مقدمےکی سماعت کی گئی، عدالت کی جانب سے فردِ جرم عائد کرنے پر ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے مقدمے کو سیاسی قرار دیا۔مقدمے کا مدعی پولیس افسر شیر خان بزدار عدالت میں پیش نہیں ہوا، عدالت نے کیس کی سماعت 26 مئی تک ملتوی کردی۔اس موقع پر حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی سندھ حکومت کی کرپشن بےنقاب کرتا ہےاس پر کیس بنا دیئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نےکرپشن کے ریکارڈ قائم کئے ہیں، ہر ہفتے کروڑوں روپےکتوں کے مارنے پر خرچ کئے جا رہے ہیں، کتے بھی موجود ہیں، کتے مارنے والے بھی موجود ہیں،عوام کو کتےکاٹ رہے ہیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ تیل اور گیس کی پیداوار کا مرکز ہے لیکن کھنڈر بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جمعہ کو وزیراعظم آئی بی اے سکھر آ رہے ہیں،وہ سندھ کے عوام کے لئے میگا پیکیج کا اعلان کریں گے۔

  • اے ٹی آر طیارہ حادثہ کیس کی سرکاری رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

    اے ٹی آر طیارہ حادثہ کیس کی سرکاری رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

    قومی ایئر لائن (پی آئی اے )کے سابق ڈپٹی چیف انجینئر نے پی آئی اے اے ٹی آر طیارہ حادثہ کیس کی سرکاری رپورٹ کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ۔سندھ ہائیکورٹ میں خالد ممتاز کی جانب سے درخواست دائر کی گئی، جس میں کہا گیا کہ حادثے کا شکار طیارہ 2013 سے خراب تھا ، جہاز خراب ہونے کا سارا ریکارڈ موجود ہے ، تمام اے ٹی آر طیارے فوری گراؤنڈ کے1 جائیں ،پی آئی اے انتظامیہ کو بروقت طیارہ کی خرابی سے آگاہ کردیا تھا ۔عدالت نے درخواست پر پی آئی اے اور سول ایوی ایشن سے جواب طلب کرلیا۔درخواست گزار سابق ڈپٹی چیف انجینئر کا مؤقف ہے کہ سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کی پیش کردہ رپورٹ جعلی ہے، تمام اے ٹی آر طیارے گراؤنڈ کرکے انسپکشن کرائی جائے۔واضح رہے کہ اے ٹی آر طیارے کو حادثہ 7 دسمبر 2016 کو پیش آیاتھا ، حادثے میں معروف اسکالر جنید جمشید سمیت 47 افراد جاں بحق ہوگئے تھے ۔

  • کراچی کے TLP رہنماؤں کی فہرست جاری، 150 گرفتار

    کراچی کے TLP رہنماؤں کی فہرست جاری، 150 گرفتار

    محکمہ داخلہ سندھ نے ٹی ایل پی کے رہنماؤں کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کر دیئے، فہرست جاری کر دی، پولیس نے کراچی شہر کے مختلف علاقوں سے 150 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے پولیس کو مذہبی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنان کی فہرست فراہم کی گئی ہے۔حکم نامے میں ان رہنماؤں کو 30 روز کے لیے حراست میں رکھنے کے احکامات دیئے گئے ہیں، رہنماؤں پر احتجاج کے دوران سڑکیں بند کرنے کے الزامات ہیں۔محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ فہرست میں شامل افراد نقصِ امن کے لیے خطرہ ہیں، ان کو عوامی مفاد میں حراست میں لیا جائے۔پولیس کی جانب سے کراچی کے مختلف علاقوں میں تحریکِ لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، شہر بھر سے 150 سے زائد کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق گرفتار افراد میں شر پسندی اور ہنگامہ آرائی میں ملوث ملزمان شامل ہیں۔ساؤتھ زون سے 47، ایسٹ زون سے 60 اور ویسٹ زون سے 47 گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

  • حب ریور روڈ آج صبح پھر کلیئر کرایا گیا، 40 گرفتار

    حب ریور روڈ آج صبح پھر کلیئر کرایا گیا، 40 گرفتار

    کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن 4 نمبر میں حب ریور روڈ کو آج صبح سویرے ایک بار پھر کلیئر کروایا گیا ہے، جس کے بعد ٹریفک رواں دواں ہے۔پولیس کے مطابق بلدیہ ٹاؤن 4 نمبر حب ریور روڈ پر پولیس اور رینجرز نے مشترکہ کارروائی کی، جس کے دوران 40 کے قریب افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔بلدیہ ٹاؤن نمبر 4 حب ریور روڈ پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں بلدیہ ٹاؤن تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔اس حوالے سے آئی جی سندھ مشتاق مہر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کویقینی بنایا۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور رینجرز نے ذمے داریاں دلیری کے ساتھ انجام دیں۔آئی جی سندھ مشتاق مہر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جوان اور افسران جان لیں کہ سیاسی اور عسکری قیادت آپ پر یکساں فخر کرتی ہے، سندھ پولیس پر فخر ہے۔