تفصیلات کے مطابق چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پیر صاحب پاگارا سے راہاؤس میں ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری نے پیر پاگارا کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت کی ۔
بلاول بھٹو نے مرحومہ کی مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ۔ ملاقات میں فنکشنل لیگ کے صوبائی صدر اور سابق وفاقی وزیر سید صدرالدین شاہ راشدی بھی موجود تھے ۔ واضح رہے کہ پیر صاحب پگارا کی اہلیہ کا یکم اپریل کو رضائے الہی برین ہیمبرج کی وجہ سے انتقال ہو گیا تھا ۔ اس ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما بھی شریک تھے ۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔
Category: کراچی
-

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی پیر صاحب پگارا سے ملاقات
-

کراچی فٹبال میچ کے دوران دھماکے میں کھلاڑیوں سمیت 10 افراد زخمی
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے حب چوکی اللہ ٹاؤن کے قریب واقع فٹ بال گراؤنڈ میں اُس وقت دھماکا ہوا جب وہاں دو مقامی ٹیموں کے درمیان ٹورنامنٹ کا میچ جاری تھا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق شائقین کی بیٹھنے والی جگہ پر دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں ٹیموں کے کھلاڑیوں سمیت 10 افراد زخمی ہوئے ۔
ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کو حب کے سول ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے ،ڈاکٹرز نے زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر قرار دی ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ کریکر دھماکا کریکرتھا جو کوئی گراؤنڈ میں پھینک کر فرار ہوا۔ دھماکے کے مطابق سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے جہاں اہم شواہد اکھٹے کیے گئے جب کہ واردات کی جگہ پر آمد و رفت بھی مکمل بند کردی ہے۔ -

بوگس مردم شماری کے نتائج کوماننے سے انکار نئی مردم شماری کرائی جائے سیاستدان حکومت پر برس پرے
کراچی پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ غلط مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کااعلان غیر قانونی عمل ہوگا۔پرانی مردم شماری کے نتائج کو یکسر کینسل کر کے بلدیاتی انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کرائے جائیں۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم مردم شماری کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آئیں لیکن مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج کو درست تسلیم کر کے بھیگی بلی بن گئیں اور اف تک نہ کی۔
ملک کے تمام شہریوں کے ساتھ یکساں انصاف کیا جائے۔ کراچی کو مرکز اور صوبہ دونوں نے حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور کراچی کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر کراچی کو اس کا حق نہیں دیا گیا۔ خان صاحب مدینے کی ریاست کا خواب پورا نہ کر سکے کم از کم مغربی طرز کا انصاف ہی قائم کر دیں۔ مردم شماری کے بوگس نتائج کو تسلیم کر کے نئی مردم شماری کا اعلان، نئی مردم شماری کو ابھی سے مشکوک اور قابل اعتراض بنانے کی بھونڈی کوشش ہے۔
یہی وقت ہے کہ اہل کراچی کے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔ ہر قومیت اور ملک کے ہر علاقہ کے شہریوں کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق یکساں اور انصاف پر مبنی سلوک کیا جائے۔ مردم شماری کے نتائج کی تشریح کا فریم ورک بنایا جائے۔ مشترکہ مفادات کونسل میں 2017کی مردم شماری کے بوگس نتائج کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ ہی 2023 میں نئی مردم شماری کے اعلان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ اگر فیصلہ کرنے کا فریم ورک تبدیل نہ کیا گیا تو نئی مردم شماری کی حیثیت ایک ڈھکوسلا سے زیادہ نہیں ہے۔
مردم شماری کے لئے ایک آزاد اور غیر جانبدار کمیشن بنایا جائے۔ بڑی سیاسی پارٹیاں اشرافیہ کے ساتھ ملی بھگت کر کے کراچی کے عوام کے ساتھ دشمنی اور عوام کے بنیادی حقوق نگل رہی ہیں۔ اگر غیر جانبدار مبصرین کی نگرانی میں انتخابات کرائے جا سکتے ہیں تو مردم شماری آزادانہ اور شفاف طریقے سے کرانے میں کیا قباحت ہے؟ مردم شماری کے نتائج کو درست تسلیم کرنے کے فیصلہ پر پی پی پی اور ایم کیو ایم کی خاموشی معنی خیز ہے، احتجاج اوربائیکاٹ کیوں نہیں کیا گیا؟ مشترکہ مفادات کی کونسل نے نتائج کو نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ کرکے ان کے ”درست” ہونے پر مہر ثبت کردی ہے، کیونکہ غلط نتائج کبھی نوٹیفائی نہیں ہوسکتے۔
پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ پچھلی مردم شماری میں جتنی آبادی ظاہر کی گئی ہے اتنے تو مزدور کراچی میں آکر کام کرتے ہیں۔ مردم شماری کرنے سے پہلے مردم شماری کے نتائج کی تشریح کا فریم ورک بنایا جائے۔ اگر پرانا طریقہ کار اختیار کیا گیا تو کراچی کی آبادی پھر آدھی ظاہر کی جائے گی۔ کراچی میں روزگار کی تلاش میں آنے والے مستقل طور پر یہاں آباد ہیں انہیں کراچی کا رہائشی شمار کیا جائے۔
مردم شماری تمام معاشی وسائل کی تقسیم کی بنیاد ہے اور بنیاد ہی درست نہ ہو تو باقی نظام کیسے درست رہ سکے گا؟ ایک عام پاکستانی کے منہ سے نوالہ چھین کر وڈیروں، جاگیرداروں اور اشرافیہ کو کب تک کھلایا جاتا رہے گا؟ کم پاکستانی اور زیادہ پاکستانی ہونے کی تقسیم ختم کی جائے۔ جو لوگ کراچی میں ایک سال سے زائد کے رہائشی ہیں وہ ساحل سمندر کی سیر کے لئے نہیں آئے ہیں ان کی کراچی سے معاشی وابستگی ہے انہیں کراچی کا باشندہ تصور کیا جائے
-

اندرون سندھ میں آندھی، تیز بارشوں کا امکان، الرٹ جاری
اندرون سندھ میں آندھی اور تیز بارشوں کا امکان ہے جس کا الرٹ جاری کردیا گیا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اندرون سندھ میں آندھی، تیز بارشوں کا امکان ہے۔پی ڈی ایم اے سندھ نے بارشوں سے متعلق ڈپٹی کمشنرز لاڑکانہ، جیکب آباد اور سکھر کو مراسلہ جاری کردیا۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ، سکھر، جیکب آباد میں بدھ سے ہفتے تک تیز بارش کا امکان ہے، ضلعی انتظامیہ تمام ضروری اقدامات مکمل کرے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی جانی و مالی املاک کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں
-

جو ملک میں ہورہا ہے ویسا عالمی جنگوں میں بھی نہیں ہوا، سندھ ہائیکورٹ
سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس کے کے آغا نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ملک میں ہورہا ہے ویسا لاطینی امریکا اور عالمی جنگوں میں بھی نہیں ہوا۔عدالت نے 2015 سے لاپتا شہری کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکریٹری ہیومن رائٹس کمیشن کو طلب کرلیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملک میں شہریوں کی گمشدگی ایک سنگین مسئلہ ہے، شہریوں کی گمشدگی کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ یہ معاملہ قانونی نہیں بلکہ انسانی حقوق کا ہے، شہریوں کی گمشدگی 1973 کے آئین اوراسلامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے، ہیومن رائٹس کمیشن نے لاپتا افرادکی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے؟عدالت نے سوال کیا کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی وزارت نے کونسے کام کیے؟ بعد ازاں عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کو پیش ہوکر وضاحت کرنے کی ہدایت دی۔
عدالت نے کیس کی سماعت 27 اپریل تک ملتوی کردی۔ -

کورونا وائرس کی صورت حال کے پیشِ نظر محکمہ داخلہ سندھ نے نئی پابندیوں کے اطلاق کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا
کورونا وائرس کی صورت حال کے پیشِ نظر محکمہ داخلہ سندھ نے 16 مئی تک نئی پابندیوں کے اطلاق کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔نوٹیفیکشن کے مطابق تجارتی سرگرمیاں صبح 6 سے رات 8 بجے تک ہوں گی، جمعے اور اتوار کو کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں گی، ریستوران میں انڈور سروس کی اجازت نہیں ہوگی۔ریستوران میں آؤٹ ڈور سروس رات دس بجے تک ہوگی، تفریحی پارکس، سینما، مزارات مکمل طور پر بند رہینگے، شادی بیاہ کی انڈور اور آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی ہوگی، سماجی، سیاسی، ثقافتی، کھیلوں، میوزیکل اور مذہبی تقریبات پر پابندی ہوگی۔
نوٹیفیکشن کے مطابق سرکاری اور نجی دفاتر میں روٹیشن پالیسی کے تحت اسٹاف50 فیصد ہوگا، تمام سرکاری و نجی دفاتر میں ماسک اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا۔ -

ڈیڑھ ماہ سے پانی کی بندش سے علاقہ مکین بوند بوند پانی کو ترس گئے
کراچی میں بلدیہ ٹاون کا علاقہ سیکٹر 8ڈی سعید آباد میں ڈیڑھ ماہ سے پانی کی بندش سے علاقہ مکین بوند بوند پانی کو ترس گئے۔ماہ رمضان کی آمد کے باوجود 2لاکھ سے زائد کی آبادی پانی جیسی نعمت سے محروم ہے۔واٹر بورڈ کے کرپٹ اہلکاروں نے پانی چوروں سے سازباز کررکھا ہے۔عدالتی حکم پر بندہونے والا فٹبال گراونڈ ہائیڈرینٹ دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ہائیڈرینٹ کھلنے اور مین لائن میں درجنوں غیر قانونی کنکشن لگانے سے صورتحال ابتر ہوگئی۔ہائیڈرینٹ سے مقامی آبادی کو پانی دینے کے بجائے ٹینکربھر کر ڈیفینس، کلفٹن میں فروخت کئے جارہے ہیں، عوام کا کہنا ہے سیاسی بنیادوں پر 8,8انچ کے ایسے غیر قانونی کنکشن لگائے گئے ہیں جن پرسرے سے وال ہی موجود نہیں.پانی آنے کی صورت میں غیرقانونی کنکشن اور ہائیڈرینٹ سے سارا پانی چوری کیا جارہا ہے.باآسانی غیر قانونی کنکشنز سے جگہ جگہ رہائشی پلاٹوں پر غیر قانونی ہائیڈرینٹ کھل گئے ہیں یہ غیر قانونی ہائیڈرینٹ واٹر بورڈ اور پولیس کی آشیرباد سے آبادیوں کا پانی چوری کرکے انہی کو فروخت کررہے ہیں.انتظامی غفلت اور پانی چوری میں بلدیہ ٹاون سعید آباد کا علاقہ کراچی میں سرفہرست آگیا ہے.پانی سے محروم سیکٹر8 ڈی سعید آباد کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں وضو کے لئے بھی پانی دستیاب نہیں.مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پانی مافیا انہیں انتہائی مہنگے داموں ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کررہی ہے.سعید آباد سیکٹر8ڈی سعید آباد کے مکینوں نے وزیر بلدیات اور ایم ڈی واٹر بورڈ سے فوری پانی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے ۔
-

سندھ حکومت نے رمضان المبارک کے دوران مساجد کے لیے نئی ایس او پیز جاری کردیں
سندھ حکومت نے رمضان المبارک کے دوران مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں، دفاتر اور تقریبات کے لیے نئی ایس او پیز جاری کردیں، شادی بیاہ کی تمام تقریبات پر ایک ماہ کے لیے مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ نے رمضان المبارک کے دوران مساجد کے لیے نئی ایس او پیز جاری کردیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے فیصلے کے تحت محکم داخلہ سندھ نے اپنا حکم نامہ جاری کیا ہے۔حکم نامے میں مساجد و امام بارگاہوں میں دوران عبادات سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، نمازیوں کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ لازمی قرار دیا گیا ہے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں دوران عبادات مذہبی مقامات میں ماسک کا استعمال لازمی ہوگا، بخار اور کھانسی کی علامات ظاہر ہونے پر مساجد و امام بارگاہوں میں آنے کی ممانعت ہوگی۔ مساجد میں دریاں اور قالین نہیں بچھائے جائیں گے۔محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ 50 سالہ بزرگ شہری مساجد آنے سے گریز کریں۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تروایح اور نماز کے بعد مساجد میں رش یا جمع ہونے پر پابندی ہوگی، نمازی اگر چاہیں تو گھر سے جائے نماز لا سکتے ہیں، نماز مساجد اور امام بارگاہوں کے صحن یا کھلی جگہ پر پڑھائی جائے گی۔ مساجد اور امام بارگاہوں کے صحن کو روزانہ کلون سے ڈس انفیکٹ کیا جائے گا۔حکم نامے کے مطابق مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے اپنی اپنی کمیٹیاں تشکیل دیں، موجودہ صورتحال میں معتکفین اعتکاف بھی گھروں میں اختیار کریں۔ سحر اور افطار کے اجتماعات بھی مساجد اور امام بارگاہوں پر کرنے پر پابندی ہوگی دوسری جانب مارکیٹس اور بازاروں میں تجارتی سرگرمیاں صبح 6 سے شام 8 بجے تک ہوں گی۔ جمعہ، اتوار کو سیف ڈیز کے طور پر کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ ریستوران میں انڈور سروس کی اجازت نہیں ہوگی، آؤٹ ڈور سروس رات دس بجے تک ہوگی۔حکم نامے کے مطابق رمضان میں تفریحی پارکس، سینما اور مزارات مکمل طور پر بند رہیں گے۔ شادی بیاہ کی انڈور اور آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی ہوگی، سماجی، سیاسی، ثقافتی تقاریب، کھیلوں، میوزیکل اور مذہبی اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی۔سرکاری اور نجی دفاتر میں روٹیشن پالیسی کے تحت اسٹاف کی 50 فیصد حاضری کا اطلاق ہوگا، تمام سرکاری و نجی دفاتر کام کی جگہ پر ماسک اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا۔نئی ایس او پیز پر آئندہ ماہ 16 مئی تک عملدر آمد ہوگا۔ محکمہ داخلہ سندھ نے ضلعی انتظامیہ کو وضع کردہ طریقہ کار پر عملدر آمد کروانے کی بھی ہدایت کردی ہے۔محکمہ داخلہ سندھ نے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور آئی جی کو بھی احکامات جاری کردیے ہیں، محکمے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ علمائے کرام سے مل کر مساجد اور امام بارگاہوں میں رمضان کے دوران ایس او پیز پر سختی سے عمل کروایا جائے۔
-

پی پی نے اپنے استعفے پی ڈی ایم کے سربراہ کو بھیجوا دیئے
پیپلز پارٹی نے حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمان کو بھجوادیے۔ پی پی نے اپنے استعفے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر بھجوائے جو پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے بھیجے ۔پی پی کی رہنما شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ کے پی ڈی ایم کے عہدوں سے استعفے بھجوائے گئے۔واضح رہےکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز پی ڈی ایم سے استعفے دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی شوکاز نوٹس بھیجنے پر معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔
-

شہرقائد کے شہریوں کے لیےخوش خبری شہر کے سفری نظام جدید
گورنرسندھ عمران اسماعیل نے شہرقائد کے شہریوں کو خوش خبری سنائی ہے کہ گرین بس رواں سال جون جولائی کے درمیان چلا دیں گے، ٹینڈر ہوچکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اپنے تازہ بیان میں سندھ کے گورنر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان دورہ سندھ کے موقع پر بڑے ترقیاتی پیکج کا اعلان کریں گے، جبکہ کراچی میں گرین بس جون جولائی کے درمیان چلا دیں گے، ٹینڈر ہوچکے ہیں، گرین لائن بس سندھ کا پہلا ٹرانزٹ سسٹم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو نئی بسز اور ٹرانسپورٹ کی بے انتہاضرورت ہے۔ عمران اسماعیل کا مزید کہنا تھا شہر کے سفری نظام کو جدیدطرز پر لانا پڑے گا۔ کےفور، گجرنالہ اور محمودآباد نالے پر کام شروع ہوچکا ہے، شاید اس لیول پر کام شروع نہیں ہوسکا جس کی امید تھی۔یاد رہے کہ اس سے قبل رواں برس جنوری میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے بھی کہا تھا کہ گرین لائن بسیں اسی سال جون میں چل جائیں گی۔