پولیس ٹریننگ کالج سعید آباد بڑی تباہی سے بچ گیا ، سی ٹی ڈی اور رینجرز نے مشترکہ کارروائی میں کالعدم ٹی ٹی پی کے 5 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمرشاہد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی اور رینجرز نے جامشورو کے قریب کارروائی کی، کارروائی کے دوران ایک گروپ کے 5 دہشت گرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشت گردوں میں 2 خودکش حملہ آور بھی شامل ہیں۔عمر شاہد کا کہنا تھا کہ رینجرز،انٹیلی جنس ٹیمیں کافی عرصے سےکام کررہی تھیں، دوران تفتیش ملزمان نے بتایا ہےکہ انکا پلان پولیس ٹریننگ کالج سعیدآباد تھا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ کافی عرصےسےاس سیل کےخلاف کام ہورہاتھا، یہ افغانستان سےواپس پاکستان آئے تھے، گرفتاردہشتگردوں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بظاہر دہشتگرد کراچی میں حملے کی ریکی کرچکے تھے ، یہ دہشتگرد حملے کیلئے کراچی واپس آئے تھے اور ملزمان کی نقل وحرکت پہلے بھی کراچی میں رہی ہے، دہشت گردوں سے دوخودکش جیکٹ، 6دستی بم،3ایس ایم جی برآمد کئے گئے ہیں۔دورسری جانب کرنل شبیر نے بتایا کہ اللہ کی مددسےہم نےکل یہ آپریشن مکمل کرلیا ہے ، اس گروپ کےسرغنہ نے افغانستان کاپاسپورٹ بنارکھاتھا اور سوات آپریشن کےدوران وہ اپنی فیملی کیساتھ یہاں سےچلاگیاتھا، ملزمان سے برآمد چیزوں میں سعیدآباد کا نقشہ اور ویڈیوشامل ہے۔
Category: کراچی
-

کراچی رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران اسٹریٹ کرائمز میں خطرناک اضافہ
جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی میں امن بحال کرنے کے لیے دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عسکری دھڑوں کے خلاف آپریشن میں کامیابی گنواتے ہیں وہیں شہر میں اسٹریٹ کرائم کی لعنت مین خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران گزشتہ برس کے اسی عرصے کے تمام ریکارڈز ٹوٹ گئے اور مسلح راہزنی اور لوٹ مار کی کوشش میں مزاحمت پر 30 سے زائد افراد کو قتل کردیا گیا۔سال 2021 کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران کراچی کے شہری مسلح لوٹ مار اور بندوق کی نوک پر چھینا جھپٹی کے واقعات میں کروڑوں روپوں سے محروم ہوئے اور شہر کا کوئی ضلع ان مجرموں سے محفوظ نہیں ہے۔سیکیورٹی انتظامیہ کے مرتب کردہ اور ڈان کے حاصل کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات میں اضافے اور مین اسٹریم میڈیا میں اسٹریٹ کرائم کی بڑے پیمانے پر کوریج اور عوام کی بڑھتی ہوئی شکایات کے باوجود تینوں مہینوں میں ان واقعات میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔لوٹ مار کے دیگر طریقوں میں بندوق کی نوک پر موبائل فون اور موٹر بائیک چھیننے کی وارداتوں میں اضافہ ہوا جو ظاہر کرتا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاست کی رٹ قائم کرنے پر گرفت تیزی سے کھو رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مارچ کے عرصے میں اسلحے کے زور پر شہر کے مختلف علاقوں سے ایک ہزار 55 موٹر بائیکس چھینی گئیں اور متختلف علاقوں میں 10 ہزار 916 موٹر سائیکلز چوری ہوئیں۔گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 525 موٹر بائیکس چھینی جبکہ 7 ہزار 414 چوری ہوئی تھی جو حیرت انگیز رفتار سے جرائم کے رجحان میں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح 2021 کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران شہر مختلف علاقوں سے 5 ہزار 982 موبائل فون چھینے گئے جس سے گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران مسلح لوٹ مار کے نتیجے میں 5 ہزار 105 افراد کے موبائل فونز سے محروم ہونے کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔علاوہ ازیں رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں 4 پہیوں والی گاڑیاں چھیننے اور چوری ہونے کے اعداد و شمار بھی بلند رہے اور گزشتہ سال کے 472 واقعات کے مقابلے رواں برس 477 کیسز رپورٹ ہوئے۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شہر کے ابتدائی 3 ماہ میں شہر میں ایک اور خطرناک مجرمانہ رجحان دوبارہ سامنے آرہا ہے اور کراچی پولیس نے اغوا برائے تاوان کے 5 مقدمات درج کیے۔حالانکہ گزشتہ برس کے اس عرصے کے دوران اس طرح کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔اس کے علاوہ 2021 کی پہلی ساہ ماہی میں ایک بینک ڈکیتی بھی دیکھنے میں آئی اور مارچ میں نیو کراچی کے علاقے میں مسلح افراد سیکیورٹی گارڈز کو بندوق کے زور پر یرغمال بنا کر 10 لاکھ روپے لے اڑے۔سال کے ابتدائی 3 ماہ کے عرصے میں 98 افراد قتل ہوئے جس میں 37 راہزنی کی وارداتوں میں مزاحمت پر مارے گئے۔
-

طارق روڈ پر واقع کار شو روم مالکان انویسٹرز کے کروڑوں روپے ہڑپ کرکے فرار
کراچی میں طارق روڈ پر واقع انٹرنیشنل موٹر ورلڈ نام سے قائم شوروم مالکان انوسٹمنٹ کی مد میں مبینہ طورپر کروڑوں روپے کا غبن کرکے فرار ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق سترکروڑ روپے تک کا فراڈ کیاگیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل موٹر ورلڈ مالکان میں دو بھائی فہد سہیل اور حماد سہیل شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بروز پیر 12 اپریل کو آخری بار سات بجے صبح شوروم کھولا گیا اس دوران مبینہ طور پے کیمروں کی تاریں کاٹ کر کیمرہ ریکاڈنگ ڈیوائس نکال لی گئیں تھیں۔لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ مزکورہ کار شوروم مالکان بلمقابل واقع عمارت سے اپنے اہل خانہ سمیت روپوش ھو گئے ہیں مزید یہ کہ ان کے موبائل فونز بھی استعمال میں نہیں ہیں۔ ذرائع نےتصدیق کی ہے کہ خالد بن ولید پر واقع گاڑیوں کے مزکورہ شوروم کے مبینہ فراڈ کی لپیٹ میں ایک مشہور ریسٹورنٹ کے مالکان بھی آگئے ہیں جنکی سرمایہ کاری کروڑوں میں تھی۔ ادھر خالد بن ولید کی کار ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رکن اورنگزیب آفریدی کا واٹس اپ میسج بھی وائرل ھوا ھے جس میں ان بھائیوں کہ متعلق بتایا گیا ھےجس میں عہدیداروں سے گزارش کی ہے کہ مارکیٹ میں ایک لاحہ عمل طے کیا جائے کہ تاکہ اس قسم کے مبینہ فراڈ سے مارکیٹ کی بدنامی نہ ہو۔واضع رہے کہ انوسٹرز کے رقوم سے ہی شورم کا ماہانہ پانچ لاکھ کرایہ ادا کیا جاتا تھا۔ سرمایہ کاروں کو سبز باغ دکھانے کیلئے چھے ماہ قبل شورم کے افتتاح پر پر تکلف اعشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
معلوم ہوا ہے کہ غیر ظاہر کردہ رقوم کے بارے میں محصولات کے اداروں کی پوچھ گچھ کے خوف سے سرمایہ کاروں نے تاحال نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں سے رجوع نہیں کیا۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران لگژری گاڑیوں کی قیمتیں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ شوروم مالکان کا طریقہ واردات کچھ اس انداز میں ہے کہ انوسٹر سے کہا جاتا ہے کہ گاڑی کی خریداری اور جاپان یا دیگر ممالک سے درآمد میں دو ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے اس دوران انویسٹر سے مزید رقم وصول کی جاتی ہے ساتھ ہی اسی فائل پر دوسرے انویسٹر کو گھیرا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیک وقت ایک لگژری کار پر تین سرمایہ کاروں کو ہنرمندی کے ساتھ کئی گنا منافعے کا لالچ دیا جاتا ہے۔ عروس البلاد شہر میں پراپرٹی پر ایک سے زائر دعویداروں کے واقعات کی طرح اب لگژری گاڑیوں کے کاروبار میں بھی مبینہ فراڈ کے واقعات کا گراف بھی تیزی سے اوپر جارہاہے۔ -

کراچی میں پولیس نے ٹی ٹی پی کے دہشت گرد کو گرفتار کرلیا
کراچی میں پولیس نے پیر کے روز کراچی کے ملیر کے علاقے میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے کالعدم تنظیم سے وابستہ ایک دہشت گرد کو گرفتار کرلیا۔سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر عرفان بہادر کے مطابق ملیر کے علاقے میں پولیس پارٹی نے چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے ایک سخت دہشت گرد کو گرفتار کرلیا۔عثمان غنی عرف عرفان نامی دہشتگرد کا تعلق ٹی ٹی پی کے باجوڑی گروپ سے ہے اور وہ تربیت یافتہ ہے۔ایس ایس پی نے بتایا کہ عثمان سن 2019 میں تربیت کے لئے افغانستان گیا تھا ، جہاں اس نے طالبان کمانڈر قاری عبید اللہ عرف قاری ثاقب سے ملاقات کی ، اور ایس ایس پی نے مزید کہا کہ باجوڑ سے افغانستان پہنچنے کے پوشیدہ طریقوں کو عالم آوری جانتا ہے۔گرفتار دہشت گرد باجوڑ کے علاقے چرمنگ میں سیکیورٹی فورسز پر حملے میں ملوث تھا ، جس میں ایک سپاہی شہید ہوگیا تھا۔ اس ڈکلیہ کا فیس بک کے ذریعے ساتھیوں سے رابطہ تھا۔گرفتار افراد کی تحویل میں سے غیر قانونی اسلحہ اور گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ٹی ٹی پی دہشت گرد سے پوچھ گچھ جاری ہے اور مستقبل قریب میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔22 نومبر کو ، ایل ای اے نے دہشت گردی کی سازش کو ناکام بنادیا اور کالعدم تحریک طالبان گروپ کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔
-

کراچی میں کاروبار معطل، ٹریفک معمول سے کم
مفتی منیب الرحمان کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پر آج کراچی میں کاروبار زندگی معطل ہے۔آج شہر میں سڑکوں پر ٹریفک معمول سے بہت کم ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ کمپنی چل رہی ہے۔ٹریفک پولیس کے مطابق لیاری ایکسپریس وے، ماڑی پور روڈ، حب ریور روڈ، ناردرن بائی پاس، شارع فیصل، شارع پاکستان اور شیر شاہ سوری روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے جبکہ کہیں کوئی رکاوٹ نہیں۔ٹریفک پولیس کا بتانا ہےکہ شارع فیصل پر ڈرگ روڈ کے قریب مشتعل افراد کی جانب سے تھوڑی دیر پہلے پتھراؤ کیا گیا تھا تاہم اس کے بعد سے ٹریفک معمول کے مطابق ہے جب کہ ائیرپورٹ سے گھارو تک براستہ اسٹیل ٹاؤن، گلشن حدید اور ملیر نیشنل ہائی پر بھی ٹریفک کے مطابق چل رہی ہے۔
-

مزدور کی تنخواہ کم سے کم 30 ہزار روپے کی جائے : یعقوب احمد شیخ
ایس بی سی اے ورک اینڈ چارج ایمپلائز اتحادکے صدر یعقوب احمد شیخ نے کہا ہے کہ مزدور کی تنخواہ کم سے کم 30ہزار روپے کی جائے، جس سے وہ اپنا گھر چلا سکے، اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کر سکے،کنٹریکٹ ملازمین کو رمضان المبارک میں ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے، وفاقی اور صوبائی حکومت ملازمین کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ملازمین کا مستقل حل تلاش کیا جائے، کنٹریکٹ ملازمین کو میڈیکل اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
مہنگائی کے اس دور میں غریب اور محنت کشوں کاجینا دوبھر ہو گیا ہے۔ حکومت صرف اعلانات کر رہی ہے عملی اقدامات نہیں کر رہی ہے۔ کنٹریکٹ ملازمین کو میڈیکل اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی جائیں، پیپلز یونٹی سی بی اے یونین بھی کنٹریکٹ ملازمین کو سہولیات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے۔پیپلز پارٹی مزدور دوست تنظیم ہے ، سندھ میں کنٹریکٹ ملازمین کی تخواہوں میں اضافہ کیا جائے، مہنگائی کے اس دور میں غریب اور محنت کش طبقہ کا جینا دوبھر ہو گیا ہے، آٹا ، چینی، دودھ انڈے ، سبزی سب کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، لیکن مزدور کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ -

امریکہ نے کراچی کے دو افراد کو ’انتہائی مطلوب‘ قرار دے دیا
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن ( ایف بی آئی) نے گذشتہ امریکی الیکشن میں مبینہ مداخلت کرنے والی روسی سائبر سکیورٹی کمپنی انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی (آئی آر اے) کے لیے جعلی دستاویز بنانے والے چھ پاکستانیوں میں سے دو کو ’انتہائی مطلوب‘ قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق ایف بی آئی نے کراچی میں جعلی پاسپورٹ اور دیگر جعلی دستاویز بنانے والی کمپنیاں چلانے کے الزام میں پاکستانی شہریوں مجتبیٰ رضا اور محسن رضا کو تاحال دنیا بھر سے سائبر کرائمز میں ایف بی آئی کو ’انتہائی مطلوب‘ 104 لوگوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے تمام چھ پاکستانیوں کو آفس آف دی فارن ایسٹ کی سینکشن لسٹ میں شامل کرتے ہوئے ان کی تصاویر، تاریخِ پیدائش، قومی شناختی کارڈ نمبر، ان کے زیر استعمال تمام ای میلز، کرپٹو کرنسی اکاؤنٹ کی تفصیلات، پتہ اور ان کے فرضی سمیت ساری تفصیلات آن لائن رکھ دی ہیں۔
ایف بی آئی نے دونوں پاکستانی شہریوں کی تصاویر اور مکمل کوائف کے ساتھ اشتہار دیتے ہوئے عوام الناس سے درخواست کی ہے کہ: ’اگر آپ کو اس شخص کے بارے میں کوئی معلومات ہیں تو برائے مہربانی اپنے مقامی ایف بی آئی دفتر، قریبی امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رابطہ کریں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے مجتبیٰ رضا اور محسن رضا کے علاوہ کراچی کے رہائشی سید حسنین، محمد خضر حیات اور سید علی رضا اور لاہور کے احمد شہزاد کو موردالزام ٹھرایا۔ ان افراد کی عمریں 26 اور 35 سال کی درمیان بتائی جاتی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے مجتبیٰ اور محسن کے اشتہارات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں مبینہ طور پر کراچی، پاکستان سے 2011 سے ایک جعلی آن لائن کاروبار چلانے پر مطلوب ہیں۔ نھوں نے مبینہ طور پر 200 سے زائد ممالک کی جعلی شناختی دستاویزات مثلاً پاسپورٹ، ڈرائیور لائسنس، بینک کاغذات، اور قومی شناختی کارڈز بنا کر فروخت کیں-
28 جنوری، 2020 کو امریکہ کی نیو جرسی ڈسٹرکٹ عدالت نے محسن رضا کے لیے امریکی وفاقی گرفتاری کا وارنٹ جاری کرتے ہوئے ان پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ جھوٹی دستاویزات پیش اور منتقل کرنے کی سازش، جھوٹی دستاویزات کی منتقلی، پاسپورٹ کےغلط استعمال اور سنگین قسم کی شناختی معلومات کی چوری کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔
کالعدم قرار دی جانے والے کمپنی فریش ایئر فارم کراچی سے تقریباً 90 کلومیٹر دور ایک تفریحی فارم ہاؤس ہے۔ دیگر کالعدم کمپنیاں کے دفتر نیشنل سٹیڈیم کے نزدیک واقع مشرق سینٹر میں واقع تھے۔ -

تحریک لبیک کے کارکنوں کو فی الفور رہا کر دیا جائے : صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی کا حکومت سے مطالبہ
ملک بھر کے علماء ومشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پا کستان کے چیئرمین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی اور دیگر علماء مشائخ نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک لبیک کے کارکنوں پر تشدد کو فی الفور بند کروا کران کے بے گناہ افراد کو رہا کر دیا جائے، ان پر دہشت گردی کے مقدمات ختم کر کے قانون کے مطابق دفعات لگائی جائیں۔
یاست مدینہ کا دعویٰ کر کے اس کے اصولوں سے حکومت کا انحراف کرنا سراسر قران و سنت سے رو گردانی ہے جس کی ملک بھر کے علماء مشائخ بھر پور مذمت کرتے ہیں۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ حکومت متوازن رویہ اختیارکرے۔انہوں نے کہاکہ حکومتی اداروں نے بہت سارے بے گناہ علماء کرام کے نام شامل کرکے ان کو ہراساں کرنے کی پالیسی شروع کر دی ہے جو کہ ناپسندیدہ فعل ہے اور اس سے حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کی فضا پیدا ہو رہی ہے اور ایک پر امن طبقے کو تشدد کی جانب گھسیٹنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس سے عام آدمی بھی اب حکومتی اقدامات کے خلاف ہورہا ہے،لہٰذا ریاستی اداروں کو ایسی حرکات کی بجائے عقل ودانش سے کام لینا چاہیے،ہماری ملک بھر کے جید علماء کرام اور مشائخ سے اپیل ہے کہ وہ بھی اس صورت حال پر اپنا کردار ادا کریں اور ناموس رسالتﷺ کے لئے میدان عمل میں باہر نکلیں،فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا فیصلہ حکومت نے خود معاہدے کی صورت میں کیا تھا اس پر عمل درآمد اس کی ذمہ داری ہے، پرامن احتجاج ہرشہری کا بنیادی حق ہے اسلامی تعلیمات کے پھیلاؤ سے پریشان سامراجی قوتیں بوکھلاہٹ کی شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالے سے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عمل در آمد نہیں ہو رہا اور قادیانی ریشہ دوانیوں کو پروموٹ کیا جارہا ہے۔ قادیانیوں تک اسلام کی دعوت کو پہچانا ہر مسلمان کادینی و اخلاقی فرض ہے۔علماء کرام اور مشائخ عظام منکرین ختم نبوت کا تعاقب اور ناموس رسالت کے تحفظ پر کام کرنے والی ہر جماعت کے ہم شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
ملک بھر کے علماء و مشائخ نے اس نازک اور حساس نوعیت واقعات پر چیف جسٹس آف پاکستان سے فوری طور پر سوموٹو ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہوئے حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ظالمانہ قاتلانہ کارروائیاں بند کریں۔ پاکستان کے محب وطن شہری ہونے کی حیثیت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نورانی صدائیں بلند کرنے والوں کے خلاف ظالمانہ قاتلانہ کاروائیاں فی الفور بند کر کے سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔
سدا بادشاہی اللہ تبارک تعالی کی ہے سب سے بڑا طاقتور وہ ہی ہے اور سب نے اسی جلیل و جبار کے دربار میں جواب دہ ہونا ہے قیامت کیانتہائی ہولناک اور نازک ترین وقت میں جب کوئی مدد کو نہیں آئے گا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ہی امید کا واحد سہارا ہو گء پھر اس دن کون سا منہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے شفاعت کی بھیک مانگنے جائیں گے۔
لہذا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت چاہتے ہو تو پھر فوری طور پر حکومت ظالمانہ قاتلانہ پر تشدد کارروائیاں بند کرکے سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرے اسی میں وطن عزیز کی سلامتی اور بقا ہی -

عمران عباس کا قصیدہ بردہ شریف مداحوں میں مقبول
داکار عمران عباس نے اپنی خوبصورت آواز میں قصیدہ بردہ شریف جاری کردیا۔
,میڈیا ذرائع کے مطابق گزشتہ روز عمران عباس نے انسٹاگرام پر قصیدہ بردہ شریف سے متعلق تصویر اور پوسٹ شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو اطلاع دی۔
عمران عباس نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ میری پہلی ڈائریکٹورل (ہدایت کردہ) ویڈیو میرے یوٹیوب چینل پر موجودہے، اب قصیدہ بردہ شریف کو پیش کردیا گیا ہے۔
اداکار نے اپنی پوسٹ میں مداحوں سے ویڈیو کو دیکھنے، پسند کرنے اور سبسکرائب کرنے کا کہا اور مزید لکھا کہ آپ کی محبت اور تعاون کا منتظر رہوں گا۔
عمران عباس کا نیا کلام ان کے یوٹیوب چینل پر ریلیز کیا گیا ہے جو مداحوں میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔
5 منٹ ایک سیکنڈ پر مشتمل قصیدہ بردہ شریف میں عمران عباس نے نہ صرف اپنی آواز کا جادوجگایا ہے بلکہ قصیدہ بردہ شریف کی ویڈیو ڈائریکٹ اور پروڈیوس بھی عمران عباس نے کی ہے۔
واضح رہے کہ عمران عباس کو 2020 کے 100 انتہائی خوبصورت مردوں کی فہرست میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ -

پاکستانی ماہی گیروں کی ادارہ نورحق آمد حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات
امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سے ادارہ نورحق میں پاکستانی ماہی گیروں نے ملاقات کی ۔ جماعت اسلامی کراچی کے شعبہ بین الاقوامی امور اور ڈائریکٹر امور خارجہ نوید علی بیگ کی کوششوں سے وطن واپسی ممکن بنانے پران کا شکریہ ادا کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے ماہی گیروں کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کا ترجمہ تفہیم القرآن کا سیٹ بطور ہدیہ پیش کیا۔
وطن واپس لوٹنے والے ماہی گیروں میں جمیل احمد ولد غلام مصطفی،عبد الواحد ولد عبد الشکور،عبد اللہ ولد جمیل احمد،نواب ولد نواز ودیگر شامل تھے ۔انہوں نے بتایا کہ سمندری راستوں میں طغیانی کے باعث ہماری کشتی خراب ہوگئی تھی جس کے باعث ہم راستہ بھٹک گئے اور قریباً ایک ماہ تک سمندر میں ہی بے یارومددگار پھنسے رہے ۔جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے انڈونیشیا کے سفارتخانے سے رابطہ کر کے ہمیں رہا کروانے اور وطن واپس لانے کے لیے بات چیت کی جس کے نتیجے میں آج ہم اپنوں کے درمیان موجود ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے ساتھ ہمارے بچے بھی تھے جن کے پاس سفری دستاویزات (قومی شناختی کارڈ)نہ ہونے کی وجہ سے اندونیشین سفارتخانے میں روک لیا گیا تھا جس کے بعد جماعت اسلامی کراچی کے شعبہ بین الاقوامی امور اور منظر عالم کی کوششوں سے ان بچوں کے متبادل دستاویزات کی فراہمی کی وجہ سے انہیں بھی واپس وطن لایا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے ہمیں ایمیگریشن آفس میں ٹھہرایا تھا جہاں ہمیں تمام بنیادی ضروریات فراہم کی گئیں ہمیں اہل خانہ سے رابطے کے لیے انٹرنیٹ ،موبائل سمیت تمام سہولیات فراہم کیں اور ہمارے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک روارکھا گیا ۔آخر میں حافظ نعیم الرحمن نے پاکستانی ماہی گیروں کی بخیریت وطن واپس آنے پر دعائے خیر کی۔
اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے مظلوموں اور محروموں کے ساتھ ہے اور آئندہ بھی ساتھ رہے گی ،آپ جماعت اسلامی سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں ،ملک میں عدل و انصاف کے قیام اور دین کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد میں شامل ہوجائیں ۔
