Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ میں جامعات کا کنٹرول ہائیرایجوکیشن کمیشن کودیئے جانے کافیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    سندھ میں جامعات کا کنٹرول ہائیرایجوکیشن کمیشن کودیئے جانے کافیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    سندھ میں محکمہ بورڈ ز و جامعات کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ذرائع کےمطابق سندھ کی جامعات کا کنٹرول ہائیرایجوکیشن کمیشن کودیئے جانے فیصلہ کرلیا گیا ہے۔سندھ کی جامعات کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ذرائع کےمطابق سندھ کی جامعات اور بورڈز کےکنٹرول کےلئے نیا محکمہ بنایا جائیگا۔
    محکمہ بورڈز وجامعات کا نیا نام ٹیکنیکل ایجوکیشن و بورڈز رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سے منظوری کے بعد اسمعاملے کو سندھکابینہ سے بھی منظور کرایا جائے گا ٹیکنیکل ایجوکیشن وبورڈز کے محکمے کے لیےنی سیکریٹری مقرر کیا جائے گا.

  • شجرکاری مہم کو فروغ دینے کے لئے جامعات بہترین کردار ادا کر سکتی ہیں ، شہلا رضا

    شجرکاری مہم کو فروغ دینے کے لئے جامعات بہترین کردار ادا کر سکتی ہیں ، شہلا رضا

    صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی سے بچائو اور درجہ حرارت کو کم کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر شجرکاری ناگزیر ہے ۔ صوبائی حکومت سندھ بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں ماحول کو سرسبزوشاداب کرنے کے لئے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے ۔ شجرکاری مہم کو فروغ دینے کے لئے آگاہی ضروری ہے جس کے لئے جامعات بہترین کرادار ادا کر سکتی ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ جامعہ کراچی اس سلسلے میں اپنا بھر کردار ادا کر رہی ہے۔
    یہاں کے طلبہ میں شجرکاری کے رجحان کو دیکھ کر مجھے بیحد خوشی ہو رہی ہے کیونکہ شہرکے مختلف حصوں سے آنے والے طلبہ اگر اس حوالے سے اپنا کردار اداکریں تو ہم بہت جلد گرین اینڈ کلین صوبے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔
    شجرکاری مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب بحیثیت ذمہ دارشہری اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں ۔ انہوں نے جامعہ کراچی میں تواتر کے ساتھ شجرکاری مہم کے انعقاد کو لائق تحسین اور قابل تقلید قراردیا۔
    ان خیالات کا اظہارانہوں نے سینٹر آف ایکسلینس فارویمن اسٹڈیز جامعہ کراچی کے زیر اہتمام کلین اینڈ گرین کیمپس سیکنڈ پلانٹیشن ڈرائیو2021 ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ شجرکاری مہم کا افتتاح سیدہ شہلا رضا اور پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودعراقی نے پودا لگا کر کیا ۔ اس موقع پر روئسائے کلیہ جات اور جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کے صدور ،اساتذہ اور طلبہ بھی موجود تھے ۔
    اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کوگذشتہ کئی سالوں سے احساس ہونے لگا ہے کہ شہر کراچی کنکریٹ کی شکل اختیار کرتاجا رہا ہے اور شجرکاری کے فقدان کی وجہ سے شہر میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے ۔ ہمیں کنکریٹ کے شہروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے کلین اینڈ گرین ماحول کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔
    جامعہ کراچی میں باقاعد گی کے ساتھ نہ صرف شجرکاری مہم کا اہتمام کیا جاتا ہے بلکہ لگائے جانے والے پودوں کی پوری طرح سے دیکھ بھال اور حفاظت کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت جامعہ کراچی کا سرسبز کیمپس ہے ۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہم ہر سال شجر کاری مہم چلاتے ہیں اور بہت سارے پودے بھی لگاتے ہیں لیکن اگر ان پودوں کو لگانے کے بعد اس کی دیکھ بھال نہیں کی جائے گی تو ہم صرف شجرکاری ہی کرتے رہیں گے ان پودوں کو تناور درختوں کی صورت میں دیکھنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کر سکتے

  • ماہِ رمضان رب کی رحمتوں اور برکتوں سے لبر یز ہے  ، علامہ شاہ عبد الحق

    ماہِ رمضان رب کی رحمتوں اور برکتوں سے لبر یز ہے ، علامہ شاہ عبد الحق

    جما عت اہلسنّت پاکستان کراچی کے امیر علامہ شاہ عبد الحق قادری نے کہا کہ رمضان رب کی رحمتوں اور برکتوں سے لبر یز ہے ۔ رمضان بر کتو ں ، رحمتو ں ، تقوی و پر ہیز گا ری ، صبر و استقامت ، ہمدردی ، حسن سلو ک ، تعمیرِسیر ت ، ضبط ِنفس ، دعا وں ، نز ول قرآن مجید اور کثر ت سے صد قہ و خیر ات کامہینہ ہے،اللہ کے عطا کر دہ مال سے غریبوں اور ضرورت مندلوگوں کی اعانت کرنا رب کی با رگا ہ میں پسندیدہ عمل ہے ۔
    انہوں نے میمن مسجد میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ما ہ صیام تقو ی پر ہیز گاری کا عملی تر بیت کا مہینہ ہے ۔ روزہ اللہ کی بے ریا عبادت ہے تا کہ بندہ تقوی اور پرہیزگاری اختیار کر سکے ۔ روزہ ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھ کر ہی روزے کے مقصد کو پورا کیا جاسکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہ مبارکہ میں عمل صالح ، کار خیر اور روزہ داروں کو افطار کروانے کا بڑا اجر و ثواب ہے ۔ شااہ عبدالحق کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان کا استقبال بھر پور مذہبی جو ش و جذبے سے سرشار ہو کر کیا جائے ۔ ایمانی تقاضا ہے کہ رمضان کے پورے روزے رکھنے کے ساتھ تراویح اور نماز کی پابندی یقینی بنائی جائے ۔

  • سپریم کورٹ نے کراچی میں تجاوزات کے متعلق حکم نامہ جاری کردیا .

    سپریم کورٹ نے کراچی میں تجاوزات کے متعلق حکم نامہ جاری کردیا .

    سپریم کورٹ نے کراچی میں تجاوزات کے متعلق حکم نامہ جاری کردیا .حکم نامہ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے جاری کیا .ہل پارک میں غیر قانونی تعمیر شدہ بنگلوز کے مالکان کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
    اداروں کو ہل پارک کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ رائل پارک پر تعمیر رائل ٹاور کا ملبہ ایک ماہ میں ہٹاکر پارک بنانے کا حکم رائل پارک کے الاٹیز کی رقم واپسی تک کریک شاپنگ سینٹر تحویل میں رکھنے کا حکم بھی دیا گیا۔ باغ ابن قاسم پر مسمار عمارت کے ملبہ کو اٹھا کر اطراف میں ہریالی کا حکم وائے ایم سی اے گراونڈ نجی این جی او کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔نسلہ ٹاور کے متعلق ایڈووکیٹ جنرل، ایس بی سی اے بورڈ آف ریونیو اور بلڈنگ کے اونر جواب جمع کرائے، حکم نامہ کراچی سرکلر ریلوے کے متعلق ایف ڈبلیو او کو عملی طور پر کام شروع کرنے کا حکم دیا گیا سرکلر ریلوے فیز 2 کو 9 ماہ میں مکمل کرکے اصل روٹ پر بحال کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
    گلشن اقبال پر قائم حاجی لیموں گوٹھ پر قائم نالہ سے تجاوزات فوری ہٹانے کا حکم دیا جبکہ کڈنی ہل پارک پر بنگلوں کی تعمیر پر ورکرز کو آپریٹو ہاووسنگ سوسائٹی کو نوٹس جاری کمشنر کراچی سے کڈنی ہل پارک پر قائم کچی آبادی کو مسمار کرنے کا حکم غیر قانونی شادی ہال کو مسمار کرکے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کرلی۔ حکم نامہ پر عملدرآمد کے متعلق کمشنر کراچی سے جامعہ رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

  • الخدمت آرفن کیئر پروگرام کے تحت یوم’’ شجرکاری ‘‘ منایا گیا

    الخدمت آرفن کیئر پروگرام کے تحت یوم’’ شجرکاری ‘‘ منایا گیا

    الخدمت آرفن کیئر پروگرام کے تحت’’ گرین پاکستان ‘‘کے عنوان سے یوم شجرکاری منایا گیا . جبکہ مطالعہ و تحقیق کے موضوع پر مختلف علاقوں میں تقریبات کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ تقریبات کا اہتمام لانڈھی ، اورنگی اور لیاری کے علاقوں میں کیا گیا ۔ الخدمت آرفن کیئر پروگرام کے ذمہ داران اوربچوں کی مائیں بھی اس موقع پر موجودتھیں ۔
    بچوں نے شجرکاری میں حصہ لیا اور لانڈھی اورنگی اور لیاری کے علاقوں میں قائم اسٹڈی سینٹرز کے اطراف مختلف پودے لگائے ۔ اس موقع پر بچوں نے اس عزم وخواہش کا اظہار کیا کہ وہ کراچی سمیت پاکستان کو سرسز وشاداب بنانا اور دیکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ہاتھوں سے پودے لگا کر انہیں بہت خوشی ہوئی ہے ۔
    دریں اثنا اسٹڈی سینٹرز میں الخدمت کے زیر کفالت بچوں کیلئے تربیتی ورکشا پس بھی منعقد کی گئیں جس میں ’’ مطالعہ اورتحقیق ‘‘ کے عنوان سے منیجر آرفن کیئر پروگرام مصعب بن خالدو دیگر نے اظہار خیال کیا ۔

    انہوں نے کہا کہ مطا لعہ کئی طرح کا ہوتا ہے ۔ ایک وہ جو ہم اپنی تعلیم کیلئے نصابی کتب کے ذریعے کر تے ہیں ۔ دوسر ا جو ہم کہانیوں اور رسائل کے ذریعے کر تے ہیں ۔ مگر قرآن پاک اور دیگرغیر نصابی کتب کا بھی مطالعہ کیا جاتا ہے ۔
    انہوں نے کہا کہ مطالعہ ایک اچھی عادت ہے ۔ بچے مطالعہ کی عادت کو اپنائیں ،تحقیق اور جستجو کو اپنی زند گیو ں کا حصہ بنائیں ۔ مطالعہ سے نہ صرف انسان کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان کی ذات میں نکھار بھی پیدا ہوتا ہے اور شخصیت میں بھی نمایاں تبدیلی نظرآتی ہے ۔

  • مدارس دینیہ کی بدولت اسلام کی روشن کرنیں دنیابھر کو منورکررہی ہیں , قاری عبدالرزاق چشتی

    مدارس دینیہ کی بدولت اسلام کی روشن کرنیں دنیابھر کو منورکررہی ہیں , قاری عبدالرزاق چشتی

    مدارس دینیہ کی بدولت اسلام کی روشن کرنیں دنیا بھر کو منورکررہی ہیں . مدارس سے وابستگان نے ہر دور میں اسلام مخالف فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا . آج بھی فتنوں کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہیں ۔ مدارس دینیہ ہی اسلام کی حقیقی ترجمانی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ یہ باتیں جامعہ مدینة العلم عظیم پورہ شاہ فیصل کالونی کراچی کے سالانہ جلسہء دستارفضیلت و تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے مہتمم قاری عبدالرزاق چشتی نے کیں ۔
    جلسے میں پیر آغا فضل الرحمان مجددی ، شیخ الحدیث علامہ غلام جیلانی اشرفی اور دیگر نے خطاب کیا ۔
    مقررین نے مدارس دینیہ اوردینی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن وحدیث میں علم دین کو فلاح اور کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، علم کے ذریعہ انسان اپنے بہت سے مسائل حل کر سکتا ہے اور علم کی بدولت معاشرہ ترقی کرتا ہے، پاکیزہ معاشرہ تیار ہوتا ہے، تجارت اور معیشت مضبوط ہوتی ہے، سیاست میں صداقت، دیانت کے ساتھ نکھار آتا ہے، صاحب علم،کی فکر بلند اور ہر معاملہ میں شعور بیدار ہوتا ہے، صاحب علم، عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،بلند مقام و منصب پر فائز کیا جاتا ہے۔
    انہوں نے کہاکہ علماء انبیاء کے وارث ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسکو دین کی سوج بوجھ عطا کرتا ہے ۔ اس جیسے بے شمار فضائل قرآن و حدیث میں وارد ہیں ۔ مقررین نے کہاکہ بچہ جب علم دین سے آراستہ ہوتا ہے تو جھوٹ ، غیبت ، چغل خوری ، دھوکہ ، والدین اور بڑوں کی نافرمانی ، ظلم و زیادتی ، قتل و غارت گری بے حیائی ، حق تلفی ، ناپ تول میں کمی ، ناحق کسی کے مال کو لے لینا ، قوم وملت کے اشیاء اور رقم کو ناجائز استعمال کرنا ، سود لینا اور سود پر دینا ، ناحق کسی کو تکلیف پہچانا ، زور و زبردستی سے کسی کی زمین کا حاصل کرنا ، کسی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا ، شرک ، کفر ، رسم و رواج بدعات وخرافات اور ہر قسم کی برائی سے محفوظ رہے گا اور ہر معاملہ میں صداقت ، دیانت ، امانت داری کے علاوہ بڑوں کا ادب و اکرام اور چھوٹوں پر شفقت اور رحم کا معاملہ کرنے کے ساتھ ساتھ خوف خدا کی وجہ سے دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی نہ صرف فکر بلکہ دوسروں کو بھی ترغیب دے گا دینی حمیت ، اسلامی غیرت ، بھلائی ، خیر خواہی
    ، انسانیت ، ہمدردی جیسے جذبات اور صفات حمیدہ اس میں موجزن ہوں گے ۔ خلاصہ یہ کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عملی نمونہ ہوگا اس لئے بچپن سے ہی بچوں میں خیر خواہی اور خدمت خلق کے جذبہ کے فروغ دیں، تاکہ جھوٹ،دھوکہ، بد دیانتی سے سارا معاشرہ پاک ہوجائے ۔

  • بلب کی آڑ میں ممنوعہ انجکشن امریکا اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    بلب کی آڑ میں ممنوعہ انجکشن امریکا اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    کراچی: کسٹمز نے پورٹ قاسم پر ایل ای ڈی بلب کی آڑ میں ممنوعہ انجکشن کیٹامائن (کیمیکل) امریکا اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔ کلکٹر کسٹمز پورٹ قاسم ایکسپورٹ فواد شاہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ میسرز اومٹک انٹرنیشنل کی جانب سے 6 ہزار ڈالر مالیت کے ایل ای ڈی بلب کی ایک کنسائمنٹس امریکا برآمد کرنے کے لیے پورٹ قاسم ایکسپورٹ کلکٹریٹ لائی گئی جس کی کلیئرنس کرنے کی ذمہ داری کلیئرنگ ایجنٹ میسرز کوکب انٹرپرائزز کو دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ کنسائمنٹ سے متعلق موصولہ خفیہ اطلاع پر اس کی نگرانی کی گٸی اور اس کی کسٹمز کلٸیرنس کو روکنے کے احکامات جاری کیے گٸے، کسٹمز حکام کی جانب سے جب اس روکے گٸے برآمدی کنسائمنٹ کی باریک بینی کے ساتھ ایگزامینشن کی گٸی تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ کنسائمنٹ کے 275 کاٹنز میں موجود ایل ای ڈی بلب کے اندر نچلے حصے میں 52.6 کلوگرام کیٹامائن چھپائی گئی ہے۔ کلکٹر کے مطابق کی مالیت 8 کروڑ 18 لاکھ 40 ہزار روپے ہے جبکہ محکمہ کسٹمز میں داخل کردہ دستاویزات میں اس کنسائمنٹ کی برآمدی قیمت 9 لاکھ 30 ہزار روپے ظاہر کی گئی تھی۔ محکمہ کسٹمز نے ملزمان میں شامل میسرز اومٹک انٹرنیشنل کے مالک محمد نعیم انجم، ناصرعباس، شکیل احمد اور چائنیز نیشنل لیین کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

  • ہم زبان ، مذہب اور مسلک سے بالاتر ہوکر ہر ظالم کا ہاتھ روکیں گے , سید مصطفی کمال

    ہم زبان ، مذہب اور مسلک سے بالاتر ہوکر ہر ظالم کا ہاتھ روکیں گے , سید مصطفی کمال

    پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین اور پی ایس پی کی جانب سے این اے 249 کے امیدوار سید مصطفی کمال نے کہا کہ اگر پاکستان میں الیکشن لڑنے والوں کی بات 10 فیصد بھی سچ ہوتی تو ہماری گلیاں اس حالت میں نہ ہوتیں جیسی اب ہیں ۔ 70 سال سے سیاسی جماعتیں ووٹ لیکر انتخابات جیت رہی ہیں لیکن انکی نااہلی ، کرپشن ، تعصب اور اقربا پروری کے باعث عوام ناکام ہورہی ہے ، دنیا چاند پر جاری ہیں اور ہم پانی کو رو رہے ہیں ، پاکستان نے 40 سال میں زبان کی بنیاد پر ووٹ دیا نتیجتا پارٹیاں جیت گئیں ، قوم ہار گئی ، کراچی جو پورے پاکستان کو نوکریاں دیتا تھا اب اسکے نوجوان ایک نوکری کے لیے در در ٹھوکریں کھاتے ہیں ۔ نظام کی درستگی کا فارمولا صرف پی ایس پی کے پاس ہے ۔
    کراچی پاک سر زمین پارٹی کے ساتھ ہے، ہمیں لوگوں کا ساتھ چاہئے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں مومن آباد یوسی 23 بلدیہ ٹان نیازی گوٹھ ، یوسی 37 میں منقعدہ عوامی اجتماعات اور یوسی 23 میں الیکشن افس کا افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال پہلے پانی تھا ، 10 سال پہلے سڑکیں بہتر تھیں ، 10 سال پہلے تعلیم تھی ، ہسپتالوں میں دوا تھی ، 10 سال پہلے کراچی کے تعلیمی اداروں سے سائنس دان ، ڈاکٹرز اور جرنیل فارغ التحصیل ہوتے تھے ، آج چپراسی بھی نہیں نکلتے ۔
    انہوں نے کہا کہ پی ایس پی نے سہراب گوٹھ میں جلسہ کرکہ 40 سال سے جاری پختون مہاجر دشمنی کو محبت میں تبدیل کردیا اور آج پاک سر زمین پارٹی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جہاں تمام زبان ، مزہب اور مسالک کی عزت ہے ، ہم زبان ، مذہب اور مسلک سے بالاتر ہوکر ہر ظالم کا ہاتھ روکیں گے اور ہر مظلوم کیساتھ کھڑے ہونگے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی وہ 29 اپریل کو ڈولفن پر مہر لگا کر این اے 249 کی تاریخ تبدیل کریں ۔

  • میمن گوٹھ کی 14 سالہ بچی اجتماعی زیادتی کا شکار

    میمن گوٹھ کی 14 سالہ بچی اجتماعی زیادتی کا شکار

    کراچی کے علاقے میمن گوٹھ میں 14 سالہ لڑکی کو 4 ملزمان نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔میمن گوٹھ میں 14 سال کی لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے حوالے سے پولیس کے سامنے اب تک کا کوئی مدعی نہیں آیا۔سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے خود کارروائی کرتے ہوئے 3 سے 4 روز قبل مشکوک افرادکو حراست میں لے کر بیان قلمبند کیا تاہم متاثرہ لڑکی کے منظر عام پر نہ آنے کے باعث پولیس نے علاقہ معززین کو طلب کیا دوسری جانب لڑکی سے مبینہ زیادتی کے معاملے پر علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی سے ملزم نے شادی کا وعدہ کیا تھا، ملزم کے ایک رشتے دار نے لڑکی کو فون پر تنگ کرنا شروع کیا۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ملزم نے 4 رشتے داروں کے ساتھ مل کر لڑکی کو اغواء کیا، چاروں ملزمان نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان خوفزدہ ہے اور پولیس کے پاس جانے کو تیار نہیں ہے۔ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کا کہنا ہے کہ لڑکی سے زیادتی سے متعلق کسی نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا، واقعے سے متعلق انکوائری کا آغاز کردیا گیا ہے۔

  • پاکستان بحریہ کی  خصوصی  مہم  پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کا خصوصی پیغام

    پاکستان بحریہ کی خصوصی مہم پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کا خصوصی پیغام

    مینگرووز دنیا کا سب سے منفرد ایکوسسٹم بنانے کا موجب بنتے ہیں اور زمین کو کٹاﺅ سے بچانے اور ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کے دخل کو محدود کرنے سمیت کئی فوائد پہنچاتے ہیں۔ چونکہ مینگرووز کھارے پانی اور ساحلی علاقوں میں زندہ رہ سکتے ہیں اس لیے دنیا میں گرم خطوں کی ساحلی پٹی کے چوتھائی حصّہ میں مینگرووز پائے جاتے ہیں جو کہ 112 ممالک کا تقریباََ 1 لاکھ 81 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ بنتا ہے۔ مینگرووز طوفانوں اور قدرتی آفات کے خلاف ساحلی علاقوں کو بچانے کے لیے ایک قدرتی ڈھال کا کردار ادا کرتے ہیں۔یہ مچھلیوں اور جھینگوں کی مختلف اقسام کی افزائش اور پھلنے پھولنے کے لئے موافق ہیں اور کئی اقسام کے جاندار جیسا کہ انورٹیبریٹس، مچھلیوں، ایمفی بینز،رینگنے والے جانوروں، چڑیوں وغیرہ کی آماجگاہ ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مینگرووز آکسیجن پیدا کرتے ہیں اور غلاظت کو جذب کر کے پانی کو صاف کرتے ہیں اور آلودگی کو کم کر کے ہمیں صاف ہوا مہیا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    پاکستان میں 0.6 ملین ایکڑ مینگرووز ایکوسسٹم موجود ہے جو کہ سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر پھیلا ہوا ہے اور دنیا کا ممکنہ طور پر دسواں سب سے بڑا مینگرووز ایکوسسٹم ہے۔لیکن مینگرووز کے جنگلات اپنی بقا ءکی جنگ لڑرہے ہیں۔ مینگرووز کے جنگلات سے ڈھکے علاقے میں میٹھے پانی کی کمی، سمندری آلودگی، ساحلی کٹاﺅ اور جنگلات کی کٹائی کے باعث پچھلے کچھ عرصے میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ لہٰذا،ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے پودے لگائے جائیں اور موجودہ مینگرووز جنگلات کی حفاظت بھی کی جائے۔ مینگرووز کے جنگلات کے بڑھاﺅ، بچاﺅ اور بحالی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے مشترکہ کاوشوں کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں، مینگرووز کے جنگلات کی بہتری کے لیے متعلقہ علاقوں کا کنٹرول رکھنے والے حکومتی اداروں کی مدد بہت ضروری ہے۔حکومت پاکستان کے وژن کے مطابق پاک بحریہ پاکستان کے سمندر اور ساحل کے ایک اہم اسٹیک ہولڈر کے طور پر مینگرووز اگانے میں متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔

    اسے ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے پاک بحریہ نے مینگرووز اگانے کی مہم کا آغاز 2016 میں کیا جس میں 10 لاکھ مینگرووز کے پودے لگانے کا ہدف رکھا گیا جب کہ مہم کے دوران 11 لاکھ پودے لگائے گئے ۔پاکستان نیوی 2016 کی مینگرووز اگاﺅ مہم کی کامیابی کے بعد ہر سال باقاعدگی سے اپنی ساحلی تنصیبات سے ملحق علاقوں میں مینگرووز اگانے کی مہم کرتی آئی ہے۔ مینگرووز اگاﺅ مہم 2021 ’گرین کوسٹل بیلٹ‘ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاک بحریہ کے عزم اور لگن کی علامت ہے۔ اس سلسلے میں پودے لگانا ایک حصّہ ہے جب کہ اُن کی بقاءکو یقینی بنانا اصل کامیابی ہے۔ اس مہم میں شریک تمام افراد پر میں زور دوں گا کہ بقائ/ استحکام کے عنصر کو سب سے زیادہ اہمیت دیں۔ تب ہی اس مہم کے دوررس اور مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ماحول میں بہتری لانے، سیلاب سے تحفظ اور بچاﺅ کے مناسب انتظامات بالآخر مقامی اور قومی سطح پر آفات جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی اور سمندر کی سطح میں اضافے کا خطرہ کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔میں تمام ہم وطنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر ایک صاف اور بہتر ساحلی ماحول مہیا کرنے کے لیے مینگرووز اگانے اور اُن کی بقاءکو یقینی بنانے کے لیے پاک بحریہ کا ساتھ دیں۔