Baaghi TV

Category: کراچی

  • معاشرے میں خیرو برکت قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہیں : اسماء سفیر

    معاشرے میں خیرو برکت قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہیں : اسماء سفیر

    ماعت اسلامی (حلقہ خواتین)کراچی کی ناظمہ اسماء سفیر نے کہا ہے کہ رمضان المبارک قرآن مجیداور اللہ تعالی سے جڑنے کا مہینہ ہے۔معاشرے میں خیرو برکت قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہیں ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام دورہ قرآن کے مراکز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچیوں میں قرآن سے محبت اور شغف پیداکرنے کیلئے حلقہ خواتین پچھلی چار دہائیوں سے کوششیں کرتی آئی ہیں۔یہ اسی کا ثمر ہے کہ شہر کراچی میں سینکڑوں مراکز پر ہزاروں خواتین قرآن کو ترجمہ کے ساتھ سمجھ کر پڑھ رہی ہیں۔اسماء سفیر نے قرآن انسٹیٹیوٹ کے مختلف کیمپسز میں جاری دورہ قرآن و تفسیر کو سراہا اور معلمات کی حوصلہ افزائی کی۔واضح رہے حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے زیر اہتمام آن لائن دورہ قرآن بھی جاری ہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعے کثیر تعداد میں خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔

  • مہنگائی مافیا کےخلاف سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے،عوام ان مافیا کے ہاتھوں لٹ رہی ہے۔

    مہنگائی مافیا کےخلاف سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے،عوام ان مافیا کے ہاتھوں لٹ رہی ہے۔

    کمشنر کراچی ڈویژن نوید احمد شیخ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی سخت سرزنش و برہمی کے بعد بھی تاحال خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ادھر شہر بھر میں مارکیٹ و مہنگائی مافیا کے غیرقانونی اشتراک نے شہریوں سے فی سکینڈ و فی منٹ کے حساب سے لاکھوں کروڑوں کی غیرقانونی وصولیوں کا کاروبار و دھندا دھڑلے سے جاری رکھا ہوا ہے شہری ” مارکیٹ و مہنگائی مافیا کے بے رحم نشانے پر روزمرہ کے استعمال اشیائے خوردونوشں سمیت شہری الیکٹرونکس مافیا کے ہاتھوں زچ پس کر رہ گئے رمضان المبارک کیساتھ گرمیوں کے آغاز سے ہی مافیا نے ” سبزی ” فروٹ ” گوشت ” مصالحہ جات ” آٹا چینی سمیت الیکٹرونکس آئٹم ” فین ” پھنکھے ” فرج ” ڈیپ فریزر ” روم کولر ” اے سی ” کی من مانی قیمتوں پر فروخت کا غیرقانونی بزنس اپنے عروج پر الیکٹرونکس آئٹم کی مد میں شہریوں کی جیبوں پر جرائم پیشہ عناصر کی طرح ڈاکہ زنی کا عمل کھلے عام جاری ہے فی آئٹم شہریوں سے ہزاروں روپے غیرقانونی طور پر وصولیوں کا دھندا جاری ہئے دودھ کی 130 روپے فی لیٹر بلند ترین سطح پر فروخت جاری، اشیائے خوردونوشں و الیکٹرونکس آئٹم میں فی آئٹم ہزاروں روپے وصولی کا جھٹکا شہریوں کو چونا لگانے کا دھندا جاری ادھر برائلر مرغی اسٹاک کی طرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر 500 روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہئے جبکہ گردن / پوٹہ / کلیجی کی قیمت 2 سو سے 250 روپے فی کلو من مانی قیمتوں پر فروخت جاری حکومت سندھ کا ادارہ بیورو سپلائی اور ضلعی حکومت کے کرپٹ و راشی افسران راتوں رات سٹے کے اس بازار میں کروڑ پتی بن رہیں ہیں اور شہری کنگال ہورہیں ہیں مافیا بے رحمی سے شہریوں کو شکار کر رہی ہے دوسری طرف حکومت و حکومتی زمہ داران ہیں کہ مکمل بےحسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں بلکہ کمشنر کراچی ڈویژن نوید احمد شیخ کے شہر بھر میں موجود فرنٹ مین کھلاڑیوں جن میں قابل زکر ڈپٹی کمشنرز ” اسسٹنٹ کمشنرز مختار کاروں کا شہر بھر میں جال بچھا ہوا ہئے مگر مزکورہ افسران جن پر شہریوں کے کروڑوں روپے بصورت ٹیکس خرچ ہوتے ہیں انھوں نے اپنے ریاستی عہدے فرائض منصبی اور اختیارات کو بس مال بناؤ اور وصولیوں کے دھندے میں بدل ڈالا جو اپنے فرائض منصبی عہدے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کیساتھ شہر اور شہریوں سے دھوکہ اور انکے ٹیکسیز سے بھی بغاوت ہئے اس غیرقانونی دھندے پر سپریم کورٹ کو فوری طور پر ” سوموٹو ایکشن ” از خود نوٹس لینا چاہیے ادھر انتہائی افسوناک بات یہ ہئے کہ مزکورہ حکومتی افسران شہر بھر میں مہنگائی مافیا کے خلاف ڈرامے بازی کرتے ہوئے نمائشی میچیز کا بھی جال بچھاتے ہیں اور شہر بھر کے تمام ڈسٹرکٹس کی حدود میں دودھ مافیا ” گوشت مافیا ” بیکری مٹھائی والوں کے خلاف تابڑ توڑ کاروائیاں بھی کرتے ہیں جبکہ الیکٹرونکس مافیا کے خلاف ڈرامائی انداز میں بھی کوئی کاروائی اور جرمانہ یا چالان نہیں کرتے۔ ادھر مزکورہ کاروائیوں کے بارے میں شہری اسے اپنی جیبیں بھرنے اور کمائی کا دھندا بتاتے ہیں کیونکہ بھاری جرمانے کی دھمکی دیتے ہوئے بھاری وصولیوں کا بازار شہر بھر میں گرم رہتا ہے۔ متعلقہ انتظامیہ و پولیس رمضان سمیت ابھی سے عیدی مہم پر کمر بستہ نظر آتی ہے کمشنر اور انکی کرپٹ و راشی ٹیم اپنے دھندوں میں مصروف ہے۔ کمشنر کراچی ڈویژن اپنی تعیناتی سے ابتک زبانی جمع خرچ اور کاغذی کاروائی سے آگے نہ بڑھ سکے جبکہ سپریم کورٹ نے بھی انکی خوب کھینچائی کی کراچی ڈویژن کے / ڈپٹی کمشنرز / اسسٹنٹ کمشنرز / مختار کاروں نے اپنے ریاستی و ادارتی عہدے ( فرائض منصبی / اختیارات کو وصولیوں کا دھندا بنالیا مزکورہ سسٹم کی مد میں لاکھوں / کروڑوں / اربوں کا خرچ عوام پر مزید بوجھ بن گیا شہریوں کی جانب سے دئے جانے والے ٹیکس پر پلنے والے بھی شہریوں کے خلاف ڈٹ گئے راشی و کرپٹ ضلعی انتظامیہ نے اپنے عہدوں اور مناصب کے حساب سے وصولیوں کا بازار سجا رکھا ہئے لاکھوں کروڑوں ٹھکانے لگائے جارئیے ہیں جبکہ شہری مہنگائی مافیا کے رحم و کرم پر ادھر انتہائی حیران کن بات یہ ہے کہ کمشنر کراچی ڈویژن نوید احمد شیخ بس اپنی سیٹ اور مراعات کے مزے لوٹ رہیں ہیں اور شہری مافیا کے ہاتھوں لٹ رہیں ہیں شہریوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد سے مزکورہ بالا مافیا اور انکو بھاری وصولیوں کے تحت تحفظ فراہم کرنے کیساتھ اپنے فرائض منصبی کے برخلاف پس پردہ سرپرستی کرنے کے حوالے سے سوموٹو ایکشن کا مطالبہ کردیا جبکہ مختلف سیاسی سماجی مزہبی جماعتوں اور شخصیات نے سپریم کورٹ وزیر اعلیٰ سندھ،گورنر سندھ، وزیر بلدیات سمیت تمام تحقیقاتی اداروں سے اٹھائے گئے حلف اور اپنے فرائض منصبی کے مطابق سخت ترین قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • رمضان المبارک میں پوری صلاحیت کے ساتھ کاروبار چلانے کی اجازت دی جائے : کراچی چیمبر

    رمضان المبارک میں پوری صلاحیت کے ساتھ کاروبار چلانے کی اجازت دی جائے : کراچی چیمبر

    بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی والا اور صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) شارق وہرہ نے سندھ حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات شام 6 بجے تک محدود کرنے اور ہفتہ، اتوار تمام کاروبار بند کرنے کے فیصلے پر شدید مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ مزید وقت ضائع کیے بغیر مذکورہ نوٹیفیکیشن کو منسوخ کیا جائے اور رمضان المبارک میں ہر قسم کے کاروبار کو پوری صلاحیت کے ساتھ چلانے کی اجازت دی جائے بصورت دیگر لوگ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے مرنے کے بجائے غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے خود ہی دم توڑ دیں گے۔
    زبیر موتی والا نے کہاکہ ہم نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر لوکل گورنمنٹ، چیف سیکریٹری اور کمشنر کراچی کو خطوط ارسال کیے اور وقتاً فوقتاً پیغامات بھی دیے لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا جو انتہائی مایوس کن امر ہے کیونکہ ہمیں حکومت سندھ کی جانب سے ایسے ردعمل کی توقع نہیں تھی جس نے ہمیشہ کے سی سی آئی کی درخواستوں کا جواب دیا۔کاروباری اداروں کو لگاتار دو دن تک بند رکھنا اور انہیں ہفتے کے باقی دنوں میں محدود اوقات کار کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کرنے کے نتیجے میں بہت سارے کاروبار دیوالیہ ہوجائیں گے جس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور انتشار پھیلے گا۔
    زبیر موتی والا نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ مذکورہ نوٹیفکیشن فوری منسوخ کیا جائے جبکہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے لیے انتظامیہ کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ اگر انتظامیہ پچھلے سال لاک ڈاؤن کو سختی سے نافذ کرنے میں کامیاب رہی ہے تو پھر اسے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے لیے اسے کیوں استعمال نہیں کیا جارہا۔
    حکومت سندھ کو تاجروں کو ختم کرنے کے بجائے کاروبار کی روز بروز خراب صورتحال کو دور کرنا ہوگا۔صدر کے سی سی آئی شارق وہرہ نے بھی خبردار کیا کہ کاروبار کی دو دن مسلسل بندش اور محدود کاروباری اوقات کار کی وجہ سے افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گی چونکہ بڑھتی بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے عوام کے پاس احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔
    تاجر وصنعتکار برادری کو درپیش مشکلات اور مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صدر کے سی سی آئی نے امید ظاہر کی کہ سندھ حکومت اس سنگین مسئلے پر غور کرے گی اور کاروبار و معیشت کو مزید تباہی سے بچانے کے اقدامات کرے گی۔کراچی کی تمام کاروباری طبقہ باالخصوص چھوٹے تاجروں، دکانداروں کی طرف سے چیئرمین بی ایم جی اور صدر کے سی سی آئی نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہفتے میں لگاتار دو دن ہر طرح کی تجارتی کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے اور کاروباری اوقات کار شام 6 بجے تک محدود رکھنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے کیونکہ پہلے ہی پریشان حال اور شدید بحرانوں سے دوچار چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے بڑے پیمانے پر معاشی قتل کے مترادف ہے جو اپنے کاروبار کی بقا قائم رکھنے کے لیے سخت جدوجہد کررہے ہیں۔

  • این اے 249 کو شہر کا ماڈل حلقہ بنایا جائے گا پیپلزپارٹی بلا تفریق خدمت پر یقین رکھتی ہے : عبدالقادر مندو خیل

    این اے 249 کو شہر کا ماڈل حلقہ بنایا جائے گا پیپلزپارٹی بلا تفریق خدمت پر یقین رکھتی ہے : عبدالقادر مندو خیل

    پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر وقار مہدی،حلقہ 249 کے امیدوار عبدلقادر خان مندوخیل، اور مجلس وحدت مسلمین 249کے امیدوار علامہ مبشر حسن اور علی حسین نقوی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلقہ249 کے عوام کی خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا۔قادر خان مندوخیل نے کہا کہ مذکورہ حلقے کے ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی۔سندھ حکومت نے دو ارب روپے کی خطیر رقم حلقے میں ترقیاتی کاموں پر خرچ کر کے عوامی جماعت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حلقہ249 کو شہر کا ماڈل حلقہ بنایا جائے گا۔
    ضمنی انتخابات میں مجلس وحدت مسلمین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پہلے بھی آ چکے ہیں۔

    حمایت کی یقین دہانی پر ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے شکر گزار ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علی حسین نقوی نے کہا کہ وعدہ کرکے علاقوں سے غائب ہونے والوں کے ساتھ نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔این اے 249 کراچی کا مضافاتی علاقہ ہے جو بہت زیادہ نظرانداز ہوا ہے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ حلقہ این اے 249 کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔
    پیپلز پارٹی کے قائدین نے اہل علاقہ کے تمام مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔مشاورت کے بعد مجلس وحدت مسلمین نے پیپلزپارٹی کے امید وار کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ حلقہ این اے 249 میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کا بھرپور ساتھ دیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما وقار مہدی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو کراچی و سندھ کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔
    انہوں نے مزید کہا کہ ان شا اللہ مستقبل میں عوام کو علاقے میں کام نظر آئیں گے۔پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہے اور عوام میں نظر آئے گی۔ ایم این اے ایم پی نہیں ہے لیکن 42 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کئیے ماضی میں ایم کیوایم منتخب ہوتی رہی ہے مقامی حکومت بھی ان کی رہی بلدیہ ٹاؤن کا بنیادی مسلہ پانی سیوریج اور سڑکیں ہیں کورنگی کراسنگ میں ہمارا کوئی ووٹ نہیں لیکن ترقیاتی کام کر وائے پیپلزپارٹی کراچی کی خدمت کررہی ہے پیپلزپارٹی بلا تفریق خدمت پر یقین رکھتی ہے۔

  • سندھ کی متعصب حکومت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مختلف اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے،خواجہ اظہار الحسن

    سندھ کی متعصب حکومت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مختلف اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے،خواجہ اظہار الحسن

    ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن و ممبر صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ سندھ کی متعصب حکومت نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے وسائل پر تو قبضہ کر ہی لیا ہے اب اس کے مختلف اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کی بد عنوان و متعصب حکومت نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو مالی طور پر اپاہج تو کرہی دیا ہے اب وہ اس کے مختلف اداروں پر بھی قبضہ کرنا چاہتی ہے گزشتہ 13برسوں سے شہری سندھ کے وسائل اور مختلف حیلے بہانوں سے قبضہ کئے ہوئے ہے جس کے باعث سندھ کے شہری علاقے تباہی اور بربادی سے بوچار ہیں کبھی تعصب پر مبنی قانون سازی کے زریعے اور کبھی بدعنوان افسر شاہی کے زریعے تو کبھی18ترمیم کو ڈھال بنا کر بد عنوانی کا راج لگا رکھا ہے آج کی اس پریس کانفرنس کا مقصد آپ لوگوں کو ایک اور سازش سے آگاہ کرنا ہے جس میں ایک سمری وزیر اعلیٰ کو ارسال کی گئی ہے جس کے زریعے کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈی زیز اور کراچی میڈیکل انڈ ڈینٹل کالج پر قبضہ کرنے کی سازش رچائی گئی ہے ہم واضع کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ دونوں ادارے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے بہترین کار کردگی دکھا رہے ہیں کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج داخلے سے لیکر انتظامی امور تک ہر شعبہ میں شفافیت اختیار کئے ہوئے ہے اور اسکا اعتراف ملک کے تمام آزاد ادارے کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار خواجہ اظہار الحسن نے رابطہ کمیٹی کے اراکین عبدالقادر خانزادہ اور خالد سلطان،زاہد منصوری کے ہمراہ بہادر آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    انکا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی بدعنوان حکومت کراچی اور حیدر آباد کے وسائل کو خرد برد کرنے کیلئے 18ویں ترمیم کو ہتھیار بناتی ہے اور اپنی کرپشن کو مکمل کرنے کیلئے اداروں کو استعمال کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور اسکے اراکین بد عنوانیوں میں شریک ہو کر ملک دشمنی کا ارتکاب کر رہے ہیں دوسری جانب پیپلز پارٹی کی حکومت 18ترمیم کی آڑ میں چھپ کر بد عنوانی کے تمام ریکارڈ توڈ چکی ہے اور کوئی بھی ترقیاتی پیکج 18ترمیم کی موجودگی میں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکتا ایم کیو ایم پاکستان یہ سمجھتی ہے کہ سندھ کی متعصب حکومت وسائل ہڑپنے اور بدعنوانی کرنے کیلئے 18ویں ترمیم کو ہتھیار بنا رہی ہے اور 18ویں ترامیم کا مسودہ تیار کراتے وقت پیپلز پارٹی نے قومی قیادت کو دھوکا دیا۔

  • سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس عرفان سعادت خان انتقال کرگئے

    سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس عرفان سعادت خان انتقال کرگئے

    سندھ ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس عرفان سعادت خان رضائے الٰہی سے انتقال کرگئے۔ ان کی نماز جنازہ مسجد طیبہ نارتھ ناظم آباد میں ادا کی گئی اور تدفین سخی حسن قبرستان نارتھ ناظم آباد کراچی میں کردی گئی۔ مرحوم جسٹس عرفان سعادت خان جسٹس ہیلپ لائن کے سماجی، مذہبی اور تعلیمی تربیتی پروگراموں کی سرپرستی کرتے تھے اور ہر سال سالانہ محفل نعت میں بحیثیت مہمان خصوصی شریک ہوتے تھے۔
    انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے معذور افراد کو ملازمتیں دینے اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے معذور افراد کو مستقل کرنے کے تاریخی احکامات جاری کیے۔ جسٹس ہیلپ لائن کے صدر ندیم شیخ ایڈووکیٹ، سابق جسٹس شہاب سرکی، ایس مائیکل ایڈووکیٹ، مزدور رہنماء سید ذوالفقار شاہ، سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے لیگل سید اسرار علی نے جسٹس عرفان سعادت خان کے انتقال کو عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی مغرت اور درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

  • حکومتی فیصلے کےخلاف، شادی ہال مالکان نے پندرہ رمضان سے شادی ہالز کھولنے کا اعلان کر دیا

    حکومتی فیصلے کےخلاف، شادی ہال مالکان نے پندرہ رمضان سے شادی ہالز کھولنے کا اعلان کر دیا

    شادی ہال مالکان نے پندرہ رمضان سے شادی ہالز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
    کراچی میں شادی ہالز مالکان نے حکومتی فیصلوں کیخلاف جاتے ہوئے 15 رمضان سے شادی ہالز کھولنے کا اعلان کر دیا ،شادی ہالز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ جب تمام ریسٹورنٹ کھل سکتے ہیں تو شادی ہالز پا پابندی کیوں لگائی جا رہی ہے ۔
    شادی ہالز مالکان کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشی قتل بند کیا جائے ،حکومتی ایس او پیز میں تمام ریسٹورنٹ کھولے گئے ہیں ،شادی ہالز مالکان کا کہنا تھا کہ اگر ریسٹورنٹس کھل سکتے ہیں تو شادی ہالز پر پابندی ناجائز ہے ،شادی ہالز مالکان ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ کراچی میں کورونا کیسز کی شرح انتہائی کم ہے ، ایسے میں شادی ہالز کی بندش کے باعٹ 10 لاکھ افراد کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے –

  • وزیراعظم کے سندھ کے لیے اعلان کردہ منصوبے پرانے ہیں، سندھ حکومت

    وزیراعظم کے سندھ کے لیے اعلان کردہ منصوبے پرانے ہیں، سندھ حکومت

    وزیر اطلاعات سندھ ناصرحسین شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے سندھ کے لیے اعلان کردہ منصوبے پرانے ہیں اور بجٹ بک میں پہلے سے شامل ہیں، وزیراعظم کو ایک اور تقریب میں آنا تھا یہ صرف بہانہ کیا گیا۔یہ بات انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری جاوید ناگوری بھی موجود تھے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کو وزیراعظم کے دورے کی آفیشلی اطلاع نہیں دی گئی اور ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم ان کا استقبال کرنے نہیں جاتے۔انہوں نے کہا کہ کل بہت سارے منصوبوں کااعلان کیا گیا جو کہ سب پرانے تھے، سکھر حیدرآباد موٹروے، نادرا آفس، ریلوے اسٹیشن، گاج ڈیم سب پرانے منصوبے تھے جو بجٹ میں پہلے سے شامل ہیں۔جزیروں سے متعلق انہوں نے کہا کہ جزیروں پر ایک خط کا جواب دیا تھا اور کہا تھا ماہی گیروں کو ساتھ ملا کر ترقی کے منصوبے بنائے جائیں لیکن وفاقی حکومت نے آرڈی ننس لا کر جزیرے ہڑپ کرنے کی کوشش کی، سخت آرڈی ننس لانا ان کی بدنیتی تھی، جزیروں کا معاملہ پارلیمنٹ میں لاتے، ان کی منافقانہ سیاست کو لوگ جان چکے ہیں۔صوبائی وزیر اطلاعات نے وفاقی کابینہ میں تبدیلی پر کہا کہ نااہل ترینوں کے ساتھ شوکت ترین کیا کرسکتے ہیں، وہ ان نااہل حکمرانوں کے ساتھ کیا کارکردگی دکھائیں گے؟ اصل میں یہ جو نااہل ترین ہیں ان سے جان چھڑانی ہے اس سے ملک میں بہتری آئے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن میں نامزدگیاں میرٹ پر ہوتی ہیں، کچھ شکایتیں آتی ہیں، اس پر ایکشن لیا گیا ہے ہم لسانیت میں یقین نہیں رکھتے، جہاں حق تلفی ہوئی وہاں وزیر اعلیٰ سندھ نے ایکشن لیا، سندھ پبلک سروس کمیشن کے نتائج پر اعتراض کرنے والوں کی سیاست ہی یہی ہے وہ لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں، اردو بولنے والے قابل احترام ہیں پیپلز پارٹی نے کبھی تفریق کی سیاست نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا یہ حال کس نے کیا؟ ٹی وی بیچ کر اسلحہ خریدنے کی بات کس نے کی؟ بوری بند لاشیں کس نے دیں؟ یہ عوامی جذبات سے کھیلتے رہے ہیں لیکن اب عوام انہیں جان چکی ہے۔صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ حکومتیں اثاثے بناتی ہیں اور اثاثوں کا تحفظ کرتی ہیں لیکن موجودہ وفاقی حکومت نے قومی اثاثوں کا جو حال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے، انہوں نے اسٹیٹ بینک کو گروی رکھ دیا ہے، اسٹیل مل کو بیچنے میں لگی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی مانگے تانگے کی حکومت ہے جو جہانگیر ترین کی مہربانی سے بنی اب ان سے اپنے اتحادی ناخوش ہیں۔

  • کالعدم ٹی ایل پی کے 28 کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا

    کالعدم ٹی ایل پی کے 28 کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا

    انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت نے کالعدم تحریک لبیک کے 28 کارکنوں کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا کراچی کی انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت کے روبرو کالعدم تحریک لبیک کے 28 کارکنوں کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر پیش کیا گیا۔ عدالت نے تمام ملزمان کو 5 مئی تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو کیس کا چالان پیش کرنے کی ہدایت کردی۔واضح رہے کہ ملزموں کو 14 اپریل کو کھاردار پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ملزمان پر کار سرکار میں مداخلت، جلاؤ گھیراؤ اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • ایڈیشنل آئی جی کراچی نے تمام انٹیلیجنس ملازمین کی اسکروٹنی کے احکامات جاری کردیئے

    ایڈیشنل آئی جی کراچی نے تمام انٹیلیجنس ملازمین کی اسکروٹنی کے احکامات جاری کردیئے

    ایڈیشنل آئی جی کراچی نے تھانوں سے ہٹائے جانے والے تمام انٹیلیجنس ملازمین کی اسکروٹنی کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
    تفصیلات کے مطابق کراچی کے تھانوں سے انٹیلیجنس اہلکاروں اور افسران کے ہٹائے جانے کے معاملے پر ایڈیشنل آئی جی ہٹائے جانے والے تمام انٹیلیجنس ملازمین کی اسکروٹنی کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے تینوں زون کے ڈی آئی جیز کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلیجنس افسران واہلکار تھانے کی خفیہ آنکھ ہوتے ہیں، ان کا کام جرائم پیشہ عناصراور منظم جرائم کی رپورٹ تیار کرنا ہوتا ہے۔غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس افسرکی اطلاع پر تھانہ ملزمان کیخلاف کارروائی کرتا ہے، انٹیلیجنس افسر یا اہلکار جرائم پیشہ عناصر سے مل جائے تو کیسے کام ہوگا؟
    ایڈیشنل آئی جی کراچی نے مزید کہا کہ مختلف شکایات پر تمام تھانوں کے انٹیلیجنس عملے کو ہٹایا تھا، اب ڈی آئی جیز کو اسکروٹنی کرنے کو کہا ہے، اچھے افسران و اہلکاروں کو سامنے لایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ دوبارہ سے تمام تھانوں میں انٹیلیجنس عملہ تعینات کریں گے، منظم جرائم چلانے والوں کوکسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔